وہ تصویر بناتا ، بنا برش کے ؛_____نہ کلر – – – – – نہ کینوس
روز تصویر بنتی روز رد ہوجاتی ؛ تصویر تو اُسے روز کی بھاتی مگر وہ اس سے مطمئن نہ ہوتا ؛ کیونکہ اُسے خود معلوم نہیں ہوتا کہ وہ تصویر کس کی بنا رہا ہے ؛ _________کیونکہ بنائے جانے والے شخص کو اُس نے اُس وقت دیکھا تھا جب وہ شعور بھی نہیں پاسکا تھا ؛___
یہ سلسلہ چلتا رہا ؛ وہ روز تھکا ماندہ آتا اور رات میں اپنے مکان پر بڑے اہتمام سے روز ایک نئے بزرگ جیسے چہرہ کی تصویر بناتا ؛ کتنی ہی تصویریں جمع ہوگئیں اُسکی ضد سے _______کہ جب تک اُس چہرے کی ہو ہو تصویر نہیں بن جاتی _____وہ یہ سلسلہ بند نہیں کرے گا – -!!
__________________

💜اتوار 16 جولائی 2017
شب دو بجے بمقام بس اسٹاپ بینچ نمبر پانچ پر لکھی گئی ہے

______________

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف