آپ نے بھی بہت زکر سنا ہو گا،سوچا بھی ہو گا کہ مہنگا بہت ہے کیسے جائیں۔لیکن اگر آپ کو خوبصورت جگہیں دیکھنے اور اچھی جگہوں پر بیٹھنے کا شوق ہے تو اس کے لئے ضروری نہیں کہ آپ سارے خاندان کو ساتھ لے کر ڈنر یا لنچ کے لئے جائیں۔ایک کافی کے کپ کے لئے بھی آپ منال کے خوبصورت ٹیرس پر جا کر دامن کوہ کے خوبصورت نظارے کر سکتے ہیں اور اس پر آپکا خرچہ ہو گا تقریبا پانچ سو۔جیب پر ہلکا پھلکا مگر آپکے ذوق جمالیات کے لئے پیسے دگنے ہو کر وصول۔منال کے ٹیرس کے کنارے کی کرسی پر کافی کا کپ قطرہ قطرہ اندر اتاریں اور جی بھر کر فطرت کی شادابی سے دل بہلائیں،اس نظارے کو سونگھیں،محسوس کریں اسے اپنے اندر جذب کریں۔پہاڑوں کی وہ سرگوشیاں سنیں جو وہ اپنے محبوب لوگوں سے کرتا ہے۔نہ ہوٹل کے کھانوں کے ذائقے سے غرض،نہ پیسے بیکار ہونے کی فکر۔کافی کم و بیش تھوڑے فرق سے ہر جگہ اچھی مل ہی جاتی ہے۔پانچ سو میں جی بھر کر نظارے لوٹنے کا حق آپ سے کوئی چھین نہیں سکتا!ذندگی سے دامن بھر لیں،پیسوں کے اصراف سے نہیں اپنی کم رقم سے بہت سا وصول کر کے!کھل کر جئیں!لیکن اگر آپکی جیب میں کھلے پیسے ہیں تو آپ کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ پیسے کھانے پینے کی بہت سی ورائیٹی پر خرچ کر سکتے ہیں۔کم خرچ بالا نشیں کی طرح پیزا بھی ایک اچھی چوائس ہے جس کے ساتھ بہت سے لوازمات کے خرچ کی ضرورت نہیں۔ایک پیزا دو لوگوں کے لئے کافی ہے اور ذائقہ بھی بھرپور ہے۔لیکن کھل کر خرچ کرنا اور کھانا ہے تو مینو پکڑیے اور جو چاہے منگوائیے!کھانوں کی قیمتیں ہزار فی آئیٹم کے لگ بھگ ہیں۔گھر سے چلتے حساب کتاب بنا کر جائیں تو کھانا آڈر کرنے میں آسانی رہے گی۔اور مہنگے ہوٹل میں بیٹھ کر کم پیسے خرچ کرنے میں کوئی قباحت نہیں نہ آپ کو اس سے کوئی روک سکتا ہے۔سو کھل کر جئیں اور اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کریں!_________________تحریر و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف