محبت ناتمام ________ثوبیہ امبر

گھر سے نکلتے ہی اپنے گرد لپیٹی شال کو تھوڑاکھینچ کر اور لپیٹا تھا ،یہ مزاحمت ہوا کے اس جھونکے کے خلاف تھی ،جس نے دروازے پر استقبال کیا تھا۔ مری کی سڑکیں اس وقت اکتوبر کی مشکل ہواؤں سے بھری تھیں جو اپنی رتھ پر پتوں کو شاخوں سے جدا کرنے کا کام پورے زوروشور سے کر رہی تھیں۔ اپنے کندھے پر لٹکے بیگ میں چابیاں پھینک کر اس نے ہواؤں کا ساتھ دینے کی کوشش کی تھی۔ چلنے کی سہولت کے لیے جو خاص جوگرز لیے تھے کہ عمر کے جس حصے میں وہ تھی وہاں موسم خوامخواہ تند لگنے لگتے ہیں۔یہ عمر کا وہ حصہ تھا جب انسان اپنے اختلافات کی ساری تلواریں نیام میں رکھ دیتا ہے،سارے چاقو ،چھریاں،ڈنڈے ،گنڈاسے اور چھڑیاں کونے میں پڑی بے وقعت ہو جاتی ہیں اور انسان کو سمجھ آجاتی ہے کہ اختلافاف اور مابین ناآمادگی کی جنگوں میں صرف وقت ہی ضائع ہوتا ہے۔ لوگ آپ کے لیے تبدیل نہیں ہوتے اور اس کوشش میں صرف کے جانے والے سارے الفاظ،سارے نظریات صرف پتھر پر پڑے ہوئے پانی جیسے بے وقعت ہو جاتے ہیں۔عموماٌ لوگ جیسے زندگی جیسے شروع کرتے ہیں ویسے ہی اس کا انت ہو جاتا ہے۔اور پھر انسان ان بکھیڑوں سے نکل کر اپنے جینے کو ترجیح دینا چاہتا ہے ، اور اپنے وہ سارے خواب جو الماری میں پڑی ،بیش قیمت لیکن ،وقت کی عدم ستیابی کے باعث نہ پڑھی جانے والی کتابوں کی طرح روز اس کا منہ تکتے ہیں، انہیں نکال کر گرد جھاڑ کر انہیں پڑھنا چاہتا ہے۔پھر انسان جھگڑا کرنے پر بر حق بھی ہو تو ایک قدم پیچھے ہٹ کر واپسی اختیار کر لیتا ہے۔
’عمر کے اس حصے میں۔۔۔۔‘ سرمئی تارکول کی سڑک،برف کے ٹکڑے کی طرح ٹھنڈی پڑی تھی اور اس پر موسم کی بے اعتنائی سے ٹوٹے پتے حیران آانکھوں سے اسے دیکھے جا رہے تھے۔اس کے ذہن میں لفظ گونجتے ،اس کے اندر درو دیوار سے سر پٹخ رہے تھے۔
’ماما کیا لکھیں گی آپ؟ ایک ڈاکٹر کا لکھنے سے کیا تعلق؟‘فہد کی آواز اس کے ذہن میں گونجی تھی۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ لمحے بھر کو روشنی بن کر چمکی تھی۔
’واقعی کیا لکھوں گی میں؟لکھنا تو محبت جیسا ہوتا ہے ،اور محبت تو تازہ ذہنوں پر مرتسم ہوتی ہے ،یہ تو عمر کی تھالی پر اترنے والی آرتی ہوتی ہے۔محبت اور لکھنا خواب ہوتا ہے، اور خواب تو ڈھلتی آنکھوں کو بند دروازے سمجھ کر نہیں آتے۔‘
’کیا میں بوڑھی ہو گئی ہوں یا میں نے وقت سے ابھی شکست تسلیم نہیں کی کہ کسی خواب کی آس میں ،میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر یہاں آ بسی ہوں ؟ ‘کشمیر پوائنٹ کے رستے میں زرد، نارنجی،بھورے سرخ پتے ایسے برس ہے تھے جیسے کسی دلہن کے آمد پر گل پاشی کی جاتی ہے۔ رنگ چھوڑتے کالے بالوں ،جن میں سرمئی چمک دن بہ دن زیادہ ہوتی جا رہی تھی،کئی پتے پھولوں کی طرح سجے تھے۔اور وہ وقت کی کوئی بھولا لمحہ بنی اس سڑک پر ،وقت سے تعلق کی کوئی ڈور ڈھونڈ رہی تھی۔
بڑھتے قدموں نے اپنی منزل پر پہنچ کر سانس لی تھی۔اس نے کافی کا آرڈر کیا تھا اور لکڑی کے پینچ پر بیٹھ گئی تھی جس کے آگے پتھر کا بنا ٹیبل تھا دوسری طرف بھی لکڑی کا بینچ تھا۔یہ کافی شاپ اسے بہت پسند تھی ۔چبوترے کی شکل میں کافی شاپ کا وہ حصہ تھا جہاں کافی بنتی اورحساب کتاب وغیرہ کیا جاتاتھا۔ جبکہ بیٹھنے کے لیے یہ کھلا حصہ جہاں پر لگے پتھر ایک عجیب خوبصورتی کا احساس دیتے تھے۔ کافی پیتے کھلا آسمان، چیڑ،املتاس اور اخروٹ کے درختوں کی سر گوشیاں اور گرم گرم کافی کا ٹھنڈی ہوا میں لطف۔ ہوا میں لہراتے پتے ۔
’آج یوں اتری ہے دل میں تیری یاد۔۔۔۔۔‘ پتوں کا جھنڈ تھا جو ہوا کے دوش پر اس کے سامنے سے گزر ا۔ بادلوں کی سورج سے دست درازی جاری تھی اور دونوں ایک دوسرے پر حاوی ہونا چاہتے تھے۔
سامنے سڑک سے گزرتے لوگ اس کے سامنے سے ایسے گزر رہے تھی جیسے وقت گزرتا ہے، جس کا گزرنا ضروری بھی ہوتا ہے اور احساس بھی نہیں ہوتا۔ہجوم جو نہ نظر نہ آئے تو انسان تنہا محسوس کرتا ہے اور ہجوم میں خود تنہا ہو جاتا ہے ، بے وقعت ہو جاتا ہے۔ کوئی اس احاطے میں داخل ہوا تھا ،وہ جو سڑک کے ساتھ چلتی گہرائی کو جانچنے کے لیے وہاں دیکھ رہی تھی ،کسی کی نظر کا ارتکاز تھا،وہ چونکی تھی ۔
’سمیع!‘
انسان بھی ایک لمحے میں کہاں کہاں سے کیسے کیسے احساسات سے گزر جاتا ہے۔بیٹھے بیٹھے اس پر کیا کچھ بیت جاتا ہے کہ وہ اندر چلنے والے جھکڑوں سے پتھر ہو جاتا ہے۔وہ پھوٹ پھوٹ رونا چاہتا ہے اور اور وہ ریزہ ریزہ جمع ہونے لگتا ہے۔کون سا بھولا لمحہ تھا جو وقت کو یاد آگیا تھا اور گردش ایام نے اسے پھر سامنے لا کھڑا کیا تھا۔کیسا ظلم کیا تھا۔
وہ سامنے بیٹھ گیا تھا ایک مرتبہ پھر وہ آداب میزبانی نبھا نہ سکی تھی۔
’آئیے بیٹھیے!‘ جیسی اپنائیت خلق میں اٹک گئی تھی۔
وہ بھولا ہوا لمحہ سامنے تھا جو اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہ رکھتا تھا اور جس سے آنکھیں ملانے کی ہمت اس میں نہ تھی،اس لمحے میں ان دونوں کی تہی دامنی تھی اور ماضی کی کوئی گونج چھپا رکھی تھی۔بھولا ہوا لمحہ بہت شدت سے تمام جزئیات کے ساتھ یاد آیا تھا۔
’میرے دل میں ہمیشہ تم ہی رہو گی‘۔۔۔۔ محبت اور جملے دونوں نئے نہیں تھے،بس اس کے دل پر پہلا احساس تھا جس کی گواہی پہلی تھی۔
اور وہی مجبوریوں،خاندانی شرافت،کہیں اور طے شدہ بچپن کی منگنی اور بڑوں کی دی گئی زبان میں وہ گواہی کب اپنا وجود کھو بیٹھی،کب معدوم ہوئی اور کب حرف مکرر کی طرح مٹی،کب کسی زخم کی طرح بھری اور دل پر زخم بھرنے کا بھی نام و نشان نہ رہا۔
وہاں جس جگہ پر صدا سو گئی ہے
ہر اک سمت اونچے درختوں کے جھنڈ
ان گنت سانس روکے ہوئے چپ کھڑے ہیں
جہاں ابر آلود شام اڑتے لمحوں کو روکے ابد بن گئی ہے
وہاں عشق پیچاں کی بیلوں میں لپٹا ہوا اک مکاں ہو!
اگر میں کبھی راہ چلتے ہوئے اس مکاں کے دریچوں
کے نیچے سے گزروں
تو اپنی نگاہوں میں اک آنے والے مسافر کی
دھندلی تمنا لیے تو کھڑی ہو!
کچھ دن پہلے اس نے وہ کارڈ کسی پرانی فائل سے نکالا تھا جس پر منیر نیازی کی یہ نظم لکھی پڑی تھی اور لکھ کر دینے والاسامنے کھڑا تھا۔
’تم یہاں کہاں؟‘ اس کی آواز بھی بدلی سی لگ رہی تھی۔
’کیسی ہو؟۔۔۔ ‘ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کی لکیر اسے دیکھ کر آئی تھی کہ عمر رفتاں نے آنکھوں میں پانی بڑھا دیا تھا۔
’میں ٹھیک تم کیسے ہو؟ اور یہاں ۔۔۔؟‘
’ میری تو کافی عرصہ سے یہاں پوسٹنگ ہے۔۔۔ تمہیں دیکھ کو بہت حیرت اور خوشی ہوئی ہے۔‘ وہ اپنے اندر شاید آنسو گرا رہا تھا۔ وہ دونوں خاموش ہو گئے تھے اور اکتوبر کی جھکڑ بن کر چلتی ہوائیں پھر شائیں شائیں کرنے لگی تھی، لیکن ظلم تو یہ تھا کہ جھکڑ اندر چلنے لگے تھے اور گزرے سال ، زرد، نارنجی اور قرمزی رنگ کے پتوں کی صورت میں ہواؤں میں بے وقعت اڑ رہے تھے۔ جب انسان محبت سے دستبردار ہوتا ہے تو اسے یہی لگتا ہے کہ یہ کوئی دنیا کی آخری محبت تو تھی نہیں کہ اسکا روگ اور جوگ لے لے، لیکن جب جب اپنے ہاتھوں سے زندگی سرکتی ہے تو اسی محبت کی شدت بڑھنے لگتی ہے۔
ان دونوں کی خاموشی کو ،کوئی جملہ توڑ بھی دیتا تو ایسے الفاظ نہ تھے جو گرزرے سالوں کی خلیج پار کر کے، انہیں میڈیکل کالج کے کلاس فیلوز بنا دیتے جن کے لیے زندگی کا ہر رنگ نیا تھا، اور اب ذہن کی اسکرین پر عمر بڑھنے کے ساتھ رنگ ماند پڑ رہے تھے۔
وہ کافی نہیں پی سکی تھی، ابھی وہ اپنے آنسو پی رہی تھی جو کسی بھی طلب کو پورا کرنے کو کافی تھے، وہ دونوں کچھ کہے بغیر اٹھے تھے۔ اپنے ہوسٹل کے باہر ایک دو یادگار ایسی ہی واک تھیں ، آج وہ دونوں اسی لمحے کو دوبارہ جی کے دیکھنا چاہتے تھے لیکن، دونوں کے کندھے جھکے پڑے تھے، پہلے یہ بوجھ کم تھے ، اور گزرتے ہر سال کے ساتھ بوجھ طویل سے طویل تر تھا۔
ستمبر کے شروع میں جب پتے گرنا شروع ہوتے ہیں تو انسان بھی آہستہ آہستہ اپنی یادوں کے درختوں سے گرتے پتے دیکھتا ہے اور کہیں نہ کہیں ایسے پتوں کی صورت گر تو رہتا ہے، لیکن ستمبر کے شروع سے آخر تک ہر حساس انسان ایک مرتبہ اپنی یادوں، بچھڑے لوگوں کی اداسیوں سے ،اندر سے مر جاتا ہے۔
ان دونوں کے پاؤں کے نیچے پتہ نہیں کتنے پرتے چرمراتے رہے تھے ، لیکن کہنے کو بہت کچھ تھا، کیریئر ، شادی سے لے کر بچوں کے کیرئیر ،ان کی منگنیوں اور شادیوں تک۔
راستے شاید اتنا طویل نہ تھا جتنی باتیں طویل تھیں، وہ دونوں کہاں کہاں ، کب کب بدل گئے تھے۔ کب کہاں کس بات پر اپنی ذات چھوڑی تھی، دونوں نے جی بھر کر بتایا تھا۔ رستے میں اسے ٹھوکر لگی تھی تو اس کے مضبوط ہاتھ نے اسے تھاما تو پھر چھوڑا نہیں۔ یہ تو ایک راستہ تھا، وہ زندگی میں ایسے اسے گرنے سے بچانے کے لیے کیوں نہیں تھا؟
دوپہر سے ، سہ پہر ہوئی تھے اور اب تو شام نے بھی آنے کا عندیہ دے دیا تھا، لیکن وہ اس راستے پر چلتے ہی چلے جانا چاہتی تھی۔ اپنے شوہر کی کچھ سال پہلے وفات کا قصہ اور سمیع کی اس کزن کی اس سے طلاق۔ دونوں کے پاس گئے گزرے دنوں کی باتیں تھیں اور کچھ ادھورے رشتوں کی زخم خوردہ داستانیں۔
چلنے کو تو شاید وہ دونوں ہمیشہ کے لیے چلے جاتے لیکن راستے ختم نہ بھی ہوں، ہمت ختم ہو جاتی ہے، اور انسان نہیں تھکتا اس کا وجود، اس کے جذبات، اس کی امنگیں اور خواب تھک جاتے ہیں۔ داستانیں بھلا ختم کب ہائی ہیں، وہ تو سنانے والاے ہی تھک کر سو جاتے ہیں۔وہ ایک گمنام سڑک کے ایک پرانے بوسیدہ بینچ پر بیٹھے تھے، بہت گہرے اور گھنے درخت تھے، سدا بہار لگتے تھے، ابھی خزاں سے لڑ رہے تھے، کچھ پتوں کے گرنے کے باوجود ہرے بھرے تھے۔
’کیا کھاؤ گی ؟ہم دونوں کے پاس کہنے کو اتنا کچھ ہے کہ کسی بھی اور چیز کا احساس ہی نہیں رہا‘۔وہ بولا تھا۔
اسے احساس ہوا تھا کہ صبح وہ چائے کے ساتھ ایگ اینڈ ٹوسٹ کھا کر نکلی تھی، لیکن اس وقت اسے کسی بھی قسم کی بھوک یا کمزوری کا احساس نہیں تھا۔جیسے زیادہ غم بھوک مٹا دیتا ہے ویسے شاید زیادہ خوشی بھی کسی بھی اور احساس کو ختم کر دیتی ہے۔وہ خاموشی سے اس درختوں میں گہرے اندھیرے کو دیکھے گئی تھی جہاں پیچھے کہیں ڈوبتا سورج الوداعی شعاعیں پھینک رہا تھا۔
وہ دونوں اتنے قریب تو تھے کہ ، اپنے بیتے سالوں کی تھکن وہ اس کے کندھے پر سر رکھ کر ، تھوڑی دیر کے لیے بھول جاتی ۔اس نے کندھے پر سر ٹکایا تھا اور وہ مضبوط بازو پھیل کر اسے اپن حصار میں لے گیا تھا۔
اس کندھے پر رونے کا بہت مرتبہ سوچا تھا اور اسے لگا تھا یہ خواب ، یہ خواہش اس کے ساتھ قبر میں اتر جائے گی۔آ ج اس نے اپنی زندگی کی ایسی حسرت جی تھی کہ شاید وہ مرجانے کی خواہش بھی کر لیتی۔
وہ اپنے کندے پر گرتے نرم گرم آنسوؤں کو محسوس کرتا رہا تھا۔
’آج اگر مائیکل اینجلو زندہ ہوتا تو وہ ہم دو عمر رسیدہ، تھکے ماندھے اور ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی محبت کو اس طرح دیکھ کر وہ ایک مجسمہ ضرور بناتا‘۔
اس کے بھی آنسو گر رہے تھے لیکن اس کے اپنے دامن پر، کاش وہ سار ی عمر اس کے کندھے سے سر نہ اٹھاتی۔
وہ دونوں کب تک ایسے بیٹھے رہے تھے ، لمحے خاموشی کے کنوئیں میں ’ٹک ٹک ‘ ایسے گر رہے تھے جیسے ایک ایک کر کے سکے پھینکے جاتے ہیں، وقفے سے لیکن روانی سے، گزرتے ہوئے لیکن ٹھہرے ٹھہرے سے ۔
’جب ہم دونوں بوڑھے ہو جائیں گے نا تو ایسے کسی پینچ پر ایسے ایک دوسرے میں گم ہوں گے‘ کسی لڑکی کی شوخ سی آواز تھی‘ جو اپنے کپڑوں اور تیاری سے نو بیاہتا لگ رہی تھی،ایک خوبرو نوجوان کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے سامنے سے گزر رہی تھی۔
وہ دونوں لمحے کی قید سے باہر نکلے تھے، کوئی مقدر میں لکھا دن تھا، شاید دونوں کی دعائیں تھی کہ آج مل لیا تھا۔
واپسی پر پھر ملنے کا وعدہ دونوں کی طرف سے تھا۔ نمبر کے تبادلے کے بعد ڈھلتی شام کے اندھیروں کے ساتھ، بڑھتی خنکی اور سرد ہواؤں کے ساتھ وہ دونوں اپنے اپنے گھروں میں داخل ہوئے تھے۔
’آج کا دن بہت عجیب دن تھا، ایک ایسا دن جو کبھی بھی آنے کی آس نہیں ہوتی اور اگر آجائے تو پھر انسان اس دن کو روز جینا چاہتا ہے ، روز نہ بھی جی سکے تو اپنی روٹین کی زندگی میں اس کی یاد کو جی لیتا ہے ، اور پھر اسی سہارے شاید جیتا ہے ‘ گھر آکر وہ اپنی ڈائری لے کر بیٹھ گئی تھی، باتیں تو سب کر لی تھیں، اب تو بس اپنے احساسات تھے جو کسی مینہ کی طرح چھاچھوں چھاج برس رہے تھے۔
’ضروری تو نہیں محبت کی ہر کہانی آہوں اور سسکیوں اور محرومیوں سے مزین ہو۔ کبھی کبھار محبت بہت لمبے راستے سے پلٹ کر آتی ہے۔۔۔بہت دیر بعد۔۔۔ بہت لمبے عرصے انتظارکرنے کے بعد۔۔۔ اور یہ تو کبھی محبت نہیں ہوتی جو صرف وصل سے زندہ رہے۔۔۔ ہجر کی تپش بھی اس کے وجود کو زندہ رکھ سکتی ہے۔بس اب اگر میں لکھوں گی تو ایک ایسی محبت لکھوں گی۔۔۔ جو کسی خوبصورت خواب کی طرح ہو گی۔۔۔جو پورا نہ بھی ہو تو آنکھ دیکھتے نہیں تھکتی۔۔۔اور انسان اکتاتا بھی نہیں۔ہجر اور وصل کی شرائط سے آزاد ایک خواب۔‘ اپنے قلم کی روانی دیکھ کر وہ خود حیران تھی۔
بھوک کے احساس سے بوجھل وہ اٹھی تھی ،کہانی آج قلم سے نہیں لکھی جائے گی، دل پر کسی واردات کی طرح اترے گی، آج رات نیند تو آنی نہیں تھی، سو آج صر ف لکھا جائے گا۔
وہ چیز سینڈوچ بنانے کے خیال سے اٹھی تھی۔ بیگ میں پڑاموبائل گھر آتے ہی دم دے چکا تھا۔ اسے چارجنگ پر لگا کر کچن کا رخ کیا تھا۔
اپنے سینے میں اٹھتے بائیں طرف کے درد کو نظر انداز نہیں تھی کر سکتی، یقیناًیہ انجائنا نہیں تھا جو کہ ایک معمول تھا، یہ درد اس سے زیادہ تھا، وہ ایک ڈاکٹر تھی، اس درد کو بہت اچھی طرح پیچان سکتی تھی۔ گھر میں کوئی اور نہیں تھا جسے آواز دی جا سکتی اور نہ ہی لینڈ لائن فون تھا۔
وہ کچن سے اپنے سینے کے بائیں طرف ہاتھ رکھے، دوسرے ہاتھ سے دیوار تھامے، آہستہ آہستہ ، واپس کمرے میں آئی تھی۔اس وقت اسے کسی سہارے کی تلاش تھی۔ فون کی لائٹ دیکھ کر اس کی طرف بڑھی تھی لیکن اسی لمحے لائٹ بند ہو گئی تھی۔ اور ساتھ ہی فون کی نظر آنے والی لائٹ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح گھر کا تالا کھولتی گل بی بی بڑبڑاتی داخل ہوئی تھی، گھر والاے نے پھر سے زائد پیسوں کا مطالبہ کیا تھا اور ’گھر والا‘ بھی جانتا تھا کہ یہ ڈاکٹرنی نرم دل ہے ، ایک دو جھوٹ اور مجبوری کے ایک دو جملے کم از کم ہزار پانچ سو تو نکلوا لیں گے، گل بی بی بھی ہمیشہ کی طرح بکتی جھکتی لے ہی آئے گی۔ گھر کی ایک چابی اس کے پا س تھی کہ اگر وہ صبح کسی وقت اٹھنے سے پہلے آجائے تو آرام سے کچن کا کام یا صفائی وغیرہ کر لے۔
وہ خاموشی سے داخل ہوئی تھی، کچن میں صرف ایک پیالی کل صبح والی تھی، باقی کہیں کچھ کھانے پینے کے آثار نہیں تھے۔
’باجی نے کھانا نہیں کھایا‘ وہ فکر مند سی ہوئی ، اس بی بی سے اسے دلی وابستگی تھی، کیونکہ وہ اس کے جھوٹ کو بھی سچ مان کر اس سے ہمدردی کرتی تھی۔
ایک دم اس کا دل بیٹھا تھا اور ہوکتی خاموشی نے اس کا کلیجہ پکڑا تھا ، وہ بے اختیار اس کمرے کی طرف بڑھی جہاں ایک رائٹنگ ٹیبل اور مختصر بیڈ تھا۔ بیڈ کے قریب موبائل فون پزمین پر پڑا تھا اور زمین پر اوندھی پڑی باجی کو دیکھ کو وہ بے اختیار آگے بڑھی تھی۔ وہ بے جان وجود مٹی کا ڈھیر ، ٹھنڈا وجود ہلاتے اسے اپنا آپ ڈھیر ہوتا لگ رہا تھا۔
وہ کوئی آواز دینا چاہتی تھی، ‘باجی اٹھیں !‘ اس کے سارے الفاظ اس ٹھنڈے وجود میں جامد ہو گئے تھے، اس نے وہیں بیٹھ کر دھاڑیں مار کر رونا شروع کیا تھا۔اسے یاد تھا ایسا وہ اپنی مان کے مرنے پر روئی تھی بس۔
’باجی!۔۔۔۔! باجی!۔۔۔۔۔‘ گھر کے درودیوار اس کی چیخوں کو سن رہے تھے، اور باہر والی دیواریں ڈور بیل کو سن رہے تھے۔
باہر ایک ادھیڑ عمر مرد، ہاتھوں میں سرخ گلاب لیے ، ایک انجانی خوشی سے سرچار ، ڈور بیل کے جواب کا منتظر تھا۔
’آج میں اس کے ہاتھ کی کافی پیوں گا، اور اس کے لان میں بیٹھ کر سردیوں کی دھوپ سینکوں گا ، اور پھر ہم کچھ باتیں ، کچھ خواب ، کچھ اداسیاں ، بسکٹ کی طرح بانٹیں گے اور انجوائے کریں گے‘۔
دروازہ اس آدمی کو ، ہاتھ میں پکڑے سرخ گلابوں کو ، اس مسکراہٹ کو حیرت سے دیکھ رہا تھا اور اندر آتے شور کو سن رہا تھا۔ اردگرد کے درختوں نے بھی اپنے آنسو پتوں کی شکل میں گارنے شروع کر دیے تھے۔
اس محبت نا تمام پر اس خزاں میں انہیں بہت ماتم کرنا تھا۔
(ختم شد)

______________

تحریر: ثوبیہ امبر

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements

1 Comment

  1. بہت ہے خوبصورت۔

    کچھ جملے تو کمال ہیں۔

    یہ عمر کا وہ حصہ تھا جب انسان اپنے اختلافات کی ساری تلواریں نیام میں رکھ دیتا ہے،سارے چاقو ،چھریاں،ڈنڈے ،گنڈاسے اور چھڑیاں کونے میں پڑی بے وقعت ہو جاتی ہیں اور انسان کو سمجھ آجاتی ہے کہ اختلافاف اور مابین ناآمادگی کی جنگوں میں صرف وقت ہی ضائع ہوتا ہے۔ لوگ آپ کے لیے تبدیل نہیں ہوتے اور اس
    کوشش میں صرف کے جانے والے سارے الفاظ،سارے نظریات صرف پتھر پر پڑے ہوئے پانی جیسے بے وقعت ہو جاتے ہیں۔

    جب انسان محبت سے دستبردار ہوتا ہے تو اسے یہی لگتا ہے کہ یہ کوئی دنیا کی آخری محبت تو تھی نہیں کہ اسکا روگ اور جوگ لے لے، لیکن جب جب اپنے ہاتھوں سے زندگی سرکتی ہے تو اسی محبت کی شدت بڑھنے لگتی ہے۔

    They say… “Love is the ultimate expression of the will to live….”

    Soorah 20 – Tâ-Hâ : Ta-Ha

    ہے عشق کے روزے میں فقط لذت سحری
    تا عُمر نہیں صورتِ افطار ۔۔۔۔ خبردار

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.