ہم کبھی کبھار زندگی بغیر پلاننگ کے گزاردیتے ہیں.
******
کبھی کبھار زندگی بغیر پلاننگ کے گزاری جاتی ہے.
اور اسی میں انسان زیادہ الجھا ہوتا ہے.. جانے کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ہم جب خود کو اگلے کچھ گھنٹوں کی بریفنگ نہ دے دیں ہمیں سکون نہیں ملتا.. ہر آنے والے لمحے کو آنے سے پہلے خیالی طور پر جینا ہماری عادت ہے.. فطرت ہے یا پھر باطنی زندگی کا ایک اشارہ.. افف میرے خدا کیا میں بھی سالس صاحب کی طرح ہی سوچ رہی ہوں…
یہ سب ان خرافات کا نتیجہ ہے عالین بی بی..اس کا اشارہ کتابوں کی طرف تھا.. اور وہ خود کو ڈپٹتے ہوئے کتابیں بیڈ کے سائیڈ سے اٹھا کر میز پر رکھتے ہوئے سوچنے لگی تھی کہ آج دن کا آغاز کیا ہے.. کہنے کو بہت کچھ.. اور سوچنے کا اس سے کہیں زیادہ کچھ.. جبکہ کرنے کو ایک وقت میں فقط ایک کام ہوسکتا ہے..
اسکے ذہن میں سب سے پہلے رات والی میل کا خیال آیا.. وہ سب سے زیادہ ضروری تھی.. اسے یہ بھی یاد آیا کہ رات اس نے سوچا تھا کہ التمش صاحب کا فون صبح بھی ٹرائی کرے گی..
سعدیہ کو بھی کرے گی..
اور فون ہاتھ میں لئے جب امی کے میسجز اور مسڈ کالز سامنے آئیں تو سارے ارادے دو منٹ کے لئے موقوف کرکے اس نے وائی فائی آن کرتے ہوئے وارڈ روب کھول لی تھی.. اسے پتہ تھا کال نہ اٹھانے پر انہوں نے کوئی تشویش بھرا آڈیو بھی کیا ہوگا. سو ابھی کال کرکے ڈانٹ کھانے سے بہتر ہے کہ پہلے آڈیو سن لیا جائے..
انکے تین آڈیوز تھے.
اس نے کلک کرکے فون سامنے رکھا اور کپڑے کھنگالنے لگی.
ہیلو جانی تمہارا نمبر ناٹ ریسپانڈنگ آرہا ہے.. مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی تھی میری بچی..
ضروری بات پر اسکی سماعتیں الرٹ ہوگئیں آب کپڑے کھنگالنے سے جو ہینگرز الٹنے پلٹنے کا بھی شور ہورہا تھا سو رک گیا تھا.
جانی میں بتانا چاہتی ہوں عالین کہ میں آج بہت خوش ہوں تمہارے لئے..
آڈیو ختم تھا
یہ امی کو کب سے اتنی طرزسے بات کرنا آگئی ہے..
وہ پلٹی تب تک دوسرا آڈیو اسٹارٹ ہوچکا تھا.
کچھ سیکینڈز کی خاموشی کے بعد وہ بولیں..
ہاں تو عالی.. تمہیں پتہ ہے میں نے تمہارے لئے کتنا اچھا لڑکا پسند کیا ہے یہاں پر.. تم سوچ بھی نہیں سکتیں عالین وہ بالکل تمہاری طرح ہے میری بچی..
اس کے کان کھڑے ہوگئے وہ دمبخود سن رہی تھی.
عالی تم بہت خوش ہوگی اس سے مل کر اسے دیکھ کر..تمہیں بہت اچھا لگے گا.. لیکن تم پہلے اس سے بات کرلو.. وہ بات کرنا چاہتا ہے تم سے..
اوکے.. جانی…
اسے میں نے تمہارا نمبر دے دیا ہے.. وہ کسی بھی وقت فون کرے گا تمہیں.. تم ضرور اسکی کال پک کرنا پلیز.. مس مت کرنا بیٹا.. سمجھنے کی کوشش کرو.. دیکھو ایسے موقعے روز روز نہیں آتے.. اب اس سے بات کرنے کے بعد.. مجھے کال کرنا..
اس نے سر پکڑ لیا بیٹھتے ہوئے..
اوہ ہاں جانی.. تیسرا آڈیو اچانک کھلا..
میں بھول ہی گئی کہ اس کا نام تو میں نے تمہیں بتایا ہی نہیں.. اس کا نام ہے معاوذ.. پیارا نام ہے نہ.. دیکھو وہ اپنے نام کی طرح ہی بہت پیارا ہے..
میں بہت جلدی اسکی تصویریں بھی تمہیں بھیجوں گی..
گڈ لک.
لو جی… سیاپا.. ابھی کیا کم مسائل تھے کہ ایک نیا آئٹم سونگ آگیا مووی میں..
حد ہے..
انہیں بھی میرے رشتے اور شادی کے خیال کے علاوہ کوئی چیز نہیں سوجھتی..
کمال ہوگیا.. اچھا ہے.. نام اچھا ہے. بالکل تمہاری طرح ہے.. کیا کہنے..
وہ بڑبڑاکر اٹھی اور فون بیڈ پر پھینک کر بغیر کوئی جواب دیے میلز کھولنے لگی لیپ ٹاپ سے.. ایک میل اکاؤنٹ اسکے فون پر بھی کھلا تھا جس پر بہت کم میلز آتی تھیں.
یہ اکاؤنٹ اتنا سوشل نہیں تھا اس کا.
لیکن یہ میلینگ ایڈریس اس نے التمش کو دے دیا تھا کہ کبھی کچھ ضروری ہوتو وہ اسی پر کردیں.. لیکن وہ ہمیشہ اسی اکاؤنٹ پر کرتے تھے جس سے خود اس نے میلز کی تھیں..
وہ دیگر جدید سہولیات کم استعمال کرتے تھے. فون بھی انہوں نے ابھی تک سادہ رکھا ہوا تھا.
حالانکہ انہوں نے بتایا بھی تھا کہ زیبی نے انہیں ایک انڈرائڈ فون گفٹ کیا تھا.
وہ کبھی کبھار وہ کھول کہ صرف دیکھ لیتے ہیں. اور پھر دوبارہ ڈبے میں ڈال کر دراز میں رکھ دیتے ہیں.
اس نے لیپ ٹاپ چیک کیا انکی کوئی میل نہیں تھی.
اسے خاصی فکر سی ہوئی.. انکا نمبر بھی اب تک بند تھا.
اس نے زیب کا میلنگ ایڈریس کاپی کیا اور الگ ڈرافٹ میں جاکر اسے میل لکھنے لگی..
پیاری زیب.. میں امید کرتی ہوں تمہاری خیریت کی..
اپنا تعارف صرف اتنا کراؤں گی کہ میں عالین حیدر ہوں..
اور تم مجھے اپنے نانا التمش کے توسط سے جاں سکتی ہو..
بے شک میرا ان سے کوئی ایسا رشتہ نہیں.. لیکن.. تم مجھے ان کی حالیہ دوست سمجھ سکتی ہو.. اس سے زیادہ میرے بارے میں جاننا نہ تمہارے لئے ضروری ہے. اور نہ ہی تمہیں دلچسپی ہوگی.
آب بات ہوجائے تمہاری تو.. میں بھی تمہیں انہی کے حوالے سے جانتی ہوں.. اور بہت اچھی طرح نہ سہی لیکن صرف اچھی طرح ضرور جانتی ہوں..
خیر اس وقت کوئی اور مسئلہ ہے جو زیادہ اہم ہے.
اگر تم اپنا میلنگ اکاؤنٹ کھولو’اومیل دیکھو تو پلیز سب سے پہلے مجھ سے رابطہ ضرور کرنا.
پلیز زیب مجاہد.. نہیں بلکہ زیب عنصر..
مجھے تمہاری کال یا میسج کا شدت سے انتظار رہے گا.
نیچے اس نے اپنا نمبر لکھ دیا. اور سوچنے لگی کہ اسے اپنی نانی کے بارے میں بتانا ذیادہ ضروری تھا.
لیکن اس طرح وہ اس سے رابطہ کرنے کے بجائے فوری وہاں کرتی..
تو پھر اس سے کیا ہوتا؟؟وہ خود سے پوچھنے لگی.. حالانکہ ضروری تو یہی تھا نہ.. کہ وہ وہاں رابطہ کرے..
ہوسکتا ہے التمش صاحب نے قدرے محتاط انداز میں اسے بتایا ہو..
بہرحال انہیں زیب کی ضرورت تو ہے ہی..
خیر.. اس نے اگلے لمحے سوچا کہ اسے زیب کی میل کا انتظار کئے بغیر اسے یہ بتانا چاہیے..
پیاری زیب.. مجھے لگتا ہے تمہیں فوری طور پر یہ بتانا ضروری ہے کہ تمہاری نانی نور فاطمہ کی طبیعت انتہائی نازک موڑ سے گزررہی ہے.
بلکہ زندگی اور موت کی کشمکش ہے.. پلیز ان سے رابطہ کرو.. اور جتنی جلدی ہوسکے وہاں پہنچو.. لیکن اسکے علاوہ بھی کوئی ضروری بات ہے.. جو تمہیں ضروری نہ لگے.. لیکن بہرحال ضروری ہے.
اس کے لئے تم مجھ سے رابطہ کرسکتی ہو.. حالانکہ میں نے تمہارے نانا سے اجازت نہیں لی ہے.. لیکن مجھے لگتا ہے کہ بہتر یہی رہے گا کہ تم خبردار رہو..
چلو اپنا ضرور خیال رکھنا..
فقط عالین.
اس نے دوسری میل کرنے کے بعد قدرے تسلی محسوس کی تھی..
اور اس کے بعد اس نے سعدیہ کا نمبر ٹرائی کیا جو بھی بند ہی ملا..
اس پہلے کی طرح اسے بھی ایک ٹیکسٹ چھوڑا. اور ناشتہ بنانے کے لیے کچن میں آگئی.
امی بھی حد کرتی ہیں بیٹھے بٹھائے ہی انہیں میرا خیال آگیا.. آج کل کی تفریح بھی مل گئی..
فون ایک بار پھر بجنے لگا تھا.
وہ آملیٹ فرائنگ پین میں ڈال کر آنچ ہلکی کرکے کمرے کی طرف گئی اور فون لے آئی.. نمبر وہی بے نام تھا اور اس نے اٹھالیا کچن کی طرف آتے ہوئے.
ہیلو..
ہیلو ہاں.. عالین بات کررہی ہیں آپ..آپ ہی کا نمبر ہے نہ یہ؟
وہ عجلت بھرے لہجے میں طاہر منیب تھا.
جی طاہر میں ہی کوں.. کہیے کیسے ہیں آپ؟
عالین.. وہ آپ.. مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے دوست..
لہجہ اٹکا اور کمزور تھا .
بات کرنی ہے تو ضرور کرو دوست.. نہ کہتے تب بھی بات تو سنتی ہی لیکن اب دوست کہا ہے تو ہزار باتیں بھی کرو تو سن لیں گے.
اسکے لہجے میں اپنائیت آگئی تھی.
تھینک یو عالین.. مجھے اچھا لگا سن کر اور تم کتنی اچھی باتیں کرتی ہو.. میں نے کبھی نبیلہ کو اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے نہیں سنا..
نبیلہ بھی اچھی باتیں کرتی ہوگی لیکن کچھ مختلف نوعیت کی..
نہیں عالین ایک عرصہ ہوا اسے اچھی باتیں کئے ہوئے..خیر چھوڑو..مجھے تم سے اسی متعلق بات کرنی ہے..
ضرور کرو.. اس نے آملیٹ پلٹ کر دوسری سمت پکنے کے لئے رکھی اور ٹوسٹر میں ٹوسٹ ڈالے ساتھ ہی..
کیا تم کوئی کام کررہی ہو؟
ہاں میں اپنے لیے ناشتہ بنائی تھی.. تم بات کرو میں ان رہی ہوں طاہر..
کچن میں فون استعمال نہیں کرتے عالین.. میں ہولڈ کرلیتا ہوں.. اس کے لہجے کی نقاہت یکایک کم تو ہوئی تھی لیکن لہجے کی تھکن لفظ لفظ سے جھلک رہی تھی اور یہ عالین بھی محسوس کررہی تھی.
ہاں لیکن میں فی الحال تمہیں ہولڈ پر نہیں چھوڑنا چاہتی.. ویسے آملیٹ تیار ہے چائے بعد میں بالوں گی .
آملیٹ اور ٹوسٹ نکال کر اس نے پانی کی بوتل بھی میز پر رکھی ٹرے میں رکھی ساتھ گلاس بھی رکھا اور انڈے ٹوسٹ رکھ کر ٹرے اپنے ساتھ باہر لے جاتے ہوئے اس نے فون کندھے اور گردن کے بیچ تھام لیا تھا.
اوہ.. تم نے ناشتہ نہیں کیا ؟میں نے صبح صبح ہی تمہیں تنگ کردیا.
اب دوست کہا ہے تو تنگ کرنے کا حق رکھتے ہو.. ویسے.. تم نے ناشتہ کرلیا؟
نہیں عالین.. میں نہیں کرپارہا.. اصل میں سوچ تو رہا تھا لیکن.. گھر پر کوئی تھا نہیں.. میں اکیلا بھی بنالیتا ہوں اپنے لئے کچھ نہ کچھ ..لیکن ہمت بھی نہیں تھی.. اور دل بھی نہیں چاہ رہا تھا..
اوہ..تو میں باہر سے کچھ آرڈر کرواکر بھیجوں تمہیں ؟
نہیں تم خود آجاؤ..یا پھر بہتر لگے تو مجھے بلالو.. میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں عالین.. مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے.
تم گھر آجاؤ.. نہیں بلکہ رکو میں تمہارے گھر آجاتی ہوں.. تم اگر آؤگے تو میری پڑوسن زرا عجیب قسم کی ہیں وہ کہیں گی اکیلے گھر میں اس نے لڑکا بلالیا.. وہ نے ساختہ کہہ گئ تھی.. حالانکہ مجھے انکی باتوں کی کم پرواہ ہے لیکن انکے پاس میری ماں نمبر ہے بلاوجہ کی تفتیش شروع ہوجائے گی..
اوہ ہاں تم ٹھیک کہتی ہو.بلکہ واقعی اس طرح تمہیں مشکل ہوگی..
آرے مشکل نہیں ہوگی طاہر.. بس وہ زرا ذیادہ خوش فہم ہوجاتی ہیں کہ میرا کسی کے ساتھ چکر چل رہا ہے.. اور اب میں اپنے بارے میں سوچنے لگی ہوں..لیکن خیر فی الحال صورتحال دوسری ہے..
چلو چھوڑو میری بات الجھ گئی ہے.. تم اپنی بتاؤ.. . پھر بتاؤ کہاں ملیں.
تم ایسا کرو عالین میرے گھر آجاؤ مجھے کچھ بخار بھی ہے ڈرائیو کرنا مشکل ہوتا ویسے بھی.. تم آدھی تو ہم بیٹھ کر بات کرلیں گے آرام سے..
ٹھیک ہے.. آجاتی ہوں.. لیکن تمہیں اندازہ ہے کہ نبیلہ کو برا لگے گا..
نبیلہ کو تو ان دنوں میں ہی برا لگتا ہوں.. تم اسکی تو چھوڑو.. خیر بات بھی اسی متعلق کرنی ہے.
ہاں مجھے اندازہ ہے طاہر.. اور تمہیں میں بتاؤں کہ میں کل گئی تھی اس کے ہاں.. یہ شاید جلد بازی کا قدم تھا تم سے پوچھے بغیر چلی گئی.. تمہارا نمبر بھی میرے پاس نہیں تھا دراصل..
اچھا.. پھر تمہیں کیسے خیال آیا اس سے ملنے کا.. مجھے اس روز پریشان دیکھ کر.. ؟
تب تو رحم ہی آیا تھا.. لیکن اتفاق سے مجھے اسی روز غازی ایوب مل گئے تھے اس کے چچا.. وہ چاہ رہے تھے میں نبیلہ کو کچھ سمجھاؤں..اس سے بات کروں میں نے بتایا تھا انہیں کہ میں تمہیں جانتی ہوں.. دوستوں کی طرح ہو تم..
لیکن اب تو خیر دوست ہی ہو.
تم واقعی بہت اچھی ہو عالین.. وہ اسکی بات پر کھل کر مسکرایا تھا.
وہ تو میں ہوں ہی..لیکن اتنی بھی اچھی نہیں کہ مزے سے ناشتہ کررہی ہوں اور دوست بخار میں خالی پیٹ گھر بیٹھا ہوا ہے.
کوئی بات نہیں.. تم کھالو اور پھر آجانا تمہیں ایڈریس ٹیکسٹ کردیتا ہوں.اور ہاں یہ تو بتاؤ کہ اس سے مل کر کیا بات کی؟کیونکہ اس سے مل کر تمہیں لگا کیسا ہوگا اس کا مجھے اندازہ ہے.
بہت برے ہو ویسے.. ٹھیک کہتی ہے..
اچھا اور کیا کہ رہی تھی؟صرف برا؟نہیں نہیں اس سے کہیں زیادہ کہا ہوگا اس نے.. مجھے معلوم ہے..
سب کچھ فون پر سن لو گے کیا..
آتی ہوں.. وہ آملیٹ آدھا ختم کرچکی تھی..
ویسے تم کھارہی ہو کیا.. محسوس نہیں ہورہا کہ تم کچھ کھارہی ہوگی..
وہ ہنس پڑی اسکی بات پر.. تم کچھ ذیادہ ہی متاثر ہورہے ہو مجھ سے.. یہ ویسے ہوتا ہے شروع شروع میں انسان کو دوست میں صرف اچھائیاں اور خوبیاں نظر آتی ہیں.
اور بعد میں گن گن کر خامیوں کا پتہ لگتا ہے.. تب تک ہم دور جاچکے ہوتے ہیں..
اچھا.. تم دلچسپ باتیں بھی کرتی ہو..
بہت شکریہ.میں اب اپنے بقیہ کام کرلوں..اور پھر دو منٹ میں نکلتی ہوں.. تم کچھ لے لو کوئی دوائی وغیرہ..
میرے پاس کوئی دوائی نہیں..
اچھا.. عجیب انسان ہو.. بخار کی دوائی تو رکھا کرو..
رکھتا تھا لیکن نبیلہ غصے میں شیشیاں توڑدیتی ہے..
اوہ میرے خدا..چلو تم ایسا کرو.. جتنی چیزیں ابھی تمہیں چاہئیں ‘ مجھے ٹیکسٹ کردو میں نکلتے ہوئے.. لیتی آؤں گی.
ٹھیک ہے. تم آرام سے کام کرلو..
بس دس پندرہ منٹ میں نکلتی ہوں ٹیکسٹ ضرور کرنا کیونکہ مجھے حق جتاتے ہوئے دوست زیادہ اچھے لگتے ہیں.
طاہر اسکی بات پر مدھم مسکرایا اور اس نے محسوس کیا کہ وہ مسکراہی رہا ہے.
چلو پھر بائے..ملتے ہیں..
کہہ کر فون رکھا ایک سادہ سا ملجگے رنگ کا جوڑا نکالا. اے ٹی ایم فون بیگ میں رکھے اور گاڑی کی چابیاں میز پر رکھ کر فریش ہونے کے لیے چلی گئی تھی.
پندرہ منٹ بعد وہ گھر سے نکلنے کے لیے ریڈی تھی.
گھر لاک کرنے کے بعد وہ باہر نکل کر
گاڑی میں بیٹھی اور پہلے فون چیک کیا تو طاہر کی طرف سے ٹیکسٹ دیکھ کر تسلی ہوگئی.
اس نے واقعی کچھ چیزیں لکھ بھیجی تھیں.
اسے دیکھ کر قدرے بہتر محسوس ہوا اور اب گاڑی کا رخ قریبی گروسری اسٹور کی طرف تھا.
*******

زندگی میں سب کچھ مزے سے جڑا ہوا ہے
*******

نگار افروز نے کہا تھا کہ زندگی میں سب کچھ مزے سے جڑا ہوا ہے.
رات بھر انتظار کرنے کا بھی اپنا ایک مزا ہوتا ہے.
اور اس نے رات بھر انتظار کیا تھا.. صبح کی پہلی کرن پھوٹی تھی جب بے حال ہوکر وہ سوگئی تھی.
بہت تھک کر سوگئی تھی.
صبح عنصر کب گھر آیا تھا اسے پتہ نہ چلا..
وہ صبح نو بجے تک اٹھی تو اسے سوتا ہوا پایا..
سردیوں کی رات انتظار میں گزرچکی تھی..
وہ جانے کہاں سے لوٹا تھا کہ تھکا ہارا سویا ہوا تھا.
اس کے چہرے پر کوئی تاثر بھی خاص نہ تھا.. بس خشک سا..سوتے میں انسان کے چہرے پر کیا تاثر ہوتے ہیں..شاید اس طرح کے ,جیسے خیال ہوتے ہیں یا پھر شاید ایسے.. جیسے خواب ہوتے ہیں.
لیکن وہ فی الوقت کچھ کھوج نہ سکی.. البتہ اس کے چہرے کو مسلسل دیکھنے سے وہ نیند میں بے چینی محسوس کرنے لگا تھا تبھی سوتے میں اس نے کروٹ بدل لی تھی.
وہ بے دلی سے مسکراکر اٹھ گئی تھی.
وہ اتنے روز میں کہاں تھا.. اور کیا کررہا تھا.
اسے معلوم نہیں تھا.
اس کے اندر باہر کی زندگی سے وہ لاتعلق تھی.. ایسی لاتعلقی جو کسی کی جڑوں تک کبھی پہنچنے نہیں دیتی… سب کچھ سطحی یہاں تک کہ تعلقات بھی سطحی تھے.
اس کے دل میں ہوک سی اٹھی.. وہ اٹھی برش کرنے اور چہرہ دھونے کے بعد کچن میں آگئی.. اس کا من پسند ناشتہ بنانے کے ارادے سے پوریوں کے لئے میدہ گوندھا. اور اور چاٹ کے لئے رات کے بوائل کئے ہوئے چنے نکال کر گریوی بنانے لگی.. ساتھ ساتھ ناشتے کی میز پر جیم مکھن اور ڈبل روٹی بھی رکھ دی تھی.
جوس کا پیکٹ خالی پڑا تھا فریج میں اور تقریباً کاغذ فریز ہوگیا تھا. اسے احساس ہوا وہ خود بھی گھر کی چھوٹی بڑی چیزوں سے کس قدر لاتعلق رہی ہے پچھلے روز سے,ڈبہ اس نے پھینک دیا تھا کچرے کے ڈبے میں اور فریج میں دیکھا تو پھل بھی نہیں تھے. دودھ کی بوتل رکھی تھی.
وہ چاٹ بنانے کے بعد گرم گرم پوریاں تلنے لگی تھی جب عنصر کو کمرے سے نکلتے ہوئے دیکھا..
ارے.. تم اٹھ گئے.. آؤ.. وہ قدرے خوش گوار انداز میں مسکرائی تھی.
گڈ مارننگ عنصر.. اس نے پھلکا اتار کر رکھنے کے بعد کہا تھا.
صبح صبح یہ کیا بوء پھیلارکھی ہے پورے گھر میں تم نے..
تمہارے لیے گرم گرم پوریاں بنارہی ہوں. تازہ پسند ہیں نہ تمہیں..
تمہیں کس نے کہا کہ میرا پوریاں کھانے کا موڈ ہے آج ناشتے میں.. وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا تھا.
میرے دل نے کہا.
اوہ.. وہ بے ساختہ ہنسا
اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے عنصر.. اسے برا لگا تھا.
تمہیں اپنے دل پر خود ہنسی نہیں آتی.. جو اس قسم کے مشورے دینے لگا ہے تمہیں..
یقیناً یہ عورتوں کا پرانا فارمولا ہوگا جو تم نے اپلائی کرنے کی کوشش کی ہے..مرد کے دل تک پہنچنے کا راستہ.. جبکہ میں تمہیں بتاؤں.. میرے دل کا راستہ.. میرے میدے سے ہوکر نہیں جاتا.. یہ میں تمہیں پہلے بھی بتاچکا ہوں..
تب ہی سے.. جب سے ہم میں دوستی تھی..
وہ مذاق اڑانے والے انداز میں بات کررہا تھا.
اس نے یہ چوتھا پھلکا اترکر چولہا بند کردیا. آٹے کی پیڑیاں باقی تھیں جو اس نے فریج میں رکھ دیں..
ٹھیک ہے آئندہ غلطی نہیں کروں گی.. فی الحال یہ بنائی ہیں تو کھالو ورنہ مجھے افسوس ہوگا..
اس نے چاٹ کا پیالہ اور پوریوں کی ٹرے اس کے سامنے رکھ دی..
اب میں ناشتہ بھی تمہاری مرضی کا کروں گا؟
تم اور کیا کچھ میری مرضی سے کرتے ہو؟اس نے اپنے لیے ایک پھلکا لے لیا تھا پلیٹ میں.. اور چٹنی ڈال کر کھانے لگی تھی.
کچھ بھی نہیں.. اور اسکی ضرورت بھی نہیں ہے. کیونکہ تم پر نہ میں نے اپنی مرضی کبھی تھوپی ہے.. اور نہ ہی تمہاری مرضی کا میں قائل ہوں..
زندگی گزارنے کا ہرکس کا اپنا طریقہ ہوتا ہے.
اس نے بے دلی سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا اٹھاکر منہ میں رکھ لیا تھا.
حالانکہ وہ سمجھ رہی تھی کہ اس کا دل چاہ رہا ہے کھانے کے لیے.. لیکن وہ اس کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتا. اسے یہ بھی پتہ تھا کہ صبح صبح اسے یہ خوشبو اچھی لگتی ہے جب کچن میں کچھ پک رہا ہو.. خصوصہ” گرم پھلکے یا پوریاں..
اس نے ایک دو اور نوالے بے دلی ظاہر کرتے ہوئے لیے تھے .
وہ اب اس سے نظر ہٹارہی تھی کہ وہ آرام سے کھولے اور اس کے بعد بات کی جائے..
تم مجھے پابند نہیں کرسکتیں.. کسی صورت نہیں..
تم بلاوجہ خوف زدہ ہورہے ہو عنصر.. میں تمہیں کیوں پابند کروں گی.. میں تو بس تمہارے ساتھ اچھا وقت گزارنا چاہتی ہوں..
جیسے ہم پہلے گزارا کرتے تھے.. شادی کے شروع شروع میں..
جب تم خوش تھے بہت مجھ سے.. اور میں تم سے.. اب بھی ہم ایک دوسرے کو خوش رکھ سکتے ہیں.. اگر تم چاہو تو…
مجھے یہ ڈھکوسلے مت سناؤ.. جیسے گزررہی ہے ویسی گزرنے دو…اس نے آدھا کھاکر باقی ہٹادیا.
تمہیں مزا دیتی ہے ایسی زندگی ؟
مزا…وہ کچھ سوچ میں پڑگیا…اور پھر ہنسنے لگا.. میں زندگی کو مزے لے لئے نہیں گزارتا.. بس یہ آسان ہے اتنا ہی کافی ہے..
وہ آج بھی ہنستے ہوئے اچھا لگتا تھا.
تم مزے میں ہو عنصر.. تمہیں دیکھ کر ہی لگتا ہے کہ تم کسی مزے میں گم ہو.. تبھی تمہیں گھر یاد نہیں رہتا.. میں یاد نہیں رہتی.. پرانی زندگی یاد نہیں رہتی.. کچھ یاد نہیں رہا تمہیں عنصر.. کچھ بھی نہیں..
میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا کہ میں عام سا سادہ سا انسان ہوں..بہت عام سا.. اور سیدھا.. میں نے تمہیں کوئی ایسے ویسے خواب دکھائے.. نہ ہی کوئی وعدوں کے ڈھیر تمہیں دیے..
خواب آنکھوں میں ڈرل مشین سے کھدائی کرکے نہیں رکھے جاتے.. نہ ہی پروئے جاتے ہیں.. خواب تو خود ہی آجاتے ہیں.. تم نے خود ہی رکھ لئے تھے.. تم نے کہا تھا میں تمہیں پسند کرتا ہوں.. تم نے کہا تھا میں تمہارا خیال رکھوں گا..
تم نے کہا تھا میں سنسئیر ہوں تمہارے ساتھ.. اور تم خوش تھے.. بہت خوش تھے.
میں خوش تھا.. اور بے زار آج بھی نہیں.. تمہیں ضرورت کی سب چیزیں ملتی ہیں.. پیسہ گھر.. سب کچھ ہے تمہارے پاس..
اور کیا چاہیے..
گھر میرے پاس پہلے بھی تھا..اور پیسہ میں خود بھی کماسکتی ہوں.. لیکن تمہارے ساتھ میں تمہارے لئے رہ رہی ہوں عنصر.. پیسے یا گھر کے لئے نہیں..
ہرگز نہیں..
تمہاری مرضی ہے یار میں ان فضول باتوں میں ٹائم ویسٹ نہیں کرنا چاہتا..
یہ فضول باتیں نہیں ہیں.. یہ میری اور تمہاری باتیں ہیں.. ہم دونوں کی.. ہماری زندگی کی باتیں ہیں عنصر.. انہیں اتنا ایزی مت لو پلیز..
زیب تم بلاوجہ کی بحثوں میں مجھے اور خود کو ضایع کررہی ہو اور کوئی بات نہیں.. یہ صرف تمہارے وہم ہیں.. دیکھو سب ہے تمہارے پاس.. نئی گاڑی بھی اس ہفتے دلادوں گا.. پھر خوش رہنا.. بلکہ اس ہفتے کیا کہو تو اگلے ایک دو روز میں ہی.. گھومنے جانا اپنی دوستوں کے ساتھ.. خوش رہو..
اس مہینے کا چیک سائن کردیا ہے میں نے.. بیڈ روم میں سائڈ ٹیبل پر رکھا ہے اٹھا لینا..
وہ جیسے اپنا کام ختم کرکے اٹھا تھا.
تم کہاں جارہے ہو عنصر ؟
اب یہ بھی میں تمہیں بتاؤں.. ظاہر ہے کام کرنا ہے.. فیلڈ ورک ہے اس پراجیکٹ میں.. دیر سے نکل رہا ہوں تو دیر سے لوٹوں گا.. انتظار مت کیا کرو میرا پلیز..
عنصر.. تم..کتنے سیلفش ہوگئے ہو..
وہ بھی اٹھی تھی..
دیکھو میری بات سنو عنصر.. پلیز بات سنو.. وہ گھوم کر اسکی طرف آگئی..
میری بات سنو پلیز… عنصر دیکھو.. نئی گاڑی کے لئے تھینک یو لیکن میری بات سنو پلیز.. میں چاہتی ہوں تم میرے ساتھ رہو.. ہم. ایک ساتھ رہیں.. ہم. ایک ساتھ گھومنے جائیں.. کتنے عرصے سے نہیں لگا کہ ہم میاں بیوی ہیں.. مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ تم مجھے بھول چکے ہو.. پوری طرح.. کہیں رکھ کر جیسے..
یہ فلسفیانہ باتیں تمہاری اس دوست نے سکھائی ہیں.. وہ پھر ہنسا تھا.
عنصر.. ہنسو مت.. یہ فلسفہ نہیں ہے.. غور کرو تو سچ ہے.. پلیز.. کیا ایسا سب نہیں ہے جیسا میں کہہ رہی ہوں..اس وقت..
وہ بے بسی سے اس کے سامنے کھڑی تھی.
اس نے ایک نظر بغوردیکھتے ہوئے اس کی ٹھوڑی تھامی.. اب تک پیاری لگتی ہو.. خیال رکھا کرو اپنا.. اس نے بے تاثر انداز میں کہہ کر اس ہاتھ ہٹالیا تھا.
عنصر.. پلیز.. اس کا بازو تھام لیا تھا اس نے فوری طور پر..
اوکے.. اس نے جھک کر اس کے گال پر ایک کس کی اور پھر بے دلی سے مصنوعی منہ بنایا .
اسے محسوس ہوا وہ اب بھی اس کا مذاق اڑارہا ہے..
گڈ لک.. مزے کرو.. چیک کیش کرالینا.. ورنہ میں پیسہ ختم کردوں گا تو شکایت کروگی.. گڈ بائے..
کہہ کر کوٹ اٹھاکر نکل گیا..
عنصر.. اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے.
دروازہ بند کرلینا ڈارلنگ.. شکریہ محنت کے لئے..
وہ اسی لاپرواہانہ انداز میں کہتا ہوا نکل گیا دروازہ کھلا چھوڑکر..
تھکادیا ہے تم نے مجھے عنصر.. بہت تھکادیا ہے..
دروازہ بند کرتے ہوئے اسے لگا جیسے دل کا دروازہ بھی بند کردیا ہو اس نے.. جو ابھی جاتے ہوئے لاپرواہی سے بہت کچھ نہ کہتے ہوئے بھی جتاگیا تھا .

*******

زندگی میں دوستی سردیوں کی دھوپ جیسی ٹھنڈی ہے!
*******
وہ ضرورت کی چند چیزیں جو اس نے لکھی تھیں اس سے کچھ زیادہ لے آئی تھی..
وہ بمشکل دروازے تک آیا تھا.
اور بکھرے حالوں سے اسے دیکھ کر مسکرایا بھی تھا.
سلام دوست..
وعلیکم السلام نئے دوست ..اندر آجاؤں ؟اس کے ہاتھوں میں تھیلے تھے.. اور بیگ کندھے سے لگا تھا..
بالکل آجاؤ.. اس نے ایک تھیلا اس سے لینا چاہا لیکن اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے..
تمہیں بخار ہے.. میں رکھ لیتی ہوں.. کچن کس طرف ہے؟
اس نے بالکنی کی طرف اشارہ کیا اسے سامنے ڈائیننگ میز بھی نظر آئی..تو اس نے سامان وہیں رکھا..
تم ضرورت سے زیادہ چیزیں لائی ہو.. اب میں آئندہ تمہیں کچھ نہیں کہوں گا..
میں ساری چیزیں ضرورت کی لائی ہوں.. کچھ بھی اضافی نہیں.. تم نے بریڈ کوکو پاؤڈر اور دودھ کہا تھا.. میں نے صرف پینٹ بٹر جیم اور کیچپ کے علاوہ انڈے لئے ہیں تمہارے سوپ کے لئے..
اور یہ بس تھوڑا سا چکن..
اس نے چکن کی تھیلی الگ رکھی تھی جو نکال کر فریج میں رکھی..
ابھی تو میں پھل لانا چاہ رہی تھی.. لیکن جلدی میں وہ بھول گئی.. ہاں یہ تمہاری دوائیں.. کچھ.. لیکن بہتر ہے ڈاکٹر کو دکھادو..
اس نے میڈیسن دیکھیں.. یہ بھی زیادہ ہیں عالین…
یہ زیادہ نہیں ہیں..اگر فلو ہے تو اس گولی کے ساتھ وائٹمن لو اور اور اگر صرف بخار ہے تو یہ دو گولیاں لے لو.. لیکن ناشتے کے بعد.. ایک گولی اومیپرازول ہے یہ تمہارا میدہ درست کرے گی فی الوقت..
تم دواؤں کے بارے میں بھی اتنا جانتی ہو؟
اس سے زیادہ جانتی ہوں.. بیٹھو..بلکہ وہیں بیٹھ جاؤ.. کمبل لیکر جہاں بیٹھے ہوئے تھے..
سا نے صوفے پر رکھے کمبل کو دیکھتے ہوئے کہا اس سے..
تھینک یو.. تم یہ سارا رکھ دو گی؟
ہاں رکھ دوں گی.. بلکہ تم ایسا کرو مجھے بتادو اس وقت کیا کھانا پسند کروگے ؟کچھ بنالوں تمہارے لیے ؟
تم کتنی ہمدرد ہو…
تعریفیں کرتے رہنا.. لیکن.. پہلے جاکر کمبل لے لو کانپ رہے ہو.. وہ ہنس پڑی..
تو وہ صوفے میں جاکر دھنس کر بیٹھ گیا اور کمبل اچھی طرح لے لیا..
میں تمہارے لئے چکن سوپ بنالیتی ہوں جلدی سے..
نہیں اس میں دیر لگتی ہے..
لیکن میں جلدی کروں گی.. تم بس انتظار کرو تھوڑا سا.. میں ابھی آئی..
وہ کہہ کر کچن پورشن میں گھس گئی.. چکن بوائے کرنے کے لیے رکھی.. اور تب تک سبزیاں کاٹ لیں..
وہ دو گولیاں پانی کے ساتھ لیکر صوفے پر لیٹ گیا تھا.. اور اسے تسلی دے نیند بھرا جھونکابھی آگیا نیند کا..
اور تقریباً پون گھنٹہ وہ سویا رہا تھا..پھر پسینے کی شدت اور کمبل مسلسل سر پر رہنے کی وجہ سے کچھ حبس کے احساس سے اس نے کمبل ہٹایا تو اسے یاد آیا کہ عالین آئی تھی..
اس نے کمبل ہٹایا تو اسے کچھ فاصلے پر رکھی کرسی پر بیٹھے اخبار پڑھتے ہوئے پایا.. وہ پوری طرح منہمک تھی اخبار میں..
ہیلو.. اٹھ گئے تم…گڈ.. چلو نیند ہوگئی..
تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں.
میرا مطلب ہے آواز کیوں نہیں دی.. پتہ نہیں کب تک سوتا رہا میں.. وہ خاصہ شرمندہ ہونے لگا.
پینتالیس منٹ کے لگ بھگ سوکر تم نے کوئی غلطی نہیں کی بہرحال نیند اچھی ہوگئی تمہاری.. تم نے خالی پیٹ گولیاں بھی لے لیں..
ہاں کیونکہ.. مجھے معلوم تھا کہ مجھے بخارکے ہوتے ہوئے کچھ کھایا نہیں جائے گا.. اب کچھ بہتر محسوس کررہا ہوں..
چلو تم منہ ہاتھ دھولو میں سوپ گرم کرلیتی ہوں.. زیادہ دیر نہیں ہوئی لیکن گرم تب بھی نہیں رہا ہوگا..
ٹھیک ہے.. وہ آہستگی سے اٹھا..
تم اب بھی کانپ رہے ہو طاہر؟
ہاں.. یہ بخار کی وجہ سے نہیں شاید…وہ. انکے… کیا کہتے ہیں.. ہاں.. مراقبہ.. شاید یہی میڈیٹیشن..
اف میرے خدا.. یعنی انہوں نے تمہیں نہیں بخشا.. اور کیا کروایا ؟اس نے اخبار پھینکتے ہوئے بے ساختگی سے کہا تو وہ ہنس دیا..
بتاتا ہوں.. پھر تم میری طرف سے لڑائی کرنا انکے ساتھ..
کہتے ہوئے کمرے کی طرف چلا گیا اور جب آیا تو وہ میز کے پاس بیٹھی تھی..سوپ کا پیالہ گرم تھا اور دو پینٹ بٹر برگر بھی تھے..
وہ البتہ چائے کا کپ لئے بیٹھی تھی اور اپنا فون چیک کررہی تھی.. اسے آتا دیکھ کر فون اس نے سائڈ پر رکھ دیا تھا.
تم نے یہ بھی بنالیے.. اس نے ایک برگر کا پیس نکالا
ہاں وقت زیادہ تھا تم سوگئے تو سوچا بنالیتی ہوں..
ہممم اچھا کیا.. میں کھائے بغیر کہتا ہوں کہ تم بہت اچھی کک ہو.. یہ کہنے کے بعد اس نے ایک بائٹ لیا..
ہممم واقعی.. گڈ…تم واقعی… بہت.. ہمم وہ بھرے ہوئے منہ سے کہتے کھانے لگا..
اوکے ٹھیک ہے.. کھالو پھر تعریفیں کرلینا..
اس نے برگر کھانے کے بعد سوپ تھوڑا سا پیالی میں لے لیا تھا.
آج میں کچھ زیادہ ہی تعریفیں ہوگئیں میری..
ہمم تم تعریف کے قابل ہو..
اوکے رہنے بھی دو اب یہ بتاؤ انہوں نے کس طرح مراقبہ کروایا تم سے ؟
اوہ.. وہ سپ لینے کے بعد رکا..
پی لو آرام سے.. پھر بتانا.. وہ اپنی چائے کا کپ خالی کرکے رکھ چکی تھی..
بس پی لیا.. فی الحال بہت ہے..
اب وہ پیالی میں بچی کھچی سبزیوں اور چکن پیسز کے ساتھ چمچ چلارہا تھا.
انہوں نے پہلے مجھے ہپناٹائز کیا.. وہ جیسے جیسے کہتے گئے.. میں کرتا گیا.. میں تھکا ہوا تھا.. اور کسی طور بس بھولنا چاہتا تھا کہ وہ مجھے چھوڑگئی ہے.. اور میں بہت دکھ میں ہوں..
میں اس دکھ کو اپنے ذہن سے ہٹانا چاہتا تھا.. بس یہی کرنا چاہتا تھا..
پھر مجھے یاد نہیں وہ کیا کیا کہتے گئے اور میں انکی بات دہراتا رہا.. لیکن انہوں نے جب مجھے کہا کہ.. میں ہوا میں اڑرہا ہوں تو واقعی میں اوپر ہونے لگا.. آئی مین. میں وہیں تھا.. لیکن مجھے لگا میں خود میں سے نکل کر پھڑپھڑارہا ہوں.. تم سمجھ رہی ہو نہ میری بات..
ہممم.. پھر ؟وہ پوری توجہ کے ساتھ اس کے تاثرات پر بھی غور کررہی تھی.
پھر یکایک مجھے لگامیں اڑنہیں پارہا اور میں ایک زوردار دھماکے نہیں بلکہ جیسے ڈھکی لگا ہوں خود کے اندر گرگیا اور مجھے شدید کپکپی سی ہوئی..
پھر انہوں نے مجھے کہا رلیکس ہوجاؤ.. لیکن میں نہیں ہوپایا..
اف… اوہ… اوکے پھر یکدم ہی انہوں نے تمہیں مراقبے کا کہا؟
نہیں ..یکدم نہیں
.انہوں نے دیکھا کہ میری طبیعت نہیں سنبھل رہی.. پھر انہوں نے کہا کہ مراقبہ کرو.. اور خود کو یقین دلاؤ کہ تم ٹھیک ہو.. بہتر ہو.. اور تمہیں کوئی غم نہیں ہے..
میں نے وہی کیا.. لیکن میں کچھ نہیں کرسکا.. پھر انہوں نے مجھے نیند کی گولی کھلادی.. میں تب بھی سو نہیں سکا.. میں سونا چاہتا نہیں تھا… لیکن ہاں بس اتنا تھا کہ میں کچھ بھی سوچ نہیں رہا تھا.. میں نے انہیں کہا کہ مجھے گھر پہنچائیں.. انہوں نے ایسا کیا.. ان کا ملازم مجھے چھوڑگیا.
میں ساری رات میں ایک گھنٹہ سوتا تو آدھا جاگتا تھا.. پوتی طرح نیند نہیں لے سکا.. ہر وقت نبیلہ کی باتیں.. مجھے یاد آتیں.. پھر فورا “پروفیسر کی کہی ہوئی باتیں… اور جانے کیا.. ایک لمحے میں خود کو بے نیاز محسوس کرتا تو.. دوسرے لمحے جکڑا ہوا.. رات کے آخری پہر مجھے نیند آئی.. اور صبح آنکھ کھلی تو سب سے پہلا خیال مجھے یہی آیا کہ میں تم سے بات کروں.. ہوسکتا ہے کوئی حل نکلے.. تم کوئی مشورہ دے سکو…لیکن تم نے تو یہ بتاکر حیران کردیا کہ تم پہلے ہی وہاں جاکر اس سے مل چکی ہو..
ہاں.. دراصل مجھے جانا تو تھا ہی. غازی صاحب فکرمند تھے اسکی وجہ سے.. میں گئی تھی لیکن.. طاہر.. کیا میں تمہیں سب سچ سچ بتاؤں؟
ہاں.. تم. جتنا برا بتاؤگی مجھے پتہ ہے ایسا ہوگا.. وہ بہت بدظن ہے مجھ سے.. بہت بیزار.. بہت بدگمان..
دیکھو طاہر اس کا ری ایکشن جو میرے ساتھ تھا وہ قدرے فطری تھا.. ایسا ہوتا ہے.. دیکھو اگر کوئی انجان لڑکا اس کی طرف سے تمہیں سمجھانے آتا تو یقیناً تم بھی اس کے ساتھ یہی سلوک کرتے..
کیا مطلب.. کس قسم کا سلوک… اس نے کیا کیا تمہارے ساتھ.. ؟کوئی بدتمیزی کی؟
اسے بدتمیزی کہہ سکتے ہیں ہاں.. لیکن وہ اپنی سوچ کے مطابق ٹھیک تھی.. اس کے لئے شک کرنا آسان ہے طاہر..وہ تم سے وابستہ ہر انسان بلکہ ہر لڑکی کو شک کی نظر سے دیکھتی ہے..مجھے بھی اس نے یہی کچھ کہا.. اور اس وقت وہ سمجھنے کے زون سے باہر نکل چکی ہے..پوری طرح سے.. تم اسے وقت دو.. وہ سمجھے گی.. اللہ کرے جلدی سمجھے.. میں بھی اسے کچھ سخت الفاظ کہہ آئی تھی.. کہ اس طرح شک و شبہات میں پڑکر کہیں اسے کھونہ دو تم..
وہ ہرٹ ہوئی ہوگی..
تم نے ٹھیک کہا اسے.. دیکھو بیویوں والا سکون تو اس نے مجھے دیا ہی نہیں.. کہ میرا خیال رکھتی.. میری چیزوں کا.. اور گھر آنے کے بعد بھی وہ مجھ سے یا تو پوچھ گچھ کرتی رہتی تھی یا پھر.. لعنت ملامت.. کوئی تیسرا ٹاپک اسے کم ہی سوجھتا تھا.. اگر چپ ہوتی تو آبزرو کررہی ہوتی کہ میں کیا کررہا ہوں.. کیا دیکھ رہا ہوں.. کس سے بات کررہا ہوں..
فون کس کا آیا تھا..اٹھ کیوں گیا لیکر.. اس کے سامنے بات نہیں کی.. میرے پیچھے آجاتی تھی.. اور اگر اس کے سامنے کوئی کال رسیو کرلیتا تھا تو اتنا غور سے دیکھتی کہ کنفیوزڈ کرلیتی.. میرے ایک کلیگ کی آواز باریک تھی وہ جب بھی فون کرتا یہ شک میں پڑجاتی..
بالآخر ایک بار اسے میں انکے گھر لے گیا تاکہ وہ مل لے اس سے بات چیت کرلے.. لیکن گھر آکر بھی اس نے مجھے آڑے ہاتھوں لیا کہ میں اس آدمی سے زیادہ اس کی بیوی میں دلچسپی لے رہا تھا.. اب بتاؤ اس سے کیا کہنا چاہیے..
مسئلہ تو واقعی کچھ الجھا ہے.. تم نے کبھی اسے سائیکالوجسٹ کو دکھانے کا سوچا ؟
توبہ کرو.. وہ مجھے تو سنگسار کرتی ہی لیکن اس سائیکالوجسٹ کا بھی مرڈر کروادیتی..
وہ کہتے ہوئے ہنسا تو وہ بھی ہلکے سے ہنسی لیکن اس کی پریشانی محسوس کررہی تھی..
چلو فکر نہ کرو.. کچھ اچھا ہوگا.. البتہ بیوی ہے وہ تمہاری.. میرا تو خیال ہے کہ اس سے مل لو ایک بار.. جاکر.. اسکی حالت اچھی نہیں لگ رہی تھی.. تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہے ایسی حالت میں اسے اسٹریس اچھا نہیں اتنا..
ہوسکتا ہے ایک بار غصہ اتارلینے کے بعد وہ ٹھیک ہوجائے..
وہ سوچ میں پڑگیا… تم مجھے اسٹریس میں ڈال رہی ہو…. میں پتہ نہیں کیوں اسکی باتوں سے تھک گیا ہوں عالین…
وہ کچھ بدلے تو سکون ہو نہ زندگی میں..
وہ تو ٹھیک ہے لیکن.. وہ تمہاری ذماداری ہے..
ہاں وہ تو سمجھتا ہوں..
ایک عورت کی ایک گھر کو ضرورت ہوتی ہے.. بہتر ہے کہ جاکر مل لو.. لیکن.. پہلے اپنی حالت درست کرلو.. ڈاکٹر کو دکھادو کچھ گھنٹے افاقہ رہے گا پھر سے بخار شروع ہوجائے گا.
ٹھیک ہے دکھادیتا ہوں.. تمہارا کہا مان لیتا ہوں..
چلو اب مجھے اجازت دوگے.. میں نکلوں.. کچھ کام کرنے ہیں دن ڈھلنے سے پہلے ..
میں تمہارے ساتھ چلوں؟
کہاں؟وہ اٹھتے ہوئے حیران ہوئی.
یونہی کہہ رہا تھا.. مجھے لگا اچھا لگے گا تمہارے ساتھ رہ کر..
ہاں مجھے بھی معلوم ہے.. لیکن بہتر ہے کہ ڈاکٹر کو دکھاؤ.. میں زرا پروفیسر سالس سے ملوں.. اس کے بعد بقیہ کچھ چھوٹے موٹے کام ہونگے..
مجھے بھی ان سے ملنا چاہیے عالین ؟
نہیں طاہر.. ابھی نہیں. اور پھر سے پلیزکچھ ایسا ٹرائی مت کرنا..
تم انہیں میرے متعلق کچھ کہوگی..
یقیناً.. لیکن فی الحال میں ان سے ان کے لئے ملنے جارہی ہوں
.مجھے تو لگتا ہے خود انہیں ضرورت ہے تسلی کی.. دلاسے کی.. یا پھر..
بلکہ کل تک اگر التمش صاحب کی کوئی میل نہیں آئی تو مجھے لگتا ہے وہاں نکلنا پڑے گا..
میں وہاں جاچکا ہوں.. تمہیں مناسب لگے تو مجھے بھی ساتھ لے لینا.. راستہ کافی لمبا ہے..
ہاں یہ اچھا آئیڈیا ہے.. بلکہ صبح سویرے نکلتے ہیں.. اللہ وہاں خیریت رکھے.. میرا تو دل کررہا ہے ابھی نکل جاؤں.
. لیکن پچھلی بار کی طرح رات بج جائے گی اور گاڑی بیچ میں دھوکہ دے جاتی ہے.
میری گاڑی لے لو تم.. بلکہ کہو تو اکٹھے نکلتے ہیں.. آج شام ہی..
پہلے تم مل لو نبیلہ سے.. بات چیت کرلو.. اور ڈاکٹر کو دکھادو.. پھر دیکھتے ہیں..
وہ ابھی جانے ہی لگی تھی کہ دروازے کی بیل ہوئی اور متواتر بجتی رہی..
طاہر نے آگے جاکر دروازہ کھولا تو سامنے نبیلہ کا کزن کھڑا تھا چھوٹا سا.. وہ.. آپا نے بھیجا ہے.. کچھ چیزیں لے جانی ہیں انکی..
وہ بہت غور سے عالین کو دیکھ رہا تھا.. کل جب وہ گئی تھی تو یہ لڑکا بھی وہاں موجود تھا..
بہتر ہے کہ یہ چیزیں خود لے جانا.. وہ طاہر کی طرف دیکھ کر کہتے ہوئے.. نکل گئی اور طاہر نے سر جھٹک کر لمبی سانس لی.. اور لڑکے کو اندرآنے دیا.. دروازہ بند کرتے ہوئے اس کا دل دھک سے رہ گیا.. اندازہ تھا کہ اب عنقریب ایک اور تماشہ کھڑا ہونے والا ہے.
وہ پریشان سا ہوگیا تھا.
اور سوچ رہا تھا کہ عالین نہ اسکی وجہ سے کسی مصیبت میں آجائے.
******

تم محبت کی طرح نہیں رہ پائے
******
سب نکل گیا ہے نگار زندگی سے.. سب کچھ
یہاں تک کہ مزا بھی..
بلکہ مزا ہی نکل گیا ہے.
اسی لئے.. لگ رہا ہے کہ کچھ نہیں رہا.
کچھ بھی نہیں رہا.. میں تمہیں کیا بتاؤں کہ میں خود زندگی سے کس قدر بیزار ہوچکی ہوں نگار..
اس نے میسج کرکے پھر ادھورا چھوڑدیا تھا.
تھوڑی دیر میں اسکی کال آگئی تھی..
کیا ہوگیا ہے زیبی.. میں آجاؤں.. ؟
تم بس مجھے اب یہ مت کہنا نگار کی اسے اپنی طرف کھینچو. اسے متوجہ کرو.. یا پھر کوئی بھی خواب.. کچھ بھی نہیں نگار افروز کچھ بھی نہیں.. میں اب خواب دیکھنا نہیں چاہتی..
رہ شاید سب خواب تھا نگار..وہ سب خواب تھا.. اسے مجھ سے محبت نہیں تھی..
وہ سب جھوٹ تھا..
وہ سب ہی جھوٹ تھا..نرا.. دھوکہ تھا.. یا پھر فریب تھا.. لیکن جو بھی تھا اب نہیں رہا.. کچھ نہیں رہا.. زندگی سے جب مزا نکل جائے تو کیا رہ جاتا ہے…
شاید کچھ نہیں.. بلکہ اگر محبت نہ رہے.. تو کچھ بھی نہیں رہتا..
ہوا کیا ہے زیبی.. میں آجاؤں.. ؟میں بس آرہی ہوں..
بس آرہی ہوں..
فکر نہ کرو..
وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا.. نگار.. وہ مجھ سے اب محبت نہیں کرتا.. سچ تو بس یہی ہے کہ وہ اب مجھ سے محبت نہیں کرتا
فون لائن اس ایک جملے کے بعد ساکت تھی.
*******

میں نے انکار کیا تو تمہارا دل ٹوٹے گا
*******

محبت کے ہوتے ہوئے انسان بڑی تسلی محسوس کرتا ہے
.مجھے تسلی تھی جیسے کوئی میرا ہے.
جو مجھے چاہتا ہے.
مجھ سے محبت کرتا ہے.
اور وہ بھی کسی احساس سے سرشار رہنے لگا تھا.
اس نے کہا نہیں تھا لیکن اس کے انداز سے لگتا تھا کہ وہ اب تنہائی میں بھی اتنا اکیلا پن محسوس نہیں کرتا.
اس کے پاس میرا خیال ہوتا ہے.
وہ اس خیال سےمسرور ہوا کرتا ہے.
سرشار ہوا کرتا ہے..
اس کے لئے یہ احساس مستحکم ہے دنیا کے اسی کونے میں اس کی کوئی محبوبہ ہے جو اسے عزیز رکھتی ہے.
گویا کہ کیا اس نے یہی تھا کہ مجھے اب اچھا لگتا ہے کہ ہم دوست ہیں.
میں تمہیں روزانہ یاد کرکے سوتا ہوں تو مجھے اچھی والی نیند آجاتی ہے.
اس کا اظہار بھی قدرے معصومانہ تھا لیکن اس کی آنکھوں کی چمک بہت کچھ بتاتی تھی..
ایک روز اس نے بتایا کہ وہ سٹرانگ محسوس کرتا ہے خود کو.. مجھے معلوم تھا کہ یہ طاقت محبت کی ہوتی ہے.
اتنی طاقت بس. محبت ہی دے سکتی ہے
اس نے کہا مجھے لگتا ہے میں کبھی کبھار لکڑی کی طرح مضبوط ہورہا ہوں.
وہ کتابیں پڑھنے لگا تھا.
وہ زرخیز ہونے لگا تھا.
اس کے چہرے پر کھردرا پن اور آنکھوں میں نمی آنے لگی تھی.
وہ تھوڑی دیر کے لیے ملنے آتا.. میں اسکی پسند کا کچھ کھلاتی اسے.. یکایک ایک روز اسے احساس ہوا کہ میری سیلری کم ہے.. تو اس نے مجھے اپنی پاکٹ منی میں سے کچھ پیسے دیے.جو میں نے اسے لوٹاتے ہوئے کہا کہ آئندہ کبھی مجھے پیسے مت دینا.. مجھے بہت برا لگے گا..
اس کے بعد بہت دفعہ مجھے پیسوں کی ضرورت پڑی لیکن کبھی اس نے کہا نہیں کہ میں دے دیتا ہوں.. مجھے یہ لالچ نہیں تھا کہ وہ میری مدد کرے لیکن میں اس کی سمجھ اور احساس کو پرکھ رہی تھی.
وہ کوئی بھی فیصلہ خود سے کم کرپاتا تھا.
میرے ساتھ والی نرس کو شک ہوگیا پہلے اس نے چوری چھپے خاموشی سے واچ کیا پھر باقاعدہ مجھے گھرکنے لگی.. حالانکہ مجھے معلوم تھا کہ اس کا ڈاکٹر کے ساتھ بہت ڈیپ چکر ہے.. لیکن میں نے اسے کبھی نہیں گھورا.. نہ ہی غور کیازیادہ..
اس کی انٹرفیرنس بڑھی تو مجھے برا لگا اور میں نے اس کے ساتھ سختی سے بات کی.. لیکن وہ الٹا میری بات پر یہ کہتے ہوئے ہنس پڑی کہ دیکھ تیرا اگر ڈاکٹر کے ساتھ چکر ہوتا تو مجھے کوئی برا نہ لگتا.. لیکن چکر بھی تو نے کس کے ساتھ چلایا ہے.. یہ دیکھ بھی تو سہی.. شکل سے بچہ لگتا ہے.. باتوں سے بھولا اور دل تو اس کا چوہے جتنا ہوگا.. چکر چلانا ہی تھا تو کوئی مرد دیکھتیں.. جانے کیوں مجدد مجھے بہت ہتک محسوس ہوئی.
.. بہت انسلٹ.. میں نے فورا” اسے ٹوکا کہ چکر نہیں چلارہی.. محبت کرتی ہوں اس کے ساتھ..
وہ پھر ہنسنے لگی اور کہنے لگی یہ اسے کہنا.. اور پھر دیکھنا جواب میں وہ تجھے کیا کہتا ہے .اور یقین سے کہتی ہوں کہ آج تک اس نے نہ تجھ سے محبت کا اظہار کیا ہوگا.
اور نہ ہی کبھی تیری تعریف کی ہوگی..
مجھے تعریف جیسا ہلکا پن نہیں چاہیے تھا. لیکن محبت کے اظہار کی کسے طلب نہیں ہوتی.
لیکن میں نے سوچا وہ سب سے مختلف ہے.. بہت مختلف.. اسے اس کے انداز سے ہی محبت کرنے دینا چاہیے..
اچانک انہیں دنوں جانے کیسے چچا کو بھنک ہوگئی.. انہوں نے خوب عزت افزائی کی میری.. میرا حال یہ تھا کہ نہ تو جھوٹ بول پاتی نہ ہی پورا سچ.. بالآخر جو کام اسے کرنا چاہیے تھا وہ میں نے کردیا.. یعنی کہ اقبال جرم.
چچا کے سامنے جاکر میں نے بڑی ہمت سے کہہ دیا کہ میں اس لڑکے کو پسند کرتی ہوں.
وہ میرا اچھا دوست ہے.
انہوں نے غصہ کرلیا تو کچھ دیر بعد کہا کہ اسے کہو کہ اپنی فیملی کو بھیجے اور تب تک تم گھر سے باہر نہیں نکلوگی.. مجھے چچا کی ایک بات بہت اچھی لگی کہ انہوں نے جتنی بے عزتی کرنی تھی خود ہی اکیلے کردی اپنی بیوی کو شامل تک نہ کیا.. اور نہ ہی کسی کو ہمت تھی کہ کوئی مجھے کچھ کہتا.. گھر بھر کی سامنے خود میری خوب آؤ بھگت کی.. لیکن سب کو صاف لفظوں میں کہا کہ اسے ڈانٹنے کا حق صرف مجھے ہے.
خبردار میرے جانے کے بعد سعدیہ سے کوئی اس موضوع پر بات نہیں کرے گا.
میں سہمی ہوئی تھی لیکن چچا کا یہ آدھا ادھورا تحفظ مجھے پناہ دے گیا. کہ گھر والے آنکھوں سے جو بھی کہتے لیکن منہ سے ایک لفظ تک نہیں کہا کہ چچا کی فطرت کا سب کو اچھی طرح سے اندازہ تھا.
اس رات میں سوچتی رہی کہ مستقیم کو معلوم ہوگا تو کیا سوچے گا..
کچھ روز بعد جب ہسپتال سے کال آئی تو چچا خود مجھے چھوڑنے گئے.. اور سخت لہجے میں تنبیہہ کی بلکہ یہ کہا کہ آخری بار مل لو.
اور مل کر اسے بتادینا کہ رشتہ لاتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ چلتا کرو اسے.. ہم عزت دار ہیں..
تم. خود عزت دار ہو.. اگر سمجھو تو..
ورنہ پھر اب مجھے تمہارے لیے کوئی رشتہ جلدی دیکھنا ہوگا.
وہ دھمکاکر چھوڑگئے مجھے..
اس دن مستقیم نہیں آیا تھا.. نرس نے بتایا کہ وہ مسلسل یہ چند روز آتا رہا ہے..
اور خاصہ پریشان بھی ہے.
میں گھر لوٹی تو عجیب لگا کہ چچا نے مجھ سے پوچھا..اور میں نے بتایا کہ وہ نہیں آیا آج..
انہوں نے کہا فون کرلو اسے..
میں نے بتایا کہ اس کا فون نمبر میرے پاس نہیں تو خاصے حیران ہوئے.. پھر میں نے بتایا کہ وہ تھوڑی دیر بس ملنے آجاتا ہے کبھی کبھار اور میں اسے وہیں پارک یا کوریڈور سے باہر مل لیتی ہوں..
ہمارے درمیان اب تک ایسی کوئی بات نہیں ہوئی جس سے اندازہ ہو کہ وہ کیا سوچتا ہے..
انہوں نے باقاعدگی سے سر پیٹ لیا اپنا اور غصے سے کہا تو چھوڑ سکتی ہے اسے.. یہ بتا.. اور کوئی رشتہ دیکھوں تو شادی کرے گی؟
میں نے سختی سے انکار کیا تو پہلے غصے اور پھر بے بسی سے مجھے دیکھنے لگے.. پھر کہنے لگے چل کچھ دن لے لے.. اس سے بات کرلے پھر مجھے بتادے.. دیکھ.. ٹھیک ٹھیک بتانا اگر وہ سچا ہے تو آئے گا.. نہیں تو دفع کر ایسی دوستیوں کو جو تیری میری عزت کی دھجیاں اڑاتی پھریں.. تجھے بھلا شرم آئے گی ایسی دوستیاں نبھاتے ہوئے.. لے بول..
اورمیں نے انکی بات کی ہامی بھری.. یہ سچ تھا کہ معاشرے میں ہر تعلق ایک تعارف چاہتا ہے.
اور بغیر تعارف کے کسی تعلق کو ہم سر عام نباہ نہیں سکتے..
مجھے چچا کی بات سچ لگتی تھی.. لیکن سوچو مجدد میرے لئے وہ رات کتنی عجیب اور مشکل ہوگی.. جب ایک لڑکی سوچے کے اظہار بھی اسی نے کرنا ہے.. اور تعلق کو پہچان دینے کی بات بھی اسی نے کرنی ہے.. کتنا کٹھن تھا یہ سب..
یہ سب کٹھن ہی ہے.. سعدیہ لیکن ہمارے ہاں شادی کی بات تقریباً عورتیں ہی کرتی ہیں.. انہیں ہی معاشرتی ویلیوز کی فکر ہوتی ہے.
مرد تو محبت کرتا ہے.
چکر چلاتا ہے.
وعدے وعید کرتا ہے.
نباہنے تو سب بچاری عورت کو پڑتے ہیں..
مرد صرف ابتدا کرتا ہے..
آگے کا سارا سفر.. ایک عورت نے طہ کرنا ہوتا ہے.
تم بتاؤ بھلا پھر..کیا ہوا..
مستقیم سے بات کی ؟
تمہیں کیا بتاؤں کہ یہ سب کہنا کتنا مشکل تھا..
لیکن اس روز مستقیم آیا تھا..
اس نے مجھ سے اتنے روز نہ آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے اسے ایک خط دے دیا.
اور کہا کہ گھر جاکر اسے پڑھنا.
پھر اس پر بات کریں گے.
مجھے ڈر تھا مجدد کہ میں کہیں اس پر بوجھ تو نہیں لاد رہی.. اسے باؤنڈ تو نہیں کررہی.. لیکن بہرحال مجھے یہ بات کرنی تھی..
میں نے اسے احساس دلایا کہ ایک لڑکے اور لڑکی کی دوستی کو معاشرہ غلط سمجھتا ہے.
اور ہر تعلق کا ایک نام ہوتا ہے.
ایک پہچان ہوتی ہے.
میں جب کسی کو بتاؤں کہ تم میرے دوست ہو تو لوگ منہ پر مارتے ہیں اور اگر نہ بتاؤں تو پا پشت ایسی باتیں کرتے ہیں کہ جن کا ہم نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا..
ہماری مجبوری یہ ہے مستقیم کے ہم اسی معاشرے میں رہتے ہیں..
اور ہم بلکہ کوئی بھی اس معاشرے کو یکسر تبدیل نہیں کرسکتا…
میں تم پر کسی قسم کا کوئی بوجھ نہیں لادنا چاہتی.. تعلق کو مشکل نہیں کرنا چاہتی.. صرف اتنا کہتی ہوں کہ اپنے اور میرے تعلق کو اگر نام دے پاؤ تو ہم جنم جنم لے ساتھی.. میں ہمیشہ سے تمہاری رہوں گی.
اور اگر نام نہ دے سکو تو دوست مجھے یاد ضرور کرلینا..
میں بھی تمہیں یاد کروں گی.. لیکن ملنے کا پھر نہ کہنا کہ اگر میں نے انکار کیا تو دل تمہارا ٹوٹے گا.
اور تمہارا دل ٹوٹا تو دکھ مجھے ہوگا.
******

ہم کبھی کبھار بڑی آسانی سے ہارجاتے ہیں.

*******
مجھے سوچنے دو نگار افروز کہ وہ مجھ سے محبت بھی کرتا تھا کہ نہیں..
شاید ہاں.
شاید نہیں..
مجھے یاد ہے وہ شروع کے دن تھے جب ہم ساتھ میں کالج میں پڑھتے تھے.. اسے میں اچھی لگتی تھی یہ مجھے معلوم تھا..
وہ بھی مجھے اچھا لگنے لگا تھا..
یہ وہ وقت تھا جب نانا مجھے کالج چھوڑنے خود جاتے تھے.
اور ایک روز انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا مجھے کوئی اچھا نہیں لگتا؟کلاس میں میرا کوئی دوست نہیں..
تو میں نے ونی کا نام لیا.. ونی میری دوست تھی تھوڑی سی مطلبی ضرور تھی لیکن تھی اچھی.. میرے بھی بہت کام آتی تھی.
میں نے دانستہ عنصر کا نام نہیں لیا کہ انہیں کہیں برا نہ لگے..
پھر ایک روز عنصر نے مجھے برڈے گفٹ دیا جسے میں گھر لائی تھی.. نانا کو پتہ تھا میری ایک ہی دوست ہے ونی.. اور وہ مجھے ایک ہی تحفہ دے سکتی ہے..
اس بار مجھ سے پوچھنے سے پہلے انہوں نے ریپر پر عنصر کا نام دیکھ لیا. چھوٹا سا برتھ ڈے وشنگ کارڈ اس پیکٹ پر چسپاں تھا.. مجھے لگا نگار کہ نانا مجھے ڈانٹیں گے.
لیکن ایسا نہیں ہوا.. وہ بلکہ خوش ہوئے.. مجھ سے عنصر کے بارے میں پوچھنے لگے.. میں نے بتادیا کہ اسے میرے بنائے نوٹس اچھے لگتے ہیں.. اور وہ میری اسائنمینٹس میں مدد کردیتا ہے.
ہم اسی کالج س گریجوشن کررہے تھے..
اس سال ہم دونوں کااپنی من پسند یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ہوسکا تھا تو ہم دونوں نے اسی کالج کو کنٹینیو کیا تھا بجائے سال ضایع کرنے کے..
گریجویشن تک عنصر مجھ سے پسندیدگی کا اظہار کرچکا تھا.
اور بلکہ چھٹیوں کے دوران ایک آدھ لیٹر بھی لکھا تھا..جو نانا نے ہی پوسٹ مین سے وصول کیا تھا.
مجھے حیرت تھی کہ نانا کو کچھ بھی برا کیوں نہیں لگا..
نانا نے بس مجھے ہر ایک رشتے اور تعلق میں حدود کے اندازے کی سرنزش بھی ایسے کی کہ مجھے معلوم ہے تم یہاں تک جاسکتی ہو.. یہاں تک نہیں.انہوں نے ایک لیکر کاغذ پر کھینچ کر جب یہ کہا تو مجھے اپنی حدود کا اور بھی احساس ہوا.. گریجویشن تک ہمارے خطوط کا تبادلہ ہوتا رہا..
بات کبھی کبھار فون پر آگئی..
ایک روز عنصر نے خود کہا کہ وہ فیملی پریشر سے آزاد ہوکر شادی کرنا چاہتا ہے.
وہ زمادار تھا. اچھا کمانے کی صلاحیت تھی اس میں. وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ شام کے وقت میں ایک الیکٹرانک شاپ پر بیٹھا تھا.
یہ شاپ خود اس نے لگائی تھی. دوست کے ساتھ مل کر. صبح کے وقت دوست اور شام کے وقت وہ بیٹھ جاتا تھا.
نانا کی خواہش تھی میں ماسٹرز کرنے کے بعد شادی کے لیے باقاعدہ سوچوں.. میرے باپ نے میرے لئے کئی رشتے دیکھ رکھے تھے. اور انکی شرط تھی کہ بس یہ آخری چانس ہے. ماسٹرز کے بعد وہ ایک نہیں سنیں گے.. بس بہت ہوگیا.
میری شادی کا اختیار وہ کسی کو دینا نہیں چاہتے تھے..
ایم اے کے ایگزامز چل رہے تھے جب ابا جی نے میرا رشتہ طہ کردیا اور ایگزامز کے بعد شادی طہ کردی.
میری نانی بڑی خوشی خوشی میری شادی کی تیاریوں میں مگن تھی.
اس بار میں بھی ایگزامز خیریت سے گزرجانے کے انتظار میں تھی معلوم تھا کہ رشتے سے انکار مطلب فائنل امتحانوں میں رخنہ.. سو خیریت سے جب آخری پرچہ دیکر گھر لوٹی تو میں نے اور نانا نے کھل کر بات کی.. کیونکہ اسی ہفتے کے آخر میں میرا نکاح تھا ٹھیک چار دن بعد..
اب حل صرف ایک تھا.
نانا نے عنصر سے ملاقات کی. عنصر کے باپ سے بات کی.. انہیں اعتراض نہیں تھا لیکن وہ چاہتے تھے کہ عنصر شادی کے بعد اپنا الگ بندوبست کرے ان کے سر پر بوجھ نہ بنے..
ہم دونوں کو خوب اندازہ تھا کہ میرا باپ مجاہد کبھی نہیں مانے گا. بلکہ اس صورت ذیادہ عجلت سے زندگی کچلی جائے گی.
نانا بہت فکرمند تھے. بالآخر وہ مجھے اپنے ساتھ شہر لے گئے قریبی.. جہاں میں پڑھنے جاتی تھی.
اپنے کچھ دوست بلوائے.
میری کالج فیلوز بلوائیں اور بغیر نانی اور میرے باپ کے انہوں نے چھوٹی سی تقریب کرکے نکاح کرکے وہیں سے مجھے عنصر کے ساتھ رخصت کردیا.
اور اس دن کے بعد وہ کئی مہینوں تک وہ گھر نہیں لوٹے.. نانی کو پیسے بھجواتے رے..اور اپنے تھیٹر کے لئے کوششیں کرتے رہے میرے باپ نے ہم دونوں کو بہت ڈھوندا.. مجھ تک انکی بددعائیں پہنچیں..
اور نانا کے ساتھ انکی لڑائی بھی ہوئی.. نانی بھی رنجیدہ تھیں.. لیکن بڑھاپے کے زور نے کچھ تو انہیں نرم کیا تھا کہ وہ اب اکثر بیمار رہنے لگی تھیں.. اور انہیں کسی کے ساتھ کی ضرورت تھی..
گوکہ نانا نے بتایا تھا کہ زینت بیبی ان کا خیال رکھتی ہے اچھا سا.. لیکن..وہ بھی اب تقریباً وہیں ہوتے ہیں..
وہ خود بھی بہت کمزور ہیں نگار لیکن انہوں نے خود کو بہت سنبھال کر اور سمیٹ کر رکھا ہوا ہے..
بہت ہمت ہے ان کے اندر جو انہیں چلارہی ہے.
تو پھر انہیں سے کچھ سبق لے لو ہمت کا..
ہمت ہے. نگار. ہمت تو ہے.. تبھی تو نباہ کررہی ہوں.. لیکن محنت نہیں ہے..
ایسے لگتا ہے جیسے زندگی میں کوئی مزا نہیں.. کچھ بھی نہیں ہے..
زندگی روکھی پھیکی سی ہے..
اگر کچھ سال پیچھے جاؤں تو لگتا ہے تب ہمارا جذباتی فیصلہ تھا.. عنصر مجھ سے محبت نہیں کرتا تھا.
یہ شاید صرف. ابتدائیہ تھا.
یا پھر پسندیدگی تھی..
ایسا نہیں زیبی وہ محبت کرتا ہے تم سے.. بس قدر کھوبیٹھا ہے.
انتظار کرو کہ وہ تمہاری قدر کرے..
زیب اس بار اسکی بات پر کھوکھلے انداز میں ہنس دی تھی..
تم تو مجھے ہر بار کوئی نیا بہلاوہ دے دیتی ہو..
لیکن اب تمہیں خود کو خود بہلانا ہوگا… شاید ہم بہت دیر میں مل پائیں..
کیوں کیا ہوا؟کہیں جارہی ہو تم؟
ہاں.. حاکم علی کے ساتھ.. اسی گھر میں جہاں اس کی دوسری بیوی بھی رہتی ہے.
رہ لو گی؟
تنہائی سے تو بہتر ہی ہوگا.. تھک گئی ہوں اکیلے بوجھ اٹھاکر خود کا..
ٹھیک ہے.. اچھا فیصلہ ہے یہ.. ضرور موقع دو خود کو..
مجھے حاکم علی سے کوئی اچھی توقع نہیں ہے زیبی نہ ہی میں رکھنا چاہتی ہوں.
جو ملا سو نصیب.. جو نہیں ملا سو ہمارا ہی نہ تھا..
بس تنہائی سے تھک گئی ہوں..
وہ بھرا پرا گھر ہے.. لوگ ہیں..نفرتیں اگر ہونگی بھی تو کسی وقت تو مل بیٹھ کر کھائیں گے.. اور پھر وہاں رہوں گی تو شاید اسے احساس ہو کہ میں بھی اسی کی زندگی کا حصہ ہوں جسے وہ اکثر اوقات رکھ کر بھول جاتا ہے.
اور اگر نہ بھی ہوا تو کیا.. مزا نہ آیا تو لوٹ آؤں گی..
بس مجھے تمہاری بہت فکر رہے گی زیب…بہت زیادہ..
اس نے ماؤں کی سی شفقت سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنا شروع کیا تو وہ اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی..
تم سے مجھے ہمیشہ سکون ملا ہے نگار..
اور مجھے تمہیں سکون میں دیکھ کر ہمیشہ سکون ملا ہے میری پیاری زیبی.
وہ بہت پیار سے بال سہلارہی تھی اس کے..
میں تمہیں بہت مس کروں گی نگار.. زیبی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی.. اور اسکے گلے میں انہیں ڈال دی تھیں.
مجھے معلوم ہے..
کیا میں بھی عنصر کو ایسے ہی قبول کرلوں نگار ؟
اس کے علاوہ فی الحال کوئی اور حل تمہیں نظر آتا ہے؟
نہیں.. وہ اس سے لپٹی نفی میں سر ہلانے لگی..
نگار تم جاؤگی تو میرا کیا ہوگا. ..
سب اچھا ہوگا زیبی.. بہت سارے مسائل انسان کو خود حل کرنا پڑتے ہیں..
خود حل کرنا سیکھو.. پھر ہم بات تو روزانہ ہی کریں گے..
عنصر کب گھر آیا اور بالکنی سے گزرکر لائونج میں جا بیٹھا انہیں پتہ نہ چلا..
احساس تب ہوا جب سگرٹ کی بوء لاؤنج سے ہوکر کمرے کے ادھ کھلے دروازے تک مدھم بکھرگئی.
اس نے یقیناً ایک سے زیادہ سگرٹ پی تھی..
زیبی کو اس دھویں اور بوء سے الرجی تھی.. اور یہ بوء بڑی جلدی اڑکر اس کی ناک تک پہنچتی تھی..
وہ دونوں کمرے سے باہر آئیں تو سگرٹ کے ٹکڑوں سے عیش ٹرے آدھا بھرا تھا.. اور عنصر کے ہاتھ کی انگلیوں میں دبی سگرٹ آدھ جلی ..جبکہ اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ پوری جلی تھی.
نگار اسے سلام کرنے کے بعد نکل گئی تھی..
زیبی دروازہ بند کرکے ادھر آئی تو وہ اسی انداز میں اسکی طرف دیکھ رہا تھا..
ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟
اچھی لگ رہی ہو…
اسے تعریف کا یہ موقع عجیب سا لگا.
شکریہ.. اس نے روکھے انداز میں کہہ دیا.
کھانا کھایا تم نے؟
کھانے کی بھوک نہیں مجھے..
تم نے تو کھایا ہوگا.. اپنی دوست کے ساتھ..
نہیں.. ہم نے صرف باتیں کیں..
وہ دھویں کو ہاتھ سے جھٹک رہی تھی.
اچھا.. صرف باتیں..
تو مطلب خوش ہو تم؟اس نے سگرٹ پوری مسل دی تھی ایش ٹرے میں.
میں خوش ہوں؟کیا مطلب.. ؟
تمہیں پتہ ہے سب مطلب.. سب معنی…
بتایا نہیں تم نے کبھی ..
کیا کیا.. نہیں بتایا. ؟وہ بوکھلاسی گئی تھی.. اسے اس کے لہجے سے عجیب سا احساس ہورہا تھا.
خوش تو ہو… میں سمجھا شاید.. کوئی لڑکا نہ ہو.. لیکن.. چلو گڈ ہے.. چور راستہ چھپ سکتا ہے نہ..
کیا مطلب ہے تمہارا عنصر. کیا کہنا چاہتے ہو تم؟صاف کہو پٹیاں مت پڑھاؤ مجھے..
میں کیا کہوں ڈارلنگ.. کہنے کو کچھ نہیں رہا. تم خوش ہو تو اٹس اوکے…میرے ساتھ نہ سہی.. اس کے ساتھ ہی..
اس نے طنزیہ مسکراتے ہوئے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑا..
شٹ اپ عنصر.. کیا بک رہے ہو تم.. وہ دوست ہے میری..
شیور.. دوست ہے.. میں نے کب کہا کہ نہیں ہے… میں نے تو تمہیں روکا بھی نہیں.. دیکھو کتنی آزادی دے رکھی ہے تمہیں..
اتنی بھلا کون دیتا ہے..
فائن.. اٹس اوکے.. کسی کو نہیں بتاؤں گا میں.. مزے کرو..
میرے ساتھ نہ سہی. اسی کے ساتھ رات بھر..
شٹ اپ عنصر.. شٹ اپ..وہ پورے زور سے چلائی تھی .
اور وہ اتنا ہی زور سے ہنسا تھا
اسے لمحے بھر کو لگا کہ آسمان گھوم گیا ہے.
یا پھر زمین کھسکی ہے.
جو وہ کہہ رہا تھا اسے سمجھتے ہوئے اس کا دل چاہا کہ آسمان کے ساتھ گھوم جائے.
اور زمین کے ساتھ کھسک جائے..

(جاری ہے)

تحریر:سدرتہ المنتہی

ماڈل:ماہم

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف،قدسیہ