جہاں اُس نے پڑھتے ہوئے مجھ کو چھوڑا تھا
اب تک وہیں ہوں
کسی نے کتابِ محبت پلٹ کر نہ دیکھی
زمانہ کہیں کا کہیں جا چکا ہے
مگر میں ادھوری کہانی میں اٹکا ہُوا
منتظر ہوں کہ وہ آئے
آ کر کتابِ محبت کے اوراق پلٹے
کہانی کو آگے بڑھائے ۔۔۔۔۔۔

اُسے زندگی میں بہت آگے جانے کی خواہش تھی
شہرت، گلیمر سے بھرپور
اونچے سہانے دنوں کی تمنا تھی
عمرِ گریزاں کی مصروفیت میں
اُسے پھر سے پڑھنے کی فرصت کہاں تھی
کتابوں کو الماریوں میں سجا کر
اُسے بھول جانے کی عادت تھی ویسے بھی
وہ جانتی تھی
پرانی کتابوں سے مِلتا ہی کیا ہے
فقط چند سوکھے ہوئے پھول،
بے لمس پتّے، مَری تتلیاںِ،
لفظ دیمک کے کھائے ہوئے،
خط بطورِ نشانی چھپائے ہوئے،
نام کچھ دوستوں کے ۔۔۔۔۔۔۔

جہاں اُس نے پڑھتے ہوئے مجھ کو چھوڑا تھا
اب تک وہیں ہوں
کہ میں بھی فقط اک نشانی ہوں
گزرے تعلق کی بُھولی کہانی ہوں
یادوں کی بوسیدگی کی علامت ہوں
آدھی محبت کی پاکیزگی کی ندامت ہوں میں بھی
مقدس صحیفے میں رکھا ہُوا مور کا پنکھ ہوں
لذتِ اشک میرا مقدر نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔

_________________

( نصیر احمد ناصر، ۱۹۹۲ء )

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

ماڈل:اویس