پاداش(5)______________شازیہ خان

ابا جی کو بہت مشکل کے ساتھ محلے والوں کی مدد سے وہ ہسپتال لے جا سکی ڈاکٹر نے حالت کے پیش ِنظر ICUمیں داخل کر لیا۔ بی پی بہت شوٹ کر گیا تھا۔ بریین ہیمبرج ہوا تھا۔ چند گھنٹوں میں ہی خالہ جان اور دوسرے لوگ بھی ہسپتال پہنچ گئے۔ سامعہ کا رونا بند نہیں ہو رہا تھا۔ ثنا اور خالہ جان نے اُسے گلے لگایا۔
” چپ کر جاؤ سامعہ خالو کو کچھ نہیں ہوگا انشاء اللہ وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔” ثنا نے اُسے سمجھایا۔
“ثنا بھائی کے بعد ابا جی کا سوگ منانے کا حوسلہ نہیں مجھ میں بس اللہ سے دُعا کرو کہ وہ بچ جائیں۔ ” سامعہ تڑپ کر بولی۔۔۔” وہ گھر کی چھت ہیں۔ حوصلہ ہیں ان کے بغیر اماں اور میں کیا کریں گے۔ ”
سامعہ فکر مت کرو ڈاکٹر ز کوشش کر رہے ہیں خالو جان کو کچھ نہیں ہوگا۔ کبیر نے بھی اُسے سمجھایا روتی ہوئی سامعہ کو دیکھ کر ان کا دل بھی پگھل گیا تھا۔تھی ان کے گھر کو نہ جانے کس کی بد دعا لگ گئی ایک کے بعد ایک پریشانی کھُلے دروازے سے چلی آرہی ہے۔۔۔۔ بس یہی وہ مقام آزمائش ہے جہاں انسان نعمتوں کی ناشکری پر رب کے غیض وغضب کا شکار ہو جاتا ہے۔ اُسے احساس ہونے تک پُل کے نیچے سے پانی بہہ چکا ہوتا ہے۔۔۔ بیٹے کے بعد حاجی صاحب کے دل پر یہی بار تھا۔۔۔۔ جس نے انہیں اس حال پر پہنچا دیا ۔۔۔۔
ناہید بیگم کی حالت بھی خراب تھی۔ لیکن وہ اپنے آپ کو کافی حد تک سنبھال رہی تھی۔۔۔۔ انہیں اتنا صبر شاید اُن کے رب کی عطا تھا۔۔۔۔وہ آئی سی یو کے دروازے میں موجود کھڑکی سے مصنوعی آلات میں جکڑے حاجی صاحب کے خاموش چہرے کو تک رہی تھیں۔۔۔
انہیں حاجی صاحب کے ساتھ بیتے ہوئے ماہ و سال یاد آرہے تھے۔ شادی کی پہلی رات ہی اس شخص نے انہیں کتنا ذلیل کیا تھا۔صرف اس بات پر کہ تمہارے بھائی نے میرے گھر والوں کے مانگنے کے باوجود جہیز میں بائیک نہ دی۔۔۔ حالاں کہ وہ دے سکتے تھے اور اسی وقت بھائی صاحب سے ایک نا ختم ہونے والی لڑائی پال لی۔۔۔ ساری عمر انہیں اس بات کا طعنہ دیتے رہے۔۔۔ آخر کار باپ جیسے بھائی سے چھڑوا ہی دیا۔۔۔آج کتنا بے بس ہے ان کے سامنے بستر پر پڑا ہوا شخص۔۔۔ بیٹے کے بعد ان سے کئی بار وہ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ چکے تھے۔۔۔ اور انہوں نے دل سے معاف بھی کر دیا تھا۔۔۔ لیکن شاید قدرت نے معاف نہیں کیا تھا۔۔۔ جب ہی آج ایسی حالت پر پہنچے۔۔۔ حاجی صاحب میں اپنے رب سے دُعا کرتی ہوں۔۔۔ جتنی تکلیفیں میں نے ان بائیس سالوں میں پائی ہیں۔ اللہ ان سب کے لیے آپ کو معاف کر دے۔وہ ہولے ہولے بُڑبُڑا رہی تھیں کہ انہیں اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ کا احساس ہوا۔ انہوں نے مُڑ کر دیکھا۔۔۔۔ تو سلمیٰ بیگم بھائی صاحب کے ساتھ کھڑی تھیں۔۔۔ بھائی کو دیکھ کر وہ اپنے جذبات پرقابو نہ رکھ سکیں۔۔۔ اور ان سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔۔۔ سلمیٰ بیگم نے کسی وقت بھائی کو فون کر دیا تھا اور شاید احساس بھی دلایا تھا کہ اس وقت ان کا یہاں ہونا کتنا ضروری ہے۔۔۔ وہ فوراًپہنچ بھی گئے۔۔۔ بہن اور بھانجی کو کافی دیر تک دلاسہ دیتے رہے۔۔۔۔ کبھی کبھی زندگی میں غلط لوگوں کے شامل ہونے سے خونی رشتے دم توڑنے لگتے ہیں۔
ناہید بیگم اور بھائی صاحب دونوں کی زندگی میں غلط لوگ شامل تھے۔جنہوں نے بہن بھائی کی محبت ختم کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کی۔ لیکن جو رشتے اللہ بناتا ہے۔ ان رشتوں سے بہت مضبوط ہوتے ہیں جو ہم خود اپنی مرضی سے پروان چڑھاتے ہیں۔ غلط لوگ اپنی کتنی ہی کوشش کر لیں۔۔۔ خون کے رشتوں کو الگ نہیں کر سکتے۔اللہ نے اس رشتے میں ایک خاص گرمی اورابال رکھا ہے۔خون کتنا بھی سرد ہو جائے جب اس میں وہ ابال آتا ہے تو پھر سب کچھ ویسا کا ویسا ہی ہو جاتا ہے۔۔۔ بھائی صاحب دونوں کو اپنے گھیرے میں لئے پاس پڑے بنچ پر بیٹھ گئے۔۔۔۔ اور آہستہ آہستہ دلاسہ دیتے رہے۔۔۔۔ صبح تک حاجی صاحب کی حالت کافی حد تک سنبھل گئی۔ سب نے شکر ادا کیا۔۔۔لیکن ڈاکٹرز کے مطابق ان کے جسم کے دائیں جانب اثر ہوا تھا۔۔۔ انہیں شاید بات کرنے میں بھی مشکل پیش آئے۔۔۔ لیکن دوائیوں کے ساتھ آہستہ آہستہ سب بہتر ہو سکتا ہے۔۔مگر تھوڑا وقت لگے گا۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
کبھی کبھی زندگی ہمیں وہاں لا کر کھڑا کر دیتی ہے۔ جہاں نہ آنے جانے کا راستہ نظر آتا ہے نہ پیچھے ہٹنے کی ہمت ملتی ہے۔شمیم صاحب نے کبھی اللہ سے شکوہ نہیں کیا۔ماں باپ کے مرنے کے بعد چچا نے اُن کی پرورش کی۔۔۔ پڑھایا لکھایا۔ اور پھر انہوں نے اپنی محنت سے بزنس کو پروان چڑھایا۔چچاکی بیٹی اِن کی رفیق ِ حیات ان کی مرضی سے بنیں تو انہیں لگا کہ اللہ نے انہیں سب کچھ دے دیا۔زندگی کے کتنے سال دونوں نے ہنستے کھیلتے گذارے اور پھر ہنستے کھیلتے ہی اچانک وہ ان کی زندگی سے چلی گئیں۔ انہوں اپنی ساری محبت رضوان کو دے دی۔اس آس میں کہ ایک دن وہ یہ ساری محبت سود سمیت انہیں لوٹائے گا۔۔۔ لیکن اب زندگی انہیں ایک ایسے مقام پر لے آئی تھی جہاں کیا سود؟ کیا اصل؟۔۔۔ بس محرومیاں رہ گئی تھیں۔ آج وہ کتنے مجبوراور بے بس تھے۔۔۔۔ بیٹے کی خوشی قریب تھی اور وہ اس کا ماتھا بھی نہیں چوم سکتے تھے۔ گلے لگا کر اس کی پیٹھ سہلا کر فخر کا احساس بھی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔۔۔۔ زیادہ دیر بات نہیں کرتے تھے کہ کہیں اگر سانس پھول گئی اور کھانسی شروع ہو گئی تو وہ پریشان ہو جائے گا۔۔۔ اورپھر سو سوالات کرے گا۔۔۔ چند روز بعد ہی اس کی کانووکیشن تقریب تھی اور کل ہی اس سے فون پر بات ہوئی تو وہ بہت زیادہ ایکسائٹیڈ تھا۔۔۔ وہ چاہتا تھا کہ یونی ورسٹی فیس بک پر وہ براہِ راست اس تقریب کو دیکھیں۔تو انہوں نے حامی بھر لی۔۔۔ حالاں کہ وہاں اور یہاں کے دن اور رات میں وقت کا بہت بڑا فرق تھا لیکن وہ اتنا تو کر ہی سکتے تھے۔۔۔ شکر ہے سائنس کی ترقی نے انسانوں کے بہت سے مسائل کا حل دے دیا ہے۔ اور اب وہ اس دن کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔
آج پورے چار دن کے بعد وہ ہسپتال سے گھر آئی تھی۔نہا دھو کر ابّا کے لیے دلیہ بنا رہی تھی کہ اُسے اچانک عمر کا خیال آیا۔۔۔۔ چولہے کی آنچ بند کر کے وہ کمرے میں چلی آئی۔ سم نکال کر دوسری سم لگائی تو مسلسل میسجز آنا شروع ہو گئے۔ اس نے عمر کو کال ملائی جو عمر نے pickنہیں کی۔۔۔ تو اس نے ابّا کی بیماری کا ایک لمبا چوڑا بیان لکھ کر عمر کو میسج کردیا۔۔۔ اور پھر دس منٹ کے بعد ہی عمر کا فون آگیا۔۔
” بہت ظالم ہو یار ” وہ غصّے میں بولا۔ “اتنی بڑی بات ہو گئی اور مجھے اب بتا رہی ہو میں تو سمجھا مجھے دھوکا دے کر سم بند کر دی۔ ” وہ اتنے مان سے بولا کہ اُسے اپنی محبت پر فخر ہونے لگا۔۔۔۔ کتنی محبت کرتا ہے۔۔۔ اتنا بے تاب تو شاید سچا محبوب ہی ہوتا ہوگا۔۔۔ ہاں عمر سچا محبوب ہی ہے۔۔۔۔ دل نے گواہی دی۔۔۔
“سوری یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں۔۔۔ اتنے دن کے بعد آج گھر آئی تو سب سے پہلا کام سم لگانے کا ہی کیا۔” اس نے بھی شرمندگی سے وضاحت دی۔۔۔ “اگر میری ضرورت ہے تو ہاسپٹل آجاؤں۔” اس نے پھر محبت جتائی۔۔۔
“ارے نہیں۔ ہوسکتا ہے آج ابّا کی چھٹی ہو جائے گی۔ اور پھر وہاں سب لوگ موجود ہیں۔تمہارا تعارف کس حوالے سے کرواؤں گی۔ ” وہ گھبرا گئی کہ شاید وہ سچ مچ ہی ہاسپٹل نہ پہنچ جائے۔ “حوالہ بنانے میں کتنی دیر لگتی ہے۔ سب کو بتا دینا کہ یہ وہ شخص ہے جس سے میں محبت کرتی ہوں۔ ”
“یا خدا! تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ کبھی ایسا کر بھی نہ بیٹھنا گھر والے مجھے قتل کر دیں گے۔۔۔۔ ” وہ خوفززدہ ہو کر چلائی۔ تو عمر اس کی گھبراہٹ پر مزے لیتے ہوئے ہنسنے لگا۔ “کبھی نہ کبھی تو سب کو پتا لگے گا کہ میرا اور تمہارا کیا حوالہ ہے۔ ” وہ مزے سے بولا۔۔۔۔ “جب وہ وقت آئے گا تو دیکھیں گے۔ ابھی تو مجھے ابّا کے پاس جانا ہے۔ واپس آکر رات کو بات کرتی ہوں۔۔۔”فون آن رکھنا۔” وہ عمر کو ہدایات دیتی ہوئی مسکرائی تو عمر نے بھی اوکے کہہ کر فون بند کر دیا۔۔۔۔ کتنی آسانی سے اس نے اس لڑکی کواپنے شیشے میں اُتارا تھا۔۔۔ کتنی بے وقوف ہوتی ہیں یہ لڑکیاں اتنی آسانی سے شیشے میں اُتر جاتی ہیں صرف شادی کے لارے پر۔۔۔ وہ دل ہی دل میں ہنسا اور پھر اس سے ملنے کے لیے پلاننگ سوچنے لگا۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
آج دونوں نانی نواسی عمر کے ساتھ لنچ پر نکلی ہوئی تھیں۔سیما بی اے کے بعد گھر میں کافی بور ہو رہی تھی تو انہوں نے سوچا کہ اُسے لے کر کہیں لنچ پر جایا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے عمر کو بھی ریسٹورنٹ پہنچنے کے لیے کہا۔۔۔ آفس میں فارغ بیٹھا تھا۔۔۔ نانو کی آفر ٹھکرانا کفرانِ نعمت تھا۔۔۔ اور پھر ریسٹورنٹ اس کے آفس کے پاس ہی تھا۔۔۔ تھوڑی دیر میں ہی وہ سب لنچ آرڈر کر رہے تھے۔۔۔۔ “کیا بات ہے نانو آپ سیما کو آج کل کھانا نہیں دے رہیں کتنی کمزور ہو رہی ہے۔۔۔” اس نے سیما کو دیکھتے ہوئے چھیڑا تو سیما نے ایک سلگتی سی نظر عمر پر ڈالی۔۔۔ “ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں آج کل کی لڑکیوں کو فٹ رہنے کا بخار چڑھ گیا ہے۔ ہر وقت یہ ڈائٹ وہ ڈائٹ گھنٹوں جم۔بس اسی وجہ سے تمہیں کمزور لگ رہی ہے ورنہ اس کے لیے کھانے پینے کی کیا کمی۔ ” انہوں نے ہنس کر وضاحت دی۔۔۔۔ “ہاہا ہا وہ تو میں بھی جانتا ہوں بچپن میں سیما کتنی گولو مولو ہوتی تھی اور میں اسے چھیڑتا تھا سلم ہو جاؤ ٹیڈی بیئر اور یہ کتنی ناراض ہوتی تھی۔” عمر نے اسے بولنے پر مجبور کر دیا۔ “عمر پلیز آئندہ یہ لفظ نہ بولنا۔ ” وہ ہلکا سا چلائی۔ “کون سا لفظ۔ ” وہ بھی کائیاں تھا۔۔۔ اُسے بولنے پر اُکسا رہا تھا۔نانُو میں نے ایسا کون سا لفظ کہا بتائیں۔ ” اس نے نانو کی مدد لی۔ تو وہ جھلّا گئی “یہی جو تم نے ابھی بولا۔” “وہی تو پوچھ رہا ہوں کون سا لفظ میں نے تو دو لفظ بولے۔” وہ مزے سے سلاد پتا اٹھا کر منہ میں لے جاتے ہوئے رکا اور بولا۔۔۔۔ ” نانو پلیز اسے سمجھائیں یہ باز نہیں آرہا۔۔۔۔ ” اگر ایک بار اس نے دوبارہ کہا تو میں اُٹھ کر چلی جاؤں گی۔” وہ رو دینے کو تھی۔۔۔ بچپن سے ہی نانواور ماما نے اُسے کھلا کھلا کر گول مٹول کر دیا تھا اور عمر جب بھی اس سے ملتا گولو مولو کہہ کر مخاطب کرتا۔۔۔ اسی وجہ سے ہوش سنبھالتے ہی اس نے ڈائٹنگ کرنا شروع کر دی اور اب یہ حال تھا کہ جیسے لکڑی پر کھال چڑھی تھی۔ لیکن عمر اب بھی اُسے چھیڑنے سے باز نہیں آرہا تھا۔
” اچھا چلو چھوڑو یہ سب تم دونوں کھانے پر دھیان دو گھر جا کر لڑنا۔ ” نانو نے بات ختم کرنی چاہی تو عمر نے سیما کی طر ف وکٹری کا سائن بنا کر دیکھا۔۔۔۔ تو وہ جل کر رہ گئی۔۔ ” اچھا عمر بیٹا تم سے ایک ضروری بات کرنا تھی ” نانو نے سوپ ختم کرتے ہوئے نیپکن سے منہ پونچھا۔۔۔۔ “جی نانو کہیے؟۔۔۔ بلکہ حکم دیجئے۔ ” اس نے بھی فورک پلیٹ میں رکھ دیا۔۔۔ ” سیما گھر میں بہت بور ہو رہی ہے تو میں نے ہی اسے مشورہ دیا کہ آفس میں تمہیں جوائن کر لے۔۔ “انہوں نے بڑے آرام سے بات کی۔۔۔ سیما بھی چونک کر اُن کی طرف دیکھنے لگی۔نانو نے اپنے اس ارادے کا اس سے کب ذکر کیا تھا اگر وہ اس سے مشورہ کرتیں تو وہ یقیناً منع کر دیتی۔ وہ عمر کے ساتھ کام کر کے اپنا دل نہیں جلانا چاہتی تھی۔۔۔ یہ نانو بھی نا بس بنا کچھ ڈسکس کئے اپنے آپ ہی سب کچھ طے کر لیتی ہیں۔۔۔۔
” دو دن پہلے دراصل تمہارے بابا سے بات ہوئی تھی ۔۔۔ تم تو جانتے ہو میری دونوں بیٹیوں کے شیئرز ہیں اس کاروبار میں۔ تو میں چاہتی ہوں کہ سیما گھر بیٹھ کر خود کو ضائع نہ کرے۔ اور کوئی ناکوئی کام کرے۔ ” وہ بڑے؛مزے سے بات کررہی تھیں۔ عمر نے کندھے اچکائے “وائے ناٹ نانو! مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کی بابا سے بات ہو چکی ہے۔ پھر آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں خالہ کے شیئرز بھی ہیں تو اُن کا حصّہ بھی سیما کو سنبھال لینا چاہیے۔ ” اس نے بے پروائی سے کہا۔۔۔” لیکن نانو میں۔۔۔” سیما نے کچھ کہنا چاہا تو نانو نے اُسے خاموش رہنے کا اشارہ کر دیا۔۔۔ ساری سیچوایشن ان کے سامنے تھی۔ اور وہ یہ سب نواسی کے لیے ہی کر رہی تھیں۔۔۔وہ چاہتی تھیں کہ سیما کا زیادہ وقت عمر کے ساتھ ہی گزرے تاکہ اگر انڈر اسٹنڈنگ نہیں ہے تو ان کے درمیان وہ پیدا ہو جائے۔۔۔ اس کے لیے انہوں نے سیما سے بات کئے بغیر یہ فیصلہ خود کیا۔۔۔انہیں معلوم تھا کہ وہ کبھی نہیں مانے گی۔۔۔ اور اب انکار نہیں کر سکے گی کیوں کہ عمر نے بھی مثبت جواب دیا تھا۔۔۔
گھر آکر اس نے نانو سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔۔۔۔
“آپ کم از کم اتنے بڑے فیصلے میں مجھے تو شامل کر لیتیں۔۔۔” وہ روہانسی ہو گئی۔۔۔۔ ارے بھئی یہ تو اچانک ہی میرے ذہن میں آیا تو میں نے عمر سے بات کر لی۔۔۔ اور پھر تم خود ہی تو کہہ رہی تھیں کہ آگے نہیں پڑھنا۔ کوئی کام کرنا ہے تو پھر اپنے بزنس سے بڑ اکام کیا ہو سکتا ہے۔۔۔ اب میں بھی آفس کم ہی جاتی ہوں تو میری جگہ تم سنبھال لو۔۔۔۔۔” ” یہ سب میں کیسے کروں گی نانو۔” اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ نانو اتنی آسانی سے یہ بات کیسے کہہ سکتی ہیں اس میں اتنا اعتماد نہیں تھا کہ وہ بزنس کر سکے اور پھر سارا دن عمر کا ساتھ۔۔۔۔ یہ خیال تو اچھا تھا لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ عمر کے دل میں کسی صورت نہیں بس سکتی۔۔۔ شاید عمر کی قریب کی نظر کمزور تھی۔ پاس کی چیزیں اُسے مشکل سے ہی نظر آتیں۔۔۔ اور وہ بھی اس کے اتنے پاس کہ کسی وقت بھی ہاتھ بڑھا کر آسانی سے حاصل کر سکتا تھا۔۔۔ لیکن لا حاصل کی محبت حاصل سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔۔۔ سیما حاصل تھیں تو سامعہ لاحاصل۔۔۔ اور وہ لا حاصل جب حاصل بن جائے گا تو شاید کوئی بے معنی سی شدت رہ جائے اس کی محبت میں۔۔۔ وہ یہ سب جانتی تھیں۔۔۔ لیکن اپنی عزت ِ نفس کو بار بار کچل کر عمر سے محبت کی بھیک نہیں مانگ سکتیں اس لیے دور رہنا چاہتی تھیں۔۔۔ لیکن یہ نانو بی نا بس وہی کرتی ہیں۔ جو خود صحیح سمجھتی ہیں انہیں کیا پتا اس نواسے نے انہیں ٹھکرا دیا تھا۔ اب یہ سب فضول ہے۔۔۔میں کتنا بھی پاس رہوں دل کے پاس نہیں آسکتی۔۔۔ اس کے دل میں تو مکین بدلتے رہتے ہیں۔۔۔ ہمارا وہاں گذارا نہیں۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x

آج ابّا کو گھر لے آئے تھے۔ ہسپتال کی ساری پیمنٹ ماموں جان نے کی۔۔۔ اور وہی اپنی گاڑی میں ابّا کو لے کر گھر آئے۔سب بہت خوش تھے۔۔۔۔ ڈاکٹرز نے دوائیوں کی سختی سے تاکید کی تھی۔۔ کہ ان میں بالکل ناغہ نہ ہو۔۔۔ اور کھانے پینے کا بھی سخت خیال رکھا جائے۔۔۔ زیادہ سے زیادہ آرام کریں۔۔۔ دُکان پر بیٹھنے والا لڑکا بہت ایمان دار تھا۔۔۔ اس نے اتنے دن دکان کو خوب اچھی طرح چلایا اور پیسے لا کر حاجی صاحب کے ہاتھ پررکھے۔۔۔ تو انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔ آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔۔۔ ماموں جان جب جانے لگے تو ان سے ہاتھ ملاتے انہوں نے اُن کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ دیئے۔۔ اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگے۔۔۔ واقعی اللہ جب توڑتا ہے تو روم روم نرم ہوجاتا ہے۔۔۔ دل کی سختی پگھل کر موم بن جاتی ہے او ر آنکھوں سے آنسوؤں کی صورت میں بہہ کر نکل جاتی ہے۔۔۔
اس وقت حاجی صاحب کا یہی حال تھا۔۔۔ ماموں جان کی آنکھوں میں بھی نمی آگئی۔۔۔زندگی کے کتنے اچھے دن ہم صرف اپنی اناگاہوں میں قربان کر دیتے ہیں۔۔۔ ایک دوسرے سے دور رہ کر رشتوں کو انا کی بھینٹ چڑھا کر یہ بھی نہیں سوچتے کہ کتنے لوگ اس سے برباد ہو جاتے ہیں۔ اس بربادی کے بعد کیا بچتا ہے۔ سوائے بے بسی اور مجبوری کے کہ کاش اتنا اچھا وقت ہم نے انا میں قربان نہ کیا ہوتا۔۔۔ تو ایسی خوشیوں کے کئی لمحے ہماری زندگی کے جگنو ہوتے۔۔۔ انہوں نے آگے بڑھ کر حاجی صاحب کے آنسو صاف کئے۔۔۔”بھائی جان میرے دل میں کچھ نہیں ہے اور آپ میرے بڑے بھائیوں کی طرح ہیں۔ اگر ماضی میں کچھ ہوا بھی تھا تو سچ مانیئے اب میرے دل میں کچھ نہیں۔” وہ کہتے کہتے رکے اور اپنی بہن کی طرف دیکھا۔ “مجھ سے بھی بہت سی کوتاہیاں ہوئی ہیں اللہ مجھے بھی معاف کرئے۔ بس آج سے آپ خود کو تنہا مت سمجھئے گا۔ “میں ہمیشہ آپہ کے ساتھ ہوں۔۔۔ ” یہ کہہ کر انہوں نے پاس کھڑی بہن اور بھانجی کو گلے سے لگا لیا۔۔۔ شاید اللہ ہر بندے کا انتظام کر دیتا ہے اور حاجی صاحب کی فیملی کو بھی ان کی صورت ایک چھت میسر آگئی۔ بے شک دکان ابھی بھی اچھی چل رہی تھی۔ فنانشل پرابلم نہیں تھا۔ لیکن اس گھر کو بہر حال ماموں جان جیسے کسی مرد کی ضرورت تھی۔۔۔ جو اللہ کی طرف سے پوری ہو گئی۔ناہید بیگم تو بھائی اور شوہر کے ملاپ پر اللہ کا شکر ادا کرتے نہیں تھک رہی تھیں۔ ان کے رب نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہر تکلیف کے بعد آسانی ہے اور اب وہ اپنا وعدہ پورا کر رہا تھا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
“ہیلو کیسی ہو یار”عمر نے بے تابی سے پوچھا۔ تو اس انداز مخاطب پر سامعہ کو یکدم حیا سی آگئی۔ بے شک وہ ایسی باتوں کی خواہش مند تھی لیکن خواہش رکھنا اور خواہش پوری ہونابہت فرق ہوتا ہے۔۔ آپ کی خواہشات کبھی کبھی جب مجسم صورت میں ڈھل کر آپ کے سامنے آتی ہیں تو آپ کی فطرت انہیں قبول نہیں کرپاتی۔۔ اورآپ کو اپنی خواہش پر ایک عجیب سا پچھتاوا ہوتا ہے۔۔ حاجی صاحب کی بیٹی بے شک اپنے گھٹے ماحول سے فرار چاہتی تھی۔۔۔ چاہتی تھی کہ کوئی اس سے محبت کرے۔۔ پیار سے بات کرے۔۔۔ لیکن اتنی بے باکی۔۔۔ اس سے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔۔ “کچھ تو بولو یار! کیا اب اپنی آواز سے بھی ترساؤ گی۔۔۔ اگر میرا بس چلتا تو میں اسی فون کے ذریعہ تمہارے بہت قریب آجاتا۔ بالکل اتنے جتنی تمہاری سانسوں کی آواز مجھ تک پہنچ رہی ہے۔ “اس جملے نے تو سامعہ کے کان تک سُرخ کر دئیے۔۔ “افففف اتنی بے باکی وہ شرم سے لال ہو گئی۔۔ “بولو بھی خاموش کیوں ہو۔ ابّا جان تو ٹھیک ہیں نا۔” اس نے کچھ اور سمجھا۔۔۔ ” اللہ کا شکر ہے گھر آگئے ہیں۔ “اس بار اس نے بدلتی بات کا سہارا لیا اور بول پڑی۔۔۔ “یار تم اتنا ہی کم بولتی ہو یا صرف میں ہی تمہاری کم گوئی کا شکار ہوں۔” وہ جھنجھلا کر بولا۔۔۔ وہ اس سے ہر موضوع پر بات کرنا چاہتا تھا۔ اُسے کھولنا چاہتا تھا۔۔ جیسے وہ پچھلی لڑکیوں سے باتیں کرتا تھا۔رات رات بھرہر ٹاپک پر بات ہوتی۔۔ لیکن یہاں تو اتنی ساری فون کالز کے بعد بھی وہ ملنے کو تیار نہیں تھی۔۔۔ “نہیں ایسی بات نہیں میں ویسے بھی بہت کم بات کرتی ہوں۔ آپ بات کریں میں سُن رہی ہوں۔۔۔” اس بار وہ اس کی جھنجھلاہٹ کو دیکھتے ہوئے فوراً بولی کہ کہیں تنگ آکر وہ فون ہی بند نہ کر دے۔۔ “اچھا تو اب ابا جان ٹھیک ہیں تو پھر کہیں ملونا۔” عمر نے فورا اپنے دل کی بات کہہ دی اور وہ اسی بات سے ڈر رہی تھی لیکن چوں کہ اس کی ناراضگی سے ڈرتی تھی۔۔۔۔ اسی لیئے بولی۔۔۔ “ٹھیک ہے۔جلدملتے ہیں۔مجھے ابّا کی دوائیوں کے سلسلے میں کل نکلنا ہے۔ ڈاکٹر نے کچھ دوائیاں بدل دی ہیں۔۔۔ تو پھر میں اماں سے اجازت لے کر ہاسپٹل کا کہہ کر جاؤں گی۔ آپ بھی آجائیں۔ ” کیا مطلب ہاسپٹل میں؟” وہ حیرانی سے بولا ” نہیں ہاسپٹل کا بہانہ تو صرف اماں کے لیے ہے۔ آپ بتائیں کہ کہاں ملنا ہے۔ وہ فوراً بولی۔۔ تو عمر نے اس کو گھرکے قریب ملنے اور پک کرنے کا بتایا اور پھرچند اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے فون بند کر دیا۔۔۔ آج وہ بہت خوش تھا۔۔۔ کتنی آسانی سے یہ عورت نام کی چڑیا جال میں پھنس جاتی ہے۔۔۔ اُسے یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔ کہ کل تک وہ اس کا فون تک بلاک کر دیتی تھی۔۔۔ اور اب کتنی آسانی سے ملنے آرہی ہے۔۔۔ “ہاہا ہا دنیا کی بے وقوف ترین جنس ہے یہ ” اس نے دل ہی دل میں قہقہہ لگاتے ہوئے سر کو جھٹکا اور ایک تسلّی بھری سانس لی۔۔۔ اسی وقت فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔۔۔ صارم کا فون تھا۔۔۔ یونیورسٹی فیلو تھا۔۔۔اکثر گھر میں پارٹیز رکھتا تو اُسے بھی انوائٹ کر لیتا۔۔۔ اس کی پارٹی میں کھلے عام بے حیائی کے تماشے ہوتے۔ ایلیٹ کلاس کے لڑکیاں لڑکے۔۔ نشہ اور بے حیائی کے رات رات بھر تماشے کرتے۔۔۔ کبھی کبھار وہ بھی جا چکا تھا۔۔۔مگر ایک ادھ پیگ سے زیادہ بات آگے نہ بڑھ سکی۔۔۔ اس نے زیادہ تر کوشش کی کہ صارم کے فون کو ریپلائی ہی نہ کرے لیکن آج نہ جانے دل کیوں خوش تھا۔۔۔ اس نے فون اٹھا لیا۔۔۔ “اوئے عمر یار کہاں گُم ہے پچھلے ویک اینڈ پر بھی تجھے فون کیا مگر تو ریپلائی ہی نہیں کرتا۔۔۔” صارم نے فون اٹھاتے ہی شکوہ کیا۔۔ ” ہاں یارتھوڑا بزی تھا تو سُنا کیا ہورہا ہے۔۔” اس نے مسکراتے ہوئے صارم سے پوچھا۔۔۔”بس آج ایک زبردست پارٹی رکھی ہے۔ مال اور مصالحہ سب ہوگا اگر موڈ ہے تو آجا۔” صارم نے اپنی طرف سے اس کو بڑھاوا دیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کلاس کے لڑکوں کے کیسے گھیرا جا تا ہے۔۔۔ مگر ابھی تک عمر کے سلسلے میں اُسے کوئی کامیابی نہ ہو سکی۔ وہ عمر کو یونی ورسٹی کے زمانے سے گھیرنے کی کوشش میں تھا لیکن اس نے اگر کبھی پارٹی میں شرکت بھی کی تو ایک اَدھ شراب کے پیگ سے زیادہ بات بڑھائی نہیں۔۔۔ کیوں کہ اُسے بھی اندازہ تھا کہ یہ پارٹیاں ایلیٹ کلاس کے لڑکے لڑکیوں کو گھیرنے کے لیے رکھی جاتی ہیں۔۔۔ انہیں نشے کا عادی بنا کر ان سے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔۔۔وہ اب تک ان علتوں سے آزاد تھا۔ بے شک باہر سے پڑھ کر آیا تھا۔ لیکن بہ خوبی واقف تھا کہ اس کے بعد زندگی بہت مشکل ہو جاتی ہے۔۔۔ آج نہ جانے دل کِن ہوا ؤں میں تھا۔۔۔ اس نے فوراً حامی بھر لی۔۔۔ “کتنے بجے ہے پارٹی۔” اس نے ٹائم پوچھا۔۔۔ تو صارم نے ٹائم اور جگہ بتا کر فون بند کر دیا۔۔۔عمر نے تیاری پکڑلی۔۔۔۔ اورپھر ایک گھنٹے کے بعد وہ اپنی کار صارم کے گھر کے بیسمنٹ میں پارک کر رہا تھا۔۔۔ ایسی پارٹیاں عموماً بڑے گھروں کے بیسمنٹ میں ہوتی ہیں اندر شدید ہنگامہ لیکن باہر محلّے والوں خبر بھی نہیں کہ اندر کتنا بڑا طوفان آیا ہوا ہے۔۔۔۔
ایک نوکر کو اس نے کار کی چابی پکڑائی اور اس کی ہدایت کے مطابق اندر بڑھ گیا۔۔۔ لاؤنج کا دروازہ کھولا تو اندر ایک طوفان ِ بدتمیزی تھا۔۔۔ کچھ نوجوان لڑکے لڑکیاں کاوچ پردراز خوش گپیوں کے ساتھ ہاتھ میں ڈرنک کے گلاسز لیے ہوئے۔ کچھ ایک طرف بنے ڈانسنگ فلور پر فلور لائٹس کے ساتھ ڈانس میں مصروف تھے۔۔۔ اور کچھ ٹی وی پر چلتی مووی میں گم۔۔۔ صارم اُسے دیکھ کر کراس کی طرف لپکا۔۔۔ “مجھے یقین نہیں تھا کہ تو آئے گا۔۔۔” “پہلے بھی تو نے مجھے کئی بار بہانوں پر ہی ٹالا ہے۔” وہ اس کے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا۔۔۔ عمر کو اس کے منہ سے ایک مخصوص مہک سی آئی۔۔۔ وہ پوری طرح نشے میں تھا۔۔۔ لاہور کے نامی گرامی پراپرٹی ڈیلر کا بیٹا تھا۔۔۔ باپ کی کمائی کو اس طرح اُڑانا اس کا حق تھا۔۔۔ اور وہ اُڑا رہا تھا۔۔۔ “بس تو نے اتنی محبت سے بلایا تو مجھ سے انکار نہ ہو سکا۔ ” عمر نے مسکرا کر اس کی بات کا جواب دیا۔۔”چل تو آگیا ہے تو تجھے اپنی فرینڈ سے ملواتا ہوں۔۔۔ ” ” ایمن ان سے ملو یہ میرا یونی ورسٹی فیلو عمر آفندی ہے۔ ” صارم نے پاس کھڑی کسی لڑکی سے بات کرتی ایمن ملک کو پکارا تو وہ مڑی ایک لمحے کے لیے چونک گئی۔۔۔ اس کے سامنے ایک مکمل مرد کھڑا تھا۔ خوبصورت لمبا چوڑا، گورا۔۔ ایسی بہت سی خوبیاں بہت سارے مردوں میں ہوتی ہیں لیکن عمر میں کوئی الگ سی بات تھی۔۔۔ اور وہ الگ سے بات کیا تھی۔جو عمر کو باقی مردوں سے ممتاز کرتی تھی یہی بات جاننے کے لئے ایمن ملک کو اس کی طرف ایک بار پھر دیکھنا پڑا۔۔۔ ابھی تک وہ جان نہ پائی۔۔۔ آگے بڑھ کر اس نے عمر آفندی کی طرف اپنا نرم و ملائم ہاتھ بڑھا دیا۔۔۔ “نائس ٹو میٹ یو مسٹر عمر۔” ” می ٹو۔” عمر بھی مُسکرایا۔۔۔ اچھی تھی۔۔۔ خوب صورت تھی لیکن ابھی تو عمر کے سر پر سامعہ کا خمار تھا۔۔۔ اور کچھ لاحاصل خمار جب چڑھتے ہیں تو پھر اچھی سی اچھی چیزوں کا نشہ بے معنی ہو جاتا ہے جیسے ایمن ملک بھی اسے فی الوقت ایک معمولی سی چیز لگی۔۔۔۔ ” عمر ایمن ماڈلنگ کرتی ہے۔۔۔ اس وقت نئی اُبھرتی ماڈلز میں ایمن کا نام سر فہرست ہے۔۔۔ ” صارم نے اپنے طور ایمن کی قابلیت میں ایک اور ریشم کا ٹانکا جوڑا۔۔۔ تو عمر مُسکرادیا۔۔۔ اور بولا “ایمپریسو مس ایمن۔”تو ایمن بھی مسکرا دی۔ “تم دونوں باتیں کرو۔۔۔ میں کچھ کھانے پینے کے لیے بھجواتا ہوں۔۔۔” صارم ایمن کو آنکھ مارتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔۔ تھوری دیر میں ہی ایمن اور عمر کافی گھُل مل گئے۔ اور اسی دوران صارم کی طرف سے بھیجے گئے گلاسز بھی اپنا کام دکھا رہے تھے۔ ایمن کافی کھلے ڈُلے مزاج کی لڑکی تھی۔۔۔ جو کسی بھی لڑکے کا آئیڈیل ہو سکتی تھی۔۔ اگر وہ لڑکا عمر جسے ایلیٹ گھرانے سے تعلق رکھتا ہو۔ ایمن کے کے والد بچپن میں ہی اس کی ماں کو طلاق دے چکے تھے۔ جو اپنے زمانے کی ایک بی کلاس ایکٹر س تھیں۔ انہوں نے سنگل پیرنٹ ایمن کی پرورش کی۔ اور اب وہ چاہتی تھیں کہ ایمن ایک ٹاپ کلاس اداکارہ بنے۔اسی لئے وہ بڑے بڑے اشتہارات کے لیے ایمن کی سفارش کرتیں۔۔۔ تاکہ کسی نہ کسی ڈرامہ ڈائریکٹر کی اس پر نظرِ کرم ہو جائے۔۔۔ اور کسی حد تک وہ اس میں کامیاب بھی ہو گئی تھیں۔۔۔ ایمن کو ڈراموں کی کافی آفرز تھیں لیکن وہ کسی اچھے کیریکٹر کو چوز کرنا چاہتی تھی۔ جس کے بعد پہلے ڈرامے سے ہی اس کا نام بن جائے۔۔۔ وہ دو گھنٹوں میں ہی عمر آفندی کو اپنی پوری کہانی سُنا چکی تھی۔۔۔ اور عمر اس سے کافی متاثر بھی ہوا۔ پارٹی کے اختتام تک دونوں نے ایک دوسرے کا نمبر ایکسچینج کیا اور پھر ملنے کا وعدہ کر کے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔۔۔ لیکن گھر لوٹنے تک ایمن ملک کو بالکل اندازہ نہ ہو پا رہا تھاکہ عمر ملک کی کس خوبی نے اُسے اتنا متاثر کیا۔۔۔ اس میں ایسا کیا تھا جس کی وجہ سے وہ عمر کے ساتھ اتنی دیر تک باتیں کر سکی اور اب اس کے دل میں عمر سے دوبارہ ملنے کا خیال اپنا وجود بنا چکا تھا۔۔۔ وہ گھر پہنچ کر کپڑے تبدیل کرنے اور میک اَپ صاف کر کے بستر پر لیٹنے تک اس کے بارے میں سوچتی رہی اور اسی سوچ میں اس نے عمر کے فون پر گڈ نائٹ کا میسج کر ڈالا۔ جو اب کے لیے کافی دیر تک سکرین کو تکتی رہی کہ شایدہی کوئی ریپلائی آئے۔۔۔ لیکن آنکھوں میں نیند کی پری نے بسیرا کر لیا مگر اس کا ریپلائی آنا تھا اور نہ آیا۔۔۔ کیوں کہ اس رات عمر کو جلد سونا تھا۔ صُبح سامعہ سے ملاقات کرنے کے لئے جلدی اُٹھنا بھی توتھا۔۔۔ x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x “کبیر بیٹا واپسی پر ذرا مجھے اپنی خالا کے گھر لے چلنا ” سلمیٰ بیگم نے ناشتہ کرتے کبیر علی کو تاکید کی۔۔۔۔ “جی ٹھیک ہے اماں جان آپ تیار رہیے گا۔۔۔ میں آتے ہی چائے پیؤں گا اور پھر نکل جائیں گے۔۔۔ ” “وہاں آج تمہارے ماموں جان بھی آرہے ہیں۔” ” خیر ہے اماں۔ ابھی دو دن پہلے ہی تو ماموں جان اور آپ ہو کر آئے تھے۔” کبیر علی نے چائے کا آخری سِپ لیا اور کپ رکھ دیا۔۔۔ ” ہاں بھائی جان سے میں نے تمہاری اور سامعہ کی شادی کی بات کی تھی۔۔۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ وہ بھی چاہتے ہیں کہ جلد ز جلد بات پکی ہو جائے۔ میں نے یہ بوجھ ان کے سر پر ہی ڈال دیا کہ وہ تمہارے لئے تمہارے خالو سے سامعہ کا ہاتھ مانگیں۔۔۔ ” سلمیٰ بیگم نے خوش ہوتے ہوئے بتایا۔۔ تو کبیر علی نے کندھے اچکائے۔ ” جیسی آپ کی مرضی اماں! لیکن میں چاہتا تھا کہ ابھی خالو جان کی حالت ذرا اور بہتر ہو جاتی۔۔۔ تو۔۔۔” وہ اب بہت بہتر ہیں۔ڈاکٹرز پُر اُمید ہیں۔۔۔ اور ابھی تو صرف بات پکی ہوگی۔کون سا نکاح ہو رہا ہے۔۔۔ سال چھے مہینے تو لگیں گے رخصتی میں۔” انہوں نے کبیر علی کو سمجھایا۔ “کس کا نکاح اماں کس کی رخصتی۔” اندر آتی ثنا نے اماں کی آدھی بات سُن کر پوچھا۔۔”تمہارے بھائی کی بات سامعہ سے پکی کرنے جا رہی ہوں آج۔” انہوں نے مسکرا کر ثنا کو دیکھا۔۔۔ تو وہ جیسے خوشی سے ناچ اٹھی۔ ” ارے واہ بھائی اتنی بڑی خوش خبری ” وہ آگے بڑھ کر کبیر علی کے گلے لگ گئی۔۔۔ اُسے واقعی بہت خوشی تھی۔۔۔ اتنی ساری پریشانیوں کے بعد ایک بڑی خوشی ان کے خاندان میں عرصے کے بعد آئی۔۔۔ ” اماں میں بھی چلوں گی آپ کے ساتھ۔۔۔۔” ہاں ہاں! ضرور سب چلیں گے۔۔ تم بھی چلنا۔۔بس ذرا بھائی جان کو فون کر کے ٹائم بتا دوں۔ ناہید سے بھی کہہ دوں۔۔۔” وہ اُٹھتے ہوئے بولیں۔ “ٹھیک ہے اماں آپ جو بہتر سمجھیں میں آفس کے بعد آپ کو لے چلوں گا۔” وہ دروازے سے نکلتے ہوئے بولے۔۔۔ ثنا نے بھائی کو دیکھتے ہوئے شرارت سے آنکھیں مٹکائیں۔۔۔ انہوں نے بھی آنکھیں نکالیں۔۔۔ اور اماں کی طرف اشارہ کیا کہ ذرا تمیز سے رہو اماں بیٹھی ہیں۔۔۔ ثنا ہنس پڑی۔۔ کس زمانے کے انسان ہیں میر ے بھائی۔۔۔ لڑکے تو اپنی شادی کا ذکر سن کر خوب گپیں لگاتے ہیں اور یہ شرما رہے ہیں۔۔۔ اُسے بھولے اور معصوم سے کبیر علی پر پیار آگیا۔۔ ویسے بھی وہ دل سے چاہتی تھی کہ کبیر علی کی سامعہ سے شادی جلد از جلد ہو جائے۔۔۔ وہ اپنے دل کے سار ے ارمان بھائی کی شادی میں نکال سکے۔۔۔۔ وہ بہت خوش تھی۔۔۔ اور پوری پلاننگ کر رہی تھی کہ کیسے کپڑے بنائے گی۔۔۔ اور شادی میں کھُل کرسارے خواب پورے کرے گی۔۔ بہت دنوں کے بعد دونوں گھرانوں میں خوشی کا موقع آرہا تھا۔۔۔ وہ اسے پوری طرح انجوائے کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
آج صُبح سے ہی سامعہ کا دل گھبرا رہا تھا۔ اُسے ابّا کی دوائی اور ڈاکٹر سے مشورے کے بہانے گھر سے نکلنا تھا۔لیکن اس ایک جھوٹ نے اس کے اندر عجیب سی گھبراہٹ پیدا کر دی تھی۔ اماں سے جھوٹ بول کر کبھی باہر نہیں گئی تھی۔یہ ایسا کام تھا جس کے لیے اُسے خود بھی شرمندگی ہو رہی تھی۔۔۔ مگر کیا کریں؟۔۔۔ اس نے اپنا دل پکا کیا۔کبھی کبھی ہمیں وہ کام بھی کرنے پڑتے ہیں۔جس کی دل اجازت دے مگر دماغ نہیں۔۔۔ اور وہی کام اکثر غلط ہوتا ہے۔۔یہ وہ جانتی تھی کہ ایک غلط کام کرنے جا رہی ہے۔۔۔ مگر عمر آفندی کو اب وہ کسی صورت ناراض نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ اسی لیے ناشتے کے بعد ابّا کو ان کی ساری دوائی دے کراجازت کے لئے اماں کے پاس آئی اماں کسی سے بات کرنے کے بعد فون بند کر رہی تھیں۔۔۔۔ “کس کا فون تھا اماں۔” اس نے چادر اوڑھتے ہوئے ماں سے سوال کیا۔۔۔” تمہاری خالہ تھیں کہہ رہی تھیں شام کو بھائی جان اور ثنا کے ساتھ آؤں گی۔” ان کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی۔۔۔ “پھر۔” پھر! کیا میں نے کہہ دیا کہ جم جم آؤ تمہارا اپنا ہی گھر ہے۔ ” آج وہ بہت دنوں کے بعد دل سے مسکرائیں۔ ” اماں وہ تو تین دن پہلے بھی آئیں تھیں۔ اس میں اتنا مسکرانے کیا بات ہے۔ ” اُسے واقعی اماں کی مسکراہٹ سے عجیب سی گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔۔۔ ” ویسے تم چادر اوڑھ کر کہاں جا رہی ہو۔” انہوں نے اس کے ہاتھ میں فائل دیکھ لی تھی۔۔۔” اماں ڈاکٹر نے ابّا کی کچھ دوائیاں تبدیل کرنا تھیں۔ تو وہیں جا رہی ہوں۔ ابّا کی حالت ایسی نہیں کہ ان کو لے کر جایا جا سکے۔ ” اس نے کھُل کر جھوٹ بولا۔ تو تم اکیلی کیوں جا رہی ہو۔ کبیر کو بلا لیتیں۔” انہوں نے سمجھایا۔” اماں کبیر بھائی اپنے آفس میں اتنا بزی ہوتے ہیں۔ اب ہر کام کے لیے تو اُن کو تکلیف نہیں دی جا سکتی۔”وہ اُسے اکیلئے بھیجنے پر تیار نہ تھیں۔ “ارے اماں ابّا کی دوائی آنا بہت ضروری ہے۔ میری رات ہی ڈاکٹر سے بات ہوئی تھی۔ اس نے کہا کہ دوائی بدل لیں اور اس میں ناغہ مت کرنا ورنہ۔۔۔۔” وہ ہر قیمت پر اماں کو منانا چاہتی تھی۔۔ اس کی آخری بات پر وہ۔۔۔ رضا مند نظر آرہی تھیں۔۔۔ ” اچھا دیکھو! جلدی آجانا۔ دیر مت کرنا۔” انہیں بالآخر اُسے اجازت دینی پڑی۔۔ وہ دھڑکتے دل سے گھر سے نکل پڑی۔۔۔۔ اماں نے اس پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکی۔۔۔ اور چلتے چلتے پھر تاکید کی کہ جلدی آجائے کیوں کہ شام کو مہمانوں کے لیے کھانا بھی بنانا ہے۔۔۔۔ گلی کے نکڑ پر ہی عمر آفندی اپنی کار لئے کھڑا تھا۔۔۔ اس نے چادر سے اپنامنہ چھپایا ہوا تھا۔ ڈرتی تھی محلّے کا کوئی شخص نہ دیکھ لے۔ پچھلی بار وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھی عمر کی بیک مرر سے گھورتی نگاہوں سے مشکل میں رہی۔ لیکن اس بار ساتھ بیٹھے عمر نے اس پر جیسے اپنی نگاہیں گاڑ دی تھیں۔ وہ اک بار پھر اس کی بے باک نگاہوں سے پزل ہو گئی۔۔۔ اور تقریباً کار کے دروازے سے چپک گئی۔۔ ” کیا یار یہ کیا شامیانہ پہن کر آئی ہو۔ دل بھر کر دیکھ بھی نہیں سکتا۔ اتار کر ایک طر ف رکھو۔” عمر نے ہاتھ بڑھایا تو وہ اپنی جانب سمٹ گئی ” نہیں نہیں پلیز۔ ” سامعہ نے گھبرا کر کہا تو عمر نے اس کی گھبراہٹ سے مزہ لیتے ہوئے ایک بار پھر بھرپور قہقہہ لگایا۔۔۔”واقعی تم بہت ڈرپورک ہو۔” مجھے تو حیرانی ہے کہ تم اس وقت میرے ساتھ کار میں کیسے بیٹھی ہو۔۔۔” وہ اس کا مذاق اُڑا رہا تھا۔ اسے بالکل اچھا نہ لگا۔ ” میں ڈرپورک نہیں ہوں بس ڈرتی ہوں کہ کوئی دیکھ نہ لے۔” منہ بناتے ہوئے اس نے دل کی بات کی۔۔” دیکھ لے تو کیا فرق پڑتا ہے۔”عمر نے بے پروائی سے کندھے اُچکائے۔ ” آپ کو فرق نہیں پڑتا ہوگا۔مجھے تو پڑتا ہے۔” اس بار وہ تھوڑا تلخ ہوئی۔ کتنا بے رحم تھا۔ اس کی حالت سے لطف اُٹھا رہا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر کے لیے عمر خاموش ہو گیا۔۔۔ اُسے شاید اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔۔۔ اس لئے ریسٹورنٹ تک کا راستہ بہت خاموشی سے کٹا۔۔۔۔ وہاں پہنچ کر بھی وہ بہت محتاط ہو کر اِدھر اُدھر دیکھتی رہی کہ کہیں کوئی جاننے والا نہ مل جائے۔۔۔ پہلی بار چوری کرنے والا شاید اتنا ہی محتاط ہوتا ہوگا۔۔۔ شیطان جب برے کام کا بیج دل میں بو دے تو پھر کوئی برا کام بھی بُرا نہیں رہتا۔۔۔ اور یہ سامعہ کی پہلی چوری تھی جو پہلی بار بری لگ رہی تھی۔۔۔ گھر والوں سے چھُپ کر عمر سے باہر ملنا شاید اس کے ماں باپ تو کیا اس نے خود بھی کبھی نہیں سوچا ہوگا۔۔۔ عمر نے پوچھا کہ وہ کیا کھائے گی۔۔۔۔ تو سامعہ نے انکار کر دیا۔۔۔” میرا موڈ نہیں۔۔ کچھ بھی کھانے کو (حالاں کہ آج اس نے گھبراہٹ میں ناشتہ بھی نہیں کیا) پلیز میں زیادہ دیر نہیں رُک سکتی۔گھر میں اماں پریشان ہو ں گی۔” اس کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگی ہوئی تھیں۔ اور عمر پہلی بار کسی لڑکی کی ایسی گھبراہٹ دیکھ رہا تھا۔۔۔اپنے اردگرد رہنے والی تتلیوں کو تو اس نے اپنے ارد گرد منڈلاتے ہی دیکھاتھا۔۔۔ اور اب وہ خود بھنورا بنا ایک پھول کے گرد منڈلا رہا تھا۔ اس سے کھانے یا پینے کی ریکوئسٹ کر رہا تھا۔۔ کیا مزے دار تجربہ تھا۔۔۔عمر نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔۔۔ کہ اُسے ایسی صورت حال کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔۔۔ سامنے بیٹھی سامعہ بھی کوئی عام لڑکی نہ تھی۔ ایک خوبصورت لڑکی جس نے شاید پہلی بار عمر جیسے لڑکے کے دل میں کوئی نرم گوشہ بنایا تھا۔۔ کیا یہ نرم گوشہ محبت تھی؟۔۔۔ عمر نے خود سے سوال کیا۔۔۔۔لیکن کوئی جواب نہ آیا۔۔۔ تو پھر میں اس کے پیچھے اتنا پاگل کیوں ہو رہاہوں؟اس کے نخرے کیوں اُٹھا رہا ہوں؟۔۔۔ کچھ نہ کچھ تو ہے۔ “اچھا چلو کچھ نہ کھاؤ گرمی ہے کولڈڈرنک تو لے لو۔ ” یہ کہہ کر اُس نے بیرے کو ہاتھ ہلایا اور دو کولڈڈرنکس لانے کے لیے کہا۔۔۔ ” تمہیں پتا ہے تم سادگی میں بھی کتنی خوب صورت لگ رہی ہو۔” شیطان نے عمر کے ہاتھ میں بنتِ حوا کوگھیرنے کے لیے ایک پتا تھمایا اور عمر نے پتاکھیل لیا۔۔۔ بنت ِحوا کا دل پگھل کر عمر کے قدمو ں میں تھا۔۔۔ اپنی تعریف سُننا بنت حوا کی سب سے بڑی کمزوری تھی۔۔۔ وہ ایک دم لجا کر رہ گئی۔خدایا یہ شخص کتنا بے باک ہے۔ ذرا شرم و لحاظ نہیں۔۔۔ فون پر یہ باتیں کرنا اور بات ہے لیکن ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ کر سُننا کتنا مشکل ہے۔۔۔”تمہیں پتا ہے تمہیں کیا شے خوبصورت بناتی ہے؟” عمر نے اس سے پھرسوال کیاتو اس سے سر بھی نہیں ہلایا گیا۔۔” تمہاری خوبصورتی میں سب سے بڑا ہاتھ تمہاری معصومیت ہے۔ تمہاری سادگی ہے جو مجھ جیسے کسی بھی آوارہ شخص کو راستے میں روک کر اپنی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔چلنے والوں کو ٹھٹک کر رُکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔۔ ” وہ اس کلاس کی لڑکی سے اسی انداز میں بات کر رہا تھا۔ جس انداز میں وہ سُننا چاہتی تھی۔۔۔ وہ سحر زدہ سی اس کی صورت تک رہی تھی کہ بیرا کولڈڈرنک لے آیا۔۔ تو دونوں کو چونکنا پڑا۔۔۔۔ اور پھر ایک گھنٹہ دونوں مزید وہاں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔۔۔ جس میں وہ صرف اس کی تعریفیں ہی کرتا رہا۔ سامعہ کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ بولتا رہے اور وہ سُنتی رہے۔ وقت کبھی نہ ختم ہو۔۔۔ یہیں رُک جائے۔۔۔ ” ویسے آگے تمہارا کیا پلان ہے۔ یونی ورسٹی میں داخلہ لے لو یا ر۔ اسی بہانے ہم روز مل سکیں گے اور پھر تمہیں ڈاکٹر کا بہانہ بنا کر باہر نہیں نکلنا پڑے گا۔۔۔۔” عمر نے اچانک اس سے سوال کیا تو وہ تقریبا ً رو دینے والی ہو گئی۔۔” ابّا جی نہیں مانیں گے۔”وہ تو خالہ جان کی وجہ سے میں نے بی اے کر لیا. ورنہ ابّا جی تو اس حق میں بھی نہ تھے۔۔۔” اس نے شرمندہ انداز میں کہا۔۔ ” یار دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم ابھی تک اپنی بیٹیوں کوآگے پڑھانے کے خلاف ہیں۔۔۔۔” اس بار وہ قدرے غصّے میں بولا۔۔۔ ” بس ابّا جی اب میری شادی کرنا چاہتے ہیں اس لئے آگے نہیں پڑھانا چاہتے۔۔” اس نے اپنی بات مکمل کرکے عمر کی طرف دیکھاکہ اس کے کیا تاثرات ہیں۔۔۔”لیکن آج کل اتنی جلد شادی کون کرتا ہے۔ پہلے اپنی زندگی تو انجوائے کر لو عمر پڑی ہے پھر شادی بھی ہو جائے گی۔۔” وہ بے پروائی سے بولا۔ “ہماری کلاس میں عورت کے لیے شادی ہی زندگی کی انجوائے منٹ ہے۔ باقی ساری انجوائے منٹس تو مردوں کے لیے ہیں۔۔۔ ” اس بار اس کے لہجے میں ہلکی سی تلخی تھی۔۔۔” ابّاجی اب اپنی طبیعت کو دیکھتے ہوئے زیادہ انتظار نہیں کر سکیں گے۔۔۔ اور جلد از جلد میری رخصتی کر دیں گے۔۔” اُسے عمر کی بات سخت بُری لگی وہ شاید اس بات پر اس سے کچھ اور سننے آئی تھی۔ ” ارے واہ! یہ کیا بات ہوئی۔۔ تم صاف انکار کر دینا۔کہنا کہ ابھی تم شادی نہیں کرنا چاہتی بلکہ پڑھنا چاہتی ہو۔۔۔” عمر نے بڑھاوا دیا۔۔وہ کھُلم کھُلا اس سے شادی کی بات کر کے پھنسنانہیں چاہتا تھا۔۔۔ ایک بارشادی کی بات کر لی۔۔ تو اس نے بار بار اصرار کرنا ہے۔۔۔ شادی کا لارا دینے اور شادی کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے اور اُسے دانا اسی انداز میں ڈالنا تھا کہ چڑیا بھی پھنس جائے اور اس کا دانا بھی ضائع نہ ہو۔۔۔۔ ” اگر آپ ابھی اپنی زندگی انجوائے کرنا چاہتے ہیں توکیجئے۔ پھر مجھے یہاں کیوں لائے ہیں؟” اس بار وہ اس کی بات سمجھتے ہوئے قدرے تلخی سے بولی۔۔۔ نہ جانے اُس نے عمر سے کیسی توقعات وابستہ کر لی تھیں۔۔۔ عمر اس کے اچانک غصّے پر چونک گیا۔۔ سُرخ چہرے کے ساتھ وہ بیگ اُٹھا کر دروازے کی جانب بڑھ گئی۔عمر کو اس کے غصّے کی وجہ سمجھ نہ آئی۔وہ اس کے پیچھے لپکا۔ لیکن اتنی دیر میں کہ وہ بیرے کو پیمنٹ کرتا۔ سامعہ ایک رکشہ روک کر اس میں بیٹھ کر جا چکی تھی۔۔۔ وہ شدید ہرٹ ہوئی تھی۔۔۔ اُسے محسوس ہو گیا تھا کہ عمر اس کے ساتھ ٹائم پاس کر رہا ہے۔ ورنہ شادی کی بات پر کوئی نہ کوئی ایسی بات تو ضرور کرتا جس سے اُسے احساس ہوتا کہ وہ اس میں انٹرسٹڈ ہے۔اور شادی کرنا چاہتا ہے اس نے تو صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ وہ ابھی زندگی انجوائے کرنا چاہتا ہے۔شادی اس کی پلاننگ میں کہیں شامل نہیں۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
گھر پہنچ کر وہ اماں کے سوالات سے بچنے کے لئے نہانے گھس گئی۔ اندر شاور کھول کر اونچی اونچی آواز میں رونے کا دل کر رہا تھا اور وہ پانی کے نیچے دل کھول کر روئی۔۔ پہلی بار دل کسی سے ملا اور اس سے قسمت نہیں ملی۔۔۔ قسمت کی گٹھڑی بھی عجب ہے۔ کھولنے پر کبھی بھی ہماری پسند کی شے نہیں ملتی۔۔۔ اور جو ملتی ہے وہ ہمیں پسند نہیں آتی۔۔ اسے شدید دُکھ تھا کہ عمر کی باتوں پر اعتبا ر کر کے اس نے عمربھر کے لئے ایک دُکھ مول لے لیا تھا۔۔۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے اس کی دل کی زمین پر اپنی محبت کا بیج بو یا تھا۔۔۔ بے شک یہ بیج دنیا کی نظر میں پروان نہ چڑھے مگر اب خود سامعہ کی ساری زندگی اسی پوشیدہ اور نادیدہ محبت کے شجر کے سائے میں بسر ہوگی۔بے شک اس شجر پر پھل نہ لگیں لیکن سائے کا احساس تو ہوگا۔وہ روتے روتے تھک گئی۔۔ خود کو سمجھایا کہ غلطی تمہاری اپنی تھی۔ سامعہ بی بی ایک ایسے شخص کی باتوں پر اعتبار کر لیا جس کے لیے سیما نے اُسے سختی سے منع کیا تھا۔۔۔ لیکن اس وقت دل کی آواز پر اس نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر اپنے کان بھی بند کر لیے۔۔۔۔ اور اب پچھتا رہی تھی۔۔۔ دروازے پر اونچی اونچی دستک ہو رہی تھی۔۔۔ اماں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ آگئی ہے۔۔ کمرے میں آئیں تو اٹیچڈ باتھ کا دروازہ بند دیکھ کر زور زور سے دھڑ دھڑا دیا۔۔۔ وہ تولیہ بالوں پر لپیٹتی باہر نکل آئی۔۔”اماں باہر بہت گرمی تھی میں نے سوچا پہلے نہا لوں پھر بات کروں گی۔۔” اُس نے اماں کے سوال کرنے سے پہلے ہی انہیں جواب دیا۔۔ “کیا کہا ڈاکٹر نے؟” ” اماں بس چند دوائیاں بدلی ہیں وہ میں لے آئی ہوں۔۔۔ شام سے دینا ہیں ابّا جی کو۔۔۔ وہ کہہ رہے تھے کہ فزیو تھراپسٹ کو گھر بلوا کر ابّا کی تھراپی بھی کروائیں۔۔” اس نے بالوں سے پانی خشک کیا اور تولیہ کرسی پر پھیلا دیا۔۔۔ ” شام کو کبیر آئے گا۔ اس سے بات کرنا وہ کسی نہ کسی فیزیو تھراپسٹ کا انتظام کر دے گا۔” وہ آج کل ہر کام میں کبیر کو اہمیت دے رہی تھیں۔ ” جی ٹھیک ہے۔ مجھے بتائیں شام کے لیے کیا پکانا ہے۔”اس نے بات ٹالنے کے لیے کمرے سے نکلتے ہوئے اماں سے پوچھا۔۔۔۔ “مرغی کا پیکٹ میں نے نکال کر پانی میں بھگودیا ہے۔ کڑاہی بنا لو اور ساتھ مٹر پلاؤ اور رائتہ ” ” میٹھا کیا بنانا ہے؟” اسے معلوم تھا کہ خالہ اور کبیر علی کو میٹھا بہت پسند تھا۔۔۔ حالاں کہ خالہ کو شوگر تھی لیکن کھانے سے پہلے میٹھے کاضرور پوچھتیں کہ کیا بنا ہے؟۔۔سب میٹھا کھانے سے منع کرتے تو فوراً کہتیں کوئی بات نہیں۔انسولین کا ایک یونٹ اورلگا لوں گی۔۔۔ ابھی تو میٹھا کھانے دو۔۔” دیکھو بیسن اور سوجی رکھا ہے تو حلوہ بنا لو۔۔۔ بھائی جان کو بیسن اور سوجی کا حلوہ بہت پسند ہے۔۔۔ مگر پہلے تم کھانا کھا لو پھر یہ سب کرنا۔۔۔” انہیں یاد آیا کہ ایک بج چکا ہے اور اس نے ابھی تک کھانا نہیں کھایا۔۔۔۔” ابّا جی اور آپ نے کھا لیا۔۔۔” سامعہ نے پوچھا۔۔۔” ہاں ان کو کھلانے کے بعد میں نے بھی ایک روٹی کھالی تھی۔۔۔ اب تم پہلے کھانا کھاؤ پھر کچھ دیر آرام کر لو۔۔۔” جی اماں آپ آرام کریں میں پہلے نماز پڑھوں گی اور پھر کھانا کھاؤں گی۔۔۔یہ کہہ کر وہ لاؤنج میں آگئی۔ ” وہ آج اللہ سے دل بھر کر معافی مانگنا چاہتی تھی۔۔۔۔ ” اس سے جو غلطی ہوئی۔۔ شاید اس کی معافی کسی صورت نہیں ہو سکتی۔۔۔ ایک غیر مرد سے ملنا اور وہ بھی تنہائی میں معافی والا کام تو نہ تھا۔۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہ تھی۔۔۔۔ جائے نماز پر بلک بلک کر روتی سامعہ اپنا دکھڑا اپنے رب کے آگے رو کر ہلکی ہو گئی۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ اب کسی صورت عمر کو فون نہیں کرنا۔۔ کچھ بھی ہو جائے۔۔۔۔ اب بات نہیں کرنا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
اُدھر عمر اس طرح اچانک سامعہ کے اُٹھ کر چلے جانے پر ہکاّ بکاّ تھا۔ اسے اندازہ نہ تھا کہ سامعہ کا ری ایکشن اتنا سخت ہوگا۔۔۔ وہ تو سمجھ رہا تھا چند ملاقاتوں کے بعد چکنی چپڑی باتوں سے وہ اسے اپنی لائن پر لے آئے گا۔۔۔ لیکن وہ تو پہلی ملاقات میں ہی اس کو اچھی طرح سمجھ گئی تھی۔۔۔ کہ اس کا مقصد صرف فلرٹ کرنا تھا۔ شادی نہیں۔۔۔ وہ صرف اس سے دل لگی کر رہا تھا۔۔۔ دل بھر جائے گا تو دوسری لڑکیوں کی طرح اُسے بھی چھوڑ دے گا۔۔۔ اس نے کار میں بیٹھ کر اُسے فون ملایا لیکن ” آپ کا مطلوبہ نمبر فی الحال بند ہے” کے میسج نے اسے سخت مایوس کیا۔۔۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب وہ ایسا کیا قدم اٹھائے جس کی بنیاد پر وہ دوبارہ سامعہ سے بات کر سکے۔ عمر کے لیے وہ ٹیڑھی کھیر ثابت ہو رہی تھی ۔۔۔ اور اس کا یہی رویہ عمر کے اندر آگ لگا رہا تھا۔۔۔ تمہیں میں اتنی آسانی سے ہاتھ سے نہیں جانے دوں گا سامعہ۔۔۔ بھول جاؤ کہ تم گھر بیٹھ کر مجھ سے چھپ سکتی ہو۔۔۔ لیکن میں ایسا کیا کروں جس سے سامعہ سے دوبارہ رابطہ ہو سکے۔۔۔ عمر کی پوری شام اسی سوچ بچار میں کٹ گئی۔۔۔ اس کا موڈ بہت آف ہو چکا تھا۔۔۔ اور ایسے میں اچانک ایمن ملک کا فون آیا تو اس کے اندر لگی ہوئی آگ پرجیسے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے پڑ گئے۔۔۔۔ ایمن اس سے رات کا پروگرام پوچھ رہی تھی۔۔۔ چوں کہ وہ فارغ تھا۔ اس لئے دونوں نے رات کے ڈنر کے بعد ایک نئی انگلش مووی کا پلان بنا لیا۔۔۔ وہ اس کے ساتھ اچھا وقت گذارنا چاہتا تھا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
شام کو اس نے جلدی جلدی کھانا بنایا۔ ابھی سوجی اور بیسن کا حلوہ بنانا باقی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔ وہ بیسن بھون چکی تھی اور سوجی دیگچی میں بھون رہی تھی اس لئے چھوڑنا ممکن نہ تھا۔ اماں نے دروازہ کھولا۔ تھوڑی دیر میں ثنا کچن میں اُسے ڈھونڈتی ہوئی آگئی۔ ” السّلام علیکم! ڈیئر کہاں چھپی ہوئی ہو۔”ثنا اس کے گلے لگتے ہوئے بولی۔۔۔”کچن لڑکیوں کے لیے پہلی پناہ گاہ ہوتا ہے مگرکبھی کبھی یہ پناہ گاہ جیل بھی بن جاتی ہے۔”اس نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔ صبح سے اماں کی یہی نصیحت سُن رہی ہوں۔ آج میری بہن اور بھائی جان آرہے ہیں کسی چیز میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ ” وہ منہ بنا کر ثنا کو چڑاتے ہوئے بولی۔۔۔” بہن اور بھائی جان اب خاص ہونے جا رہے ہیں نا۔” ثنا نے معنی خیز انداز میں جواب دیا۔۔۔ سامعہ نے چونک کر اُسے دیکھا۔۔۔ ثنا نے اُسے دوبارہ گلے لگا لیا۔۔۔۔” آج ہم سب ایک بہت خاص بات کرنے آئے ہیں۔ ” “کیسی خاص بات؟” اُس نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔ ” یہ تو تمہیں امی ہی بتائیں گی۔ ابھی سر پرائز رہنے دو۔ بس ذرا بڑوں میں بات ہو جائے تو خود ہی پتا چل جائے گا۔” ثنا نے سرپرائز کھولنا مناسب نہ سمجھا۔۔۔۔ ” ثنا بیٹا یہ مٹھائی کا ڈبا لو اور مٹھائی کسی پلیٹ میں نکال لو۔” اماں نے مٹھائی کا ڈبّا ثنا کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا تو سامعہ کے کانوں میں جیسے سیٹیاں بجنے لگیں۔۔۔ ” سامعہ! خالہ اور سب کے لیے چائے لے کر اندر آجاؤ۔۔۔ خالہ بلا رہی ہیں۔” اماں اُسے حکم دیتی ہوئی نکل گئیں۔۔۔ اس نے مرے مرے ہاتھوں سے کیتلی چولہے پر چڑھائی اوربہ مشکل چائے بنائی۔۔۔ ثنا ہاتھ میں پلیٹ لے کر اندرکی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔ لیکن اندر جانے سے پہلے اس کے سر پر دوپٹہ اوڑھا گئی سر پر ڈوپٹہ لے کر آنا۔۔۔۔ اس نے اندر جا کر سب کو بآواز بلند سلام کیا۔خالہ جان نے اُٹھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔۔۔ ماموں جان نے بھی سر پر ہاتھ رکھا۔ کبیر علی کن آنکھیوں سے اُسے دیکھ رہے تھے۔۔۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ اتنی جلدی ان کے من کی مراد پوری ہونے والی ہے۔۔۔ خالہ جان پوری تیار ی سے آئیں تھیں۔۔۔” لیں بھائی جان میٹھا کریں۔۔۔۔ اللہ دونوں کی جوڑی سلامت رکھے۔” خالہ جان نے گلاب جامن اٹھا کر حاجی صاحب کی طرف بڑھایا۔۔۔ جو انہوں نے مسکرا کر تھام لیا” آپ سب کو مبارک ہو یہ رشتہ۔۔ ” وہ حاجی صاحب کی اس بات پر چونک گئی اور اب اس سے وہاں بیٹھنا مشکل ہو گیا۔۔۔ وہ ایک دم اُٹھ کر کچن کی طرف آگئی۔۔ آنسوؤں سے اس کا چہرہ تر ہو گیا تھا۔۔۔ یا اللہ میری قسمت کی گٹھڑی اتنی جلدی کھُل گئی۔۔۔ بے شک عمر آفندی جیسا شخص میری قسمت میں نہ تھا لیکن، کبیر علی بھی تو میرے دل میں نہیں اترتے۔۔۔۔ انہیں کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا۔۔ ثنا کے ساتھ وہ بھی انہیں بھائی کہتی اور سمجھتی تھی۔۔۔ ایسا رشتہ تو کبھی سوچا ہی نہ تھا۔۔۔ کمرے میں موجود سب لوگوں نے اس کے ایسے اٹھ کر جانے کو شرم سمجھا۔ ثنا ایک لڈو اُٹھا کر اس کے پیچھے لپکی۔۔۔۔ لیکن روتے دیکھا تو ٹھٹھک گئی۔۔۔” ارے رو کیوں رہی ہو؟” وہ اُس کے چہرے پر موجود آنسو دیکھ کر پریشان ہو گئی۔ ” ارے کیا ہوا پلیز بتاؤ توسہی۔۔۔” ” کچھ نہیں بس اتنی جلد یہ سب کیسے؟”سامعہ نے بات بنائی۔۔۔ اتنی جلد کچھ بھی نہیں ہوا خالو جان کی خواہش پر ہی یہ رشتہ طے ہو رہا ہے۔ ورنہ اماں تو کہہ رہی تھی کہ ان کے صحت یاب ہونے تک انتظار کر لیتے ہیں۔۔۔ لیکن وہ بہ ضد تھے کہ کم از کم بات ہی طے کرلی جائے۔۔۔ شادی چھے ماہ کے بعدرکھی جائے گی۔۔۔۔” ثنا نے کچھ سمجھتے ہوئے اُسے سمجھایا۔ اُسے معلوم تھا کہ ابھی تازہ تازہ حادثے نے اس کے دل کو موم کر دیا ہے۔ یقینا وہ اتنی جلدی یہ سب نہیں چاہتی۔۔۔ لیکن مجبوری تھی۔ انکار بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔کس کے بھروسے پر انکار کرتی۔۔۔ وہ تو اس سے فلرٹ کر رہا تھا۔۔۔ اور سامعہ کی زندگی میں فلرٹ کا نہ تو ٹائم تھا اور نہ ہی گنجائش۔۔۔ اس لئے خاموش ہو جانا ہی اس کے لیے ضروری تھا۔ ” سامعہ کیا تمہیں اس رشتے سے خوشی نہیں ہے۔۔۔” ثنا نے سامعہ کو روتے دیکھ کر پوچھا۔تو سامعہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔۔ ” نہیں بس ابھی اتنی جلدی یہ سب۔۔۔میرا ذہن تیار نہیں۔ دیکھو ظفر ہوتا تو اس وقت ماحول ہی کچھ اور ہوتا وہ نہیں ہے تو خوشی کیسی۔ ” سامعہ نے دل کے درد کو ایک اور درد سے بدل کر اپنے رونے کی وجہ بتائی۔ واقعی لڑکیوں کے پاس رونے کے بعد یہ کمال بھی ہوتا ہے کہ بڑی آسانی سے اپنی اصل وجہ چھپاتے ہوئے سامنے والے کو مطمئن کر سکیں۔۔۔ جیسے کہ اس وقت اس نے اپنے رونے کی جو وجہ بیان کی وہ بھی حقیقت ہی تھی۔۔۔ “یعنی تمہیں میری بھابھی بننے پر کوئی اعتراض نہیں۔” وہ خوشی سے چلائی۔۔۔ “تو پھر یہ لڈو رکھو منہ میں اور میرے گلے لگ جاؤ۔ ” ثنا نے جذباتی ہو کر لڈو سامعہ کے منہ میں رکھا۔ تو اس نے تھوڑا سا کتر کر چھوڑ دیا۔۔۔ ” ارے بھئی کیا ہو رہا ہے یہاں۔” کبیر علی سے بھی نہ رہا گیا۔ وہ اُٹھ کر اندر کچن میں ہی آگئے۔ صحیح کہا ہے کسی نے شادی کے وقت اچھے سے اچھا سمجھ دار انسان بھی گاؤدی بن جاتا ہے۔ ” یہ لیں بھائی! سامعہ کا بچا ہوا لڈو منہ میں رکھ کر اپنی آئندہ زندگی کی ابتدا کریں۔ اسے اس رشتے سے کوئی انکار نہیں۔ ” ثنا نے بقیہ لڈو کبیر علی کے منہ میں رکھ دیا۔۔۔ سامعہ منہ موڑے مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔۔۔ ثنا کو کبیر علی نے باہر جانے کا اشارہ کیا تو وہ کچن سے باہر نکل گئی۔ ” سامعہ شکریہ اس رشتے کو مان دینے کا۔ ” مجھے کچھ اُمید تھی کہ آپ انکار نہیں کریں گی۔۔۔ لیکن دل میں کہیں ایک ڈر بھی تھا کہ ریجکٹ نہ کر دیا جاؤں۔” میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ قسمت نے ہمیں جس رشتے میں باندھا ہے۔ اسے پوری طرح سے نبھایا جائے۔۔۔ آپ کی ہر خواہش پوری کرنا میرا فرض ہوگا۔۔۔ بس کچھ مشکل وقت ہوگا۔جو گذرجائے تو زندگی آسان ہو جائے گی۔” سامعہ کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ان کی بات کا کیا جواب دے۔۔۔ بس منہ موڑے کھڑی رہی۔۔۔” سامعہ کیا آپ کی اجازت سے فون پر کبھی کبھار بات کر سکتا ہوں۔” کبیر علی نے اس سے اجازت طلب کی۔۔۔ وہ پہلے بھی اس سے بات کرنے میں محتاط تھے اوراب بھی ہر چیز اس کی پوری اجازت سے کرنا چاہتے تھے۔۔۔۔۔۔ کبیر نے اس کی خاموشی کو انکار سمجھا۔۔۔ ” نہیں کوئی بات نہیں اگر آپ پسند نہیں کرتیں تو کوئی بات نہیں۔۔” وہ اس وقت تم سے آپ پر آگئے تھے۔۔۔ سامعہ کو بھی حیرانی تھی کہ یہ شخص رشتوں کے معاملے میں کتنا محتاط تھا۔۔ کل تک اس سے ” تم” کا طرزِ تخاطب رکھنے والا آج ” آپ” پر آگیا تھا۔ صرف اس لیے کہ رشتہ بدل گیا تھا اور اس بدلتے رشتے نے انہیں مزید محتاط کر دیا تھا۔۔۔ اندر سے ماموں جان کے بلاوے پر کبیر علی کمرے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔ سامعہ نے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچا تھا لیکن ایسا نہیں۔۔۔کبیر علی اس کے لیے خوشی کا باعث تھے اور نہ ہی غم کا۔۔۔اس کے دل میں ان کے لیے کسی قسم کے الگ جذبات پیدا ہی نہیں ہو رہے تھے۔۔۔۔ اس نے ایک لمحے کو سوچا کہ وہ اب اس کے منگیتر ہیں۔۔۔ لیکن تصور نے قبول ہی نہ کیا۔۔۔۔ کوئی جذبہ کوئی خوشی پیدا ہی نہیں ہوئی۔۔۔ سارے جذبات عمر آفندی کی چند روزہ محبت۔۔۔ (اسے محبت بھی کہا جا سکتا تھا یا نہیں) میں صَرف کر دئیے۔۔۔ اب کبیر علی کے لیے کیا بچا تھا۔۔۔ وہ اُسے منگنی سے پہلے بھی بڑے بھائی کی طرح لگتے تھے اور اب بھی۔ دل میں ان کے نام کا کوئی شگوفہ نہیں پھوٹا۔۔۔ وہ بہت تکلیف میں تھی۔ کیسے کٹے گی اِن کے ساتھ ساری عمر۔۔۔ وہ تو زندگی کو بہت رومینٹک انداز میں گذارنے کی خواہش مندتھی۔بالکل ویسے ہی جیسے اس نے ناولوں اور کہانیوں میں پڑھا تھا۔۔۔ لیکن یہاں تو کوئی احساس ہی نہ جاگا۔۔۔ اس شخص کے لیے جو اس کی پوری زندگی کا حکمران بننے والا تھا۔۔۔ وہ بہت تکلیف میں تھی۔ آج بھی وہ عمر سے ملنے گئی تو اسی خیال سے کہ اگر اس نے شادی کی بات کی۔ تو وہ اُسے کہہ دے گی کہ جلد از جلد اپنے نام سے باندھ لو۔۔۔ ورنہ میں کسی اور کے نام سے باندھ دی جاؤں گی۔۔۔ لیکن وہاں عمر کی باتوں نے اسے اچھا سبق سکھادیا۔ وہ تو زندگی انجوائے منٹ کے ساتھ گذارنے کا حامی تھا۔۔۔ اس سے محبت او ر پھر شادی کی بیڑی کیسے ڈال سکتا تھا۔۔۔ ابھی وہ ان سوچوں میں غلطاں تھی کہ اچانک اماں اندر آگئیں۔۔۔ اور آکر اُسے گلے لگالیا۔۔۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔ اِن کے پیچھے پیچھے خالہ بھی آگئیں اور اُسے گلے لگا کر پیار کیا۔۔۔ اور ہاتھ میں پانچ ہزار کا نوٹ تھما دیا۔۔۔ اس نے اماں کی طرف دیکھااور اجازت طلب کی۔ انہوں نے آنکھوں کے اشارے سے اسے رکھنے کو کہا تو اس نے نوٹ مُٹھی میں دبا لیا۔۔۔ وہ کیسے کیسے خواب دیکھتی تھی۔منگنی میں اُسے منگیتر کی طرف سے ڈائمنڈ کا سیٹ ملے گا اور یہاں تو۔۔۔۔ وہ تلخی سے مسکرادی۔۔۔ ” بیٹا جلدی سے کھانا لگا دو۔ ماموں جان کو دیر ہو رہی ہے۔۔” اماں نے اس سے کہا تو سامعہ نے سر ہلا دیا۔۔۔۔ حلوہ ان ساری باتوں میں ادھورارہ گیا تھا۔۔۔ اس نے اماں اور خالہ کے نکلتے ہی حلوے کو دیکھا۔ سوجی اور بیسن بھُون چکی تھی اور شیرہ تیار کر کے جلدی جلدی اس میں دونوں چیزیں ملا کر بھونا۔ اتنے میں ثنا بھی کچن میں آگئی اور اس کے ساتھ مل کر کھانا لگوانے میں مدد کرنے لگی۔۔ کھانا کھانے کے بعد سب رخصت ہوئے۔۔۔۔ اس نے کچن کے کام نمٹانے سے پہلے ابّا کو دوائی دی۔ ابّا جی نے اُس کے سر پر پیار کیا تو وہ تلخی سے مُسکرا دی۔ اور پھر اپنے باقی کام مکمل کرکے کمرے میں آگئی۔۔ اس نے نماز پڑھی اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔نیند کوسوں دور تھی۔۔۔ اس وقت وہ اپنی زندگی میں آئے عمر آفندی کے کردار کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ اگر میری قسمت کی گٹھڑی سے یہ کردار نہ نکلتا تو زندگی زیادہ بہتر ہوتی۔۔ اور شاید وہ کبیر علی کو قبول کر لیتی۔۔۔ ناچاہتے ہوئے بھی وہ عمر آفندی کے خیال سے پیچھا نہیں چھڑا پا رہی تھی۔۔۔ اور ہر خیال کا اختتام اسی کے خیال پر ہوتا۔۔ شاید یہی شیطان کا سب سے کاری وار ہوتا ہے۔۔۔ جب وہ محبت اور محبوب کے نام پر آپ کو ساری عمرگناہ میں مبتلا رکھتا ہے۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
آج سیما کی وارڈ روب سے خود نانو نے اس کے لیے اپنی پسند کا ڈریس نکالاتھا۔۔ بلیک رنگ کے کیولاٹ پر پرپل ٹاپ میں وہ واقعی بہت خوب صورت لگ رہی تھی۔۔۔۔ ہلکا سا اسکارف اس نے الماری سے نکالا اور اسٹائلش انداز میں گلے میں ڈال لیا۔۔۔۔ ہلکا ہلکا میک اَپ اور کانوں میں پرل کے ٹوپس اُسے عجیب سا نکھار دے رہے تھے۔۔ نانو نے ہزار کے نوٹ کو اس کے سر پر لگا کر نظر اتاری اور پاس کھڑے ملازم کی طرف بڑھا دیا۔۔۔۔ دل ہی دل میں ہزاروں دعاؤں کے ساتھ وہ اسے رخصت کر رہی تھیں۔صرف اس امید پر کہ اللہ ان دونوں کو ایک دوسرے کی محبت سے سرفراز کر دے تا کہ ان کی بیٹیوں کی روحوں کو سکون مل سکے۔۔۔ ” کیسی لگ رہی ہوں نانو۔ ” اس نے گھوم کر ان سے پوچھا۔۔۔ “میری بیٹی تو کچھ بھی پہن لے۔ہر چیز ا س پر سوٹ کرتی، مگر یہ رنگ تو لگتا ہے بنا ہی تمہارے لیے ہے۔۔۔ میں جب اس رنگ میں تمہیں دیکھتی ہوں تو مجھے تمہاری ماں یاد آجاتی ہے اُسے بھی یہ رنگ بہت سوٹ کرتا تھا۔۔۔ وہ جب بھی یہ رنگ پہنتی تھی میں ایسے ہی اس کی نظر اتار تی۔۔۔” ان کی آواز بیٹی کی یاد سے بھراگئی۔ ” ارے نانو! آپ بھی نا بس فوراً جذباتی ہو جاتی ہیں۔ یہ بتائیں یہ شوز اس کے ساتھ ٹھیک ہیں۔۔۔” اس نے بات بدلتے ہوئے نانی کو جذباتی یادوں سے نکالنے کی کوشش کی۔تو نانو نے آنکھوں میں آئی نمی کو دوپٹے سے صاف کیا۔۔۔ اور اس کے ماتھے پر پیار کیا۔۔۔ ” میری بیٹی بہت خوب صورت لگ رہی ہے سر سے پاؤں تک۔۔۔ اللہ تمہیں اپنی امان میں رکھے۔۔ جاؤ اور دل لگا کر کام کرو۔۔۔ ” “کیا مطلب آپ نہیں جائیں گی میرے ساتھ۔” اس کے خیال میں نانو بھی چل رہی تھیں۔ مگر انہوں نے جانامناسب نہ سمجھا۔۔۔ وہ اس میں اعتماد دیکھنا چاہتی تھیں۔انہیں احساس تھا۔۔۔ کہ جتنا اعتماد سیما میں ہونا چاہیے تھا۔ وہ ان کے بے جا لاڈو پیار کی وجہ سے نہیں ہے۔۔۔ اب عمر کے اس حصّے میں اُسے اپنے بہت سے فیصلے خود کرنے چاہیے۔۔۔۔ تاکہ وہ اپنا پلّو اس کے ہاتھوں سے چھڑا سکیں۔۔۔ ” نانو! یہ تو ٹھیک بات نہیں۔” اس نے منہ بنایا۔ “کچھ نہیں ہوتا اکیلے جاؤ اعتماد بڑھے گا۔ میں نے عمر کو فون کر دیا ہے۔ وہ بھی ٹائم سے پہنچ جائے گا اور تمہیں گائیڈ کر دے گا۔” انہوں نے ماتھے پر بوسہ لیا اور اُسے سمجھایا۔وہ سمجھ رہی تھی کہ اس کی نانو کیا سوچ رہی ہیں۔۔۔ اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ ایسا صرف کسی معجزے کی صورت ہی ہو سکتا ہے۔ ورنہ ایسا ممکن نہیں۔۔۔ اس کے چہرے پر ایک تلخ سی مسکراہٹ آگئی۔ وہ انہیں خدا حافظ کہتی ہوئی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
آج رضوان کی کانووکیشن تقریب تھی۔۔۔ شمیم صاحب نے بیڈ پر لیٹے لیٹے ہی لیپ ٹاپ کھول لیا۔۔۔ یونی ورسٹی فیس بک پیج سے لائیو تقریب کا آغاز ہو چکا تھا۔۔۔ ایک ایک کر کے سٹوڈنٹ آرہے تھے اور اپنی ڈگری وصول کر رہے تھے۔۔۔ اس وقت وہاں کا موسم بہت خوش گوار تھا۔ ان کا دل اُن سب کو دیکھ کر بہت خوش تھا۔۔۔سب بچوں کے ماں باپ نے کتنا پیسا خرچ کر کے بچوں کو اتنی دور پڑھنے بھیجا اور ان بچوں نے بھی ماں باپ کا سرفخر سے اونچا کر دیا۔ ایک دم ان کی آنکھیں جھلملانے لگیں۔ جب ائیر کے برائٹ سٹوڈنٹ کی اناؤنسمنٹ کے ساتھ ہی رضوان شمیم کا نام پکارا گیا اور اس نے آکر اپنی ڈگری وصول کی۔۔ کیمرہ اُس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا۔ ایک کیمرہ مین نے سٹیج سے نیچے اترتے ہی مائیک رضوان کو پکڑا دیا۔۔ کہ وہ کچھ اپنے بارے میں بتائے۔۔۔ رضوان نے کیمرے پر آکراپنی ڈگری ہاتھ اُٹھا کر اوپر کی اور کہا۔۔۔ ” پاپا از فار یو۔۔” ” آئی لو یو پاپا ” انہیں اس لمحے میں اپنی پوری زندگی سمٹی ہوئی محسوس ہوئی۔ وہ نجانے کیا کہہ رہا تھا۔۔۔ لیکن اس وقت شمیم صاحب کی آنکھیں دھندلا ئیں۔انہیں کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ وہ صرف بیٹے کو تک رہے تھے۔۔۔ اور شاید اسی ایک لمحے کو دیکھنے کے لیے ان کی زندگی باقی تھی۔۔۔۔ بس یہاں سے زندگی اور سانسوں نے ان سے بے وفائی شروع کر دی۔۔۔۔

_______________

تحریر:شازیہ خان

کور ڈیزائن:طارق عزیز
باقی آئندہ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.