پاداش(۲)_________________شاذیہ خان

قسط نمبر ۲

تحریر: شاذیہ خان

کور ڈئزائن:طارق عزیز

——————————-

”چھوڑو لڑکی کا ہاتھ ورنہ….“
عمر نے زور دار آواز سے ان دونوں کو ڈانٹا تو دونوں عمر کو دیکھ کر اونچی آواز میں ہنسنے لگے۔
”لگتا ہے ہیرو کی اینٹری ہوگئی ہے۔“ ان میں سے ایک بولا۔
”اوئے ہیرو جا کر اپنا کام کرو تم جانتے نہیں کہ ہم کون ہیں۔“ ایک نے جیب سے کڑک چاقو نکالا اور عمر کے آگے لہرایا۔ سامعہ تو یہ سب دیکھ کر بے ہوش ہونے والی تھی کہ اس نے عمر کو واپس پلٹتے دیکھا۔
”ہاہاہا!“ دونوں اس پر ہنسنے لگے لیکن شاید کچھ لمحے لگے تھے عمر کو کار میں سے ریوالور لے کر واپس آنے میں اور اس کے ہاتھ میں نئی ساخت کے ریوالور کو دیکھ کر دونوں نے بھاگنے میں دیر نہ لگائی۔ ان کے ہاتھ میں موجود ایک معصوم سے چاقو کی بھلا اس نئی ساخت کے ریوالور کے سامنے کیا اوقات…. وہ یک ٹک عمر کو دیکھ رہی تھی۔ ناول کا ہیرو بھی ہیروئن کو بدمعاشوں سے ایسے ہی بچاتا ہے۔ یعنی میری زندگی میں بھی ایسا ہیرو آگیا۔ عمر کی نظریں بھی اس پر جیسے ٹھہر سی گئیں۔ خاص طور پر اس کی معصوم سی آنکھیں۔ ان دونوں کے درمیان کافی دیر تک لمحہ ساکت رہا اور پھر عالیہ نے آکر چٹکی بجائی۔
”اوئے عمر! تم کب پہنچے؟“ اس نے سامعہ کو دیکھتے ہوئے بات عمر سے کی۔
”بس ابھی پہنچا ہوں تو ان محترمہ کو دو بدمعاش گھیرے کھڑے تھے۔“ اس نے اپنی اور سامعہ کی ساتھ ساتھ موجودگی کی وضاحت کی۔
”ارے سامعہ تم ابھی تک گئی نہیں۔“ عالیہ نے اسے حیرانی سے دیکھا اور اپنی گھڑی چیک کی تو سامعہ کو بھی جیسے ہوش آگیا اور اس نے پوری کہانی سنائی۔
”وہ تو بھلا ہوان کا کہ انہوں نے پسٹل نکال کر ان دونوں کو یہاں سے بھگا دیا۔“ آخری بات پر اس نے شکر گزاری کے انداز میں عمر کو دیکھا تو عالیہ کو اندر سے جلن نے آلیا۔ وہ عمر کی نظروں میں بھی سامعہ کے لیے پسندیدگی دیکھ چکی تھی۔دل کے اندر گھونسا لگا ۔ اسے عمر کی فطرت سے اچھی طرح واقفیت تھی ۔ ہر اچھی صورت اپسے بھا جاتی تھی اور اس بار بھی ایسا ہوا۔
”تو مس سامعہ اب آپ کیسے جائیں گی؟“ عمر نے سوال کیا تو سامعہ نے گڑ بڑا کر ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی سواری نظر آجائے۔
”اگر عالیہ کو اعتراض نہ ہو تو آپ ہمارے ساتھ چلیں ہم گھر تک چھوڑ دیں گے کیوں عالیہ؟“
اس نے کائیاں پن سے عالیہ کو دیکھا۔ نہ جانے رفتن نہ پائے ماندن والی کیفیت میں عالیہ نے سر ہلایا:
”ہاں بھلامجھے کیا اعترا ض ہوسکتا ہے تم آجاﺅ ہم چھوڑ دیتے ہیں۔“ پھر پورے راستے عمر نے کار کا بیک مرر اس پر ہی سیٹ کرکے رکھا۔ جسے عالیہ نے بہت جلد محسوس کرلیا۔ وہ جانتی تھی کہ سامعہ اور عمر کی کلاس میں بہت فرق ہے۔ سامعہ جیسی لڑکیاں وقت گزاری اور منہ کا ٹیسٹ بدلنے کے لیے تو ہوسکتی ہیں، عمر بھر کے لیے ان کا ساتھ عمر جیسے لڑکے کے لیے ممکن نہیں…. اور پھر گھر آنے سے پہلے ہی ایک اسٹاپ پر سامعہ نے کار رکوا لی اور شرمندگی سے بولی۔
”پلیز یہیں روک دیں کار اندر نہیں جاسکتی۔ گلی بہت چھوٹی ہے۔“ تو عمر کو کار وہیں روکنی پڑی۔ وہ شکریہ ادا کرکے اتر گئی۔
” آپ کے گھر میںایک کپ چائے پوچھنے کا رواج بھی نہیں ہے مس سامعہ۔“ عمر نے اس کو شرمندہ کیا۔
”نہیں وہ یہ بات نہیں۔“ سامعہ ہکلائی ۔وہ ویسے بھی پورے راستے عمر کی نظروں سے بہت بے چین رہی تھی۔ اس نے اب تک ناولوںمیں پڑھا اور ڈراموں میںدیکھا تھا کہ ہیرو ہیروئن کو کار کے بیک مرر سے دیکھتا ہے، لیکن کسی ناول میں یہ نہیں لکھا تھا کہ ہیروئن کتنی پریشان ہو جاتی تھی۔ اسے عالیہ کی وجہ سے بھی شرمندگی ہورہی تھی۔ وہ عالیہ کا کزن تھا جس کے بارے میں عالیہ نے کبھی نہیں بتایا تھا اور آج بھی اس طرح ملاقات ہونا بالکل اتفاقی سا تھا….
”چھوڑو عمر یہ چائے پینے کا کوئی موقع نہیں شام بھی کافی ڈھل چکی ہے۔ نانو انتظار کر رہی ہیں ہمارا….“ اس نے بے زاری سے کہا۔ تو عمر نے کندھے اُچکا دیے اور کار آگے بڑھا دی۔ لیکن بیک مرر سے پیچھے کھڑی جاتی کار کو دیکھتی سامعہ کو دیکھنا نہ بھولا۔ یہ بات عالیہ سے پوشیدہ نہ رہی۔ وہ اسے سامعہ کے بیک گراﺅنڈ کے بارے میں بہت کچھ بتانا چاہتی تھی، لیکن خاموش اپنے میں عافیت تھی۔ اتنے عرصے کے بعد ملا تھا اور اسے ناراض کرنے کی عالیہ بالکل متحمل نہیں ہو سکتی تھی…. اس لیے خاموش رہی۔ لیکن عمر سے خاموش نہ رہا گیا، جب تک اس نے سامعہ کا سارا بائیو ڈیٹا اس سے نہ پوچھ لیا۔
٭….٭….٭
سامعہ گھر پہنچی تو شکرادا کیا کہ ابا ابھی تک نہیں آئے تھے ۔ اس نے بہت جوش سے پوری کہانی اماں کو سنائی، لیکن آخر والا حصّہ چھپا گئی۔ ورنہ شاید اماں پھر کبھی اسے ایسا موقع نہ دیتیں۔
”اماں آپ کو کیا پتا کہ لڑکیوں اور ٹیچرز نے کتنی تالیاں بجائیں۔ مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میں یہ سب بھی کر سکتی ہوں۔“ وہ پورے جوش سے بول رہی تھی ۔ ناہید بیگم مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھیں کہ کبھی وہ بھی ایسی ہی جذباتی تھیں ۔بہت کچھ کرنے کے ارمان لیے جب کالج پہنچیں تو شادی ہو گئی۔
لیکن آج انہیں سامعہ کی خوشی میں اپنی خوشی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ جانتی تھیں کہ حاجی صاحب نے بعض اوقات جو بند شیں گھر والوں پر لگائیں وہ غیر ضروری تھیں۔لیکن مجبور ماں تھیں کچھ کہہ نہیں سکتیں، اسی لئے اکثر کڑھ کر رہ جاتیں۔
”اچھا چلو اٹھو منہ ہاتھ دھولو میں کھانا گرم کرکے لاتی ہوں۔“ وہ اُسے ہدایت کر کے مُڑ گئیں۔
”کیا پکایا ہے اماں؟“ اُس نے پوچھا ۔
”چنے کی دال کریلے اور لوکی کا رائتہ۔“ انہیں پتا تھا یہ دونوں چیزیں اسے بہت پسند تھیں اسی لیے آج اس کے انتظار میں انہوں نے بھی کھانا نہیں کھایا تھا۔
”ارے واہ! میری پیاری اماں آج تو آپ نے کمال کر دیا بس جلدی سے لے آئیں میں ابھی کپڑے تبدیل کرکے آتی ہوں پھر خالہ جان کو بھی فون کرنا ہے۔ ان کی شوگر لو ہو گئی تھی ۔اسی لیے ثنا پروگرام چھوڑ کر چلی گئی۔“ وہ یہ کہتی ہوئی باہر نکل گئی لیکن ناہید بیگم کو پریشانی سی لگ گئی اور جب تک انہوں نے بہن سے بات کرکے ان کی خیریت نہیں پوچھ لی۔ انہیں چین نہیں آیا۔ بڑی بہن ہی ان کا واحد میکا تھیں جو ہر وقت ان کی دعاﺅں میں شامل تھیں۔ ان کی بیماری سے وہ بھی پریشان رہتیں کہ شوگر جیسے موذی مرض نے انہیں اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔ اور وہ اکثر و بیشتر ڈاکٹرز کے چکر ہی لگاتی رہتیں…. اس اتوار کو حاجی صاحب کے ساتھ جاکر انہیں دیکھ کر آتی ہوں، یہ فیصلہ کرکے وہ مطمئن سی ہوگئیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کبیر علی کے لیے یہ مہینہ گزارنا بہت مشکل تھا، لیکن شمیم صاحب کی ہدایت کے مطابق وہ ریحان صاحب کے سارے پرانے ریکارڈز کی فائلیں جمع کر رہے تھے۔ اس وقت بھی وہ کمپیوٹر پر ڈیٹا جمع کر رہے تھے کہ گھڑی پر نظر پڑی جو گیارہ کا ہندسہ عبور کر چکی تھی۔ انہیں شدید تھکن کا احساس ہوا اور ساتھ ہی چائے کی طلب بھی لیکن چائے بنانے کی ہمت نہ تھی ۔اسی لیے لیپ ٹاپ آف کر دیا اور دونوں ہاتھوں سے گردن دبانے لگے۔ دروازے پر دستک ہوئی اور ثنا ہاتھ میں چائے کا کپ لیے داخل ہوئی تو وہ حیران رہ گئے۔
”بھائی! چائے۔“ اس نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھ دیا اور خود پاس ہی بیٹھ گئی۔
”اوئے لڑکی !تجھے کیسے پتا چلا مجھے اس وقت چائے کی طلب ہو رہی ہے۔“
”بھائی میں امی کے سارے کام ختم کرکے اپنے کمرے میں جارہی تھی۔ آپ کے کمرے کی لائٹ جلتی دیکھی تو سمجھ گئی کہ آپ ابھی تک کام میں مصروف ہیں اور چائے کی طلب ہوگی اس لیے بنا لائی۔“وہ بڑی معصومیت سے بولی تو کبیر علی کا دل ثنا کی محبت سے سرشار ہو گیا۔ اللہ نے انہیں ماں اور بہن کی صورت کتنی بڑی نعمتیں عطا کی تھیں۔ ایک دعا کرکے ان کے راستوں کے پتھر ہٹاتی تو دوسری ان پر ایسی مہربانیاں کر کے اپنا احسان مند کر دیتی ۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرا دیے۔
”تم میرے لئے خدا کا انعام ہو۔“
”اور آپ ہمارے لیے سر کا سایہ۔ بھائی اللہ ہمیشہ آپ کو خوش رکھے ۔میرے لیے تو اماں اور آپ ہی پوری زندگی ہیں۔“وہ بہت محبت سے بولی۔ تو کبیر علی نے اٹھ کر اس کے ماتھے پر بوسہ لیا۔
”اچھا چلو اب جاکر سو جاﺅ صبح لیٹ اٹھو گی اور پھر مجھے الزام دو گی۔“ انہوں نے مسکراتے ہوئے چائے کا سپ لیا اور بولے۔
”بھائی!“ وہ منہ بنانے لگی۔
”آپ کو کیا خوشی ملتی ہے ایسی باتیں کرکے۔“ وہ خفا ہوتے ہوئے بولی ۔
”ہاہاہا کیسی باتیں؟“وہ زور دار قہقہ لگا کر اورپھر چھیڑتے ہوئے بولے۔
”جائیں میں نہیں بولتی۔“ یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئی۔ وہ مزے دار چائے کا لطف اٹھاتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ ہ چھوٹی بہنیں ساریتھکن اتار دیتی ہیں۔ کتنے نصیب والے ہوتے ہیں وہ بھائی جنہیں ثنا جیسی محبت کرنے والی بہنیں ملتی ہیں۔ اللہ اس کی زندگی کے ہر دکھ کو ختم کر دے۔
٭….٭….٭
آج کانفرنس روم میں کافی ہلچل سی ہو رہی تھی۔ شمیم صاحب، ریحان صاحب، مظفر صاحب اور دوسرے کمپنی کے چند بڑے نام ایک ٹیبل پر موجود تھے۔ شمیم صاحب نے ریحان صاحب کو آتے ہی فائلز تھما دیں کہ دیکھیں۔ ریحان صاحب جیسے جیسے فائلز دیکھ رہے تھے ان کی آنکھیں باہر آرہی تھیں۔ چہرے پرپسینہ جیسے پھوٹے پڑ رہا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ کبھی کبھی غضب ناکی سے کبیر صاحب کو گھورتے کہ انہیں نظریں چرانا پڑتیںجیسے سارا اُن کا قصور تھا۔
”ریحان صاحب ساری فائلیں دیکھ لیں آپ نے؟“ کچھ دیر کے سکوت کے بعد شمیم صاحب نے ہی خاموشی توڑی توریحان صاحب ہکلا گئے۔
”جی سر! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے معصوم بنتے ہوئے پوچھا۔
”یہ آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔ اصل میں تو مجھے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ یہ سب کیا ہے؟“ وہ انتہائی تلخی سے بولے تو ریحان صاحب بوکھلا گئے۔
”سر میں کچھ سمجھا نہیں۔“ کندھے اچکاتے ہوئے معصومیت سے بولتے ہوئے ریحان صاحب شمیم صاحب کو سخت بُرے لگے ۔
” سمجھا نہیں یا سمجھنا نہیں چاہتے۔“ اس بار بھی شمیم صاحب کا لہجہ زہر بھرا ہوا تھا۔ انہیں اب تک یقین نہیں آرہا تھا کہ ریحان صاحب یہ سب کر سکتے ہیں۔ کتنا اعتبار کیا تھا، انہوں نے ریحان صاحب پر کمپنی کی ہر ذمہ داری آنکھیں بند کرکے ان کے حوالے کر دی اور انہوں نے اس کا یہ صلہ دیا تھا۔
”مظفر صاحب سمجھائیں انہیں کہ ان فائلوں میں ان کی جعلی کمپنیوں کے ذریعے 20 لاکھ کا صرف اس سال کا فراڈ موجود ہے۔ پچھلے دس سال یہ کیسے گھپلے کرتے رہے ہمیں معلوم ہی نہیں۔“ وہ طنز سے بولے۔
”یہ الزام ہے سر آپ مجھے سالوں سے جانتے ہیں۔“ سارے ثبوتوں کے باوجود انہوں نے ایک اور پھسپھسی سی کوشش کی۔
”ریحان صاحب آپ نے مسٹر کبیر کو بھی اس فراڈ میں 30 فیصددینے کی پیش کش کی تھی۔“ اس بار شمیم صاحب نے غصے سے کہا۔
”نہیں سر یہ الزام ہے مجھ پر۔ کبیر مجھے پھنسانا چاہ رہا ہے تاکہ آپ کی نظر میں ہیرو بن سکے۔“ وہ کبیر علی کو گھورتے ہوئے بولے۔
”ریحان صاحب ان سارے کاغذات میں ثبوت موجود ہیں ۔آپ انکار نہیں کر سکتے اور ان پر آپ کے دستخط بھی موجود ہیں۔“ وہ گرجے تو ریحان صاحب بھیگی بلی کی طرح اپنی جگہ بیٹھ گئے۔
” ریحان صاحب اگر آپ کے والد کی خدمات کا خیال نہ ہوتا تو یہ 20 لاکھ آپ سے پولیس وصول کرتی لیکن آپ کی بہتری اسی میں ہے کہ خاموشی سے 20 لاکھ ادا کریں اور ریزائن دے دیں۔“
”سر پلیز مجھے اپنی صفائی کا ایک موقع تو دیں میں آپ کو بتاتا ہوں۔“وہ گھگیاتے ہوئے بولے۔
“بس بہت ہو گیا ! اب آپ جا سکتے ہیں ۔ انہوں نے زور دار آواز میں گرجتے ہوئے کہا۔ انہیں اس سے زیادہ غصے میں آج تک کسی نے نہیں دیکھا تھا۔
”سر پلیز آپ میری بات تو سنیں۔“ انہیں اٹھتے دیکھ کر ریحان صاحب بولے تو انہوں نے ان کی فریاد نظر انداز کر دی۔
”مظفر صاحب اب یہ کیس آپ کے سپرد ہے اور کبیر آپ میرے ساتھ کمرے میں آئیں۔“ یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئے اور کبیر علی بھی ان کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل آئے۔
٭….٭….٭
”یہ لیں کبیر آج سے کمپنی کے تمام تر اکاﺅنٹس کی ذمہ داری آپ سنبھالیں گے۔“ شمیم صاحب نے اپنے سامنے بیٹھے کبیر علی کی طرف فائل بڑھاتے ہوئے کہا۔ تو وہ حیران رہ گئے اور بولے۔
”میں سر؟“
”جی آپ اور وہ ساری مراعات جو ریحان کو دی جارہی تھیں بشمول کاراگلے مہینے سے آپ کو ملیں گی۔ہمیں اچھے سے اچھا محنتی اور ذمہ دارشخص مل سکتا ہے، لیکن ایمان داری اس دور میں گوہر نایاب ہے ۔ یہ گوہر میں نے آپ کے اندر دیکھا ہے۔ جسے میں کسی صورت کھونا نہیں چاہتا۔“ وہ مسکرا کر کبیر علی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بولے۔
”مگر….“ کبیر علی ابھی تک شش و پنج میں تھے کہ ان کی آفر کیسے قبول کریں یہ بڑی ذمہ داری تھی۔
”کیا مگر؟ کس سوچ میں پڑ گئے ۔تنخواہ کم ہے چلیں میں بڑھا دیتا ہوں ۔اب خوش۔“ انہوں نے اسے سوچتے دیکھ کر ایک اور آفر دی۔
”نہیں سر! میں تنخواہ کے بارے میں نہیں سوچ رہا۔“ وہ فوراً بولے۔
”پھر؟“ انہوں نے حیران ہو کر سوال کیا۔
”سر یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیسے اٹھا پاﺅں گا۔“ کبیر علی نے پریشانی سے کہا۔
”آپ کر لیں گے مجھے پوری امید ہے “بیسٹ آف لک “آپ جایئے اور اپنی سیٹ سنبھالیے۔“
”شکریہ سر! مجھ پر اتنا اعتماد کرنے کے لیے لیکن ابتداءمیں مجھے آپ کی رہنمائی چاہیے ہوگی۔“ انہوں نے اپنی پریشانی کو الفاظ کا روپ دیا۔
”کبیر میں ہر جگہ آپ کے ساتھ ہوں۔ آپ پورے اعتماد کے ساتھ جاکر اپنی سیٹ سنبھالیے۔“ انہوں نے ان کا حوصلہ بڑھایا۔
”شکریہ آپ کی اتنی محبتوں اور اعتماد کا۔ کیا اب میں جا سکتا ہوں؟“ وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولے۔
”جی بالکل آپ جایئے اور کام سنبھالیے۔“ وہ مسکرائے
کبیر علی نے خاموشی سے باہر نکل کر دروازہ بند کیا ۔تو باہر سٹاف نے انہیں مبارکباد دینی شروع کر دی جو کہ صورتحال سے واقف تھے۔ اور کبیر علی جلد از جلد یہ خوشخبری اماں اور ثنا کو سنانے کے لیے بے چین تھے اور گھر جانا چاہتے تھے لیکن پانچ بجنے میں ابھی دو گھنٹے باقی تھے ۔
٭….٭….٭
اففف کیا تھا ان گھبرائی گھبرائی سی ہرنی آنکھوں میں۔ پانی سے بھری ہوئی صرف ایک لمحہ تو لگا تھا اس نے عمر کی آنکھوں میں دیکھا اور عمر کو اپنا سب کچھ ڈوبتا محسوس ہوا۔ اس سے پہلے بہت سی لڑکیاں اس کی زندگی میں آئیں لیکن اتنی خوبصورت لڑکی جس نے عمر کے اتنی بار اپنی طرف دیکھنے پر بھی نظریں جھکا کر رکھیں۔ ایک بار بھی دوبارہ نظروں سے نظر نہیں ملائی۔ پہلی بار ملی تھی۔ ہماری کلاس کی لڑکیاں تو اتنی شرم و حیا والی نہیں ہوتیں۔ نہیں یار عمر یہ لڑکی صرف ڈرامہ کر رہی تھی۔ اس کے دل نے گواہی دی۔
لیکن پھر خود ہی اپنی گواہی جھٹلا کر سامعہ کے بارے میں سوچنے لگا۔ ”ارے یار میں کیوں بار بار اس کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ عالیہ نے بتایا بھی ہے کہ ایک غریب گھر سے تعلق ہے اس کا۔“ عمر نے خود کو بہلایا، بلکہ بہلانے کی ایک ناکام کوشش کی اور پھر دوبارہ اسی کے خیال میں ناچاہتے ہوئے بھی گُم ہو گیا۔ عالیہ سے بات کرتا ہوں کہ اس کا نمبر دے یہ سوچ کر اس نے عالیہ کا نمبر ڈائل کیا۔
رات کےگیارہ بجے عالیہ نے عمر کی کال دیکھی۔ تو بہت حیران ہوئی۔ وہ عموماً اس وقت فون نہیں کرتا تھا ۔کیا ضرورت پڑ گئی ہے۔ یہی سوچ کر عالیہ نے عمر کی کال ریسیو کر لی۔
”ہیلو عمر !خیر تو ہے اس وقت فون۔“ اس نے حیرانی سے پوچھا۔
”سنو! مجھے تمہاری اس کالج فرینڈ کا نمبر چاہیے۔“ عمر نے کوئی تمہید باندھے بغیر اپنا سوالیہ بیان کر دیا۔ تو عالیہ اپنی جگہ حیران رہ گئی۔شام کو بھی وہ ڈراپ کرنے کے بعد پورے راستے سامعہ کے بارے میں ہی پوچھتا رہا کہ وہ کون ہے؟ اس کے فادر کیا کرتے ہیں؟ عالیہ سے اس کی دوستی کیسے ہوئی؟ وغیرہ وغیرہ اور عالیہ خاموشی سے عمر کی فطرت سمجھتے ہوئے جواب دیتی رہی۔ لیکن دل کے اندر شدید قسم کی جلن سی تھی۔ اسی بنا پر اس نے آخر میں عمر کو سمجھانے کی اپنی سی کوشش کی کہ وہ تمہاری کلاس اور اسٹیٹس سے بالکل میچ نہیں کرتی۔ تب عمر خاموش ہوا اور اب پھر ایک نئی فرمائش۔ عالیہ سوچ میں پڑ گئی کہ اسے کس طرح سمجھائے کیوں کہ وہ جانتی تھی بچپن سے اگر کوئی سودا اس کے سر میں سما جاتا تو مشکل سے ہی اترتا تھا۔ اتنی رات گئے اس نے یہ فرمائش یقینا بہت سوچنے کے بعد ہی کی تھی۔ تو اسے کچھ سمجھانا فضول تھا مگر وہ پھر بھی اپنی کوشش کرنا چاہتی تھی۔
”دیکھو عمر وہ ایک ایسی کلاس سے تعلق رکھتی ہے جہاں اس قسم کی دوستیاں نہیں رکھی جاتیں۔ تم نے دیکھا اس دن اس نے عبایہ پہنا ہوا تھا۔ بہت پرانے خیالات کے لوگ ہیں۔ ایسی دو ستیاں نہیں رکھتے۔
”مجھے نمبر چاہیے عالیہ دینا ہے تو دے دو، ورنہ میں خود کالج آکر تمہارے سامنے اس سے نمبر لے لوں گا۔“ اس نے عالیہ کو دھمکی دی تو عالیہ خاموش ہوگئی ۔جانتی تھی جیسا کہتا تھا کر گزرتا تھا کالج میں تماشا لگوانے سے بہتر تھا کہ اسے نمبر دے دیا جائے۔
”او کے! فون بند کرو میں نمبر ٹیکسٹ کرتی ہوں۔“ اس نے ہار مانتے ہوئے کہا۔ تو عمر کے ہونٹوں پر فاتحانہ سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ ہمیشہ فاتح رہا تھا اس بار کیسے مار کھاتا۔ وہ جانتا تھا عالیہ اس سے بہت محبت کرتی ہے اور کسی صورت اس کی ناراضی مول نہیں لے سکتی۔ فون بند ہونے کے چند سیکنڈز میں ہی ٹیکسٹ آگیا اور عمر نے اپنے فون میں ”لو لی آئیز۔“ کے نام سے سیف بھی کر لیا۔
٭….٭….٭
”اففف میرے خدا! آج تو میرے ساتھ بالکل ایسا ہی سین ہوا جیسا کسی ناول کی ہیروئن کے ساتھ…. مگر کم بخت عالیہ کا کزن نکلا کتنی بے باک نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ یہ ناول کی ہیروئن ایسی نظروں کو کیسے برداشت کرلیتی ہیں۔ میرا تودل چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹے اور میں اس میں غرق ہو جاﺅں۔ کسی کو آپ نہ جانتے ہوں تو شاید ایسی نظریں برداشت ہو جاتی ہیں لیکن وہ عالیہ کی موجودگی میں اتنی بے باکی سے دیکھ رہا تھا۔ خیر تھا بہت اسمارٹ! اس میں کوئی شک نہیں، لیکن عالیہ نے مجھے کبھی اس کے بارے میں بتایا نہیں۔“ وہ سوچ میں پڑ گئی۔ عالیہ کی پوری فیملی کے بارے میں وہ اچھی طرح جانتی تھی…. مگر عمر سے کوئی تعارف نہ تھا۔کیا عالیہ نے مجھے جان بوجھ کر اس کے بارے میں نہیں بتایا کہیں وہ اس سے محبت تو نہیں کرتی ۔
مجھے کیا بھاڑ میں جائے جوتوں سمیت آنکھوں میں گھس رہا تھا کم بخت…. دل پر ہاتھ رکھ کرپوچھوسامعہ بی بی! تمہارے دل میں بھی نرم گوشے بن چکا ہے کہ نہیں؟“ اس نے خود سے سوال کیا توجواب مثبت ہی آیا مگر کہاں وہ اور کہاں ہم۔ہماری ایسی قسمت کہاں؟ کہ…. اسے خود ترسی کا شکارہونے میں ذرا دیر نہیں لگتی تھی۔ وہ ویسے بھی عالیہ اور اپنی کلاس کے فرق کو بہت اچھی طرح جانتی تھی…. اسی لیے بس ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئی۔مت سوچو اُس کے بارے میں ۔کچھ راستے آپ کے لیے نہیں ہوتے ۔
ابھی وہ یہ ساری خرافات سوچ ہی رہی تھی کہ پاس رکھا، فون بج اٹھا۔
”اس وقت کون ہو سکتا ہے ۔“اس نے چونک کرفون اٹھایا ،توایک انجانا نمبر تھا۔اس نے فون اٹھانا مناسب نہ سمجھا اور نظرانداز کر دیا۔ دوسری طرف سے#۔ مسلسل کال نے اسے پریشان کر دیا۔ پھر ایک میسج آیا سامعہ نے میسج پڑھا۔
”پلیزفون اٹھائیں ضروری بات کرنا ہے۔“
”مگر میں آپ کو نہیں جانتی۔“ اس نے ریپلائی کیا۔
”آپ مجھے جانتی ہیں۔“ دوسری طرف سے رپلائی آیا تو اسے فون اٹھانا پڑا یہ سوچ کر کہ شاید کوئی اپنا ہو اور نئے نمبر سے کر رہا ہو۔ ڈرے ڈرے انداز میں سامعہ نے ”ہیلو!“ کہا تو دوسری طرف عمرنے بے تابی سے ”ہیلو!“ کہا۔
”جی کون؟“ اس نے حیرانی سے سوال کیا۔
”سامعہ دیکھیں فون مت رکھیے گا ۔میں عمر بات کر رہا ہوں۔ عالیہ کا کزن۔“ سامعہ ہکا بکا رہ گئی۔ اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ عمر اسے فون کرسکتا ہے۔ اس نے جلدی سے اٹھ کر پہلے کمرے کا دروازہ بند کیا۔ برابر میں ہی ابا جی کا کمرہ تھا، اگر ان کو بھنک بھی پڑی تو اُس کی خیر نہیں۔ اس سارے عرصے میں اس کی سانس پھول گئی۔ وہ دوبارہ اپنے بسترپر آکر بیٹھ گئی۔ وہ شاید سننا چاہتی تھی کہ اس وقت عمر نے اسے کیسے فون کیا۔
”سنیں سامعہ! عمر بات کر رہا ہوں آپ ناراض تو نہیں کہ میں نے اس وقت فون کیوں کیا؟ لیکن شاید مجھے یہی وقت مناسب لگا ،بات کرنے کے لیے۔“ سامعہ خاموش سی اس کی بات سن رہی تھی۔ دل لگتا تھا کہ جسم سے نکل کر باہرآجائے گا۔
”آپ کومیرا نمبر کس نے دیا؟“ وہ سمجھتی تو تھی کہ عالیہ سے نمبر لیا ہو گا لیکن نہ جانے کیوں تصدیق کرنا چاہتی تھی۔
”ظاہرسی بات ہے عالیہ سے لیا، لیکن آپ عالیہ کو کچھ نہ کہیے گا۔ دراصل میں نے اس کا دماغ کھا لیا تھا۔ وہ پہلے تو راضی نہیں تھی لیکن پھر دے دیا۔“ وہ بڑے مزے سے بولا تو اسے عالیہ پر نہ جانے کیوں غصہ آگیا ۔ اس نے میری اجازت کے بغیر نمبر کیوں دیا۔
”سنیں یہ کوئی ٹائم نہیں ہے بات کرنے کا۔“ وہ کچھ غصّے میں آگئی۔ اسے واقعی عالیہ پر غصہ آرہا تھا۔ وہ کچھ اور بات کرتا کہ باہرسے آہٹ سی ہوئی توجھٹ اس نے یہ کہہ کرفون بند کر دیا۔
”سوری باہر کوئی ہے میں ابھی بات نہیں کر سکتی۔“ ابھی اس نے فون بند ہی کیا تھا کہ عالیہ کا فون آگیا۔ عالیہ کا نمبر دیکھ کر اس نے فوراً فون اٹھا لیا۔
”کیا عمر سے بات ہو رہی تھی؟“ عالیہ نے بھی جھٹ اس سے یہی سوال کیا تو وہ اور تپ گئی۔ ©”ظاہر سی بات ہے میرے پوچھے بغیر تم نے اسے میرا نمبر کیوں دیا۔“
”یار اگر نمبر نہ دیتی تو اسے کالج پہنچ جانا تھا۔“ عالیہ نے بھی اس کی ٹون دیکھتے ہوئے اپنی صفائی پیش کی اور سارا قصہ سنایا کہ کس طرح اس نے زور زبردستی سے اس کا نمبر لیا ہے۔، لیکن زیادہ زور اس بات پر تھا کہ وہ اسی طرح چند دن ہر خوبصورت لڑکی سے فلرٹ کرتا ہے اور پھر نئی کی تلاش میں اسے چھوڑ دیتا ہے۔
”لیکن مجھے اس سے کیا۔ پہلی بات تمہیں اس کو میرا نمبر دینا ہی نہیں چاہیے تھا۔تم جانتی ہو میرے ابا جی کو کتنے پرانے خیالات کے ہیں۔ اگر ان کو اس کی بھنک پڑ گئی تو بس….“
”اسی لیے تو تم کوفون کیا کہ بس تم ہی اسے کسی طرح سنبھال لو۔ اپنے ابا جی کے بارے میںبتا دو کہ وہ تمہیں آئندہ فون نہ کرے۔“ عالیہ نے اسے سمجھایا۔
”اگر میں آج اسے نمبر نہ دیتی تووہ کل پورے کالج میں تماشا لگا دیتا۔ میں اپنے کزن کواچھی طرح جانتی ہوں۔“ اس نے اپنی وضاحت دی
”ٹھیک ہے اب اگر اس کا فون آئے گا تو میں اسے بتا دوں گی کہ میں اس کی ٹائپ کی لڑکی نہیں۔“ اس نے بھی دل پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
”ہاں یہی تو میں چاہتی ہوں…. کیوں کہ میں جانتی ہوں تم اس کے ”ٹائپ“ کی نہیں ہو”۔ نہ جانے کیوں ٹائپ کے لفظ کے ساتھ ہی سامعہ کو عالیہ کے لہجے میںہلکا سا طنز سا محسوس ہوا۔ اسے لگا کہ عالیہ خود بھی عمر کی محبت میں گرفتار ہے اور چاہتی ہے کہ سامعہ خود عمر کی محبت سے دستبردار ہو جائے اور سامعہ نے ایسا ہی کرنے کا فیصلہ کیا۔
٭….٭….٭
آج حاجی صاحب دکان سے جلدی اٹھ کر آگئے تھے۔ ظفر بھی گھر میں موجود تھا اور حسب توقع ہاتھ میں کورس کی کتاب لیے کوئی سبق یاد کر رہا تھا۔ حاجی صاحب نے واسکٹ سے دن بھر کی کمائی نکال کر ناہید بیگم کو دی۔
”یہ سنبھال کر رکھ لو کل صبح دُکان کا سامان لانا ہے۔“ ناہید بیگم نے روپے ان کے ہاتھ سے لے کر اندر الماری میں رکھ دیے اور خود کچن میں آگئیں۔ جہاں سامعہ شام کے لیے روٹی بنا رہی تھی۔
”سامعہ تمہارے ابا جی آگئے ہیں ۔اگر کھانا تیار ہے تو سب کے لیےدستر خوان لگا لو۔“ وہ یہ کہہ کر باہر نکل گئیں اور سامعہ نے جلدی سے آخری روٹی ڈال کر فریج سے سالن نکال کرگرم کیا۔ سلاد اوررائتہ وہ پہلے ہی بنا کر فریج میں رکھ چکی تھی۔ آج وہ بھی خلاف توقع تمام کام ماں کے کہنے سے پہلے ہی کررہی تھی۔
کچن میں کھڑی نہ جانے کیا کیا سوچے جارہی تھی کہ اب اگر عمر کا فون آیا تو کیا کہے گی…. اٹھا کر بات کرلو بتادوں اسے …..تمہیں اس میں قطعا ً کوئی دلچسپی نہیں ۔ اور نہ ہی تم ایسی دوستیاں افورڈ کر سکتی ہو ۔ اگر ابا جی کو پتا چل گیا تو انہوں نے مجھے زندہ نہیں چھوڑنا۔
باپ نے کا خیال آتے ہی اس کے سارے ارمانوں پر جیسے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے سے پڑ گئے یا میرے خدا میں کیا کروں۔ یہ عمر نامی مخلوق نے مجھے کیسے امتحان میں ڈال دیا۔
”آپ کو معلوم ہے مس سامعہ آپ کی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں بولتی ہوئی آنکھیں۔“ اسے عمر کی طرف سے آئے ہوئے ایک میسج کا خیال آیا یوں لگا کہ دورسے عمر نے اس کی آنکھوں کو سراہا تو سامعہ کے ہاتھ خود بہ خود اپنی آنکھوں کی سمت بڑھ گئے اور وہ بے خیالی میں ان پر ہاتھ پھیرنے لگی۔
”پاگل تو نہیں ہو گئیں آپا اکیلے اکیلے اپنی آنکھوں پر ہاتھ کیوں پھیر رہی ہو۔؟‘ ظفر جو کچن میں پانی کی بوتل لینے آیا تھا ۔اپنی بہن کو نادانستہ ایسی حرکت کرتے دیکھ کر بولا تو وہ چونک اُٹھی….
”زیادہ بکواس مت کرو میرے ساتھ دستر خوان بچھواﺅ ابا کھانا مانگ رہے ہیں۔“ وہ اس کی بات پر تلملا کر رہ گئی۔
”بھئی تم اور اماں کھا لو مجھے ایک ضروری کام ہے۔ رمیز سے کمپیوٹر کی کتاب لینی ہے میں تو چلا۔“ وہ کھڑے کھڑے ایک سانس میں پورا گلاس ختم کرتے ہوئے بولا….
”خدا کے واسطے ظفر کتنی بار کہا ہے کہ پانی بیٹھ کر اور تین سانس میں پیا کر۔ابا جی دیکھ لیں گے تو ابھی حلق میں انگلی ڈال کر سارا پانی نکال دیں گے۔“ اس نے بھائی کو باپ سے ڈرایا۔
”وہ یہ کام بچپن میں بہت بار کر چکے ہیں۔ لیکن دیکھو ہم بھی ڈھیٹ ہیں اب تک بیٹھ کر پانی پینا نہیں آیا۔“ وہ ڈھٹائی سے بولا تو سامعہ نے منہ بنا لیا۔
”ظفر یہ حکم ابا جی کا نہیں اللہ کا ہے اور بندہ بندے کی نافرمانی کر سکتا ہے لیکن اللہ کی نافرمانی کرنے والا ڈھیٹ شخص خسارے میں رہتا ہے۔“ اس نے سمجھانے کی کوشش کی ۔
”آپا! ابا جی کی غیر موجودگی میں ابا جی کا عہدہ مت سنبھال لیا کرو ۔یار! یہ میرا خسارا ہے نا اس خسارے کو بھی میں ہی بھگتوں گا بس مجھے معاف کر دو۔“ اس نے ہاتھ جوڑے تو سامعہ کو افسوس ہوا۔ ابا نے ہر حکم ڈنڈے کے زور پر منوایا تھا۔ اگر وہ کبھی ظفر کو بٹھا کر پیار سے سمجھاتے تو شاید آج وہ اس حد تک باغی نہ ہوا ہوتا۔
”لیکن تم اس وقت کیوں جارہے ہو۔ ابا جی ناراض ہوں گے۔“ اس نے ایک بار پھر سمجھانے کی اور اسے روکنے کی کوشش کی تو وہ چڑ گیا۔
”آپا پلیز میری کمپیوٹر کی بک رمیزکے پاس ہے ۔وہی لینے جارہا ہوں۔ ابا پوچھیں تو بتا دینا میں گھنٹے میں لوٹ آﺅں گا۔“ یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھا۔
”اچھا موبائل آن رکھنا اگر وہ ناراض ہوئے تو میں کال کر دوں گی۔“ اس نے پیچھے سے پکارا تو وہ رک گیا۔
”او کے آپا´۱ فی الحال تو تم بادشاہ سلامت کو کھانا پہنچا دو۔ ورنہ انہوں نے اماں کوباتیں سُنا سُناکر ہی مار دینا ہے۔“ اس نے باہر سے ابا کی آتی آواز سن کر بہن کوسمجھایا اور خود باہر نکل گیا۔
٭….٭….٭
رات کو خاموشی میں گھڑی کی سوئی ٹک ٹک کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ ہر منٹ پر سامعہ کی دل کی دھڑکن بھی تیز ہوتی جارہی تھی۔ صرف ایک بار اس کا فون ریسیو کرنے میں حرج بھی کیا ہے؟ کون سا اس نے کھا جانا ہے؟ دل نے سمجھایا…. یہ لڑکے اسی طرح اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور پھر بدنام کر دیتے ہیں۔ پہلے اُسے عالیہ کی باتیں یاد آئیں پھر دماغ نے دہائی دی۔ تو وہ بالکل پکی ہو گئی کہ عمر کا فون نہیں سننا۔
گیارہ بج چکے تھے ۔اس نے ایک بار اپنا موبائل آف کر دیا کہ اگر ادھرسے فون کرنے کی کوشش ہو تو موبائل بند ہونے کی صورت میں رابطہ ہی نہیں ہو پائے گا۔ لیکن پھر دل نے سمجھایا۔ یہ کیا بچگانہ حرکت ہے۔ ایک بار اس کی بات سُن لینے میں کیا حرج ہے۔ اس نے کون سا فون سے نکل کر تمہیں کھا جانا ہے؟ فون آن کرو؟ عجیب مخمصے میں تھی پھر دل کی بات مان کر سامعہ نے جلدی سے فون آن کر دیا۔ فون آن ہوتے ہی مس کالز کے میسجیز ریسیو ہوئے جو کہ عمرکی طرف سے ہی تھے۔ یعنی اس نے ٹھیک گیارہ بجے فون کیا تھا۔ کیا مجھے کال بیک کرنا چاہیے؟ دل نے دماغ سے پوچھا ۔تو دماغ نے مشورہ دیا قطعاً نہیں ایسا راستہ مت کھولو جس کی کوئی واضح منزل نہیں…. تمہارا اور اس کا کیا جوڑ…. اور پھرعالیہ…. عالیہ کا خیال آتے ہی اس کو شرمندگی نے گھیر لیا۔ عالیہ کے اندازسے لگتا ہے کہ وہ عمر کو پسند کرتی ہے۔ کیا سوچتی ہو گی میرے بارے میں؟…. لیکن اس میں میرا کیا قصور میں نے تو عمر سے کوئی بات نہیں کی تھی۔
اسی وقت ایک میسج اس کی سکرین پر جھلملایا۔ سامعہ نے میسج اوپن کیا جو عمر کی طرف سے تھا۔
”کیا میں کال کر سکتا ہوں؟ “
”یہ بندہ اس طرح نہیں مانے گا ایک بار بات کرکے اس کو یقین دلا دو کہ تمہیں اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔“
”اور اگر وہ اس کے بعد بھی باز نہ آیا تو۔“ وہ سوچ میں پڑ گئی۔ دوسری طرف سے میسجز کی ایک لائن لگ گئی۔
”پلیز مجھ سے صرف ایک بار بات کر لیں پھر اس کے بعد اگر آپ نہیں چاہیں گی تو کبھی فون نہیں کروں گا۔“ گھا گ کھلاڑی تھا۔ جانتا تھا کہ لڑکیوں کوکس طرح پٹایا جا سکتا ہے۔ اس نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ بے شک وہکسی امیر کبیر اور خوبصورت بندے سے شادی اور محبت کی خواہاں تھی مگر یہاں معاملہ اُس کی دوست کا تھا اور وہ عالیہ کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا چاہتی تھی۔ اس لیے چاہنے کے باوجود فون نہ اُٹھایا۔ دوسری طرف سے بھی کچھ دیر کے بعد خاموشی چھا گئی۔ وہ بڑی دیر تک عمر کے بارے میں ہی سوچتی رہی۔ کیا کمی تھی اس میں اسے توایک سے ایک خوبصورت اور اپنی کلاس کی لڑکی مل سکتی تھی ۔مجھ میں ایسا کیا نظر آیا، جووہ مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اسے عالیہ کی بات یاد آگئی…. وہ انتہائی فلرٹ ہے…. کئی لڑکیوں کی زندگی برباد کر چکا ہے…. تم میری دوست ہواس لیے تمہیں سمجھا رہی ہوں….عمر سے دور رہنا۔
٭….٭….٭

آج حاجی صاحب دکان سے جلد ہی لوٹ آئے اور آتے ہی ناہید بیگم کو ایک لفافہ تھمایا۔
”یہ رکھ لو کل صُبح لے لوں گا۔ بنک بند ہو گیاتھا اس لیے کل صبح جمع کرواﺅں گا۔مسجد کے فنڈ کے پیسے ہیں”۔ وہ محلے کی مسجد کے کمیٹی کے ممبر بھی تھے اور اکثر مسجد کے رفاحی کاموں کے لیے چندے کی رقم وہی بینک میں جمع کرواتے تھے۔
”آپ نے گن لئے تھے کتنے ہیں؟“ انہوں نے یونہی ایک سوال کیا اور حاجی صاحب کو تو غصہ کرنے کا موقع مل گیا۔
”بے وقوف عورت! یہ رقم راستے سے نہیں اُٹھائی اور نہ ہی میرے دن بھر کی کمائی ہے۔ مسجد کے چندے کی رقم ہے۔ رسیدیں کٹتی ہیں اس کی۔“ ناہید بیگم خجل سے ہو گئیں۔ ہاں شاید ان کا سوال ہی بے وقوفانہ تھا۔ انہوں نے فوراً معذرت کرنا اپنا فرض سمجھا کہ کہیں بادشاہ سلامت بیٹے کے سامنے ان کی مزید بے عزتی نہ کر دیں۔
”وہ تو جی میں نے یونہی پوچھ لیا۔ غلطی ہوگئی۔“ یہ کہہ کر وہ فوراً باہر نکل گئیں کہ حاجی صاحب کومزید بولنے کا موقع نہ ملے لیکن دوسرے کمرے میں حاجی صاحب کی بآوازبلند بُڑ بُڑاہٹ انہیں صاف آرہی تھی۔
”عجیب بے وقوف عورت سے پالا پڑا ہے۔ ہر بات پر سوال۔ ہر چیز پر شک ۔جیسے مجھے کسی چیز کا پتا ہی نہیں۔“ اور وہ رقم الماری میں رکھتے ہوئے سوچ رہی تھیں۔ عورت کا سوال کرنا ہی اس کے لیے سب سے بڑا عذاب ہے۔ بولتی اورسوال اٹھاتی عورت مرد کو کب بھاتی ہے۔ اُسے تو بس جی حضوری کرنے والی غلام عورتیں پسند ہیں ۔ جو اس کی خدائی کی تسکین کا ذریعہ ہوں۔ انہوں نے کوئی غلط سوال نہیں کیا تھا۔ رقم کتنی تھی اس بارے میں ان کو بھی پتا ہونا ضروری تھا۔ کل وہ دعویٰ کر دیں کہ اس میں سے رقم کم ہے تو وہ کیا کریں گی، لیکن یہ ساری باتیں ان کے دل میں ہی رہ گئیں۔ انہوں نے ٹھنڈی سانس بھری۔ شادی سے لے کر اب تک حاجی صاحب نے اسی طرح انہیں بے وقوف کہہ کہہ کربچوں کے سامنے ذلیل کیا۔ اور اس بے عزتی نے ان کے اعتماد کوبالکل صفر کر دیا تھا۔ وہ جب بھی ان پر چلّاکے یا غصہ کرکے جاتے تھے، ناہید بیگم کے ہاتھ اور ٹانگیں کانپنا شروع ہو جاتیں۔ اور اس وقت بھی الماری میں رقم رکھ کر تالا لگاتے ہوئے ان کے ہاتھ بری طرح کپکپا رہے تھے۔ تجوری لاک ہو کر ہی نہیں دے رہی تھی۔
٭….٭….٭
ماں باپ کے سوتے ہی ظفر خاموشی سے تجوری والے کمرے میں آیا۔ اور جیب سے چابیوں کا وہ گچھا نکالا، جو وہ پہلے ہی موقع پاتے ماں کے تکیے کے نیچے سے نکال چکا تھا۔ کچھ دیر میں ہی ایک گڈی سے اس نے گن کر دس ہزار پانچ پانچ سووالے نوٹ نکالے اور اس کی جیب میں منتقل ہو گئے۔ آرام سے چابی نکالی اور باہر نکل آیا۔ چابی اس نے کچن میں الماری کے اندر رکھ دی۔ جہاں چینی اور پتی رکھی جاتی تھی۔ صبح ہونے میں کچھ دیر تھی۔ اماں جب صبح اُٹھ کر چائے بنانے آئیں گی تو چابیوں کا گچھا یہاں رکھا دیکھ کر یقینا یہی سمجھیں گی کہ رات کو وہ غلطی سے یہاں بھول گئیں اور پھر انہوں نے کون سا گن کررکھے تھے۔ یہی سوچ کر اس نے اطمینان کا سانس لیا اور خاموشی سے اپنے کمرے میں آکر لیٹ گیا۔ ان پیسوں کا کیا استعمال کرنا ہے کہ یہ ڈبل ہو جائیں۔ اب اس کا ذہن اس پلان پر کام کر رہا تھا اور نیند کی وادیوں میں دوبارہ جانے سے پہلے وہ اس رقم کا صحیح مصرف ڈھونڈ چکا تھا۔ صبح اٹھ کر وہ بغیر ناشتے گھر سے نکل گیا۔
٭….٭….٭
صُبح آنکھ کھلی تو سامعہ کے موبائل پر ڈھیر ساری مس کالز تھیں۔ اس نے نمبر دیکھا تو عمر آفندی کی کالز اور ساتھ ہی ڈھیر سارے میسجز بھی تھے جو اس نے بغیر پڑھے ڈیلیٹ کر دیے اور ساتھ ہی نمبر بھی بلاکڈ کر دیا۔
”کیا کروں سوری عمر! میں آپ کے جھانسے میں نہیں آسکتی۔“ کالجز بھی بند ہو چکے تھے ٹھیک پندرہ دن کے بعد امتحانات شروع ہونے والے تھے اور وہ پوری توجہ سے پڑھائی کرنا چاہتی تھی، لیکن یہ شخص….
