سراب_____________زارا رضوان

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

تحریر:زارا رضوان

________________

جیسے ہی میسج کی بیپ ہوئی اُس نے فوراً موبائل اُٹھایا اور میسج پڑھنے لگی۔ چہرے پر مدھم مسکراہٹ بکھر گئی۔۔ اُلٹے ہاتھ سے بریڈآملیٹ کھاتے ہوئے سپیڈ سے میسج ٹائپ کرنے لگی۔۔ رقیہ بیگم نے تیکھی نظروں سے دیکھا۔چہرے پر ناگواری کے اثرات کے واضح تھے۔
” کبھی چھوڑ بھی دیا کرو اِس منحوس کاپیچھا ۔ جسے دیکھو اِسی میں گھسارہتا ہے جیسے کھانے کو پیسے دیتا ہو”۔۔
“امی جان ضروری نہیں ہر چیز کھانے کیلئے پیسے دے۔ کچھ چیزیں اِنسان کوتفریح دینے کیلئے ہوتی ہیں، سکون دینے کیلئے ہوتی ہیں”۔۔ ساتھ ساتھ ٹائپنگ جاری تھی۔
“اِس میں سکون کہاں ہے؟ سکون چاہیے تو نماز پڑھو، قرآن پڑھو ، اللہ کو یاد کرو”۔۔ر قیہ صابر نے بریڈ پر جیم لگا کر اُسکی پلیٹ میں رکھا۔ وہ خاموشی سے میسج ٹائپ کرتی رہی۔
“بعد میں بات ہوگی۔ آئی ایم ہیونگ بریک فاسٹ “۔۔ میسج سینڈ کیا۔ پھر ٹیبل پر پڑی چیزوں کی تصویریں بنانے لگی۔ موبائل ایپ سے اچھی طرح امیج کو ایڈٹ کیا، کیپشن لگا کرپوسٹ کا بٹن دبا دیا۔وہ جانتی تھی تھوڑی ہی دیر میں لائک اور کمنٹس کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ ۔ موبائل واپس ٹیبل پر رکھ دیا۔
“یہ لیں رکھ دیامنحوس کو۔ اب خوش”۔۔ ر قیہ بیگم ہنہ کہہ کر چائے پینے لگ گئیں۔ مسکراہٹ اب تک اُسکے چہرے پر رقص کر رہی تھی۔
********************
“حد ہے تھوڑا صبر نہیں کر سکتے۔ ناشتہ کر رہی تھی”۔ گاری کا ہارن سن کر ایمن بھاگی بھاگی آئی۔ سانس پھولا ہوا تھا ۔۔ چہرہ دھوپ کی تمازت سے چمک رہا تھا۔
“تھوڑا سا ؟ میڈم پچھلے بیس منٹ سے کھڑا ہوں۔ روز مجھے آفس کیلئے لیٹ کروا دیتی ہو۔۔ اب بیٹھو بھی۔ “۔۔ اُسکو کھڑا دیکھ کر بولا تو فوراً بیٹھ گئی۔
“یہ تم کیا ہر وقت فیس بک میں گھسی رہتی ہو۔ جب دیکھو موبائل ہاتھ میں رہتا ہے۔ کبھی تو جان بخش دیا کرو”۔۔ ایمن کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کرراحیل جل ہی تو گیا۔
“جان کسکی بخشوں؟ فیس بک کی یا موبائل کی؟”۔۔ بات کاٹ کر ٹائپنگ کرتے ہوئے ایمن نے شوخی سے کہا
“ہوسکے تو دونوں کی۔ “۔۔ راحیل نے تپ کرجواب دیا۔ اُسکی شوخی راحیل کو ایک آنکھ نہ بھائی۔ ایمن نے کوئی جواب نہ دیا
“ایکسس آف ایویری تھنگ اِز بیڈ۔۔ کوئی اچھی چیز نہیں فیس بک جس پر لگ کر تم سب کچھ بھولی ہوئی ہو ۔ ایگزام ہونیوالے ہیں پڑھائی پر توجہ دو”۔۔
” میں جو مرضی کروں۔۔ آپکو کیا تکلیف ہے ۔ اپنے کام سے کام رکھا کریں آپ۔۔ ہنہ۔۔ آیا بڑا اعتراض کرنیوالا”۔۔ ایمن نے بات کاٹ کر بدتمیزی سے کہا تو اُس نے خاموش رہنےمیں ہی عافیت جانی۔
*************
تم کو دیکھا تو خیال آیا
زندگی دھوپ تم گھنا سایہ
مسٹر فیک بک کی طرف سے اِس شعر کو ٹیگ کئے جانے پرکتنی دیر وہ اِن لفظوں کے حصار میں کھوئی رہی۔ لائک کا بٹن دبا کر پوسٹ میں دِل والا آئکن منتخب کیا۔
“کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں جو ابھی تک اپنی تصویر نہیں دِکھائی نہ ہی اپنا نمبر دیا؟”۔۔تھوڑی دیر بعد مسٹر فیک بک کا میسنجرپر میسج آیا ۔
“تو تم نے کونسا اپنا نام بتایا ہے اب تک؟”۔۔ فوراً جواب دیا۔
“اُف! تم بھی کمال کرتی ہو۔۔ میری تصاویربمعہ میری فیملی کی تصاویر دیکھ لیں ۔۔ اب بھی نام کی گنجائش رہ جاتی ہے؟ “۔
“بالکل”۔۔ مختصر سا جواب ملا۔
” تم نے بھی تو اپنے نام پر آئی ڈی نہیں بنائی۔۔ سوئیٹ پرنسز۔۔ میں نے کبھی اعتراض کیا؟ نہیں نہ۔۔ کیونکہ میرے لئے تم پرنسز ہی ہو”۔۔ سوئیٹ پرنسزکا دِل دھڑکا۔۔
“میری بات اور ہے۔ تم مجھے پرنسز کہتے ہو وہ ٹھیک ہے لیکن مجھے تمہیں مسٹر فیک بک کہہ کر مخاطب کرنا بہت عجیب لگتا ہے۔ آئی مین تم خود سوچو نکلی کتاب”۔
“حقیقت ہے جناب! فیس بک میں سب فیک ہوتا ہے، اسٹیٹس، تصاویر، جنس، جگہ ۔۔ سب۔۔ نکلی دُنیا ہے یہ۔ حقیقت سے کوسوں دور”۔
“خیر اب ایسا بھی نہیں۔ یہاں بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے فریب و جھوٹ کی بجائے اپنا آپ اصل پیش کیا ہے۔ حقیقت سے فیس بک چلا رہے ہیں”۔ سوئیٹ پرنسز نے اُسکی بات سے اِختلاف کیا۔
” میں نے کب اِنکار کیا اِس بات سے۔۔ وہ لوگ یا تو سیلیبرٹی ہیں یا شاعر، رائٹر، سنگر وغیرہ وغیرہ۔۔ جنکو سب جانتے ہیں۔۔ اکثریت ایسے لوگوں کی بھی ہے جو فیملی فرینڈز سے فرینڈز تک چلے آ رہے ہیں”۔۔ مسٹر فیک بک کی بات پر اُس نے لائک کا آئکن بنایا۔
“اچھا!!! چلو اِک کام کرتے ہیں۔۔ تم مجھے اپنی تصویر دِکھاؤ ۔۔ میں تمہیں نام بتا دونگا۔ ٹھیک ہے؟”۔۔ مسٹر فیک بک نے ڈیل کی۔ کافی دیر تک وہ لیپ ٹاپ کو تکتا رہا لیکن میسنجرمیں کوئی میسج نوٹیفیکیشن نہ آیا۔
“یہ کیسی شرط ہے؟”۔۔ کافی دیر بعد اُس نے جواب دیا۔
“شرط؟ محبت شرط سے ماورا ہوتی ہے پرنسز”۔۔
“محبت؟ ہم اچھے دوست ہیں۔ محبت کیلئے ایک دوسرے کو جاننا ضروری ہے، مراسم ضروری ہیں۔ ایسے کیسے محبت ہو سکتی ہے؟”۔۔ مسٹر فیک بک کے اِس میسج نے اُس نے اندر ایک عجیب سی بے چینی بھر دی۔
“تم مجھے جانتی ہو۔ مجھے دیکھا ہوا ہے۔ کیا جاب کرتا ہوں اُس سے واقف ہو۔ مجھے دیکھو صرف تمہاری آئی ڈی کو لیکر چل رہا ہوں مگر پھر بھی محبت ہو ہی گئی ۔۔ جس دِن تمہارا میسج نہیں آتا دِل بے چین ہو جاتا ہے۔۔ صبح ، دوپہر، شام، رات تمہارے میسج کی ڈوز چاہیے ہوتی ہے۔ اپنافون، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ ادھورا لگتا ہے۔۔ بلکہ نہیں۔۔ ادھورا تومیں خود ہو جاتا ہوں “۔۔
میسج دیکھ کر اُسکا دِل دھڑکا۔۔ کافی دیر ٹٹولا تو پتہ چلا ایسا تو اُس کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ جب تک مسٹر فیس بک کا میسج نہ آئےوہ بے چین رہتی ہے، بار بار موبائل چیک کرتی ہے۔ اپنا اِنٹرنیٹ پیکج کبھی ختم ہونے نہیں دیتی۔ جبکہ باقی فرینڈز کیلئے اُسکی سوچ ایسی ہے نہ دِل یوں دھڑکتا ہے۔
“کہاں گئی؟”۔۔ کافی دیر تک جواب نہ ملنے پر میسج آیا۔۔
“بعد میں بات کرتی ہوں۔ کھانا کھا لوں”۔۔ جلدی سے رپلائی کیا اور کرسی کھسکا کر بیٹھ گئی۔۔
سمجھ بیٹھا کہ تمہیں محبت ہے مجھ سے
ہائے ! کس غلط فہمی کا شکار ہوا میں بھی
میسج کی بیپ ہوئی تو منہ تک جاتا نوالہ رُک گیا۔۔ کھانا کھاتے میسج پڑھا تو دِل کو بےسبب، بے وجہ بے قرار پایا۔۔الجھی سوچیں ، منتشر دھڑکن، بے چین پل۔۔ کھانے میں رغبت ختم!
چار آنکھوں نے یہ منظر بہت غور سے دیکھا۔۔
*****************
“ایمن”۔۔
“جی ابو”۔۔ صابر صاحب کے پکارنے پر کمرے تک جاتے قدم رُک گئے۔
” بیٹا اگرکسی ٹیسٹ وغیرہ کی تیاری نہیں کر رہی تو ایک کپ چائے بنا دو۔ تمہاری امی کپڑے پریس کر رہی ہیں”۔۔ قریب کی عینک اُتار کراُسکو بغور دیکھتے ہوئے بولے۔
“جی ابو۔۔ ابھی لائی”۔۔ موبائل کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔
حرکت غیر اِخلاقی تھی۔۔ مگرنہ چاہتے ہوئے بھی اُنکو موبائل اُٹھا نا پڑا۔۔ کال ہسٹری ، میسجز یہاں تک کہ کانٹکٹس چیک کئے لیکن کوئی مشکوک نمبر ملا نہ ہی ایسا میسج جس سے وہ غلط اندازہ لگا سکتے۔ موبائل واپس رکھا، قریب کی عینک سیٹ کی اوردوبارہ کتاب میں گم ہو گئے۔
“یہ لیں ابو آپکی ادرک والی چائے”۔۔ ایمن نے چائے کا کپ تھمایا
“جیتی رہو بیٹا”۔۔
“ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہےایمی”۔۔ وہ جانے ہی کو تھی جب اُنہوں نے مخاطب کیا۔۔
“میں سمجھی نہیں ابو”۔۔ وہ حقیقتاً نہ سمجھ سکی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔۔
“بیٹھو بیٹا۔۔ دیکھو تمہاری امی کو شکایت ہے کہ تم موبائل بہت زیادہ استعمال کرنے لگ گئی ہو ۔ یہ اچھی بات نہیں۔ اِس سے آئی سائیٹ متاثر ہو سکتی ہےاوربھی کئی نقصانات ہیں”۔ کتاب بند کی اورعینک اُتار کر ٹیبل پر رکھ دی۔
“ایسی تو کوئی بات نہیں ابو۔۔ وہ بس ۔۔کسی فرینڈ کا میسج آجائے تو الگ بات ہے ورنہ اِتنا تویوز نہیں کرتی”۔۔
” بہرحال۔۔ اعتدال میں رہ کر استعمال کرو “۔۔ عینک لگا کر دوبارہ کتاب کھول لی ساتھ ساتھ چائے پینے لگ گئے۔ اُنکی خاموشی کا مطلب تھا وہ جاسکتی ہے۔۔
“مجھےکوئی ایسا نمبر نہیں ملا جو مشکوک ہو۔ کل 27 نمبرز ہیں ۔۔ زیادہ ترفیملی ممبرز کے ہیں یا اُسکی دوستوں کے۔تمہیں پورا یقین ہے کہ”۔۔ اُنہوں نے بات ادھوری چھوڑ دی
” ماں کی نظریں وائی فائی کے سگنل سے زیادہ تیزہوتی ہیں صابر صاحب۔ وہ سب کچھ معمول سے ہٹ کرکررہی ہے”۔ چائے کا کپ پکڑتے ہوئے کہا۔
” کیا کہوں ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا “۔۔ چشمہ اُتار کر میز پر رکھااور سر مسلنے لگے۔
“سمجھنا کیا ہے۔ پیپرزکے فوراً بعد شادی کردینی چاہیے”۔۔ اُنہوں نے اپنے تئیں فیصلہ کیا۔
“یہ کیا بات کر رہی ہورقیہ؟ ایک شک کی بنیاد پرایسا کرنا قطعاً ٹھیک نہیں۔۔ یا تو اُس سے کھل کر بات کی جائے”۔۔ وہ ایکدم کھڑے ہو کر ٹہلنے لگے۔ اپنی بیٹی پر اُنکو خود سے زیادہ بھروسہ تھامگررقیہ بیگم کی بات بھی نظرانداز نہ کر سکتے تھے۔۔ آخر کو وہ ماں ہیں اور اولاد کو ماں سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا۔۔
“نکاح تو کر سکتے ہیں نہ؟”۔۔ رقیہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
“ہاں۔۔ اِس پر غور کیا جا سکتا ہے”۔۔ وہ ابھی تک کشمکش میں تھے۔۔
“غور نہیں صابرصاحب۔۔ عمل کرنا ہے۔ میں آج ہی بلکہ ابھی جا کرراحیل سے بات کرتی ہوں “۔۔
“جیسے آپکی مرضی۔ پر ایمن کی رضامندی بھی ضروری ہے رقیہ بیگم”۔۔
“آپ بے فکر رہیں۔۔ میں اُسکی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرونگی”۔۔
********************
“اندر آ جائیں”۔۔دستک پر راحیل نے کہا۔
“ارے خالہ جان آپ۔۔ مجھے بلا لیا ہوتا۔ آپ نے کیوں زحمت کی؟”۔۔ لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا۔
“کنواں کبھی پیاسے کے پاس گیا ہے؟”۔۔ رقیہ بیگم نے کہا تو راحیل نے نا سمجھی کے عالم میں دیکھا۔
“راحیل”۔۔ رقیہ بیگم جھجھک گئیں۔۔ اُنہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے بات کریں۔
“خالہ جان!بیٹا کہتی ہیں اور جھجکتی بھی ہیں۔۔ آپ بے جھجھک مجھ سے کہہ ڈالیں جو بھی بات ہے”۔۔ راحیل نے اُنکے ہاتھ میں ہاتھ رکھا تو رقیہ بیگم کا اعتماد بحال ہوا۔
” ایمن کے پیپرز ختم ہونیوالے ہیں میں چاہتی تھی ایگزام کے بعد شادی کر دوں اُسکی”۔
“یہ تواچھی بات ہے خالہ جان۔ دیکھا کوئی رِشتہ”۔۔
“بیٹا وہ۔۔ صفیہ اورظہور کی خواہش تھی کہ تم اور ایمن ۔۔ میرا مطلب ہے اُنہوں نے ایمن کے پیدا ہوتے ہی اُسے تمہارے لئے مانگ لیا تھا۔۔ لیکن اگر تمہیں کوئی اور پسند۔۔ بیٹا “۔۔آج رقیہ بیگم کو اندازہ ہوا بیٹی کی ماں ہوکررِشتے کی بات کرنا کس قدر مشکل کام ہے۔
“میری زندگی کورے کاغذ کی طرح ہے خالہ جان اور دِل کے کاغذ پر کسی کا نام بھی درج نہیں۔۔ امی ابو کی خواہش اورآپکی چاہت سر آنکھوں پر۔ ایمن یوں بھی مجھے دِل سے عزیز ہے”۔۔ راحیل نے اُنکی مشکل آسان کر دی۔۔ رقیہ بیگم کے کندھے سے بہت بڑا بوجھ ہٹ گیا۔ اب ایمن سے بات کرنا تھی جو فی الوقت پیپرز کے بعد کرنے کا اِرادہ کیا ۔۔
صفیہ اور رقیہ دو بہنیں ایک ہی گھر بیاہ کر آئی تھیں۔۔صابر الحسن ، شاکر الحسن، ظہور الحسن ، منظور الحسن چار بھائی تھے۔ منظور الیکٹریکل انجینئر تھے ۔ یو ٹی ایس آسٹریلیا سے انجینئرنگ کی وہیں جاب ملی تو فیملی (دوبیٹے شاہ رُخ اورعبید اور ایک بیٹی عنایہ) کو لیکر سیٹل ہو گئے۔ظہورالحسن چائلڈ اسپیشلسٹ تھے جوصابرکے گھر سے دو گلی پیچھے رہتے تھے۔ اِنکی دو بیٹیاں تھیں ثانیہ اور مہرین ۔۔ظہور کڈنی اسپیشلسٹ تھے جنکی شادی رقیہ بیگم کی بہن صفیہ سے ہوئی۔اِنکے دو بیٹے تھے راحیل اور شکیل۔ جبکہ صابر ایک فرم میں بڑے عہدے پر فائزاپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ اِنکی ایک ہی بیٹی تھی ایمن۔ چونکہ دونوں بہنیں ایک ہی گھر میں بیاہ کر آئی تھیں اِسلئے سلوک و اِتفاق کی وجہ سے اُنہوں نے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔ ایمن کی پیدائش پر صفیہ نے راحیل کیلئے اُسکو اپنی بہن سے مانگ لیاتھا۔
صفیہ اورظہورالحسن کیساتھ زندگی نے وفا نہ کی۔وہ دونوں ایک کار ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہو گئے۔ شکیل اورراحیل کی پرورش رقیہ اور صابر الحسن نے کی۔ شکیل نے اِنٹرمیڈیٹ کرتے ہی باہر جاکر تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی جسے دونوں میاں بیوی نے تردد کے بعد مان لیا۔
***************
کوفہ مزاج لوگوں کی بہتات ہے یہاں
اس شہر نامراد سے خیمے سمیٹ لو!!
“اب فارغ ہوئی ہوں کھانا کھا کر”۔۔ دوبارہ میسج آیاتو اُس نے فوراً جواب دیا۔۔
“آج دال کھائی ہے یا کوئی سبزی تبھی پکچر نہیں لگائی۔ ایم آئی رائٹ؟”۔۔
“نہیں”۔۔ مختصر میسج کیا
“کیا نہیں؟”۔ پوچھا گیا۔
“امی نے آلو کوفتے بنائے تھے ۔ بے دھیانی میں امیج بنانا یاد نہیں رہا”۔۔
“دھیان کہاں ہے پرنسز کا ذرا ہمیں بھی تو پتہ چلے؟”۔۔
“کہیں نہیں۔ بس پڑھائی کی وجہ سے”۔۔
“پڑھائی یا میں؟”۔۔
“دونوں”۔۔ اُٗسے دِل سے اعتراف کرنا پڑا۔
“یہ تو سیاسی بیان ہوا “۔۔
“کچھ بھی سمجھ لو”۔۔ میسج لکھا ساتھ میں دِل والا آئکن بنایا۔۔ تھوڑا جھجھک ہوئی مگرسینڈ کر دیا۔۔
“ارے واہ ! آج دِل دے ہی دیا”۔۔ جواب میں اُس نے دِل والے آئکن کی لائن لگا دی۔۔
“دِل تو کب کا دیا ہوا تھا۔۔ بتایا آج ہے کہ”
“کہ”
” یہ دِل آپکا ہوا”۔۔ وہ شوخ ہوئی۔
“دِل میں جگہ دے ہی دی ہے تویہ بتاؤ کب دیدار کرواؤگی اپنا؟”۔۔ وہ اُسی بات پر آگیا۔
“میرا نام شاکر ہے۔ کیا کرتا ہوں، کہاں رہتا ہوں تم سب جانتی ہو۔۔۔ میرے جذبات سےبھی غافل نہیں تم”۔۔ وہ شش و پنج میں تھی کہ میسج آیا۔
“پرسنالٹی کے حساب سے نام پرانا نہیں؟۔۔ اووو اچھا۔۔ اب سمجھی تبھی نام صیغہ راز میں رکھا گیا تھا”۔۔ میسج سینڈ کیا۔۔
“نام نیا یا پرانانہیں ہوتا مادام۔ نئی پرانی سوچ ہوتی ہے۔۔ اینی ویز اب تمہاری باری”۔۔ شاکر نے کہا
“ویٹ (اِنتظار)”۔۔ اب کی بار بغیر جرح کئے وہ مان گئی۔اپنا مان، اعتماد، دِل دے دیا تو تصویر کی کیا بات!
