تحریر: شاذیہ خان

کور ڈیزائن: طارق عزیز

_________________

قسط نمبر 6

باپ کی موت کی خبر نے رضوان کو ایک لمحے کے لئے ساکت کر دیا۔ اتنا اچانک سانحہ تھا کہ وہ بالکل ہی خاموش ہو گیا۔ ابھی تو اس نے اپنی کامیابی کی خبر کو باپ کے ساتھ اچھی طرح شیئر بھی نہیں کیا تھا۔ اتنے سالوں کی محنت کے بعد جب ہاتھ میں عمر بھر کا صلہ آتا ہے تو کیسے احساسات ہوتے ہیں۔ اس سانحے نے اس کے اوسان خطا کر دئیے۔وہ پہلی فلائٹ سے پاکستان پہنچا۔ شمیم صاحب کی ڈید باڈی ہسپتال کے کولڈ روم میں رکھوائی گئی تھی۔ تاکہ بیٹا باپ کے آخری دیدار سے محروم نہ رہ جائے۔۔۔ اور وہ ان کے بے روح چہرے اور جسم کو اپنی بے روح آنکھوں سے تک رہا تھا۔۔۔ اس کے خیال میں جب وہ اپنی ڈگری لے کر بابا کے ہاتھوں میں رکھے گا تو ان کا ہنستا اورخوشی سے شادماں چہرہ دیکھنے لائق ہوگا لیکن یہاں تو انہوں نے جانے میں اتنی جلدی کی اور اس کا انتظار بھی نہیں کیا۔۔۔کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔ تو رضوان نے مُڑ کر دیکھا۔۔۔ بابا کھڑے تھے۔ “بیٹا میں نے صاحب کو بہت سمجھایا تھا کہ آپ کو اپنی حالت کی خبر کر دیں لیکن وہ نہ مانے “۔ وہ آنسو پونچھتے ہوئے بولے۔
رضوان نے خالی خالی نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔۔۔”انہیں آپ کی پڑھائی کی بہت فکر تھی کہ کہیں ان کی بیماری کی وجہ سے آپ اپنی پڑھائی چھوڑ کر نہ آجائیں۔” وہ ان کی بات بہت خاموشی سے سُن کر ایک طرف بیٹھ گیا۔ لوگ آہستہ آہستہ جمع ہو رہے تھے۔ شمیم صاحب کا حلقۂ احباب بہت وسیع تھا۔ رشتہ دار تو نہ ہونے کے برابر تھے لیکن بزنس کمیونٹی کے تقریبا ً سب ہی لوگ ان کے جنازے میں شریک تھے۔۔۔ کئی لوگ انہیں دفنانے کے بعد ان کی قبر پر بیٹھ کر آہ وزاری کر رہے تھے یہ وہ لوگ تھے جن کا ماہانہ خرچہ شمیم صاحب اُٹھاتے تھے۔ وہ ہاتھ اُٹھااُٹھا کر اللہ سے شمیم صاحب کے آخری سفر کے آرام دہ ہونے کی دُعا کر رہے تھے۔ رضوان کو آج اندازہ ہوا کہ اس کا باپ کتنا نرم دل اور غریب پرور تھا۔ ہمہ وقت لوگوں کی مدد کرنے والا۔۔۔ اس کے ساتھ اور بھی بہت سے لوگ یتیم ہوئے تھے۔۔۔ لیکن اس نے وہیں قبر پر بیٹھ کر باپ سے وعدہ کیا کہ جو سلسلہ ان کی زندگی میں چلتا رہا وہ اسے رُکنے نہیں دے گا۔۔۔ اور شاید یہی اس کے باپ کے لیے صدقہ جاریہ ہوگا۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
آج شمیم صاحب کا سوئم تھا۔۔۔ وہ صُبح سے ہی اداس تھا۔۔۔ اور سوچ رہا تھا کہ ابھی تو اُسے اپنے باپ کے ساتھ بہت سی باتیں کرنی تھیں۔ انہیں اپنی محبتوں کا احساس دلانا تھا۔۔۔ وہ پچپن سے اُن کی محبتوں کی بارش میں پور پور بھیگتا رہا لیکن اب جبکہ اس کی باری آئی۔۔۔تو وہ چلے گئے۔۔۔ بنا کچھ کہے بنا کچھ سُنے۔۔۔ وہ اس وقت خود کو بہت تنہا محسوس کر رہا تھا۔۔۔ بابا اس کے لیے چائے کا کپ لے کر آئے۔۔”بیٹا یہ ایک کپ چائے پی لیں آپ نے ناشتہ بھی نہیں کیا۔۔۔ دس بج رہے ہیں۔”
“بس بابا کچھ دل نہیں چاہ رہا۔۔۔ بابا کے بغیر اس گھر کا تصور کتنا تکلیف دہ ہے آپ جانتے ہیں۔۔۔” رضوان نے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑی بے بسی سے کہا۔ تو بابا کو بھی دُکھ نے آگھیرا۔۔۔” اب آپ کو ہی اس گھر کو سنبھالنا ہوگا۔۔۔ بیگم صاحبہ کے جانے کے بعد صاحب نے پوری کوشش کی۔ لیکن ان کی زندگی نے انہیں اتنی ہی مہلت دی۔۔۔ آخری دنوں میں وہ صرف آپ کی باتیں کرتے تھے۔۔۔ اور دکھی ہو جاتے کہ آپ اُن کے بغیر کیسے زندگی گذاریں گے؟۔۔۔۔ انہوں نے مجھے ہدایت دی تھی کہ میں آپ کو ان کے بعد حوصلہ دوں سمجھاؤں کہ زندگی اُن کے جانے سے رکنے نہ پائے۔۔۔ ان کے سارے ارمان اب رضوان بیٹا آپ نے ہی پورے کرنے ہیں۔۔۔۔” میرے بابا بہت بہادر تھے۔۔۔ پہلے انہوں نے اپنے ماں باپ کے بغیر زندگی گذاری۔۔۔ پھر ماما کے بغیرمجھے سنبھالا اور جب ان کی خواہشوں کے پورے ہونے کا وقت آیا تو وہ یہاں سے چلے گئے لیکن میں ان جیسا مضبوط نہیں ہوں بابا۔۔۔ کیسے رہ پاؤں گا ان کے بغیر ایک ایک قدم پر ان کی یاد آئے گی۔۔۔۔۔” وہ بے بس تھا۔
“بیٹا جب دل زیادہ اداس ہو تو صرف ان کے بارے میں سوچ لیجئے گا کہ وہ آپ سے کتنی محبت کرتے تھے اور آپ کی ہر خواہش پوری کرتے تھے۔۔۔ اور اب ان کی خواہشات آپ نے پوری کرنی ہیں۔۔۔” “جی بابا سمجھتا ہوں۔۔۔ لیکن اتنی ہمت کہاں سے لاؤں اتنا بڑا کاروبار اور گھر بار ان کے بغیر کیسے سنبھالوں؟۔۔۔” رضوان نے بے بسی سے ان کی طرف دیکھا تو بابا کا اپنا دل دکھ سے بھر گیا۔۔۔ لیکن ابھی کچے زخم بھرنے میں کچھ نہ کچھ وقت تو لگے گا۔۔۔ اور انہیں رضوان کے ساتھ مل کر اس وقت کا انتظار کرنا تھا۔۔۔
“چلیں آپ یہ چائے پی لیں۔۔۔ پھر تھوڑی دیر میں مہمانوں نے آنا ہے۔ نہا دھو کر تیار ہو جائیں۔ ” انہوں نے رضوان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلّی دی کیوں کہ وہ خود بھی بے بس تھے۔ وقت کے کام وقت پر ہی ہوتے ہیں۔ وقت سے پہلے کرنے کی کوشش میں سوائے ہلکان ہونے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
موسم میں تبدیلی آرہی تھی۔ قدرے خنکی بڑھ چکی تھی۔ پہلے سامعہ نے ابا کے گرم کپڑے نکا ل کر انہیں دھوپ لگائی اور الماری میں رکھا۔ اور اب اپنے اور اماں کے گرم کپڑوں کو دھوپ لگا رہی تھی۔۔۔ وقت نے کتنی جلدی اپنا چولا بدلا تھا۔۔۔ زندگی ظفر سے پہلے جیسے تیسے گزر رہی تھی مگر اتنی بدمزہ نہ تھی۔۔۔ نہ تو اب ابا کاظفر اور اس پر غصّہ ہوتا اور نہ ہی ان کا ذرا ذرا سی بات پر سامعہ اور اماں پر بگڑنا جس سے ذرا دیر کو ہی صحیح زندگی کی ہلچل کا پتا تو لگتا تھا۔۔۔ اب تو صُبح سے شام تک تین نفوس اپنی دنیا اور اپنے کھنڈروں میں بند خود سے باتیں کرتے رہتے۔۔۔۔ اماں کا زیادہ وقت جانماز یا کچن میں گذرتا۔۔۔ ابازیادہ تر خاموش پڑے چھت کو تکا کرتے۔۔۔ وہ جب اپنے کام ختم کرکے پریشان ہو جاتی تو کمرے میں جا کر دروازہ اندر سے بند کر لیتی اور منہ پر ہاتھ رکھ کر زور زور سے چیخ کر روتی۔۔۔ شدید ڈیپریشن کا شکار تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔ جب سے عمر آفندی سے مل کر آئی تھی۔ ضبط کی طنابیں ہاتھ سے پھسل چکی تھیں۔ وہ رہ رہ کر خود ترسی کا شکار ہو رہی تھی۔۔۔ اُسے سیما کی خوش قسمتی پر رشک آرہا تھا۔۔۔ دونوں کو ایک ساتھ سوچ کر سامعہ کے دل میں ہوک سی اٹھی حالاں کہ عمر آفندی کو چھوڑنے کا فیصلہ اس کا اپنا تھا۔ لیکن اب نہ جانے کیوں اپنے ہی فیصلے اور جلد بازی پر تکلیف ہو رہی تھی۔۔۔ یہ سچی محبت تو نہ تھی۔ ایک وقتی اور جذباتی فیصلہ تھا۔۔۔ شاید عمر خود بھی آج اپنے فیصلے اورجذباتیت پر ہنستا ہو۔۔۔ میں نے بھی کیسے کیسے خواب بُن لیے تھے۔۔۔ محبت کے پاس کسی کو دینے کے لیے کچھ ہو نہ ہو۔ جھوٹے سچے بلبلوں جیسے خواب ضرور ہوتے ہیں، جو لمحوں کی خوشی کا باعث بنتے ہیں اور پھر پھوٹتے ہی عمر بھر کے غموں کا باعث۔۔۔ اور سامعہ کی آنکھوں میں بھی ایسے ہی خواب اُترے تھے۔۔۔ بلکہ عمر آفندی کی والہانہ چاہت نے اُسے یہ خواب دکھائے تھے۔ عمر بھر عمر آفندی کے ساتھ رہنے کے خواب جو اب بہت تکلیف دے رہے تھے۔۔۔ غلطی سامعہ کی اپنی ہی تھی۔ اس نے کیوں ان خوابوں پر یقین کیا۔۔۔ اب تکلیف اتنی تھی کہ جو بے کل کئے دے رہی تھی۔۔۔ شدید خواہش تھی کہ اک بار اس دشمن ِ جاں کی آواز سُن لے آخری بار۔۔۔ لیکن وہ خود ہی اس سے ہر ناطہ توڑ کر آئی تھی کیسے فون کرتی۔۔۔ اور کس حوالے سے فون کرتی۔۔۔ سامعہ کا منہ پر رکھا ہوا ہاتھ اس کے دل پر آکر رُک گیا۔۔۔ کتنا چھوٹا سا عضو ہے لیکن کتنا ذلیل کرواتا ہے۔۔۔ محبت کے نام پر اچھے بھلے انسان کو کسی قابل نہیں چھوڑتا۔۔۔ فون کی گھنٹی بج اٹھی تو اس نے تڑپ کر فون کی طر ف دیکھا۔ خالہ جان کا فون تھا۔۔۔ اس نے آنسو پونچھ کر کال ریسیو کی۔۔۔ “السلام علیکم خالہ جان کیسی ہیں؟” آواز کی نمی کو خالہ سے چھُپانے کی کوشش کی لیکن کوشش ناکام ثابت ہوئی۔۔۔” اللہ خیر کرے میری جان سب ٹھیک تو ہے؟ تم رو کیوں رہی ہو؟۔۔۔۔” وہ پریشان ہو گئیں۔ “نہیں نہیں خالہ جان موسم چینج ہو رہا ہے۔اس لیے آواز ایسی ہو گئی۔ آپ کو تو پتا ہے سردیاں شروع ہوتے ہی میرا گلا خراب ہو جاتا ہے۔۔۔” اس نے بات بنائی اور ایسا تھا بھی بچپن سے ہی اس کی طبیعت ٹھنڈے موسم میں خراب ہو جاتی تھی۔ناک اور گلے کے غدود بڑھے ہوئے تھے۔ اسی لیے موسم کا اثر جلد قبول کر لیتے تھے۔۔۔ ” اچھا اپنا خیال رکھو۔۔۔ اور یہ تمہاری اماں کہاں ہیں؟۔۔۔ فون نہیں اُٹھا رہی میرا۔” انہوں نے پہلے اماں کو فون کیا اور اب گھبرا کر اُسے فون کر ڈالا۔۔۔۔
“خالہ جان آج بہت دن کے بعد اماں برابر والی خالہ کے گھر گئی ہیں۔ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ اور فون چارجنگ پر لگا ہے۔بس آنے ہی والی ہوں گی۔۔۔ میں کہتی ہوں انہیں کہ آپ کو فون کر لیں۔” ” ہاں ضروری بات ہے۔ وہ آئیں تو بتا دینا اور تم خود اپنا بہت خیال رکھو۔۔۔ ورنہ بیمار پڑ جاؤ گی۔۔۔۔” وہ فون بند کرتے کرتے اسے دوبارہ سمجھانا نہ بھولیں۔۔۔” جی خالہ جان آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں میں خیال رکھوں گی۔۔۔۔” یہ کہہ کر خدا حافظ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا اور سوچ میں پڑ گئی کہ انہیں اماں سے کیا ضروری بات کرنا تھی۔۔۔ خیر ہو گی بہنوں مین کوئی ضروری بات میں اپنا دماغ کیوں تھکاؤں۔لیکن اماں کے آنے کے بعد اور ان کے فون کے بعد وہ ضروری بات بھی بند مُٹھی کی طرح کھُل گئی۔۔۔۔
ماموں جان کا خیال تھا کہ چھے ماہ کی مدت رخصتی کے لیے بہت ہے۔دو مہینے کے بعد ہی سادگی سے نکاح کر دیا جائے اور اس کے بعد رخصتی۔۔۔ یہ بات وہ پہلے بھی کہہ چکے تھے۔ لیکن اب بابا کا اصرار تھا کہ شاید ان کی زندگی چھے مہینے کی مہلت نہ دے۔
وہ جلد از جلد اپنی امانت لے جائیں۔۔۔ تاکہ وہ بھی سکون کا سانس لے سکیں۔۔۔ یہ ساری باتیں انہوں نے اپنے سالے سے کہیں اور انہیں بھانجی کی شادی کاسارا کام بھی سونپ دیا۔۔۔ اللہ کا شکر تھا ان کی دکان سے معقول آمدنی ہو جاتی تھی۔۔۔ او رپھر ناہید بیگم نے بھی کمیٹیاں ڈال کر سامعہ کے لیے کافی کچھ جوڑ رکھا تھا۔۔۔ انہیں پیسوں اور جہیز کی طرف سے کوئی فکر نہ تھی۔۔۔ اسی لیے وہ جلد از جلد سامعہ کو رخصت کرنا چاہتے تھے۔۔۔
ایک انجانا سا خوف تھا۔۔۔ ظفر کے جانے کے بعد ان کا دل بہت کمزور ہو گیا تھا۔اور پھر اس اسٹروک کے بعد تو وہ بہت ڈر سے گئے تھے۔۔۔ کہ نہ جانے اگلا دن بھی دیکھنا نصیب ہو یا نہ ہو۔۔۔ حالاں کہ کبیر اور سلمیٰ کی طرف سے چھے مہینوں کی مہلت مانگی گئی تھی کہ ایک اچھا سا گھر لیا جائے اور پھر اس کو سامعہ کے رہنے کے لائق بنانے کی خواہش نے کبیر کو چھے ماہ کے بعد شادی کا پلان رکھنے پر مجبور کیا۔۔۔ وہ جانتے تھے کہ سامعہ کو اپنے بڑے سے گھر کی کتنی خواہش تھی۔۔۔ اور وہ اس کی ہر خواہش کو پورا کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔۔۔ لیکن ماموں جان کے حکم کے آگے کچھ کہنا نہ سلمیٰ بیگم کو قبول تھا نہ کبیر علی کو۔۔۔ ماموں جان ایک عرصے کے بعد اپنی دونوں بہنوں سے برتی گئی اپنی غفلت کو پوری ذمہ داری سے درست کرنے کی دُھن میں تھے۔۔۔ اسی لیے دونوں گھر انوں کے موجودہ مسائل کو پوری توجہ سے دیکھ کر ان کا جلد از جلد حل نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔ انہیں خوشی تھی کہ کبیر علی ایک محنتی اور ذمہ دار بچہ تھا۔ جس نے باپ کی غیر موجودگی کے باوجود ماں کو کسی صورت مایوس نہ کیا۔ اب گھر کی ذمہ داریاں پڑھائی کے ساتھ ساتھ پوری طرح نبھا رہا تھا۔۔۔ اور وہ جانتے تھے کہ جب تک گھر نہ ہو جائے وہ شادی نہیں کرنا چاہتا لیکن وہ دوسری بہن اور بہنوئی کی صورتِ حال سے بھی بہ خوبی واقف تھے۔۔۔ جب اُن سے جلد از جلد بیٹی کو گھر سے رخصت کرنے کی بات کی گئی تو انہوں نے دوسری جانب کی وجہ کو اتنا قابل قدر نہ جانا اور بہن کو جلد از جلد شادی پر منا لیا۔۔۔۔ اگر لڑکے کی نوکری اچھی نہ ہوتی تو مزید دیر کا سوچا جا سکتا تھا۔۔۔مگر گھر کو کون اہمیت دیتا ہے۔ وہ پھر بن جائے گا۔ ابھی بھی کوئی سڑک پر تو نہیں بیٹھے۔۔۔ ماموں جان کا خیال تھا کہ ایسی باتوں کی شادی جیسی مبارک چیز میں کوئی اہمیت نہیں۔۔۔ ساری عمر پڑی ہے گھر بنانے کے لیے۔۔۔ جلد از جلد شادی کی خواہش کو ایک بیمار باپ کی خواہش سمجھ کر قبول کر لو۔۔۔ نیک اور مبارک کام میں دیر کرنے سے اللہ بھی ناراض ہوتا ہے۔۔۔ اسی لیے آج شام کو وہ لوگ نکاح کی تاریخ رکھنے آرہے تھے۔۔۔ یہ خبر سُن کر سامعہ کو لگا کہ جیسے اس کے لیے پھانسی گھاٹ تک پہنچنے میں بہت کم وقت رہ گیا ہے۔۔۔ دل کے اندر ایک ہو ک سی اُٹھی۔کوئی عمر آفندی کا نام لے کر چیخا۔۔۔ لیکن اس نے اپنی چیخ کو وہیں دبا دیا۔۔۔ جو چیز حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔۔۔ اس کے بارے میں سوچنا بھی تکلیف دہ ہے۔۔۔ خوامخواہ بندہ اپنا دل جلاتا رہے اسے عمر آفندی کوایک خواب سمجھ کر مٹانا ہوگا۔۔۔ مگر کچھ خواب زندگی سے اتنے بھر پور ہوتے ہیں، جو بے شک ایک بار ہی دیکھے جائیں لیکن عمر بھر ان کا ایک ایک نقش واضح رہتا ہے۔ جب آنکھ بند ہوئی آنکھوں کے سامنے پہلا خواب وہی آتا ہے۔۔۔۔
عمر آفندی اس کی زندگی کا وہ خواب تھا۔ جسے شاید ساری عمر ہی زندہ رہنا تھا۔۔۔ مگر دل کی کسی دراڑ میں۔۔۔ سب سے پوشیدہ۔۔۔رات کو ہی ماموں جان اور سلمیٰ خالہ نے آکر اگلے مہینے کی سترہ تاریخ رکھی تو۔۔۔ اس کی جیسے سانس اٹک گئی اتنی جلدی۔۔۔” اماں اتنی جلدی تو تیاری بھی نہیں ہو سکتی۔ ” اس نے کمرے میں آئی اماں سے جھلملاتی آنکھوں سے پوچھا۔۔۔ “مجھے جو تیاری کرنی تھی میں کر چکی۔۔۔ جو موٹی موٹی چیزیں ہیں۔ وہ بھائی جان کروادیں گے اللہ اللہ خیر صلّ ا”۔۔۔۔ بس اب تو دُعا ہے کہ میری بیٹی اپنے گھر میں خوش رہے۔ “مگر۔۔۔” اس نے کچھ پوچھنا چاہا۔ تو سلمیٰ خالہ اندر آگئیں اور اسے گلے سے لگا لیا۔۔۔ “سامعہ تم ایک گھر سے دوسرے گھر میں جارہی ہو۔دل بالکل چھوٹا مت کرنا۔ بھائی صاحب اور ناہید کی فکر بھی مت کرنا۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہیں اورہم سب مل کر اُٹھائیں گے۔۔” انہوں نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔ تو سامعہ نے دل میں دبے سوال کو دل میں ہی چھوڑ دیا۔۔۔ اُسے معلوم تھا لڑائی میں جب ہتھیار پھینک دئیے جائیں تو مکمل سپردگی ہی سے جان بچتی ہے اگرسوال کیا تو کیا فائدہ۔۔۔ حالاں کہ وہ جانتی تھی کہ کبیر اور ثنا کے مطابق پہلے گھر بنے گا پھر شادی ہو گی۔۔۔ لیکن اب سب کچھ اتنی جلدی۔۔۔ ایک چھوٹے سے گھر سے چھوٹے گھر میں جانے کا خیال اس کے لیے روح فرسا تھا۔۔۔۔
ثنا نے اُسے بتایا تھا کہ بھائی بینک سے لون لے کر پہلے گھر تیار کروائیں گے۔ پھر رخصتی ہو گی لیکن یہ سب خیر۔۔۔ سب جائیں گے۔، تو اماں خود ہی بتا دیں گی اس جلدی کی وجہ۔۔۔۔ وہ خاموش ہو گئی بولنے کا فائدہ بھی کیا۔۔۔ ہم جیسی مڈل کلاس لڑکیاں اس سے زیادہ کچھ پا بھی نہیں سکتیں۔ ایسے ہی لوگ ہمارے نصیب میں ہوتے ہیں۔اچھی شکل دے کر ہمیں آزمائش میں ڈالا جاتا ہے پھرآزمائش پر دوسری آزمائش عام صورت اور کم حیثیت کے پلّے باندھ کر ماں باپ چلتا کر دیتے ہیں۔۔۔ لڑکی یوں خاموش ہو جاتی ہے کہ اس کے لیے دوسری آپشن کی گنجائش تو پہلے ہی نہیں رکھی جاتی کہ وہ بھی اپنی خواہش کا اظہار کر سکے۔ اس لیے خاموشی سے، جو ملا جیسا ملا باندھ دیا کھونٹے سے۔۔۔ اور بیچاری وادیلا مچائے بھی تو کیا۔۔۔ اس کی کس نے سُننی ہے۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ رضوان نے بھی خودکو سنبھال لیا اور آفس جانا شروع کر دیا۔۔۔ اپنے اسٹاف کے لیے وہ بالکل بابا جیسا بننا چاہتا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ کبیر علی بابا کے بہت قریب تھے۔اسی لیے انہوں نے بھی آفس کے سارے مشورے ان سے کرنا شروع کر دئیے۔ آفس کی آفیشل فائل بھی کبیر علی نے ان کے حوالے کی اور شمیم صاحب کی ساری بات بتائی۔۔۔ کہ وہ آخری دنوں میں کتنے مایوس ہو گئے تھے اور ان سے ملنے کے لیے بے چین بھی تھے۔۔۔ لیکن اس کے اچھے مستقبل کا سوچ کر اُسے کچھ نہیں بتاتے تھے۔۔۔ اب آپ نے ہی ساری ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں اور اس کمپنی کو اوپر لے کر جانا ہے۔۔۔انہوں نے سر ہلا کر کبیر علی کا شکریہ ادا کیا۔۔۔ بابا کے بغیر گھر اور آفس کھانے کو دوڑتا تھا لیکن انہیں اب اسی طرح ہی زندگی گذارنی تھی ۔۔۔ پہلے ماں کے بغیر زندگی تھی مگر اس وقت ہر کمی باپ نے پوری کر دی۔۔ مگر اب کیا ہوگا؟۔۔۔ یہ سوالیہ نشان انہیں اندر ہی اندر کھا رہا تھا۔۔۔ خونی رشتوں کے بعد مخلص رشتے قسمت سے ملتے ہیں۔ یہاں تو خونی رشتے بھی بدقسمتی سے ساتھ چھوڑ گئے، تو مخلص کہاں سے ملیں گے۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
سیما نے ریگولر آفس جانا شروع کر دیا تھا۔۔۔ اور حسبِ توقع آج کل عمر کا موڈ بہت اچھا نظر آرہا تھا۔۔۔ وہ اور خالو جان اس کی ہر ہر مقام پر مدد کر رہے تھے۔۔۔خالو جان کے آفس کے ساتھ عمر کا آفس اورعمر کے آفس کے سامنے ہی سیما کو آفس دیا گیا تھا۔۔۔ جہاں پہلے نانو اکثر وبیشتر آفس کے معاملات چیک کرنے کے لیے آتی تھیں۔۔۔ اسی آفس کو سیما کے لیے نانو نے redecorateکروایا تھا۔۔۔ نانو بی اس سے آفس اور عمر کے رویے کے متعلق پوچھتی رہتیں۔۔۔ اور وہ بھی انہیں عمر کے حوصلہ آفزا رویے کے متعلق بتاتی۔۔۔ انہیں خوشی تھی کہ ان کی یہ تجویز کارگر ثابت ہوئی کہ وہ ایک ساتھ کام کریں گے اور ایک ساتھ وقت گذاریں گے تو شاید ایک دوسرے میں دلچسپی بڑھ جائے۔ اور وہی ہوا۔۔۔ دوپہر کا لنچ بھی سیما اور عمر اکثر ایک ساتھ ہی کرتے۔۔۔ دراصل نانو بی اُسے گھر سے لنچ بھجوا دیتی تھیں اوراس خاص ہدایت کے ساتھ کہ اس میں دونوں باپ بیٹے کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لے۔۔۔ آفندی صاحب تو عموماً لنچ میں صرف سلاد اور جوس وغیرہ لیتے لیکن عمر چوں کہ گھر سے بغیر ناشتے کے آتا۔ تو لنچ میں شریک ہو جاتا اور اس طرح دونوں آدھا گھنٹہ تو ایک ساتھ ہی گذارتے۔ وہ آدھا گھنٹہ سیما کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔۔۔ وہ واپس جا کر نانو کو آفس کی ساری روداد بتاتی تو وہ بھی خوش ہو جاتیں کہ چلو آہستہ آہستہ ہی سہی دونوں قریب آہی جائیں گے۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
آج سیما کو آفس میں زیادہ کام تھا۔ خالو جان کے ساتھ سائٹ پر بھی جانا تھا۔ تو اس نے نانو کولنچ کے لیے منع کر دیا۔۔۔ واپسی تین بجے ہوئی تو اسے بھوک کا احساس ہوا۔۔۔ بلکہ بھوک کی وجہ سے ہلکا ہلکا سر میں درد بھی تھا۔۔۔ ابھی وہ کرسی پر آکر بیٹھی ہی تھی کہ عمر دروازہ ناک کر کے اندر آگیا۔۔۔ “اوئے تم اتنی جلدی آگئیں۔ تمہارا پلان پانچ بجے کے بعد کانہیں تھا۔۔” عمر نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔ “ہاں بس اتنی دھول اور مٹی تھی وہاں کہ سر میں درد شروع ہو گیا۔۔۔ خالو جان نے کہا کہ تم گھر جا کر آرام کرو۔۔۔۔ لیکن ایک دو ضروری کام تھے کر کے گھر جاتی ہوں۔۔”۔ تم نے کھانا کھا لیا؟” اس نے وضاحت دے کر عمر سے سوال کیا۔” نہیں بلکہ موڈ ہو رہا تھا پیزا کا اگر موڈ ہے تو آجاؤچلتے ہیں۔۔” “موڈ تو نہیں مگر شاید بھوک سے ہی سر میں درد ہو رہا ہے۔ مجھے دس منٹ دو، دو میلز بھیج دوں آتی ہوں۔” “ہاں آجاؤ کھانا کھا کر میں تمہیں گھربھی ڈراپ کر دوں گا۔ بس اب اس کے بعد کوئی کام نہیں۔۔۔۔” اس کی اتنی مہربانی پر سیما نے غور سے عمر کو دیکھا۔۔۔۔ لیکن وہ تو اپنی بات مکمل کر کے وہاں سے نکل چکا تھا۔۔۔ شاید نانو بی ٹھیک ہی کہتی ہیں اگر کوئی چیز مسلسل آپ کی نظروں کے سامنے رہے تو آپ اس کا نوٹس لینا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔ کیا عمر نے بھی مجھے نوٹس کرنا شروع کر دیا۔۔۔ اتنی مہربان طبیعت اس کی پہلے تو نہ تھی۔۔۔ موڈ ہے تو بات کر لی ورنہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والی کہانی تھی۔۔۔ وہ اس کے اتنے التفات پر بھی نہال تھی۔۔۔ اُسے لگ رہا تھا کہ پوری دنیا سمٹ کر اس کی مُٹھی میں آگئی ہے۔۔ جلدی جلدی میلز کر کے اس نے پرس اُٹھا یا اور ساتھ ہی عمر کو اپنے فری ہونے کا میسج کر دیا۔۔۔۔ کہ اگر وہ بھی فارغ ہے تو پارکنگ میں آجائے۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد وہ دونوں کار میں تھے۔۔۔ پھر ایک بڑی پیزا شاپ تک پہنچنے میں صرف پندرہ منٹ لگے۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
صُبح سے ثنا نے سامعہ کا دماغ کھایا ہوا تھا۔۔۔ کہ ٹھیک ایک بجے وہ اور بھائی اُسے شاپنگ کے لیے لینے آرہے ہیں۔ کیوں کہ وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ اسی لیے کپڑے سلنے میں بھی ٹائم لگے گا۔ تو جلد از جلد جتنی شاپنگ ہو سکتی ہے کرلی جائے۔ بھائی بہت مشکل سے آفس سے ٹائم لے کر آرہے ہیں۔۔۔ ایک بجے تک تیار رہنا۔۔۔ اور وہ ایک بجے تک بالکل تیار تھی۔۔۔ کار میں بیٹھتے ہی اس نے کبیر علی کو سلام کیا۔۔۔ انہوں نے مُسکرا کر جواب دیا۔۔۔ کبیر علی تو آج کل ہواؤں میں اُڑ رہے تھے۔ اللہ نے انہیں سامعہ کی صورت میں بہت کچھ دے دیا تھا۔۔۔ انہیں اپنی منزل اتنی آسانی سے مل جائے گی اس بات کا اب تک یقین نہ آیا۔۔۔ لیکن دوسری جانب سا معہ کے چہرے پر مکمل سنجیدگی سی تھی۔ ان کی مسکراہٹ کے جواب میں دوسری طرف سے کوئی مسکراہٹ نہ آئی وہ خاموشی سے کھڑکی سے باہردیکھتی رہی۔۔۔ یا پاس بیٹھی ثنا کے بے زاری سے جواب۔۔۔ اسے یہ سب کچھ بہت عجیب سا لگ رہا تھا۔۔۔ خود کو ایک ایسے شخص کے ساتھ پوری زندگی کے لیے باندھ لینا، جس سے دل نہ ملے۔ کتنا عجیب سا تجربہ تھا۔۔۔ وہ بار بار دل کو عمر کے خیال سے نکالتی اورلمحہ بھر کبیر علی کو جگہ دیتی مگر ناکام ہو جاتی۔۔۔ وہ دل کے کسی کونے میں فٹ ہی نہیں ہو رہے تھے۔ اماں کہتی ہیں غیر مرد جب نکاح کے بول پڑھ کر آپ کا ہو جائے تو اللہ خود بہ خود محبت بھی ڈال دیتا ہے۔۔۔ تو دیکھتے ہیں اللہ میاں جی میرے دل سے غیر مرد کی محبت نکال کر آپ اس مرد جو کہ اپنا ہوگا محبت کیسے ڈالیں گے۔۔۔ انتظار رہے گا۔۔۔” وہ خود سے دل ہی دل میں باتیں کر رہی تھی۔۔۔ وہ بالکل تیار نہ تھی عمر آفندی کی جگہ دل میں کوئی بھی لے۔۔۔ بے شک وہ دھوکے باز تھا۔ اس سے فلرٹ کر رہا تھا مگر تھا تواس کا اپنا۔۔۔ اس کے دل نے جس کو پہلی بار لبیک کہا۔۔۔اپنے دل میں جگہ دی۔۔۔اب کوئی بھی اس کی جگہ نہیں بھر سکتا تھا۔۔۔ اُسے اندازہ نہ تھا وہ اس وقت قدرت کے ساتھ شرطیں لگا رہی تھی۔۔۔ اس قدرت کے ساتھ جس کی کُن نے ہی عمر آفندی کے لیے اسکے دل میں گنجائش پیدا کی۔۔۔ محبت ڈالی۔۔۔ تو کیا وہ کبیر علی کی محبت کے لیے گنجائش نہیں بنا سکتی۔۔۔ کتنی بے وقوف تھی نا وہ۔۔۔ کبھی قدرت سے بھی کوئی جیت سکا ہے۔۔۔ انسان کو مٹی کا ڈھیر ہوتے اور مٹی میں ملتے دیرنہیں لگتی۔ وہی اتنے بڑے بڑے دعوے کرتا ہے۔۔۔
