علاج__________صوفیہ کاشف

“میں ایک مضبوط عورت ہوں!”اسکا پسندیدہ تکیہ کلام تھا جب کبھی وہ بولتی۔

ایک مضبوط عورت بنننے کی کوشش میں وہ بری طرح ہار گئی تھی ۔جھریوں سے بھرے چہرے پر ٹھوڑی پر اک سفید ہلکی سی بے ربط کانٹ چھانٹ سے بیزار سفیدداڑھی سی اور ہونٹوں پر مونچھ نما روئیں چمکتی تھیں جسے تھریڈ یا ویکس سے صاف کرنے کی کبھی کسی نے زحمت نہ کی تھی۔وہ پاگل خانے میں تھی جہاں پر انسانی چہروں کو انساں سا رکھنے کی زحمت کی ہی کہاں جاتی تھی۔اور بہت سی عورتوں کی طرح وہ مردوں کی طرح زندگی گزارنے والی مضبوط عورت بھی مرد نما پاگل تھی۔

سر پر سختی سے لپٹا میلا کسی زمانے میں سفید رہنے والا پیلا ڈوپٹہ ،دوپٹے میں سے جھانکتی گرتی سفید بالوں کی دو الجھن ذدہ ان دھوئ چار لٹیں،اور ڈوپٹہ کے بیچ میں اسکا جھریوں سے بھرا زردی مائل تھکاوٹ ذدہ سنجیدہ بیمار چہرہ،یاسیت چہرے سے ایسے لپیٹ دی گئی تھی جیسے اینٹوں پر پکے سیمنٹ کا لیپ کر دیا گیا ہو،کبھی نہ اکھڑنے کے لئے۔اسے بہت کم بولتادیکھا جاتا تھا اکثر وہ اپنی ویل چئیر پر بیٹھی کھڑکی کے کنارے کھڑی اس سے باہر جھانکتے نجانے کس کی سرگوشیاں سنتی رہتی۔خاموشیاں، سناٹے تنہائیاں سب اس سے کلام کرتی تھیں محض لوگ،آوازیں اور زندگی سے اسکی نہ بنتی تھی۔وہ ان سے اس قدر دور تھی کہ جیسے کوئ ڈار سے بچھڑی ہوئی کونج سالوں بعد اپنی ڈار سے ملے تو انکی پہچان تک بھول جائے۔ایسے ہی آوازیں اسکے اعصاب پر ہتھوڑے بن کر پڑتی تھیں۔لوگ اسے بے چین کر دیتے اور وہ اپنے ہاتھوں سے ویل چئیر دھکیلتی کسی نہ کسی کھڑکی، کسی دروازے کے کونے سے ٹکا لیتی،یا دالان سے پرے کسی پھول کیاری کے قریب لا کر کھڑی کر دیتی اور اگلے کئی گھنٹوں تک خلاؤں کی طرف نظر ٹکائے جانے کس کی راہ تکتی،آسمانوں سے اس کا کوئ مسیحا اترنا تھا یا آسماں کی سمت اسکا کوئ رستہ کھلنا تھا کسی کو خبر نہ تھی،خبر ہوتی بھی تو کیسے،وہ کلام ہی نہ کرتی تھی ۔پاگل خانے کی اس چھت کے نیچے سب ذرہ بے نشاں جیسی عورتیں تھیں جو سماج،رواج یا انساں کے نیچے آ کر کچلی جا چکی تھیں،جنکی بازیاں مات کھاگئی تھیں اور ذندگی کی لڑائ میں شکست خوردہ ٹھہری تھیں۔سو کیا فرق پڑتا تھا کوئ اردو بولے کہ پنجابی ،سندھی ،سرائیکی یا سرے سے بولے ہی نہ،اس انسانوں کے ظلمت کدے میں جہاں کوئ عورت ہر وقت بچوں کی یاد میں چیخیں مارتی،کوئ ہر پل باپ کی مار سے بچتی بھاگنے کی لگن میں رہتی،کسی کے کپڑے ایسے اترے کہ اب پہنانے مشکل تھے،کوئ نادیدہ جدائ میں رو رو تھکتی نہ تھی ایسے میں ثمینہ عرف مینا بی بی بولے کہ نہیں یہ پرواہ کسی کو نہ تھی۔