دروازہ بند کرکے جلدی سے ہلکا میک اپ کیا۔ مختلف زاویوں سے آٹھ دس سیلفی لیکر اچھی والی سیلفی کو ایفیکٹ دے کر سینڈ کیا۔۔
“آر یو ریڈی ٹو سی می”۔۔ اُس نے ہائپ کریئٹ کیا
“شدت سے”۔
“اِٹس می ایمن۔۔ ایمن صابر”۔۔ تصویر کیساتھ کمنٹ لکھ کر ساتھ میں سمائلی آئکن بنایا۔
“پکچر ڈیلیٹ کر دینا دیکھ کر”۔۔بیوقوفانہ سی بات جو ہر لڑکی تصویر بھیجنے کے بعد کہتی ہے اور یقین رکھتی ہے مدِمقابل ایسا ہی کرے گا۔۔
اُسکو سو والٹ کا جھٹکا لگا۔ اُسے لگا آسمان گھومنے لگا ہے یا وہ حواسوں میں نہیں۔۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھا تھا جب بیپ ہوئی۔۔
“کیا ہوا؟”۔۔ کافی دیر بعد جواب نہ آیا تو پوچھا گیا۔
“کچھ نہیں۔ تھوڑا بزی ہوں۔ بعد میں بات کرتا ہوں”۔۔ وہ فوراً سائن آؤٹ ہو گیا۔
ایمن حیران پریشان فیس بک میسنجر دیکھتی رہ گئی۔ آج سے پہلے اُس نے اس ٹون میں کہاں میسج کیا تھا۔۔
********************
شاکر کی مصروفیت گھنٹوں سے دِنوں پر محیط ہو گئی۔ تین دِن گزر گئے لیکن اُسکی جانب سے کوئی میسج نہ آیا۔سارا سارا دِن وہ فیس بک میسسینجر چیک کرتی کہ شاید جواب آیا ہو۔ بار بار میسج کرتی لیکن میسج کو دیکھ کر بھی وہ کوئی رپلائی نہ کرتا۔ وہ ماہی بے آپ کی طرح تڑپ رہی تھی۔ بھوک پیاس سب مر چکی تھی۔ سب کے سامنے خود کونارمل رکھنے کی کوشش کرتی کہ کوئی محسوس نہ کرلے۔ لیکن جیسے ہی کمرے میں آتی دِل بے چین ہو جاتا۔
“اُس نے جب سے تصویر دیکھی ہے کوئی بات نہیں کی۔۔ میں اُسکو پسند نہیں آئی شاید۔۔ نہیں نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔ میری معصومیت و خوبصورتی کے تو سب گرویدہ ہیں پھر شاکر کیسے۔۔ نہیں کوئی اور بات ہے۔ شاید مصروفیت ۔۔مگر میسجز تو وہ مسلسل دیکھ رہا ہے۔۔ شاید وقت کی کمی کے باعث”۔۔ اُسکی بڑبڑاہٹ جاری تھی جسکا خلاصہ تھا “شاید”۔۔ شاکرکا رویہ اُسکی سمجھ سے باہر تھا۔وہ گھائل ہو چکی تھی،، محبت اپنا وار کر چکی تھی۔۔
اب ہوا معلوم احساسِ محبت
جب تم نہ تھے تو کچھ نہ تھا!!
*********************
“خیریت؟ میں دیکھ رہا ہوں تم کئی دِنوں سے پریشان ہو”۔۔ ایمن کو ٹیرس پر ٹہلتا دیکھ راحیل نے پوچھا۔ اُسکے چہرے میں بے چینی کو راحیل نے واضح طور پر محسوس کیا۔
“ایسی کوئی بات نہیں۔ ایگزام کیوجہ سے “۔۔
“ٹہلنے کی بجائے اگر تیاری کر لو تو زیادہ بہترنہ ہو”۔۔
“میں جانتی ہوں مجھے کیا کرنا چاہیے۔ یو ڈونٹ نیڈ ٹو ٹیل می (you don’t need to tell me)”۔۔ ہمیشہ کی طرح ایمن نے راحیل کوجھاڑ کر رکھ دیا۔
“مائنڈ یوز لینگویج ۔۔آئی ڈو نیڈ مس ایمن صابر !بیکوز یو آر گوئنگ ٹو بی مائی بیٹر ہاف(Mind your language. I do need Ms Aiman because you’re going to be my better half)آئندہ بد تمیزی کرنے سے پہلے سوچ لینا”۔۔ راحیل نے اُنگلی اُٹھا کر وارننگ دی تو وہ حیرانگی سے اُسکا یہ روپ دیکھتی رہ گئی۔۔ اُس نے آج تک ایمن سے اِس انداز میں کہاں بات کی تھی۔
“امی یہ سب کیا ہے؟”۔۔ سلاد کاٹتی رقیہ بیگم کے ہاتھ رُک گئے۔ اُنہوں نے سوالیہ نظروں سے ایمن کو دیکھا جسکا لہجہ بتا رہا تھا وہ غصے میں ہے۔ دوبارہ سلاد بنانے میں مگن ہو گئیں۔
“میں آپ سے پوچھ رہی ہوں کچھ”۔۔ جواب نہ پاکر اُس نے تپ کر کہا۔
“سکینہ تم ذرا باہر جاؤ”۔۔ ماسی جی اچھا کہہ کر کچن سے باہر چلی گئی
“پہلے یہ بتاؤیہ کونسا طریقہ ہے بات کرنے کا؟”۔۔ رقیہ بیگم اُس پر پل پڑی
“سوری امی۔ وہ راحیل نے بات ہی ایسی کی کہ رہا نہ گیا”۔۔ اُسے اپنی غلطی کا احساس ہوا
“کیا ہوا”۔۔ وہ نرم پڑیں۔
“وہ کہتا ہےکہ۔۔کہ وہ اور میں۔۔ میرا مطلب وہ کہتا ہے میری شادی اُس سے ہو گی”۔۔ اُس نے جھجک جھجھک کر بات مکمل کی۔
“تو کیا غلط کہا اُس نے۔ صفیہ آپا نے تمہاری پیدائش پر ہی کہہ دیا تھا کہ وہ تمہیں اپنی بہو بنائیں گی”۔ کھیرے کو پلیٹ میں رکھتے ہوئے بولیں تو ایمن کا دِل پل بھر کو دھڑکا۔۔ شاکر سے دُوری کے خیال نے اُسکو ہولا دیا۔
” ہم دونوں میں ذرا بھی انڈراسٹینڈنگ نہیں ہے۔ آئی مین اُسکو میری ہر بات سے اِختلاف رہتا ہے، ہم دونوں کی سوچ الگ ہے”۔۔ اُس نے ماں کو سمجھانے کی کوشش کی
“اِس بات کی گارنٹی کہ جس سے تمہاری شادی ہو گی تمہاری اُس سے انڈرسٹینڈنگ ہو گی؟ دیکھو بیٹا ذہنی ہم آہنگی کےلئے ایک عرصہ چاہیے ہوتا ہے۔ اچھی زندگی گزارنے کیلئے سوچوں کا ملنا ضروری نہیں۔۔ اور یہ بھی ضروری نہیں جسکی سوچ آپس میں ملتی ہو وہی اچھی زندگی گزارسکتے ہیں۔ دو متضاد سوچ رکھنے والے کپل بھی بہت اچھی زندگی گزارتے ہیں”۔ رقیہ بیگم نے اُسکو قائل کرنے کی کوشش کی۔ زبردستی وہ بہرحال نہیں کر سکتی تھیں۔
“میں نے اُسکو اِس نظر سے کبھی نہیں دیکھا نہ سوچا”۔۔ ایمن نےشکستہ لہجے میں کہا۔ ماں کی باتیں اُسے بہت حد تک درست لگیں۔
“تو اب سوچ لو۔ کوئی جلدی نہیں”۔۔
“سوچنے کے بعد بھی دِل نہ مانا تو؟”۔۔ اُس نے پوچھا
“میں زبردستی کی قائل نہیں ایمی۔۔یہاں نہ دِل مانا تو کہیں اور تو کرنی ہی ہے شادی ۔۔ مگر تمہارے خدشات ہر رِشتے پر لاگو ہوتے ہیں ۔۔ یا تو”۔۔ رقیہ بیگم نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ ایمن کی سوالیہ نگاہوں کو وہ دیکھ چکی تھیں۔
“یا تم کسی اور کو پسند کرتی ہوتو بتاؤ”۔ اُنہوں نے آخر پوچھ ہی لیا ۔۔
ایمن خاموش کھڑی میز کا کونا کھرچتی رہی۔ کیا کہتی۔ کس کا نام لیتی۔۔ اُسکا جو پچھلے پانچ دِن سے غائب تھا۔۔ جوآگ بھڑکا کریوں خاموش بیٹھا تھاجیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔
دُھواں دُھواں ہر منظر!!
