”ایلے سارینا “ _________ثروت نجیب٫ کابل٫ افغانستان

تحریر:ثروت نجیب

کورڈیزائن: صوفیہ کاشف

_______________

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”شمپئین کا ہر گھونٹ معشوقہ کے بوسے کی طرح ہوتا ہے ـ “
یہ کہتے ہی اس نے کانچ کا لاجوردی منقش جام لبوں سے لگایا ـ
سارینا ــ ـ ـ ـ ـ سا ری ی ی ی ی نا ـ سارینا ا ا ا ا ـ سارینا
جام سےمرتعش آواز گونجتے گونجتے ایک اپسرائی شبیہہ میں ڈھل گئی ـ شاخہِ گل کی طرح لچکیلی ‘ خوش گِل و خوش گلو ‘ کبودی آنکھوں والی ‘ زیبا ترین و شیک ‘ یونانی ناک ‘ مرسل کی پنکھڑیوں جیسے نفیس لب’ جامِ ساعت نما جیسا اندام‘ کولہوں سے نیچے تک لہراتی تیرہ زلفیں ـ وہ جب دائرے میں جھومتی تو گیسو تار تار ہو کر اس کے سر کے چاروں طرف بکھر جاتے ـ اس کے دائیں ہاتھ میں دف تھا جسے وہ بائیں انگلیوں سے بجا رہی تھی ـ اس کے ہونٹ مسلسل ہل رہے تھے ـ وہ عشقیہ گیت گا رہی تھی جس کی آواز مدھم ہو جاتی اور کبھی بالکل خاموش ـ بس اس کے مسکراتے لب ہلتے دیکھائی دیتے ـ اس کا لباس متحیر کرنے والا آرٹ تھا ـ ایسا لگتا جیسے سنہری افشاں اس کے سینے پہ قرینے سے چھڑکی ہوئی ہو ـ جس کی درخشش سے آنکھیں خیرہ ہونے لگتیں ـ اس کی عریاں کمر پہ طلائی کمربند بندھا تھا ـ اس نے سیاہ جھملاتے تاروں والا جالی دار دامن پہنا ہوا تھا ـ سنہری گھنگھروں سے سجے پاؤں مخملیں قالین پہ ادائے دلربائی سے تھرک رہے تھے ـ وہ حسینہ عطریات میں رچی ہوئی تازہ کلی کی مانند تھی ـ
وہ اپنی جھولنے والی کرسی پہ بیٹھا اس معمے کو دیکھ دیکھ حیران ہو رہا تھا ـ
زینا رقص کرتے کرتے جب اس کے انتہائی قریب آتی تو اسے یوں محسوس ہوتا جیسے اس کی ہوا میں تیرتی زلفیں اس کے چہرے سے ٹکرا جائیں گی مگر ایسا نہ ہوتا ـ رقاصہ کے بال اس کے قدموں سے تیز جھومر ڈالتے اُس کے چہرے کو روشنی کی طرح مس کرتے گزر جاتے اور اُسے احساس تک نہ ہوتا ـ
سارینا ــــ سارینا ـــ پس منظر میں کسی نوجوان لڑکے کی درد بھری صدا ایلے کو سنائی دیتی ـ
وہ اس رات بھی دیر تک اس اپسرا کو دیکھتا دیکھتا نجانے کب سو گیا ـ
صبح حماسہ نے دروازہ کھولا تو ایلے گٹار گود میں لیے اپنی جھولنے والی کرسی پہ سو رہا تھا ـ
سامنے میز پہ بہت سے کاغذ بکھرے پڑے تھے ـ شمپئن کی بوتل اور لاجوردی جام ـ
حماسہ نے اسے پکارا ــــ
“ایلے ایلے ــــ”
وہ جاگتے ہی آنکھیں ملنے لگا ـ گھڑی کو دیکھتے ہی کرسی سے اٹھا اور کہا!
مما بہت دیر ہوگئی ــــ
حماسہ اسے دیکھتی رہ گئی اور وہ جلدی جلدی ہاتھ منہ دھو کر ‘ کپڑے بدل کے چرمی بیگ میں گٹار پیک کر کے کندھے پہ لٹکائے کمرے سے نکل گیا ـ
حماسہ جانتی تھی ـ اس کا ناشتہ ایک تلخ espresso کا چھوٹا سا کپ ہوگا جو وہ حلق میں انڈیل کر خود کو بیدار رکھنے کی کوشش کرے گا ـ
ایلے ـ ـ ـ ـ مانو تو سات سروں کا سرگم ‘ شربتی مخمور آنکھیں ‘مہین لب ‘ گندم گوں رنگت ‘ اس کے خاکستری بال اس کے شانوں پہ مچلتے رہتے ـ کبھی وہ سسلی کے ساحل جیسا پرسکون تو کبھی میلانو کے ہنگام جیسا شوخ و شنگ ‘ عجیب متلون مزاج اور نمکین لڑکا تھا ـ وہ شاعری کرتا تو جیسے لفظ قوس و قزح سے رنگین اس کے چاروں اور پھیل جاتے ـ ساز بجاتا تو وہی رنگ رنگیں کمان سے اتر کر گِٹار کی تاروں پہ سدھائی ہوئی بلبلوں کی مانند بیٹھ جاتے ـ وہ جب فارسی بولتا تو لگتا مصری کی ڈلی منہ میں دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے اور اطالوی اس کی زبان سے ادا ہوتی جیسے پہاڑی دریا میں اچانک ٹھہراؤ آگیا ہو ـ اسے اپنے والد سے انسیت تھی یا نہیں مگر اطالوی ہونے پہ فخر تھا ـ وہ اکثر رات گئے اپنی بالکونی میں بیٹھ کر پسندیدہ گانے کی دھن بجاتا ـــ
‏Lasciatemi cantare
‏con la chitarra in mano
‏sono l’italiano
(مجھے گیت گانے دو’ ہاتھوں میں گٹار لیے ـ کیونکہ میں ایک اطالوی ہوں)
اطالیہ جہاں گھروں کی لٹکتی بیلوں سے سجی بالکونیاں جن پہ حیسناؤں کی ٹِکی کہنیاں شاموں میں شاندار رنگ گھولتی ہیں ـ جہاں فٹ بال اور فراری کے عاشق ‘ لڑکیوں سے فلرٹ کرتے ہیں ـ سلجھے ہوئے بالوں والے لڑکے گہرے چشمے لگائے دھندے کی باتیں کرتے ہیں ـ فیشن پرستوں کی جنت ‘ مصوروں کی منزل گاہ ‘ مہاجروں کا مسکن ـ وہ دل پہ ہاتھ رکھ کر کہتا میرا اطالیہ ـ جہاں ہم پاستا میں پیستو ساس ملا کر کھاتے ہیں ـ اور ٹماٹروں کا پیزا بناتے ہیں ـ باقی ھم وطنوں کی طرح اسے بھی سترہ کے ہندسے سے چڑ تھی ـ
