تہجد کی نمازوں میں ہو موقع ہم کلامی کا
سلیقہ مانگوں میں رب سے ثنائے مصطفائی کا

“رفعنا” کے گواہوں میں بس اک میں ہی نہیں شامل
زمانے بھر میں چرچا ہے عرب کی بادشاہی ﷺ کا

عمل میرے ہوں ایسے فخر کر پائیں مرے آقا ﷺ
شہیدوں غازیوں میں حسن دیکھا سرفرازی کا

دعا ہے یہ عطا ہو نفس و دنیا سے یوں آزادی
مزہ مل جائے مجھ کو پھر محمد ﷺ کی غلامی کا

خجالت سے بچانا میرے مولا مجھ کو واں پر جب
ہوں آقا ﷺ روبرو، موقع عمل کی رونمائی کا

مرے الله ان پر ہو درود اور ہو سلام ان پر
ادا حق یوں بھی ہوسکتا نہیں ان ﷺ کی گدائی کا

مرے اعمال ایسے کر مرے مالک کہ کچھ تو پھر
رہے عزت مری بھی اور بھرم اس نعت خوانی کا

____________

کلام ~نورالعلمہ حسن

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف