میرے ساتھ رہتی ہے

ایک کہانیوں کی لڑکی!

کافی کی جھاگ میں چمچ گھماتے

بھاپ میں گم ہو جانے والی

چلتی سڑک کے عین بیچ

کھڑی رستہ بھول جانے والی

ریستوران کی کھڑکی میں بیٹھی

خلاؤں میں دفن ستاروں میں

کسے تلاش کرتی ہے

ہر شیشے کا سہارا تھامے

کر چی کرچی ہوتی ہے

آس پاس خالی کرسیوں پر

یاد ،مسکراہٹ،خوشبو بٹھائے

اکیلی بیٹھی رہتی ہے کہانیوں کی لڑکی!

رنگوں سے جدا ہو کر,

گیتوں سے نظر چرا کر

میلے سے نکل جاتی ہے!

شوخی سے گھبراتی،ہنسی سے کتراتی

کس بات سے ڈرتی ہے کہانیوں کی لڑکی!

ہنستی مسکراتی آنکھوں سے

میں اسے ٹٹولتی رہتی ہوں

خود سے پوچھتی رہتی ہوں!

یہ جو مجھ سی دکھتی ہے

یہ کس دیس میں رہتی تھی؟

یہ میرے پاس کب سے تھی؟

_______________

کلام،فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:

صوفیہ کاشف