کچے مکان کا آنگن اپنے مکینوں کی طرح اداس اور گونگے کی طرح خاموش تھا اور اس خاموشی کی تہہ میں موت بین ڈال رہی تھی۔ دیواروں پر بیٹھے کوے بھی ماتم کناں تھے۔ یہاں چند روز قبل موت کی دیوی نے چار بچوں کی ماں کی بھینٹ لی تھی اور ایک معصوم کو دنیا میں آتے ہی اچک لیا تھا۔
وہ خاموشی سے سر جھکائے کبھی چولہے کی راکھ کریدتی کبھی اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو کھوجنے لگتی جہاں آٹا لگا ہوا تھا –
ماں کو دنیا چھوڑے ابھی دن ہی کتنے ہوئے تھے لیکن یوں لگتا تھا جیسے اس وچھوڑے کو صدیاں گذر گئ ہوں ۔اسے لگ رہا تھا کہ زندگی صرف اس کی ماں سے نہیں روٹھی اس گھر سے بھی روٹھ گئ ہے ۔تینوں چھوٹے بہن بھائیوں کو تو اس نے کھانا کھلا دیا تھالیکن اسکے حلق سے نوالہ نہیں اتررہا تھا۔نہ جانے کب تک وہ یونہی گم سم بیٹھی رہتی کہ کواڑ کھلنے کی آواز نے اسے چونکا دیااس کا باپ بالا اندر داخل ہوا اور بولا “جمیلہ مجھے کھانا دے دے ”
“جی ابھی لائی “جمیلہ نے چنگیر میں روٹیاں رکھیں سالن کی کٹوری اورپانی کا گلاس لے کر ابا کو دینے کمرے میں آئی کھانا رکھ کر واپس جانے لگی تو بالا بولا “جمیلہ میری دھی…… بہت تھک جاتی ہے ناتو … بہن بھائیوں کو سنبھالتے ہوئے ……ماں کے بغیر سب بہت مشکل ہے نا ”
جمیلہ نے خاموشی سے سر جھکا لیا آنکھوں میں آنسو آگئے ماں شدت سے یاد آئی بالے نے جمیلہ کو بغور دیکھا پھر بات آگے بڑھائی “میں نے سوچا ہے کہ دوسری شادی کر لوں ….تم لوگوں کے لئے…..تم سب کو ماں کی ضرورت ہے ”
جمیلہ کی آنکھوں میں نمی کے ساتھ حیرت امڈ آئی ” ابا …..ابھی اماں کو مرے دن ہی کتنے ہوئے ہیں ”
“تو سچ کہہ رہی ہے پر تیری ماں کے بغیر بچوں کو سنبھالنا بہت مشکل ہے …. اسلئے میں جلدی کر رہا ہوں “بالے نے وضاحت دی
جمیلہ نے ایک نظر اسے دیکھا پھر مرے مرے لہجہ میں بولی “کس سے ابا ”
“شیدے کی بہن سے ……جس کا خاوند پچھلے سال فوت ہو گیا تھا ….وہ تو مان ہی نہیں رہا تھا اب تیرے وٹے پہ مانا ہے “بالے نے دھماکہ کیا
“ابا …..”حیرت اور صدمے سے اس کے منہ سے صرف یہی نکلا
“اسکی بیوی بھی مر گئ ہے نا اب جمعہ کو میرا نکاح فضلاں کے ساتھ اور تیرا نکا شیدے کے ساتھ ہو گا “بالےنے کہا
“مگر ابا ….وہ بہت ظالم آدمی ہے اپنی پہلی بیوی کو کتنا مارتا تھا …..نہیں ابا نہیں….مجھ پہ رحم کرو” وہ کہنا چاہتی تھی لیکن کہہ نہیں پائی بس آنسو بہاتی اللہ وسایا کے قدموں میں بیٹھ گئ بالے نے اسے بغور دیکھا اسکی غمزدہ آنکھوں میں احتجاج تھا
“چل دفع ہو یہاں سے اور پرسوں جمعہ کو نکاح کے لئے تیار رہنا “بالےنے اسکو پاؤں کی ایک ٹھوکر ماری اور قہر بھری نظر اس پر ڈالتا ہوا چلا گیا
جمیلہ وہیں ڈھے گئ اسکی آنکھوں سے آنسو بھل بھل بہنے لگے وہ ہر رشتے ہر چہرے کو سوچنے لگی جو اسے بچا سکے شاید پھوپھی خورشید …..ہاں شاید …..وہ ……امید کی کرن کہیں دور چمکی
پھوپھی خورشید کو پتہ چلا تو وہ افتاں و خیزاں بھاگتی آئی
“بھائی…….. جمیلہ فرید کی منگ ہے تو اسکی شادی شیدے سے کیسے کر سکتا ہے “پھوپھی نے احتجاج کیا
“میں جمیلہ کی شادی تیرے بیٹے فرید سے نہیں کرنا چاہتا بات ختم “بالے نے کہا
“میں یہ شادی نہیں ہونے دوں گی …..جمیلہ کی عمر دیکھ اس بڈھے کی عمر دیکھ اور پھر تو نے مجھے فرید کے لئے زبان دی ہے ۔پھوپھی نے کہا
“تو میں اپنا گھر نہ بساؤں یونہی رنڈوا پھرتا رہوں لیکن تجھے صرف اپنے بیٹے کی فکر ہے میں نے تو بغیر وٹے کے فرید کے لئے حامی بھر لی تھی وگر نہ اس کو کون بغیر وٹے کے بیٹی دے گا “بالے نے کہا
“بھائی میں بیٹے کے لئے نہیں جمیلہ کے لئے کہہ رہی ہوں وہ بہت چھوٹی ہےشیدا اس کے قابل نہیں وہ بہت ظالم آدمی ہے اپنی پہلی بیوی کو بھی بہت مارتا تھامیں اس کے گھر کے ساتھ رہتی ہوں …..دیوار سے دیوار ملی ہے میری “پھوپھی خورشید نے کہا
“دیکھ بیوی کو سب مارتے ہیں اللہ بخشے تیرا مرحوم خاوند بھی تجھے مارتا رہتا تھا ۔پھر شیدے میں اور کوئی برائی نہیں ترکھان ہے اپنا کماتا ہے تو جمیلہ کو چھوڑ اپنے بیٹے کی فکر کر ” اللہ بالے نے کہا
“بھائی مجھے فرید کی پرواہ نہیں اسے شہر میں نوکری مل گئ ہے لڑکی بھی مل ہی جائے گی ….تو جمیلہ پر یہ ظلم نہ کر” پھوپھی نے منت کی
” دیکھ میری بات آرام سے سن مجھے اپنے بچوں کے لئے گھر کے لئے ایک عورت کی ضرورت ہے …..شیدا وٹے کے بغیر فضلاں کا ہاتھ نہیں دے گا اب تو ہی بتا میں کیا کروں ۔کیا تیرے وٹے پہ شادی کر لوں ” بالے نے کہا
پھوپھی خورشید دنگ رہ گئ بالے کے لفظ اسے تازیانے کی طرح لگے وہ ایک دم چپ سی ہو گئ اور پھر اٹھ کر گھر چلی آئی میکے کا مان بھی ٹوٹاتھااور بھائی کے لفظوں نے روح بھی زخمی کر دی تھی ۔
جمعہ کے روز شیدے کی طرف سے آیا لال جوڑا جمیلہ کو پہنا دیا گیا اور اس کا نکاح شیدے کے ساتھ اور فضلاں کا نکاح بالے کے ساتھ بخیر وخوبی انجام پایا ساری برادری جمع تھی عورتیں گھونگھٹ اٹھا اٹھا کر دونوں دلہنوں کا چہرہ دیکھتی تھیں نہ کسی کو شیدے کے بڑھاپے پہ اعتراض تھا اور نہ جمیلہ کی کم عمری پہ ترس آرہا تھا ۔برادری نے کھانا کھایا اور واہ واہ کرتے اپنے گھروں کو سدھارے
شیدےکی اس لئے واہ واہ ہوئی کہ اس نے اپنی بیوہ بہن کا نکاح کرا دیا بیوہ کے نکاح کا حکم دیا گیا ہے نا اور بالا بن ماں کی جواں بچی کہاں تک سنبھالتا سو دونوں ہی سرخرو ہوئے ۔اس سرخروئی میں جمیلہ کا بچپن لٹ گیا ۔وہ تیرہ سال کی بچی نکاح کے دو بول ادا کرتے ہی عمر کی کئ منزلیں طے کر گئ۔
پھر چار دن کی دلہن کو صحیح سالن نہ پکانے پر چار چوٹ کی مار پڑی روح تو پہلے ہی اس کی زخم زخم تھی شیدے کی مار پیٹ نے جسم بھی لہو لہو کردیا ۔
بالے کو پتہ چلا کہ جمیلہ کو شیدے نے مارا ہے تو اس نے فضلاں کو دھنک کر رکھ دیا یوں ایک عورت کا بدلہ دوسری بے قصور عورت نے چکا یا ۔اور مردوں کی دنیا کا انصاف ہو گیا
———————————–
شیدا غصے کا بہت تیز تھا ۔ذرا ذرا سی بات پر وہ جمیلہ کی دھنائی کر کے رکھ دیتا پھوپھی خورشید اس کی حالت دیکھ دیکھ کر کڑھتی ۔موقع پا کر اس کی دلجوئی کر تی اس کی چوٹوں پہ مرہم لگاتی اسی اثناء میں جمیلہ ماں بننے کے مرحلے سے گذرنےلگی لیکن شیدے کو اس بات کا کوئی احساس نہیں تھا
اس روز بھی اسکی طبیعت خراب تھی بار بار قے کرنے سے اس پہ نقاہت طاری تھی شیدے کے آنے کا وقت ہو رہا تھا اور وہ کچھ بھی نہیں پکا سکی تھی شام کو وہ ہمت کر کے اٹھی باہر صحن تک آئی مگر پھر وہیں بیٹھی رہ گئ ۔
شیدا گھر آیا اور کھانے کو کچھ نہ ملا تو غصے سے پاگل ہو گیا ۔چولہے کی لکڑی اٹھا کر اسکی کمر پر دے ماری پھر دو تین ہاتھ اور جڑے اور بکتا جھکتا گھر سے چلا گیا اس کے جاتے ہی پھوپھی خورشید آئی اور جمیلہ کو اپنے گھر لے گئ ۔تھوڑی دیر بعد فرید بھی شہر سے آگیا ۔ہڈیوں کے پنجر کملائی مرجھائی ہوئی جمیلہ کو دیکھ کر وہ حیران ہوا ۔”اماں یہ جمیلہ تو نہیں لگتی ”
“ہاں فرید ……..شیدانمانی کو بہت مارتا ہے پھوپھی خورشید جمیلہ کو دودھ کا گلاس تھماتے ہوئے بولی
“تو اماں تو اس کا خیال رکھا کرنا “فرید نے کہا
” شیدےکو میرا آنا جانا کہاں پسند ہے وہ تو دیوار سے دیوار ملی ہے تو میں لپک کر اس کا پتہ کر لیتی ہوں ……ورنہ شیدے کی موجودگی میں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا “پھوپھی نے بے چارگی سے کہا
یونہی مار کھاتے روتے رلاتے چودہ سال کی عمر میں جمیلہ ایک لاغر سے بیٹے۔کو جنم دے کر ماں کے رتبے پر فائز ہو گئ
شیدے کو بیٹے کی ولادت سے کوئی خاص فرق نہ پڑا تھا (پہلی بیوی سے اس کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں )
زندگی اسی ڈھب سے گذر رہی تھی معصوم جمیلہ کو سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ وہ روح کی رفو گری کرے یا جسم کی چوٹوں کو سہلائے نہ روح اس ستم کو برداشت کر پا رہی تھی نہ جسم اس تشدد کا عادی ہو رہا تھا کبھی کبھی اس کا دل چاہتا کہ کہیں دور بھاگ جائے یا پھر مرجائے لیکن بھاگ کر جائے کہاں اور مرے تو مرے کیسے ۔نہ بھاگنا آسان تھا اور نہ مرنا ہاں اب ایک کام وہ ضرور کرتی تھی کہ اب وہ پہلے کی طرح چپ چاپ مار نہیں کھاتی تھی بلکہ جب شیداہاتھ چلاتا تو وہ زبان چلاتی تھی گالیاں دیتی تھی اور کبھی کبھی مزاحمت بھی کرتی تھی ۔
ہاں اس نے بالے کو کچھ بھی بتانا چھوڑ دیا تھا نہ وہ وہاں جاتی تھی اس کا فائدہ بھی کیا تھا شیدے کو فضلاں کے زخموں سے کیا درد ہو سکتا تھا ۔اور اس طرح کے انصاف سے جمیلہ کو کیا ملنا تھا
ایک پھوپھی کا دم تھا جو شیدے کی غیر موجودگی میں اس کے پاس آجاتی یا پھر اسےاپنے گھر بلا لیتی ۔پھر جب کبھی شہر سے فرید آتا تو اس کے لئے اور اس کے بچے کے لئے کچھ نہ کچھ لے آتا۔
___________________
اب پھوپھی فرید کے لئے رشتہ تلاش کرنے لگی اسے یقین تھا کہ جلد ہی فرید کے لئے کوئی لڑکی مل جائے گی آخر وہ کماؤ تھاشہر میں رہتا تھا۔پھر اسکی نظر میں دو چار لڑکیاں تھیں اس نےجب فرید کے سامنے شادی کا ذکر چھیڑا تو وہ مسکرا دیا” کون سی لڑکی پسند کی تو نے میرے لئے ؟”
“لڑکیاں تو بہت ہیں مگر مجھے ماسی زلیخا کی پوتی نجمہ اچھی لگتی ہے تیرے ساتھ بھی سوہنی لگے گی ” پھوپھی خورشید نے کہا
“اماں ابھی ذرا ٹھہر جا میں شہر میں کوئی کرائے کا مکان دیکھ رہا ہوں تجھے وہیں لے جاؤں گا پھر شادی بھی کر لوں گا “فرید نے کہا
“پھر رشتہ ڈال دوں تیرا “پھوپھی خورشید نے کہا
“صبر کر لے اماں “فرید نے ٹھنڈی سانس لی” کاش ماموں بالاجمیلہ کو شیدے کے پلے نہ باندھتا ۔”
“چاہتی تو میں بھی یہی تھی کہ وہ میری بہو بنے مگر قسمت میں یہی لکھا تھا پھو پھی خور شید نے کہا ۔
ہاں ٹھیک کہتی ہے تو اماں…… قسمت سے کون لڑ سکتا ہے لیکن جمیلہ کی حالت دیکھ کر دل بہت کڑھتا ہے ” فرید نے کہا
پھوپھی نے ایک نظر بغور جوان بیٹے پر ڈالی کیا یہ صرف ہمدردی ہے یا عشق کے بھس میں کوئی چنگاری بھڑک رہی ہے ؟پھر بولی ” جو ہوا سو ہوا اب تیری شادی تو کرنی ہے نا اور میں نجمہ کے گھر رشتہ لے کر دو ایک دن میں جاؤں گی”
فرید خاموش رہا
اگلی صبح جب شیدا کام پہ چلا گیا تو جھاڑو برتن سے فارغ ہو کر پھوپھی جمیلہ کے گھر گئ اور فرید کا رشتہ نجمہ کے گھر دینے کا بتایا ۔جمیلہ نے کوئی خاص ردعمل ظاہر نہ کیا جیسے یہ معمول کی بات ہو پھوپھی بغور اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی اسے احساس ہوا کہ ماضی کی کوئی بات اب جمیلہ کی یاداشت کا حصہ نہیں اس نے سوچا جمیلہ کے حالات کی وجہ سے فرید کو اس سے ہمدردی ہو رہی ہوگی
“پھوپھی مجھے بھی ساتھ لے جانا جب رشتہ لینے جاؤ گی” جمیلہ نے کہا
پھوپھی مسکرا دی “ضرور لے جاؤں گی تو ہی میری دھی (بیٹی )ہے
“پھر فرید کیا بیوی کو شہر لے جائے گا “جمیلہ نے پوچھا
“ہاں…..بلکہ وہ کہہ رہا تھا کہ مجھے بھی شہر لے جائے گا “پھوپھی نے جواب دیا
“پھوپھی …..تو کیوں جائے گی “جمیلہ سراسیمہ ہو کر بولی
تو میں یہاں اس عمر میں اکیلی کیا کروں گی ؟پھوپھی نے کہا
“پھر میں اکیلی ہو جاؤں گی میرا کیا ہو گا” جمیلہ پریشان تھی
“اکیلی کیوں ہوگی ……شیداہے تیرا گھر والا …..کاکا ہے اللہ تیری گود بھری رکھے
جمیلہ چپ چاپ پھوپھی کو دیکھے گئ تنہائی کے گہرے احساس نے اسے گھیر لیا
چل اٹھ کچھ پکالے شیداآئے گا تو غصہ کرے گا …..میں کاکے کو سنبھالتی ہوں ” پھوپھی نے کہا جمیلہ تھکے تھکے قدموں سے گئ اور سبزی اٹھا کر لے آئی
______________________
رات کو شیدا واپس آیا تو اسکا موڈ کافی اچھا تھا اسے آج کام کے پیسے ملے تھے وہ آتے ہوئے جلیبیاں بھی لے کر آیا تھا اس کا خوشگوار موڈ دیکھ کر جمیلہ بولی کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم بھی شہر چلے جائیں وہاں تیرے کام کے پیسے بھی اچھے مل جائیں گے اور کاکا بھی پڑھ لے گا ”
نہیں …….میں کہیں نہیں جاؤں گا اور کاکا یہیں پنڈ کے سکول میں پڑھ لے گا……..پھر میں اسے اپنا کام سکھاؤں گا … اب کاکا وزیر اعظم تو بننے سے رہا “شیدے نے صاف انکار کر دیا _
_____________________
اس بار فرید شہر سے آیا تو یہ خوشخبری بھی ساتھ لایا کہ اس نے وہاں مکان کرایہ پہ لے لیا ہے ۔پھوپھی اس کا رشتہ پکا کرنے کی اور شہر جا کر بسنے کی تیاری کرنے لگی ۔
________________________
وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا جمیلہ شام کو لکڑیا ں سلگا کر روٹی پکانے کی تیاری کر رہی تھی کہ شیدا اندر آیا ۔آج اسے کہیں سے پییسے نہیں ملے تھے۔سگریٹ کی طلب نے اسے بے حال کر رکھا تھا
“جمیلہ ……تیرے پاس کچھ پیسے ہیں ……سگریٹ لانے ہیں ” تنگ آکر اس نے پوچھا
“میرے پاس کہاں سے آئے پیسے …….اگر کبھی چند رو پے ہاتھ پہ رکھ بھی دے تو ان کا حساب مانگتا رہتا ہے “جمیلہ چٹخ کر بولی
” یہ جو تو کاکے کے کھلونے اپنے پراندے ‛سرمہ ‛دنداسہ لیتی ہے وہ پیسے کہاں سے آتے ہیں “شیدا چلایا
“وہ تیرے پیسوں سے نہیں آتے ……فرید لے کر آتا ہے “جمیلہ نے جواب دیا
“فرید ……..فرید کیوں لے کر آتا ہے ……بتا کس حساب سے ؟ ” شیدا دھاڑا
” میری پھوپھی کا پتر ہے اور کاکے کو بہت پیار کرتا ہے …. اس لئے لے آتا ہے ” جمیلہ بولی
“وہ کون ہوتا ہے کاکے کو پیار کرنے والا …. کمینی سچ سچ بتا کیا چکر چکر چلایا ہوا ہے تو نے “شیدا چلایا اور آگے بڑھ کر اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا پھر اس پر تھپڑوں کی بارش کر دی
“کوئی چکر نہیں ہے میرا اس کے ساتھ “جمیلہ روتے ہوئے بولی
“پہلے تو اس کی منگ تھی نا ….”شیدا غرایا
“ہاں تو …….پھر میری شادی تیرے ساتھ ہو گئ اب اس کی شادی بھی ہونے والی ہے “جمیلہ نے کہا
“شادیاں کر لو اور عاشقی معشوقی بھی چلاؤ ……تجھے تو میں ابھی سیدھا کرتا ہوں “شیدا چولہے سے جلتی لکڑی نکال کر اس کی طرف بڑھا ۔
جمیلہ خوفزدہ ہو کر باہر بھاگ پڑی شیدا بھی جلتی لکڑی لئے اس کے پیچھے بھاگا جمیلہ سرپٹ بھاگ رہی تھی بھاگتے بھاگتے وہ گاؤں سے باہر جانے والی سڑک پر آگئ شیدا کافی پیچھے رہ گیا ۔
ایک موڑ مڑتے ہوئے جمیلہ ایک موٹر سائیکل سے ٹکرا کر گر گئ مو ٹر سائیکل فرید کی تھی جو شہر سے گاؤں آرہا تھا
” خیر تو ہے جمیلہ …….کہاں بھاگی جا رہی ہو…….چوٹ تو نہیں آئی “فرید نے اسے اٹھاتے ہوئے پوچھا
“نہ ……..نہیں …….ہاں …….چھوڑو مجھے جانے دو … . وہ مجھے مار ڈالے گا “جمیلہ کے منہ سے بے ربط الفاظ نکلے
“کیا ہوا ہے جمیلہ” فرید حیران وپریشان ہوا
“میں یہاں نہیں رہ سکتی ……..شیدا مجھے مار دے گا مجھے شہر جانے والی بس میں بٹھا دے…….وہ دیکھ شیدا آ رہا ہے ” جمیلہ گھبرائی ہوئی آواز میں بولی ۔
فرید نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا اسے کچھ نظر نہیں آیا جمیلہ موڑ مڑ چکی تھی
