تماشائیوں کے نام خط _______عظمی طور

میری آنکھ کھلی تو میں مکمل تھی __ میرے ہاتھ پاؤں میری آنکھیں ،کان ناک سب پورا تھا __ بھلے میری آنکھ دیر سے کھلی تھی مگر پوری طرح بیدار ہونے کے بعد میں اپنے ہوش و حواس پہ حیران تھی __ دراصل میری نیند بہت بار کھلی میں نے بہت بار نیم آنکھوں سے دیکھا بھی مگر ٹالتی کرتی رہی __ لیکن آپ کو نیند کے بعد جاگنا ہی پڑتا ہے چاہے وہ نیند ابدی ہی کیوں نہ ہو __
میں نے اپنا تھیلا جس میں کچی پکی امیدیں اور بھروسے کے چند کھوٹے سکے اور خوابوں کی ننھی چھیدوں والی تھیلیاں اور چند اک جملے اپنے باپ کے جو میری متاع تھے سنبھال رکھے تھے کاندھے پہ ڈالی _ اپنے ہونے اور نہ ہونے کی ڈگڈگی ہاتھ میں تھامی اور چل نکلی __
گھر سے نکلنے نہ نکلنے کی بھی ضرورت پیش نہ آئی چاروں جانب ایک کچا پکا میدان تھا جس کی کچی دھول اڑاتی زمین اور پکے فرش پہ چلچلاتی دھوپ دونوں پر ہی مجھے اپنا آپ ثابت کرنا تھا __ خود کو ثابت کرنے میں میں کبھی ہلکان نہیں ہوئی __ میں نے بہت سے نہ کرنے والے کام کیے ایسے ہی خود کو ثابت کرنا بھی تھا __
میدان میں سخت دھوپ تھی __ اور خاموشی بھی __ اور ہجوم کے باوجود وحشت بھی __
میں نے تھیلے سے اپنا سامان نکالا اور سر پہ اور کاندھوں چڑھا لیا __ میرا وزن دگنا ہو گیا __
وقت کی رسی میرے پیروں تلے اور قسمت کا بانس میرے ہاتھ میں تھا __ مجھے اپنے گالوں کے بھنور ابھارنے میں کچھ دقت نہ رہی __
دام نہیں ہیں کچھ بھی میرے لے لو لے لو مفت ملے گا
دام نہیں ہیں کچھ بھی میرے لے لو لے لو مفت ملے گا
دام نہیں ہیں کچھ بھی میرے لے لو لے لو مفت ملے گا
مجھے رسی پر چلتے ہوئے یہ آواز لگانے میں اور اس میں تیزی لانے میں کچھ وقت نہ لگا __
یہ میرا معمول تھا __
اچانک میرے پیر ڈولنے لگتے تو میں دائیں کاندھے کو اوپر اٹھا کر بائیں کاندھے پہ ٹکے وسوسوں کو نیچے گرا دیتی _ امیدوں کے اور خوابوں کے شور سے سب گڈ مڈ ہو جاتا اور وقت پورا ہو جاتا __
شام سے پہلے جب میں رسی سے اترنے والی ہوتی تو زمین پر ایک قطار میں رشتے،ناطے ،محبتیں ،تعلق میرے رستے میں کھڑے ملتے اور میں ان کی تیز نظروں قبیح ارادوں بدصورت زبانوں کے حصار میں گھری رہتی __ مجھکو چھونے والے بھی میرے وجود پر اپنے قبیح نقش چھوڑ گئے __
باقی ساری رات میں نے تنہائی کی تماش بینی کو جھیلتے کاٹی __
اس کی اپنی مرضی ہے __ بلکہ مرضی تو سب کی اپنی اپنی ہے __ مجھے کچھ نہ بھی درکار ہو تو بھلا میں کیونکر کسی بھی شے کی طلب کروں __ مگر نہیں __ مجھے دینی ہے مجھ پہ تھوپنا ہی ہے سب __
یہ لو خواب جگاؤ __
یہ لو کچھ امیدوں کے کھرینڈ ادھیڑنے کا آلے __
یہ بھی رکھ لو کام آئے گی ضرورت کی حاجت __
(حاجت میں نے آنکھ کھلتے ہی دفنا دی تھی اپنے بستر کے نیچے )
یہ لو کچھ آس اور تمنا جگا کے رکھنا __
ناامیدی بری شے ہے بچے __
ارے تم کفرانِ نعمت کرنے لگی ہو ،مایوسی کفر ہے لڑکی __
دیکھو بھلا اداسی کی کیا ضرورت ہے ہنستے ہنستے کٹ جاتی ہے ،ہم نے بھی تو کاٹی ہے ناں __
یادوں اور خیالوں کے پنچھی میری کلائیاں نوچتے رہتے ہیں اور پھر دھیرے دھیرے نیم اندھیرے میری رگیں کٹ جاتی ہیں اور نیند ایک زوردار قہقہے کے بعد میرے بدن میں ڈوب جاتی ہے _
تماشائیوں کی ایک صفت مجھے بڑی پسند ہے ۔ یہ نیند اور بھوک میں کوتاہی نہیں کرتے __
مگر مجھے بھوک نہیں ہے نہ پیاس نہ سونے کی حاجت __ حاجت یوں بھی میرے بستر کے تلے دفن ہے اور کتبے پہ میں نے “ظرف” لکھوایا ہوا ہے __ سو __
میرا یہ کلام یقیناً خودکلامی ہے __ کیونکہ بہرے سن نہیں سکتے__ سو __
میں یہ خودکلامی نہ بھی کروں تو چلے گا مگر چپ اکڑ کر کھڑی ہے آئینے میں ،خاموشی حوصلے بڑھاتی ہے __
میں تمھارے بد صورت چہروں سے پیار کرتی ہوں اس لیے نہیں کہ ہر ٹھوکر کھا کر اٹھنے والا حوصلہ پانے کے بعد خود کو طاقت ور محسوس کرتا یہی کہتا اور کرتا ہے __
میں تو یہ اس لیے کرتی ہوں کہ مجھے رَبّ نے محبت کے استعاروں سے جنم دیا ہے __ میں محبت کا استعارا ہوں جسے تم اپنی اناؤں کے صحیفوں میں آخری صفحوں کی آخری سطروں میں درج کر کے اپنی ظالم پوروں سے مٹانے میں لگے ہو __
مگر سن لو تمھارے صفحے پھٹ جائیں گے میں محبت کرنا نہیں چھوڑوں گی __
ہاں میں نے اعتبار کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ یقین تو پہلے بھی مجھے صرف رَبّ کی ذات پہ تھا مگر اب اعتبار بھی میں اس کے وعدوں پہ کروں گی _
اعتبار ویسے بھی مجھے گھٹی میں نہیں ملا میری خصلت میں بے یقینی بھر دی گئی ہے __ سو __
مگر میں چاہنا نہیں چھوڑوں گی میں تمھارے بدنوں سے پھوٹتی جلن کو چیلنج کرتی ہوں اس طور کو تم محبت کی تجلی سے سرمہ ہوتے دیکھو گے __
اور آنکھوں میں بھرنے سے گھبرانا مت میں چبھن کا باعث ہر گز نہیں ۔ جب چاہو مجھے اشارا دینا میں کچی ہوں تم جیسی نہیں ہاں مگر ایک ایسی مٹی ہوں جس کو رَبّ جب چاہے جیسے چاہے اس پر ایک نقش ابھر آئے اور باقی معدوم ہو جائیں __
زمانے !
میں تیری نیندوں کے صدقے __ لوگ اسے غفلت کہتے ہیں میں بے نیازی __ تجھے خدا ہونا بڑا بھاتا ہے __ اور میں تیری پجارن نہیں __ میں تیرے بت توڑنے والی بھی نہیں __ مجھے کمزور سمجھ یا بے پرواہ تیری مرضی __
بے نیازی کا ذائقہ تیرے کٹھور پن سے ذیادہ عمدہ ہے __ اور مجھے اس نشے کی لت ہے __
تیرے قربان تو اور کتنا کٹھور ہو گا اور کتنا بے پرواہ __
میں تیرے خمیازے بھگتتے بھگتتے تھک جاؤں اور تو اپنی قبیح صورت سے میری تمام تسلیاں اور تھپکیاں مجھ سے چھینتا رہے __ دعا ہے کہ تو کبھی کمزور نہ پڑے تو ایسے ہی لنگڑاتا رہے کبھی نہ سماعت کی بیساکھی تھام سکے تیرا سینہ دھڑکتا رہے اناؤں کے دل سیاہ خون اگلتے رہیں __ تو نظریں پلٹاتا رہے اور لوگ ایسے ہی بے ایمان رہیں اور میں رسی پہ چلتے چلتے وقت کے بانس کی سیڑھی بنا کر رَبّ سے جا ملوں __
تیری خوش فہمیوں کو میرا محبت بھرا سلام
فقط زمانہ شناس
عظمیٰ طور

_____________

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

فوٹوگرافی:قدسیہ کھتری

ماڈل: ماہم

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.