ایک سال اور آخری سانسوں میں

دسمبر پر نہ اب کچھ کہنا

کوئی نوحہ نہ کوئی ماتم

گزری رتوں کی یاد

نہ ٹوٹے بندھنوں کا غم

بے وفاؤں پر وفا کے گیت نہ لکھنا

خزاں پتوں کے زرد حسن میں

کسی صدا کی تلاش کرنا

نہ ٹوٹے بکھرے راستوں پر

اجڑی محبت کی راہ تکنا!

اندھیرے تاریک کمروں میں

صرف ماتم جنم لیتے ہیں

تاریکیوں سے نکل کر

دسمبر کی کسی صبح

امید کا ہاتھ تھامے باغ میں نکلنا

گرتے پتوں کو تھامنا

نم درخت کے سائے میں بیٹھنا

پرندوں کی چہچہانے میں

صبح کے مسکرانے میں

پتوں کے گنگنانے میں

پھر کسی یاد کو تھامنے کی چاہ کرنا

مجھے یقین ہے تم ہار جاؤ گے!

صبح کی شفقت میں بھیگ جاؤ گے

اور قدرت کی ندرت سے لپٹ جاؤ گے

روتی بتیاں گیلے کاغز

اندھیرے کمروں کی دین ہیں

یہ وفا کے نوحے اور ,عشق مرثیے

زنگ آلود دلوں کی معراجیں

اندھیروں سے نکلو سویرے کو پکڑو

دسمبر کو چھوڑو،خوشبو کو تھامو

کسی جانے والے کا دامن نہ پکڑو

بے دردوں کے قدموں کی خاک نہ چاٹو

لہلاتی ہری گھاس پر چلنا سیکھو

ڈالیوں اور شاخوں سے باتیں کرو

پرندوں اور پھولوں سے تعلق نبھاؤ

اب کے دسمبر کا ماتم نہ کرنا!

اب کے دسمبر سے یاری لگاو

اور تنہائیوں کا تہوار مناؤ!

_______________

تحریر و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف