غزنی وال_________ثروت نجیب

وہ تھالی جیسے سپاٹ چہرے والا مرجھائے ہوئے سوکھے لبوں پہ بار بار
زبان پھیر رہا تھا ۔
اس کے سخت کھردرے ہاتھوں میں ایک کہنہ سیاہی مائل چاندی کا
گنگن تھا جسے وہ چھوٹے سے لگن میں تیزاب سے مسلسل رگڑرگڑ کر صاف
کر رہا تھا ۔ کنگن میں جڑا یاقوت وقت کی غمازی سے عاری ہنوز چمک رہا تھا۔
بھرے بازار کی بند گلی میں ایک ویران سے دروازے والی گنجان سی
دکان جس کی پیشانی پہ غزنی وال لکھا تھا۔ جب غزنہ میں آگ لگی اور شھر کا شھر خاکستر ہوا تو غزنی وال اپنا وطن چھوڑ کر کابل آ گیا ۔ مگر غزنہ کو دکان کے ماتھے پہ سجا دیا ۔ تب سے سبھی اسے غزنی وال پکارتے ۔ خدا جانے اس کا اصل نام کیا تھا ۔ کسی گاہک نے کبھی
جاننے کی کوشش بھی نہ کی۔ زرغونہ نے تو بالکل بھی نہیں ۔ وہ اکثر
اس دکان پہ جا کر من پسند چیزیں ڈھونڈا کرتی تھی ۔وہ نیلامی کی اشیاء بیچتا جس کو بعد از آں غزنی وال مرمت کر کے کپڑے کی گتھلیی میں لپیٹ کر دیتا ۔
مستطیل نما اس چھوٹی سی دکان جس کی چھت کو پانچ فٹٹ آٹھ انچ قد والے کا ہاتھ باآسانی چھو سکتا تھا انواع و اقسام کے زیورات
سے بھری پڑی تھی ۔ سارا سامان سیکنڈ ہینڈ تھا ۔ چھت سے لٹکتے ہار دکان کے اندر داخل ہونے والوں کی پیشانی کو بوسہ دینے لگتے ۔ دیواروں پہ قدیم دھاتی زیورات گھڑیال کی طرح لٹک رہےتھے ۔
کوچی عورتوں کے لباس جو نجانے کب کاڑھے گئے ، کس نے ان پہ دھاتی سکے ٹانکے ، کس موسم میں ان کو پہنا اورنجانے کس مجبوری کے تحت بیچ دیا ، اب یہاں دیوار اور دروازے پہ لٹکے خریداروں کی راہ تک رہے تھے ۔ دکان کے وسط میں پڑے پرانے شو کیس میں
جس کی لکڑی کو دیمک چاٹ رہی تھی لیکن شیشے ثابت تھے ،
زیورات سے ایسے بھرا ہوا تھا کہ دکانداربُندے اٹھاتا تو ساتھ جھانجھر بُندے سے الجھی ہوئی لٹکنے لگتی ۔ شوکیس میں قبائلی آرائشی اشیاء
جن میں موٹے موٹے دست بنداور کڑے جو کہ نوے فیصد سیاہ ہو
چکے تھے ، پتھروں کی جڑاو انگوٹھیاں جن کے نگینے تقریباً گر چکے تھے،
مڑے تڑے آ ویزے، ٹوٹیجھانجھریں ، سنگھار پٹیاں ، تعویزات کے
نقرئی بقچے جن کے سیاہ دھاگوں پہ گھڑی کی سیاہ سوئیاں مزید سیاہی
پھینکتی رہیں ،سنگھار باکس جن میں بیشتر کے شیشے ٹوٹ چکے تھے۔
موتیوں سے منقش گہنائے ہوئے گہنے اور ادھڑے ہوئے موتیوں
والے گلے ،مختلف النواع پتھروں کی سجاوٹی اشیاء عہد گزشتہ کی
کہانی سنا رہی تھیں ۔ شفاف لفافوں میں بند صدری کی واسکٹیں ، بستے اورپرس فرش پہ ایک دوسرے پہ ایسے
بچھے ہوئے تھے جیسے پیاز کی پرتیں ۔ دکان نہ تھی کباڑی کا خواب تھی
یا میوزیم کا ذخیرہ خانہ ۔

جس میں غزنی وال راجہ اندر کی طرح ایسے طمراق سے بیٹھا ہوتا جیسے
آس پاس زیورات نہیں حرم کی کنیزیں ہوں ۔ اسے بار بارپلکیں
جھپکانے کی عادت تھی ۔
جسے دیکھ کر زرغونہ کو کوفت ہونے لگتی ۔ جب وہ دکان میں داخل
ہوتی تو اس زرغونہ کے چہرے پہ مسکراہٹ پہلی کے چاند کی طرح
چمکنے لگتی ۔ البتہ غزنی وال منہ بنا لیتا ۔ زرغونہ بہت بھاؤ تاؤ کرتی
تھی ۔ آج بھی اس نے مغزماری کر کے دو کنگن لیے ۔ بالکل ایسے
ہی کنگن اس کی چاچی کے پاس تھے ۔
بارھا اس نے چاچی سے کہا :
ترورے ! یہ کنگن آخر کس کو دو گی تمھاری تو کوئی بیٹی ہی نہیں ہے ۔ وہ زرغونہ کے ارادے بھانپتے ہوئے کہتی تو کیا ہوا! اللہ رکھےبیٹے تو
ہیں ۔
زرغونہ سوچتی اب محض چاندی کے دو کنگنوں کی خاطر وہ بخیل چاچی
کی بہو بننے سے رہی ۔ جو پچھلے پانچ سال سے ان کے حصے کاکھا رہی ہے اور دینے کے لیے اس کی جھولی میں بس دعائیں ، وہ بھی سوچ
سوچ کر دیتی ۔ جیسے دعا نہ ہوئی ادھار ہو گیا ۔ جب سےچاچا کا انتقال ہوا تب سے چاچی اور اس کے چار بیٹے زرغونہ کے باپ کی ذمہ داری بن گئے ۔ ایک تھلیسیمیا کی وجہ سے محض پانچ سال جی سکا اور
دوسرا اسی بیماری سے لڑ رہا تھا ۔ باقی دو فروش گاہ کے سامنے
ہتھ ریڑھی لیے کھڑے ہوتے جب کوئی مالدارتھیلےبھر بھر راشن
خرید کر باہر نکلتا یہ دونوں اس کی جانب لپکتے اور اپنی ہتھ ریڑھی میں
لاد کر اس کی موٹر تک یا قریب گھر تک پہنچا کرریزگاری جمع کرتے –
زرغونہ کی ماں ہر وقت یہی کہتی اس سے کوئی گھر چلتا ہے بھلا ؟ کھانا،
پینا،کپڑا ،لتہ ،دوا، دارو تو ہم پیٹ کاٹ کر دیتے ہیں ۔
البتہ زرغونہ کے گھریلو حالات بہ نسبت اچھے تھے۔
اس لیے وہ اکثر غزنی وال کی دکان پہ آ جاتی ۔
کاکا یہ امیل کتنے کا ہے ؟
غزنی وال منمنایا پانچ صد افغانی ۔۔۔
زرغونہ کی آنکھیں پھیل گئیں ۔۔۔
ہائے اللہ اتنا مہنگا کیوں ؟
غزنی وال ہار کی نفاست کو محسوس کرتے بولا
اصلی فیروزہ کا ہے
زرغونہ جھلا کر بولی
فیروزہ ہ ہ ہ ہ آہ ۔۔۔ ہر دوسرا دوسرا پتھر فیروزہ ہی تو ہے یہاں ۔
اور یہ لاجورد ۔۔۔
توبہ ہے اب زرے بھر لاجورد کی انگشتری بھی صد افغانی ۔
ارے افغانستان کے تو کسی بھی پہاڑ کو کھرچو نیلا ہٹ جھانکنے لگتی ہے ۔
عقیق کا دست بند تو تین صد کا دے دو !
دیکھو دیکھو غور سے دیکھو ٹوٹا ہوا ہے ۔ اس پہ خون کے قطرے کیسے ؟
اچھا ان کو تو زرا صاف کر دو ۔
غزنی وال کی آنکھوں میں وہ خون کے قطرے جم گئے ۔
جو اس لڑکی کے ہونٹوں سے تازہ تازہ گرم گرم بہہ کر دست بند پہ گرے
تھے ۔ اس کی آنکھ نیلو نیل تھی ۔ وہ دوپٹّے کا پلو بار بارہونٹ پہ رکھ
کر دباتی مگر خون پھر سے سفید تھوڑی پہ آبشار کی مانند بہنے لگتا ۔
لرزتے ہاتھوں سے اس نے دست بند اتار کر غزنیوال کو دیا تھا ۔ بلا چوں چراں کئے ۔ اس نے رقم لے کر پیلے آنچل کے پلو سے باندھ
کر کواڑ بند کر دیا تھا ۔
غزنی وال نے دست بند سے خون صاف کر دیا مگر دل صاف نہ کر سکا ،اس یاد سے جو اب غزنی وال کو افسردہ کر رہی تھی ۔
غزنی وال نے محض پچاس افغانی اس کی ہتھیلی پہ رکھے ۔ تب وہ
اس سودے پہ بہت خوش تھا مگر اب وہی خوشی سوال کر کےجھنجھوڑنے لگی تھی ۔
غزنی وال نے زرغونہ پہ وہ دو صد افغانی پہ بیچ دیا۔ سرخ عقیق کے
تین پتھر ترتیب سے سیاہ ڈوری میں جڑے اب پرائے ہو چکےتھے ۔
غزنی وال نے دکان کا متلاشی جائزہ لیا ۔ دیوار پہ لٹکی پائل اتار کر
زرغونہ کو دیکھائی ۔
دیکھو یہ بالکل نئی ہے چاہو تو سستے دام میں لے سکتی ہو ۔ وہ نقرئی
پائل واقعی نئی تھی ۔
زرغونہ بولی نہیں پائل نہیں ۔۔۔ امیل دیکھاؤ۔
غزنی وال مایوس ہو گیا۔ یہ پائل اب نجانے کب تک اس کے دل پہ
مونگ دلے گی ۔ بک جاتی تو اچھا تھا ورنہ وہ پاؤں پھر سےفریاد کرنے لگیں گے ۔ جن سے اتار کر وہ یہاں لایا تھا ۔ نسواری رنگ کی آنکھیں نسوار جیسی نشیلی بھی تو تھیں ۔ تبھی وہ جب گودرپہ پانی بھرنے جاتی راستے میں کئ عاشق دل ہتھیلی پہ لیے کھڑے رہتے ۔ گل بشرہ نام تھا
اس کا مگر شہرت اچھی نہ تھی ۔گاؤں کی عورتوں کو شکوہ تھا وہ ان کے بیٹوں کو لوٹ لیتی ہے ۔
وہ اپنے آشناوں سے چاندی کی پائل تو کبھی طلائی پیزوان مانگتی ہے مگر وہتحفے جاتے کہاں ہیں آخر ؟ یہ راز تو راز تھا ۔۔۔
گل بشرہ اور غزنی وال کے درمیان جو ابھی تک گل بشرہ کی ماں پہ بھی
نہیں کھلا تھا ۔
امیل (ہار) دیکھاؤ نا کاکا ۔۔۔۔
زرغونہ کی آواز نے چونکا دیا ۔۔۔
وہ بڑبڑایا ۔
ہاں امیل ۔۔۔ امیل ۔۔۔۔
ایک بار پھر اس کی سوچیں خود کلامی کرنے لگیں ۔
امیل نے ایک بچی کی جان بچائی تھی ۔ اس پہ غزنی وال نازاں تھا ۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا میں اگر بوجھا اٹھائے گاؤں گاؤں قریہ
قریہ نہ گھوموں تو نجانے کتنی عورتوں کے ارمانوں کو اشکوں کا دریا
بہا لے جائے ۔ میں بند بناتا ہوں ۔ ان کو پیسے دے کرخوشیاں لوٹاتا ہوں ۔ میں غزنی وال اپنے گھر کا محض چولہا نہیں جلاتا بلکہ ہر لقمے
میں لپٹی دعائیں بچوں کے پیٹ میں اتارتا ہوں۔۔۔
میں غزنی وال ل ل ل ل ۔۔۔
یہ کہتے ہی چپ ہو گیا ۔ دل سے کون جھوٹ بول سکتا ہے بھلا ؟
رہنے ہی دو غزنی وال ۔ ۔۔۔دل کالا ہو گیا تو اشکوں کے تیزاب سےدھونا پڑے گا ۔ اشک کہاں سے لاؤ گے ؟ احساس تو تم بیچ چکے ہو ۔
اس نے امیل زرغونہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا :
ہاں لے لو یہ امیل ۔۔۔
کم از کم یہ امیل خرید کر میں نے تشکر کمایا تھا ۔ یہ سوچ کر غزنی وال کا سینہ تفاخر سے چوڑا ہوا ۔
اسہال کی وجہ سے نقاہت کی ماری آٹھ ماہ کی بچی کی آنکھوں میں اظہار
تشکر تھا ۔ بچی کا باپ کویت میں ڈرائیور تھا ۔ اس کی بھیجی ہوئی رقم
والدین حق سمجھ کر اینٹھ لیتے ۔ بدلے میں اس کی بیوی بچوں کو تین
وقت کا کھانا اور کپڑا لتہ لا دیتے ۔ بیمار ہوئے تو دوادارو نہیں تو اور کیا ضرورت ہو سکتی ہے بھلا تین بچیوں کی ماں کو ؟
وہ عورت روتے ہوئے بولی تھی :
“ بچی کی دادی نے علاج کے لیے پیسے دینے سے انکار کر دیا ہے ۔
وہ کہتی ہے ! بیٹیاں بہت سخت جان ہوتی ہیں ۔ یہ نہیں مرنے والی،
پودینے کی چائے بنا کر دو ۔ “
غزنی وال کو ترس آ گیا ۔
بچی کی گردن نقاہت کے مارے ایک طرف کو لڑھکی ہوئی تھی ۔
ہونٹ دشت کی خشکسال زمین کی طرح پھٹے ہوئے تھے ۔ امیلکے بدلے نقدی دیکھ کر بچی کی ماں کے چہرے پہ خوشی کی لہریں دوڑنے لگیں ۔ وہ بچی کے لیے دوا خریدے گی ۔
زرغونہ نے سودا کھرا کیا ۔ کنگن دیکھا کر وہ چاچی کو جلائے گئ۔ دست بند وہ بہن کو تحفہ دے گی اور امیل پہن کر سہیلی کی مہندی پہ
جائے گی ۔
غزنی وال سال میں دو بار سامان کے لیے گاؤں گاؤں پھرتا ۔ اکثر تو عورتیں اس کی دکان پہ آ کر ضرورت کے مطابق زیورات بیچ کرنقدی لے جاتیں ۔ مگر جو چیزیں اسے گاؤں اور قصبوں سے ملتیں وہ نایاب ہوتیں ۔
کچھ عورتیں خاص اس کے لیے دستکاری کے نمونے جمع کر کے
رکھتیں ۔ لڑکیاں شیشے کے موتیوں سے آرائشی و سجاوٹی اشیاء بناکر اس کے ہاتھ
اونے پونے دام پہ بیچ دیتیں ۔ ان چیزوں کو وہ شہر نو کی بڑی دکانوں پہ
ذیادہ مالیت کے عوض بیچا کرتا تھا۔ جہاںشہر کے امراء اور سیاح خریداری
کرتے ۔ وہاں ان کی مانگ ذیادہ تھی ۔ میلے سے تھیلے میں ڈالے
ٹی کوزی ، میز پوش اور کشن کورنکال کے وہ بیچ دیتا مگر اگلی بار انھی
کو قرینے سے سجے شیشے کے شوکیس میں سجا دیکھ کر دنگ رہ جاتا ۔
کھٹے کھٹے رنگوں سے کاڑھےہوئے گلاب کے پھولوں والے
کشن کور میں پولیسٹر بھر کر اس کو سلیقے سے سلائی کر کے ڈسکو لائیٹ والے شیشے کے بکس میںایسے سجا کر رکھا ہوتا کہ کاڑھنے والی بھی دیکھتی تو دنگ رہ جاتی ۔ سیاہ ساٹن پہ تیس روپے کے دھاگوں سے کشیدہ کاری کیا پارچہ اببرانڈ بن چکا تھا۔ ان قمقموں سے سجے شیشوں میں کئی
رت جگے آنکھیں مل رہے ہوتے ہیں ۔
کئی انگلیاں سوزن دوذی کر کر کےسوجی ہوئی ملتیں ہیں ۔
کئی نوخیز خواب نیند کی چاہت میں مصلوب ملتے ہیں ۔ پر دیکھنے والوں کو یہ دستکاری کے نمونے ہی لگتے ہیں۔ صرف وہی ان کا پس منظر
دیکھ سکتا ہے جس نے بھوکے پیٹ آنسوؤں سے تکیے پہ شب بخیر
کشیدہ کیا ہو ۔
یا سینے میں سنگ سیاہ کی جگہ گوشت کا لوتھڑا رکھتا ہو ۔
غزنی وال پھر سفر پہ گامزن تھا ۔ سردیوں سے پہلے پائے فروش میں
ایک بھنور تو بنتا تھا ۔
گاؤں میں موسم مایوں بیٹھا تھا ۔ ہر طرف درختوں کے ہاتھ حنائی تھے ایسی خاموشی پھیلی تھی جیسے رخصتی کے بعد لڑکی والوںکے گھر میں ہوتی ہے ۔ سفر کے پہلے پڑاؤ میں ٹھہرتے ہی سے گاؤں کے حجرے کے دروازے ، کھڑکی اور روشن دانوں سے بریخبر دھوئیں کی مانند نکل کر
یاسیت پھیلا رہی تھی ۔
“گل بشرہ کو اس کے سگے بھائی نے قتل کر دیا “
پر کسی کے چہرے پہ ملال نہ تھا ۔ غیرت کے نام پہ قتل تو روا ہوتا ہے ۔
پر جب سے بارودی سرنگ نے اس کے بھائی دونوں ٹانگیں چھین لی
تھی ، وہ اسی دن سے بھائی کے علاج کے لیے پیسے جمع کرتی پھرتی تھی ۔
درمیانی عمر کے کا مرد ہنکارہ ۔۔۔
“ہونہہ : پیزوان ، پائل ، امیل اور انگشتریوں سے ٹانگیں نہیں لگتیں ۔ “
دوسرا شخص بولا :
“جب وہ ٹھیک ہوگیا تو کیوں جاتی تھی گودر پہ آشناؤں سے ملنے ؟ “
سوالیہ نشان چلم کی گڑ گڑ نے اگل دیا ۔
جسے اٹھا کرغزنی وال اس بار بوجھے میں ڈالے اگلے پڑاؤ کی جانب
روانہ ہوا تو افسردہ سا تھا ۔ نقاہت کی ماری بچی اب صحتیاب ہو کرمیدان میں باقی بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی ۔
وہ پائے پائے چلتی ہوئی چابی والی گڑیا لگ رہی تھی ۔غزنی وال اس بچی کو دیکھ کر ایسے خوش ہوا جیسے مردہ لڑکی میں نئی
روح اسی نے پھونکی ہو ۔
اسی گاؤں میں ایک جوان بیوہ نے جہیز کا چیدہ چیدہ سامان غزنی وال
پہ بیچا ۔ مزدوری کرنے والے لڑکے کی شہر سے لاش آئی تھی۔
وہ اداس تھی ۔ کوکھ میں پلتے ایک یتیم بچے کا ان دیکھا چہرہ بہت
بھیانک ہوتا ہے ۔ اس کی معصومیت کا تصور ہی دل نوچنے لگتاہے ۔ غزنی وال نے سامان تو لے لیا۔
مگر ایک ادھ مری عورت کے نیم لاشے سے وہ گھبرا گیا ۔ اسے لگا اس کی کوکھ میں پلتا بچہ بہت سے سوال کر رہا ہے ۔ غزنی وال نے ذیادہ
دیر اس گاؤں میں رکنا پسند نہیں کیا ۔
روٹھا روٹھا سورج کالی کملی اوڑھے واپسی کے سفر پہ تھا ۔
کیا خزاں میں ساری امیدیں بھی جھڑنے لگتی ہیں ؟
غزنی وال ملی جلی کیفیات سے نبرد آزما تھا ۔
بہت سی لڑکیاں اس بار بےحد خوش ہوئیں ۔ پچھلے چھ ماہ میں
انھوں نے دن رات ایک کر کے قمقموں والے شوکیسوں کوسجانے کی قسم کھائی تھی ۔
ان کی قسموں کو نبھانے غزنی وال آخر آن پہنچا تھا ۔
پر اس بار زرغونہ کے لیے کوئی خاص سوغات نہ ملی !
جلد ہی تفکر کی لکیریں کچھ سوچ کر غزنی وال کے ماتھے سے سمٹ
گئیں ۔
اور وہ بڑبڑایا ۔۔۔
اچھا خیر ۔۔۔ زرغونہ کو تو ویسے بھی اپنی چاچی کے بیچے ہوئے
زیوروں سے رغبت ہے ۔
طلب اور رسد کے مابین فاصلہ بڑھ جائے تو ایسا منحوس چکرشروع ہو جاتا ہے جو آنکھیں نوچ کر ماتھے پہ رکھ دیتا ہے ۔ غزنی والاس فاصلے
کو کم کرنے کے لیے بوجھا اٹھائے پہاڑوں کی اترائیوں میں اترتا
سورج کے ساتھ ڈوب گیا ۔ اس کے نقش پا ، پگڈنڈیوں پہ ثبت ہو گئے ۔ جنھیں گاؤں کی عورتیں کبھی مٹنے نہیں دیں گی
۔ جب تک غزنی وال مثل آفتاب ایک بار پھر ابھر کر دوبارہ ان کی مجبوریوں کو خریدنے واپس نہیں آ جاتا ۔۔۔۔

______________
تحریر: ثروت نجیب

کابل،افغانستان

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

4 Comments

  1. Outclass…!!

    دیکھنے والوں کو یہ دستکاری کے نمونے ہی لگتے ہیں۔ صرف وہی ان کا پس منظر
    دیکھ سکتا ہے جس نے بھوکے پیٹ آنسوؤں سے تکیے پہ شب بخیر
    کشیدہ کیا ہو ۔
    یا سینے میں سنگ سیاہ کی جگہ گوشت کا لوتھڑا رکھتا ہو

    Liked by 2 people

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.