ثنا اور کبیر علی اُسے ایک بڑے شاپنگ مال میں لے کر آئے۔اس کی پسند کا میک اَپ اور کپڑے وغیرہ خریدنے تھے۔۔۔ برائٹ لائٹس سے چمکتی ہوئی دُکانیں ہلکی خنکی کے باوجود ائیر کنڈیشنڈ سے یخ بستہ ہو رہی تھیں۔۔۔ کپڑوں کی اچھی برانڈ سے اس کے لیے چند اچھے اور مہنگے کپڑے سلیکٹ کرتے ہوئے ثنا نے اُسے دکھائے۔ تو اس نے پرائس ٹیگ دیکھ کر ثنا کی طرف دیکھا کہ اتنے مہنگے “کپڑے مہنگے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بھائی نے کہا ہے کہ تمہیں جو پسند آئے ٹیگ دیکھے بغیر خرید لو۔۔۔ چلو جلد ی کرو فکرمت کرو بھائی کی جیب کافی تگڑی ہے۔۔” ثنا نے اس کی آنکھوں میں تذبذب دیکھا۔۔۔ پھر ا سکی ہچکچاہٹ دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ تو اس نے ایک نظر پاس کھڑے کبیر علی پر بھی ڈالی۔ کبیر علی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے بعد سر ہلا دیا۔ تو اس نے بھی دو تین اچھے مہنگے کپڑوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ ساتھ ہی عروسی جوڑے کے لیے وہ ایک ڈیزائنر شاپ پر پہنچے۔۔۔ جہاں ایک بہت خوب صورت مگر مہنگے جوڑے پر تینوں کا اتفاق ہوا۔۔۔سامعہ کو قدرے حیرانی ہو رہی تھی۔۔۔ لیکن خوشی بھی کہ یہاں خالہ جان یا کبیر علی اس کے ساتھ فیئرہیں۔ اور شادی کے کاموں میں ڈنڈی نہیں مار رہے۔ورنہ جیسے منگنی کرتے ہوئے رسم کے نام سے چندنوٹ ہاتھ میں تھما دئیے تھے۔ اس بار بھی اس کے رامانوں کا خون ہو گا۔۔۔۔ اس نے شکر ادا کیا کہ خالہ اور کبیر علی نے شادی کی شاپنگ کے نام پر اُسے مایوس نہیں کیا۔۔۔ اگر یہاں بھی وہ کنجوسی دکھاتے تو اسے اپنے بدقسمت ہونے پر پورا یقین ہو جاتا۔۔۔۔ شادی کا جوڑا سُرخ رنگ کا تھا۔ جس پر تلّے اور دبکے کا انتہائی نفیس کام تھا۔ گولڈن شرارہ جس پر سُرخ ایپلک اپنی بہار دکھا رہی تھی۔۔۔ وہ کافی دیر تک تصور میں خود کو دلہن کے روپ میں دیکھتی رہی مگر ساتھ میں کبیر علی تو نہ تھے۔ پھر کون تھا؟۔۔۔۔ عمر آفندی کا ہلکا سا دھندلا خاکہ اُسے دنیا میں واپس لے آیا۔۔۔ “کیا ہوا سو رہی ہو کیا؟” کبیر علی نے کوئی سوال کیا تھا۔ جس کے جواب کے لئے ثنا نے اُسے ہلایا۔۔۔۔ ہاں واقعی وہ سو گئی تھی۔۔ ایک خواب میں گم مگر ہلکی سی نیند کے بعد آنکھیں کھُل گئی تھیں۔۔ “بھائی پوچھ رہے ہیں چار بجنے والے ہیں پا س ہی پیز اشاپ ہے۔ پیزا کھانا ہے۔۔” ثنا نے اس سے پوچھا۔۔۔ تو اُسے محسوس ہوا صُبح کا کھایا ہوااکلوتا سلائس تو شاید کہیں گُم ہو چکا ہے۔اُسے واقعی بھوک لگ رہی تھی۔۔۔۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
سیما نے آرڈر دے دیا تھا۔ اسے یہاں کا مارگیرٹا پیز ابہت پسند تھا۔ ساتھ ہی سیلڈ اور عمر نے چکن تکہ پیزا منگوایا۔ جب تک آرڈر آتا۔ دونوں ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے۔ اُسے حیرت تھی کہ عمر نے کافی دنوں سے ایک بار بھی سامعہ کے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ ورنہ وہ جب بھی ملتے سامعہ کے ذکر سے کوئی ملاقات خالی نہیں جاتی۔۔۔ لیکن وہ عمر کو چھیڑنا نہیں چاہتی تھی۔ سوئے ہوئے شیر کا سویا رہنا ہی مناسب تھا۔۔۔ اُسے جگا کر اپنی زندگی اجیرن کرنے کا کیا فائدہ۔۔۔۔
باتوں کے درمیان وقفہ آیا تو عمر نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے ہاتھ ملتے ہوئے سیما سے کہا۔۔۔” تم ٹھیک ہی کہتی تھیں سیما!یہ مڈل کلاس کی لڑکیاں۔۔۔ اور ان کی سوچ وہ شاید اندر کا غبار پوری طرح نکالنا چاہتا تھا لیکن اب تک ایسا موقع نہ ملا۔۔۔عمر سے یہ بات کسی طرح برداشت نہیں ہو رہی تھی کہ سامعہ نے اُسے کیسے ریجکٹ کیا اس جیسی ٹَکے ٹَکے کی لڑکیاں تو عمر کی ایک نظر کو منتظر رہتی ہیں۔ وہ سیما کو آج یہاں لایا ہی اسی لیے تھا، تاکہ دل کا غبار نکال سکے۔”میں نے تو اور بھی بہت کچھ کہا تھا لیکن تم میری بات نہ ہی سنتے ہو اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہو۔۔۔۔” سیمانے بھی اسی انداز میں جواب دیا۔۔۔۔” یہ مڈل کلاس لڑکیاں۔۔۔اور ان کی سوچ شادی سے آگے جاتی ہی نہیں۔۔۔۔” اس نے ہاتھ پر مُکّا مارا وہ شدید تلملایا ہوا تھا۔۔۔ اور آج اُسے اپنی تلملاہٹ نکلانے کا پورا موقع مل گیا۔۔۔۔”سنو! ان لڑکیوں کی زندگی میں شادی ہی سب سے بڑا eventہوتا ہے اور پہلا اور آخری بھی۔۔” اس لیے انہیں موردِ الزام مت ٹھہراؤ۔۔۔ فلرٹ کرنا اور بوائے فرینڈرکھنا اس کلاس کی بہت کم لڑکیاں افورڈ کر سکتی ہیں۔۔۔۔ سو ان کا ہر خواب شادی اور شوہر سے محبت پر آکر ختم ہو جاتا ہے۔۔۔ وہ اپنے دل کی ہر خواہش کا مرکز اپنے شوہر کو ہی بناتی ہیں۔ اس لیے انہیں بچپن سے یہی تربیت دی جاتی ہے۔۔۔۔ ” ” ایسی تیسی ایسی تربیت کی۔ یعنی ایک انسان کی اپنی خواہش نہیں۔وہ کسی سے ملنا چاہتا ہے۔۔۔کس سے بات کرنا چاہتا ہے۔۔۔سب گیا بھاڑ میں۔۔” وہ غصّے میں بولا۔ تو سیما کی ہنسی نکل گئی عمر کی ا دھوری باتوں سے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ کیا ہوا ہوگا۔ لیکن اس نے بہتر سمجھا کہ عمر اسے خود ہی ساری بات بتائے۔۔ اور پھر عمر نے اُسے ساری بات بتائی۔۔۔ توبہ ظاہر تو اس نے عمر سے ہمدردی کی لیکن اس کے دل میں ٹھنڈک سی پڑ گئی کہ کسی نہ کسی طرح سامعہ کا قصّہ تمام ہوا۔۔ ورنہ جس طرح اس نے سامعہ کے لیے عمر کو جذباتی دیکھا تھا۔۔۔ اُسے ڈر تھا کہ وہ واقعی شادی پر تیار نہ ہو جائے۔۔۔”مگر یار میں نے کون سا اس سے شادی کرنی تھی بس وہ اچھی لگتی تھی۔ اس سے بات کرنا اچھا لگتا تھا۔۔۔ اور بس لیکن وہ تو اتنے غصّے میں میرے پاس سے اُٹھ کر گئی کہ میں اس کے ری ایکشن پر حیران رہ گیا۔میں نے بس اتنا کہا تھا کہ ابھی شادی کی کیا ضرورت ہے۔ زندگی کو انجوائے کرو۔۔۔” وہ بڑے بے پرواہ انداز سے کندھے اچکاتے اُسے بتا رہا تھا۔۔۔ “خیر جذباتی تو تم اتنے ہو گئے تھے کہ مجھے لگتا تھا کہ تم واقعی اس سے شادی کر لوگے۔۔” اس بار سیما نے بھی شوخی دکھائی۔۔۔۔ “پاگل ہو گئی ہو ایسی لڑکیوں سے شادی کون کرتا ہے۔جو راہ چلتے لڑکوں کو ادائیں دکھاتی پھریں۔۔ ” “عمر یہ تو تم غلط کہہ رہے ہو۔ وہ ایسی لڑکی نہیں ہے میرے ساتھ کالج میں اس نے چار سال گذارے۔لیکن کبھی کوئی افیئر نہیں چلایا اور تم کو بھی پہلے پہل تو لفٹ ہی نہیں کروائی تھی۔۔۔۔”
سیما کو تھوڑا بُرا لگا۔ اُسے یاد تھا کس طرح اس نے زبردستی سامعہ کا نمبر حاصل کیا۔ پھر سامعہ نے عمر کا نمبر بلاک کیا اور اس نے کتنی کوششوں کے بعد دوبارہ رابطہ بحال کیا۔۔۔۔ کیا کیاجتن نہیں کئے۔۔۔ اور اب سامعہ پر سارا الزام ڈال کر اپنی خفت مٹا رہا تھا۔۔۔۔ “یار ان لڑکیوں کو شادی کی اتنی جلدی کیوں ہوتی ہے۔ بس کسی لڑکے سے ملیں اور شادی کا اظہار کر دیا۔ جیسے دنیا میں اس کام کے سوا کوئی اور کام نہیں۔۔۔۔” وہ بُرا سا منہ بنا کر کہہ رہا تھا۔۔۔ اور سیما کو ہنسی آرہی تھی۔۔۔ نہ جانے سامعہ نے اُسے کتنا بد دل کیا تھا۔ جو وہ آج یوں کھُل کر اس کے خلاف بول رہا تھا۔ ” یہ اس کلاس کی پرابلم نہیں بلکہ ضرورت ہے۔۔۔ ہماری کلاس کی طرح وہ فلرٹ افورڈ نہیں کر سکتیں۔ اس لئے زندگی میں آنے والے پہلے مرد سے ہی آخری بازی کھیلنے کی کوشش کرتی ہیں۔۔۔۔”وہ بڑی دیر سوچنے کے بعد بولی۔۔۔ تو وہ ہنس پڑا “واہ واہ! بڑی فلسفیانہ بات کی ” “پہلے مرد سے آخری بازی ” “اس میں اتنا ہنسنے کی کیا بات ہے۔ ” اس بار وہ اپنا مذاق اُڑانے پر منہ بنا کر بولی۔۔۔ اچھا بابا معاف کر دو۔ اتنی اردو میڈیم باتیں ہضم نہیں ہوتی نا۔۔۔ لگتا ہی نہیں تم نے انگلش لٹریچر پڑھا ہے۔۔۔” اس نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور کھڑا ہو گیا۔ ” میں دیکھتا ہوں کہ آرڈر کہاں رہ گیا۔۔۔ اور ذرا واش روم ہو کر آتا ہوں۔۔” سیما نے سر ہلا کر اپنا بند موبائل کھول لیا۔۔۔ اور اپنا ٹائم پاس کرنے لگی.چونکی تو اس وقت جب ثنا اس کے بالکل پاس آکر چیخی۔۔۔۔ ” سیما تم یہاں۔۔” سیما نے سر اٹھایا تو ثنا اور سامعہ کو بالکل اپنے پاس کھڑا دیکھا۔ توزبردستی مُسکراتے ہوئے کھڑی ہو گئی۔۔” ارے واہ! تم دونوں یہاں کیا کر رہی ہو؟” اس نے پہلے ثنا اور پھر سامعہ کو گلے لگایا۔۔۔سامعہ تم تو کہیں چھُپ کر ہی بیٹھ گئی ہو۔ تمہارا فون بھی بند جارہا ہے ۔۔۔” اس نے کھوجتی نظروں سے سامعہ کو دیکھا۔ حالاں کہ سب جانتی تھی لیکن عجیب سی تسکین محسوس ہو رہی تھی۔ سامعہ کے شرمندہ شرمندہ سے خجل چہرے کو دیکھ کر۔۔۔ پھر بھی اس نے پوچھ ہی لیا ” یہ بہت جلد مایوں بیٹھنے والی ہے۔” ثنا نے سیما کے سر پر جیسے دھماکا کیا۔۔۔”کیا؟” واقعی بھئی واہ! زبر دست یہ کب ہوا؟۔۔۔ سیما نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔ اسے اندازہ تو تھا کہ جس طرح کے حالات ہیں۔ سامعہ کی شادی جلد از جلد ہو جائے گی لیکن اتنی جلدی یہ اندازہ بالکل نہ تھا۔۔۔ “پوچھو گی نہیں اس کی شادی کس سے ہو رہی ہے؟”۔۔۔۔” ہاں بتاؤ اس کی شادی کی جتنی مجھے خوشی ہے کسی اور کو نہیں ہو گی۔۔۔۔” وہ دل سے خوش ہوتے ہوئے بولی۔۔ “میرے بھائی سے۔۔۔ یہ میرے بڑے بھائی ہیں کبیر علی۔۔۔۔” ثنا نے سامعہ کے پیچھے کھڑے کبیر علی سے اس کا تعارف کروایا۔ “السلام علیکم کبیر بھائی کیسے ہیں آپ؟” سیما نے مُسکراتے ہوئے انہیں سلام کیا۔۔۔ ایک لمحے کو اُسے کمینی سے خوشی ہوئی کیوں کہ کبیر علی کسی طرح بھی عمر آفندی جیسے خوب صورت نہ تھے۔۔۔۔ ایک قبول صورت عام سے مرد۔۔۔ اس نے ایک سر سری سی نظر سامعہ پر ڈالی جو خجل سی کھڑی تھی۔۔۔۔ اسی وقت عمر وہاں آگیا۔۔
” عمر! ان سے ملو یہ میری دوست ثنا ہیں اور یہ اُن کے بھائی کبیر۔ سامعہ کو تو تم جانتے ہی ہو، میری بیسٹ فرینڈ ” اس کے انداز میں موجود شوخی سے عمر نے چونک کر سامعہ کودیکھا۔۔۔ سب سے پہلے تو وہ سامعہ کو اپنے سامنے دیکھ کر حیران ہو گیا۔۔۔کبیر علی نے آگے بڑھ کر عمر آفندی سے ہاتھ ملایا۔۔۔۔ “میں نے آپ کو ظفر کے سوئم والے دن دیکھا تھا۔۔۔ ” کبیر علی نے انہیں دیکھتے ہی پہچان لیا۔۔۔ تو عمر نے بھی مر ی مری مسکراہٹ سے انہیں دیکھا۔۔۔۔ وہ تو سامعہ کو سامنے دیکھ کر ہی عجیب سی کیفیت کا شکار ہو گیا تھا۔۔۔ مری ہوئی انا نے اسے دیکھتے ہی انگڑائی لے لی۔۔۔ سیما کے اگلے جملے نے اس کے اندر جیسے آگ سی بھر دی۔۔۔۔ “عمر کبیر بھائی اور سامعہ کی شادی ہو رہی ہے۔۔ ” سیما نے مُسکرا کر عمر کو دیکھا۔۔۔ جیسے اس غیر متوقع سیچوایشن کے مزے لے رہی ہو۔۔۔۔ اور واقعی جتنی تکلیف وہ ان دونوں کی وجہ سے جھیل چکی تھی۔ یہی تو موقع تھا اس تکلیف کو ختم کرنے کا۔۔۔ کبیر علی اور ثنا نے سیما اور عمر کو شادی میں آنے کی دعوت دے ڈالی۔ سامعہ خاموش سی چور بنی ایک طرف کھڑی تھی۔ وہ تو سیما سے والہانہ انداز میں مل بھی نہ سکی۔۔۔ اور اس بات کو ثنا نے شدت سے محسوس کیا۔۔۔ ورنہ سامعہ اور سیما تو بہت اچھی دوستیں تھیں۔۔۔ مگر آج دونوں کے انداز میں ایک دوسرے کے لیے کوئی والہانہ پن نہ تھا۔۔۔ اتنے میں سیما اور عمر کا آرڈر آگیا تو عمر نے ان سب کو اپنے ساتھ جوائن کرنے کی دعوت دے ڈالی۔۔۔ لیکن عمر کی بات کے ساتھ ہی سامعہ نے کبیر کی طرف دیکھ کر انکار سے سر ہلا دیا۔۔۔۔”ثنا میرا موڈ نہیں پیزا کا۔۔۔ چلو کچھ اور کھاتے ہیں۔ ” “ارے تم سے پوچھ کر ہی تو ہم یہاں آئے تھے اور اب تم انکار کر رہی ہو ” ثنا نے حیرت سے اُسے دیکھا۔۔۔ لیکن کبیر علی نے اس کی پیلی پڑتی رنگت کو دیکھ کر ہی اندازہ لگا لیا کہ اس کی واقعی طبعیت ٹھیک نہیں۔۔۔”کوئی بات نہیں ثنا اگر اس کا موڈ نہیں تو رہنے دو۔۔۔ مجھے بتاؤ سامعہ تم کیا کھاؤ گی۔ وہیں چلتے ہیں۔۔۔” کبیر علی نے بہت محبت اور لگاوٹ سے اس سے پوچھا تو عمر آفندی کے جیسے آگ سی لگ گئی۔۔۔ لیکن سامعہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔ “میرا کچھ کھانے کا موڈ نہیں۔ کتنے گھنٹے سے ہم شاپنگ کر رہے ہیں میں تھک گئی ہوں۔ گھر چلتے ہیں۔۔۔” وہ ثنا کو دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔۔ ” ارے تمہارے تو ہاتھ بھی اتنے ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔ طبعیت تو ٹھیک ہے نا۔۔” ایک لمحے کے لیے ثنا بھی پریشان ہو گئی۔۔۔ ” ہاں میں تھک گئی ہوں۔۔۔ بس گھر جانا چاہتی ہوں۔۔۔” اس سے اب عمر آفندی کے سامنے مزیدٹھہرنا محال ہو رہا تھا۔۔۔۔ کیوں کہ عمر کی نظریں پلٹ پلٹ کر اس کے چہرے کی طرف بھٹک رہی تھیں۔۔۔ “اوکے عمر اور سیما جی شادی کا کارڈ آپ کو مل جائے گا۔ آپ نے ضرور آنا ہے۔” کبیر علی نے جاتے جاتے ان دونوں کو یقین دہانی کروائی۔۔۔ “ضرور کبیر بھائی! میری اتنی عزیز دوست کی شادی ہو اور میں نہ آؤں۔ اگر یہ بھول بھی جائے تو آپ یاد رکھیئے گا۔۔۔” وہ مسُکرا کر بولی۔۔۔۔ سامعہ نے بے حد سر سری انداز میں سیما سے ہاتھ ملایا مگر عمر کی طرف دیکھا بھی نہیں۔۔۔سامعہ تیزی سے باہر نکل آئی۔۔۔ اس کے لیے اب وہاں عمر کی نظروں کے حصار میں مزید کھڑا رہنا بہت مشکل تھا۔۔۔ ثنا اور کبیر علی بھی دونوں کو خداحافظ کہہ کر باہر آگئے۔۔۔ پورے راستے کبیر علی اور ثنا کو اس کی طبیعت کی فکر لگی رہی۔ “سنو اگر زیادہ طبیعت خراب ہو رہی ہے تو ہم ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔۔” کبیر علی نے اُسے مشورہ دیا۔۔۔ ” نہیں نہیں بس پلیز مجھے گھر ڈراپ کر دیں میں بہت تھک گئی ہوں۔ تھوڑا آرام کروں گی تو ٹھیک ہو جاؤں گی۔۔۔” ” اوکے! پھر گھر جا کر آرام کرنا کسی کام میں مصرروف نہ ہو جانا۔۔” ثنا نے بھی اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر ہدایت دی۔۔۔ تو وہ مری مری مُسکراہٹ کے ساتھ اُسے دیکھنے لگی۔۔ اپنے کمرے میں آکر دروازہ بند کیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ جن دروازوں اور جن راستوں کو بڑی بڑی اینٹیں اور پتھر لگا کر بند کرتی ہوں۔ان میں دراڑیں کیوں پڑ جاتی ہیں۔۔۔ کیوں با ر بار میرے سامنے آرہے ہو؟۔۔۔ کیوں مجھے بے سکون کر رہے ہو۔۔۔ اسے وہ لمحہ یاد آیا۔ جب اس نے پاس پاس کھڑے کبیر علی اور عمر آفندی کو ہاتھ ملاتے دیکھا تھا۔ کتنا فرق تھا دونوں میں ایک زمین تھا تو دوسرا آسمان۔۔۔۔یا میرے مولا! یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔۔۔ جن سے زندگی نہیں ملتی تو اُن سے دل کیوں ملا دیتا ہے؟۔۔۔ اور پھر بار بار چھوڑنے کے بعد بھی انہیں ہمارے راستے میں کھڑا کر دیتا ہے۔۔۔ کیوں آخر کیوں ایسا امتحان لیتا ہے۔۔۔ وہ قدرت کی ان آزمائشوں سے بہت بددل ہو رہی تھی۔۔۔ لیکن کیا فائدہ۔۔۔ کس سے شکایت کرے۔۔۔ آج ان دونوں میں کوئی مقابلہ نہ تھا۔ لیکن اس کے دل میں ملال آگیا۔۔۔ اللہ چاہتا تو کبیر علی کی جگہ میرے نصیب میں عمر آفندی بھی ہو سکتا تھا؟۔۔۔ اور وہ سیما کتنی خوش ہو رہی تھی۔۔۔ اس کے چہرے پر کتنا سکون سا تھا۔ میری شادی کا سُن کر۔ جیسے اس کے سامنے پڑا بڑا سا پتھر ہٹ گیا ہو۔۔۔۔ یا میرے خدا! میرے لئے اتنی آزمائشیں کیوں؟۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔۔ دل کو عجب سا دُکھ تھا۔۔۔ عمر آفندی کی نظریں بھٹک بھٹک کر اس پر ہی پڑ رہی تھیں۔۔۔ اور وہ دل دوبارہ خوش فہمی میں مبتلا ہو رہا تھا کہ شاید وہ اس سے واقعی محبت کرتا ہو۔۔۔ اُس نے جلد بازی میں کہیں عمر آفندی جیسے شخص کو کھو تو نہیں دیا۔۔۔۔ ” ہائے رے دل کی خوش فہمیاں جو عقل ناقص کو مزید ناقص کر دیتی ہیں۔۔۔” عمر آفندی کی حالت بھی اسے دیکھ کر کم خراب نہیں ہوئی۔۔۔ اور پھر کبیر علی شادی کا سُن کر تو اسے بہت تکلیف تھی۔ وہ ہمیشہ لڑکیوں کو goodbyکہتا آیا تھا۔ یہ پہلی بار تھا جب کوئی لڑکی اس سے اس طرح بے التفاقی برت کر الگ ہوئی تھی۔۔۔ اُسے ہمیشہ لڑکیاں کھُلے دل سے ویلکم کرتیں اور وہ جب تک چاہتا اپنے ریلیشن ان سے استوار رکھتا۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کسی نے اُسے بیچ راستے میں چھوڑا تھا۔۔۔ یہ تکلیف وہ کسی طور برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔ ایسی کئی لڑکیاں عمر کی زندگی میں آئی اور گئیں لیکن اس میں ایسی کیا بات تھی جو وہ کسی طور اُسے بھول نہیں پا رہا تھا۔۔۔ انا۔۔۔ شاید مرد کی زندگی میں انا کا جذبہ ہر جذبے سے بڑھ کر ہوتا ہے۔۔۔ جب بھی کوئی اس کی انا کو کچل کر آگے بڑھے۔ وہ ایسے شخص کو کبھی نہیں بھول پاتا۔ اسی لئے وہ اپنی زندگی میں آنے والی عورت چاہے وہ محبوبہ ہویا بیوی کی انا کو ہی سب سے پہلے کچلتا ہے۔ تاکہ وہ اس کے انا کے ناگ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔۔۔ اس لڑکی نے واقعی عمر کے انا کے ناگ کوکچلا تھا تو بھلاوہ اسے کیسے بھول سکتا تھا؟۔۔۔ جب تک بدلا نہ لے لوں مجھے چین نہیں آئے گا۔۔” اس نے خود سے وعدہ کیادُہرایا۔۔۔ “اتنی آسانی سے میں تمہیں کسی اور کا ہونے نہیں دوں گا۔۔۔۔ سامعہ! تمہاری بھول ہے۔۔۔۔” عمر مرد تھا نا اپنی انا کے پرچم کو بلند رکھنا اس جنس کا خاصہ تھا۔۔۔ حالاں کہ کوئی پوچھے کہ ایک اچھی خاصی لڑکی کو اپنے راستے سے بھٹکا کر تم نے کیا کمال کیا تھا۔۔۔ اور جب اس نے سیدھے راستے کی فرمائش کی تم مُکر گئے۔۔۔ یعنی ہر طرح سے اپنی بات کو صحیح ثابت کرنا اور ا س میں دوسرے کی زندگی کو برباد کر دینا۔۔۔ یہ کون سا انصاف تھا۔۔ وہ خود لڑکیوں سے دوستی رکھتا انہیں چھوڑ دیتا اسے دکھ نہیں ہوتا تھا۔۔۔ مگر اس وقت اُسے صرف یہ بات تکلیف دے رہی تھی کہ سامعہ نے اُسے چھوڑنے میں پہل کی۔۔۔ جو ایک کانٹے کی طرح اس کے دل کو چبھ رہی تھی۔۔۔ لیکن چھوڑوں گانہیں۔۔۔ اس نے موبائل سے سامعہ کا پرانا نمبر نکالا جسے سامعہ نے بلاکڈ کر دیا تھا۔۔ اور پھر اپنی ایک نئی سم سے اُسے کال کی تو وہ پرانا نمبر آن تھا۔۔۔ بیل چلی گئی۔۔۔ اور اس کی قسمت اچھی تھی کہ سامعہ نے فون اُٹھا بھی لیا۔۔ “ہیلو سامعہ۔” دوسری طرف سامعہ کو اس کی آواز سُن کر سانپ سونگھ گیا۔۔۔۔ ” ایک منٹ فون بند مت کرنا سامعہ صرف ایک بار میری بات سُن لو۔۔۔۔ پھر جو چاہو کرنا۔۔۔” وہ جیسے گڑ گڑایا۔۔۔ اچھا ایکٹر تو وہ ہمیشہ سے تھا۔۔۔ اور کچھ عمر کے ساتھ ساتھ یہ فن اس میں بڑھتا گیا تھا۔۔۔ ” مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سننی۔۔ پلیز آئندہ فون مت کیجئے گا۔۔” یہی تمہاری سب سے بُری بات ہے۔ دوسرے بندے کی بات سُنے بغیر اس پر الزام لگا کر بات کرنا چھوڑ دیتی ہو۔ پلیز!سکون سے میری بات ایک بار سُن لو پھر چاہے ساری عمر بات نہ کرنا۔۔” اس بار اس نے قدرے رُعب جماتے ہوئے کہا۔۔۔ ” اب سُننے اور کہنے کے لیے کیا باقی رہ گیا ہے۔۔۔” سامعہ نے اسی انداز میں جواب دیا۔۔۔ ” ابھی میں نے تم سے کہا بھی کیا ہے؟۔۔۔ میری صرف اتنی سی بات کہ ہمیں شادی کے لیے تھوڑا سا وقت چاہیے۔۔ زندگی کو انجوائے کرنے کا وقت۔۔۔۔شادی تو انشاء اللہ ہو ہی جائے گی۔۔۔ تم نے اتنا بُرا مانا کہ میرا مزید جواب سُنے بغیر ہی چلی گئیں۔۔۔ یہ بھی نہ سوچا کہ تمہارے بعد میر اکیا ہو گا۔۔۔ محبت کے دعوے کرنا بہت آسا ن ہے لیکن اُسے نبھانا بہت مشکل۔۔۔ تم نے سوچابھی کیسے کہ میں تمہیں کسی اور کا ہونے دوں گا۔۔۔” اس بار وہ اپنی جذباتی اداکاری کرتے ہوئے وہ پورے عروج پر تھا۔۔۔ اور واقعی اس کا خوش فہم مردِ مقابل ڈھیر ہو چکا تھا۔۔۔ سامعہ کو اس کی باتوں پر اعتبار آرہا تھا۔۔۔ ایک بار پھر شیطان اپنا وار چل چکا تھا۔۔۔ ” لیکن۔۔۔ ” سامعہ نے کچھ کہنا چاہا۔” بس دیکھ لی تمہاری محبت میری پوری بات سُننے سے پہلے ہی تم مجھے وہاں اکیلا چھوڑ کر چل دیں۔۔۔ لیکن اب احساس ہو کیوں کہ ا تمہارے پاس سیکنڈ آپشن میں کبیر علی موجود تھا۔۔اسی لئے تم نے ایسا کیا تھا۔۔۔ تمہاری اس سے شادی ہو رہی ہے نا۔۔۔۔ تم نے ایک لمحہ بھی میرے بارے میں نہیں سوچا کہ میرا کیا ہوگا؟۔۔۔ کیسے جیؤں گا تمہارے بغیر؟۔۔” ایک لمحے کو وہ ہکلا گیا۔ اس کی اداکاری میں کتنی مکّاری تھی۔ وہ یہ بہ خوبی جانتا تھا۔۔ شیطان کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ وہ بلا کا مکّار ہے۔ اوراس نے ہمیشہ اپنے چیلوں کو مکروفریب ہی سکھایا ہے۔اس کا یہ منتر کبھی ناکام نہیں ہوتا۔۔ وہ بھی ان باتوں پر پھر سے پگھل گئی۔ اس پر عمر کی مکّاری کا سحرطاری ہو گیا۔۔۔ عمر کے پڑھے گئے منتر اثر کر چکے تھے۔ وہ پھر ایک بار تارِعنکبوت میں جکڑی جا چکی تھی۔۔۔ لمحہ بھر بھی نہ لگا۔۔۔ وہ سسکنے لگی۔۔ ” عمر۔۔” اس کے ہونٹوں سے عمر کا نام سرگوشی کی صورت نکلا۔۔۔ ” ہاں بولو جانِ عمر۔۔۔ میں جانتا ہوں تمہارا اور کبیر علی کا کوئی جوڑ نہیں۔۔۔ تمہارے ساتھ کھڑا وہ شخص تمہارے بڑے بھائی جیسا لگ رہا تھا۔۔۔ تم جتنی خوب صورت لڑکی کا کوئی جوڑ نہیں۔۔۔اُس کے ساتھ۔۔۔ایک بارپھر سوچ لو۔۔۔ مجھ جیسا پیار تمہیں کوئی اور نہیں دے سکتا۔۔” اس بار اس نے سامعہ کو پوری طرح اپنے جھانسے میں لے لیا۔۔۔ اور وہ آبھی گئی۔۔۔ ” لیکن عمر اب کیا ہو سکتا ہے۔۔ میری شادی ہونے والی ہے۔ ” سامعہ سسکی۔۔۔”تم چاہو تو یہ شادی رُک بھی سکتی ہے۔۔۔” اس نے ایک اور داؤ کھیلا۔۔۔ ” مگر کیسے اب تو تاریخ بھی طے ہو گئی؟”کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔ ” تم ایک بار ملو تو صحیح مل کر کوئی حل نکالتے ہیں۔۔۔ ” ” اچھا کوشش کرتی ہوں۔۔ مگر۔۔۔” دیکھو یہ اگر مگر میں پڑی رہیں تو وقت ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ پھر تم کسی اور کی ہو جاؤ گی۔۔۔ بھول جاؤ مجھے۔۔۔ اگر ہمت نہیں ہے تو محبت کا نام بھی نہ لو۔۔۔” اس بار وہ قدرے غصے میں بولا۔۔ تو وہ فوری بولی۔۔۔ ” نہیں نہیں ناراض مت ہو میں آؤں گی۔ تم سے ملنے مگر پلیز کچھ کرو ورنہ میں مر جاؤں گی تمہارے بغیر۔۔” اس بار اس نے بھی فوری طور پر اپنی محبت کا یقین دلایا تو عمر آفندی کے چہرے پر عیارّانہ مُسکراہٹ رینگ گئی۔۔۔
اور اگر کوئی دیکھنے والا ہوتا تو دیکھتا کہ اس مسکراہٹ میں کس طرح کی فتح چھپی ہوئی تھی۔۔۔ ایسا ممکن ہی نہ تھا کہ وہ دانہ ڈالتا اور چڑیا اس کے قابو نہ آتی۔۔۔ یہ پہلی بار تھا کہ کسی نے اُسے اتنا عاجز کیا تھا۔۔۔ اب مسئلہ محبت نہیں انا کا تھا۔۔ اور انا کی اس جنگ میں ناکامی کا منہ دیکھنا اُسے کسی طور گوارا نہ تھا۔۔ ایک بار صرف ایک بار اس چھٹاک بھر لڑکی کو مزہ چکھانا ہے۔۔ پھر چاہے کچھ بھی ہو۔۔۔ دل کی آگ تو ٹھنڈی ہو جائے گی۔۔۔ وہ فون بند کر کے آگے کا پلان سوچنے لگا کہ کس طرح اُسے قابو کیا جائے۔۔۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا۔۔۔ کہ کسی لڑکی نے اُسے آدھے راستے میں چھوڑا تھا ورنہ ہمیشہ تو وہ ہی لڑکیوں سے دل بھرنے کے بعد انہیں بائے بائے کرتا آگے بڑھ جاتا۔۔۔ اور اب ایک بار پھر ٹکراؤ ہونے کے بعد انا کی آگ دوبارہ بھڑک اُٹھی تھی۔۔۔ ورنہ شاید وہ اسے کسی نہ کسی طرح بھول ہی جاتا۔۔۔ اور اپنی زندگی میں دوبارہ مگن ہوجاتا۔۔۔مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
آج سیما آفس جاتے ہوئے بہت خوش تھی۔۔۔ یہ بات نانو بی نے بھی نوٹ کر لی تھیں۔۔۔ اس نے ناشتے کی میز پر بیٹھنے سے پہلے نانو بی کے دونوں گالوں پر چٹا چٹ پیار کیا۔۔ بلکہ ایک اضافی شدید محبت بھرا بوسہ ماتھے پر بھی لے لیا۔۔۔ ” ارے واہ آج تو ہماری شہزادی بہت خوش لگ رہی ہے۔۔۔” انہوں نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔ ” جی نانو بی! بہت سے بھی بہت زیادہ۔۔” اگر بُرا نہ مانیں تو ہماری شہزادی ہمیں بھی اپنی اتنی خوشی کا راز بتا دیں۔۔۔ ” انہوں نے کافی کا سِپ لیا۔۔۔
بس آج کل کام میں بہت مزہ آرہا ہے۔۔۔ ” مجھے اب سمجھ آیا کہ بڑے ہمارے لیے جو فیصلے کرتے۔ ہیں اپنے تجربوں کی بنیاد پر کرتے ہیں اور تجربہ سب سے بڑا استاد ہے۔۔”
” ارے واہ! اب تو ہماری شہزادی فلسفہ بھی بولنے لگی ہے۔ لگتاہے باہر نکلناراس آگیا۔۔” نانو بی خوش ہو کر بولیں۔۔ ” جی نانو ہم جب اپنے کمفرٹ زون سے نکل دنیا دیکھتے ہیں۔ تب ہمیں سمجھ آتا ہے کہ اصل دنیا تو ہمارے کمرے اور گھر کی دہلیز سے باہر ہے۔۔۔ جو ہمیں ہنساتی بھی ہے اور رُلاکر مضبوط بھی کرتی ہے۔۔۔ ” ارے واہ بھئی واہ! اتنی جلدی اتنی عقل والی باتیں سیکھ لیں۔۔۔ یعنی میرا تمہیں باہر نکالنے کا فیصلہ بالکل صحیح تھا۔۔” وہ بھی اپنے فیصلے پر خوش ہوئیں۔۔۔ ” یہ بتاؤ عمر تمہیں ٹائم دیتا ہے نا ” میں اتنا لنچ بھجوا دیتی ہوں کہ تم اور وہ آرام سے کچھ دیر ساتھ بیٹھ کر کھا پی لو۔۔” جی نانو لنچ تو عموماً ہم دونوں ساتھ ہی کرتے ہیں۔۔۔ اور اس کے علاوہ وہ آفس ورک میں بھی میری کافی مدد کر دیتا ہے۔۔۔۔” اس نے تائید کرتے ہوئے انہیں اطمینان دلایا “چلو تم ناشتہ کرو اور پھر ڈرائیورتیار ہے اس کے ساتھ، نکلو آفس سے لیٹ ہو رہی ہو۔۔” انہوں نے گھڑی کی طرف دیکھا اور اُسے ہدایت دی۔۔ “جی نانو بی بس نکلتی ہوں اور آج شام تیار رہیئے گا۔۔۔ میں نے مووی ٹکٹس کروائی ہیں۔۔۔ کافی دن ہو گئے ہم نے مل کر کوئی مووی نہیں دیکھی۔۔۔” ” ارے اتنی ٹھنڈ ہو رہی ہے میں کہاں جا سکوں گی۔ تم اور عمر چلے جاؤ۔” نہیں مجھے آپ کے ساتھ ہی جانا ہے۔۔۔ جب عمر کے ساتھ دیکھنی ہوئی دیکھ لوں گی۔ ابھی تو آپ چلیں نا۔۔ ابھی اتنی زیادہ ٹھنڈ نہیں ہوئی۔گرم گرم پاپ کورن اور کافی بھی پلاؤں گی۔۔” اس نے انہیں بچوں کی طرح لالچ دیا۔۔۔ تو نانو بی ہنس پڑیں۔ بہت محبت کرتی تھیں وہ اپنی اس نواسی سے حالاں کہ عمر بھی ان کا نواسا تھا لیکن ان کی باؤنڈنگ جتنی سیما کے ساتھ تھی عمر کے ساتھ نہیں۔۔ اور وہ دونوں کو ایک نکاح کے بندھن میں باندھ کر اسی باؤنڈنگ کو مضبوط کرنا چاہتی تھیں۔۔۔ اور اب انہیں کچھ کچھ یقین ہونے لگا تھا کہ جلدہی سیما اور عمر ایک دوسرے میں دلچسپی لینے لگیں گے۔۔۔ سیما کا تو انہیں پورا یقین تھا کہ وہ عمر کو چاہتی ہے لیکن عمر۔۔۔ کسی صورت ہاتھ نہیں آرہا تھا۔۔۔ مگر ان کا یہ حربہ کامیاب ٹھہرا۔ زیادہ سے زیادہ وقت ساتھ گذارنے کی وجہ سے دل میں پسندیدگی کے جذبات پیدا ہونے ہی لگیں گے۔۔ یہ شاید ان کے زمانے کی سوچ تھی۔۔۔ جو اب نہیں چلتی۔۔۔ آج کل کے بچے کچھ لو اور کچھ دو کے اصولوں پر چلتے تھے۔۔۔ محبت بھی یہ دیکھ کر کی جاتی کہ واپسی میں کیا مل رہا ہے۔۔۔ کسی کے ہمہ وقت سامنے ہونے والا فارمولا اب ناکام تھا۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
رضوان کے لیے باپ کے بغیر اتنا بڑا بزنس سنبھالنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔۔۔ لیکن آفس میں تمام لوگ انتہائی مخلص اور کو آپریٹو تھے۔۔۔ ہر جگہ اس کی مدد کرنے کی اور کمپنی کو اپنی محنت سے آگے بڑھانے میں ہمہ وقت تیار۔۔۔ اسی لئے آہستہ آہستہ مشکلات کے باوجود وہ خود کو سنبھال رہا تھا۔۔۔ سیکھ رہا تھا۔۔۔ اور کمپنی کو بابا کے بعد آگے لے جانے کی بھر پور کوشش بھی کر رہا تھا۔۔۔ اس نے ایک نیا پراجیکٹ شروع کیا تھا۔۔۔ اور اُسے یقین تھا کہ اس کے بعد کمپنی مزید کامیابیاں سمیٹے گی۔۔۔ اس سلسلے میں کبیر علی نے ان کی بھر پور مدد کی۔۔۔ وہ واقعی ان کی ذہانت کے قائل ہو گئے۔۔۔ رضوان کو اپنے باپ کی ذہانت پر فخر ہوا۔۔۔ ہیرے انہوں نے اپنی کمپنی میں چُن چُن کر رکھے ہوئے تھے۔۔۔ اور اگر وہ کسی ملازم میں خوبیاں دیکھتے تو اُسے اتنی مراعات دیتے کہ وہ کہیں اور جانے کا کبھی سوچتا بھی نہیں۔۔۔ یہی سوچ کر انہوں نے کبیر علی کی سیلری میں مزید اضافہ کر دیا۔۔ جو کہ ان کے خیال میں ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے بہت کم تھا۔۔۔ اور کبیر علی ان کے ممنون ہو گئے۔۔ لیکن وہ اس اضافے کو سامعہ کی خوش قسمتی گردانتے تھے جس نے ان کی زندگی میں آنے سے پہلے ہی اپنے اثرات ڈالنے شروع کر دئیے۔۔۔ تنخواہ میں یکمشت پچاس ہزار کا اضافہ ان کے لیے ایک بڑی بات تھی۔۔۔ یہ خبر سُن کر سلمیٰ بیگم کو بھی انتہائی خوشی ہوئی۔۔۔ بے شک یہ سب ان کے بیٹے کی محنت کا ثمر تھا لیکن وہ یہ بھی مانتی تھیں کہ ہر آنے والا اپنا رزق ساتھ لے کر آتا ہے۔۔۔ چاہے وہ دنیا میں آنے والا ہو یا کسی کی زندگی میں۔۔۔ اور اپنی اس بھانجی سے تو انہیں بچپن سے ہی بہت محبت تھی۔۔۔ اپنے ہاتھوں میں کھلایا تھا۔۔۔ ثنا اور سامعہ ایک ساتھ پلی بڑھی تھیں۔۔ انہیں ثنا کی طرح سامعہ سے بھی بہت محبت تھی۔۔۔ اکثر جیسا جوڑا ثنا کا بنتا سامعہ کو بھی ایسا ملتا تھا۔۔ اسے انہوں نے ہمیشہ اپنی بہو کے روپ میں دیکھا۔۔۔ ہر چند کہ بڑوں کے درمیان باہمی رضا مندی کو بچوں پر آشکار نہیں کیا گیا۔۔۔ لیکن خاندان میں سب کو معلوم تھا کہ سامعہ کے لیے پہلا حق کبیر علی کا ہی ہے۔۔ سوائے سامعہ جو انہیں اپنا بڑا بھائی مانتی تھی۔۔۔ لیکن رشتے ماننے سے نہیں منوانے سے وجود میں آتے ہیں۔۔۔ وہ اگر انہیں بھائی مانتی تھی تو کیا ہو ا۔۔۔ کبیر علی نے خود کو جس رشتے میں منوانا تھا۔۔۔ وہ منوالیا۔۔۔”اماں میری خواہش تو تھی کہ ہم نئے گھر میں شفٹ ہو جاتے تو شادی ہوتی۔۔۔ لیکن ماموں جان اور خالو جان کی خواہش سر آنکھوں پر اسے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔۔۔”
” یہ گھر بھی اتنا بُرا نہیں ہے۔ جب تک نیا گھر مکمل نہیں ہوتا اوپر والا پورشن تم سیٹ کر لو۔۔۔ وہاں کچھ عرصے اچھی گذر بسر ہو سکتی ہے۔۔۔”
“جی یہی سوچ رہا ہوں کمپنی سے اتنا لون مل گیا ہے کہ اوپر والا پورشن عارضی طور پر سیٹ کیا جا سکتا ہے۔۔۔ اور آپ خالو جان کو فرنیچر یا کسی بھی چیز کو جہیز کے نام پر لینے سے منع کر دیں۔ میں سارا فرنیچر خود ڈلواؤں گا۔۔” انہوں نے ماں کو ہدایت کی۔
” تمہارے کہنے سے پہلے ہی میں یہ سب کر چکی ہوں۔۔۔۔ بھائی جان کہہ رہے تھے کہ یہ سب میں اپنی طرف سے کروں گا۔۔۔ لیکن میں نے اُن کو بھی منع کر دیا۔۔۔۔ کہ یہ سب تم اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہو۔۔۔۔۔” انہوں نے مُسکرا کر جواب دیا۔۔۔۔ وہ جانتی تھیں کہ ان کا بیٹا کتنا خود دار ہے۔۔ وہ جہیز کے نام پر ایک پیسہ لینے کا روادار نہیں۔۔۔” تم بس اوپر والا پورشن سیٹ کروالو۔۔۔ دو کمرے اور ایک لاؤنج میں جو فرنیچر اپنی مرضی کا ڈالنا چاہو۔۔۔ آرڈر کر دو۔۔۔ باقی وائٹ واش کروانا ہوگا۔۔۔ جی کل سٹرڈے ہے۔ کل سے ہی اس پر کام شروع کرواتا ہوں۔۔۔ مجھے فکر تھی کہ شمیم صاحب کے بعد رضوان صاحب کس طرح کی طبعیت کے مالک ہوں گے۔۔۔ لیکن اماں یقین کریں وہ شمیم صاحب سے بھی دوہاتھ آگے ہیں۔۔۔ اپنے ملازموں سے اتنی محبت اور لگاوٹ سے پیش آتے ہیں کہ لگتا ہی نہیں کہ ملازم کون اور مالک کون ہے۔۔۔ کل ہی آپ نے جو لنچ دیا تھا۔۔۔ ہم سب لنچ کر رہے تھے۔ آگئے۔۔۔ ہاں بھئی اکیلے اکیلئے لنچ ہو رہا ہے ۔” میں نے آفر کی تو بیٹھ کر ہم سب کے ساتھ لنچ کیا۔۔۔ بعد میں سب کے لیے چائے کے ساتھ مٹھائی منگوا کر کھلائی۔۔۔ ” وہ بچوں کی طرح خوش ہو کر ماں کو بتا رہے تھے۔۔۔ ” ہاں بھئی بڑے اور شریف گھرانوں کے بچے بھی وضع دار ہوتے ہیں۔۔۔ یہ نہیں کہ نئی نئی دولت آئی اور دماغ خراب ہو گیا۔۔ ملازم کو پاؤں کی جوتی سمجھ لیا۔۔۔ اور خود کو خدا کی جگہ۔۔۔ انہوں نے اگر تمہارانمک کھایا تو اپنا میٹھا کھِلا کر حلال کر دیا۔۔” وہ ہنس کر بولیں۔۔ اچھا ذرا آرام کر لو۔ پھر ثنا کو لے کر بازار جانا۔ اس نے برّی کے کچھ کپڑے سلنے کے لئے دیئے ہوئے تھے۔۔۔ وہ لانے ہیں۔۔۔ جی ٹھیک ہے۔ بس چائے پی کر نکلتے ہیں۔۔۔ اس نے مجھے اندر آنے سے پہلے ہی بتا دیا تھا۔۔۔ کہ بھائی آج بازار کے بہت سے کام ہیں۔۔۔ خود چائے لینے گئی ہے۔۔۔ چائے پیتے ہی نکل جائیں گے۔۔۔ اب آرام تو رات کو ہی ہوگا۔۔۔ “اماں ویسے میں سوچ رہا ہوں کہ ثنا کو بھی ڈرائیونگ آنی چاہیے۔۔ اپنا اور آپ کا چھوٹا موٹا کام اُسے خود کرنا چاہیے۔۔۔ ” انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے ماں سے کہا۔ ” ہاں بالکل ٹھیک ہے۔ اگر اُسے ڈرائیونگ آتی تو اس وقت وہ تمہارے انتظار میں نہ بیٹھی ہوتی۔۔۔ اب تک یہ کام ہوجاتا اور تمہیں بھی آرام مل جاتا۔۔۔۔” انہوں نے بھی بیٹے کی تائید کی۔ ” بس ذرا شادی سے فارغ ہو جاؤں سب سے پہلا کام یہی کروں گا۔۔۔” ” ویسے میں تو چاہتی تھی کہ اس کی رخصتی بھی تمہارے ساتھ ہی ہو جاتی اور میں اپنے فرائض سے سبک دوش ہو جاتی لیکن وہ کہتی ہے کہ مجھے ابھی آگے پڑھنا ہے۔ ماسٹرز کرنا ہے تو میں خاموش ہو گئی۔۔۔” انہوں نے سر ہلاتے ہوئے کہا تو کبیر علی فوراً بولے۔۔۔ ” ہاں تو وہ غلط تو نہیں کہہ رہی اماں۔ لڑکیوں کا پڑھنا بہت ضروری ہے۔۔۔ میں تو سامعہ کو بھی اجازت دوں گا اگر وہ آگے پڑھناچاہتی ہے تو ضرور پڑھے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔” انہوں نے کھُلے دل سے کہا تو سلمیٰ بیگم مُسکرا اٹھی۔۔۔ انہیں معلوم تھا کہ اُن کا بیٹا بہت کھُلے دل و دماغ کا مالک تھا۔۔۔ انہوں نے بچپن سے ہی اس کی ایسی تربیت کی تھی کہ کہیں بھی چھوٹے دل کا مظاہرہ نہیں کرتا۔۔۔ انہیں خوشی تھی کہ جیسا وہ اپنی بہن کے لئے سوچتا۔ویسا ہی وہ اپنی بیوی کے لیے بھی سوچتا تھا۔۔۔اس کے لیے بھی دل کاکھُلا تھا۔۔۔ انہوں نے بڑے دل سے اس کی آنے والی اچھی زندگی کے لیے دُعا کی۔۔۔” یا اللہ میرے بچوں کی زندگی میں آسانیاں اور خوشیاں پیدا کر۔۔۔” کبیر علی نے ان کی گود میں سررکھ کر آنکھیں موند لیں تو وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگیں۔۔۔
” بھائی جلدی سے چائے پی لیں۔۔۔ میں نے ساتھ میں کباب بھی فرائی کئے ہیں۔۔۔ ” ثنا نے چائے کی ٹرے میز پر رکھتے ہوئے آنکھیں موندے کبیر علی سے کہا۔۔۔ وہ جمائی لیتے اُٹھ کر بیٹھ گئے۔یہ دس منٹ بھی ماں کی گود میں دس گھنٹوں کی نیند کے برابر تھے۔۔۔ انہوں نے مزے سے کباب کھائے۔۔۔ ساتھ ہی ثنا کو آرڈر بھی کر دیا کہ کل لنچ میں درجن بھر کباب فرائی کر کے دینا۔ رضوان صاحب کوکھِلانے ہیں۔کل انہوں نے تمہارے ہاتھ کے بنے ہوئے کبابوں کی بہت تعریف کی۔۔۔ اور فرمائش کی تھی دوبارہ بنوا کر کھلاؤں۔ “اوکے بھائی مل جائیں گے۔ ابھی تو تیار ہو جائیں نکلنے کے لئے۔ ویسے ہی شام ہو چکی ہے۔سردی بڑھ جائے گی۔۔۔” وہ دونوں چائے پیتے ہی نکل گئے۔۔ واقعی باہر کافی خنکی تھی۔۔۔ گھر واپسی میں دوگھنٹے لگ گئے۔جب تک قدرے دُھند بڑھ چکی تھی۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
عمر سے بات کرنے کے بعد سامعہ کا دل کسی کام میں نہیں لگ رہا تھا۔ اب تو اسے شادی کی تیاریاں بھی بہت بُری لگ رہی تھیں۔۔۔ ثنا یا خالہ جان کا فون آجاتا اور کسی چیز کے بارے میں اس سے مشورہ لیتیں تو اسے بہت کوفت سی ہوتی۔۔۔ اب احساس ہو رہا تھا کہ اس سے جلد بازی ہوئی۔۔ اُسے کچھ دیر رُک کر عمر کی پوری بات تو سُننی چاہیے تھی۔ شادی میں اتنا کم وقت رہ گیا تھا۔۔۔ اور عمر اُسے روز ملنے کا اصرار کرتا تاکہ مل کر بیٹھتے اورکوئی نا کوئی حل اس شادی کو رکوانے کا نکالا جاسکتا۔۔ وہ بھی کتنی بھولی تھی شیطان کی باتوں میں آرہی تھی۔۔۔ یہ حل فون پر بات کر کے بھی نکالا جا سکتا تھا۔ باہر ملنے کا اتنا اصرار کیوں؟۔۔۔ اسی بات کو سمجھنے کے لیے شیطان نے اس کی آنکھوں پر محبت کی پٹی باندھ دی۔۔۔ وہ اس پہلو پر سوچ بھی نہیں رہی تھی۔۔۔ وہ صرف یہ سوچ رہی تھی کہ کس طرح اُس سے مل کر اس شادی کو رکوانے کا کوئی نہ کوئی حیلہ ڈھونڈا جا سکے۔۔۔ مگراکیلے نکلنے کا کوئی موقع اس کے پاس نہیں تھا۔۔
صارم نے آج پھر اُسے انوائیٹ کیا تھا۔۔ ایمن ملک نے بھی اسے میسج کر دیا تھا۔۔ کہ آجاؤ کافی ٹائم ہو گیا۔ ملاقات نہیں ہوئی۔۔ وہ خود بھی بور ہو رہا تھا۔۔۔ اس انوٹیشن کو غنیمت سمجھ کر صارم کے گھر پہنچ گیا۔۔۔ صارم بھی اُسے دیکھ کر کھِل گیا۔۔۔ “لیکن یار ایمن کا میسج آگیا تھا کہ وہ اپنے شوٹ میں بزی ہے۔ تھوڑا لیٹ ہو جائے گی۔۔”وہ صارم کی یہ بات سُن کر بور ہو گیا۔۔۔ “ارے یار جب تک میں یہاں کیا کروں گا۔۔۔” اس نے ارد گرد دیکھا۔”کہو تو کسی اور چڑیا سے تعارف کروا دوں “۔۔ صارم نے آنکھ مارتے ہوئے کمینگی سے کہا۔۔۔ “ارے یار! یہاں سب کپل نظر آرہے ہیں تو کس سے متعارف کروائے گا۔۔” تو جس پر ہاتھ رکھ دے۔۔۔ تو کیاسمجھ رہا ہے کہ یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہیں۔ سب ٹائم پاس ہے بھائی۔ اگر ایک دن ایک نہ آئے تو اس کا پارٹنر کسی دوسرے کے ساتھ نظر آتا ہے۔۔” وہ سر ہلاتا اورایک آنکھ دباتا اُسے بتا رہا تھا۔۔۔۔
” اچھا یہ بتا۔۔۔ ان میں سے تجھے کوئی پسند نہیں آئی۔حکم کر ابھی فون کر کے کسی اور کو بلا لوں۔۔۔۔” وہ اسے پوری طرح گھیرنے کے موڈ میں تھا۔۔۔” نہیں یار بس آج کل ویسے ہی موڈ بہت آف ہے۔ ” “میرے یار کے موڈ کو کیا ہو گیا؟” کچھ نہیں آج کل ایک لڑکی نے بہت پریشان کر رکھا ہے۔۔ ” اس کی بات سُن کر ہنسی کا فوارہ صارم کے منہ سے نکلا۔۔۔ ” تجھے اور کوئی لڑکی پریشان کرے۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا۔۔۔ یونی ورسٹی کے زمانے سے میں نے تجھے لڑکیوں کو پریشان کرتا دیکھا۔۔۔ اور انہیں تیرے لیے روتا دیکھا۔آج میں ایک لڑکی کے لیے اپنے یارکو روتا دیکھ رہا ہوں۔۔۔ تو بھائی واقعی قیامت کے آثار ہیں۔۔” وہ اس کا مذاق اُڑاتا ہو ابولا۔۔۔” یہی تو مسئلہ ہے ہر بار لڑکی کو میں چھوڑتا ہوں۔ اس بار اس لڑکی نے مجھے چھوڑ ا۔ یہ بات مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی۔” وہ قدرے غصّے میں آگیا۔۔۔۔ ” اوہو یہ بات ہے۔۔ میرے دوست کی دُم پر پاؤں رکھ دیا ہے اس لڑکی نے۔۔ ” نہیں بس مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔ اور اب اس کی شادی کی خبر نے تو میرے اندر اور آگ لگا دی۔۔۔ میں اُسے چھوڑوں گا نہیں۔۔۔”وہ پورا پلان اپنے ذہن میں بنا کر بیٹھا تھا۔۔۔ اس سے پہلے اس نے کبھی اتنی انتہائی حدوں کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ لیکن سامعہ کوکبیر علی کے ساتھ دیکھ کر اُسے برباد کر دینے کا دل کر رہا تھا۔۔۔
” او میرے یار! مطلب کیا ہے تیرا۔۔۔ تو کرنا کیا چاہتا ہے۔۔۔ ” “کچھ نہیں بس جس طرح اچانک اس نے مجھے چھوڑا ہے۔ میں اُسے اس کا مزہ چکھانا چاہتا ہوں۔۔۔” وہ غصّے سے ہتھیلی پر مکّا مارتا ہوا بولا۔۔
” دیکھ یار تو نے جو بھی سوچا ہو۔ میں تیرے ساتھ ہوں۔۔۔ یار کہا ہے تو یار بن کر دکھاؤں گا۔۔۔۔ صارم نے بھی شیطانیت میں اُس کا ساتھ دیا۔۔ وہ ایک لمحے میں اس کے دماغ تک پہنچ گیا۔۔۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ چوٹ شدید ہے۔ وہ کسی صورت بدلہ لیے بغیر نہیں رہ سکے گا۔۔۔ اور اُدھر عمر آفندی کا دماغ بھی پوری پلاننگ کر چکا تھا کہ سامعہ کو کیسے مزہ چکھایا جائے۔۔۔ جو چیز میری نہیں ہو سکتی میں اُسے کسی اور کا بھی نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔”
عمر آفندی بچپن سے جن نازوں میں پلا تھا۔ اُسے کسی بات پر نا سننے کی عادت نہیں تھی۔۔۔ وہ نہ ملنے والی چیز وں اور انسانوں کو برباد کرتا آیا تھا۔۔۔ ایسا پہلی بار تھا کہ کوئی اُسے اس طرح چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ خوشیاں منانے کی تیاری کر رہا تھا۔۔۔ وہ سامعہ کی ہر خوشی تہس نہس کرنے کے درپے تھا۔۔۔ “ویسے یہ جگہ محفوظ ہے۔ تم اپنی دوست کو جب چاہو یہاں بلا لو۔۔۔ اور پھر دل بھر کر بات کرو۔۔۔” اس نے “دل بھر کر بات کرنے ” پر زور دیااور ایک آنکھ دبائی۔۔۔ تو عمر آفندی کے چہرے پر بھی ایک عیّارانہ سی مُسکراہٹ پھیل گی۔۔۔۔۔۔
(باقی آئندہ)