امرتسر سے لاہور تک ________شازیہ ستار


پانی……پانی …..لاشوں میں دبے بچے کے سوکھے لب پکار رہے تھے لیکن پانی نہیں تھا ……یا شاید پانی تھا مگر آنکھ کا پانی مر گیا تھا۔ دھرتی نفرت کا صحرا بن گئ تھی ۔پنج دریاؤں کی سر زمیں پنجاب کے باسی پیاس سے بلک رہے تھے کیونکہ دل کے دریا سوکھ گئے تھے ۔اب کنوؤں میں لاشیں تھیں اور جوہڑوں میں خون تھا ۔نوک قلم سے ہندوستان کا بٹوارہ کیا ہوا پانی بھی تقسیم ہو گیا واہگہ کے ایک طرف ہندو پانی واہگہ کے دوسری طرف مسلم پانی ۔
اس تقسیم کے ساتھ ساری اخلاقی انسانی قدریں بھی ختم ہو گئیں ابن آدم آزادی پا کر ذلت کی ان گہرائیوں میں اتر گیا جہاں پستیاں بھی شرما جائیں ۔
آزادی کی دیوی اپنی پوری بھینٹ لے رہی تھی….. لہو کی بھینٹ…… عصمتوں کی بھینٹ …..اور آزادی کا جشن منانے کے لئے لہو کے چراغ جل رہے تھے عصمتوں کی شمعیں فروزاں تھیں –
کلثوم لاشوں کے درمیان بے حس وحرکت بیٹھی تھی نہ لبوں پہ آہ تھی نہ آنکھوں میں آنسو ….بس ذہن میں ایک ہی نعرہ گونج رہا تھا
آزادی …..آزادی …..
اس آزادی کے لئے سالہا سال ہندوستان کے باسیوں نے جدوجہد کی تھی جب جلیانوالہ باغ کے سانحہ میں اس کا خاوند شہید ہوا تھا تو امرتسر سیف الدین کچلو کا بھی تھا اور ستیہ پال کا بھی ۔احراری تحریک کا بھی تھا اور اور اکالی تحریک کا بھی لیکن اب آزادی ملی تو یہ کچلو کا امرتسر نہ رہا ستیہ پال کا ہو گیا ۔”راج کرے گا واہ گرو کا خالصہ “کے نعروں میں سکھ مشرقی پنجاب کو مسلمانوں سے خالی کروانے میں سر گرم ہو گئے۔ انگریزوں کے راج میں ایک پستول نہیں ملتا تھا اور آزادی ملتے ہی نہ جانے اتنا اسلحہ کہاں سے آگیا جو اس زمین کے باسیوں کے دل چھیدنے لگا …..گھر جلنے لگے لوگ مرنے لگے اور پھر ہزاروں کی تعداد میں مسلمان اکٹھے ہو کر شہر سے بھاگ پڑے ان سب کی منزل پاکستان تھا ۔کلثوم کا خاندان بھی ان میں سے ایک تھا بیٹا بہو پوتا اور وہ۔
سب بھرے پرےگھر چھوڑ کر بے سرو سامانی کے عالم میں گھر سے نکلے چھپتے چھپاتے کسی نہ کسی طرح پاکستان آنے والی ٹرین تک پہنچ گئے ۔اس ٹرین کی کسی بوگی میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی لوگ چھتوں پہ سوار تھے اور بڑی تعداد میں ٹرین کے دروازوں میں بھی لٹکے ہوئے تھے ۔
امرتسر سے لاہور کا فاصلہ صرف 31 کلومیٹر کا ہے لیکن ٹرین کچھوے کی رفتار سے چل رہی تھی ابھی امرتسر کی حدود سے نکلی ہی تھی کہ ہندو اور سکھ بلوائیوں نے حملہ کردیا اور بے دردی سے مسافروں کا قتل عام کرنے لگے۔ کلثوم کے بیٹے کو بھالے مار مار کر شہید کردیا اور لاش ٹرین سے باہر پھینک دی۔ بہو کو سکھ اٹھاکر لے گئے پوتا خوف سے بے ہوش ہو گیا اس کے اوپر لاشیں آ گریں اور وہ نیچے دب گیا ۔ کلثوم زخمی تھی لیکن زندہ تھی ۔
پانی ….پانی ….بچہ ایک مرتبہ پھر پکارا اور اب کی بار وہ ہمت کر کے لاشوں کے نیچے سے نکل آیا کلثوم کو سامنے پا کر گھسٹتا ہوا آیا اور کلثوم کے گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر بولا “پانی ….دادی پانی ….دادی …..”
اسکی پکار نے بے حس وحرکت بیٹھی کلثوم میں جیسے جان ڈال دی ہو
“گڈو …..گڈو ……”کلثوم نے اسے سینے سے لگا لیا اور دھاڑیں مار کر رونے لگی ۔
“اماں ……ابا …..”بچہ بھی رونے لگا
روتے روتے دونوں کی ہچکی بندھ گئ بچہ بھول گیا اسے پیاس لگی تھی ۔
“میری اماں …..میرے ابا …..کیوں مارا انہوں نے ……کیوں …..”
کلثوم کے پاس اس کیوں کا جواب نہیں تھا بس آنسو بہاتی رہی …..دکھ کے آنسو …..بے بسی کے آنسو …..
خدا خدا کر کے جب ٹرین لاہور سٹیشن پہنچی تو چند لوگ ہی زندہ تھے باقی سب لاشیں تھیں …..سر بریدہ لاشیں …..جن کے سر نیزوں میں لگا کر کھڑکیوں میں سجائے ہوئے تھے ۔ ایک بوگی میں وہ بچے تھے جنکے ہاتھ پاؤں کاٹ کر انہیں تڑپتا ہوا چھوڑ دیا گیا تھا ۔
کلثوم لاشوں میں راستہ بناتی گڈو کا ہاتھ تھام کر ٹرین سے نیچے اتری تو آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی تھی لب خشک تھے کلیجہ پھٹ رہا تھا ایک رضا کار لپک کر آیا
“ماں جی ادھر آئیں ”
کلثوم نے آنسوؤں کی دھند میں اسے دیکھا اور اسکے ساتھ چل دی
“پانی پیئیں …..”رضاکار نے اسے اور گڈو کو پانی دیا
کلثوم کے کانوں میں بہو کی چیخیں گونجنے لگیں ……آنکھوں کے سامنے بیٹے کی تڑپتی لاش آگئ گلاس اسکے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور اس نے ہوش کا دامن چھوڑ دیا۔
جب ہوش آیا تو مہاجر کیمپ میں تھی ہر طرف آہیں تھیں سسکیاں تھیں ….سب کی ایک سی کہانی ایک سے دکھ ……اک نئ دنیا کا نقشہ خون سے بن رہا تھا آگ صرف امرتسر میں ہی نہیں لگی تھی لاہور بھی جل رہا تھا ۔شاہ عالمی گیٹ کے مکانوں اور حویلیوں کے ساتھ ہندو آبادی کے بدن بھی جل رہے تھے وہاں سے اٹھتی راکھ نے لاہور کے آسمان کو گدلا دیا تھا جلنے کی بو دلوں کو سلگا رہی تھی ۔ وہ سوچتی” یہ کیسی آزادی ہے جس نے ظلم کو جنم دیا ہے۔”ہر طرف درد تھا دکھ تھا۔وہاں سے لاشوں کی بھری گاڑیاں آرہی تھیں تو یہاں بھی بدلے کی آگ سب بھسم کرنے کے درپے تھی۔وحشت وبربریت کی اک ایسی داستان شروع تھی جس میں انسانیت ہار گئ تھی ۔
زندگی اسے موت سے بدتر لگتی۔ اگر گڈو نہ ہوتا تو شاید مر ہی جاتی ۔
ہر صبح وہ اپنے زخم سینے شروع کرتی جو رات ہوتے ہی ادھڑنے لگتے۔ہر درد رسنے لگتا اس شدید ذہنی دباؤ میں وہ روز جیتی روز مرتی۔ بیٹے کی شہادت پہ تو صبر آگیا تھا لیکن بہو کی چیخیں اس کا کلیجہ چیر دیتیں۔ کسی پل چین نہ آتا۔ گڈو سہما ہوا اس کاپلو تھامے رکھتا ۔
ایک روز کیمپ میں بیٹھے بیٹھے نہ جانے کیا سوجھی گڈو کا ہاتھ تھاما اور سٹیشن جا پہنچی ۔فضا سوگوار تھی ہواؤں میں دکھ سائیں سائیں کر رہا تھا ہندوستان سے آنے والی ریلوں کے حالات وہی تھے زخمیوں اور لاشوں سے بھری ہوئیں ۔آنسوؤں اور آہوں میں ڈوبی ہوئیں …..ایک طرف ایک جگہ بنی تھی جہاں ہندو اور سکھوں کے ہندوستان جانے والے قافلے پہنچ رہے تھے ایک فوجی دستہ ان کی حفاظت کے لئے معمور تھا ۔
کلثوم گھبرا کر وہاں سے نکلی اور بلا ارادہ ریل کی پٹڑی کے ساتھ ساتھ چلنے لگی کچھ دور ہی گئے تھے کہ ایک جوان مرد ایک عورت جس کی گود میں ننھا بچہ تھا نظر آئے یوں لگتا تھا جیسے کسی سے بچ کر بھاگے ہوں قریب پہنچے تو احساس ہوا کہ وہ ہندو ہیں ۔عورت بار بار پیچھے دیکھتی تھی
“کون ہو تم …..کہاں جارہے ہو ؟”کلثوم نے پوچھا
“کہیں نہیں جا رہے “مرد گھبرا کر بولا
“ہم …..ہم امرتسر جانے کے لئے سٹیشن پر آ رہے تھے …..راستے میں چند مسلمانوں نے دیکھ لیا اس خوف سے کہ وہ ہم پر حملہ نہ کر دیں ہم ان سے چھپ رہے ہیں۔”عورت نے کہا شاید اسے اس بڑھیا اور بچے سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا تھا ۔
قریب ہی چند لوگوں کے قدموں کی آواز گونجی وہ مرد اور عورت تیزی سے درختوں کے پیچھے جا چھپے ۔
کلثوم کی نگاہوں کے سامنے اپنے بیٹے بہو کی صورتیں آگئیں۔ لٹی پٹی ریل کے مناظر ذہن میں گھوم گئے۔ بدلے کی خواہش نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔جی چاہتا تھا کہ ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہو جو مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان میں ہو رہا ہے…..قبل اس کے کہ وہ آنے والوں کو ان کی نشاندہی کر دیتی….. گڈو کی آواز سنائی دی-” دادی! کیا ان کو بھی مار دیں گے۔؟”

کلثوم کو چند لمحے سمجھ نہیں آئی کہ کیا جواب دے…..
کانوں میں لے کے رہیں گے پاکستان بٹ کے رہے گا ہندوستان کا نعرہ گونجا۔آزادی کے ساتھ جڑے ہوئے خوبصورت خواب نگاہوں کے سامنے آگئے….. ایسے دیس کا خواب …… جہاں امن ہو….. سکون ہو۔ اس نے گڈو کی طرف دیکھا۔
بدلہ لینے کی خواہش کرتے دل کو سمجھایااور ایسا کرتے ہوئے وہ ضبط کی جس کڑی منزل سے گزری یہ صرف اس کا دل ہی جانتا تھا۔مگر اس کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا گڈو اس نئے ملک کا مستقبل تھا اور وہ اس مستقبل کو وحشی اور بربر نہیں متحمل ہمدرد مدبر اور عظیم دیکھنا چاہتی تھی ۔
اس گروہ کے چلے جانے کے بعد کلثوم نےاس ہندو خاندان کو بحفاظت ان کے کیمپ تک پہنچایا اور ریل میں بیٹھنے سے پہلے جب انہوں نے کلثوم کے پاؤں چھو کر اجازت چاہی تو سکون کی اک لہر اس کے رگ وپے میں اتر گئ ۔اس نے انسانیت کو بچا لیا تھا آج پہلی بار وہ رات کو کیمپ میں سکون سے سوئی ۔ اب یقیناً اک نئ، امیدوں بھری صبح اس کی منتظر تھی ۔

______________

تحریر ۔شازیہ ستار نایاب

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

فوٹو کرٹسی:دی انڈین ٹائمز

Advertisements

2 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.