“جلدی کر مجھے بس میں بٹھا دے ……..جمیلہ اچک کر موٹر سائیکل پہ بیٹھ گئ فرید نے موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور شہر کی جانب چل دیا ۔یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ فرید کو کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع نہیں ملا ۔
“پورا راستہ جمیلہ خوف سے کانپتی رہی اور فرید کو موٹر سائیکل تیز چلانے کا کہتی رہی فرید کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا جب سمجھ میں آیا تو وہ اپنے مکان پر پہنچ چکا تھا۔
” جمیلہ یہ کیا ہوا ……تو نے کیا کیا” ۔
تب تک جمیلہ کے حواس بھی ٹھکانے آچکے تھے وہ ایک کونے میں بیٹھ کر رونے لگی”ہائے میرا کاکا ……وہ نمانا تو سویا ہوا تھا ”
فرید سر پکڑے بیٹھاتھا “اب رو مت ……..واپس چلتے ہیں ”
“ہاں …..ہاں جلدی کر میرا کاکا میرے بغیر کیسے رہے گا ” جمیلہ نے کہا
“جلدی اٹھ ……واپس چلیں ” فرید نے کہا
جمیلہ نے فوراً دوپٹہ ٹھیک کیا اور باہر کی طرف قدم بڑھائے
“رکو ذرا آندھی آ رہی ہے تھم جائے تو نکلتے ہیں “فرید نے کہا آندھی تو کیا رکتی وہ اپنے ساتھ بارش لے آئی اور اس طوفان باد وباراں میں جمیلہ نے واپسی کا ہر رستہ کھو دیا
____________________
شیدے نے جمیلہ کا تھوڑی دور پیچھا کیا پھر اپنے گھر لوٹ آیا اور جمیلہ کا انتظار کرنے لگا مگر جمیلہ کو نہ آنا تھا نہ آئی وہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا اس نے سوچا کہ وہ اپنے باپ کے گھر چلی گئ ہو گی
ساری رات کاکا روتا رہا اور وہ غصے سے کھولتا رہا اگلے دن صبح وہ کاکے کو لے کر بالے کے گھر گیا اور جمیلہ کی واپسی کا مطالبہ کیا ۔
“جمیلہ ……وہ تو یہاں نہیں آئی …….کدھر کی تو نے میری بیٹی ” بالا چلایا
“بھاگ گئ ہے وہ “شیدے نے کہا
“اس نے کہاں جانا ہے ……..تیرے گھر نہیں میرے گھر نہیں پھوپھی کے گھر چلی گئ ہو گی “فضلاں نے کہا شور شرابا سن کر وہ بھی دروازے پر آگئ تھی
پھوپھی خورشید کے گھر جا کر پتہ کیا تو وہ بھونچکا رہ گئ ” وہ یہاں نہیں ہے پھر کہاں گئ وہ ”
“مجھے کیا پتہ کس یار کے ساتھ بھاگی ہے “شیدا چلایا
کہاں جا سکتی ہے ” بالا بڑبڑایا
“فرید کے ساتھ چلی گئ ہو گی ” شیدے نے کہا
“فرید کے ساتھ کیوں جائے گی اتنا عرصہ ہو گیا اس کی شادی کوجانا ہوتا تو پہلے ہی چلی جاتی …… .اور مجھے یہ بتا کہ فرید شہر میں رہتا ہے وہ تاک میں بیٹھا تھا کہ وہ تیری مار سے بچ کر نکلے اور وہ اسے لے جائے ……..فرید نے بھگانا ہوتا نا تو بہت موقع تھے ” پھوپھی نے غصے سے کہا بالےاور شیدے نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا خورشید کی بات میں وزن تھا
“یہیں گاؤں میں چھپی ہو گی ۔آجائے گی ” بالے نے کہا
“ساری رات گھر سے باہر رہی ہے …….میں اب اسے چھوڑوں گا نہیں ۔” شیدے نے کہا
مطلب کیا ہے تیرا ” بالے نے کہا
“مطلب تجھے پتہ لگ جائے گا ” شیدے نے دانت پیسے