“نہیں امی۔ ایسا کوئی نہیں ہے”۔۔ یہ الفاظ اَدا کرنا ایمن کیلئے کسی تکلیف سے کم نہ تھے۔ وہ جانتی تھی ایسا ہے جو بہت اہم ہے۔ شکستہ الفاظ، زرد چہرہ!! رقیہ بیگم ماں تھیں۔۔ بیٹی کے الفاظ میں چھپی مایوسی اُن سے چھپی نہ رہ سکی۔ وہ مصلحتاً خاموش رہیں۔
***************
شکستہ خواب کے مسافر
کہیں کسی موڑ پر آ مل
تجھے کیا خیال ہے میرا
دیکھ کیا حال ہے میرا
میرے دِن رات ادھورے ہیں
ابھی جذبات ادھورے ہیں
ادھوری ہیں چاہتیں سب
اور احساسات ادھورے ہیں
تیرے بن نہیں مکمل کچھ بھی
میری بات ادھوری ہے
میری ذات ادھوری ہے
ایمن نے ٹوٹی پھوٹی نظم لکھ کر اپنے جذبات کا اِظہار کیاکہ شاید وہ جواب دے۔۔ دوپہر سے شام اور شام سے رات ہو گئی لیکن جواب ندارد! ایک اور شعر بھیجا
کوئی بتلاؤ !! کہ اک عمر کا بچھڑا محبوب
اتفاقا کہیں‌ مل جائے تو کیا کہتے ہیں؟
تھوڑی دیر بعد میسینجر کھولاتو میسج سین (seen) تھا پھر بھی کوئی جواب نہ ملا۔۔اشعار سے اپنے جذبات کا اِظہار کرنے سے بہتر اُسکو کھل کر بات کرنا لگا۔۔ پھر کچھ سوچ کر اُس نے لکھا
“شاکر! ایسا کیوں کر رہے ہو میرے ساتھ؟ تم تو کہتے تھےجب تک مجھ سے بات نہ کرو دِن نہیں گزرتا۔ کتنے دِن گزر گئے ہیں یوں منہ موڑے بیٹھے ہو جیسے جانتے ہی نہیں۔اگر نہیں پسند تو بتا دو ۔۔تمہارا بغیر کچھ کہے یوں خاموش رہنامجھے توڑ رہا ہے۔۔ میری ذات کی نفی کر رہا ہے۔۔ میری عزتِ نفس کو پامال کر رہا ہے۔۔ امی میری شادی کرنا چاہتی ہیں میں کیسے تمہارا نام لوں؟ کس حق سے لوں؟ تم نے تو اُس دِن سے ہر تعلق توڑ رکھا ہے۔ میسج دیکھ کر جواب نہیں دیتے۔۔ ایک بار فیصلہ کر دوشاکر۔۔ میرے حق میں یا میرے خلاف!! “۔۔
کتنی دیرجواب کے اِنتظار میں بیٹھی رہی۔ دو منٹ۔۔ پانچ منٹ۔۔ گیارہ منٹ۔۔۔ کرتے کرتے گھنٹہ گزر گیا۔ احساس تب ہوا جب دروازے پر دستک ہوئی۔۔ جلدی سے سائن آؤٹ کیا۔موبائل سائیڈ پر رکھ کر کتاب کھول لی۔
“آپکے لئے بادام اورچاروںمغز والا دودھ بھیجا ہے باجی نے”۔۔ سونیا نے دودھ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور کھڑی رہی۔۔
“کیا ہوا کھڑی کیوں ہو؟”۔۔ ایمن کے کھڑے دیکھ سوال کیا۔
“بی بی جی نے کہا آپکو پلا کر ہی آؤں”۔۔
“تم جاؤ میں پی لونگی”۔۔ ایمن نے ٹالا۔دِل فیس بک پر لگا ہوا تھا۔
“نہیں باجی میں ایسے نہیں جا سکتی”۔ سولہ سالہ سونیا نےیوں گردن جھکا لی جیسے جرم کرتے پکڑی گئی ہو۔ ایمن کو اُس کی اِس حرکت پر ہنسی آ گئی۔۔
“تم بھی کمال کرتی ہو”۔۔ ایمن نے دودھ کا گلاس ایک سانس میں خالی کیا اور اُسکو تھما دیا ۔۔سونیا حیران پریشان خالی گلاس لیکر چلی گئی۔
***************
” بی بی جی۔ آپ کہتی تھیں وہ بادام والا دودھ نہیں پیتی ۔ پر ایمی باجی نے تو گلاس ایک ہی سانس میں خالی کر دیا”۔۔ سونیا نے فاتحانہ انداز میں خالی گلاس رقیہ بیگم کو دِکھایا۔
“بوتا خوش نہ ہو جھلی۔۔ بندہ پریشان ہووے یا اُلجھن دا شکار ہووے تاں اونوں پتہ نئی لگدا او کی کر ریا اے۔ پیپر ایں نہ تدے اونا پی لیتا ورنہ کدی منہ وی نہ لگاؤندی (زیادہ خوش نہ ہو جھلی! جب بندہ پریشان ہو یا اُلجھن کا شکار ہو تو اُسے پتہ نہیں چلتا وہ کیا کر رہا ہے۔ پیپر ہیں نہ تبھی پی لیا ورنہ کبھی منہ بھی نہ لگاتیں)۔۔۔ سکینہ نے برتن دھوتے ہوئے بیٹی سےکہا۔
رقیہ بیگم بہت کچھ نوٹ کر رہی تھیں، دیکھ رہی تھیں، سمجھ رہی تھیں۔۔ بیٹی کے چہرے پر پریشانی کے رنگ، اُڑی اُڑی رنگت اورمعمول سے ہٹ کر عمل۔۔
“شکریہ بیگم صاحبہ”۔۔ صابر صاحب نے چائے کا کپ پکڑتے ہوئے کہا۔۔ وہ خاموش رہیں
“کیا بات ہے؟ پریشان لگ رہی ہو؟”۔۔جواب نہ پا کر صابر الحسن نے پوچھا۔
“ایمی کی حرکتوں نے پریشان کر رکھا ہے”۔۔
” کیا مطلب حرکتوں نے۔۔ کیا ہوا؟ کوئی بات ہوئی ہے؟”۔۔ رسالے سے نظریں ہٹا کر پوچھا۔ اُنکو لگا وہ پھر شک کی بنا پر پریشان ہو رہی ہیں۔
“آپ کو اِن اخبارات اور رسالوں سے فرصت ملے تو دیکھیں آپکی بیٹی میں کتنی تبدیلیاں آ چکی ہیں”۔ رقیہ بیگم نے اُنکے ہاتھ سے رسالہ لیا اور سائیڈ پر رکھا۔
“ارے بھئی تبدیلیاں تو وقت کیساتھ ساتھ اِنسان میں آ ہی جاتی ہیں۔ اب وہ ہمیشہ ایک سا تو نہیں رہ سکتا”۔۔
“کئی روز سے وہ پریشان لگ رہی ہے اُلجھی اُلجھی۔۔ ٹھیک سے کھا پی نہیں رہی۔ پرسوں میں نے کریلے بنائے تھے جو اُسکو سخت ناپسند ہیں۔ مارکیٹ جانا تھا اِسلئے اُسکے لئے کچھ اور بنا نہ سکی۔۔ آپ جانتے ہیں اُس نے چپ چاپ کھانا کھا لیا۔ورنہ وہ کتنا واویلہ مچاتی تھی۔۔ رات سونیا نے چار مغز بادام والا دودھ دینے گئی اُس نے چپ چاپ پی لیا۔وہ کبھی دیکھے بھی نہ پینادُور کی بات ہے۔”
“یہ کوئی بڑی بات نہیں۔۔ مجھے بھی بینگن پسند نہیں تھے پر اب کھا لیتا ہوں۔۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو خود کو بدل لیتے ہیں “۔
“آپ میری بات سمجھ نہیں رہے یا سمجھنا نہیں چاہتے؟ ماں کی نظر کمزور بھی ہو تو بھی وہ اولاد کی حرکات و سکنات سے جان لیتی ہے کہ کہیں نہ کہیں گڑ بڑ ہے۔ آپ ہیں کہ دلائل پر دلائل دیئے جا رہے ہیں۔میں نہیں سمجھتی کہ بغیر کسی وجہ کے وہ کریلے کھانا شروع کر دے، بغیر حیل حجت بادام والا دودھ پی جائے۔ آپکو بینگن نہیں پسند تھے لیکن میں نے فورس کیا تو کھائے نہ؟”۔
“صاف صاف بات کرو۔ تم وہی کہنا چاہ رہی ہو جو میں سمجھ رہا ہوں ؟”
“جی۔۔ صحیح سمجھے آپ۔۔ خود دیکھیں اُسکے پیپرز شروع ہونیوالے ہیں لیکن اُسکی توجہ پڑھائی میں ہے ہی نہیں۔۔ سارا وقت موبائل کیساتھ چپکی رہتی ہے جیسے قارون کا خزانہ نکالنا ہو”
“دیکھو رقیہ تمہاری بات اپنی جگہ درست ۔۔ عقلمندی بات کرنے میں ہے”۔
“میں نے پوچھا تھا”۔۔ ایمی سے کی گئی ساری بات بتا دی۔۔
“اچھا ہوا پوچھ لیا لیکن غلطی کر گئی۔۔ موقع، جگہ اورطریقہ کار غلط تھا۔۔ تم نے ماں بن کر بات کی تھی۔ اب جاؤ اور دوست بن کر بات کرو، اعتماد، آرام و نرمی سے۔ اُسکو اپنا اعتماد دوتاکہ وہ کمفرٹ ایبل ہو کر تم سے دِل کی بات شئیر کرے”۔۔
“آپ شاید صحیح کہہ رہے ہیں۔۔ مجھے طریقے سے بات کرنی چاہیے تھی”۔
” آپ خود کیوں نہیں بات کرتے؟ میرے رعب کیوجہ سے ممکن ہے وہ بتائے نہ”۔۔ اُنہوں نے سوچ کر کہا
“یہ بہتر ہے۔۔ میں مناسب وقت دیکھ کر بات کرتا ہوں “۔۔
“ابھی کر لیں”۔۔
صابر الحسن اثبات میں سر ہلا کر ایمن کے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔۔
******************
“تم شادی کر لوجہاں تمہارے پیرنٹس چاہتے ہیں “۔۔ شاکرکا مختصر جواب اُسکو بے مول کر گیا۔
چنگاری جلا کر اُٹھتے دُھوئیں کا نظارہ کررہاہے کوئی
چلے آؤ چلے آؤ!! محبت سے کنارہ کر رہا ہے کوئی!!
“یہ کیسی محبت ہے؟ اپنے ہونے کا احساس دِلا کرکہہ دینا کسی اور کی ہو جاؤ۔۔ اِتنی آسانی سے کہہ بھی کیسے دیا تم نے؟ کیوں محبت کا احساس جگایا؟ کیوں میرے جذبات کیساتھ کھیلے؟ کیوں مجھے کھڑے کھڑے بے مول کر دیا؟ آخر کیوں شاکر؟ کیا قصور تھا میرا؟”۔۔ ایمن کا ہر لفظ ہچکیاں لیکر رو رہا تھا، سسک رہا تھا ، آہ و بکا کر رہا تھا۔۔ مگر افسوس!! وہ کہاں دیکھ سکتا تھا، الفاظوں کو کوئی دیکھ سکا ہے بھلا ؟ اِس میں چھپا درد، دُکھ، آنسو، شدتِ کرب وہی سمجھ سکتا ہے جو ویسے ہی جذبات رکھتا ہو۔
“تمہاری محبت کی قدر کرتا ہوں سوئیٹ پرنسز۔۔ میں تم سےویسی محبت کرتا ہوں جیسے اپنے سوشل میڈیا دوست سے۔ یہ وہ محبت نہیں جو تم نے سمجھی”۔ وہ اُسے اب بھی فیس بک آئی ڈی سے پکار رہا تھا یعنی اُسکی زندگی میں ایمن کا وجود اب تک سوئیٹ پرنسز ہی تھا نہ کہ ایمن صابر۔۔
“جذبوں کا اِظہار، شدت کیا تھا سب؟”۔۔ ایمن گنگ رہ گئی
اوہ کم آن یار! تم ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو جیسے کوئی انہونی ہو گئی ہو۔۔ تم جیسی لڑکی ہر لڑکے کیساتھ اور میرے جیسا ہر لڑکی کیساتھ ایسی باتیں کر تاہے۔ اِٹس نوٹ لائیک ڈیٹ۔۔ نوٹ ایٹ آل(it’s not like that. Not at all)”
ایمن کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔ شاکر نے اُسکواُن لڑکیوں کی لائن میں لا کھڑا کیاجو لڑکوں سے بات کرنے کوبرا سمجھتی ہیں نہ گناہ۔۔
“میں کئی باراپنے اسٹیٹس میں کہہ چکا ہوں یہ فیس بک کم فیک بک زیادہ ہے۔ فیک کا مطلب تو سمجھتی ہو نہ۔۔ہر بندہ نکلی ہے، چہرے پر چہرہ چڑھایا ہوا ہے جو دِکھتا ہے وہ ہوتا نہیں اور جو ہے وہ نظر نہیں آتا”۔۔
“میں ایسی نہیں ہوں”۔۔ اُس نے اپنا دفاع کیا
“مجھے کیا پتہ۔۔ میں کونساتمہیں پرسنلی جانتا ہوں سوائے اِسکے کے تم راحیل کی کزن ہو”۔
ایمن کے سر پر جیسے بم گرا۔۔
“واٹ؟ ہاؤ ڈو یو نو ہم(how do you know him؟)”
“وہ میرا کولیگ ہے۔ اِس سے زیادہ جاننے کی ضرورت نہیں تمہیں ۔۔مجبوری ہے تبھی پیچھے ہٹ رہا ہوں ورنہ میں دوستی توڑنے کا قائل نہیں”
“میں لعنت بھیجتی ہوں مرد عورت کی دوستی پر”۔۔ وہ بپھر گئی۔۔
“بائے “۔۔ شاکر نے جواب دیا۔کرسی کی پشت پر سر رکھے وہ پر سکون ہوگیا۔ ایک بہت بڑا بوجھ اُسکے سر سے اُتر گیا۔۔ میں لعنت بھیجتی ہوں مرد عورت کی دوستی پر۔۔ ایمن کے اِس جملے نے اُسکو اندر تک سرشار کر دیا۔
ایمن نے لاگ آؤٹ کیا اورپھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔ تذلیل،ارمانوں کا خون، ٹھکرائے جانے کا احساس۔۔ اُسے اپنا آپ بے معنی، بے مول لگا ۔۔ سب آنسوؤں میں بہنے دیا۔۔
********************
جیسے ہی صابرالحسن اندر داخل ہوئے روتی ہوئی ایمن کو دیکھ کر پریشان ہو گئے۔۔
“ایمی۔۔ کیا ہوا بیٹا؟ کیوں رو رہی ہو؟”۔۔ اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے اُسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔۔ وہ روئے جا رہی تھی۔ کہتی بھی تو کیا۔۔ صابر نے اُسکو رونے دیا تاکہ دِل کا غبار ہلکا ہو۔
“میں ٹھیک ہوں ابو”۔۔ آنسو پونچھتے ہوئے ایمن نے خود کو سنبھالا۔۔
” میری ایک دوست کے والد کا اِنتقال ہوگیا ہے۔ وہ اُسکو بہت پیار کرتے تھے۔ کیسےرہے گی یہ سوچ کربس دِل بھر گیا”۔۔ اِس سے بہتر بہانہ کوئی نہ ملا۔
“اللہ اُنکے درجات بلند فرمائے۔۔ موت بر حق ہے بیٹا۔ کوئی اپنے پیارے کو کھونا نہیں چاہتا مگر سب کو جانا ہے ایک دِن۔ ۔ کہو تو ساتھ چلوں تمہارے”۔۔ اُنکو یہ وقت مناسب نہ لگا بات کرنے کا۔
“نہیں ابو۔ میں برداشت نہیں کر سکوں گی اُسکا رونا۔پھر کسی دِن چلی جاؤنگی۔ آرام کرنا چاہتی ہوں”۔۔
“ٹھیک ہے تم آرام کرو”۔۔
“کیا بات ہوئی؟”۔۔ جیسے ہی صابر الحسن کمرے میں داخل ہوئے رقیہ بیگم نے فوراً پوچھا
“تم بھی حد کرتی ہو۔ بیٹھنے تو دو”۔۔ صابر الحسن صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولے۔۔ گھونٹ گھونٹ پانی پیا۔۔ گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا اوربات نہ کرنے کی وجہ بتا دی۔
“اچھا کیا “۔۔ رقیہ بیگم نے کہا اورکپڑےالماری میں رکھنے کیلئے بڑھ گئیں۔
*********************
“کیا کر رہی ہو”۔۔ موبائل پر چلتے ہاتھ پل بھر کو رُکے
“نظرکمزور تو نہیں آپکی۔۔ دیکھ سکتے ہیں”۔۔ ہمیشہ کی طرح تڑخ کر جواب دیا۔ راحیل بنا کچھ کہے اُسے دیکھتا رہا۔ ایمن انجان بنی اپنے آپ میں مگن رہی جیسے اُسکے سوا وہاں کوئی موجود ہی نہ ہو۔
“میں نے پہلے بھی کہا تھا اپنا طرزِ مخاطب بدل لو کیونکہ ہمارا رِشتہ بدلنے والا ہے۔ ٹیک اِٹ سیریس”۔ کافی دیر بعد راحیل نے مخاطب کیا
“وائی شُڈ آئی (why should I)”۔۔
راحیل کو لگا وہ دیوارِ بدتمیزی سے ٹکریں مار رہا ہے جو اِنسان کو زخمی نہیں کرتی بلکہ بے عزت کرتی ہے۔
” ہٹ دھرمی، ضد ، اکڑ اِنسان کو توڑ دیتی ہے ایمی”
“غلط!! ایک دم غلط کہا۔۔ اِنسان کو اِن میں سے کچھ نہیں توڑتا۔۔ نہ ہٹ دھرمی، نہ ضد اور نہ ہی اکڑ۔۔۔ اِنسان کو محبت توڑتی ہے۔۔ صرف محبت”۔
“تم کسی کو پسند کرتی ہو؟ “۔۔ راحیل کے پوچھنے پر ایمن خاموش رہی۔۔ نظریں موبائل کی بند سکرین پر گاڑے وہ ذہنی طور پر کہیں اور تھی۔۔
“میں نے کچھ پوچھا ہے ایمی۔۔ تمہیں کوئی اور پسند ہے؟”۔۔ اُس نے راحیل کی طرف دیکھا۔۔ کیا کچھ نہیں تھا اُسکی آنکھوں میں۔۔ خاموش محبت، اَن کہی چاہت، پاکیزہ جذبوں کا ٹھا ٹھیں مارتا سمندر۔پراُسکا لہجہ اُسکی نظروں سے بالکل متضاد تھا۔ تڑپتا سوال، خاموش شکوہ، ٹوٹتا مان، شکستہ خواب، اَن کہی دمکتی محبت کی بجھتی لو،۔۔۔ ایمن نے اُسکی نظروں کی تاب لا سکی نہ اُسکے لہجے کی تپش کو برداشت کر پائی۔ چہرہ اِس حد تک نیچے کر لیا جیسے زمین میں سما جانا چاہتی ہو۔ شاید وہ ڈر گئی کہ راحیل اُسکی آنکھوں میں وہ سب نہ دیکھ لے جو اُس نے راحیل کی آنکھوں میں اپنے لئے دیکھا۔مگر۔نہیں راحیل کی آنکھوں میں ایسا کچھ نہیں تھا۔۔ لیکن ایمن۔۔۔ اُس کی آنکھوں میں تھا ہی کیا؟۔ ٹوٹے دِل کی کرچیاں، مرجھائے جذبوں کی پتیاں، مان و اعتماد کا بکھرا وجود، محبت کی تذلیل اور ٹھکرائے جانے کا غم۔۔ اُس نے ہار نہ مانی تھی۔۔شاکر سے پھر بات کرکے کا عزم لئے بیٹھی تھی اُسے یقین دِلانے کیلئے کہ وہ اور لڑکیوں کی طرح نہیں ہے مگر راحیل کی آمد نے سب ڈانواڈول کر دیا۔۔۔۔
ایمن کی خاموشی اُسے بہت کچھ سمجھا رہی تھی۔راحیل کو وہاں کھڑا رہنا اپنی توہین لگا۔۔ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ چلا گیا۔۔ آنسو ایمن کی آنکھ سے نکلا اور ڈپٹے میں جذب ہو گیا۔
راحیل کے جذبوں کو نظر انداز کر تے ہوئےاپنااکاؤنٹ لاگن کیا۔ اپنی اور شاکر کی کنورسیشن دوبارہ پڑھنے بیٹھ گئی۔۔ ایک ایک لفظ دِل چیررہا تھا۔دِل کو پتھرکیا، عزتِ نفس کو سائیڈ پر رکھا ، شعر لکھا اور سینڈ کر دیا۔
اداسی روح کے اندر کہیں پر
تمھارا نام لکھ کر رکھ گئی ہے
محبت عزتِ نفس، انا ، خود داری اور غیرت کو دیمک کی طرح یوں چاٹ جاتی ہےکہ کسی کو پانے کی چاہ اِنسان میں کچھ بھی کر جانے پر مجبور ہو جاتاہے ۔۔ جھک جانے پر ۔ہار جانے پر۔ مگر ہار جیت کہاں معنی رکھتی ہے۔۔ معنی رکھتی ہے تو محبوب کی چاہت۔محبت کا جواب محبت سے ملے تواِنسان خود کو ہوا میں اُڑتا محسوس کرتا ہے ، یوں لگتا ہے ساری دُنیا اسکی دسترس میں آ گئی ہو۔۔دِل میں محبت کابیج بو کرپانی نہ دیا جائے تو پودامرجھا جاتا ہے۔ احساسِ چاہت دِلا کر کنارہ کر لیا جائے تو دِل ہر شے سے کنارہ کر لیتا ہے، خوشی سے، آسودگی سے، خواہشوں سے یہاں تک کہ خود سے بھی۔۔
اُس نے بھی ایسا ہی کیا ۔۔ خود کو تنہا کر لیا۔۔ پریشان حال،افسردہ، شکستہ۔۔ کم مائیگی کا احساس کچوکے لگاتا تو دِل تڑپ جاتا۔۔
میسج سین ہوا لیکن جواب ندارد!!
“شاکر یہ کیسی محبت ہے؟کس چیز کا بدلہ لیا ہے مجھ سے؟ محبت کی آگ لگا کر خاموش بیٹھے ہیں بنا دیکھےکہ میرا وجود کس قدر جھلس گیا ہے۔۔ جل کر خاکستر ہوگیا ہے۔۔ راحیل میرا کزن ہے تو کیا ہوا۔۔یہ جان کر کہ وہ میرا کزن ہے کیا تمہاری محبت ختم ہو گئی ہے؟ جواب دو۔۔ کچھ تو بولو”۔ دوبارہ میسج سینڈ کیا۔۔
شاکر نے عجیب سا منہ بنا کر میسج پڑھا۔۔۔ اُسے کیا پتہ تھا جانے انجانے میں وہ ایک معصوم دِل سے کھیل رہا ہے۔ وہ اِس کھیل کا عادی بن چکا تھا۔ وہ اُس سے بھی دِل لگی کر رہا تھا جیسے سب سے کرتا تھا۔۔ لیکن کوئی اُسکو سیریس کہاں لیتی تھی۔۔ مسکا لگانا، تعریفیں کرنا، بچھ بچھ جانا اُسکی عادت تھی لیکن اِس باریہ عادت اُسکو مہنگی پڑ گئی تھی جو محبت کا طوق بن کر کسی کے گلے میں جھول رہی تھی۔۔
مٹی میں ملا دے کہ جدا ہو نہیں سکتا
اب اس سے زیادہ میں ترا ہو نہیں سکتا
ایمن نے میسج دیکھاجس میں ہر بات واضح تھی لیکن وہ تو جیسے سمجھنے کو تیار ہی نہ تھی۔
“کیوں نہیں ہو سکتے میرے؟”۔۔
“تم سمجھتی کیوں نہیں یار”
“تمہیں راحیل سے کیا خدشہ ہے آخر۔ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ ٹرسٹ می”۔اُس نے یقین دہانی کرائی
“اوہ گاڈ! راحیل راحیل راحیل۔۔۔ یارمجھے راحیل کا ڈر خوف نہیں۔ وہ میرا کولیگ ہے ڈیٹس ایٹ۔۔ کوئی باس نہیں جو اُس سے ڈروں گا ”
“پھر کیا مجبوری ہے”۔
“تم تو پیچھے ہی پڑ گئی ہو میرے۔ برا ہوا جو تمہیں رپلائی کر بیٹھا”۔
“میں پیچھے پڑی ہوں؟ شاکرمیرے پیچھے لگ کر تم نے مجھے محبت کا یقین دِلایا اورجب میں نے تمہارے ساتھ قدم ملائے توتم پیچھے ہٹ گئے ہو۔ یہ کہاں کا اِنصاف ہے؟ کیسی دُشمنی کی ہے میرے ساتھ۔۔ نہ دِن میرے ہیں نہ راتیں۔۔ تمہارا خیال، تمہاری باتیں، تمہاری سوچ، تمہاری؟”۔۔ ایمن کو اُس کا طرزِ مخاطب توہین آمیز لگا۔
“اِنف اِز اِنف۔ میں سب سے اِس طرح کا ہنسی مذاق کرتا ہوں۔ میرا اسٹیٹس دیکھ لو۔۔بلکہ وہ تو تم روز ہی دیکھتی ہو۔ پھر بھی مجھ سے شکوہ”۔۔ اُس نے ایمن کی بات کاٹ کر بری طرح جھڑکا۔۔
“ایک بات کا جواب دے دو”
“پوچھو”۔۔
“کیا سب لڑکیوں سے محبت کا اِظہار کرتے ہو؟ چاہت کے رنگ بکھیر اُنکی زندگیاں بھی اُسی طرح بے رونق کرتے ہو جیسے میری کی؟”۔۔ شاکر سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ ایمن اُسکی محبت میں پور پور ڈوب چکی تھی۔۔
“نہیں”۔۔ اُس میں ہمت نہ تھی مزید کچھ کہتا۔۔
“پھر میرے ساتھ یہ سب کیوں کیا؟”۔۔
” میں تھوڑا فلرٹی ہوں پر تمہارے ساتھ کچھ زیادہ کر گیا یہ میری غلطی ہے۔ یہ سچ ہے کہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں ۔ تم مجھے اچھی لگتی ہوں لیکن میں تمہیں نہیں اپنا سکتا۔۔تم جہاں تمہارے والدین کہتے ہیں شادی کر لو۔ میرا ساتھ تمہیں کچھ نہیں دے گا سوائے بٹوارے کے۔۔اب میسج مت کرنا۔۔ تمہیں اَن فرینڈ کر رہا ہوں۔۔ ٹیک کئیر۔ بائے”۔ شاکر کا تفصیلی جواب اُس پر منوں مٹی ڈال گیا۔۔ وہ وہیں ڈھیر ہو گئی۔سر بینچ پر رکھے اپنی تذلیل پر، ٹھکرائے جانے پر رو پڑی۔
***************
“باجی چائے”۔۔ سونیا ٹرے لئے کھڑی رہی
“لے جاؤ۔۔ نہیں پینی”۔۔
“آپ نے ناشتہ نہیں کیا۔۔ دوپہر کو کھانا بھی نہیں کھایا۔۔ شام کو لان میں بیٹھیں رو رہی تھیں۔ سب ٹھیک تو ہے باجی”۔۔ سکول جانے کی وجہ سے اُسکی اُردو ماں کی نسبت کافی بہتر تھی لیکن لہجے میں پنجابی ٹچ آ جاتا تھا۔
“اگر سب ٹھیک نہ ہوا تو کیا تم ٹھیک کر دو گی؟”۔۔ ایمن نے تنک کر پوچھا۔
“شاید کر دوں۔۔یا شاید کوئی پتے کی بات بتا دوں جس سے آپ کے وہ زخم مندمل ہو جائیں جو آپ سب سے چھپا رہی ہیں”۔ سونیا کی بات پر ایمن نے چونک کر اُسکو دیکھا جسکا چہرہ بہت کچھ بتا رہا تھا۔۔
“کیا مطلب ہے تمہارا۔۔ میں کیا چھپا رہی ہوں سب سے”۔۔ ایمن کا لہجہ مدھم تھا لیکن غصے کا عنصر شامل تھا۔
“باجی”۔۔ سونیا نے اُسکا ہاتھ پکڑا۔۔ ایمن نےاُ سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو میں سن رہی ہوں تم کہو۔۔
” آپکو پتہ ہے اماں مجھے یہاں کیوں لاتی ہیں تاکہ میں گھر میں اکیلی نہ رہوں۔۔ ٹونی اور بٹو تو سارا دِن ورکشاپ ہوتے ہیں اور میں اکیلی”
“پہلے بھی تو تم اکیلی رہتی تھی”۔۔ ایمن اُس کی بات کا مطلب نہ مجھ پائی کہ وہ کہنا کیا چاہتی ہے۔
“پہلے بات اور تھی باجی”۔ ایمن نے اُلجھی نظروں سے دیکھا جیسے سمجھنے سے قاصر ہو۔۔
“باجی غور سے سننا۔ آپکو ساری بات کی سمجھ لگ جائے گی”۔۔سونیا سمجھ گئی کہ وہ اُلجھن کا شکار ہے۔
” میری دوست مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ اکثر میرے گھر پڑھنے آتی تھی ہم لوگ مل کر پڑھتے تھے۔۔ بہت ذہین اسٹوڈنٹ تھی وہ۔اُسکا بھرا(بھائی) دوبئی سے سب کیلئے گفٹ لایا تو اُسکو بڑا والا موبائل دیا۔ وہ پہلے تو اِتنا استعمال نہیں کرتی تھی پر آہستہ آہستہ وہ فون میں لگی رہتی۔ میرے گھر آ کر بھی وہ فون سے چپکی رہتی جسکا نتیجہ اسکے کم نمبر آنے کی صورت میں نکلا”۔۔
“تم جو کہنا چاہتی ہو وہ کہو”۔۔ ایمن اکھڑ گئی۔۔ سونیا کی باتیں اُسکی سمجھ سے باہر تھیں۔
“وہی تو کہہ رہی ہوں۔۔ آپ حوصلے سے سنیں تو۔۔۔ چائے پئیں ساتھ ساتھ”۔۔ ایمن نے چائے کا کپ اُٹھالیا۔
“میں نے بہت کہا شبانہ فون کا استعمال نہ کیا کرو تم فیل ہو جاؤ گی۔ اُس نے میری ایک نہ سنی۔ آپکو پتہ ہے جب وہ موبائل میں بزی ہوتی تو اُس کے چہرے کے تاثرات بدل جاتے، ہونٹوں پر مسکراہٹ رہتی، رنگ لال ہو جاتا۔۔ میں سمجھ گئی معاملہ کچھ اور ہے۔۔ میں نے بہت سمجھایا کہ وہ جس راستے پر چل رہی ہے وہ غلط ہے۔۔ اُس نے کہا وہ اُسکا فیس بک کا دوست ہے، اسکو پسند کرتا ہے اُس سے شادی کریگا۔ مجھےاُسکی تصویر دِکھائی۔ کافی گورا چٹا لڑکا تھا ۔ دیکھنے میں راحیل بھرا (بھائی) کی طرح اچھے گھر کا لگتا تھا۔شبانہ نے اپنی کتنی ہی تصویریں اُسکو بھیجیں۔ یہ دھڑا دھڑ۔فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگ گئیں۔۔ گفٹس دینے لگ گیا۔ شبانہ جھوٹ بولتی کہ دوست نے دیا ہے۔ میں نے کہا یہ غلط ہے، سب سراب ہے، دھوکہ ہے، یہ لڑکے وقت گزاری کیلئے دوست بناتے ہیں نہ کہ شادی کیلئے۔ اُس نے میری ایک نہ مانی”۔۔۔ وہ سانس لینے کو رُکی۔۔ ایمن کا دِل لب ڈب کر رہا تھا۔۔ اُسے لگا سونیا اُسے اُسی کی کہانی بتا رہی ہو۔
