تعبیر______صوفیہ کاشف

چلو تقدیر کے خالی صفحے پر

مل کر وہ کہانی لکھ دیں

کسی مصنف کی حکایت میں

جو آج تک اتری نہ ہو!

ذندگی کے بے رنگ کینوس پر

رنگوں کی وہ دھنک بکھیریں

کہ جس کی آرزو میں مصور

گھنٹوں عکس سامنے رکھے

برش تھامے بیٹھے رہے ہوں

اور ناکام رہے ہوں!

آس کی دھن سے ایسی لے بکھیریں

کسی ساز کے سرگم میں آج تک نہ لہکی ہو!

وہ خوشبو،وہ رنگ،وہ تاثیر

جو تخلیق کاروں کے ہر دفتر سے

آج تک روٹھی رہی ہو!

چلو حقیقت کے آئینے میں

آج تصویر بن کر اتر چلیں

بکھرے خوابوں کی دھند سے نکلیں

اور تعبیر ہو کر نکھر چلیں!

__________________

کلام٫فوٹوگرافی،کورڈیزائن:

صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.