کئی دن کی خوشگوار سیر سے دل کو یقین ہونے لگا کہ ایوب نیشنل پارک راولپنڈی سیرکے لئے ایک محفوظ اور خوبصورت پارک ہے تو ایک دن اچانک واک ٹریک پر واک کرتے کچھ موٹے تازے دیسی کتے نظر آئے۔ایک بار رستہ بدلا دوسری بار پھر اپنی جگہ موجود،اب کی بار انکا اطمینان دیکھ کر سوچا شاید کوئی پالتو جانور ساتھ لایا ہے مگر پوچھنے پر پتا چلا کہ نہ صرف کہ یہ پالتو نہیں بلکہ آوارہ بھی ہیں اور پورا ایک گروہ موجود ہے ۔صرف کتوں پر ہی اکتفا نہیں بلکہ رات کو سور بھی ان گلیوں میں چہل قدمی کرنے آتے ہیں۔

ایک نکڑ پر درج ایمرجنسی نمبر پر فون کیا تو بہرحال کتا مار ٹیم آ گئی اور کم سے کم میرے ہوتے انہوں نے خوب کارکردگی دکھائی۔

تو یہ راولپنڈی کے ایک خوبصورت باغ کی سیکورٹی ہے جسمیں اکثر عورتیں ،نوجوان اور بوڑھے صبح شام سیر کرنے،ورذش کرنے یا تفریح کرنے کے لئے موجود رہتے ہیں۔

بتایا گیا کہ گوشت کے پارچوں پر زہر لگا کر انہیں کتوں کے سامنے ڈالا جائے گا۔بحرحال ایوب پارک والوں نے دو تین دن خوب کتوں کو بھگایا بلکہ ایک دو کتوں اور سور کو مارا بھی گیا ۔اگرچہ کتوں سے مکمل خلاصی تو دکھائی نہ دی کہ خبر دی گئی کوئی ماں اپنے بچے پال رہی ہے چناچہ انکے بچوں کے پلنے کا انتظار ہے تا کہ ایک کی بجائے سات آٹھ نشانے لگائے جائیں۔ویسے بھی انسانوں کے بچوں کی خیر ہے وہ تو مرتے ہی رہتے ہیں کتوں کے بچوں کی جان ضرور بچنی چاہیے ۔

میں نے سوچا پاکستان کے وفاقی دارلحکومت اور اسکے جڑواں شہر میں تقریبا ہر گھر اور گود میں ایک، دو یا تین کتے بطور پالتو موجود ہیں۔ہم انگریز دکھائی دینے کے لئے باہر سے انگریزی کتے امپورٹ کرتے ہیں مگر ہمارے ملک کے کتے آوارہ پھرنے یا باؤلے ہونے اور مارے جانے کے لئے محدود ہیں۔کیوں نہیں انکو لوگ گھروں میں پالتے؟یا یہ ٹیم ان کو مارنے کی بجائے پکڑ کر ویکسین اور ٹرینگ دے کر انکو عوام کو پالنے کے لئے تحفہ دیتی؟کتوں کے شوقین انہی کتوں کی ویکسین ، نہلانیں دکھلانے پر ہزاروں روپے خرچ کریں ۔انہیں محفوظ ذندگی دیں اور اپنے لیے محفوظ شہر کریں۔مگر وہ کیا ہے کہ اپنی زبان،روایات ،تہوار مزاہب کی طرح ہمارے کتے بھی سوتیلے ہیں۔انکو ہم آوارہ رکھتے ہیں یا زہر دیتے ہیں اور دوستی کے لئے انگریزی کتے زرمبادلہ خرچ کر کے باہر سے منگواتے ہیں۔شاید اس لئے کہ انگریزی کتے جائز اور دیسی کتے نا جائز ہیں یا اس لئے کہ ہمیں انگریزوں نے یہ نہیں بتایا کہ ہمارے کتے فرینڈلی ہیں کہ نہیں اور ہم نے خود تو کبھی اپنی بہت سی چیزوں کے ساتھ ان پر توجہ نہیں دی۔

بحرحال یہ بات طے ہے کہ فی الوقت کتوں کی موت سے بڑھ کر کوئی حل موجود نہیں کیونکہ آج کل پاکستان میں کتے کاٹے کی ویکسین خاصی محدود ہے اگرچہ آوارہ کتے جڑواں شہروں میں پوری سہولت اور بڑی تعداد میں موجود ہیں۔مگر چونکہ ہماری صوبائی اور مرکزی حکومت کے پاس اتنا وقت نہیں کہ یہ ویکسین بہتر مقدار میں مہیا کر سکیں تو اپنے لیول پر ہم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ اگر ہماری ڈیوٹی میں کسی علاقے کو کتوں سے پاک رکھنا شامل ہے تو ہم یہ کام ضرور کریں اور اگر ہماری زمہ داری یہ ہے کہ ہم ان کی نشاندھی کریں تو ایک فون،ایک درخواست یا ایک حاضری لگا کر کم سے کم اپنی زمہ داری تو نبھا ہی سکتے ہیں۔کیا ہم سے ہماری زمہ داریاں پوری کروانے کے لئے بھی کوئی آرڈینینس پاس کرنا ہو گا یا عدالت عالیہ سے کوئی فیصلہ جاری کیا جائے گا؟۔جب تک ہر فرد اپنی زمہ داری نہ نبھائے گا آپ دنیا جہاں کا قیمتی دماغ بھی حکمران بنا لیں بحثیت ایک معاشرہ ہم ناکام ہی رہیں گے

____________________

تحریر و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف