ڈی ایچ اے میں ڈینگی______________صوفیہ کاشف

سفید دھبوں والی لمبی کالی ٹانگوں کے ساتھ وہ میری آستین پر بیٹھا تھا اور کمرے کی سفید ٹیوب لائٹ روشنی میں اپنی قاتل بدصورتی کھل کر آشکار کر رہا تھا۔میری ایک دم گھبراہٹ سے وہ اڑا اور پھر سے میرے ہی کپڑوں پر آ بیٹھا۔اس بار میں نے اپنی پوری طاقت سے اس کا نشانہ لگایا اور ذندگی میں پہلا شکار میں نے جس مچھر کا کیا وہ ڈینگی کا پلا پلایا بڑے سائز کا مچھر تھا۔پاکستان کے سب سے مہنگے شہر کے سب سے پوش علاقے میں مہنگے گھروں میں سے ایک مہنگے گھر میں بہترین سیکورٹی، اور بہترین سہولیات کے دعوے کے ساتھ ملنے والے گھر کے آس پاس اور اندر ڈینگی کے مچھر تھے۔

اس مچھر کے قتل نے میرے کپڑوں پر ایک بڑا کالا نشان چھوڑ دیا اور مجھے اندر تک لرزا دیا۔کہ اس برانڈ نیو گھر میں کچھ ہی دن پہلے میں اپنی فیملی کے ساتھ شفٹ ہوئی تھی۔اور اس کمرے میں کچھ دیر پہلے میرا بیٹا سو رہا تھا جہاں ابھی ابھی ڈینگی کا بڑا مچھر ظاہر ہوا تھا۔اگلے کچھ دن مشکل کے تھے۔۔ایک دہائی سے زیادہ عرصہ ملک سے باہر گزارنے کے بعد ڈینگی سے مجھے صرف خبر کی حد تک واقفیت تھی اور چونکہ اس کی حدود سے دور تھے تو اس کے حدود واربعہ اور ضروری معلومات بھی مہیا نہ تھی۔راتوں رات گھر میں مہیا تمام سپرے کمروں میں چھڑک لئے۔اسکے بعد آیت الکرسی پڑھ کر بچوں پر پھوکنے کا عمل تھا اور لمبی خوفناک طویل رات تھی۔اگلا دن سب سے پہلے ڈاکٹر کے پاس گئی اور ان سے ڈینگی کے بارے میں تمامتر معلومات حاصل کئیں ۔میری خواہش تھی کہ کوئی کسی قسم کی سکین یا ویکسین مہیا ہو تو فورا کر لی جائے مگر شدید مایوسی ہوئی یہ جان کر کہ سوائے اللہ کے نام کے اور احتیاط کے اسباق کے اور کچھ بھی مہیا نہ تھا۔اگرچہ ڈاکٹر نے کچھ طفل تسلیاں ضرور دیں جن سے اگلے کچھ دن کے لئے دل بہل گیا۔

۔ہسپتال سے نکلی تو مارکیٹ جا کر جسقدر مہیا چیزیں تھیں مچھروں سے بچاؤ کی حاصل کئیں اور گھر میں نصب اور سپرے کروا لیں۔اگلی باری آس پاس سے پانی خشک کرنے کی آئی۔ گھر میں اور باہر جتنے پانی کے چھوٹے بڑے زخائر نظر آ رہے تھے سب کو فکس کروانے میں مصروف ہو گئی۔اے سی کے ٹپکتے پائپ گٹروں میں ڈلوائے۔گملے خالی کروائے،گاڑی اور گیراج دھونے کے لئے پائپ کی بجائے بالٹی مہیںا کی۔ہر جگہ جہاں پانی کے کھڑے ہونے کے امکانات تھے اس سے بچاؤ کی کوششیں تیز کر دیں۔ڈی ایچ اے میں گہرائی میں موجود گھر ہونے کی وجہ سے آس پاس کے دس پندرہ گھروں میں جب بھی گاڑی دھلے یا گیراج دھویا جائے تو پانی بہتا ہماری ہی نکڑ کی طرف آ کر جمع ہوتا ہے۔اور بدقسمتی سے دن کے مختلف مراحل میں سب کو کوئی نہ کوئی ایسا شوق یاد آتا رہتا ہے۔جس کی وجہ سے سورج چمکے تو بھی پانی کو بہت دیر تک سوکھنا نصیب نہیں ہوتا۔

آس پاس طویل عرصے سے رہائش پزیر کئی ہمسائیوں تک اپروچ کیا تا کہ وہ اپنے اثر رسوخ استعمال کروا کے پانی کی نکاسی کا بندوبست کر سکیں ۔مگر اکثریت نے ڈینگی کے زکر کو ایسے جھٹکا جیسے کسی داستانی مخلوق کی بات ہو رہی ہے ۔ وہ مرض جو ہمارے آس پاس ہر طرف پھیل رہا تھا اور اپنا مادی وجود رکھتا تھا اس کے بارے میں لوگ اس قدر بے نیاز اور لاپرواہ تھے جیسے یہ مرض انکے آس پاس نہیں بلکہ ہم سے بہت دور امریکہ کے کسی جنگلوں کا زکر ہو رہا ہو ۔کسی نے کہا ہم نے درخواست دے دی ہے پہلے ہی۔کسی نے کہا کہ ہم کرایے دار ہیں مالک مکان سے کہیے۔یعنی اگر اس مرض میں کسی کی جان چلے گئی تو درخواست دیکھ کر واپس آ جائے گی۔یا ڈینگی کا مچھر صرف مالک مکان کو کاٹتا ہے کرایے داروں سے دور رہتا ہے۔کچھ کا خیال تھا کہ ان کو کیا پتا ڈینگی کا،ایسے ہی چھوڑ رہی ہیں۔چناچہ چار و ناچار ہم نے گھر کے اندر سپرے کروا کر آیت الکرسی کے ورد پر توقف کیا۔اگلے کچھ دن سکون سے گزرے اور مجھے بھی لگنے لگا کہ جیسے شاید مجھے بھی وہم ہی ہو گا۔ہو سکتا ہے وہ عام مچھر ہی ہو۔

دوسری بار وہی بڑا لمبی ٹانگوں اور سفید نشانوں والا مچھر مجھےاپنے گیراج میں دکھائی دیا۔اس بار پھر وہ میرے پالتو جانور کی طرح بے تکلفی سے میری کالی قمیض کے دامن پر بیٹھا تھا۔میں اسے بڑی آسانی سے مار سکتی تھی مگر اس بار اسکا نشانہ لینے کی بجائے میرا ٹارگٹ اسے ذندہ پکڑنا تھا ۔میں نے اسے ڈوپٹے یا ٹشو سے مارنے کی کوشش کی تا کہ اس کی صورت پہچان کے قابل رہے مگر ناکامی ہوئی۔پھر میں اسے اڑا کر اندر بھاگی اور ایک شیشے کی شفاف بوتل لے کر آئی۔میں ہر ڈر سے بے نیاز اس فکر میں تھی کہ اس مچھر کو کسی بوتل میں قید کر لوں تا کہ اس مرض اور اس مچھر کی بہتات سے لاپرواہ رہنے والی عوام کو احساس دلایا جا سکے کہ خطرہ کتنا گھمبیر ہے۔۔اس کوشش میں میں نے کم سے کم دو گھنٹے اس کے آس پاس آگے پیچھے لگائے۔مگر وہ پکڑا نہ جا سکا ۔

اب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔جس کام سے نکل رہی تھی میں نے اسے چولہے میں ڈالا اور اور فوری طور پر آس پڑوس کے ہمسائیوں کے درواذے بجاے۔مگر ایک بار پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔عوام غفلت کی چادر اوڑھے دن چڑھے تک سو رہی تھی۔ایک ایسے معاشرے سے جہاں دن کا باقاعدہ آغاز سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی ہو جاتا ہے اور سات بجے سب چھوٹی بڑی سپر مارکیٹس بھی کھل جاتی ہوں سے آ کر بہت عجیب لگٹا ہے یہ دیکھنا کہ گھروں اور بازاروں میں بارہ سے پہلے صبح نہیں ہوتی۔مگر اب کسی کے ساتھ کھڑے نہ ہونے سے غرض نہ تھی۔میرا اگلا مرحلہ ڈی ایچ اے کے ایڈمنسٹریٹر کے پاس پہنچنا تھا جسکا ایڈریس تک مجھے پتا نہ تھا۔ہمسائیوں نے اتنی مہربانی کی کہ ایڈریس سمجھا دیا اور میں گلیاں گنتی ڈھونڈتی ان کے آفس پہنچی۔رجسٹر پر شکایت لکھوانے کی بجائے میں نے ان سے کہا کہ جس شخص کی کرسی سب سے اونچی ہے مجھے اس سے ملایا جائے۔اور بہرحال اسمیں مجھے کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی ۔پہلے ایک کرنل صاحب اور پھر ایک میجر صاحب کے کمرے تک مجھے فوری رسائی دے دی گئی بلکہ صرف رسائی نہیں مجھے عین آفس میٹنگ کے بیچ میں اندر بھجوا دیا گیا۔میں نے اپنی آنکھوں دیکھی ساری روداد انکے سامنے بیان کی اور ان سے درخواست کی کہ جو کچھ بھی ان کے اختیارات میں ہے برائے مہربانی اسے استعمال کر کے اپنے اور ہمارے بچوں کی حفاظت کی جائے۔صد شکر کہ یہاں کی انتظامیہ مشہور روایتی پاکستانی سٹائل کی کاہل اور چل چلاؤ سے بہتر نکلی۔نہ صرف میجر صاحب) بلکہ انکے ساتھ بیٹھے دو اور سنیر حضرات نے بھی جو کسی دفتری کاروائی میں مصروف تھے نے مجھے تسلی بھی دی اور یقین بھی دلایا کہ اس کی خاطر ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

ایڈمیسٹریشن آفس میں دہائی مچانے اور اپنے تئیں ساری کوششیں کر لینے کے باوجود دل کو یقین نہ تھا کہ کچھ بھی بدل سکے گا۔میری مشکل یہ تھی کہ میں اپنے بچوں کے ساتھ اس گھر میں رہتی تھی جس میں مستقل ڈینگی کے مچھر دکھائی دے رہے تھے۔بنیادی معلومات کم ہونے کی وجہ سے ہزار طرح کے وسوسے تھے۔بڑے مچھر ہیں تو چھوٹے اور لاروے جانے کتنے ہوں۔ان گیلی گلیوں میں جانے کتنی انڈوں اور لاروں کی کالونیاں ہوں۔اور جانے کون کون سے وہم جسم و جاں کو لپٹ چکے تھے۔

دن کا بچا ہوا وقت اپنی بے بسی کے ساتھ گزارا مگر شام ڈھلے سڑک پر پھرنے والی سپرے والی گاڑی نے جب میرے دروازے پر دستک دی تو دنیا میں بھلائی کی موجودگی پر یقین آ گیا۔بھاگتی ہوئی آنے اور بھاگتی ہوئی جانے والی گاڑی نہ صرف میرے گھر کے سامنے کھڑی تھی بلکہ میرے گھر کی چاردیواری میں بھرپور سپرے بھی کر رہی تھی ۔سپرے کی کوالٹی کیا تھی اور اسکی افادیت کتنی تھی سے قطع نظر یہ بہت بڑی غنیمت تھی کہ میری دہائی کو سنا گیا اور اسکے لئے انتظامیہ نے اختیارات استعمال کر کے ہماری اس مشکل سے نکلنے میں مدد کی۔

اگلے کچھ دنوں میں سڑکوں پر بورڈ اور پوسٹرز وغیرہ بھی آویزاں کیے گئے ،ڈینگی کے مچھر تو ان بورڈز کو پڑھ نہیں سکتے اور عوام کی اکثریت کو میں نے ڈینگی کے مہلک خطرے سے بے نیاز دیکھا ۔اکثر پریشان ہوتی ہوں کہ اس قدر بے نیازی کیوں اس قوم میں بھر چکی ہے۔گھر کے دروازوں پر موت کھڑی ہے اور اندر انساں چادریں اوڑھے سو رہے ہیں۔یہ طبیعتوں کی کاہلی،یہ نیتوں اور اعمال کی کج روی اور اس کے بعد تمنا آسماں سے اترے فرشتوں کی جو ایک جادو کی چھڑی گھمائیں اور آس پاس اجالے کر دیں۔بحثیت انساں ہم اپنی زمہ داریوں اور فرائض سے اس قدر بے خبر اور بے نیاز،نہ ہمیں اپنی فکر نہ اپنی آل اولاد کی ہمسائے،علاقے اور کمیونٹی تو کسی شمار میں ہی نہیں۔

بھلے وقتوں میں کسی نے کہا تھا

خا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جسے فکر خود اپنی حالت کے بدلنے کی!

سچ تو یہی ہے کہ ہم اپنے گھر ،گلی محلے سے بے نیاز ہیں،ہم اپنے فرائض اور زمہ داریوں سے غفلت برتتے ہیں مگر جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو سڑک پر ٹائر جلانے لگتے ہیں۔کونسی ایسی قوت ہے جو عوام کی طات کے سامنے کھڑی ہو سکتی ہے مگر وہی عوام اپنے حق کے لئے نہ لڑنا چاہتی ہے نہ کوئی کوشش کرنا چاہتی ہے۔جنازے لیکر رستے بلاک کرنے سے بہتر ہے کہ جنازے تیار ہونے سے پہلے رستے بلاک کریں اور انتظامیہ کو کام پر مجبور کریں اور اس سے بھی پہلے یہ کریں کہ سب سے پہلے جو کچھ آپ کے اختیار میں اور آپ کا فرض ہے اسے پورا کریں۔اللہ توکل سب سے آخر میں ہوتا ہے مگر کاہل قومیں اسے سب سے پہلے خود پر طاری کر کے خود کو ناکارہ کر لیتی ہیں۔ہم بھی انہیں قوموں میں سے ایک ہیں۔

__________

صوفیہ کاشف

Advertisements

4 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.