پیر اور مرید__________طیب عزیز ناسک

جب شیدے نے پیر صاحب کو دیکھا تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔
اس نے اپنا سائیکل جلدی جلدی اسٹینڈ پر لگایا اور پیر صاحب کی قدم بوسی کی۔
پیر صاحب نے شیلے کی طرف دیکھا اور پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرااور گویا ہوئے ”بس بھائی شیدے کچھ بیمار تھا اس لئے ہسپتال میں آیا ہوں“۔
شیدے نے یہ سن کر اپنے سر کو جھکایا اور سینے پر ہاتھ رکھا، حضور آئے میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ پیر صاحب عربی میں زیر لب بڑبڑائے اور آگے آگے چلنے لگے۔شیدا بھی ان کے پیچھے پیچھے ادب سے چل رہا تھا۔
یہ اس گاؤں کا چھوٹا سا بازار تھا، جس کی سڑک کچی تھی یہاں پر کریانہ سٹور،سبزی اور پھلوں والے،موچی،نائی،قصاب اور کچھ سرکای سکول اور واپڈا کا دفتر تھا۔
سامنے ہسپتال کا انٹرنس گیٹ تھا۔گیٹ کے اوپر لوہے کے بیضوی فریم والے بورڈ پر سرکای ہسپتال کا نام لکھا ہوا تھا۔گیٹ کے ساتھ ہی کرسی پر ایک لال ٹوپی والا سیکورٹی گارڈجس نے شلوار کمیز پہن رکھی تھی، دنیا سے بے زار،سر کو بازو پر ٹکائے بیٹھا تھا۔اس کے ساتھ ہی کرسی کی ایک سائیڈ پر گریپ والا ڈنڈاپڑا تھا۔
یہ اس گاؤں کی چھوٹی سی ہسپتال تھی جہاں پر مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا۔
شیدے نے پیر صاحب کو احترام سے ہسپتال میں ایک جگہ بٹھایا اور کہا حضور آپ یہاں پر انتظار کریں میں ڈاکٹر صاحب کا پتہ کر کے آتا ہوں۔
یہ کہہ کر شیدا ہسپتال میں اُس آدمی تک آیا جو ڈاکٹر صاحب کے کمرے کے باہر بیٹھا تھا۔شیدے نے جاکر اسے کہا پیر کرم صاحب آئے ہیں، گاؤں کی بڑی مسجد کے ولی وارث۔
تم بتاؤ کہ ڈاکٹر صاحب موجودہیں تو میں پیر صاحب کو لے آؤ۔
پرچی والے نے شیدے کی طرف دیکھا اور کہا ان کو کون نہیں جانتا۔میں ڈاکٹر صاحب کو بتاتا ہوں تم جاکر پیر صاحب کو لے آؤ۔
شیدا جلدی سے پیر صاحب کے پاس آیا اور کہاں پیر صاحب ڈاکٹر صاحب آپ کو بلا رہے ہیں آپ جلدی جلدی آ جائیں۔اس کے ساتھ ہی پیر صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور آگے آگے چلنے لگے اور شیدے کوبہت بہت دعائیں دیں۔
شیدا احترام سے ان کے پیچھے سر جھکائے چل رہا تھا۔
سامنے ڈاکٹر صاحب کا کمرہ تھا۔
شیدے نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا اور پیر صاحب کو اندر آنے کے لیے کہا،اس کے بعد وہ باہرسے پانی کی ایک بوتل بھی ٹھونڈ لایا۔وہ ڈاکٹر کے کمرے کے سامنے بیٹھا پیر صاحب کا انتظار کرنے لگا۔
جب پیر صاحب اندر کمرے میں داخل ہوئے تو ڈاکٹر صاحب نے احترام سے ان کو سلام کیا اور آنے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا ڈاکٹر صاحب مجھے کچھ عرصے سے پیشاب میں تکلیف محسوس ہو رہی ہے،اس لئے حاضر ہوا تھا کہ آپ سے کوئی مشورہ اور دوا لے سکوں۔
ڈاکٹر صاحب نے پیر صاحب کا مکمل معائنہ کیا اور بتایا کہ آپ کے گردوں میں مسئلہ ہے۔پانی کا استعمال زیادہ کریں اور جو دوائی میں آپ کو لکھ کر دے رہا ہوں ان کو روزانہ استعمال کریں انشائاللہ اس سے افاقہ ہوگا۔پیر صاحب نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا اور کہا”بے شک شفا دینے والی ذات اللہ کی ہے۔“
اس کے ساتھ ہی پیر صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو ڈھیروں دعائیں دیں اور دوا کو استعمال کرنے کا طریقہ کار پوچھ کر باہر آگئے۔
پیر صاحب کے ہاتھ میں ادویات کی پرچی تھی۔
باہر نکلے تو ادویات کی پرچی شیدے کو پکڑا دی اورکہاکہ سٹور سے جاکر ادویات لے آؤ۔اس کے ساتھ ہی شیدا اسٹور سے ادویات لینے چلا گیا اور کافی دیر بعد واپس آیا۔جب واپس آیا تو شیدے نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے یہ ادویات آپ کے لئے مفت دی ہیں۔جب میں سٹور پر پہنچا تو وہاں ایک بندہ آیا جس کو ڈاکٹر صاحب نے بھیجا تھا کہ پیرصاحب کی دوا کے پیسے نہیں لینے۔پیر صاحب نے شیدے سے دوائی لے لی اور اسے دعائیں دیں۔
اس کے ساتھ ہی شیدے نے پیر صاحب سے کہا کہ وہ آپ کو حجرے پر ملنے آنے والا تھا لیکن کچھ کاموں کی وجہ سے نہیں آ سکا،پھر اس نے پیر صاحب کی توجہ حاصل کی اور بتایا کہ اس کے والد کو کافی دنوں سے پیشاب میں تکلیف کی شکایت ہے۔اس لیے میں آپ کے پاس والد صاحب کے لئے دم ڈلوانے کے لیے لانے ہی والا تھا کہ اللہ کے حکم سے یہاں آپ سے ملاقات ہوگی۔اس نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی پانی کی بوتل پیر صاحب کی طرف بڑھا دی۔آپ کو دیکھ کر جو دلی سکون مجھے پہنچا ہے میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔بس تھوڑا سا کرم کرکے ہم غریبوں پر بھی کریں تاکہ میرے والد صاحب کو آرام آجائے۔
پیر صاحب نے اس کے ہاتھ سے بوتل لے لی اور آنکھیں بند کر کے کچھ پڑھنے لگے۔
شیدے کے چہرے پر اطمینان تھا۔

___________________

تحریر:طیب عزیز ناسک

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.