اور جب وہ گاتا
‏buongiorno Dio
‏lo sai che ci sono anch’io
(صبح بخیر خدا ! تم تو جانتے ہو میں بھی یہاں ہوں)
تو اس کی آنکھیں نم ہو جاتیں ـَ خدا سے بہتر اس کے آنسوؤں کی وجہ اور کون سمجھ سکتا تھا ـ
حماسہ اکثر سوچتی ـ
وائے قسمت ! وہ بیٹے کو کیا بنانا چاہتی تھی اور ایلے کیا بن گیا ـ گو کہ ایلے نے کم عمری میں بہت پیسہ کمانا شروع کیا ـ وہ اشتہارات کے لیے شاعری کرتا اور دھنیں بجاتا مگر حماسہ اس دن کو کوستی جب وہ ایک اطالوی کی محبت میں گرفتار ہوگئی تھی ـ فرانچیسکو خوبرو اور خوش گفتار لڑکا تھا پر بلا کا لاپرواہ ـ دونوں نے مذہبی اختلاف اور والدین کی رضامندی کے بغیر شادی کر لی ـ فرانچیکسو رنگین مزاج تھا جبکہ حماسہ سنجیدہ و متین ـ یہ رشتہ چودہ سال چلا ـ حماسہ اکثر سوچتی اگر ماریہ درمیان میں نہ بھی آتی تو تب بھی یہ کہانی سمجھو ختم ہی تھی ـ ماریہ نے تو ایک جراح کی طرح اس کی کٹی ہوئی لٹکتی انگلی مکمل کاٹ کر اسے روز روز کی اذیت سے نجات دے دی تھی ـ ادھوری محبتیں اپاہج رشتوں کو جنم دیتی ہیں ـ محض میلان کو مکمل محبت مان کر رشتے میں بندھنے والے احمق ہوتے ہیں ـ یہ پہلے ابلہی بعد از آں پشیمانی کے گھن چکر میں پستے رہتے ہیں ـ
حماسہ بیٹے کو لیے والدین کے گھر آ گئی ـ جہاں ایلے کو اس کے نانا کا کمرہ دیا گیا ـ ایلے کے نانا نسلاً تاجیک تھے ـ کئی دھائیاں قبل اٹلی آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گے ـ وہ نوادرات کی تجارت کرتے تھے ـ مشرقِ وسطیٰ سے سامان خرید کر اٹلی لا کر بیچ دیتے ـ جن میں قالین ‘ گلیم ‘ قیمتی پتھر ‘ سمرقند و بخارا کا اطلس ‘ استالیف کے ظروف ‘ ازبکی چپن ‘ چاندی کی طشتریاں ‘ شمع دان ‘ داوتیں ‘ سرمہ دان جبکہ چوب و سنگ کے مجسمے ‘فر کی پوستنیں ‘ کندھاری بانسریاں و رباب ‘ ھزارگئی طنبور ایرانی ستار و سنتور ‘ منقش بازو بند ‘ ابریشم ‘ پارچہ ھائ دستباف ‘ نمدے ‘ چرمی کیسہ پول ‘ شراب کے جام اور نجانے کیا کچھ ہوتا ـ ان کے گزر جانے کے بعد بےشمار نوادرات بھی ان کی اکلوتی اولاد کی طرح یتیم ہو گئے ـ نودارات بیچنے سے ایلے کو بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی البتہ وہ انھیں سجا سجا کر رکھتا تھا ـ وہ فطرتاً ایک آرٹسٹ تھا ـ ہر نفیس چیز پہ اس کا دل آ جاتا ـــ جِسے دیکھتے ہی فوراً بولتا ” mamma mia” ــــ ـ
لاجوردی گلاس کا سیٹ جب اس کی نانی نے ایلے کو اس کی انیسویں سالگرہ پہ تحفہ دیا تو وہ اس کی منقش مینا کاری دیکھ کر خوش ہو گیا ـ
بےساختہ اس کے منہ سے نکلا !
” بیلو ــــــ خیلی قشنگ ‘ خیلی زیبا“
ویسے تو ایلے کا اصلی نام علی لوکاشو تھا مگر سکول میں علی سے بگڑ کر ایلے بن گیاـ اور یوں اسے سوائے نانی کے کوئی بھی علی کے نام سے اب نہیں پکارتا تھا ـ اس کی نانی قدرے مذہبی تھیں ـ جب وہ نوروز مناتیں تو ایلے اس کے ساتھ ہی میز سجاتا ـ رنگین مچھلیاں لاتا اور سیب رکھتا ـ سرکے کی جگہ وہ شراب کا جام رکھنے کی کوشش میں ہر بار ناکام ہی رہتا اور نانی جیت جاتی ـ وہ اپنے باپ کی طرح لادین تو نہیں تھا مگر مذہب سے وہ لگاو بھی نہ تھا ـ ”ـ وہ بانکا ‘ الہڑ ‘ ہوا کا ھمسفر بس اپنی دھن میں رہتا ـ
پچھلے کچھ عرصے سے اس کو عجیب سے چہرے دیکھائی دینے لگے تھے ـ نامعلوم سے لوگ ‘ بیگانی آوازیں ــــ
ویسے تو وہ بظاہر چھ چہرے تھے یعنی چھ کردار ـ مگر ان کے پیچھے جیسے چھ جنموں کی کہانی تھی جو کئی المیوں کے ساتھ چھ لاکھ خدشات کو جنم دے چکی تھی ـ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
” سنو! وہ ایک جوان سال لڑکا تھا ـ ارگرد عمارتوں کے لمبے لمبے سائے’ دوپہر کا وقت تھا وہ ایک تنگ گلی میں بدحواس بھاگ رہا تھا ـ اس کے سر کے پچھلی جانب سے خون بہہ رہا تھا ـ وہ سر پہ ہاتھ رکھے لہولہان زرد چوبی دروازے پہ آ کر دھڑام سے گرا اور جیسے وہیں دم توڑ دیا ـ“
اس نے اپنی دوست میا کو بتایا تو اس نے ہنس کر کہا!
” یہ سب تمھارا وہم ہے ـ مگر یہ ہنسی دراصل ایلے کا دھیان بانٹنے کے لیے تھی ـ
وہ ہر دفعہ اسے ایک نئی کہانی سناتا جس کا انجام موت پہ ختم ہوتا ـ
کبھی اُس کمان جیسی تنی آبروؤں والی مالدار عورت کی جس کی انگلیوں میں زمرد و عقیق کی جڑاؤ نقرئی انگوٹھیاں تھیں ـ اس کا منہ کھلا ہوا ہوتا ہے ـ سینے میں ایک بڑا شگاف اس کے حسن کو گہنا رہا ہوتا ہے ـ جیسے موت انتہائی بھیانک روپ میں اچانک اس کے سامنے آئی ہو ـ
کبھی ایلے زکر کرتا اس بچی کا جو سٹاپو کی لکیروں پہ بےجان اوندھی پڑی ہوتی ہے ـ اس کا سفید فراک خون کے دھبوں سے بھدا لگ رہا ہوتا ہے ـ اس کے بھورے بالوں سے خون رس رہا ہوتا ہے ـ اردگرد مردہ بچوں کی دھندلی لاشیں بکھری پڑی ہوتی ہیں ـ ان کی وضعیت سے لگتا ہے وہ کھیلتے کھیلتے ہی مر گئے ـ
سلیٹی بالوں والا وہ پختہ سن آدمی بھی جس کی انگلی اس کے مرنے کے بعد بھی ایک ننھے لڑکے نے تھام رکھی ہوتی ہے ـ بچہ خوف سے ساکت دوزانو لاش پہ تنہا گریہ کر رہا ہوتا ہے ـ
اور چھلنی چھلنی ایک ادیب جس کے سرہانے کتابیں پڑیں تھیں ـ
سھمگین ـــ۔ ۔۔
”ایلے کو علاج کی سخت ضرورت ہے جبکہ ایلے اسے بیماری ماننے سے انکاری ہے ـ اسے لگتا ہےیہ کہانیاں کچھ الجھے روحانی اسرار ہیں ـ مگر کیسے اسرار ؟ وہ خود نہیں جانتا ـ“
میا نے حماسہ کو ایلے کی کیفیات بتائیں تو
حماسہ کی آنکھیں حیرانی سے پھیل گئیں اور اس نے میا سے پوچھا؟
کیا وہ پھر سے روحیں بلانے لگا ہے؟
میا نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا!
” نہیں نہیں ‘ اب وہ ایسی باتوں پہ یقین نہیں رکھتا “
حماسہ بےتابی سے انگلیاں چٹخانے لگی ـــ اففف ایلے ـ ـ ـ
میرا پیارا بیٹا ایلے ‘ قربان ــــ
وہ سوچتے سوچتے بولی!
ہو سکتا ذیادہ مے نوشی کا اثر ہو؟
ایکبار پھر میا نے یہ امکان رد کرتے ہوئے کہا ـ ناممکن اس نے کبھی اتنی مقدار میں مے نوشی کی ہی نہیں کہ اس کا سر چکرانے لگے ـ وہ تو بس چند گھونٹ بھرتا ہے خود کو تازہ دم رکھنے کے لیے ـ
ماؤں کے سینے میں اولاد کے دل دھڑکتے ہیں ـ اور ان کا اپنا دل اولاد کی مٹھی میں ہوتا ہےـ
ـ
اس رات حماسہ نے ایلے سے اس بابت سوال کئے تو جیسے ایلے کی دیرینہ مراد پوری ہو گئی ہو ـ جیسے وہ چاہتا ہو کہ مادر جان اس سے خود پوچھے جسے کہنے کی وہ ہمت نہیں جٹا پا رہا تھا ـ
ماں نے صاف انکار کر دیا ـ میں پھر بھی وہاں جاؤں گا جہاں سے یہ جام آئے ـ
حماسہ کو یہ بھی ڈر تھا کہ ذیادہ سختی کی صورت میں کہیں ایلے بھی اپنے دوستوں کی طرح گھر نہ چھوڑ دے ـ اس لیے اس نے دلیل کا سہارا لیا
حماسہ نے بہت پیار سے کہا!
وہاں زندگی ‘حادثات کے پنڈولم پہ جھولتی ہے اور موت مگر مچھوں کی طرح منہ کھولے لپکنے کو تیار ہوتی ہے ـ
ایلے مسکرایا!
جہاں زندگی حادثات کے پنڈولم پہ جھولتی ہو ‘ وہاں معجزے بھی ہوتے ہیں ـ
حماسہ جھلائی ـــ
پر کیا ضرورت ہے؟
ایلے نے وثوق سے کہا!
ضرورت ہے ‘
سر بستہ رازوں کو نہ کھوجنے والے اپنی نسل کے کاندھوں پہ چہ مگوئیاں چھوڑ جاتے ہیں ـ جن کی سرگوشیاں ساری زندگی سینوں میں گونجتی رہتی ہیں ـ “
یہ کہتے ہی وہ اٹھا اور نانی کے کمرے کی جانب گیا ـ
مادر کلان کیا میں پدر کلان کا وہ صندوق دیکھ سکتا ہوں جس میں یہ جام تھے ـ
نانی نے حیرانی سے ہامی بھرتے ہوئے کہا!
”ہاں ضرور!
پر اس میں تو اس کے چند کپڑے ‘ عطر ‘ تسبیحاں کچھ دستاویزات ‘ مکان کے کاغذات اور ــــ “
ایلے بولا ارے نہیں نہیں میں بس کچھ دیکھنا چاہتا ہوں ـ
نانی پھر سوچتے ہوئے بولی!
مرقع ‘ البوم ــــ
وہ الجھتے ہوئے بولا
”مادر کلان ـــ اگر دستِ شما درد نکیند ــــ “
ایلے چابی ملتے ہی کچھ کھوجنے لگا ـ پر اسے کچھ بھی ایسا نہ ملا جو اس گلاسوں کے متعلق ہوتا ـ
البتہ نانا کے دوست کے گھر کا پتہ ضرور ملا ـ
ایلے مایوس ہو کر ایک پان بروکر کے پاس گیا ـ پان بروکر نے ان گلاسوں کے متعلق مکمل تفصیل سے آگاہ کیا ـ
اگلے دن ایلے روم کی گلیوں میں پاکستان کی ایمبیسی ڈھونڈ رہا تھا ـ
ــــــــ ــــــ ــــــــ ــــ ـــ ــــــــــ ــــــــــ ـــــــ ـــــــ
ایلے لوکل ویگن میں بیٹھا مشرق وسطیٰ کے قدیم باشندوں کے ساتھ سفر کر رہا تھا ـ جن کی پگڑیوں کے شملے اونچے اور بل دار تھے ـ ان کے چہرے سپاٹ اور ماتھے پہ تنوع تھا ـ وہ پشاور سے ہوتے ہوئے براستہ طورخم ایک انوکھے سفر پہ رواں تھا ـ وہ دروں سے گزرتا ‘صحرا عبور کرتا ‘ کھنڈرات نما شہروں کی ہیبت سے لرزتا آگے بڑھ رہا تھا ـ ان دنوں کندھار اور پکتیا میں امریکی بمباری کا زور اب ٹوٹ رہا تھا ـ لوگ عفریت نما حاکم وقت سے جان چھڑا کر واپس زندگی کی جانب لوٹ رہے تھے ـ اس کے آس پاس بیٹھے مرد اب بنا خوف وخطر سگریٹ اور نسوار کی ڈبیاں نکالے غم غلط کر رہے تھے ـ ایلے نے کھڑکی سے باہر دیکھا’ سرخ چٹیل پہاڑوں کے قدموں میں رینگتا ہری رود دریا جو قرہ قوم صحرا کی آغوش میں سمٹنے کو بےتاب تھا ـ ایلے کی منزل قریب تھی ـ شہر ہرات جس کے بارے میں ہیروڈوٹس نے کہا تھا ” ھرات روٹیوں کا ٹوکرا ہے “ ـ پے درپے جنگوں نے روٹیاں سوکھا دیں ـ اب ایسالگتا تھا جیسے آرکیالوجسٹ کسی پرانی تہذیب کے کھنڈرات کھوج کر نکال رہے ہوں ـ سورج کا پھیکا تبسم پہاڑوں کی چوٹیاں چوم رہا تھا ـ فضا میں رچے سکوت کو گاڑی کی پھٹ پھٹ نے چیلنج دے رکھا تھا جیسے کہہ رہی ہو! اے پرسکون مضافات ‘ باغات و گلیات خدا تمھیں بےہنگم شور سے محفوظ رکھے ـ وہ شور جو سماعتوں پہ صدیوں تکُپُققپق کنکھجوروں کی طرح رینگتا رہتا ہے ـ جس کا حاصل گریہ کے سوا کچھ نہیں ـــ
ایلے مقامی لوگوں کی طرح بادامی شلوار قمیص میں ملبوس ‘ گلے میں سرخ دھاری دار رومال لٹکائے ‘اپنے لمبے بالوں کی بدولت ریوڑ کو چھوڑ کر بھاگا ہوا پاوندہ لگ رہا تھا ـ جس کی نسواری چپلی پہ برسوں کی دھول جمی تھی ـ ایلے کو لگا اس کی منزل کسی صحرا سے اٹھنے والا کوئی طوفان ہے یا پھر دریا کی لہروں پہ رقصاں کوئی موجہ آب ـ ـ ـ ـ اس کی منزل بھی زندگی کی طرح لایعنی ہوگی ـ اسے لگتا تھا جیسے اُسے خدا نے انھی ریگزاروں سے دامن سے اٹھا کر گوندھا ہو ـ جیسے وہ بھی زعفران کے پھول کا قیمتی زردانہ ہو جو ہوا کے دوش پہ اڑتے اڑتے ہزاروں میل دور اُس فلیٹ کی بالکونی میں جا کھلا جسے اس کی قدر ہی نہ ہوئی ـ دورانِ سفر بےشمار سفر یاد آتے ہیں جنھیں جھیلتے جھیلتے عمر رواں خستہ ہو چکی ہوتی ہے ـ ایلے نے آنکھیں موند لیں ـ جب اس کا سفر تمام ہوا تو وہ ایسی گلیوں میں تھا جہاں خاموشی بیج بو کر چلی گئی تھی ـ اب تنہائی کے تناور درخت چاروں طرف لہلہا رہے تھے ـ
اسے بھٹی میں ایک اور بھٹی ملی ـ
”یہ ویرانہ کبھی آباد ہوا کرتا تھا ـ “
ایک گھمبیر آواز نے اسے چونکا دیا ـ ایلے نے مڑ کر دیکھا تو ایک پختہ عمر آدمی سینے پہ ہاتھ باندھے ایلے کو دیکھ رہا تھا ـ
ایلے نے جیب سے پتہ نکال کر اسے دیا ـ
جواب ملا یہ خاندان تو کب کا کوچ کر چکا ـ اب ہم یہاں عرصہ دراز سے مقیم ہیں ـ اس خاندان کے بہت سے نوجوان جنگ میں شہید ہو گئے تھے ـ جن میں شبیر احمدی جان بھی تھے ـ جو افراد بچ گئے اُن کو اِس شہر سے وحشت ہونے لگی تھی ـ کیونکہ اُن کے بزرگ اپنا وقت گھر میں کم اور قبرستان میں ذیادہ بتاتے تھے ـ اس لیے وہ کوچ کے بعد دوبارہ کبھی لوٹ کر نا آئے ـ
گل آغا نے ایلے کو اپنے مہمان خانے میں بیٹھایا ـ دسترخوان پہ کھچڑی سجی تھی ـ گل آغا نے کہا ! پرامن دنوں میں آئے ہوتے تو تمھیں ‘ گوشتِ لند ‘ قلور ترش اور شیر پرہ کھلاتے ـ یہاں کا سوہن حلوہ بھی مشہور ہے مگر جنگ کی بدحالی خوشحالی کھا گئی ـ مٹھاس ناپید ہوگئی ـ معدے نانِ گندم کو ترستے ترستے سکڑ گئے ـ ایلے نے طعام کے بعد بیگ سے وہ منقش لاجوردی جام نکالے جسے دیکھتے ہی آغا گل نے حیرانی سے پوچھا!
یہ کہاں سے آئے تمھارے پاس؟
ایلے نے کہا!
یہ میرے مرحوم نانا کے پاس تھے ـ
ایلے نے دفعتاً پوچھا!
” میں یہ جاننے آیا ہوں! یہ کون بناتا تھا اور کہاں بنتے تھے؟“
آغا گل نے کہا!
”صبر صبر پسر! تم خود جا کر دیکھ لینا ـ دونوں میں طے پایا وہ اگلے دن ہی شیشہ سازی کے کارخانے جائیں گے ـ ایلے رخصت ہوا اور وعدے کے مطابق وہ اگلے دن ہوٹل سے نکلتے ہی آغا گل کے ھمراہ اس کارخانے پہ گیا ـ دریائے آمو کے کنارے شیشہ بازوں کی نگری اب ویران یو چکی تھی ـ بھٹی جہاں شیشہ دہکایا جاتا مٹی کے ٹھیکروں میں بدل چکی تھی ـ آس پاس اِس جیسے اور بھی کھنڈرات تھے ـ درجن سے زائد شکستہ بھٹیاں’ جن کے آثار سے معلوم ہوتا تھا یہاں کبھی ایک دنیا آباد تھی ـ
آغا گل نے کہا! یہ ساری گلی کبھی شیشہ گروں کی نگری ہواکرتی تھی ـ درجن سے زائد کارخانے معدوم ہو گئے ـ اب باقیات کے طور پہ بجھے ہوئے کوئلے ہیں اور چند چنگاریاں جو باقی ماندہ شیشہ گروں کے ارمانوں کو جلاتی رہتی ہیں ـ محض ایک کارخانہ بچا جسے کبڑا شیشہ باز اپنے بیٹے کے ساتھ چلا رہا ہے “
تاسف!!!
گل آغا خاموش ہو گئے ـ
ایلے نے بھٹی سے ایک ٹھیکری اٹھائی وہ بولنے لگی ” چنگیز خان کے دور میں اتنی اموات نہیں ہوئیں جتنی ثور کی اُس رات ہوئیں جب روسیوں نے اچانک حملہ کر دیا تھا “
ایلے نے ٹھیکری واپس رکھ دی ـ
شکتہ دیوار نے منہ بسورتے کہا!
” تمھیں کیا پتہ خانہ جنگی نے کتنے خانے خراب کئے ‘ دیواریں باقی رہ گئیں اور چھتیں غائب ہو گئیں “
ایلے نے ایک گرتے ہوئے ستون کو تھاما تو وہ گویا ہوا!
طالبان نے شہر ہرات کی ثقافت کو چادری میں لپیٹ کر تمدن سے اوجھل کر دیا ـ دیکھو مجھے عورتوں’ شاعروں اور مصوروں کی سسکیوں نے دوہرا کر دیا ہے “
راستے نے کہا! میں ان لاشوں کا چشم دید گواہ ہوں جو میرے سینے پہ پڑی پڑی وارثوں کو تکتی رہیں ـ جبکہ وارث کسی اورجگہ ابدی نیند سو چکے تھے ـ “
صنوبر اور دیودار کے جھلسے درختوں سے بھینی بھینی خوشبو کے بجائے بارود کی بُو آ رہی تھی ـ شاعرانہ شامیں مبارزات کی آنچ پہ دھواں دینے لگیں تھیں ـ گہماگہم صبحیں ضعیفوں کی طرح بےدم ہو گئیں ـ لوگ کے چہروں پہ ایسے تاثرات تھے جیسے کسی نے ان کے بدن میں سوئیاں چبھو دی ہوں ـ
ایلے کو لگا جیسے وہ جنگ ذدہ شہر میں نہیں بلکہ ایک مردے کو غسل دے رہا ہے جس کی ہیبت اس کے مساموں میں سرایت کر رہی ہے اور اس خوف سے وہ ایک دم چیخ پڑے گا ـ۔
وہ اس کبڑے شیشہ باز کے کارخانے گئے ـ جس کی بھٹی دہک رہی تھی ـ ایک نوجوان جس نے سوتی شلوار قمیص پہنی ہوئی تھی جس کے گلے پہ کشیدہ کاری ہوئی تھی ـ وہ بڑی مہارت سے گلاس کو آگ میں جھونک کر راڈ کو گھما رہا تھا تھا اور وقفے وقفے سے خول والی راڈ میں پھونک مارتا جس سے شیشہ پھول رہا تھا ـ
گل آغا نے کہا!
”یہ اطالوی لڑکا شیشہ گروں کے راز سے آشنا ہونے آیا ہے ـ “
وہ مسکرایا!
” اس سے تو دنیا واقف ہے ـ سینکڑوں سیاح آئے اور اس راز کو اپنے ساتھ لے گئے افشا کرنے ‘ عکس بندیاں ہوئیں ‘ رسالوں میں تصویریں چھپیں ‘ اس پہ فلمیں بنائیں ـ اب کیسا راز اور کاہے کا راز ـ
ایلے نے متجسس لہجے میں استفار کیا!
”کیا ان سب کو سارینا دیکھائی دیتی تھی “
سارینا ــــ آہ وہ حسینہ ـ
اس آدمی نے وثوق سے کہا نہیں! وہ تو محض یہ جانتے تھے کہ ہرات کے شیشہ گر سویت جنگ کے دوران مرنے والوں پیاروں کا نام لے کر تعزیتی شعر پڑھتے اور جام بنانے کے لیے آگ میں جھونکتے تھے ـ
کسی نے آج تک ایسا کوئی تزکرہ نہیں کیا ـ
کتنے عرصے بعد کسی کے منہ سے سارینا کا نام سنا ہے ـ وہ بزرگ حیرت کے پہاڑ سے نکلتے ہوئے بولے سارینا ــــ یادش بخیر
کاش وہ وقت ایک بار پھر لوٹ آئے ـ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
وہ ایک مشاق شیشہ باز تھا ـ اِس گلی کا وارث ‘ سلطان شیشہ بازـ جو انیس سال کا خوبرو جوان تھا ـ اس کے والد کی تین چار بھٹیاں تھیں ـ جن میں بہت سے مزدور کام کرتے جن میں ایک میں بھی تھا ـ ہم حمام دستوں میں سنگِ چینی پیس کر’ کاپر آکسائیڈ اور پودوں کی راکھ سے صدیوں قدیم طریقے سے ایک ایک گلاس اپنے ہاتھ سے بناتے ـ اس لیے سبھی گلاس اپنی ہیت میں ایک دوسرے سے جدا ہوتے اور قدرے بھدے ہوتے۔ ـ ہمارے پاس سو سے زائد مختلف ڈیزائن تھے ـ ہم مرتبان ‘ گلدان ‘ ظروف اور جام بنا کر ھرات اور کابل میں بیچتے ـ ہماری بھٹی کے جام ناصرف تاشقند ‘ تہران و کراچی تک جاتے بلکہ یورپ میں بھی ان کی مانگ تھی ـ سلطان نے پانچ کی سال کی عمر سے کارخانے آنا شروع کیا ـ وہ تب محض چھوٹے موٹے کام کرتا مگر جب وہ دس سال کا ہوا اس کے تخلیقی ذہن نے کئی جدید ڈیزائن متعارف کروائے ـ یوں شیشہ بازوں کی گلی میں ہنرِ سلطان کا سکہ چلنے لگا ـ سلطان جام بناتے بناتے جوان ہوا ـ وہ مضبوط بازوؤں والا ایک تند و مند نوجوان تھا جس کی کنچوں جیسی آنکھوں میں بلا کی کشش تھی ـ وہ شاعرانہ مزاج کا خوش قیافہ لڑکا تھا ـ اُن دنوں یہاں سیاحوں کی ریل پیل ہوا کرتی تھی ـ کبھی کبھی ایک دن میں سینکڑوں سیاح آتے ـ لاجوردی و فیروزی جام ان کی توجہ کھینچ لیتے ـ
کبڑے شیشہ باش کی آنکھیں بھر آئیں ـ وہ رومال سے چہرہ صاف کرتے ہوئے بولا!
آہ کس قدر دلفریب دن تھے وہ ـ ۔۔۔۔۔
ایک دن سلطان کو ایک زریں خانے کی سجاوٹ کی فرمائش ہوئی ـ سلطان نے نفاست سے بہترین سجاوٹی اشیا بنائیں ـ سب سے خاص وہ تخت تھا جو تقریباً ایک مسہری جتنا چوڑا تھا ـ سلطان نے اسے بارہ انچ کے بےشمار چکور ٹکڑوں کو جوڑ کر بنایا تھا ـ جب سلطان وہ تخت لے کر اس زریں خانے پہنچا تو وہیں اس کی نظر سارینا پہ پڑی ـ جس کے گیلے بال مسہری سے لٹک رہے تھے ـ خادمائیں بالوں کے مختلف حصے کر کے ان میں انواع و اقسام کے عطر چھڑک رہیں تھیں ـ خوشبوؤں سے رچے اس ماحول میں ایک شیشہ باز اپنا دل ہار بیٹھا ـ اس کی جوانی عشق کے آلاو کی نذر ہو گئی ـ
خانم سارینا جان ـــ ہوش اڑا دینے والی ایک رقاصہ جس نے ہرات کے امراء و شرفاء کے علاوہ سیاحوں کو بھی دیوانہ بنا رکھا تھا ـ
وہ کون تھی اور کہاں سے آئی کوئی نہیں جانتا تھا ـ اس زیریں خانے کا مالک اس کا دلال تھا ـ زریں خانہ جالی کے پردوں اور مور کے پنکھوں سے سجا تھا ـ رقص گاہ میں چاروں طرف آئینے لگے تھی ـ فرش پہ سرخ قالین بچھا تھا اورچھت پہ چاندی کے فانوس لٹک رہے ہوتے جن میں موٹی موٹی شمعیں جل رہی ہوتی تھیں ـ سلطان نے کونوں میں قد آدم فیروزی گلدان رکھے ـ جن پہ سنہری اور لاجوردی رنگ کی مینا
توری کی گئی تھی ـ لاجوردی پتنوس میں جام سارینا کی خادماؤں کے حوالے کئے ـ لوگ کہتے تھے سارینا دودھ اور عرقِ گلاب سے غسل لیتی ـ وہ بے لباس ناچتی تھی ـ اس کے سینے پہ قرینے سے افشاں ملی ہوئی ہوتی تھی ـ البتہ ناف کے نیچے وہ باریک جالی کا دامن پہنتی ـ جس سے اس کی ٹانگیں صاف دیکھائی دیتی تھیں ـ
سارینا ہفتے میں ایک بار جلوہ گر ہوتی ـ وہ برنامہ جو رات گئے شروع ہوتا اور صبح ہونے تک جاری رہتا ـ محفل کے آغاز میں مہمانوں کو انھی فیروزی گلاسوں میں مخمور کرنے والا مشروب پلایا جاتا ـ مہمان مخملیں توشک پہ بیٹھے جب رقاصہ کے منتظر ہوتے تو ان کے سامنے پھول رکھے جاتے ـ اگر اور لوبان جلتا ـ محفل برخاست کے وقت خوشبودار دھواں چھوڑا جاتا اور اسی دھوئیں میں سارینا غائب ہو جاتی ـ
سلطان اب جمع پونجھی اس کا رقص دیکھنے پہ لگا دیتا ـ سننے میں آیا تھا کہ سارینا خود سے کم عمر سلطان کی محبت میں گرفتار ہو گئی تھی ـ اور اسی نے سلطان جو دام میں پھنسایا تھا یہ اور بات یہ محض شنید تھی یا حقیقت ‘ خدا جانتا تھا یا سلطان ـ
وہ جسم فروش نہیں تھی ـ اس کے وجود کو کسی تماشائی نے نہیں چھوا تھا ـ البتہ ناچتے وقت اس کے آبنوسی لمبے لہراتے بال جس تماشائی کے وجود کو چھو جاتے وہی منظورِ نظر ‘ جان محفل سمجھا جاتا ـ جب سے سلطان زریں خانے جانے لگا اس کا چہرہ بار بار سارینا کی زلفوں سے معطر ہوتا ـ جس دن سلطان نہ جاتا زینا بنا گھنگھرو پہنے رقص کرتی ـ اس بات کو لے کر سلطان کے رقیبوں نے سلطان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں ـ یہ خاموش محبت مہینوں آنکھوں ہی آنکھوں میں چلتی رہی ـ سارینا نے گیتوں کے زریعے پرندوں ‘ آبشاروں اور بہاروں کے استعاریوں میں سلطان تک دل کی بات پہنچائی ـ یوں آنکھوں کے دریچوں سے نکل کر محبت دونوں کے لبوں تک آئی ـ
وہ شب وصل تھی ـ سلطان کے لیے سارینا کی خادماؤں نے زریں خانے کے دروازے کھول دئے ـ وہ دبے پاؤں خواب گاہ کی جانب رواں تھاـ ادھر سارینا انتظار کی گھڑی کے دہکتے انگاروں کو گن گن کر بےتاب ہو رہی تھی ـ اس کی سماعتیں عاشق کے قدموں کی چاپ کو سننے کے لیے خاموشی کی متمنی تھیں ـ جنھیں جھینگروں اور کتوں کی آواز سے سخت کوفت ہو رہی تھی ـ جیسے ہی اندرونی دروازے کی زنجیر ہلی سارینا کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا ـ سلطان کے عطر کی مخصوص خوشبو دہلیز سے ہوتی ہوئی سارینا کی خواب گاہ کے دروازے تک پہنچی ـ سارینا نے کندھوں پہ رکھی ابریشم کی شال سرکا دی ـ اب اس کا افشاں سے دمکتا سینہ سنہری ہو رہا تھا ـ جیسے ہی سلطان کے قدموں کی چاپ نزدیک محسوس ہوئی سارینا نے تختِ خواب کے پردے گرا دئے ـ فانوس بجھا دیا ـ ایک شمع اٹھائے وہ قالین پہ بچھی گلاب کی پتیوں پہ چلتی دروازے کی جانب چلنے لگی ـ سلطان نے جیسے ہی دروازہ کھول کے موتیوں والا پردہ سِرکا کر نیم برہنہ سارینا کا دیدار کیا ـ وقت وہیں رک گیا ـ سانسوں کی سنسناہٹ کے علاوہ وہاں اور کوئی آواز نہ تھی ـ جو جوں جوں قریب سے قریب تر ہونے لگی ـ کئی ارمان مچل پڑے ـ اس سے پہلے کہ دو آتشیں جسموں کا ملاپ ہوتا ـ روسی بمباری سے بالائی منزل تباہ ہو گئی ـ راکھ ‘ خاک ‘ خون کا ملبہ سارینا کی خواب گاہ میں گرا ـ اس کے بعد گولیوں کی بوچھاڑ ہوئی ـ سلطان نے لپک کر زینا کا ہاتھ تھاما ـ چاندنی شکستہ چھت اور ٹوٹے روشن دان سے چھٹک کر عاشق و معشوق کی محبت پہ بچھ رہی تھی ـ پہلا اور آخری بوسہ ِ محبت دیتے ہی سارینا کی آخری سانسیں سلطان کی بانہوں میں نکلیں ـ سلطان نے لہولہان سارینا کا چہرہ سینے کے قریب کیا ـ کرب سے دل پھٹنے کو تھا کہ سلطان سارینا کو بانہوں میں لیے بےہوش ہو گیا ـ صبح صادق کے وقت سلطان کو شدید زخمی حالت میں گھر پہنچایا گیا ـ وہ جب کچھ بہتر ہوا تو سارینا قبر کی مٹی میں مٹی ہو چکی تھی ـ البتہ اس مٹی کا سلطان کو کوئی ٹھکانہ نہ ملا ـ بسیار تلاش کے بعد وہ دلال ملا نہ اس کی خادمائیں ـ
خاک تہہ خاک ـــ ہوا عشقِ بے باک ـ
سلطان ایک عرصہ تپِ عشق میں مبتلا بستر پہ پڑا رہا ـ
وہ آخری بار اپنے دوست کے ھمراہ شیشہ سازی کے کارخانے آیا اور ایک جام بنایا ـ جب اس نے لاجوردی جام کو پھولانے کے لیے اس سلاخ پہ سارینا کا نام لے کر پھونک ماری ـ سارینا ـــ سا ری ی ی ی نا ـ سا ری ناااااااا ـــــ
تو اس کی بھرائی ہوئی آواز کے درد میں وہ تاثیر تھی کہ ہم سب کاریگر سن کر رو پڑے ـ
یوں اپنی محبت کی روح پھونک کر اس نے جام کو حیات دے دی ـ
سلطان اپنے بنائے جام میں مے بھرتا اور شب بھر سارینا سارینا کرتا ـ عشق فنا سے لا فنا ہو چکا تھا ـ وہ دنیا و مافیھا سے بےخبر سارینا کے عشق میں مدہوش رہتا ـ وہ کہتا اسے سارینا دیکھائی دیتی ہے ـ رقص کرتی ہوئی ـ اور اس کی زلفیں سلطان کے چہرے کو مس کرتی ہیں ـ لوگ کہتے کہ سخی شیشہ باز کا اکلوتا بیٹا پاگل ہو گیا ہے ـ سخی شیشہ باز اپنے لخت جگر کو یوں لخت لخت ہوتے دیکھ کر آبدیدہ ہو جاتا ـ ایک دن سخی شیشہ باز نے وہ جام بدل دیا ـ اس کی جگہ خود کا بنایا ایک جام رکھا اور سارینا والا جام اس نے ایک تاجر کے ڈبے میں پیک کر دیا جو نودارات اور دستکاری کے نمونے یورپ میں جا کر بیچتا تھا ـ
اگلی شب سلطان نے جام اٹھایا مگر اسے سارینا دیکھائی نہ دی ـ وہ آنکھیں ملنے لگا ـ سارینا سارینا ـــ کچھ بھی نہیں تھا ـ
سارینا کہاں ہو ـ
ساریناااااا ـ ـ ـ ــ
سارینا ہوتی تو ملتی ـ اس نے جام کا جائزہ لیا تو سمجھ گیا یہ جام سخی شیشہ باز کے ہاتھ سے بنا ہے ـ اس نے جام توڑ دیا ـ
اگلی رات باپ کے دئیے دھوکے کا قلق اور سارینا کا ہجر لیے اس نے آخری بار شمس کا شعر پڑھا اور پسا شیشہ پھانک کر خودکشی کر لی ـ
اس کے مرنے کے بعد سخی شیشہ باز رنجور ہو کر بسترِ مرگ پہ آ گرا ـ پشیمانی اس کے سارے وجود کو چوہوں کی طرح کترنے لگی ـ سخی شیشہ باز کے کارخانے اس بھائی چلانے لگے ـ
تب سے یہ رواج عروج پہ پہنچ گیا ـ شیشہ باز مرنے والے پیارے کا نام لے کر شیشے میں پھونک مارتے اس سلاخ کو گول گول گھماتے اور من پسند شبہیہ میں بدل دیتے ـ یوں ایک یاد اس شیشے میں قید ہو جاتی ـ اکثر امراء آتے اور فرمائش کر کے ایسے جام بنواتے ـ جام بنواتے وقت وہ ان کی موت کے وقت کو یاد کر کے روتے ـ پھر ایسا وقت آیا کہ مرنے والوں کی تعداد گنتی سے تجاوز کر گئی ـ خود شیشہ باز مرتے مرتے بکھر گئے ـ بھٹیاں آتشِ جنگ سے سلگنے لگیں ـ
یہاں صرف راکھ باقی رہ گئی ـ اس راکھ کو کرید کر میں نے دوباہ اس کارخانے کی بنیاد رکھی ـ ۔
ایلے کی آنکھوں سے بےساختہ آنسو بہنے لگے ـ وہ سمجھ گیا شیشہ گر کے دماغ میں شیشے میں پھونک مارتے وقت جو منظر ہوتا ہوگا وہی اسی جام میں باقی رہ جاتا ـ اس نے وہ جام سلطان کی کچی قبر پہ رکھا ـ
جس نے مرنے سے پہلے کہا تھا
”اگر اس کا عشق سچا ہے تو سارینا کا جام واپس اس کے پاس آئے گا مگر افسوس اسے چھونے کے لیے سلطان شیشہ باز کے لب نہیں ہوں گے “
کہتے ہیں جب ایلے نے وہ جام سلطان کی قبر پہ رکھا تب سے وہاں زعفران کے پھول اگنے لگے ـ جس کے زر دانے کوئی نکال نہیں سکتا ـ مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ اس کے زردانے جس نے نکالنے کی کوشش کی وہ اندھا ہو گیا ـ ہاں البتہ جس نے سچا عشق کیا ہو وہ ان زردانوں کی چائے بنا کر معشوق کو پلائے تو وہ اس کے عشق میں مبتلا ہو جاتاہے ـ
ایلے جب واپس اٹلی گیا تو اسے لگا اس نے کچھ کھو دیا ہے ـ اس اب سارینا دیکھائی نہ دیتی تو اسے لگتا جیسے وہ خالی خالی ہو گیا ہے ـ شاعری ‘ دھنوں اور موسیقی سے خالی ـ جیسے تخلیق کی دیوی اس سے روٹھ گئی ہو ـ وہ سارینا کے بالوں کے ان چھوئے لمس کو ترسنے لگا ـ اسے خوابوں میں بنا گھنگھرو باندھے زینا کا نچلا دھڑ دیکھائی دیتا جو کمال افسردگی سے تھرک رہا ہوتا ـ اس کی سماعتیں گھنگروں کی آواز کو ترسنے لگیں ـ
سارینا ــــ ساری نا ااااا ـ سارینا ـــ
وہ بالکونی میں بیٹھ کر مکیاتو پیتا اور اداس دھنیں بجاتا ـ
ایک شب عالم مدھوشی میں اسے لگا اس نے بہت بڑی غلطی کر لی ـ
مگر اب کیا ہو سکتا تھا اب تک تو وہ جام ٹکڑے ٹکڑے ہو کر سلطان کی قبر میں سنگِ چینی اور راکھ میں بدل چکا ہوگا ـ
وہ ایک بار پھر طورخم کے پار لوکل بس میں منہ سر لپیٹے ہچکولے کھا رہا تھا ـ تاکہ سلطان کی قبر سے ان اجزاء کو چن کر ایک بار پھر لاجوردی جام بنوا سکے ـ
شاید سارینا اسے مل جائے ـــ
شاید ـــــ
اگر نہ ملی تو؟
نہیں نہیں ـــــ وہ ضرور ملے گی ـ
کیونکہ سارینا جانتی ہے اس کا سلطان تو میں خود ہوں ـ۔

Advertisements