_______________________
دن کا آغاز جمیلہ اور فرید کے لئے بے حد پریشان کن تھا دونوں کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کریں فرید نے ڈرتے ڈرتے اپنی ماں کو فون کیا اور ساری بات بتائی ۔خورشید نے اپنا سر پیٹ لیا “فرید تو اس کو لے کر کیوں گیا
“بتایا تو ہے اماں سب خود بخود ہوتا چلا گیا …….اب واپس لے کر آتا ہوں “فرید نے کہا
“نہیں خبردار …….اب اسکو واپس لے کر نہیں آنا “خورشید نے کہا
“کیا مطلب …….”فرید جھلایا
“فرید چوچا نہ بن تجھے نہیں پتا اپنے رواجوں کا تو لڑکی کو لے کر گیا ……ساری رات اپنے پاس رکھا اور اب کہہ رہا ہے واپس لے آتا ہوں ………اب لے کر آیا تو پنجائیت بیٹھے گی جمیلہ کو مارنے کا حکم دے گی تجھے ان کی عزت داغدار کرنے کے جرم میں جان دینی ہو گی یا وٹہ دینا ہو گا عورت کے بدلے عورت ……..بول کیا کرے گا اس بڑھاپے میں مجھے ذلیل کرے گا …….ہائے ربا یہ تو نے کیا کیا ” خورشید سرا سیمہ تھی
“اماں وہ اس طرح سے نہیں بھاگی میرے ساتھ وہ شیدے سے ڈر کر بھاگی تھی اپنی جان بچانے کے لئے ” فرید نے کہا
کوئی یقین نہیں کرے گا تجھ پر وہ رات بھرگھر سے باہر رہی ہے ………مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ کل تو کیسے آگیا تجھے تو کام سے چھٹی نہیں تھی نا ” خورشید نے کہا
” اماں مالک کی والدہ فوت ہو گئ تھی اس نے تین دن کے لئے دکان بند کی تو میں نے سوچا کہ گاؤں آکر تجھے شہر لانے کی تیاری کرلوں ۔” فرید نے جواب دیا
“اچھا……کل ہفتہ وار چھٹی ہے …..تو ایسا کر شام کو معمول کے مطابق آ……..تاکہ کسی کو شک نہ ہو پھر دیکھتے ہیں اس وخت (مشکل)سے کیسے نکلا جائے “پھوپھی خورشید نے کہا
“ٹھیک ہے اماں “فرید بولا
اس نے کچھ کھانے پینے کا سامان لا کر گھر میں رکھا اور جمیلہ سے کہا میں گاؤں جا کر حالات دیکھتا ہوں تو یہیں رہ ”
میں اکیلی کیسے رہوں گی اور میرا کاکا ” جمیلہ نے پھر رونا شروع کردیا
” میں باہر سے تالا لگا کر جاؤں گا تو چپکی اندر پڑی رہنا شور ذرا نہ ہو …. کھانے پینے کی چیزیں رکھی ہیں …….میں جلد لوٹ آؤں گا …. یہ موبائل اپنے پاس رکھ میرے دوست کا ہے …….جب میرا فون آئے تو بس وہی سننا ورنہ گھنٹی بجنے دینا ” فرید نے سمجھایا اور گاؤں آگیا وہاں بھونچال آیا ہوا تھا۔بالا اور شیدا جمیلہ کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے “لڑکی رات بھر گھر سے باہر رہی ………اسے تو فوراً قتل کردینا چاہئیے ” پورا گاؤں اس پر متفق تھا
فرید جو یہ سوچ کر آیا تھا کہ سب کچھ سچ بتا کر جمیلہ کو واپس لے آئے گا اب ان حالات میں یہ ممکن نظر نہیں آرہا تھا بلکہ اسے بھی سب شک بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے اس نے بالے کو سمجھانے کی کوشش کی کہ جمیلہ معصوم ہے وہ کسی کے ساتھ نہیں بھاگی شیدے کے ظلم وستم سے ڈر کر کہیں چھپ گئ ہو گی مگر بے سود ۔بالے کا کہنا تھا کہ اگر ایسی بات ہوتی تو وہ بالے کو بتاتی وہ فضلاں کو چار چوٹ کی ایسی مار لگاتا کہ شیدا بالکل سیدھا ہو جاتا فرید تاسف سے اسے دیکھتا رہ گیا
جمیلہ کا بیٹا بالے کے گھر تھااور فضلاں اسکی دیکھ بال کر رہی تھی ۔شیدے نے پنجایت بلالی ۔
پنجائیت کو اس بات سے کو ئی غرض نہیں تھی کہ وہ ان وجوہات کے بارے میں پوچھے جس کی بناء پر جمیلہ بھاگنے پہ مجبور ہوئی اسے صرف اس بات سے غرض تھی کہ اسے اس کے جرم کی سزا دی جائےاور اس کے لواحقین اس کے جرم کا تاوان دیں ۔
شیدے کا موقف تھا کہ چونکہ اب جمیلہ اس کے گھر میں نہیں ہے اس لئے فضلاں بھی بالے کے گھر نہیں رہ سکتی بالا فضلاں کو طلاق دے تاکہ وہ اس کے وٹے پر دوسری شادی کر سکے ………آخر کاکے کو کون پالے گا ……..اس کا اجڑا گھر کیسے بسے گا ”
شیدا کہتا تھا ” جمیلہ کو میں نے تو نہیں بھگایا پھر میں فضلاں کو طلاق کیوں دوں ”
وٹے سٹے میں ایسا ہی ہوتا ہے جمیلہ شیدے کے گھر نہیں ہے تو فضلاں بھی تیرے گھر نہیں رہ سکتی اسے طلاق دینا ہو گی “سرپنچ نے کہا
“میں کیوں طلاق دوں ……….اور فضلاں بھی ایسا نہیں چاہتی ” بالا بولا
ٹھیک ہے پھر تو فضلاں کا وٹہ اپنے گھر سے دے دے سرپنچ نے کہا
“کیا مطلب ….؟ بالا سمجھ کر بھی نہ سمجھ کر بولا
“مطلب ………جمیلہ کی چھوٹی بہن شکیلہ کا نکاح شیدے سے کر دے ” سر پنچ نے کہا
“لیکن وہ تو بہت چھوٹی ہے ” فرید نے احتجاج کیا
“ہمارے ہاں اسی عمر میں لڑکیوں کی شادیاں ہوتی ہیں ” پنجائیت نے اس کا اعتراض چٹکیوں میں اڑایا لیکن اس کی اور شیدے کی عمروں میں فرق تو دیکھیں “ایک اور جوان نے اعتراض کیا
“جمیلہ نے جو کچھ کیا اس کا ازالہ تو اس کے خاندان کو ہی کرنا پڑے گا” سر پنچ نے کہا
“مگر ایک بہن کے نکاح میں ہوتے ہوئے دوسری بہن سے نکاح کیسے کیا جا سکتا ہے “فرید نے پھر احتجاج کیا
“ٹھیک ہے …..میں جمیلہ کو طلاق دیتاہوں ……طلاق دیتا ہوں …….طلاق دیتا ہوں”شیدے نے کہا اور فاتحانہ نظروں سے فرید کو دیکھا
“بول بالے اب شکیلہ کا رشتہ دینا ہے یا فضلاں بی بی کو طلاق دینی ہے”پنجائیت نے پوچھا
“میں اپنا گھر نہیں اجاڑنا چاہتا ” بالے نے کہا
“ٹھیک ہے تیاری کر کل شام شکیلہ کا نکاح شیدے ترکھان سے ہو گا “سرپنچ نے فیصلہ سنایا
شیدے نے احسان جتاتی نظروں سے بالے کو دیکھا اور بالے نے ممنونیت سے نگاہیں جھکا لیں
اب جمیلہ کے کئے گئے جرم کا تاوان شکیلہ نے ادا کرنا تھا جب کہ جمیلہ کی سزا ابھی باقی تھی اس جرم کے ذمہ داران پنجائیت کے انصاف پر مطمئن اپنے گھروں کو لوٹ گئے
اگلے دن کے ڈوبتے سورج نے جہاں معصوم شکیلہ کو لال جوڑے میں ملبوس جمیلہ کے جرم کا تاوان ادا کرتے دیکھا وہاں آنے والے دنوں کے سورج نے بھی بال بکھرائے آنسو بہاتے ننگے پاؤں جمیلہ کو ” میرا کاکا ……میرا کاکا پکارتے دیکھا ۔
چند بچے جمیلہ کے پیچھے پیچھے تھے ۔وہ پاگل پاگل پکار رہے تھے اسے پتھر مار رہے تھے …… جمیلہ کو کچھ ہوش نہ تھا ۔____________

تحریر:شازیہ ستار نایاب

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف