الف ڈرامہ اپنی بھرپور ڈرامہ نگاری،سینماٹوگرافی،ڈائریکشن،کہانی کی بنا پر عوام کی بھرپور توجہ سمیٹنے میں کامیاب رہا مگر یہ کہنا کہ یہ عوام کو ڈرامے کی طرف کھینچ لانے والا ڈرامہ ہے خاصی مبالغہ آرائ ہے۔کہانی ،کرداروں،اور تھیم کے حساب سے یہ ڈرامہ ایک اسی سیکوئل کا حصہ ثابت ہو رہا ہے جو پیر کامل،میری ذات ے نشاں,شہرذات،سمیت عمیرہ کے اکثر ناولز اور ڈراموں میں اختیار کیا گیا ہے۔وہی میری ذات ذرہ بے نشاں سے کیلی گرافی میں سکون ڈھونڈتی لڑکی،وہی ایک اپنے مقام سے اُکھڑا ہوا ہیرو،وہی خدا کی تلاش سمیت بہت کچھ عمیرہ کے پرانے ڈراموں سے اخذ کیا دکھائی دیتا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے عمیرہ احمد خود سے اپنے سحر میں گم ہو چکی ہیں اور ایک ہی تھیم ،کردار، حوالے بدل بدل کی اسی کے گرد دائرے میں گھومنے لگی ہیں۔

عمیرہ احمد جیسی رائیٹر کی طرف سے پرانی کھیر نئے چاندی کے ورق کے ساتھ خاصی مایوس کن ثابت ہوئی کہ جو لوگ اچھا ڈرامہ لکھنے کے قابل ہوں اگر اپنے ہی کسی کردار یا تھیم کے گرد گھومنے لگیں گے تو نئے ڈرامہ رائیٹرز کو نئی سمت کہاں سے ملے گی۔اگرچہ ڈرامہ اور ڈرامہ نگار ریٹینگ دیکھ کر کامیاب ہوتا ہے اور ریٹنگ ہمیشہ اکثریت سے بنتی ہے۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں پڑھنے پڑھانے والے کم لوگ ہوں کسی غیر معیاری یا محدود معیار کا ڈرامہ کامیاب ہو جانا کوئی انوکھی بات نہیں۔

اچھا ہوتا اگر کرداروں کی الٹ پلٹ کے ساتھ ایک ہی تھیم پر بار بار لکھنے سے آگے بڑھ کر ان موضوعات پر لکھا جاتا جن پر ابھی تک لکھنے والوں کی نظر نہیں گئی۔پھر عمیرہ احمد کے نام پر جو دیگ چڑھائی گئی ہے کم سے کم اسکا مصالحہ ضرور دل چھو لیتا۔مگر اب حالات ایسے ہیں کہ کرداروں کے آغاز سے انجام تک سب کچھ

predictable

ہے،کچھ بھی انوکھا نہیں۔خوبصورت ڈائریکشن،جاندار اداکاروں کے ساتھ پرانی کہانی چل تو جائے گی مگر شاید اتنی متاثرکن نہ ہو سکے جتنی عمیرا کے نام سے وابستہ کر لی جاتی ہے۔فی الحال میڈیا میں ڈرامہ مقبول ہو رہا ہے مگر مقبولیت کا کیا ہے،مقبول تو من مائل بھی ہو گیا تھا!

________________

ریویو:صوفیہ کاشف