خاور___________عظمی طور

کمرے میں وحشت کے نتیجے ہر کونے سے اس کی تنہائی کے چیتھڑوں کے ساتھ بکھرے تھے ۔
تنہائی کی مکمل تصویر بمشکل نو سال میں مکمل کی گئی تھی ۔ اس کے ایک ایک نقش میں اس نے اپنی موجودگی اپنی ہنسی اپنی چھوٹی چھوٹی معصوم باتیں ٹانکی تھیں ۔
تصویر کے نقش ابھر ابھر کر آتے تو اس کی مسکراہٹ اور پھیکی ہو جاتی ۔ وہ خود سے اور دور ہو جاتی ۔
خلا اور گہرا اور وسیع ہونے لگتا ۔
درد کی رگیں منمجند ہو کر کھیچنے کے بعد ٹوٹ گئی تھیں اور کہیں کہیں جمے خون کے چھینٹے اس کے لبوں پر ٹھہرے تھے۔
مسکراتی تو خوف آتا ۔ لوگ منہ چھپاتے تیزی سے گزر جاتے ۔
لوگ حیرت بھول گئے تھے ۔ اب کوئی رکتا نہیں تھا ۔
اس نے ٹیبل پہ رکھے کاغذ زمین پہ بکھیر دیئے ۔
کتابوں کے سرہانے سے سر اٹھایا اور اپنی بنائی گئی پینٹنگز ایک ایک کر کے چاٹنے لگی ۔
سارے رنگ زبان پہ آ گئے ۔ مگر ____
زبان کے ذائقے شام کے بخار نے چرا لیے تھے ۔ دو وقت مل جانے کے غم میں سلگتی تو بخار آ جاتا ۔
سب محبت کر رہے تھے ۔ پا رہے تھے ۔ خوشحال تھے ۔
وجود بخار سے سلگتا تو زبان کڑوی ہو جاتی ۔ اور زہر سارا اپنے ہی اندر اتر جاتا ۔ رگوں میں پھیلنے سے روکنے کے لیے بلند حوصلے کے سپلیمنٹس بیکار تھے مگر توجہ بٹاتے تھے ۔
پینٹنگز کے رنگ بھی اس کی سیاہ تنہائی میں گھل کر سیاہ ہو گئے تو کھچی ہوئی درد کی ایک رگ ٹوٹی ۔ اور خوف پھیل گیا۔

میز پہ بلب کی روشنی امید کی کسی کرن کا کردار اوڑھے اسے بہلاتے بہلاتےسو گئی ۔ اس نے پوری آنکھیں کھول کے روشنی کرنا چاہی تو بے فائدہ رہا ۔

اس نے محبت کی بیساکھی ٹٹولی ۔
کرسی کی پشت سے ہی تو ٹکائی تھی جانے دکھ کیوں نہیں رہی ۔
کمرے میں مکمل اندھیرا اور خاموشی تھی ۔
ایک آواز جو واضح تھی وہ دیواروں کے ہانپنے کی تھی ۔ کانوں پہ ہاتھ رکھے دیواریں زبانیں گریبانوں تک لٹکائے ہانپ رہی تھیں ۔
اور ان کی سانسیں تنگ ہوتی معلوم ہوتی تھیں ۔
پیروں میں پڑے بھنور شانت تھے ۔ انسان جب ہار مان لے تو وقت کے پھیر بھی چکراتے چکراتے دور جا پڑتے ہیں اور رقص کرنے والا ان سے بھی محروم ہو جاتا ہے ۔
اس نے زمین پہ بکھرے صفحوں کو ٹٹولا ۔
کیا آپ نے میرے بارے لکھا ؟ کسی نظم میں کسی افسانے میں ؟
سوال کی معصومیت گالوں پہ ہاتھ رکھے اس کے سامنے بیٹھی تھی اور چمکتے لفظوں سے بھرے صفحے سیاہ دھبوں کو چھپانے لگے ۔

“صاحبہ میں رکوں گا نہیں ۔ مجھے اپنے ہونے کی تمیز روکے ہے. “

بازگشت بھنور بن کر اس کا سارا وجود گول گول گھومنے لگا ،حوصلے کی زمین نے پیر چھوڑ دیئے اور وہ ہاتھ بلند کئے گول گول گھومنے لگی ۔

“میں تلافی نہ کر سکوں گا “

زور ٹوٹا اور وہ زمین پہ رکھے لفظوں سے لپٹ گئی ۔

وہ اطمینان سے ٹیک لگائے لفظوں کے سنگھار کے بکسے کھولے بیٹھی تھی. کہ دستک ہوئی۔
کون ؟؟
دروازے انتظار کی شدت سے جھکے جاتے تھے ۔ دہلیزیں ایک دوسرے میں پیوست ہو جانے والی تھیں عنقریب مگر ___
کون ؟
آواز میں گرج اب بھی تھی ،اجنبیوں کو کیوں بوسیدگی کا احساس ہو ۔
میں …
مَیں میں سر جھکانے کا ایلیمنٹ تھا ۔
اس نے پھر ہوچھا
کون
کون میں نہ سوال تھا نہ حیرت وہ سب جانتی تھی ۔
جی میں …

آواز پہچان کر اس نے بظاہر آسانی سے اندر آ جانے کی اجازت دی ۔
اندر آنے والا یکسر مختلف تھا اپنے لحاظ سے ۔
مگر ……
تنہائی کے سارے گھڑے گئے منظر پھٹ کر بکھر گئے ۔
میں نادم ہوں
میں برا رہا
میں نے دکھ دیا
میں نے غلط کیا
آنے والا خود کے چکر کاٹ رہا تھا
اس کی آنکھیں سلگنے لگیں
کہنے والا چلا گیا اور
وہ جھکے دروازوں اور اک دوجے سے گلے لگتی دہلیزوں کو تصویر کرنے کے لیے اک اک کر کے درد کی رگوں سے قطرہ قطرہ خون ،شدت اور وحشت سے استعارے مانگ کر جلد سے جلد تصویر مکمل کرنے میں لگی ہے ۔
_______________________
تحریر:عظمیٰ طور

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.