دوام____آخری سحر ہے!(4)__________سدرتہ المنتہی جیلانی

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

ماڈل :ماہم

فوٹوگرافی:صوفیہ،قدسیہ

________________________

دوام!
آخری سحر ہے

———

ہم محبت کے لئے نہیں کبھی کبھار طلب کے لئے جیتے ہیں
********

یقین مانو تو پہلے پہل یہ احساس بہت انوکھا
اور بے چین کردینے والا بھی ہوتا ہے
رات بھر جاگ کر کسی کو سوچتے رہنا جب تک نیا نیا ہوتا ہے تب تک حسین ترین محسوس ہوتا ہے.
میں پہلے تو نورفاطمہ کو دیکھنے کی طلب کرنے لگا اور بہانے بہانے سے اس گھر کی چوکھٹ پر جانے لگا تھا
اسماعیل بھاؤ کا گھرجہاں کسی ویلے بندے کے پھٹکنے کا وہ عورتیں نہ صرف انتظار کرتی تھیں
بلکہ لگتا کہ رات کو سوتے وقت انتظار کرتی ہوگی کہ کوئی خدانخواستہ گلی سے گزرے اور اسے آواز دے کر التجاءیہ روک لیا جائے اور کسی ایک کام کے بہانے چھ کام لے لئے جائیں.
ہم جو بستی کے نوجوان بھاگتے تھے اس گھر کے نزدیک بھی پھٹکنے سے, ہم میں ایک میں تھا, جو بہانے بہانے سے کام کاج کے لئے جانے لگا تھا
جب تک نور فاطمہ رہی تب تک یہ روٹین رہی.. اس کے بعد پھر وہی پینترہ بدلا تو بھاؤ کے گھر کی عورتیں جن میں بڑی عمر کی کنواری بہن اور کھڑوس مہندی رنگے بالوں والی بیوی, اور گھر کی آیا کے ساتھ فرزانہ باجی جو شادی کے انتظار میں بڑی ہوتی جارہی تھیں اور جب سے انکی عمر نے تیس کراس کئے تھے تب سے لہجہ بھی تلخ ترین بن گیا تھا
مجھے پتہ تھا کہ خاص طور پر انکی بددعاؤں میں رہنے لگا تھا
نہ صرف اتنا بلکہ فرزانہ باجی جس نے بارہا میری چوری پکڑنے کے بعد مجھے سخت انداز میں گھورنے کی کوشش تک کی تھی وہ تو بھلا تھا کہ کوئی نہ کوئی سامنے رہتا تھا اس لئے مروت سے ہی چہرے کے زاویے بدلنے پڑھاتے تھے
مگر جانتا تھا کہ موقع ملنے پر یہ نظریں جہاں نور فاطمہ کو تنبیہہ کرتی ہیں وہیں مجھے ہونٹوں کی بڑبڑاہٹ میں کوسنے کے ساتھ تنہائی میں نور فاطمہ کو پہلے بہانوں سے یہ اشاروں کنایوں میں سمجھاتی ہونگیں
فرزانہ باجی بھی عجیب تھیں
بھرم بھی رکھتی تھیں اور بے عزت بھی کرتی تھیں
اسکی ماں کو شک ہوا بھی تو مکرگئ کہ نہ تو نور فاطمہ ایسی ہے نہ ہی تامی اس حد تک دیدہ دلیر یا گیا گزرا..اور پھر گھر آکر اما کی غیر موجودگی میں اچھا خاصہ بے عزت بھی کرگئیں تھیں
خدا جانے کیوں ایسا محسوس ہوا تھا کہ وہ جن کی زندگی میں کوئی ایسی ہل چل نہیں ہے سو وہ بھی چاہتی ہیں کہ کسی اور کی زندگی بھی اتنی ہی سپاٹ اور بے رنگ گزرے.. یہی وجہ تھی.. کہ مجھے فرزانہ باجی پر غصے کے بجائے ترس آنے لگا تھا.
اس کے بعد کبھی کبھار میں انہیں نوٹس بھی لیکر دیا کرتا تھا اور کوئی چھوٹا موٹا کام ہوتا کردیا کرتا تھا.
دیکھتے دیکھتے اس گھر کے تمام افراد کے لئے میں ایک فرد کی سی حیثیت اختیار کرگیا تھا.
مگر اس کے بعد نور فاطمہ کو پھر انکے ہاں آکر ٹہرتے نہیں دیکھا تھا
پورا سال گزرگیا تھا..میں نے اسے صرف بستی کی شادی میں دیکھا تھا.
اتنا تو یقین تھا کہ وہ بھی میرے احساسات سے آشنا ہوگئ ہوگی
تبھی تو کترائ تھی.
تبھی تو گھبراتی تھی..
یہ پہلی محبت تھی جو مجھے نورفاطمہ سے ہوگئی تھی..اور دیکھتے ہی دیکھتے میرے ساتھ کسی وبا کی طرح لپٹ گئی تھی
ایسے کہ مجھ سے محبت کی خوشبو آنے لگی
اور شاید نورفاطمہ کی بھی.. کہ کچھ لوگ اسے میرے نام سے منسوب کرنے لگے تھے.
اور وہ حرکت جسے اوچھی حرکت کہتے ہیں
اس چٹھی لکھنا.. شروع کردیا تھا.
جواب آتا نہ آتا.. کام جاری تھا..
ماں.. جسے شاید بہت پہلے مجھے سمجھ گئی ہوگی
کسی ٹھوس ثبوت کے انتظار میں تھی
ایک خط ماں کے ہاتھ لگ گیا.. بس پھر کیا تھا
مجھے تو نفرت انگیز انداز میں گھورتے ہوئے ایک تھپڑ حرکت نکل گئیں..
میں جو پہلے ڈرا تھا اب نادم بھی تھا اور ماں کے تھپڑ کے دکھ سے زیادہ انکی ناراضگی کا بھی احساس جکڑگیا تھا.
بعد میں معلوم ہوا کہ اماں اسکے گھر گئیں تھیں
اور جاکر اس کے ابا کے سامنے میرا خط رکھا.. سزا کی تجویز کے ساتھ یہ تک کہہ دیا کہ شکر کریں خط پہنچا ہے
اگر خط کا جواب لکھا گیا تو آپ کو تکلیف ہوگی
اور اگر چھورا گھر تک پہنچ گیا دنیا بھرکے تکلیف ہوگی
اچھا تو اس میں ہے کہ بیٹی اسے بیاہ دیں جسکی نظر پڑی ہوئی ہے
اچھا ہے کہ یہی نظر آخری ہو..
نہیں تو سزا سنادیں.. چھورا آپکے حوالے کردوں گی
وہ جو غضبناک ہوتے کسی حد تک ہوئے بھی لیکن اگلے کچھ روز میں اماں کو پیغام ملا کہ لڑکی کا رشتہ لینے آجائیں
میں حیران.. اور اماں بڑی تسلی کے ساتھ فرزانہ باجی کی ماں اور پھوپھی کو لیکر روانہ ہوگئیں تھیں
میری اور نور فاطمہ کی شادی اتنی آسانی سے ہوجائے گی یہ میں نے سوچا ہی نہیں تھا.
نورفاطمہ کی فیملی نے سال کاشمیری کے گھر والوں سمیت سالس کو سخت خفا کرکے بچپن کے رشتے کی بات توڑ کر یہ رشتہ کیا تھا.. تم سوچو عالین اس وقت میں یہ کتنی بھلی اور اہم چونکادینے والی بات تھی کہ ایک باپ جو میاں قسم کا ہے اس کے دل میں خدا نے کیسا رحم ڈال دیا تھا کہ روایتوں کو پس پشت ڈال کر ایک روایت رکھ دی جو خوشی کی علامت تھی.. خدا جانے نور فاطمہ کے ساتھ انکی کوئی بات ہوئی تھی یا نہیں مگر کام حیران کن ہوا تھا.
البتہ مجھے بلاکر ایک تنبیہہ ضرور کی کہ میری بیٹی جیسے تو نہیں ہو.. مگر اس کے قابل بننے کی کوشش ضرور کرنا.
نیک رہنا.. نماز پڑھنا. اپنے کردار کی حفاظت کرنا
اور یہ نظر اب یہیں تک رکھنا یہ نظر اب ادھر ادھر نہ پھٹکے.. میری بیٹی تمہارے گھر سے مکر نکلے گی
اور تیری باقی خواہشیں میری بیٹی کی زندگی پر قربان ہوں.. یاد رکھنا اگر تم نے ذیادتی کی تو اس دنیا میں نہ سہی… آخرت میں تمہارا گریبان ضرور پکڑوں گا..
میں درحقیقت اتنے سنسئر باپ کی سچائی سے بہت متاثر ہوا تھا
یہ احساس الگ سہی کہ نورفاطمہ کا باپ میرے لئے سخت ترین ثابت ہوا تھا رعب اتنا تھا کہ جب تک آدمی زندہ رہا میں لاکھ اختلافات کے باوجود بھی اسکی غیر موجودگی میں اس سے ڈرتا رہا.. یہاں تک کہ جب وہ نہ رہا تو فکر اور بڑھ گئی تھی. کہ نور فاطمہ کو خوش رکھنا ہے.
باوجود اس کے کسی بڑی ناانصافی نہ ہونے کے باوجود بھی مجھے لگتا ہے کہ میں نورفاطمہ کو کبھی اس طرح سے خوش نہیں کرسکا تھا.
جیسے اس کا باپ اسکی خوشی کے لئے خواہاں تھا.
جیسے میں مونا کی خوشی کے لئے خواہاں تھا..
جیسے ہر باپ اپنی بیٹی کی خوشی کے لئے خواہاں ہوتا ہے.
یہ بھی محبت کا ہی شاید ایک انداز تھا .
نہ انوکھا لگتا. نہ نرالہ. مگر نہایت یقینی.. اور تحفظ بھرا..
جیسے میرے لئے ماں کا..
جیسے ماں کے لئے میرا
جیسے نورفاطمہ کا ابا
جیسے انکے لئے نورفاطمہ
جیسے میرے لئے میری مونا
جیسے نور فاطمہ کے لئے مستقیم کا ابا
وہ مستقیم کے ابا کے نام پر یکلخت چونکی تھی.
جیسے مستقیم کا ابا؟
ہاں عالین. جیسے مستقیم کا ابا ..ہمارا بیٹا..
جیسے میرے لئے میری بیٹی مونا.. اور مونا کے لئے میں تھا….
خود کے لئے تھا استعمال کررہے تھے.
وہ مسکراہٹ سے دیکھنے لگی.. مگر ذہن مستقیم کی طرف دوڑا..
تو مستقیم آپکا پوتہ تھا؟
ہاں..اور تم شاید اسے جانتی ہو..
کچھ اچھی طرح.. میں اسے سعدیہ نورعین کے حوالے سے جانتی ہوں..
سعدیہ نورعین؟
اب سوچنے اور بوجھنے کی باری انکی تھی
رات آہستگی سے سرک کر صبح میں بدلنے جارہی تھی..
اور تارے آسمان کی چادر پر اپنا کھیل شروع کرچکے تھے.
ٹوٹنے جڑنے اور..
جگہیں بدلنے کا!

—————-

تعلق اگر آزمائش نہ بن جائیں تو…
********

تم آگئے ہو؟کتنی دیر کردیتے ہو..وہ ریلنگ کے پاس کھڑی تھی. اسے آتا دیکھ کر کچھ بے بسی سے بولی.
ہاں میں آگیا ہوں.. تبھی تمہارے سامنے ہوں.. وہ گھر آنے کے لئے دستک یا بیل کی بجائے چابی کا استعمال کرتا تھا.

ہمیشہ جلے کٹے جواب دیتے رہنا مجھے.. وہ اس سے پہلے اندر چلی گئی
.
وہ اندر آیا دروازہ بند کیا لاونج کا اور پھلوں کی باسکٹ کے پاس پھلوں کا تھیلا رکھا.
اور کوٹ اور شرٹ کا اوپری بٹن کھولتے ہوئے اسے دیکھا جو شوہرنامدار کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کوئی مجرم کو گھر میں پناہ دینے کے بعد احسان کرنے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے بس نہیں چلتا کہ مجرم کو تختہ پر کھڑا نہ بھی کیا جائے مگر تخت پر الٹا لٹکاکر دو چار چھتر ضرور ہی لگوانے چاہئیں..
وہ اسے دوسرے معنوں میں خون خوار کم خون معاف کرنے کے بعد نظروں سے کھجانے والی نظر سے دیکھ رہی تھی..
کیا؟اسے اس طرح خود کو دیکھتے پاکر وہ کندھے اچکاکر کچن کارنر کی طرف آگیا.
ایسے کیوں دیکھ رہی ہو کہ بجائے ایسا کیا دیکھ رہی ہو؟جو پہلے کبھی نہیں دیکھا. کہتے ہوئے اپنے لئے فریج سے پانی کی بوتل نکالنے لگا.
کہاں تھے؟اور کس کے ساتھ تھے؟اس کے اس طرح کے سوالات اسے لگتے تو ناگوار تھے مگر اس وقت تیکھی مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر آگئی تھی.
تمہیں بتاؤں گا تو بگڑوگی.. اس لئے تمہاری تسلی کے لئے اتنا کہہ دینا کافی سمجھتا ہوں کہ کسی عورت کے ساتھ ہرگزنہیں تھا.
تمہارے ساتھ میرے علاوہ کوئی عورت نہیں چل سکتی.. طنز بھرا تیر پھینکا تھا اس نے.
اچھا چیلنج ہے. کیا میں اسے قبول کروں تو تم کہیں خودکشی تو نہیں کرلوگی؟
کیونکہ میں نے اگر قبول کرلیا تو ثابت کرکے ہی دم لوں گا.
اس نے بات کرنے کے دورآن صرف پانی پینے کا وقفہ لیا تھا. اور پانی کی بوتل دوبارہ فریج میں رکھ کر وہ سیدھا بیڈروم کی طرف جاتے ہوئے بغیر رکے اور پیچھے مڑکردیکھنے کے بجائے اتنا کہا تھا کہ پھل فریج میں رکھو مگر ابھی کچھ ان میں سے کھالینا.
اسے پتہ تھا یہ حملہ اس عورت کو کوئی مثبت فرق نہیں ڈال سکتا. بلکہ ذیادہ پاگل کردے گا یہ سوچ کر کہ کوئی ترس یا رحم کھارہا ہے اس پر.
وہ اندر آئی تو یہی تاثر تھا چہرے پر بھی.
تم میری بات کا مذاق اڑارہے ہو؟
وہ اس کے سامنے جیسے تن کر کھڑی ہوگئی تھی.
نہیں.. میں سنجیدہ ہوں..
وہ واش روم سے چینج کرکے نکلا تھا.اور میلے کپڑے ملحقہ ڈریسنگ روم میں میلے کپڑوں کے جار میں ٹانگ دیئے.
کچھ مہینوں سے اپنے چھوٹے بڑے کام وہ خود ہی کررہا تھا. اسے کسی قسم کی دکت اور تکلیف نہیں دے رہا تھا.
اپنے تئیں تو پوری کوشش کی تھی اس نے اس کا خیال رکھنے کی.. مگر ہر بار کچھ نہ کچھ.. کہیں نہ کہیں آجاتا تھا بیچ میں.. جو تضاد کا سبب بن جاتا تھا.
تم نے کہا تھا کہ تم اب میرا خیال رکھوگے.. وہ آکر اس کے سامنے بیٹھ گئی تھی جیسی ہی وہ بیڈ کے سرہانے آ بیٹھا.
وہ ہنس پڑا تھا..
اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے.. میں نے تمہیں لطیفہ سنایا ہے کیا؟
ظاہر ہے میرے لئے لطیفہ ہی ہے..
اب اور کیسے خیال رکھوں گا.. وقت پر خوراک,وقت پر چیک اپ.. کھانا پینا. دوائی آرام.. سب کچھ تو کررہا ہوں.. ایک پانی کے گلاس کے لئے بھی تمہیں دکت نہیں دیتا.
جتارہے ہو؟اسکے گھورنے میں اب غصے کی جگہ شکایت نے لے لی تھی.
نہیں بتارہا ہوں.. جتانے اور بتانے میں بہت فرق ہے.
بات ایک ہی ہے..
تھک کر آیا ہوں نبیلہ اپنی اور میری زندگی زہر مت کرو.. سوجاؤ اور سونے دو.
تمہیں لگتا ہے میں نے تمہاری زندگی زہرکی ہے؟
نبیلہ پلیز.. مت سکون برباد کرو ہم دونوں کا..
دیکھو.. میں دو دن کے لیے گھر سے کیا جاتا ہوں تم ایک شکی اور بدمزاج بیوی کا روپ دھارلیتی ہو..
حد ہے..
تم کہنا چاہتے ہو کہ میں نے تمہارا سکون برباد کیا ہے؟
پھر وہی رٹ.. وہ جھلا گیا تھا.
کیا میں یہاں سووں؟یا باہر نکل جاؤں ؟
جو تمہارا دل چاہے. وہ جلے کٹے انداز میں کہتی اٹھ کر اپنی سائیڈ پر آ بیٹھی تھی.
اسے پتہ تھا اب اسکی سوں سوں شروع ہوجانی ہے اور ساتھ ہی کوسنے بھی.. وہ اسے سمجھانا چاہتا تھا کہ یہ سب انکے بچے پر بہت نیگیٹو اثر ڈال سکتا ہے
مگر اسے پتہ تھا اس طرح کہنے پر بھی وہ ایسے ہی ری ایکٹ کرے گی.. اور کہے گی کہ تم کہنا چاہتے ہو کہ میں نیگیٹو اثرات ڈالتی ہوں..
اور وہ کہہ بھی دیتا کہ میں سمجھتا ہوں میں نے تمہارے ساتھ شادی نباہ کر ایک سنگین غلطی کی ہے.
کہے بغیر کڑوا گھونٹ پیکر اٹھ گیا تھا.
اور اسے پتہ تھا کہ وہ رائی کا پہاڑ بنادے گی..
میں نے سمجھا تھا کہ تم بدل جاؤگی.
میں نے سمجھا تھا کہ ہم اچھی زندگی کی شروعات کریں گے.. میں نے سوچا تھا.. بہت کچھ ہوگا..
وہ استھان کر ڈرائنگ روم میں بیٹھ گیا تھا
آج بہت دنوں بعد اس نے سگرٹ پی تھی..
اور آدھا پیکٹ پی لیا تھا.
کمرے میں دھویں کے مرغولے تھے.
کمرے میں حبس تھا. گھٹن تھی..
وہ سگرٹ پھونک کر باہر آگیا اور بالکنی میں ایزی چیئر پر ہی بیٹھے بیٹھے اسے نیند آگئی تھی.
اور وہ کمرے میں سوں سوں کرتے ہوئے اپنے ہی غلطان میں گم بیٹھی اپنی من گھڑت کہانیاں بنارہی تھی..اور اپنے کھڑوس قسم کے باپ کو اس نے آج رات میل کرڈالی.. اسے پتہ تھا کہ اس کے نتائج کتنے ہول ناک ہوسکتے ہیں.
————-

اگر اسے زندگی سے شکایت نہ ہوتی
*******
نور فاطمہ میرے گھر آگئی تھی.
مجھے زندگی سے کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے تھی اگر اسے زندگی سے کوئی شکایت نہ ہوتی. ان کا لہجہ ڈوب سا گیا تھا
انہیں زندگی سے شکایت تھی؟
ہاں.. اسے زندگی سے اگر نہ بھی ہو تو مجھ سے تو بے پناہ تھی..
آپ سے کیوں شکایت تھی انہیں؟
وہ گھر پہنچ چکی تھی اور یہ تقریبا” دو روز بعد ان کے ساتھ فون پر بات ہورہی تھی. ابھی اس کا بس نہیں چلتا تو فون میں گھس کر انکے تاثرات دیکھ لیتی تبھی.
ایک لمحہ کو سوچا بھی کہ انہیں وڈیو کال پر آنے کی دعوت دے لیکن گفتگو میں مخل ہونے کے ڈرسے
چپ رہی.
تو میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اسے مجھ سے شکایت ہونے لگی تھی.
نور فاطمہ کو مجھ سے شکایت تھی. اسے لگتا تھا کہ میں گمراہ ہوں..
مجھے اس نے اکیلے کمرے میں ناچتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور اس روز وہ بڑبڑاتے رہی سوتے میں یہ کہہ کر کہ ایک میراثی کے ساتھ میرا نکاح ہوگیا..
مجھے یہ تازیانہ لگا تھا.
صبح سویرے میں اس سے بات کئے بغیر گھر سے نکل گیا تھا.
مجھے ہر اس نیک متقی پرہیزگار سے نفرت ہونے لگی تھی جو عام بندوں پر نفرین بھیجتے رہتے ہیں.
میں نے اس کے بعد ناچنا چھوڑدیا تھا.
اس روز مزدوری ڈھونڈنے نکلا تو مجھے ماسٹر رفیق مل گیا راستے میں.. وہ چھوٹی چھوٹی ناٹک منڈیاں رچاتا تھا اسکول کالج کے بچوں کے لئے چھوٹے موٹے سبق آموز کھیل رچاتا تھا.
اس نے اس دن مجھے کچھ روپوں کی آفر کی اور مجھ سے ایک کردار کروایا.. میری اداکاری انہیں پسند آگئی تھی..
اور اسکے بعد ایک سلسلہ سا جڑ گیا.
گھر میں راشن ڈلوانے کے قابل ہوگیا تھا. اماں مجھ سے خوش تھیں اور نور فاطمہ مطمئن تھیں کہ میں بہتر ہورہا ہوں.
نور فاطمہ اور میرے درمیان ابتدا میں ہی مزاجوں کی آہم آہنگی نہ ہوسکی تھی.
ہم کہنے کو ایک ساتھ رہتے تھے.
ایک برتن میں کھاتے تھے.
ایک دوسرے کی زیادتیوں نباہ رہے تھے
مگر دلی اور ذہنی طورپر ہمارے درمیان کچھ نہ تھا. کوئی گٹھ جوڑ نہ تھا.
بس صرف رشتے کی اہمیت اور گنجائش تھی.
سب سے پہلا بچہ ہمارے گھر میں بیٹی ہوئی اس کا نام نور فاطمہ نے مبینہ رکھا اور میں نے اسے مونا بلانا شروع کیا.. مونا دراصل ہماری رفیق میاں کی بھتیجی تھی جو تھیٹر لکھتی تھی.
اور مجھے اسکی صوبر شخصیت بہت اچھی لگتی تھی.
ٹہر ٹہر کر بولتی ہوئی آنکھوں پر ڈوری والا چشمہ لگا ہوتا اور ہاتھ میں کاغذ بہت فکرمندی سے کاغذات سنبھالے ہوئے سیٹ کی دوسری طرف بیٹھی رہتی کرداروں کو ہدایات دیتی تھی .میرے کردار وہی لکھتی تھی. اور اس کے لکھے ہوئے کردار میں بہت اچھے پرفارم کرتا تھا.
مونا کی شادی رفیق کے نکھٹو بیٹے ظہیر کے ساتھ ہوئی تھی. جو پہلے درجے کا آوارہ اور دل پھینک مزاج بندہ تھا.
دونوں میں کبھی نہیں بن سکی تھی.
مگر یہ شادی نبھ رہی تھی.
دنیا کی بیشتر شادیاں ایسی ہی ہوتی ہیں.بس نبھائی جاتی ہیں.. بس نبھ جاتی ہیں..
ہماری شادی بھی ایسی ہی تھی..
اور مونا اور ظہیر کا جوڑ بھی ایسا تھا.
مجھے دل ہی دل میں مونا کے ساتھ ہمدردی ہونے لگی تھی.. یہ جانے بغیر کہ وہ بھی میرے ساتھ کس قدر ہمدردی رکھتی ہے.
جانے کیسے میرے اندر کی محرومیاں سمجھ جاتی تھی کہ کردار کی مکالمے ادا کرتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا کہ اس نے میری سوچوں کو ہی لکھ دیا ہے.
مجھے مونا کے ساتھ ایک عجیب سی انسیت تھی.
اور اسے شاید مجھ سے..
لگتا تھا کبھی لہجے کبھی صرف سلام دعا کے ذریعے وہ میرا دکھ رفو کردیتی ہے.. اور میں اسکے چھوٹے چھوٹے دکھوں کو سمجھنے لگا تھا.. وہ افسانہ لکھ کر مجھے پڑھانے لگی تھی.
میں اس پر رائے کے بہانے وہ تسلی دے دیتا تھا جو دینی ہوتی تھی.
کیا یہ ایک نئی محبت کی بنیاد پڑرہی تھی؟
نہیں عالین.. اسے ہم دوستی کہیں گے انسان دوستی ..کیونکہ اسے دیکھ کر کبھی میرا دل ویسے نہیں دھڑکا جیسے پہلی بار نور فاطمہ کو دیکھ کر دھڑکا تھا.
اور پھر تو کسی عورت کے لیے نہ دھڑک سکا.. یہاں تک کہ خود نورفاطمہ کے لئے بھی نہیں..
اس کے بعد لگتا تھا کہ دل دھڑکتا نہیں بس اپنی رفتار سے رینگتا ہے.
مجھے لگا مونا کو بس میری دوستی یا ساتھ کی ضرورت ہے اور مجھے اسکی..
مگر ایسا تادیر نہ ہوا..
ظہیر کو شک ہوگیا.. جو خود جانے کتنی عورتیں اپنی زندگی میں بدل چکا تھا..
پہلی بار مونا کے ساتھ وہ میری وجہ سے لڑا تھا
اور پہلی بار ظہیر نے میرے گھر پر آکر مجھے مارا..
اس دن میرا سارا مان ماں کے سامنے چکنا چور ہوگیا.
اور نور فاطمہ نے قسم کھالی کہ وہ یہ حرام کی کمائی نہیں کھائے گی. وہ کھیتوں میں بوائی کے دوران جاکر کام کرنے لگی تھی.
حالانکہ میں نے بھی اینٹیں ڈھونا شروع کردی تھیں.
نور فاطمہ کے باپ کو پتہ چلا تو وہ گھر آکر مجھ پر خوب برسا اور نور فاطمہ کے نام جو کچھ زمین کی تھی اسکے سالانہ کچھ پیسے بھجوانے کا وعدہ کرلیا تھا.
نور فاطمہ تو ہلکی ہوگئی مگر مجھ پر جیسے بوجھ آن پڑا..اماں کمزور ہوتی گئی… انکے علاج کے لیے اچھا خاصہ قرضہ لے چکا تھا.
ماں کی بیماری میں موت ہوگئی تھی.
اور پھر اس گھر میں میرے لئے جیسے کچھ نہ بچا سوائے چند سالہ مونا کے..
مونا ساڑھے تین سال کی تھی اور جب میں گھر پر ہوتا تو میرے سینے پر چڑھ کر سوتی تھی.
مونا کے بعد لڑکے کی پیدائش ہوئی جس کا نام ہاشم الدین رکھا گیا..اور وہی نور فاطمہ کی آنکھوں کا تارہ ہوگیا تھا..
مونا چار ساڑھے چار سال کی عمر سے میری مکمل طور پر عادی ہوگئی تھی.
ان دنوں ابا کے چند جریب بیچ کر میں نے ایک سودے کی دوکان ڈال دی تھی. اور گھر کا سودہ اسی سے آنے لگا تھا.
ان نور فاطمہ قدرے مطمئن تھیں کہ میں پھر سے ایک اچھا مسلمان بننے چلا ہوں..
مگر ہوا کچھ یوں کہ انہیں دنوں اندر کی بے چینی نے مجھے پھر سے بھٹکادیا.. میں نے نور فاطمہ کے ساتھ صاف بات کی کہ گھر کا راشن اسی دوکان سے آئے گا. باقی اپنے شوق اور تسلی لے لئے میں تھیٹر کروں گا.
اور اس سے تمہیں ایک دھیلا بھی نہیں دوں گا.
نہ غلط بیانی کروں گا..
میں اپنے بلبوتے پر کام کرنے لگا تھا.
اور نور فاطمہ جیسے میری ضد میں آکر دن بدن عبادت گزار بنتی جارہی تھی..
ہاشم کچھ منٹ میری گود میں چڑھنے کے بعد دوبارہ ماں کے پاس چلا جاتا تھا.
وہ ماں کا دم چھلا تھا.
اور مونا جیسے جیسے بڑی ہورہی تھی مجھے اپنی طرف کھینچتی ہوئی جارہی تھی.
میری بیکار چیزوں کو سنبھال کر رکھنے لگی تھی.
اور میری غیر موجودگی میں میرے بستر پر سوتی تھی.
میرا کمبل اور چادر اوڑھتی تھی.
میری چیزیں دھڑلے کے ساتھ استعمال کرتی تھی.
اور جب میں گھر آتا تو ہر وقت میرے ساتھ ہوتی تھی..
عمر کے دسویں سال کے بعد اسکی اماں نے زبردستی اس کا بستر الگ تو کردیا مگر کچھ دیر میرے کندھے پر سر رکھ کر مجھ سے کہانیاں سنتی تھی باتیں کرتی اور پھر جاکر دوسری چارپائی پر سوتی تھی.
مجھے پتہ نہ چلا اس کے اندر میرے میرے آرٹ کے جراثیم بھی منتقل ہوئے ہیں..
ایک روز میں نے دیکھا کہ وہ میرا باجہ خود بخاری تھی..
اس وقت اسکی ماں پڑوس میں کسی دعوت پر گئی تھی.
اور مونا میرے کمرے میں میرا باجہ لئے بیٹھی تھی.
میں دنگ رہ گیا.. وہ باجہ بجاتی رہی.. پہلے پہلے مجھ جیسا بجانے کی نقل اور اس کے بعد مجھ سے کہیں زیادہ اچھا بجاتی تھی.
اسے طبلہ بجانا بھی آتا تھا اور ستار اس نے بعد میں مجھ سے سیکھا..
جس پر اس نے کئی بار ماں سے ڈانٹ بھی کھائی وہ اس سے ڈرتی تھی اس لئے اس طرح کے کام اس سے تقریباً چھپ چھپاتے کرتی تھی..
ایک روز میں نے اسے رقص کرتے ہوئے دیکھا اور میں حیران رہ گیا.. اس کے رقص میں بھی وہی بے چینی تھی جو کبھی مجھ میں ہوتی تھی..
وہ گانے بھی لگی تھی.. میں حیران تھا کہ محض پندرہ سال کی عمر میں اسے دو تین میوزیکل انٹروومینٹس بجانے آتے تھے.
اچھا رقص.. اور سریلی تان کے ساتھ گانا آتا تھا.
میں نے اس کا دھیان بٹانے کے لئے اسے کتابوں کا رسیا بنانے کی کوشش کی.. کیونکہ ناچ گانے کی صورت ایک بار اس نے ماں سے مار کھائی تھی. میں نہیں چاہتا تھا کہ دوبارہ کھائے اور پھر بار بار کھانی پڑے..
اسکول کے بعد میں نے اسے کالج میں داخل کروادیا

کالج میں کبھی اس کا کوئی افئیر نہیں چلا.. وہ بدکردار نہیں تھی.. وہ بے احتیاط بھی نہیں تھی..
گھر سے باہر نہ کبھی وہ ناچی.. نہ اس نے گایا..
البتہ تھیٹر کے لئے اسے میں ایک دو بار چوری چھپے گھر سے لے گیا تھا.
وہ چن کر اچھے رول اٹھاتی تھی..
اور اپنی ایڈیشنز بھی کرلیتی تھی..
کالج کے آخری امتحان کے ساتھ اس نے امتحانوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ نوٹس کے اندر کچھ چھوٹی بڑی بے ترتیب کہانیاں لکھ دی تھیں..
ان کہانیوں کو میں نے اسی کے نام سے ایڈٹ کرکے سلیکٹ کردیا تھا.
اب وہ باقاعدگی سے لکھنے لگی تھی..
اور اسکی ماں کو تسلی ہوئی کہ چلو اس کا رجحان فنکارانہ تجربوں سے کچھ تو ہٹا.
ہاشم اسکول جانے لگا تھا. بلا کا بدمزاج تھا.
مگر ماں کو اس پر فخر تھا کہ وہ اسے اپنے جیسا نیک بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے.
میں مونا کو گھمانے پھرانے لے جاتا تھا ہماری اچھی کمپنی ہوتی تھی..
اکثر وہ باہر کچھ دوستوں کے ساتھ موسیقی کے پروگرامز میں شریک ہوجاتی تھی.. میں نے کبھی بیٹی ہونے کے ناتے اسے گھٹن زدہ ماحول دینے کی یا زیادہ سختی کرنے کی کوشش نہیں کی.. میں سوچتا تھا اگر میرا بیٹا ہوتا تو میں اس کا یقیناً ساتھ دیتا اور پوری چھوٹ دیتا.. پھر یہ سارا ٹیلینٹ بیٹی میں ہے تو کیا ہوا.. ماں کے بعد مجھے مونا نے زندہ اور خوش رکھا ہوا تھا.
مگر وہ کہتے ہیں نہ ایک دن کبھی کبھار ایسا آتا ہے جو کئی اچھے دنوں کو کھاجاتا ہے.
اور پھر اس دن کی بھرپائی کے لئے کئی دن چاہیے ہوتے ہیں جو ہمیں نہیں مل سکے..
مونا کی دوست کے گھر کوئی تقریب تھی.. میں اسے چھوڑ کر اپنے کام سے نکل گیا تھا.
نور فاطمہ نے اچانک وہاں چھاپا مارنے کی ٹھانی
اور بقول اس کے آج میں نے بیٹی کو میراثن کے روپ میں دیکھا..وہ باجے پر کچھ گارہی تھی
ویسے بھی یہ اسکی دوست کی شادی کا جشن تھا.
نور فاطمہ اس دن میری بیٹی کو گھسیٹ کر لائی تھی..
اور میرے سامنے اسے مارا تھا.
میں نے مونا کو بچاکر اپنے پیچھے چھپالیا تھا. مگر وہ بری طرح ہم دونوں کو کوس رہی تھی.
اور مونا ساری رات دوستوں کے سامنے بے عزتی کے احساس سے روتی رہی تھی.
میں بھی اس کے ساتھ رویا تھا.
اس دن کے بعد مونا نے گھر سے باہر نکلنا چھوڑدیا تھا.
مجھے لگتا تھا میری بچی ہر وقت بے عزتی کے احساس میں دبی رہتی ہے.
میں لاکھ اسکی دلجوئی کرتا وہ مسکراتی تک نہیں تھی.
ان دنوں میری بھی تھیٹر سے توجہ ہٹ گئی دل اچاٹ ہوگیا.. میں مونا کو کسی طرح زندگی کی طرف لانا چاہ رہا تھا.
مگر نور فاطمہ.. کچھ اور طہ کررہی تھی.
اس نے مونا کا رشتہ اپنے رشتہ داروں میں طہ کردیا اور نکاح کی تیاری کرنے لگی
میں نے پرزور احتجاج کیا. مگر مونا کو نہ جانے کیا پڑی تھی کہ ایک روز گھر آیا تو وہ مجھ سے لپٹ کر دھاڑیں مارکر روئی اور نور فاطمہ نے بتایا کہ اس نے اپنے چچا زاد کے بیٹے مولوی مجاہد اختر کے ساتھ اس کا نکاح کرلیا ہے.
مجھ پر جیسے بجلی گرگری تھی..
نکاح.. وہ بھی میری غیر موجودگی میں..
اور مونا نے ہاں کیسے کی.
میں نکاح نامے کے کاغذات پر اسکے دستخط دیکھ کر دنگ رہ گیا.. اس سے لڑا.. اسے برا بھلا کہا
.مگر مونا تو ماں کی بددعاؤں کے ڈرسے ہار مان چکی تھی..
اگلے ہفتے اسکی رخصتی ہوگئی..
نہ اس نے سہیلیوں کو بلوایا نہ گانا بجانا ہوا.. نہ گھر سجا.. نہ میں بیٹی کے لئے کچھ کرسکا..نور فاطمہ نے میری ذہین ترین حساس بیٹی.. ایک کھڑوس فطرت والے مولوی کو باندھ دی..
چند برتن.. چند جوڑے.. کچھ پیسے دے کر مونا کو رخصت کردیا گیا..
اور میں دیکھتا ہی رہ گیا..
یہ صرف مونا کی ہی نہیں.. میری بھی شکست تھی..
کاش نور فاطمہ جیسی عورت میری زندگی میں نہیں آتی..
یا کاش میرے جیسا شخص اسکی زندگی میں نہ آتا.. کاش مونا یا تو پیدا نہ ہوتی.. یا پھر میرے گھر میں نہ پیدا ہوتی.. کاش.. میں مرگیا ہوتا.. اور وہ زندہ ہوتی…

فون لائن دو گھنٹوں کے بعد ساکت ہوگئی تھی.
اور وہ حرف بہ حرف کاغذ پر اتارنے کے لیے بیٹھی تو اس کے آنسو بھی دل کے اندر گرتے رہے تھے.
کہانی تو ابھی اور چلنی تھی.

*********

ہم اپنے بچپنوں کے قصے سنایا کریں گے

********

میں نے بہت انتظار کیا تھا کہ مجھے بہت فرست بھرا وقت ملے تاکہ میں بھی اپنے بچپن کی کہانی کسی کو سنائوں یا پھر کچھ باتیں تو کروں کہ اس طرح میری ماضی کی کچھ یادیں تو تازہ ہوسکتی ہی ہیں ..۔
وہ چائے کی پیالی لیکر بیٹھا تھا اور ایک اس کے لئے بھی لے آیا تھا
ابھی کچھ دیر پہلے ہی
پلیٹ فارم کی گھبراہٹ بھری دوپہر میں جب وہ باہر کے لوگوں سے گھبراکر اندرمسافر خانے میں آ بیٹھی تھی تو
اندر ایک عورت سگرٹ پھونکتے ہوئے اسے گھورنے لگ گئی تھی.
اے چھوکری نئی شادی ہوئی ہے؟
وہ بہت سنبھل کر خاموشی سے بیٹھ گئی تھی..
بھاگ کر آئی ہے؟
وہ اور بیزار ہوئی ان سوالوں سے
چھپارہی ہے.. کمینی کب تک چھپائے گی..
وہ عورت بڑے بے ہنگم انداز میں ہنسی تھی
اور اسے بجائے اس کے کہ غصہ چڑھ جاتا آٹھ کر کھڑی ہوگئی..
کدھر جارہی ہے.. بیٹھ.. چار چار کرلے..
وہ سر جھٹک کر آگے نکل گئی
او چھوکری.. گونگی ہے کیا نگوڑ ماری..
اور وہ کان بچاکر باہر نکل آئی تھی باہر نکل کر ادھر ادھر دیکھا تو جالی دار دیوار کے ساتھ سیمینٹ کے تخت نما اسٹول پر بیٹھا ہوا تھا اور چائے کا مزا لے رہا تھا.
وہ پیر پٹختی ہوئی اس طرف آکر کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی تھی. پاس کچھ فاصلے پر چند لوگ تھے
کچھ بیٹھے.. کچھ پاس سے گزرتے ہوئے اور کچھ اکا دکا پھٹکتے ہوئے لوگ تھے.
اندر سے زیادہ باہر گرمی ہے.. تمہیں اندر بیٹھنا چاہیے تھا.
مجھے کوئی شوق نہیں ہے بے وجہ کی بے تکی باتیں سننے کا..
سننے کا حوصلہ رکھو.. یا پھر نظر انداز کردیا کرو.
بند کرو یہ نصیحتیں.. کوئی اور بات کرو.. یہ بتاؤ ٹکٹ کٹوائیں؟
ہاں کٹوادی ہیں.
مجھ سے پیسے نہیں لئے ؟
اب دوست ہوکر ان چند روپوں کا حساب مت لو مجھ سے..
حساب نہیں لے رہی. بات کررہی ہوں..
پھر ٹھیک ہے.. چائے پیوگی؟
اتنی گرمی میں.. خیر.. اچھی ہے تو لادو..
اچھا لاتا ہوں..
وہ اٹھ کر گیا اور چائے لے آیا.
چائے واقعی اچھی تھی.
تم نے اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا مجھے..
کس بارے میں بتاؤں؟پوچھو
اپنے بارے میں.. اپنے بچپن کے بارے میں.. اور کچھ عرصہ پہلے کے بارے میں..
ہاں.. مجھے بھی شوق تھا.. کہ میں اپنے بچپن کی کہانیاں کسی کو بتاؤں.. دراصل میں اکلوتا تھا..
اباجی اکثر باہر رہتے تھے.. ٹھیکے دار تھے.. طبیعت کے بھی کھڑوس تھے..
ماں بہت خاموش اور صبر والی تھیں.. مجھ سے پیار کرتی تھی.. مگر رہتی کنارے کنارے تھی. مجھے لگتا تھا جیسے وہ خان بوجھ کر ایسا کرتی ہے
مجھے اپنی عادت نہیں ڈالتی.. بیمار بھی بہت رہتی تھی
میری ماں ایک سادہ دیہاتی عورت تھی..کبھی وہ مخفی احساسات کو نہیں سمجھ سکی.. مگر ان دنوں کچھ پراسرار سی لگتی تھی.
مجھے سوجھتا نہیں تھا کہ کیا بات کروں ان کے ساتھ. ایک دو بار میں نے انہیں ہچکیوں سے روتے ہوئے دیکھا تھا.
مگر چاہتا تھا وہ میرے سامنے روئیں.. مجھ سے بات کریں.. مجھے بھی ان سے شکایت تھی. اور میں بھی ان سے کٹ کر رہنے لگا تھا.
ان دنوں بازار سے دور تھڑے پر ایک فقیر آتا تھا.. میں اسکول میں تختی پڑھنے کے بعد اس کی باتیں سننے کے لئے نکل جاتا تھا.
ایک روز اس نے کہا یہ دیکھو.. وہ دیکھو..
اور میں کئی ایسی شکلیں یا پرچھائیاں دیکھتا تھا جو کسی اور بچے کو نظر نہیں آتی تھی.. پہلے پہل میں خوف زدہ سا ہوا خصوصہ ” تنہائی میں اور
میں جب گھر میں ہوتا تب بھی ہر ایک چیز کو کھوجتا رہتا تھا.. مجھے لگتا تھا کہ مجھ پر اس فقیر کی دعا کا اثر ہے کہ مجھے کسی چیز سے اب ڈر نہیں لگے گا
اماں اچانک ہی مرگئ تھیں.. میں اس رات بہت رویا تھا..
بہت جلدی سمجھ آگیا کہ وہ ان دنوں میں مجھ سے دور دور کیوں رہتی تھیں..
چوکی پر بیٹھا کرتی تھیں جہاں.. وہاں جاکر بیٹھ جاتا تھا.
جہاں جہاں اماں بیٹھا کرتی تھیں.. وہاں وہاں جاکر بیٹھتا تھا. وہاں بیٹھ کر دیکھتا تھا اور ماں کو ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگتا تھا.
دل چاہ رہا تھا وہ بھی نظر آئیں مگر نہیں آئیں.. ہر گز نہیں آئیں..
میں نے بالآخر انتظار کرنا چھوڑدیا.
اباجی نے دوسری شادی کرلی..
انہیں دوسرے بچے مل گئے.. میرے دو بھائی ایک بہن.. وہ ان کا بہت خیال رکھتے تھے.
میرا کوئی چاچا ماما نہیں تھا.نہ ہی پھپھی ماسی تھی. ماں بھی اکلوتی.. باپ بھی اکلوتا.. میں بھی اکلوتا..
اباجی کی بیوی نے کبھی میرے ساتھ کوئی برا سلوک نہیں کیا. نہ زیادہ اچھا سلوک کیا..
بس لئے دیے رہتی تھی.. وقت پر کھانا دیتی تھی.
کپڑے دھودیتی تھی.
صبح اٹھادیتی تھی. اور رات کو بستر بچھادیتی تھی..
مجھے توجہ.. محبت اور عنایت کی حسرت ہی رہی..
پھر آہستہ آہستہ زخم بھرنے لگے.
میں نے سیکنڈ ائیر کا پرچہ کلئیر کیا اور آگے پڑھنے کا ارادہ ترک کردیا. مجھے نصاب سے ہٹ کر کتابوں میں دلچسپی تھی.. پھر اباجی نے مجھے شوروم پر کام سیکھنے کے لئے لگایا. اور میں نے دلی سے شوروم میں کام کرتا تھا. رات کو گھر آکر کتاب پڑھتا تھا..
یا پھر ماں کی جگہ پر کام نماز پر بیٹھ جاتا تھا..
مجھے قرار سا آنے لگتا تھا.
میرے بہن بھائیوں کی آپس میں بہت دوستی تھی.
بہن کی اپنی ماموں زاد خالہ زاد بچیوں سے دوستی تھی.. گڑیوں کے ڈھیر تھے اس کے پاس..وہ کبھی کبھار آکر میرے پاس بیٹھ جایا کرتی تھی..
ان دنوں میں اکثر گھر سے شوروم کے بہانے باہر رہنے لگا تھا.بہت دل کرتا تھا کسی کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کروں.
لیکن شوروم میں کام کرنے کے بعد وقت ہی کتنا بچ جاتا ہے جو کسی کو سنا سنایا جائے ,پھر شوروم میں کام کرنے والا ہر آدمی بڑا ہی روکھا اور ناشائستہ سا ہوتا ہے.
اکھڑ اور آوارہ قسم کے تھکے ہارے لوگ جتنے بھی زندگی سے بیزار ہوتے ہیں وہ شوروم پر آجاتے ہیں.. اگر نہیں بھی ہوتے تو شوروم میں آکر ایسے ہوجاتے ہیں..
اکثر کی دیہاڑی اچھی ہوتے ہوتے گھر میں بیویوں کے ساتھ ناچاکی کی تفصیلات بڑھ جاتی ہونگی.
شوروم میں بھی بھلا کوئی زندگی ہوئی۔۔بس ان سب میں ایک ناصر ہی تھا جو مجھے زرا سمجھتا تھا اور جانتا تھا مگر وہ بچارہ بھی جلدی بیگم کو پیارا ہوگیا.
اس کے بعد میں نے کچھ پیسے جمع کئے اور شوروم چھوڑکر چلا گیا.
البتہ شوروم کی مہربانیوں کی بدولت میں نے زندگی میں جب جب بھی جوائن کیا تو مجھے عزت بھری چار دن کی روزی روٹی ضرور ملی ہے.
اباجی کو صرف تب ہی پیسے دیے جب تک وہاں تھا.
اور انہیں میرے پیسوں کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی. انکی ملازمت بھی تھی.. اور زمین بھی تھی جو ان دنوں اچھی آبادی لاتی تھی.. جن سالوں میں نہیں بھی ہوتی تو وہ رینٹ پر چڑھادیتے تھے. اور سالانہ رینٹ اتنا ہوتا تھا کہ ملازمت کو ہٹاکر بھی خرچا پانی ہوسکتا تھا.
اس لئے مجھے انکی فکر نہ تھی اور انہیں شاید میری فکر نہ تھی..اور میں بس گھومنا پھرنا اور کام کرنا ہی پسند کرتا تھا.
میرے ایک بھائی اور بہن کی کم عمری میں شادی ہوگئی تھی. میں بہن کی شادی میں گیا تھا.
تب اباجی نے مجھ سے شادی کی بات کی تو میں نے سختی سے انکار کردیا.
انہوں نے بتایا کہ گھر کے نچلے پورشن میں میری ماں کا کمرہ اب تک میرا ہے
اور میرا ہی رہے گا.
میرے حصے کی زمین کے دو ایکڑ مجھے تب ملیں گے جب میں شادی کروں گا یا گھر آکر آبائی زمین سنبھالوں گا. میرا ایک بھائی وہ زمین سنبھالتا ہے اور ابے کو نپا تلا خرچہ دیتا رہا تھا.
ابے کے مرنے کے بعد سال ڈیڑھ ہوا ہے وہ بھی خود سربراہ ہو بیٹھا ہے.
میں گیا تھا تو میرا کمرہ جوں کا توں تھا..
وہی اماں کا پرانی لکڑی والا پلنگ..
وہی سنگھار میز کا میلا شیشہ..
اور وہی لکڑی کے دروازے میں لگے رنگین شیشے. اور برآمدے میں رکھی اماں جی کی چھوٹی سی صندوق جس میں انکے جہیز کے ایک دو جوڑے اور شادی کی پہلی رات بچھائی گئی مخملی چادر.. اور کچھ کانسی اور اسٹیل کے برتن جوں کے توں تھے.
اور اس صندوق کی چابی اب تک میرے کمرے میں سنگھار میز کے اندر پوشیدہ چھوٹے سے خانے میں رکھی تھی
اور میری سوتیلی ماں نے مجھے ڈانٹا کہ اب اپنی چیزیں خود آکر سنبھال ..میں نے ایک دو چیزیں اپنی بہن کو تحفے کے طور پر بھیجیں جن پر انکی ماں سخت غصہ ہوئیں کہ یہ تمہاری چیزیں ہیں.. اور ہمارے پاس امانت ہیں.
تیرے اباکو کیا منہ دکھاؤں گی.
اور پھر چابی ہی خود چھپائی..
مجھے انکی اس سادگی اور سچائی پر بہت پیار آیا.. اب میں بھلا ان چیزوں کا کیا کروں گا.. مگر انکا یہ انصاف تھا جس نے بہت کچھ بکھیرنے سے بچالیا تھا..
میں بس کام کام اور آوارہ گردی کے چکر میں پڑا رہا ہوں.
شوروم کے علاوہ بھی میں نے کئی طرح کی فرنچائز پر کام کئے ہیں.. مگر شوروم میں کام کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ مجھے خراب گاڑیاں ٹھیک کرنا آگئیں تھیں..
سفر جو پہلے پہل میں مختلف قسم کی بائیک یا رکشہ تانگہ میں کرلیا کرتا تھا.. جن میں بائیک کے سفر نے میرا بہت ساتھ دیا.. جگاڑے کی بائیک بھی چل جاتی تھی.. اور پر پرزے بدلنا اور کھٹارا گاڑیوں کو ساتھ رکھنے اور ان سے کام چلانے کا ماہر تھا.. مگر یقین جانو سعدیہ نورعین کہ جب میں نے ریلوں میں سفر کیا تو وہ سفر سب سے زیادہ آسودہ تھا.
آپ کھٹارہ بائیک کے خراب ہونے کی فکر سے بے فکر ہوکر سفر کی آسودگی اور مزے کا عالم ہے کہ آپ تمام سواریوں کو پیچھے چھوڑدیں..
ہاں بس عالین افتخار حیدر کی طرح میں نے کبھی جہاز میں سفر نہیں کیا.
عالین حیدر.. تم اسے جانتے ہو؟
وہ پہلی بار چونکی تھی..
ہاں.. اور تم بھی اسے جانتی ہو؟مجھے خدا جانے کیوں تمہاری اس سے کوئی مانوسیت محسوس ہوئی تھی.
ہاں.. وہ میری دوست تھی.. میں کالج میں اسکے ساتھ تھی.. اس کے بعد وہ کئی بار میرے کام آئی.. اس نے یونیورسٹی جوائن کی.. میں نے پرائیویٹ پڑھا تھا.
مگر اس نے کبھی کسی مشکل میں میرا ساتھ نہیں چھوڑا تھا.
عالین حیدر بہت, بہت اچھی انسان ہے.. مگر اس نے کبھی تمہارا زکر تو نہیں کیا تھا مجدد ثانی..
ہماری کچھ سال پہلے ایک ریل کے سفر میں ملاقات ہوئی تھی..
وہ صرف ایک ملاقات تھی.
مگر مجھے معلوم ہے کہ میں بھی اسے یاد رہتا ہوں گا.. اس نے کہا تھا وہ میرا انٹرویو بھی کرے گی.. کسی میگزین میں جاب کرتی تھی.. اور کسی تھیٹر ڈائریکٹر کے انٹرویو کے لئے جارہی تھی.
میں بچوں سے قوت اور پرچھائیوں کے بارے میں بات کررہا تھا اور اس نے مجھے جھڑک دیا کہ ایسی باتیں مت کرو…بچوں کو ڈراپ بچانا چاہ رہی تھی. حالانکہ میرا خیال تھا کہ بچوں کو بچانا اور بتانا دو الگ باتیں ہیں.. میں انہیں بتانا چاہ رہا تھا کہ ایک ہزار کے مجمعے میں سوا کا مجموعہ ہوتا ہے.
عالین ایسی ہی ہے.. وہ کسی سے نہیں ڈرتی.. وہ شاید تم سے اس پر بات کرتی اگر بچوں کی موجودگی نہ ہوتی.
اس نے مجھ سے بات کی تھی.. مگر زرا مختصر سی بات تھی.. وہ.. اس کے بعد کیا ہوا.. وہ کہاں گم ہوئی نہیں معلوم..
تمہیں پتہ ہوگا؟
چار سال پہلے اس کے والد کا ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا تھا.
اور اس کا بھائی شاید باہر تھا شوہر کے بعد آنٹی وہاں چلی گئیں تو اسے بھی ساتھ لے گئیں.. اس کے بعد کوئی ایک مرتبہ ہی بات ہوئی تھی.
میرا نمبر بھی بدل گیا تھا..
اسکے بعد نہیں معلوم.. کہ وہ کیسی تھی.. کس حال میں تھی.
یقینا” بہتر ہوگی.. مگر وہ اپنے باپ سے بہت پیار کرتی تھی..
مجھے یاد تھا جب میری دادی فوت ہوئی تھی تو عالین نے مجھے سنبھالا تھا.
مجھے حوصلہ دیا.. زبردستی کچھ پیسے دئیے اور ڈھیر ساری تسلیاں دیں تھیں..
اس کے بعد وہ اس سیزن میں میرے لئے ضرورت کی اہم چیزیں اور کپڑے لے آئی تھی.
میرے بہت انکار کے بعد جب اس نے میری الماری میں وہ چیزیں زبردستی رکھیں تو میں نے اسے کہا کہ میں ابھی یہ رکھ لیتی ہوں مگر آئندہ میری مدد کرنے کے بجائے مجھے کہیں کام دلانے کا سوچنا.. مجھے اب بس تمہاری مدد اسی صورت چاہیے..
تم میری دوست ہو مگر مجھے بھیک کا عادی مت بناؤ.
اور اس کے بعد یہ ہوا کہ اس نے کئی جگہوں پر میرے لیے کام ڈھونڈے.. مجھے نرسنگ کا کورس مختصر وقت میں کروایا اور وہاں اپنے بے ہاف پر کام دلوایا.
اسکے بعد ہی مجھے مستقیم ملا تھا..
مستقیم..
یہ نام بھی سنا سنا لگ رہا تھا.. ہاں شاید میں نے اسے پروفیسر سالس کے ہاں دیکھا تھا.
اففف تم اسے بھی جانتے ہو.. واہ..
ہاں دراصل وہ اسکا استاد تھا..مستقیم نے انکے ہاں ٹیوشنز کلاسز لی تھیں.. مگر ان دنوں وہ ان سے خفا ہوگیا تھا..
اچھا.. ویسے میں بھی ان سے کافی فاصلے پر ہوگیا تھا.. اور بہت جلدی.. پتہ نہیں کیوں..
میرے وہ استاد نہ تھے کسی جاننے والے کے توسط سے ملے تھے.. اور باتیں بڑی دلنشین کرتے تھے.
وہ مجھ سے صرف میرے تجربے پوچھتے رہتے تھے..
مجھے لگا وہ کسی سے نالج یا پاور کھینچ کر پھر جب وہ بیکار ہوجاتا ہے تو چھوڑدیتے ہیں.
یا بے دل ہوجاتے ہیں.
اس سے پہلے کہ وہ میری پہیلیاں بوجھتے تب تک میں ان سے دور ہوگیا تھا.. پھر میں فقط سفر کا رہا..
اور سفر میرے بس کا..
اور مجھے اس سفر سے بہت کچھ ملا.. بہت کچھ کئ پرچھائیاں.. کئی درد بھرے افراد کے دکھ جن کو میں نے خواب میں دیکھا تھا.. اور پھر کبھی کبھار انکی آواز یا بھنبھناہٹ مجھے حقیقت میں بھی سنائی دیتی تھی.. میرے لئے یہ سب عام تھا.. اور اب میں نے توجہ دینا چھوڑدی ہے
مجھے اب انسانوں میں زیادہ دلچسپی ہے.. جب سے مجھے عالین نظر آئی.. اور پھر تم…جو میری دوست بن گئی ہو.. اور مجھے ابھی تک مستقیم کے بارے میں نہیں بتایا.. کیونکہ ہم نے شاید کم وقت گزارا ہے..
ابھی ایک دو سفر شاید ہمارے اکٹھے گزریں..
چلو مسافر خانے کی دیواروں کو گڈ بائے کہیں.. اور ہماری ٹرین میں بس چند منٹ ہیں.. تب تک ہم دوسری گرم پیالی چائے لے لیتے ہیں باہر بینچ پر چل کر بیٹھتے ہیں..
موسم کچھ بہتر ہے
ایک کام کرو.. مجھے چائے کے ساتھ نان خطائیاں بھی کھلاؤ میں دیکھ رہی تھی اس کیبن کے شیشے سے وہ گرم گرم پراٹھوں کے ساتھ بہت سارے لوگ خرید رہے تھے..
میں اس وقت عورت کی بات پر غصے میں تھی.
مگر پیسے مجھ سے لو.. پھر چاہے مجھے دے دینا..
اس نے دوپٹے کے پلو میں بندھے کچھ چرمرائے ہوئے نوٹ اسے تھمائے تھے.
وہ اس کی بات پر مسکراتے ہوئے نوٹ پکڑ کر کیبن کی طرف چلا گیا تھا.
اور وہ تھیلے کی گٹھڑی سی بناکر پاس گرد سے اسی طرح بے خبر دی بیٹھی رہی تھی.
آج شام تک انہوں نے نان خطائیوں کے ساتھ چائے کی دوسری پیالی پی.. اور ریل کے آتے ہی پہلی جست میں وہ اپنی گٹھڑی لیکر آمنے سامنے والی دو سیٹوں میں سے ایک پر جا بیٹھی اور ایک پر مجدد آ بیٹھا تھا.
ریل سرکنے لگی تھی.. اور چنگھاڑ بڑھی تو سب کی سماعتیں مصروف ہونے کے ساتھ ساتھ کھڑکیوں سے جھانکتی ہوئی آنکھوں میں دھیان کھونے لگے.
اور مجدد نے دیکھا اسکی انسان دوست لڑکی سعدیہ نورعین بظاہر تو یہاں تھی. مگر اندر کی آنکھ سے وہ کچھ اور دیکھ رہی تھی..
کچھ اور سوچ رہی تھی.
اور کچھ اور ہی سمجھنے بیٹھی تھی.. شاید ماضی سے ہی کچھ مستعار لیکر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ درآئی تھی
تھکی ہوئی اور سوچتی ہوئی.
————–

خدا سے ناراض لوگوں کی کہانیاں
********

یہ ان نوجوانوں کی کہانیاں ہیں
جو اپنے دور میں خدا سے ناراض رہے ہیں,
اس نے کتاب پر عبارت پڑھتے ہی ہاتھ میں اٹھالی تھی.. اسی عنوان پر اسے یاد آیا کہ اس نے بھی کچھ لکھا تھا.
کتاب پر مصنف کا نام سالس کاشمیری پڑھ کر اسکی حیرت کو بڑھاوا ملا..
اس نے جلدی جلدی صفحات پلٹے اور فہرست چیک کی دوسرے چیپٹر کے چوتھے نمبر پر مستقیم کا نام درج تھا.
اس کا دل دہل سا گیا.. تو کیا واقعی مستقیم نہیں رہا..
وہ ابھی کچھ روز پہلے تو التمش کو کہہ آئی تھی کہ وہ زندہ ہوگا.
جس کا سراغ نہیں ملتا وہ زندہ ہوتا ہے.
مگر یہاں پر سالس کاشمیری نے اسکی خودکشی کی تصدیق کردی تھی..
انہیں بس کوئی نہ کوئی شوشہ چاہیے ہے.. بڑی بات یہ کہ یہ کتاب پندرہ دن پہلے مارکٹ میں آئی ہے.
اس نے فہرست کی دوسری شخصیات پر نظر ڈالی
ایک چیپٹر میں مشہور اداکار, گلوکار,شاعر,تھے جنہوں نے زندگی کے کسی حصے میں آکر موت کو خود چنا تھا
اور دوسرے چیپٹر میں چند وہ لوگ تھے جو بظاہر شہرت کی کسی بلندی پر نہیں تھے مگر اپنی اپنی زندگی سے ہاتھ دھودینے کے بعد توجہ کا باعث بن گئے تھے .
مستقیم کی موت کی تصدیق کی سب سے بڑی وجہ کیا ہوسکتی ہے..
ہوسکتا ہے سعدیہ کے لئے یہ خبر بہت تکلیف کا باعث بنے.. مگر نہیں.. اسے تو یقین آگیا تھا وہ مرچکا ہے
مگر پھر وہ سارے لمحے.. کاش سعدیہ ٹھیک ہو..
وہ کتاب کی ادائیگی کاؤنٹر پر کرکے باہر نکل آئی.. گھر بس گھنٹے سوا بھر کی دوری پر تھا مگر اسے لگا کہ اس سے فی الحال ڈرائیونگ نہیں ہوسکے گی..
اس لئے گاڑی بک شاپ کے احاطے سے ہٹاکر پیٹرول پمپ کے ساتھ ملحقہ سڑک کے پاس جہاں کوئی بلڈنگ ادھوری بنی تھی .

اور گیلے سیمنٹ سے کچھ فاصلے پر اینٹوں اور پتھروں کا ڈھیر تھا.. ساتھ میں پتھریلی چھوٹے قد کی دیوار مین روڈ کے کنارے فٹ پاتھ کی طرح کچھ حصے پر موٹی لکیر کی صورت بنی ہوئی تھی..
اس نے گاڑی اس دیوار کے پاس جاکر روکی
اور ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر چند گھونٹ لینے کے بعد التمش کو فون کیا.. وہ چاہتی تھی کہ وہ جان سکے کہ اس کتاب کے متعلق وہ کتنا جانتے ہیں.
پہلی بیل پر انہوں نے فون اٹھایا تھا تو اس نے مروت سے ہی نورفاطمہ کی طبیعت کا پوچھنا ضروری سمجھا..
وہٰٰ بس ویسی ہی ہے عالین.. زرا میری نہیں سنتی..
بس اسے انتظار ہے تو زیب کا.. کتنا سمجھاچکا ہوں اسے مگر…. علم دیا جاسکتا ہے مگر فیض خود سے نہیں دیا جاسکتا.. حالانکہ میں اسے کہہ بھی چکا ہوں.. کہ جو چیز جس کے نصیب کی ہوتی ہے.
وہ اسے مل کر رہتی ہے.. خیر.. اب اللہ کی مرضی..
تم. یہ بتاؤ خیریت سے ہو نہ؟
میں خیریت سے ہوں سر.. بس سوچا آپکی خیر خبر لے لوں..
ہاں ضرور اور ہمارے سیشن کا بھی ایک دو حصہ رہتا ہے..
جی بالکل خصوصہ” مونا کی کہانی..اور مستقیم.. مجھے لگتا ہے ہم نے اسکے بارے میں بہت کم بات کی ہے.
ہاں تم ٹھیک کہتی ہو.. مگر میرے خیال سے ہم رات میں بات کریں تو بہتر ہے..ویسے میں نے مونا کی بقیہ کہانی تمہیں اس سے اگلے دن میل کردی تھی..
عالین.. وہ پڑھ کر مجھ سے اسکے متعلق کوئی بات نہ کرنا.. کیونکہ میں دوبارہ اپنے اندر اسی نفرت کو پھلتا پھولتا ہوا محسوس کرتا ہوں.. جو کبھی مجھے نور فاطمہ کے ساتھ محسوس ہوتی تھی.پھر ایک مرتے ہوئے انسان سے نفرت کرکے میں کیا کرلوں گا..
اور پھر میں نے بہت دور سے ایک ڈاکٹر دوست کو بلایا ہے نور فاطمہ کے چیک اپ کے لئے, اور وہ پہنچتے ہی ہونگے.
ٹھیک ہے.. آپ انہیں وقت دیں.. ہم رات کو بات کرتے ہیں
تب تک ایسا ہے کہ میں گھر بھی پہنچ جاؤں گی.
بالکل ٹھیک ہے.. سنو.. عالین.. بیٹے..
دیکھو تم بہادر ہو.. مگر ایک بات مانو میری.. کوئی لمبا سفر اکیلے مت کیا کرو..
دیکھو ہمارا معاشرہ اب تک اس نہج پہ نہیں پہنچا.. کئی دکتیں پیش ہوتی ہیں..
تم سمجھ رہی ہو نہ.. برا تو نہیں مانوگی؟
ہرگز نہیں.. برا نہیں مانوں گی مگر مونا کو اتنا اعتماد دینے والے باپ اتنے خوف زدہ کیوں رہنے لگے ہیں؟
بس سمجھو عمر کا تکاذہ ہے.. وہ کہتے ہوئے خود ہی ہنس پڑے..
چلیں آپ انکے پاس جائیں.. میں بھی چلوں..
چلو ٹھیک ہے رات کو ملتے ہیں.. فون پر.
انہوں نے بائے کہہ کر فون رکھ دیا تھا.اور لمبی سانس چھوڑدی..
اور اس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے آگے جاکر یوٹرن لینے کا سوچا.
کیونکہ اب اسکی گاڑی کا رخ سیدھے سالس کاشمیری کے گھر کی طرف ہونا تھا!
جاری ہے

—————

2 Comments

Comments are closed.