“پھر”۔۔ سکینہ کی خاموشی لمبی ہوئی تو ایمن نے پوچھا
“پھر کیا تھا ایمی باجی۔ شبانہ نے اُسکو زور دینا شروع کر دیا کہ شادی کیلئے ماں باپ کو گھر بھیجےکیونکہ شبانہ کی نسبت بچپن سے اپنے تایا زاد سے طے تھی۔ وہ لوگ کم عمری میں لڑکیوں کی شادی کر دیتے ہیں اِسلئے لڑکے والوں نے اُسکے والدین کو کہا تعلیم کو چھوڑو شادی کا سوچو۔ اُس لڑکے نے شبانہ کوخوب بے عزت کیا۔۔ کہا کہ مڈل کلاس ہو کر امیر گھر کے لڑکے پھانسنے کیلئے فیس بک استعمال کرتی ہو تم لوگ تاکہ گفٹ وغیرہ لو۔۔ وہ تم بہت زیادہ اور قیمتی قیمتی لے چکی ہو اب جس سے مرضی شادی کرو۔ میرے پیچھے کیوں پڑی ہو۔۔ شبانہ نے خود کشی کی دھمکی دی تو کہتا تمہاری تصویریں فیس بک میں جگہ جگہ ڈال دونگا دھمکی وغیرہ دی تو۔۔ چپ چاپ واپس پلٹ جاؤ۔۔ شبانہ نمانی نے نیند کی گولیاں کھا لیں۔۔ اچھا ہوا بروقت بچا لیا ۔۔ورنہ اُس جندری نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی ماں باپ کو ذلیل کرانے کی۔ لوگوں نے باتیں تو خوب بنائیں مگر پردہ ڈل ہی گیا۔۔ ڈھائی ماہ ہو گئے ہیں شادی کو”۔۔ سونیا چپ ہو گئی۔۔ ایمن سمجھ چکی تھی وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے۔
” اماں ڈر گئیں کہ میں گھر میں اکیلی ایسی ویسی باتیں نہ سوچوں۔۔ خالی دماغ شیطان کا گھر بن جاتے ہیں اِسلئے۔۔اُس نے مجھے کہا کہ سکول سے سیدھا یہیں آ جایا کروں پھر رات کو اُنکے ساتھ ہی گھر جاؤں”۔۔ ایمن نے کچھ نہ کہا۔۔ چائے کے خالی کپ کو ہاتھ میں تھامے بیٹھی رہی۔۔
“باجی آپ جب بھی موبائل استعمال کرتی ہیں میرا دِل ہول جاتا ہے۔ تب آپ مجھے ایمی باجی نہیں بلکہ شبانہ لگتی ہیں۔۔ وہی مسکراہٹ، وہی ایکسپریشنز۔ میں آپ سے عمر میں چھوٹی ہوں باجی لیکن عقل کا تعلق عمر سے نہیں ہوتا”۔۔
“تم کہنا چاہتی ہو میں بے عقل ہوں”۔۔ ایمن نے پوچھا
“یہ جونقلی محبت کا خول ہوتا ہے نہ باجی یہ بڑے سے بڑے عقلمند کوبے عقل بنا دیتا ہے جیسے شبانہ جیسی ذہین لڑکی کو بنایا۔ آپ بھی تو اُسی مٹی کی بنی ایک لڑکی ہیں”۔
“محبت نقلی نہیں ہوتی سونیا”۔۔ ایمن کو محبت کیلئے یہ لفظ اچھا نہ لگا۔۔
“ہوتی ہے باجی۔۔ بالکل ہوتی ہے جیسے شبانہ کی محبت۔۔ آپکی محبت۔۔ اُس لڑکے کی محبت جس نے شبانہ کواپنی چاہت کا جھوٹا یقین دِلایا ۔۔ اُس لڑکے کی محبت جس نے آپکو ورغلایا۔ اصلی محبت تو بہت پاکیزہ اور انمول ہوتی ہے ایمی باجی جس میں سب سے اہم چیز عزت ہوتی ہے، مان ہوتا ہے، اعتماد ہوتا ہے۔ بغیر اِنکے محبت بھی محبت ہےبھلا۔۔ سب سراب ہے “۔۔ ایمن کووہ ماسی کی بیٹی کم ایک رہنما زیادہ لگی جو بھٹکے ہوئے کو راستہ سمجھا رہی تھی۔۔
“تم جاؤ ۔ مجھے آرام کرنا ہے”۔۔
“جی ٹھیک۔۔ اُمید کرتی ہوں جب اُٹھیں گی تو وہی پرانی والی ایمی باجی ہونگی ہنستی کھیلتی”۔ ٹرے اُٹھاتے ہوئے کہا تو ایمی کو اثبات میں سر ہلانا پڑا۔
**************
“اصلی محبت تو بہت پاکیزہ اور انمول ہوتی ہے ایمی باجی جس میں سب سے اہم چیز عزت ہوتی ہے، مان ہوتا ہے، اعتماد ہوتا ہے۔ بغیر اِنکے محبت بھی محبت ہےبھلا”۔۔ سکینہ کا ایک ایک لفظ ایمن کے دِل پرپھوار بن کر برساتھا۔۔ وہ کم عمر ہو کر اُسکو محبت اورسراب کا فرق سمجھا گئی تھی۔۔ اُسکا دِل ہلکا ہو چکا تھا۔۔ آہستہ آہستہ وہ نارمل ہو گئی اور اپنی پہلی زندگی کی طرف لوٹ آئی۔۔ نہ لوٹا تو اُسکی شوخی۔ بے مول ہونے کا احساس اُسکواکثر غمگین کر دیتا۔۔
“کیسے ہو رہے ہیں پیپرز؟”۔۔ آئسکریم کپ اُسکی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا ۔
“بہت اچھے”۔۔ ایمن نے مسکرا کر کہا تو راحیل کو نہ صرف اپنی سماعت بلکہ بصارت کی کمزوری پر شبہ ہوا۔ ایمن اُسکے ساتھ ہنس کر بات کرلے۔۔ نا ممکن
“واؤ۔۔ ڈیٹس گریٹ۔۔ بیسٹ آف لک”۔۔
“تھینکس”۔۔ وہ دوبارہ اکنامکس کے سوالوں میں گم ہو گئی۔
“آئسکریم پگھل گئی “۔۔
“اوہ سوری”۔۔
“اِٹس اوکے۔۔ تم تیاری کرو میں چلتا ہوں”۔۔ راحیل کیلئے اِتنا کافی تھا کہ وہ نارمل ہو گئی ہے۔۔میلٹڈ آئسکریم اُٹھا کر وہاں سے چلا گیا۔
********************
ایمن کی رضامندی سے پیپرز کے بعد رقیہ بیگم نے راحیل اورایمن کی شادی کے دِن رکھ دیئے۔ شرجیل بھی اپنی وائف کیساتھ پہنچ گیا تو رونق دوبالا ہو گئی۔۔ اُس نے اپنی پسند سے شادی کی تھی اِسلئے رقیہ بیگم اپنی بیٹی اوربھانجے کی شادی بہت دھوم دھام سے کرنا چاہتی تھیں۔ سب ارمان پورے کرنا چاہتی تھیں۔ صابر الحسن کے کہنے پر شرجیل کادعوتِ ولیمہ بھی رکھ دیاتاکہ خاندان والوں کو باتیں کرنے کا موقع نہ ملے۔۔
ایمن بجھے دِل کیساتھ سب تیاریاں کر رہی تھی۔۔ شاکر راحیل کا کولیگ تھا اور وہ اِنوائیٹڈ نہ ہو ممکن نہیں۔۔جیسے جیسے دِن قریب آ رہے تھے اُسکی بے چینی بڑھ رہی تھی۔۔ راحیل نےاُس کے چہرے پر اضطراب دیکھا، اَن کہی بے چینی جو ہر وقت اُسکے وجود کا احاطہ کئے رکھتی، لب کچھ کہنے کوبیتاب۔ اُسے لگتا وہ کچھ کہنا چاہتی ہے لیکن کہہ نہیں پا رہی۔۔
“ایمی”۔۔ ہاتھوں میں تہ شدہ کپڑوں کا ڈھیر اُٹھائے کمرے تک جاتی ایمن پلٹی۔۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔ آؤ پلیز”۔۔ اُس کے ہاتھوں سے کپڑے لیکر کمرے تک لے گیا۔۔
“یہیں رکھ دیں”۔۔ بیڈ کی طرف اِشارہ کیا۔
“رکھ دیں۔۔عزت کے ساتھ مخاطب کرنے کا شکریہ۔ تشکر جناب”۔۔ وہ تھوڑا سا جھکا۔۔
“طنز کر رہے ہیں؟”۔۔ اُس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“نہ۔۔ ہرگز نہیں۔۔ اچھا لگا اِن فیکٹ”۔۔
“آپکو کچھ کہنا تھا شاید”۔۔ ایمن اصل بات کی طرف لائی
“شاید نہیں یقیناً کہنا ہے۔ بلکہ کچھ باتوں کو کلیئر کرنا بہت ضروری ہے تاکہ آنیوالی زندگی خوشگوار بن سکے”۔
ایمن کا دِل مٹھی میں آگیا۔۔ اُسے لگا شاکر نے راحیل کو سب بتا دیا ہے۔ ۔ واہمے، منفی سوچیں، عین ممکن راحیل کی طرف سے ساری عمر کا طعنہ!! اُسے اپنا گڑگڑانا یاد آیا، عزتِ نفس کو ایک طرف رکھ کر شاکر سے محبت کی بھیک مانگنا یاد آیا، ذلت، رسوائی، کم مائیگی!!!
“کیا تمہیں پر خالہ جان نے شادی کیلئے دباؤ ڈالا ہے ؟”۔۔ وہ خاموش کھڑی ناخن کھرچتی رہی۔
“دیکھو ایمن اگر تم خالہ جان کے دباؤمیں آکر شادی کیلئے راضی ہوئی ہو تو بتا دو۔۔ میں خود منع کر دونگا لیکن زبردستی کی شادی۔۔ ہرگز نہیں۔۔ یہ چار دِن کا ساتھ نہیں عمر بھر کی بات ہے”۔
“مجھے کسی نے زور نہیں دیا ۔ یہ سب میری مرضی اور رضامندی سے ہو رہا ہے”۔۔ اُس نے مختصر جواب دیا۔
“مرضی و رضامندی کیساتھ خوشی کا لفظ استعمال کرتی تو مجھے سکون مل جاتا۔ بہرحال۔۔ میرے لئےاِتنا کافی ہے”۔۔ راحیل نے کہا اور چلا گیا۔۔ ایمن کی جان میں جان آئی کہ وہ شاکر والے معاملے سے لاعلم ہے۔ یعنی شاکر نے اُس کو نہیں بتایا۔۔ شکر ہے بھرم رہ گیا۔۔
اُس نے لیپ ٹاپ اُٹھایا اور فیس بک اکاؤئنٹ ڈی ایکٹیویٹ کرنے کیلئے لاگن کیا۔۔ غیر اِرادی طور پر شاکر کی پروفائل وزٹ کرنے لگی۔ اِرد گرد سے بے خبر وہ اُسکے ہر اسٹیٹس کو پڑھتی، کبھی تصویریں دیکھنے لگتی۔
“اِسکی تصویریں آپکے پاس کہاں سے آئی باجی؟”۔۔ ایمن ایک دم ہڑبڑا گئی اور لیپ ٹاپ کا ڈھکن گرا دیا۔
“تمہیں مینرز نہیں کسی کے کمرے میں آنےکیلئے ناک کیا جاتا ہے”۔۔
“سوری باجی۔پر بتاؤ نہ یہ تصویریں کہاں سے لیں آپ نے۔۔ یہ اچھا لڑکا نہیں ہے۔ لڑکیاں تو اِسکے گرد مکھیوں کی طرح چمٹی رہتی ہیں “۔
“کیا کہہ رہی ہو تم۔۔ یہ ایسا لڑکا نہیں ہے۔ تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی”۔۔
“یہ عسکری 3 میں رہتا ہے، ایک ہی بھائی ہے دو بہنیں ہیں ۔ ایک شادی شدہ ایک میٹرک کر رہی ہے”۔۔ ایمن کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔۔ سونیا کی تمام تر معلومات درست تھیں۔
“تم یہ سب کیسے جانتی ہو؟”
” یہ وہی نامراد ہے جسکی وجہ سے شبانہ نے خود کشی کی کوشش کی تھی۔۔ محبت کے سنہری خواب دِکھا کر بیچاری کی آنکھوں سے نیندبھی نوچ کر لے گیا”۔۔ ایمن کے ہاتھ لرز گئے۔
” بلیک میل وغیرہ تو نہیں کرتا؟”۔۔ آنیوالا وقت اُسکوخوفناک نظر آنے لگا۔
“یہ تو پتہ نہیں باجی۔۔ آپ محتاط رہنا۔ اِسکی باتوں میں نہ آنا ۔۔ اگرآ چکی ہیں تو راستہ بدل دیں۔۔ آپکا اصل راستہ راحیل بھرا کی طرف جاتا ہے باجی۔ وہ حقیقت ہے اور یہ مؤا سراب”۔
“تم نے میرے دِل کا بہت بڑا بوجھ اُتار دیا سونیا”۔۔ پنجابی ٹچ میں اُردو بولتی ہوئی پر ایمن کو آج پیار آیا۔۔ اُسکو اپنے ساتھ چمٹا لیا ۔۔
****************
جیسے جیسے دِن گزر رہے تھے ایمن کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔۔ وہ راحیل سے ساری باتیں کلیئر کر دینا چاہتی تھی جیسے راحیل نے کی۔ وہ چاہتی تھی کم از کم اِس حال میں اُسکے نکاح میں جائے کہ اُسکا دِل صاف ہو۔۔کبھی جھجھک آڑے آ جاتی کبھی خوف کہ ساری بات سن کر اُسکا ردِ عمل کیاہو۔بات تو ہر صورت کرنا ہی ہوگی۔۔ اگر راحیل کے جذبے سچے ہوئے تو وہ مجھے معاف کر دے گا۔۔ اُس نے سوچا اور مطمئن ہو گئی۔
آج اُسے مایوں بیٹھنا تھا۔ شرجیل کی بیوی کنزیٰ بار بار اُسکو چھیڑتی تو وہ منہ نیچے کر لیتی۔۔ کنزیٰ جسے شرم سمجھ رہی تھی وہ درحقیقت ایک ڈر تھا۔۔جب تک وہ راحیل سے بات نہ کر لیتی اِس ڈر سے نجات نہ پا سکتی تھی۔۔
“بھابھی اب بس بھی کریں”۔۔ ایمن نے تھک کر کنزیٰ کو منع کیا
“سونیا ایک کام کر دو گی پلیز”۔۔ جیسے ہی کنزیٰ کمرے سے گئی۔۔ کپڑے استری کرتی سکینہ کو کہا۔
“کیوں نہیں”
“راحیل کو بلا دو۔ مجھے اُ س سے بات کرنی ہے”۔۔
“شادی میں تین دِن باقی ہیں باجی۔۔ اِتنی بھی کیا جلدی”۔۔ سونیا نے جان بوجھ کر چھیڑا۔۔
“اچھا بلاتی ہوں”۔۔ایمن کو پریشان دیکھ کر کہا اور کمرے سے نکل گئی
“آجایئے”۔۔ دستک پر فوراً جواب دیا۔
” تم نے بلوایاتھا”۔۔ راحیل نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔ ایمن کی نگاہیں جھک گئیں۔غیر اِرادی طور ہر ہاتھوں کو مسلنے لگی۔
“آپ میرے پاس آئے تھے کچھ کلیئر کرنے۔۔ اصولاً مجھے آنا چاہیے تھابات کرنے کیلئے مگر سب گھر پر موجود ہیں اِسلئے مناسب نہ لگا تو بلوا لیا”۔
“ہاں کہو۔۔ کیا بات ہے؟”۔۔
“وہ راحیل۔۔ بات یہ ہے کہ۔۔ دراصل میں اِس رِشتے پر دِل سے راضی ہوں۔ آپ کوئی ایسی ویسی بات”۔۔اُسے سمجھ نہ آئی کیسے بات شروع کرے
“یہ تم بتا چکی ہو”۔ اُس نے بات کاٹ کر کہا۔
“ایکچوئیلی”۔۔۔تھوڑا ڈرتے تھوڑا جھجکتے ایمن نے شروع سے آخر تک سب راحیل کو بتا دیا۔۔ کئی بار لڑکھڑائی، کئی بار رُکی لیکن راحیل کے حوصلہ افزاء رویے نے بات مکمل کرنے میں کافی مدد دی۔
“شکر ہے تمہیں جلدی احساس ہو گیا ۔ ورنہ شاکر جیسے لڑکوں سے کچھ بعید نہیں۔۔ وہ لڑکیاں ٹشو کی طرح بدلتا ہے۔۔ اچھا دِن تھا جب میرا کمپیوٹر خراب ہوا۔۔ اُس کے سسٹم سے ڈیٹا لینا تھا۔۔ ایم ڈی نے مجھے کہا کہ سسٹم شئیرنگ فولڈر سے ڈیٹا اُٹھا لوں۔۔ میں ڈیٹا اُٹھا ہی رہا تھا کہ فیس بک پر میسج آیااور غلطی سے اوپن پر کلک ہوگیا۔۔ مجھے جھٹکا لگا جب تمہاری تصویر دیکھی۔ اپنا وہم سمجھاکیونکہ پکچرکافی چینج تھی لیکن تمہارے بیڈ ڈیزائن اورٹیبل لیمپ نے کنفرم کر دیا کہ آئی ایم نوٹ رانگ”۔۔ راحیل چپ ہو گیا۔۔
“شاکر میرے سر پر ہی کھڑا تھا ۔۔کافی عجلت میں لگ رہا تھا۔ وہ میسج شاکر نے نہیں میں نے کیا تھا کہ بزی ہوں۔۔ تب اُس سے بات کی اوربتایا کہ تم میری کزن ہو لہذٰا آئندہ تم سے کوئی رابطہ نہ رکھے وغیرہ وغیرہ۔۔ تھوڑا بہت دھمکی بھی دی کہ میرے چاچو کہ دوست رینجرز میں ہیں اگر بات نہ مانی تو اچھا نہ ہو گا۔۔ اِسلئے وہ پیچھے ہٹ گیا۔”۔۔
“تم نے صرف تصویر ہی دیکھی۔۔ مم میرا مطلب “۔۔
“تصویر دیکھ لینا ہی کافی تھاایمی۔۔ تم جیسی لڑکی کسی لڑکے کو ایسے ہی تصویر نہیں بھیج سکتی”۔
“آئی ایم سوری راحیل۔۔ آ نو آئی واز رونگ(I’m sorry Raheel. I know I was wrong)۔۔ میں سراب کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔ اُسکی چکنی باتوں نے مجھے باور کرایا کہ “۔۔ وہ رُک گئی۔ راحیل سمجھ گیا وہ کیا کہنا چاہتی ہے۔۔ لہجے کی پختگی، آنکھوں کی نمی اِس بات کی گواہ تھی کہ وہ سچ کہہ رہی ہے اور پشیمان ہے جو ہوا۔
“محبت صرف لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی۔۔ بہرحال۔ اپنے دِل سے سارے خدشات نکال دو۔۔ میں اُن مردوں میں سے نہیں جو عورت کی کوئی بات پکڑ کر ساری عمر طعنہ دے۔۔ وہ ایک غلطی تھی جو تم نے انجانے میں کی یا یوں کہہ لو انجانے میں ہوئی۔۔ تمہیں احساس ہوا یہ بہت ہے”۔۔ راحیل کی بات اُسکو اندر تک سرشار کر گئی۔۔ اُسکے دِل سے بہت بڑا بوجھ ہٹ گیا۔
“میں کوشش کرونگی کہ ایک اچھی اور وفا شعاربیوی بن سکوں۔ سونیا کی شکر گزار ہوں جس نے میری رہنمائی کی”۔۔ ایمن نے دِل سے کہا
“ڈیٹس لائیک آ گڈ گرل”۔ راحیل نے کہا تو ایمن دِل سے مسکرا دی۔۔یہ مسکراہٹ اُس اعتماد کی معراج تھی جو اُسکو بخشا گیا تھا۔

Advertisements

2 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.