مینا بی بی کے دکھ سب سے ہلکے تھے اس لئے اسکا شور شرابا بھی سب سے کم تھا۔تیسری دنیا کے اس تیسرے درجے کی مخلوق کے لئے تیسرے درجے کے اس پاگل خانے کی عوام میں اسے اک سمجھدار معزز پاگل کا درجہ حاصل تھا جو شور شرابا کرے،نہ کپڑے پھاڑے،مار کٹائی ،نہ زنجیروں سے باندھنی پڑتی،،بس یہ کہ کبھی کبھی بڑی مشکل سے اسکا گوند سے جڑا منہ کھول کر اس میں خوراک انڈیلنی پڑتی،کبھی کبھی کسی سرکاری دورے کسی خاص وزٹ کے لئے اسے ایک محفوظ آپشن سمجھ کر نمائش کے لئے آگے کر دیا جاتا۔ سفید الجھے بالوں والی مینا بی بی کی زبان زرا سی ہلتے ہلتے تھک جاتی،تھوڑا سا بولتے ہانپ جاتی ،سانس چڑھ جاتا اور عمر میں دس سال کا اور اضافہ ہو جاتا۔مینا بی بی ظلم کے ہاتھوں نہیں جبر کے ہاتھوں اس حال میں پہنچی تھی،وہ جبر جو معاشرے سے مقابلے کی خواہش میں اس نے خود پر کیا تھا۔

پہلی بار وارڈ کا چکر لگاتے مجھے اسکی سنجیدگی نے حیران کیا۔وہ وارڈ کے سب مریضوں سے مختلف تھی۔ ہونٹ جتنے خموش تھے اس کی آنکھیں اتنا ہی شور مچاتی تھیں۔یوں لگتا جیسے کھڑکیوں کے پیچھے اک گھمسان کا رن مچا ہو،اک کائنات بند ہوں ان پردوں کے پیچھے اور دروازے بجاتی ہو کہ مجھے کھولو باہر نکالو۔میں اس پر کچھ خاص دھیان دیتی۔کبھی وقت ہوتا تو اس کے پاس تھوڑا بیٹھ جاتی کبھی موڈ بنتا تو اسکی وہیل چئیر لیکر ہسپتال کے باہر گراؤنڈز میں اسے پھولوں کی کیاریوں کے پاس لیجاتی۔وہ ایک بے ضرر مریض تھی،ایسی بے ضرر جس سے مجھے کوئ خطرہ نہ تھا۔کچھ عرصے میں وہ کبھی کبھی کچھ بولنے لگی۔کبھی کبھی اسکے لبوں سے خود بخود ایک اچھوتی سی کہانی بہہ نکلتی اور کہیں درمیان سے شروع ہو کر کہیں بیچ میں ہی ختم ہو جاتی۔بہت سی بے ربط کہانیاں سن کر مجھے اسکی داستان سمجھ میں آنے لگی تھی۔

مضبوط اور بہادر عورت جسکے جھوٹے تصور کو ڈھونڈتے اس نے خود کو پاگل بنا ڈالا تھا اور ناکام ٹھہری تھی۔

پہلی بار اسے بہادر بننے کی کوشش تب کرنی پڑی جب کم سنی میں گھر میں ہر طرف مردوں کا راج دیکھا۔ دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے بعد اماں ابا نے پیدا ہوتے ہی اس لڑکی کی صورت دیکھی تو پرلی چارپائی پر لٹا کر بھول گئے۔اماں نے سر باندھ لیا ابا کھانستا زیر لب بڑبڑاتا گھر سے نکل گیا۔اٹھتے بیٹھتے ،چلتے پھرتے کسی نے اٹھا اٹھا جھولے دیے نہ بھاگ بھاگ آنسو پونچھے۔”بیٹی ہے سرد گرم کی عادی ہونی چاہیے”اماں کا پسندیدہ کلام تھا۔وہ کبھی ادھر لڑھکتی ،کبھی ادھر گرتی سرد و گرم کی عادی ہوتی چلے گئی۔وہ جس نے پھولوں کی طرح نزاکت سے پلنا تھا کیکر کے درخت پر کانٹے کی طرح پالی گئی۔محبت،توجہ سے لیکر کپڑا لتا،کھانا پینا سب دوسرے درجے کی مخلوق کی طرح بچا کھچا حصے میں آیا۔جنکا رونا سننے والا کوئ نہ ہو وہ مضبوط نہ ہوں تو کیا کریں؟

گھر کے جوان گھبرو لڑکے سارے محلے کی لڑکیوں کے پیچھے کتے کی طرح خاک چھانتے ، آوازیں کستے،آنکھیں مارتے تھک جاتے تو گھر پہنچ کر بہنوں کے کپڑوں میں،ان کی ہنسی میں اور رویے میں بے حیائی ڈھونڈتے۔کبھی کوئ کسی لڑکی کے بھائ سے پٹ کر آ جاتا تو گھر آ کر کسی نہ کسی بہن کی گت مروڑنے لگتا۔اور انہیں یہ سب مردانہ ماریں حوصلے سے کھانی پڑتیں۔گلی گلی کی ہر عورت کی نظروں کو تولنے والوں کو بہن کا جھکا سر اور حیا دار آنکھ کبھی نہ دِکھی۔دکھائ دی تو تب جب اس میں کوئ سپنا جاگا اور وہ بھی خواب آلود سے ذیادہ گند آلود لگی۔ اس کا مقدر پٹنا تھا مردوں سے، پٹتی رہی۔گھر کے سو پردوں میں اور دنیا جہان کے غیر مردوں سے پرے رکھی جانے والی وہ لڑکی نما مخلوق دنیا جہان کی خاک چھانتے گھر کے مردوں کی نظر سے تولی جاتی تو معتوب ٹھہرتی۔ان سب گناہوں کی زمہ دار ٹھہرتی جو بھائیوں کی بدولت گلی گلی میں پھیلے تھے کہ اس سے کم کسی کی حد ہی نہ تھی۔

جوانی آئ تو گلی میں خاندان میں سکول کالج کے باہر کھڑے گھبرو جوانوں میں گلفام ڈھونڈنے لگی۔کوئ ایسا محمد بن قاسم جو اسے بھائیوں کی مار سے ماں باپ کی ٹھوکروں سے بچا کر رانی بنا کر لے جائے گا۔گھر کے آنگن سے چار تارے دکھانے والے صحن میں رہ کر لوگوں کی پہچان کرنے چلی تھی۔جو دیکھنا چاہتی تھی سامنے دکھنے لگتا،جو دل کی خواہش ہوتا وہی ہر طرف دکھائ دیتا۔اسے خبر نہ تھی خواب اور حقیقت کے بیچ پڑا ایک سخت پردہ ہے۔یہ جو گورا گورا سا دکھتا ہے یہ دراصل کالا ہے اور یہ اکڑے کپڑوں اور جمے بالوں والے سب کے سب جنگلوں میں شکار کو نکلے بھیڑیے ہیں۔سہانے سپنے دیکھتے کتنی بار اپنی بوٹیاں بچائیں تو ادراک ہوا کہ یہاں محبتوں کے بھیس میں فقط جنس کا سودا ہے۔محبتوں کا پاکھنڈ محض ڈراموں اور فلموں میں پایا جاتا ہے۔

ادھر سے ناکام ٹھہری تو کچھ بن جانے کی لگن آنکھوں میں ہر خواب سے بڑھ کر اتری۔ اس سے پہلے کہ کتابوں میں جان کھپاتی،محنت کر کے اپنی زندگی کا روپ بدلنے کی کوشش کرتی باپ کو ایک عزیز کی بدولت سر کا بوجھ اتارنے کا آسرا مل گیا۔چناچہ آنکھوں کے خواب چھین کر ان میں کاجل بھرنے کی کوشش شروع ہوئی۔۔

اعتبار ،محبت،خواب اور ایمان کی کرچیوں سے گزرتی اس دہلیز پر پہنچی جسے دنیا اس کے لئے امان کہتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلا مضبوط آسرا وہ مرد تھا جو باپ نے کمائ گن کے اس کے پلے باندھ دیا ۔ پیسوں کا امیر دل اور اخلاق کا کنگلا نکلا،غراتا تو دیواریں تک توڑ پھینکتا وہ تو پھر انسان تھی۔ ٹھنڈی چائے ،کم نمک ،بکھری چادر،کم کلف کچھ بھی اسے چنگاڑنے پر مجبور کر دیتا۔پھر برتن گرتے ،گالیاں نکلتیں،اگلے پچھلے خاندانوں کو عزت کی خاطر سر چھپانے پڑتے۔

کتنے ہی سال وہ اس بے درد کو درد محسوس کروانے کی کوشش کرتی رہی ۔اک بے جوڑ لگایا جوڑ اسکو نبھانا تھا پھر وہ جوڑ محبت کے نام کا ہو احساس کا یا قربت کا۔خود کو شریف، وفا شعار، تابعدار بیٹی اور بیوی کہلانا تھا۔سب نے کہا ٹھیک ہو جائے گا،،بچوں کے بعد ٹھیک ہو جائے گا! وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جاتے ہیں۔سمجھ نہ سکی کہ وقت کا فریب تو عورت کو دلدل میں پھنسانے کے لئے ہوتا ہے۔وہ سبز گھاس کی آس میں دور نظر لگائے دلدل میں اترتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ ہاتھ پیر سر سب پھنسا بیٹھتی ہے ایسے کہ پھر نہ آگے جانے کی آس رہتی ہے نہ پیچھے مڑنے کی امید۔
بچوں کے آسرے کی امید بھی زہریلی فصل اگانے لگی اور آنگن میں اترے فرشتے باپ کا رنگ روپ اوڑھنے لگے ۔باپ کی طرح چیخنا چلانا،رعب جمانا،بات بات پر ناک بھوں چڑھانا،سو سو کیڑے نکالنا پھر چاہے وہ چائے ہو کہ کھانا کام ہو کہ تربیت۔ایک شخص کے ساتھ نبھانے کی کوشش کرتے اس نے اپنے آس پاس ناپسندیدہ انسانوں کا ڈھیر لگا لیا تھا ۔جن پر وہ اپنا سارا وقت،ساری جوانی،کل محبت لٹا بیٹھی تھی آج وہی اولادیں اک نئی آزما ئش بن گئی تھی۔عمر بھر کی کمائ بھی چولہے میں جا پڑی تھی۔اگر جو اولاد سے آس لگاتی وہ یہاں تک چلتی آئ تھی تو اب کی بار امید کی یہ آخری کرن بھی ڈوبی تھی اور ذندگی کے سمندر میں ڈوب جانے سے بچنے کی آخری کوشش بھی ہار گئی تھی۔جس دن اٹھارا سالہ بیٹے نے برتن توڑنے کے بعد ماں کو بھی دھکا دے کر توڑ ڈالا تھا وہ ایک پتھر کی طرح خلفشار کے سمندر میں گرتی چلی گئی۔ذندگی کا کوئ سرا پہلے بھی سیدھا نہ تھا اب کہ سارے کا سارا لچھا ہی الجھ گیا تھا۔ ضبط کے بندھن شاید باقی تھے مگر دل سے ہر امید آٹھ چکی تھی۔ذندگی کی ڈوری تھامتی ساری ڈوریاں اپنے سانس ہار بیٹھی تھیں۔ ذہن سے شعور رخصت ہوا آنکھوں سے ارتکاز اور ٹوٹی ٹانگوں کے نیچے پہیوں والی کرسی رینگنے لگی۔رشتوں کے نام اور صورتیں سب نظر سے اوجھل ہو گئیں اور وہ گھر کی چار دیواری سے نکال کر اس پاگل خانے کا مقدر بن گیی۔

مینا بی بی کی صحت ایک چیلنج تھی جسے میں نے قبول کیا تھا اور کر کے دکھایا تھا۔جس روز وہ صحت یاب ہو کر ہسپتال کے نرسنگ عملے میں شامل ہوئی وہ میرے کیرئیر اور کامیابی کا ایک اہم دن تھا۔اس سال ہونے والی نفسیاتی امراض کی ایک کانفرنس میں مجھ سے بار بار پوچھا گیا کہ اس مریض کو صحت یاب کرنے میں سب سے بڑا چیلنج کیا تھا۔میرا جواب انکی تمام توقعات کے خلاف تھا۔

“اس عورت کو پاگل خانے سے باہر لانے میں مجھے صرف دو مسلئے تھے ۔ ایک ،مجھے اسکے اندر گھسائےگئے مضبوط عورت کے بھوت کو مارنا اور اصل کمزور عورت کو جگانا تھا۔کمزور عورت جو روئے،بین کرے، دھاڑیں مارتی ظالم کا گریبان جا پکڑے۔کئی ماہ تک اس کی یادوں کو الیکٹرک شاک لگواتے مجھے اسے رولانا پڑا۔ بچپن سے لیکر بڑھاپے تک کے روکے گیے سب آنسو بڑی تکلیف سے اسکی آنکھوں کی گہرائی سے نکالے گئے۔ذخموں کو کرید کرید کر ان پر مرہم کے پھاہے رکھے گئیے۔کچھ رفو ہوئے، کہیں جراحی ، تب جا کر اس کے اندر کی کمزور عورت باہر آئی ۔ کمزوریوں کو قبول کرنے والی،اپنے دکھوں پر رونے والی!جو مضبوط نہ ہوں وہ مضبوط ہونے کی کوشش میں خود کو توڑ بیٹھتے ہیں۔میں نے اسے سکھایا کہ اپنی کمزوریوں پر صبر کرنا خود کو مضبوط کرنے کی کوشش سے بہتر ہے۔عورت کے مسائل کے حل عورت ہونے میں ہے۔خود کو زندوں میں شمار کرنے کے لئے یہی سبق سیکھانا اشد ضروری تھا۔”

“اور دوسرا مشکل سبق تھا،امید دینا! یہ سمجھانا کہ ماں باپ،بھائی بہن،شوہر اور بچوں کے بعد بھی اس دنیا میں بہت کچھ ہے جس میں وہ اپنا حصہ ڈال سکتی ہے۔کچھ لوگ ان شتوں سے آگے بھی آپ کی راہ دیکھتے ہیں۔جب اپنوں سے کچھ نہ ملے تو جھولی بھر کر انکے پاس چلے جاؤ،سالوں کے مسائل کا حل ہو جائے گا!”

اور صحت یاب ہو کر وہ اسی ہسپتال کے مریضوں کا خیال رکھنے لگی۔شفا لینے آئی تھی شفا یاب ہو کر شفا بانٹنے لگی۔

_________________

تحریر و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

______________

تحریر:صوفیہ کاشف

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

۔۔۔۔۔۔۔۔

Advertisements