موجود__________عظمی طور

کمرے میں جانے کونسے رنگ کا بلب روشن تھا ،جانے روشن تھا بھی یا نہیں ۔
روشنی یا پیلی ہوتی ہے یا سفید اس کا تیسرا کوئی رنگ نہیں ۔
رنگ بدلتی روشنی اگر کہیں دکھے بھی تو کسی آئینے، کسی اور رنگ کا عکس ہوتی ہے.
پیلی روشنی میں گول گول چکر کاٹتے ذرے ___ شاید سورج کا بھی کوئی دیوانہ ہو ۔
کمرے میں نہ پیلا بلب تھا نہ چمچمتی سفید روشنی.
سلیٹی تھا کچھ __ سرمئی سا __ گرے سا __
کچھ واضح نہیں __ کچھ واضح تھا بھی نہیں __
کمرے کی سفید ٹائلز ،سفید چھت ،اس کے بستر کی سفید چادر ،پنکھا ، سفید ٹی روز سب سلیٹی تھے
سرمئی ،گرے __ غیر واضح ___ ٹی روز کی خوشبو بھی __
اس کے سفید کاٹن کے سوٹ پر سلیٹی دھبے تھے __
آنکھوں کے سنہرے ہلکے ناجانے کب سے سلیٹی لگنے لگے تھے __
دیوار پر ایک قطار میں گھڑیاں ابھر آئیں جن پر وقت کے ساتھ تاریخیں بھی درج تھیں ۔
چودہ اکتوبر ___ صبح آٹھ
بارہ دسمبر ___ رات دس
مئی کی تاریخ دھندلی تھی( سنہ اسے یاد تھا) مگراس سے جڑا وقت پوری دیوار پہ پھیلنے لگا ۔
کمرے کا سلیٹی رنگ اور بھی جم کر پھیل گیا۔
اس نے بظاہر سلیٹی نظر آتی فرش کی ایک چوکور ٹائل پر ننھے ننھے سیاہ دھبوں کو چھوا
وہ دھبے راکھ بن کر اس کی پوروں کی باریک لکیروں میں دھنس گئے ۔
اس کے ایک کان میں کمرے کا پورا ماحول بول رہا تھا اور دوسرے میں تاریخیں ،واقعات ،لوگ ،دھوکے ،نصیحتیں ، باز پرس گرزنے والا ہر واضح اور غیر واضح پل دھڑک رہا تھا ۔
موجود کی طاقت اس کے کانوں کو فالج ذدہ کرنا چاہتی تھیں ۔
ناموجود کی تپش، اس کی لوئیں سرخ ہونے لگیں ۔
ناموجود میں موجود سی زندگی تھی تلخی کے باوجود ،برے تجربات ،تلخ مشاہدات کے باوجود ہونٹوں کے کنارے تھرتھراتے تھے ۔
آنکھیں لو دیتیں
ہاتھ کپکپاتے
پیر لڑکھڑاتے
مگر حاضر ہونے میں ہلاکت کا جو مزہ تھا اس سے بھی منکر نہ ہوا جا سکتا تھا ۔
حاضری لازم تھی ۔
وقت کے سامنے
گھٹنے ٹیکتی عمر کے سامنے
زندگی کرتے انفاس کے سامنے
سانس لیتے دھڑکتے رستوں کے سامنے
حاضر کی طاقت کمزور پڑتی تھی
اس کی سانسیں جو وہ پہلے بہت پہلے ہی کھینچ چکی تھی اب حاضر میں خارج ہو رہی تھیں ۔
یہ بھی اس کے زندہ ہونے کی علامت تھی
پوروں کی لکیروں میں پھیلتی سرمئی راکھ پورے بدن میں پھیل گئی تھی ۔
اس نے تجربہ کیا تھا ۔
اس کا خون اب خون رنگ نہیں تھا جم کر کچھ گاڑھا سا ہو گیا تھا ۔
موجود کی مہک ناموجود کے سرور کے آگے گھٹنے ٹیک دیتی تو وہ تھرتھراتے ہونٹوں کو مسکرانے کا حکم دیتی ۔
اس نے اٹھ کر کمرے کے ٹیپ ریکارڈر میں ناموجود کی آواز کو پلے کیا ۔
اور کمرے کے بیچوں بیچ پنکھے کے ساتھ ساتھ دائرے میں گھومنے لگی ۔
اس کے پیروں کے نیچے سرمئی زمین اور بھی سرمئی ہو گئی ۔
موجود ___ موجود ___ موجود
اس نے باہیں پھیلا کر ناموجود کو آواز دی
بازو بھاری ہونے لگے
کندھے جھکنے لگے
پیروں میں جیسے کچھ بھاری بندھ گیا
مگر وہ گھومتی رہی
گھومتی رہی
گھومتی رہی
جب ناموجود اور موجود دونوں اس کے سنگ ایک ہی چکر میں چکرانے لگے تو اس نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا
اس کا کام ختم ہو چکا تھا
جسم پر نیلے نشان تھے
سرخ دھاریں جسم کی مختلف پور سے رستی تھیں
اور پیروں میں سرمئی ،سلیٹی بھنور تھے _

_____________

تحریر:

(عظمیٰ طور)

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.