دوام،آخری سحر ہے!(5)_________سدرتہ المنتہی

تحریر:

سدرتہ المنتہی

کور ڈیزائن :صوفیہ کاشف

فوٹوگرافی: صوفیہ،قدسیہ

ماڈل:ماہم

____________

“دوام______
آخری سحر ہے”
قسط پانچ

زندگی سے ناراض لوگوں کی کہانیاں
******
کھڑکی کھلی تھی.. اندر سے سحر زدہ کردینے والا خمار تھا جیسے ہر ایک شہ پر دھویں کی چادر چڑھی ہو.
وہ اندر آئی دروازہ کسی ملازم نے کھولا تھا
چھوٹے سے لاؤنج سے گزرکر سیدھی انکی بیٹھک کی طرف گئی.
وہ سیدھے چت لیٹے کوئی ورد کررہے تھے.
میں نے تمہیں کہا تھا کہ اندر مت آنا.
جب کسی کے آنے کے احساس سے سیدھے ہوئے بغیر کڑک سے بولے تو عالین نے سلام کردیا.
وہ سیدھے ہو اٹھے..تم… عالین.. کیسی ہو؟
اسے دیکھ کر وہ خوش ہوئے تھے.
میں تمہیں دیکھ کر حیران نہیں ہوا.. کیونکہ مجھے یقین تھا تم سے ملاقات ہونے والی ہے..
وہ مجھ سے تمہاری آواز میں بات کرتی ہے عالین.. اسکی آواز تمہاری آواز سے ملتی ہے.. مجھے پتہ ہے حقیقت میں اسکی آواز بھونڈی ہے. کیونکہ جب میں نے اسے سنا تھا تو میں اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا تھا.
لیکن تمہاری آواز میں جب اس نے بات کی تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے تمہاری آواز بھلی لگتی ہے. نہ صرف آواز بلکہ اس کا لہجہ بھی صداقت لیے ہوئے ہوتا ہے.
اسی لئے شاید وہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے.
وہ اسے دیکھتے ہی روانی سے شروع ہوگئے تھے
اور اس مدھم مسکراہٹ سے انکی بات کو سنتے ہوئے اس نے یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں محسوس کی کہ آپ کیسے ہیں..وہ دیکھ رہی تھی کہ وہ کیسے ہیں.
تم.. کیسی ہو عالین.. تم مجھ سے خفا تھیں نہ.. کیسے خیال آیا پھر تمہیں میرا؟
انہیں اچانک خیال آہی گیا جو رسمی طور پر سب سے پہلے کہا جاتا ہے وہ انہوں کچھ دیر کرکےلیکن کہا تھا.
میں ٹھیک ہوں سر.. میں آپ سے اس طرح سے تو خفا نہیں تھی.. بس یہاں ہوتی تو آبھی جاتی..اپنی ہی کچھ زماداریوں میں پھنسی ہوئی تھی.
اچھا آؤ بیٹھو.. باہر سے کب آئیں ؟اصل میں تم نے اپنی کوئی خیر خبر بھی تو نہیں دی..
تم بیٹھو تو.. کھڑی ہو کب سے..
میں بیٹھ جاؤں گی.. پلیز اگر ایک گلاس پانی ملے تو..
ہاں ضرور.. دیکھو میں کتنا پاگل ہوں تم سے پانی بھی نہیں پوچھا ..
کہتے ہوئے کمرے سے باہر گئے..
اس نے انکی بوکھلاہٹ پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ ادھر ادھر دیکھا کمرے میں.. کچھ عجیب سا ماحول بنا ہوا تھا..
پردے گدیوں کے کور کشنز صاف اور صفائی بہت ستھری ہونے کے ساتھ کمرے میں ایک قسم کا سحر یا افسردگی کی کیفیت تھی..
سامنے کچھ فاصلے پر گول میز پر کچھ بکس اور چیزیں پڑی تھیں
وہ اٹھ کر کتابیں دیکھنے لگی یہ انہیں کتابوں کا سیٹ تھا. اس کا دل ایک بار پھر سے ڈوب گیا تھا.
لیکن ساتھ میں ایک گیم بورڈ جیسا تختہ دیکھ کر اسے لگا کہ یہ اوجا بورڈ جیسا ہے
اور وہ یقیناً اوجا بورڈ تھا.
وہ سر تھام کر رہ گئی.. اور میرے خدا.. روحوں کی حاضری کے جنتر منتر.. تو اب یہ اس جھنجھٹ میں ملوث ہیں..
وہ پانی لیکر آچکے تھے. اکھوں اوں..
اسے مکمل طور پر متوجہ نا پاکر کھنکارے.
یہ پانی..
شکریہ.. وہ اس طرف پلٹی پانی کا گلاس ان سے لیتے ہوئے تشویش بھرے انداز میں انہیں دیکھا.
تو یہ اوجا بورڈ.. اور
ہاں.. اوجا بورڈ.. تم پہلے پانی پی لو بہتر ہے یہی.. پھر بات کرتے ہیں.
اوکے.. وہ بیٹھ گئی پانی تین وقفوں میں پیا اور گلاس سائڈ ٹیبل اسٹول پر رکھا.
پہلے وہ کہو جس کی وجہ سے آئی ہو.. پھر وہ پوچھنا جو ابھی ان چیزوں کو دیکھ کر پوچھنے کا سوچ رہی ہو.اور ساتھ یہ بھی بتادو کہ کھانے میں کیا لوگی تاکہ آرڈر دے دوں..
کھانا میں نہیں کھاؤں گی
ایسا ہو نہیں سکتا.. اس لیے دو منٹ ٹہرو.. وہ بیٹھے نہ تھے دروازے کی طرف جانے لگے. یہ تکلف نہ کریں کیونکہ ہوسکتا ہے ہماری نشست کا اختتام بدمزہ ہو.. اس صورتحال میں کھانا رکھا رہ جائے گا. اور کھانے کو کسی کا دل نہیں کرے گا.
ایسا اگر ہوا تو تمہارے حصے کا کھانا تمہارے ساتھ جائے گا. اور میرے حصے کا یہیں رہے گا. کم از کم مجھے تسلی رہے گی تم بھوکی نہیں گئیں یہاں سے.
وہ کہہ کر رکے نہیں اور پانچ منٹ میں لوٹ آئے تھے.
میں کہہ دیا ہے لڑکا ہوٹل سے لے آئے گا.
اب تم فری ہوکر آرام سے بات کرو..
یہ کتاب.. جو پندرہ روز پہلے آئی ہے..
اس نے اشارہ کیا کتابوں کے سیٹ کی طرف.
ہم.. پھر.؟تمہیں کیا اعتراضات ہیں اس پر؟
آپ نے اس میں مستقیم کی موت کی تصدیق کی ہے اسکی وجہ جان سکتی ہوں؟
میں نے اس کی خود کشی کی تصدیق کی ہے..
ایک ہی بات ہے سر.. خود کشی کے بعد آپ نے یہ تو نہیں لکھا کہ وہ اس کوشش میں ناکام ہوکر بچ گیا تھا.
دیکھو میں نے اسے مراقبے کے ذریعے ڈھونڈا تھا.
میں نے اسے ہر طرح سے ڈھونڈا.. وہ کہیں نظر نہیں آیا..
آپکو آخر یہ خوش فہمی کیوں ہے کہ آپکی مراقبہ دنیا کی ہر شہ دیکھ لیتا ہے.. یا پھر یہ کہ آپ مراقبے کی وسعت کو پہنچے ہوئے ہیں..کئی اشیاء اور بشر کا علم مخفی ہوتا ہے.. ہوسکتا ہے کہ وہ زندہ ہو.. یا نہ بھی ہو.. لیکن کم از کم اس کازکر یہاں نہیں کرنا چاہیے تھا. اس سے کم از کم تصدیق ضرور ہوجاتی ہے اس کے گزرنے کی..
دیکھو میری بات سنو عالین.. میں اس سے بات کرچکا ہوں.. اسکی روح کے ساتھ بات کرچکا ہوں.. سمجھنے کی کوشش کرو..
یعنی کہ اس فری رائٹنگ اوجا بورڈ (تختہ ارواح) یہ ڈھکوسلے جو ہم نے خود گھڑے ہیں.. ان کے ذریعے آپ نے اس سے بات کرلی.. واہ.. کیا کہنے
میرا مزاق مت اڑاؤ عالین مجھے سمجھنے کی کوشش کرو..
میں آپکو سمجھنے کی کوشش کروں.. حد ہوگئی..
کجا کہ آپ خود ہی خود کو نہیں سمجھ پائے..
یہ کشش.. یہ جنتر منتر یہ ٹونا.. یہ کرتب.. یہ کیفیات.. یہ ماورائی جھلکیاں.. بہت حد تک فریب. اور بڑی حد تک لاشعور کے کھیل ہیں..
آپ ان کے درمیان پھنس کر کم از کم نتائج اخذ تو کرلیں لیکن ان پر مہر نہیں لگاسکتے.. غلط کررہے ہیں آپ.. اپنے اور لوگوں کے ساتھ…
دیکھو.. مجھے تم نہیں سمجھ سکتیں.. یہ بات الگ ہے لیکن.. ایسا نہیں ہوسکتا کہ میں مکمل طور پر غلط ہوں.. تم بیٹھو کچھ ایکسپیریمینٹس میں تمہارے سامنے کرتا ہوں..
دیکھنا تمہیں ہر سوال کا جواب نہ ملے تو مجھے کہنا..
سر پلیز…
بس عالین ٹھیک ہے.. تم اگر مجھے ڈھکوسلہ سمجھتی ہو یا پھر یہ کہ میں غلط اسٹیٹمینٹ دیتا ہوں تو بہتر ہے کہ تم یہ سب ثابت کرو.. تحقیق کرو.. یا پھر یہ ثابت کرو کہ مستقیم زندہ ہے.
اور وہ تمہارا آرٹیکل اپنی کتاب کے خلاف میں خود چھپواؤں گا یہ میرا تم سے وعدہ ہے آج.
بہت اچھے سے جواز ڈھونڈا ہے.. بہرحال میں بہت مایوس ہوئی ہوں آپ سے.. میں نے سوچا تھا آپ علم کی طرف جائیں گے.. لیکن آپ نے فورا” طاقت کی طرف پینترا بدل دیا..
تم بھی باقیوں کی طرح مجھے غلط سمجھتی ہو.. ٹھیک ہے سمجھتی رہو.. مجھے نہیں فرق پڑتا.. اوکے..
ٹھیک ہے.. شکریہ..
وہ فورا” اٹھی اسی وقت کھانے کی ٹرالی لئے لڑکا آریا تھا کمرے کی طرف..
میں نے کہا تھا یہ ضایع جائے گا.. وہ بولی.
اور میں نے کہا تھا کہ تمہارا حصہ تمہارے ساتھ جائے گا.
ایسا نہیں ہوسکتا..
تم میرے نظریات ٹھکراسکتی ہو.. لیکن رزق نہیں.. میں قدر نہیں کرسکوں گی اس رزق کی..
تم بہت جذباتی ہورہی ہو عالین اور جذباتی ہوتے ہوئے تمہیں زرا بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ تم بھی دل توڑ رہی ہو.. وہ بھی پوری طرح سے..
میرے یہاں بیٹھ کر منہ سجاکر کھانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا.
تم اتنے عرصے بعد ہی آئیں اور وہ بھی مجھے لتاڑنے..
لتاڑنے نہیں سر.. آپکو صرف یہ سمجھانے کی پلیز اس فریب سے نکل آئیں بعض دفعہ طاقت کچھ نہیں ہوتی..
انسانوں کی ساکھ.. ڈھارس.. تعلقات بہت اہم ہوتے ہیں.
تم مجھے یہ پٹی پڑھانے آئی ہو.. جو مجھے سماج کئی بار پڑھاکر خود فراموش کردیتا ہے.
مجھے افسوس ہے عالین اتنے عرصے بعد تم میرے لیے مجھ سے ملنے حال پوچھنے نہیں آئیں.. بلکہ مجھے مجرم ٹہرانے آئیں.. اور جرح کرکے جارہی ہو.
انکے لہجے میں بھی افسوس تھا. اور چہرے پر بھی..
مجھے خود اس بات کا افسوس ہے.. لیکن کاش آپ یہ کتاب مستقیم کے بغیر ہی لکھ کر مکمل کرلیتے اسے چھپواتے بھی.. لیکن.. اگر کہیں سعدیہ کی نظر پڑی تو اسکی امید تو ٹوٹ گئی ہوگی..
یہاں تک کہ التمش صاحب کی بھی..
التمش… اس کا یہاں کیا…؟
آپ کے مراقبے نے نہیں بتایا؟
طنز مت کرو عالین…
ٹھیک ہے.. نہیں کرتی.. التمش مستقیم کے دادا ہیں.. انکے بیٹے کی اکلوتی اولاد..
بیٹے کی اکلوتی اولاد.. اوہ.. خدایا.. یہ نور فاطمہ کا پوتا ہے.. اسے تو دکھ پہنچ سکتا ہے . اگر .اسے یہ پتہ چلے تو.. خیر اس میں میرا اتنا بھی. قصور نہیں…
مستقیم کی موت کے بارے میں خود سعدیہ بھی قبول کرچکا ہوگی کہ وہ نہیں رہا.
بہرحال.. بہت کچھ افسوس کن ہے..
آپ سنبھل سکتے ہیں سر. اگر خود کو طاقت کی چاہت سے آزاد کردیا تو..
دنیا کی کوئی بھی شہ اگر آپ سے بھگ رہی ہے تو آپ اسے دھتکاردیں.. اس سے پہلے.. پیچھے بھاگیں گے تو دل تباہ کرے گا.. اسکی ہر ایک بات ماننے والی نہیں ہوتی.
شکریہ عالین.. لیکن میں بہت دور نکل چکا ہوں..
ویسے بھی میرے لئے اس دنیا میں کچھ نہیں رکھا ہوا..
نہ میرا کوئی اپنا ہے.. نہ دوست یار. میرے ساتھ میری پرانی اسٹوڈنٹ دوستوں کی طرح رہنے والی ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتی.
میں کھانا کھا لیتی ہوں سر.. لیکن میری باتوں پر غور ضرور کیجئے گا.
اس نے ٹرالی صوفے کے نزدیک کی..
بلکہ رکیں.. ہم باہر کھانا کھاتے ہیں لاؤنج میں.. یہاں بیٹھ آپکی ملاقاتی روحوں کو نہیں ستانا..
اس نے ٹرالی پھر سے کھسکائی اور باہر لیکر جانے لگی.
کبھی طنز ‘کبھی مزاق .کبھی جھٹلانا.. تمہارے عجیب روپ ہیں عالین بی بی..
وہ اس کے ساتھ ہی باہر جانے لگے تھے کندھے جھٹکتے ہوئے
اور اسی وقت سامنے طاہر منیب دروازے کے پاس کھڑا ملا.
وہ بغیر سلام دعا کئے حواس باختگی سے دیکھتا رہا.
ہیلو طاہر منیب..
عالین.. آپ کیسی ہیں؟اسکا لہجہ مدھم تھا.
میں ٹھیک ہوں.. آپ ٹھیک نہیں لگ رہے..
وہ جوابا” صرف مسکرایا تھا تھکا سا.
کیا ہوا..طاہر.. خیریت ہے نہ.. ؟انہوں نے اسکی پریشانی کا کسی حد تک اندازہ لگا بھی لیا تھا.
وہ چلی گئی سر..
اوہ.. مجھے تمہاری بیوی سے یہی ڈر تھا..
اندر آجاؤ بیٹھ کر بات کرتے ہیں
وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے بولے
بات رہنے دیں.. ہپناٹزم کیجئے گا .عالین جاتے ہوئے تیر پھینک گئی.
یہ تو بھری ہوئی ہے مجھ پر..
وہ ہنسے تھے ہلکا سا سر جھٹک کر اور اسے اندر لے آئے
ہپناٹائیز ہونے سے کوئی فائدہ ہوتا ہے؟
طاہر منیب بکھرا بکھرا بولا تھا.
سالس اسے کچھ ناسمجھی سے دیکھنے لگے.. پھر مسکرادیے
.تمہیں فی الحال آرام کرنے کی ضرورت ہے.
اور پہلے مجھے وہ بتاؤ جو سارے راستے سوچتے ہوئے آئے ہو.
کچھ بھی نہیں سوچ سکا ہوں..
کوئی بات نہیں.. بس ادھر پہنچ گئے ہو تو تسلی رکھو.. بیٹھ کر آرام سے بات کرتے ہیں.
وہ اسے لیکر اندر چلے گئے تھے.
*******

زندگی پر موت کا کالا پہرہ تھا
********

مونا شادی کے بعد پہلی بار گھر آئی تھی. سہاگنوں سجی سنوری ہوتی ہیں مہکتی ہوئیں
اور وہ بجھی بجھی تھی.. جیسے اجڑی ہوئی. اس وقت اپنی بیٹی کے لیے یہ لفظ استعمال تو نہیں کرسکا مگر اسے دیکھ کر میرا دل ایسے ہی ہوگیا تھا.. بجھا ہوا اور اجڑا ہوا..
میں اسے بس دیکھے گیا.. نور فاطمہ کتنی منافق تھی جسے بیٹی کی خوشی سے کہیں زیادہ خود کی نظریاتی آنا تھی.
وہ بلائیں ایسے اتاررہی تھی.. جیسے مونا جنت سے اتری ہو.. تھی تو وہ اسی قابل کہ جنت سے اترے.. لیکن جنت… جس کا تصور نورفاطمہ کی نظر میں اور ہے, اور میری نظر میں اور.
میری بیٹی.. میری مونا نے سمجھوتے کی زندگی کا آغاز کردیا تھا.
اس دن اسے دیکھنے کے بعد اسکے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ دیکھنے کے بعد کئی روز تک میں مسکرانہ سکا تھا..
میری مونا..
میری جان.. میری لاڈلی بیٹی شادی کرکے اس گھر میں کیسے جیتی ہوگی.. ایک روز مجبور ہوکر اسکی طرف چلا گیا نورفاطمہ بھی ساتھ تھی.. جس سے میں نفرت کا اظہار اب اپنے لہجے کے ذریعے بھی کرنے لگا تھا.
وہ زبردستی میرے ساتھ ہولی تھی.
ہم جب پہنچے تو مونا صحن میں جھاڑو دے رہی تھی.. ہمیں دیکھ کر رکی.. سلام کیا..ہمیں بیٹھنے کا کہا اور پھر سے جھاڑو دینے لگ گئی.
میں ہکا بکا کھڑا تھا..
اسکا شوہر آیا ملا ہمیں آگے لے گیا کمرے کی طرف
میرا دھیان مونا کی طرف تھا..
اللہ جانے وہ اس گھر میں کیا کیا کام کرتی ہوگی.. اسکے نازک ہاتھ.. اور دھوپ بھری گرمی میں جھاڑو وہ بھی صحن کا…
میں پسینے پسینے ہورہا تھا سوچتے ہی..
وہ جھاڑو دینے کے بعد برتن دھورہی تھی.. اور پھر ہمارے لئے چائے بنالائی..
چائے پر چپ تھی.. میں ایک گھونٹ بھی نہ لیتا اگر اسکا اشارہ نہ ہوتا.. کتنے روز بعد اسکے ہاتھ کی چائے پی رہا تھا
اندر میٹھا زہر صرف اسی احساس سے اتار پایا اور اس دن واپسی پر.. میں نے باجہ اٹھاکر توڑدیا جو پہلے ہی سے زخمی تھا.
مونا کی ماں تھی وہ عورت آتے ہی شروع ہوگئی تھی کہ مونا اپنے گھر میں خوش ہے ٹھیک ہے
گھر میں دل لگایا ہوا ہے.
شادی شدہ زندگی کی ایک الگ ہی خاصیت ہوتی ہے.
وہ بولتی رہی اور میں اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا.
دل حقیقت میں رورہا تھا.
گھر سے دل اچاٹ ہوگیا تھا
اور میں دربدر پھرنے لگا تھا. دل خالی تھا.. مونا کے لکھے کھیل تھیٹر کرنے لگا تھا.
اور مونا کہیں نہیں تھی ان میں.. دور تک نہیں..سوائے میرے دل کے.. اور اس گھر کے.
پہلی بار اسکے لئے کچھ چیزیں بھیجیں تھیں میں نے ‘اور اس کے شوہر نے یہ کہہ کر واپس کردیا کہ میرے گھر میں حرام کی کمائی کی چیزوں کی کوئی جگہ نہیں..
اسکے بعد میں نے وہاں جانا تو درکنار اس شخص سے بات چیت کرنا چھوڑدی تھی.
البتہ مونا کی فکر نے مجھے بوجھل ہی رکھا کسی طور اسکی خیر خبر ملتی تو زرا تسلی ہوتی..
دکھ اس بات کا تھا کہ نورفاطمہ ماں ہوکر بھی اسے سمجھ نہ سکی اور ایک جھوٹی خوش فہمی سے خود کو اور مجھے بہلانا چاہا.
اچھا ہوتا اگر میری بیٹی ہار نہ مانتی.. میں اب بھی سوچ رہا تھا کہ وہ لوٹے گی..
وہ ایک روز آجائے گی اور اپنے سارے دکھ مجھ سے شیر کرے گی..
پھر ہم مل کر کوئی حل سوچیں گے.. مگر اس سب کا وقت ہی نہ مل سکا..
مونا کو جس دن بیٹی ہوئی اس روز میں نے بھی ہار مانی اور تسلیم کیا کہ اب اسے اپنا گھر جوڑنا ہوگا.
اپنی اولاد کی خاطر..
اور شاید اولاد کا سہارا اسے مضبوط بھی کرلے اس کے دیو جیسے ہیبت ناک تاثرات والے آدمی سے بات کی اس سے ملا بھی اور مونا کو دیکھا بھی..
اسکے چہرے پر جانے کیوں اب بھی کوئی خوشی کا تاثر ڈھونڈنے میں ناکام رہا تھا میں.. گھر لوٹنے کے بعد ایک بار شعوری طور پر نور فاطمہ نے مجھے یہ تسلی دینے کی کوشش کی تھی کہ مونا خوش ہے اپنی زندگی میں اور ایک اچھی زندگی گزاررہی ہے.
درحقیقت تو وہ خود کے فیصلے کو درست ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی تھی.
مگر کون اسے سنتا اور کون مجھے سمجھتا عالین
اس کے بعد جلد ہی وہ وقت آیا جو کڑا تھا.
جو دکھی تھا.. اذیت ناک تھا.
مجھے مونا کی موت کی خبر ملی.. تم سمجھ سکتی ہو کہ یہ خبر سن کر میرے دل کی دنیا تہس نہس ہوگئی ہوگی.. ایک پہاڑ تھا جو پوری طاقت سے کسی نے میرے اوپر گرادیا تھا.
مونا کا وہ چہرہ دیکھ کر بھی اس روز میں ذندہ بچ گیا.. اور مونا مٹی کی ہوگئی.. ہنسنے کھیلنے باجے بجانے والی.. میری زندہ دل بیٹی پہلے زندگی کی بے رحمی کا شکار ہوئی اور پھر موت کے پاس اس نے پناہ لے لی..
عالین.. اس کا شوہر جنازے میں شریک نہیں ہوا..
نور فاطمہ کو بیٹی کے مرنے کا کم بیٹی کی خود کشی کا غم ذیادہ تھا.
اور میرا دل پھٹ رہا تھا..
تم بتاؤ عالین کوئی خود ذندگی کو کیوں چھوڑتا ہے..
تم بتاؤ عالین کیا وہ خود کشی کرنے والوں میں سے تھی..
تم بتاؤ عالین.. زندگی کیا تھی..اس کے لئے..
اس کے بعد میں نے دس سال تک اس گھر کا رخ نہ کیا..
امید تھی کہ یہ عورت مجھ سے نفرت کرے..
جیسے میں کرتا تھا..
مونا کے لئے آج تک میں اسے اور خود کو معاف نہیں کرسکتا.
*******

بددعائیں جب ہمارے ساتھ سفر کرتی ہیں.
******
ناناجان کی بے وفائی کے نام جنہوں نے مجھے خط لکھنا چھوڑدیا ہے.
اس نے میل پوسٹ کرکے لیپ ٹاپ بند کیا اور آکر بیٹھ گئی اسی وقت دروازے کی بیل بجی اور اس نے دیکھا کہ نگار افروز کھڑی ہے.
تم نگار.. کیسی ہو؟
ٹھیک ہوں.. اس دن تم اچانک ہی اٹھ کر چلی گئیں کچھ بتایا بھی نہیں…
بس یار.. عنصر کا فون آتا ہے تو دل دہک جاتا ہے.. عجیب آدمی بن گیا ہے یہ شخص..
حالانکہ تم نے فون اٹھایا تو نہیں تھا.
وہ کچن ایریا میں آکر بیٹھ گئیں ڈائننگ ایریا میں
ہاں.. وہ تو اسے تاؤ دلانے کے لئے میں اس کا فون نہیں اٹھاتی..
اسے تاؤ دلانے کے لئے کیوں.. ؟تم جان بوجھ کر تنگ کرتی ہو اسے؟
وہ بھی مجھے جان بوجھ کر تنگ کرتا ہے.
فون نہیں اٹھاتا.. بات نہیں سنتا..
بتاتا تک نہیں ہے کہ کہاں جارہا ہے اور کیوں جارہا ہے اور کب واپس آئے گا..
اسکی مرضی کی جہاں جائے.. جو کرے.. جس کے ساتھ رہے.. میرا اس سے کیا..
تو پھر ٹھیک ہے.. میں بھی یہی کروں گی نہ. اور ویسے بھی اسے میری پرواہ وغیرہ ہرگز نہیں ہے.. یہ فقط خوش فہمی تھی میری اور بس…
جو بہت جلدی ختم ہوگئی..
تم لوگوں کو کوئی بچہ ہوجاتا تب بھی اچھا تھا.. میرے ساتھ چلو ایک دو روز میں ڈاکٹر کے پاس..
رہنے دو نگار.. تعلق ہوگا تو بچہ بھی ہوگا نہ.
کیا مطلب.. تعلق نہیں؟وہ جی بھر کر حیران ہوئی تھی..
نہیں..
کب سے.. ؟
پچھلے ڈیڈھ دو سال سے..
تم.. پاگل ہو کیا زیب.. پچھلے ڈیڈھ دو سال سے.. اور یہ بات تم نے مجھے بتائی کیوں نہیں؟
یہ بات بتانے والی ہے؟
کیوں نہیں ہے.. جیسے ابھی بتایا ویسے ہی بتاتیں..
یار حد کرتی ہو..
بس رہنے دو مجھے بھی اب کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے..
لیکن کیوں؟
بس اس کیوں کا میرے پاس نگار کوئی جواب نہیں ہے.. مجھے نہیں پتہ بس اسے ضرورت نہیں تو مجھے کیوں ہو..
مجھے تو یہ سب سن کر عجیب لگ رہا ہے زیب.. اسے نہیں تو تمہیں بھی نہیں کیوں…؟؟
تم ایک انسان ہو..بیوی ہو اسکی..
نگار میں اس کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی.. رہی بات احساس کی تو یقین کرو مجھے کوئی طلب نہیں ہے اب.. بلکہ اب اگر وہ نہ آئے تو میں زیادہ ذہنی سکون محسوس کرتی ہوں.
کہ روز روز کی چخ چخ سے بچت ہوجائے گی..
زیبی تم نے تو مجھے حیران و پریشان کردیا ہے.. بات کرو اس سے پاگل لڑکی.. دیکھو اس چیز پر غور کرو کہ اسے تمہاری ضرورت کیوں محسوس نہیں ہورہی؟کیا وہ باہر کسی کے ساتھ؟
ہوسکتا ہے
.مجھے نہیں پتہ نگار.. نہ میں پوچھنا چاہتی ہوں.. پوچھنے سے جو چخ چخ ہوتی ہے اسے کون نمٹائے.. سکون اڑجاتا ہے گھر کا..
کچھ نہیں ہوتا گھر میں سوائے سکون کے اور اگر جس دن وہ بھی نہیں ہوتا اس دن گھر گھر نہیں ہوتا جہنم ہوتا ہے.
زیب کیسے کٹے گی ذندگی؟بہت لمبی ہے..
جیسے تمہاری کٹ رہی ہے..
جیسے بہت ساری ایسی لڑکیوں کی گزرتی ہے جن کی سرے سے شادیاں نہیں ہوئیں.. یا پھر جو بیوہ ہیں..
زیبی.. اتنی سخت.. بات.. یاد ہے اس دن تم کیسے روئیں تھیں.. ؟
اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ تمہیں ان سب چیزوں کا فرق پڑتا ہے.. عنصر کے رویے کا اس کی کی ہوئی نا انصافیوں کا فرق پڑتا ہے تم پر..
کیوں کررہی ہو اس حقیقت سے تم پاگل.. مکرنے میں کوئی فائدہ ہی نہیں ہے.
اس سے بات کرو چاہے پیار سے چاہے لڑائی سے.. جس صورت میں بھی.. اس سے بات کرو..
بات ہی مسئلے کا حل ہے.. تم تو اس سے دور نکل رہی ہو..
اور یہ روش تم لوگوں کے رشتے کو کمزور کررہی ہے.
ٹھیک کہتی ہو نگار.. لیکن یقین کرو کہ میرا دل خالی کھوکھلا بن گیا ہے.. اس میں کچھ نہیں رہا.. میں نے یہاں تک کہ انتظار کرنا بھی چھوڑدیا ہے..
یار کیا ہوگیا ہے زیبی.. غلط ہورہا ہے.. پلیز ایک کوشش کرو..
اچھا غور کرو.. کیا کرتا ہے.. کہاں جاتا ہے.. کیوں جاتا ہے.. اس وجہ پر غور کرو کہ تم پر توجہ نہ دینے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے.. دیکھو محبت کی شادی کی تھی تم لوگوں نے.. بہت بڑا اسٹیپ لیا تھا تم لوگوں نے..
ہاں
.جس کا اسے کوئی نقصان نہیں پڑا..مجھے پڑا ہے.. ہر طرح سے.. جس نانی نے پال پوس کر بڑا کیا اس نے نفرت کی.. اس وجہ سے.. خفا رہی..
باپ نے بددعائیں دیں.. اور صرف ایک نانو جو بھی اب بے پرواہ ہوگئے ہیں.. کوئی فرق نہیں پڑتا انہیں.. میں کہاں ہوں.. کیاکررہی ہوں.عنصر میرے ساتھ کیسا ہے, ہم دونوں آپس میں خوش ہیں بھی کہ نہیں وغیرہ..
ٹھیک ہے.. ہوسکتا ہے کہ وہ مصروف ہوں.. کہیں الجھے ہوں.. تم خود رابطہ کرلو..
پرانا فون بند ہے.. خط کا جواب نہیں اور کیا کروں.. آج بھی میل کی ہے.. دیکھتے ہیں..
آجائے گا..جواب.. لیکن پلیز زیبی عنصر کے اور اپنے رشتے کو بچالو کسی طرح سے..
یہی حل ہے اور یہ سب سے زیادہ ضروری ہے..
اوکے… دیکھتی ہوں.. ٹرائی کروں گی.. لیکن پتہ نہیں کیوں نگار مجھے لگتا ہے کہ یہ سب بے کار جائے گا..
ایسا مت سوچو.. ہمت رکھو.. اور اسے اپنی طرف راغب کرو
اب پلیز ایسے عجیب مشورے مت دینا کہ تیار رہا کرو.. اس کے آگے پیچھے پھرا کرو.. دماغ خراب کرتے ہیں ایسے مشورے میرا..
نگار اتنی دیر میں پہلی بار اس کی بات پر ہنس پڑی تھی..
تم بھی حد کرتی ہو..
اچھا چلو کہیں باہر چلتے ہیں.. موڈ چینج کرو اپنا..
ٹھیک ہے.. وہ بے دلی سے اٹھی تھی.
نگار دکھ سے دیکھنے لگی…کیا ہوگیا ہے زیبی.. انسان بنو..
توبہ ہے نگار.. تم تو بندے کی دم ہلادیتی ہو..
ٹہرو زرا بٹوہ اور فون لے لوں..
اس کے ساتھ باہر آتے ہوئے اس نے دروازہ باہر سے لاک کیا.. عنصر کے پاس اپنی چابی ہوتی تھی.
زندگی کی طرف لوٹو.
نگار اسے اکسارہی تھی اور اسے لگا جیسے اسکی زندگی میں اب احساس اور خوشی نام کی کوئی شہ نہیں رہی.
ایسے لگ رہا تھا جیسے زندگی پر کسی کی بددعاؤں کا پہرہ ہے دل میں دور دور تک خاموشی ہی خاموشی تھی.
*******

ہر کسی کو اپنا تاوان بھرنا ہوتا ہے.
*******
خانہ فرہنگ کے سامنے سے گزرتے ہوئے اسے یاد آیا کہ اس نے انس کے ساتھ یہاں فارسی کی کلاس لینا شروع کی تھی.
اور پھر وہ کلاس بیچ میں ہی چھوڑدی تھی
حالانکہ اس نے بہت کم زندگی میں شروع کئے ہوئے کام چھوڑے ہونگے.
وہ دروازے سے باہر کچھ فاصلے پر کھڑی تھی تو اسے غازی ایوب نظر آگئے تھے جو اس ادارے میں بطور استاد فارسی پڑھاتے تھے,
آرے عالین ہو نہ تم؟اتنے عرصے بعد بھی اسے دیکھ کر پہچان گئے.
جی سر.. میں عالین ہی ہوں.. کیسے ہیں آپ؟
میں.. ویسا نہیں رہا.. اب.. بس تھک جاتا ہوں.. بوڑھا ہوگیا ہوں.. خیر.. تم بتاؤ. ٹھیک ہو نہ؟
بوڑھے تو آپ اب بھی نہیں لگتے.. ہاں البتہ تھکن صاف نظر آرہی ہے.. وہ مسکراتے ہوئے زرا کنارے پر ہوگئی تھی سڑک کے..
اچھا.. چلو مان لیا کہ بوڑھا نہیں ہوا ابھی.. لیکن ساری باتیں یہیں کریں گے کیا؟اندر آؤ نہ..
اندر.. آکر کیا کروں گی.. سوائے ایک دو استادوں کے مجھے یہاں کوئی نہیں پہچانتا ہوگا.. پھر یہ کہ وہ کلاس دیکھ کر افسوس بھی ہوگا .
اچھا.. چلو.. ٹھیک ہے. ایسا کرو ادھر کیفے میں میرے ساتھ آجاؤ کچھ باتیں بھی کرلیں گے اور مجھے بھوک لگی ہے تو کچھ کھاپی لیتے ہیں.
ضرور لیکن.. چلیں ایک نظر دیکھ لیتی ہوں.. ہوسکتا ہے یہاں سے ایسے جانے پر افسوس ہو..
چلو اچھا فیصلہ ہے..
وہ اسے اندر لے آئے.. وہی کلاسز اور وہی کیبنز تھے. کچھ اسٹوڈنٹس نئے تھے اور کچھ اسٹوڈنس وہاں اب پڑھانے پر معمور تھے.
ایک دو کو تو اس نے پہچان بھی لیا تھا.
اسی مخصوص کلاس سے نکلتے ہوئے وہ چند لمحے رکی تھی.
ہر ہر اس جگہ سے انسیت بنالیتے ہیں جہاں پر کچھ عرصہ ٹہرے ہوئے ہوتے ہیں.
باہر نکلتے ہوئے اسے چپ چپ دیکھ کر وہ بولے تھے.
ٹھیک کہا آپ نے.. لیکن کبھی کبھار کچھ ان دیکھی جگہیں بھی پہلی بار دیکھنے پر اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں.
ہاں.. اور شاید وہاں پر ہمارا لاشعور یا پھر ہوسکتا ہے کہ ہم نیند میں وہاں سے گزرے ہوں..
نیند میں وہاں سے گزرے ہوں.. ؟
وہ سڑک پارکرتے ہوئے انکی طرف دیکھ کر بولی
سامنے گاڑی آرہی تھی انہوں نے فورا” اس کے بازو کو کھینچا تو وہ سرعت سے پیچھے ہٹی..
کیا کرتی ہو عالین اتنی غائب دماغ تم پہلے تو نہیں تھیں بیٹی..
کچھ لوگوں کے ساتھ آپ کم وقت گزارتے ہیں لیکن وہ آپ کو اچھی طرح جان جاتے ہیں.غازی ایوب کا شمار انہیں لوگوں میں ہوتا تھا.
بس کبھی کبھار دماغ غائب رہنے لگتا ہے..
وہ دونوں کیفے میں آگئے تھے آرڈر دیکر کچھ خالی میزوں کی طرف جاکر ایک طرف بیٹھ گئے.
یہ سب بابا کی ڈیتھ کے بعد تو نہیں ہوا؟
شاید ہاں.. لیکن کبھی کبھار بہت ساری چیزیں ذہن میں پھررہی ہوتی ہیں. خیر آپ بتائیں.. نیند میں گھومنے والی بات.. شاید خواب کی بات کررہے ہیں..
نہیں صرف خواب نہیں عالین بیٹی.. صرف خواب نہیں.. یہ وہ جسم مثالی کہیں یا وہ روح جو نیند میں نکلتی ہے.. وہ جہاں جہاں گھومتی ہے جن جن سے ملتی ہے. وہ جگہیں وہ لوگ ہمیں خواب کے ذریعے نظر آتے ہیں. یہ بات بہت عام سی ہے.. کئی واقعات ہم نیند میں دیکھ چکنے کے بعد اصلی حالت میں دیکھتے ہیں. انہیں ہم اشارے کہہ سکتے ہیں. لیکن ان سب کی اگر کثرت ہونے لگے تو سمجھو لاشعور تمہیں دھوکہ دے رہا ہے.
یا پھر ہم خود ہی شعوری طور پر لاشعور کو دہرانے کے لئے کہتے ہیں.. جیسے ان میں سے کئی واقعات ,لوگ,جگہیں ہمیں پسند ہوتے ہیں.. ہم انہیں یاد کرکے.. انہیں سوچ کر ان سے لطیف احساس حاصل کرتے ہیں.
تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ وہ بات صحیح ہے کہ ماضی حال مستقبل کچھ نہیں ہوتا. سب ہمارے ساتھ ایک ہی وقت میں رہتا ہے. بس کچھ مکانی اور کچھ زمانی طور پر..
ہاں یہ بات ہے عالین لیکن دہراؤ زیادہ ہو تو واپس پلٹو.. کیونکہ بہرحال اہمیت آج کی ہے جس کے اندر ہم ہیں..
یہ تو ہے.. کیونکہ ہر ایک جہاں سے گزرنے ہم تھوڑے تھوڑے ہر کیفیت میں بٹے ہوتے ہیں.. لیکن حقیقت اسی حیثیت کی ہوتی ہے جو عین وقت میں ہم پر مسلط ہوتی ہے..
جیسے میرے خیال سے جب ہم عالم ارواح میں ہوتے ہونگے تو تھوڑا بہت شعور ہمیں آئندہ زندگی کا ہوتا ہوگا.. لیکن اس وقت وہی حقیقت ہوتی ہے.
اور جس وقت ہم یہاں ہیں تو بس یہاں ہیں.. جب مرتے ہیں تو ہماری موت ہماری حقیقت ہوتی ہے.
لیکن تمام زمانے ہمارے اندر باہر گھومتے ضرور ہیں
.آج کل کیا پڑھ رہی ہو؟ان کا اشارہ اسکے بیگ میں سے جھانکتی ہوئی کتابوں پر تھا .
یہ بس کچھ کتابیں ہیں.. ہپناٹزم, تنفس, مراقبہ, اور روحوں سے ملاقات کا ذریعہ..
ان سب کی کیوں ضرورت پڑی تم جیسی مضبوط اور حال میں جینے والی لڑکی کو؟
برگر اور ڈرنکس آگئی تھیں.وہ اپنے حصے کی منی ٹرے اپنی طرف کھسکاکر بولے.
بس یونہی.. پروفیسر سالس میرے استاد رہ چکے ہیں یونیورسٹی میں.. انہوں نے یہ سارے طریقے اپلائی کرکے دیکھ لیے.. پہلے انکا مطالعہ کروں گی. پھر نتائج پر پہنچ کر ان سے بات کروں گی.
تمہیں پتہ ہے یہ سب آدھے سے زیادہ لاشعور کے دھوکے ہیں.. باقی کھیل اگر ہے بھی تو ہم کھیل کر کیا کریں گے.. پھر طاقتیں فیض ہوتی ہیں.. عنایت ہوتی ہیں.
جو حاصل کیا جائے وہ وظیفہ.. جو خود چل کر آئے وہ حقیقت..
کتنی خوبصورت بات کی آپ نے.. دل کو لگی..
لگتا ہے نور فاطمہ پر عنایت ہوئی تھی..
نور فاطمہ؟
ہیں ایک خاتون.. موت سے لڑرہی ہیں..
ملواسکتی ہو؟
شاید..
کب؟
کچھ کام ہیں وہ کرلوں.. سعدیہ نورعین میری دوست آپکو یاد ہے؟جو مجھے اکثر یہاں تک چھوڑنے آتی تھی.. اسکے آبائی گھر جاکر اس کی خبر لینی ہے.
وہ ٹھیک ہے؟پیاری لڑکی تھی..
خدا کرے ٹھیک ٹھاک ہو..باہر گئی تو رابطہ ٹوٹ گیا سب سے ہی.. اب آئی ہوں تو مل کر جاؤں گی سب کے ساتھ.
انس کی کوئی خبر ہے؟
وہ آپکو کہاں سے یاد آگیا.. وہ پانی گلاس میں ڈالتے ہوئے ہنس پڑی.
ملا تھا ایک دو ماہ پہلے پاکستان آیا ہوا ہے..
اچھا..پھر..وہ اپنے حصے کا برگر کھانے لگی..
شادی بھی نہیں ہوسکی تھی اسکی..
واہ بڑی خبریں رکھتے ہیں.. آپ اپنے شاگردوں کی..
وہ ہنس پڑے اسکی بات پر..
ٹھیک کہتی ہو.. ایک دن شاگرد آتا ہے.. دوسرے دن آشنا تیسرے دن اپنا لگنے لگتا ہے. اور اگر ٹک کر بیٹھا ہو کچھ وقت تو گھر کے فرد جیسا لگنے لگتا ہے.. اپنے بچوں جیسا..
بچوں سے یاد آیا کہ آپکی بیٹی کیسی ہیں؟
وہ ٹھیک ہے باہر گئی ہوئی ہے پڑھنے کے لیے..
زبردست.. خوش ہوگی؟
ہاں وہ تو سیٹ ہے لیکن نبیلہ نے مجھے بہت پریشان کرکے رکھا ہوا ہے یار..
نبیلہ..وہ آپکی بھتیجی تو نہیں؟
ہاں یار وہی.. تمہی تو پتہ ہے نہ کہ اس کا باپ اکثر باہر ہوتا تھا.. لاپرواہ اور بدمزاج سا.. اسے زیادہ تر میں نے اور میری بیوی نے ہی سنبھالا ہے.
ہاں بتایا تھا آپنے غالبا” اسکی شادی کا بھی کوئی مسئلہ تھا.. کسی کو پسند کرتی تھی اور اس کے والد نے وہ پروپوزل رد کیا تھا.
ہاں.. وہ سب تو ہوگیا سمجھاکر انہیں راضی کرلیں اور ..شادی ہوگئ اس کی.
جہاں وہ کہتی تھی اسی لڑکے سے؟
ہاں اسی لڑکے کے ساتھ..
اچھا.. زبردست پھر تو خوش ہونا چاہیے اسے.. .
کہاں یار.. آئے دن مسائل ہیں.
آئے دن.. کیا کہوں میں اسے ایک تو اس کا باپ اور وہ دونوں مل کر اتنے بددماغ ہیں کہ سمجھتے ہی نہیں.
اب روٹھ کر آگئی ہے کل سے تو اسے ہی بڑھاوا دے رہے ہیں یہ نہیں ..کہ اسے سمجھا بجھا کر بھیج دیں..
وہ جذباتی تو تھی.. لیکن ہوسکتا ہے کہ اسکے ساتھ واقعی کوئی مسئلہ ہو..
کہاں عالین مجھے نہیں. لگتا.. … بس بار بار ایک ہی بات کہہ رہی تھی کہ طاہر بددیانت ہے..
طاہر نام ہے اسکے شوہر کا؟
طاہر منیب..
طاہر.. منیب… تصویر ہے؟
ہاں.. خیریت.. تم جانتی ہو کیا؟
شاید… آپ دکھائیں تصویر کوئی ہے تو؟
ضرور.. انہوں نے سیل فون نکالا.. اور تصویر دکھائی دونوں کی ساتھ.
یہ تو واقعی طاہر منیب ہے.. میں جانتی ہوں اسے کل ہی تو میں نے اسے دیکھا ہے.
اوہ خدایا یہ تو بڑا شریف بندہ ہے.. بددیانت اور طاہر منیب.. حد ہوگئی..
مجھے خود اندازہ ہے عالین لیکن دیکھو آخر اسے کون سمجھائے… تم کہاں تک جانتی ہو.. بات کرو اس سے.. میں بھی کروں گا.. لیکن نبیلہ کو کون سمجھائے.. تم آؤگی گھر؟اس سے ملنے.. بات چیت کرنے..
طاہر دوستوں کی طرح ہے سر..
میں ضرور کوشش کروں گی..
بلکہ کل پرسوں تک ہی دیکھتی ہوں..
یہ تو بہت اچھا ہوجائے گا.. اچھا میری کلاس شروع ہونے میں چار پانچ منٹ رہتے ہیں اٹھتا ہوں..
مجھے افسوس ہوگا کہ آپ برگر ادھورا چھوڑنے جائیں گے.. اسے لیتے جائیے.. کلاس بہرحال ضروری ہے
.انہوں نے ایک چھوٹا سا پیس ٹشو میں لے لیا اور جیب سے کارڈ نکال کر اسکی طرف بڑھایا..
یہ لو رابطہ ضرور کرنا جلدی.. اور ہاں تم بیٹھ کر اپنا برگر آرام سے کھاؤ.. پھر جلدی ملتے ہیں..
بالکل ٹیک کئیر..
وہ اللہ حافظ کہتے ہوئے باہر نکلے. اور اس نے کارڈ پرس میں رکھنے کے بعد آرام سے برگر لیا ڈرنک مکمل کی.. اور ایک جوس کا جار لیکر نکل گئی..
آج شام سے پہلے وہ سعدیہ کے گھر پہنچنا چاہ رہی تھی.
. افسوس یہ تھا پہنچنے کے بعد بھی سعدیہ کا تو کوئی اتا پتا نہیں ملا لیکن ایک فون نمبر ضرور ملا جو حسب توقع بند جارہا تھا.
لیکن اسکی کزن کا کہنا تھا کہ وہ کبھی کبھار یہی نمبر کھولتی ہے.. اور اس وقت اس کے پاس یہی نمبر رہتا ہے.
اس نے نمبر پر اپنا ٹیکسٹ چھوڑدیاتھا اور سوچنے لگی کہ وقتا” فوقتا” ٹرائی کرتی رہے گی.
گھر پہنچتے پہنچتے اسے رات ہوگئی تھی. اور ماں سے چند منٹ بات کرکے تسلی کرکے جب وہ لیٹنے لگی تو خیال آیا کہ میلز چیک کرلے.. ہوسکتا ہے کہ التمش کی کوئی میل ہو.
دو میلز تھیں.. ایک زیب کی کہانی خط کے اندر کے نام سے ,جس میں خط لکھا گیا تھا یہ شاید زیب کی طرف سے بھیجی گئی میل تھی کہ زیب کا میلنگ ایڈریس بھی ساتھ موجود تھا جسے جلدی یا بے دھیانی میں وہ ریموو کرنا بھول گئے تھے.

جس کا عنوان لکھا تھا” نانا جان کی بے وفائی کے نام”.

اور دوسری آج شام کی میل تھی.اس نے پہلے دوسری میل پڑھی.
. انہوں نے نور فاطمہ کے پھر سے قومے میں جانے کی خبر دی تھی.. ساتھ ہی یہ جملہ لکھا تھا کہ دعا کرنا عالین اس کا امتحان اب ختم ہوجائے.. آج تو میں نے زیبی کو بھی میسج کردیا ہے.
لیکن آج نور فاطمہ مجھ سے خفا ہوکر آنکھیں بند کئے پڑی ہے.. ڈاکٹر اسکی ذندگی کی تصدیق کررہے ہیں.. وہ زندگی اور موت کے بیچ اٹک گئی ہے.. اسکے لئے دعا کرو.. میں نے بس ہار مان لی. لیکن تم دعا کرو کہ… وہ آرام سے.. کسی ایک طرف.
اس سے آگے اسے اندازہ تھا کہ لکھنا مشکل ہوگا.. اس نے نمبر ٹرائی کیا ناٹ ریسپانڈنگ کی ریکارڈنگ چل رہی تھی..
گھر کے لینڈ لائن پر سے انویلڈ نمبر کی ریکارڈنگ تھی.. اس نے فون تو رکھ دیا لیکن بہرطور آج اس کا بھی دل فورا” بے چین ہوا تھا.
اس نے وضو کیا حال نماز بچھائی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اٹکنے لگی.. آخر ایک انسان کو کیا حق ہے کہ وہ کسی دوسرے کی موت کی دعا مانگے..
اس نے آسانی کا جملہ کہہ دیا. سیل فون کی رنگ نے اسکی توجہ کھینچ لی..
******

ہم اس دنیا میں صرف محبت کے لئے ہی آئے تھے
*********
آج وہ عرصے بعد خوشی محسوس کررہی تھی..
نگار افروز اسے اسکی پسند کی جگہوں پر لے گئی تھی..
اسے یاد آیا جب وہ بارہ سال کی تھی تو نانا اسے ایسے لیا کرتے تھے جیسے کوئی دو سالہ بچہ ہو.. ایسے اسکا خیال رکھنا اسے اپنے ہاتھ سے کھلانا پلانا..
باپ اور نانا میں اسے یہی فرق نظر آیا تھا کہ باپ لئے دیے رہتا تھا. آتا اور خیریت پوچھتا کچھ پیسے دیتا اور نصیحتوں کا پلڑا باندھ کر نکل جاتا. نانا ایک بار آئے تھے.. اور وہ تب بیمار تھی.
. ہسپتال میں اتفاق سے ملاقات ہوئی تھی.. اس کے نانا کو پتہ چلا.. وہ دیکھنے آئے اور دیکھنے کے بعد جیسے بندھ سے گئے..
ہسپتال سے لیکر گھر تک.. اس کے ٹھیک ہونے میں نانا کے پیار کا بہت ہاتھ تھا.
حالانکہ نانی بھی خیال رکھتی تھی.. تمام ضرورتوں کا..
لیکن پیار کیاہوتا ہے اسے یہ نانا کے آنے کے بعد پتہ چلا تھا.
وہ مضبوط احساس سا.. وہ گھیراؤ.. وہ چاؤ.. وہ محبت.. وہ ان کے ساتھ اسکول جانے لگی.. نویں اور دسویں میں وہ بیٹھ کر پڑھایا کرتے تھے..
اسکے باپ کو ناپسند تھا کہ وہ نانا کے ساتھ رہے لیکن اسکے باپ کو فرصت کم تھی اسکی خبر گیری کرنے کی..
وہ اپنی دوسری بیوی بچوں میں مصروف تھا.
لیکن پوری طرح سے بے خبر بھی نہ تھا.
نانا کے آنے کے بعد اسے درحقیقت کسی کے پیار کی طلب نہ رہی تھی..
نانی کی نصیحتیں باپ کا پریشر اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا تھا.
نانا کی محبت سب پر بھاری تھی.. سب پر بازی لے گئی تھی.. کبھی کبھار اس سے لاڈ کرتے کرتے وہ اسے مونی یا مونا کہہ بیٹھتے تھے اور تب جاکر اسے پتہ لگا کہ اسکی ماں کا نام مونا تھا.
اس سے پہلے اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اسکی کوئی ماں بھی تھی.. جس نے اسے پیدا کیا ہوگا. ماں کی محبت بھی نانا کے توسط سے اسکے اندر بیدار ہوئی تھی.
اور اس نے سوچا کہ اگر نانا نہ ہوتے تو کچھ نہیں ہوتا..
نانا کے ہونے کے لیے کسی شہ کا احساس نہیں ہوتا..
رشتوں کی اہمیت اس کے لئے اسی طرح بڑھنے لگی.. پھلنے پھولنے لگی.. جس طرح محبت پھولتی تھی..
آج نگار افروز بھی اس کی اسی طرح کئی کررہی تھی.
تم کیسے بچوں کی طرح میرا خیال رکھ رہی ہو..
تم میرے لئے بہت اہم ہو زیبی..
حاکم علی سے بھی زیادہ اہم؟
پاگل ہو کیا اس کا اور تمہارا کیا مقابلہ.. ؟وہ ہنس پڑی اس کی بات پر
یہ کہو نہ کہ میرا اس سے بھلا کیا مقابلہ..
شرم کرو زیبی.. اچھا چلو جلدی سینما چلیں.. پھر فارغ ہوکر تمہیں گھر بھی چھوڑنا ہے..
چلو ساری خواہشیں آج ہی پوری کردی میری.. مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ تم مجھے ایسے پروٹیکٹ کررہی ہو جیسے میں اس سب کے بعد تمہیں میسر نہیں آؤں گی..
بہکی بہکی باتیں مت کرو.. تم ہمیشہ مجھے میسر آؤگی.. چلو اب.وہ کھلے لاؤنج ایریا سے باہر نکل رہیں تھی.. سامنے گیمینگ کلب بھی تھا اور اسی ایریا میں سینما بھی تھا.
وہ اس کے ساتھ چلی گئی. آج برسوں بعد اسے پھر سے محبت کا وہ احساس محسوس ہوا تھا.
بس ایک شکایت تھی نانا جان سے کہ انہوں نے کیسے اسے بھلایا.. کیسے چھوڑدیا.. کیسے فراموش کردیا.
اس نے سوچا تھا آج گھرجاکر وہاں سکون سے سونے سے پہلے ایک لمبی میل کرے گی نانا جان کو اور اب کے بعد عنصر کے قریب آنے کی ایک اور کوشش.
کم از کم یہ پتہ تو چلے کہ دو لوگ اس گھر میں رہتے ہیں.
.
وہ ایک دوسرے کی بات سنیں ایک دوسرے سے بات کریں. ساتھ چائے پئیں بیٹھ کر..
ساتھ کھانا کھائیں.. کسی بات پر مسکرائیں. کوئی بات بری لگے تو موڈ خراب کریں.
کم از کم کسی طرح دوستی کاتو احساس ہونا ہی چاہیے.. اتنا تو ہو کہ لگے..
وہ عاشق معشوق نہ سہی..
وہ محب محبوب نہ سہی..
وہ ساتھی ہمسفر نہ سہی
دوست تو ہیں..
آشنا تو ہیں..
ایک آشنائی کا احساس ہی کتنا گہرا ہوتا ہے جو اندر کہیں چلا جاتا ہے رونق بخشنے.. اپنائیت کی.. احساس کی.
وہ ایک بار جو خود عرصے بعد محسوس کرپائی تھی.
سوچا کہ وہ احساس اس بھرے مجمعے سے لیکر سب کو بانٹ دے
یہی کہ
ہم اس دنیا میں صرف محبت کے لئے ہی آئے تھے.
*******

دوستی محبت کا پہلا نام ہے
اور محبت دوستی کا دوسرا.

*******

مستقیم میرے لئے اہم تر ہوتا جارہا تھا..
اسکی محبت میرے لئے خوبصورت تھی..
خوبصورت ترین تھی..
اس کی زندگی کے بعد ایسا لگتا تھا مجدد کہ زندگی رواں ہوگئی ہے..
وہ اس روز ملا تھا. جس دن اس نے خود کشی کی تھی. خوش نصیبی یہ تھی اسکے ملازموں نے فوری طور پر اسے ہسپتال پہنچایا تھا.
اس کا میدہ واش کرکے فوری طور پر زہر نکال دیا گیا تھا.
اس دورآن میں نرس تھی وہیں پر اور اسکی پوری تیماداری میں نے کی تھی.

اور میری اس سے بات ہوئی تھی اس نے زہر پیا تھا.
وہ زندگی سے بیزار تھا. تھکا ہوا..
لیکن میں نے اسے سمجھایا کہ زندگی سے ہار جانا بزدلی ہوتی ہے..
زندگی سے لڑائی آخری سانس تک کرنی چاہیے..
میں نے اسے بتایا کہ اس جہاں میں تم سے زیادہ لوگوں کو دکھ ہیں..
جھگیوں میں رہنے والوں کی زندگی میں نے اسے دکھائی..
میں نے اسے بتایا کہ زندگی ایسی ہوتی ہے.. تم تو محلوں میں پلے بڑھے ہو..
تم تو.. دیکھو.. اپنے ارد گرد.. زندگی کی کیا کیا صورتیں ہیں.. کیا حالتیں ہیں..
وہ حقیقت پسند ہوکر سوچنے لگا..
ٹھیک ہونے کے بعد بھی وی مجھ سے ملنے آنے لگا تھا.. مجھے دحقیقت احساس ہوا تھا کہ زندگی میں جب کوئی دوست ہو تو کتنا اچھا لگتا ہے.
اور کتنا حسین احساس ہوتا ہے.
دوستی محبت کا پہلا نام ہے.
اور محبت دوستی کا دوسرا نام تھی..
لگتا تھا کہ زندگی اب کچھ اچھا کرنے والی ہے
کچھ بہت ہی اچھا
کہتے ہیں کہ گمان اچھا رکھو تو زندگی بھی اچھی ہی ہوتی ہے
لیکن کسی کو کیا پتہ کہ آگے اس کے لئے کیا کچھ پوشیدہ ہے
اور کیا کچھ ڈھکا ہوا
اسکے لہجے کی اوٹ میں سحر کردہ خاموشی آگئی تھی
ریل پھرسے چلنے لگی تھی اور سعدیہ نورعین کی آنکھیں جھلملائیں
یہ وہ کچھ تھا جو ابھی اسکی زبان پر پھسلنے والا تھا
قصہ ادھورا تھا.
جسے پورا ہونا باقی تھا.
جاری ہے..

Advertisements

1 Comment

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.