اس نے ٹھنڈی سانس لے کر موبائل ایک طرف رکھ دیا اور خود واش روم میں گھس گئی۔ منہ ہاتھ دھو کر باہر آئی تو اماں ابا میں کسی بات پر بحث ہو رہی تھی۔
”حاجی صاحب! خدا کی قسم آپ نے جس طرح پیسے دیے میں نے ویسے ہی پیسے جاکر تجوری میں رکھ دیے تھے۔“ اماں گھگھیا رہی تھیں۔
”مگر اس میں تودس ہزار کم ہیں۔“ وہ گرج کر بولے تو ناہید بیگم کی ٹانگیں کپکپانے لگیں۔
”مجھے پتا نہیں کہ اس میں کتنے پیسے تھے ۔آپ نے جیسے دیے ویسے ہی رکھ دیے تھے۔“ انہوں نے مری مری آواز میں کہا۔
”تو کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں ایک لاکھ کی رقم تھی۔ اب نو ّے ہزار ہیں۔ سچ سچ بتاﺅ دس ہزار کہاں گئے“ وہ زور سے چلائے ۔
”آپ مجھ سے کیسی قسم لے لیں حاجی صاحب۔ جیسے دیے تھے میں نے ویسے ہی رکھ دیے۔“ وہ اب رو پڑنے کو تھیں۔ ”ظفر کو بلاﺅ یہ یقینا اس کا کارنامہ ہو گا۔“ اب وہ سامعہ کی طرف پلٹ کر بولے، تو سامعہ نے معاملے کی سنجیدگی سمجھتے ہوئے ظفر کے کمرے کی طرف دوڑ لگا دی۔ کمرہ خالی تھا۔ ظفر کمرے میں ہوتا تو ملتا۔
”ابا ظفر کمرے میں نہیں ہے۔“ اس نے آکر باپ کو خبر سنائی تو وہ جھلّا اٹھے۔ بے غیرت! اب گھر میں بھی چوری کرنے لگا ہے۔ مل جائے کم بخت ! ٹانگیں توڑ دوں گا۔ فون ملاﺅ سامعہ اور کہو فوراً گھر آئے۔“
وہ گرجے تو سامعہ نے ہاتھ میں پکڑے موبائل پر بے ساختہ اس کا نمبر ملایا، لیکن دوسری طرف نمبر بند جانے کی نوید سُن کر اس نے لاﺅڈ سپیکر آن کر دیا۔ تاکہ جواب نہ دینا پڑے۔
”آج یہ کم بخت میرے ہاتھوں سے نہیں بچے گا۔ تم دیکھنا یہ گھر آئے میں اس کی کیسی درگت بناتا ہوں۔“انہوں نے جھّلاتے ہوئے کہا۔
”کیا پتا اس نے نہ چرائے ہوں ابا جی۔“ سامعہ نے ان کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ تو وہ اس کی طرف پلٹ دیے۔
”تو پھریقینا تم نے چوری کی ہو گی۔“ ان کی آنکھوں میں سخت طنز تھا….
”میں نے؟ نہیں ابا جی میں نے کبھی ایسا کام نہیں کیا۔“ وہ بوکھلا کر رہ گئی۔ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ابا اس پر ایسا الزام بھی لگا سکتے ہیں۔
”اس گھر میں تمہاری ماں، تم، تمہارا بھائی اورمیں رہتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی تو ایسا ہے جس نے چوری کی ہے ۔سُن لو جو بھی چور نکلا اس کی خیر نہیں۔ میں اسے ہرگز معاف نہیں کروں گا۔“ وہ آنکھوں میں آگ لیے اسے گھور رہے تھے ۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اگر ظفر نے یہ کام کیا ہے تو پھر آج تو اس کی خیر نہیں مگروہ اس وقت ہے کہاں؟۔۔۔۔۔۔
٭….٭….٭
ظفر نے گھر سے نکلتے ہی موبائل سے سِم نکالی اور دوسری سِم لگا لی۔ آن ہوتے ہی کسی کو کال ملائی۔ دوسری طرف سے فون فوراً ہی اٹھا لیا گیا۔
”ہاں بول ظفر! اتنی صبح صبح فون۔“ احمر نے حیرانی سے پوچھا۔
”مجھے پتا ہے توصُبح چھے بجے کے بعد ہی سوتا ہے۔ اس لیے کال کر لی۔“ ظفر نے ہنستے ہوئے کہا۔
”اچھا جلدی بول کیا کام ہے؟“ احمر نے اس کی بات کو قطعاً کوئی اہمیت نہ دی۔ وہ شاید اب سونا چاہتا تھا۔ اس لیے کسی فضول بکواس برداشت کرنے کے بالکل موڈ میں نہ تھا۔
”یار آج کوئی ریس ہے۔“ ظفر نے بھی ٹائم برباد کرنا نامناسب سمجھا۔
”تجھے کیا کرنا ہے۔ سوائے دیکھنے کے۔“ اس بار احمر نے اس کا مذاق اڑایا۔ وہ جانتا تھا کہ بائیک ریس میں آج تک اس نے صرف تماشائی کا کردار ادا کیا ہے۔ پیسا لگا کر ریس کبھی نہ لگائی۔
”کیا پتا میں اس بار پیسا لگاﺅں۔“ظفر نے شوخی سے کہا۔
”اوئے رات کو چرس تو نہیں پی تو نے۔ لڑکے کم از کم پانچ ہزار لگاتے ہیں ریس میں۔ تیری جیب میں تو پتے کھیلنے کے لیے بھی پانچ سو کم ہی ہوتے ہیں۔ تو ریس میں کیا لگائے گا۔“ احمر نے پھر مذاق اُڑایا۔
”تو شام کو ریس کا ٹائم بتا اور میرا نام لکھ لے۔“ اس بار اُسے بھی غصہ آگیا۔
”اچھا بڑی بات ہے لگتا ہے۔ کہیں بڑا ہاتھ مارا ہے۔“ احمد نے حیرانی سے کہا۔
”تو سب باتیں چھوڑ ٹائم بتا۔“ اس بار ظفر کی آواز میں تھوڑا غصہ تھا ،تو احمر کو یقین کرنا پڑا۔
”ٹھیک ہے بھائی! چار بجے تک گھوڑا چوک پہنچ جانا۔ سارے ساتھی وہیں ہوں گے اور ہاں پولیس سے بچنے کا انتظام تجھے خود کرنا پڑے گا۔ وہ میری ذمہ داری نہیں۔“احمر نے بھی اس کی بات پر یقین کرتے ہوئے تنبیہہ کی۔
تو ظفر نے اوکے کہہ کر فون بند کر دیا۔ پھر ایک کھوکھے پر بیٹھ کر نان چنے کھائے۔ اور اُٹھ کر بائیک میں چند ضروری تبدیلیاں کروانے کے لیے اپنے دوست کی ورک شاپ پر آگیا۔
رحمت اللہ ابھی دکان کھول ہی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔
”اتنیصُبح صُبحخیر تو ہے دوست۔“ وہ دکان کاسامان اُٹھا کر باہررکھ رہا تھا۔ ٹائرز، پرانی بائیکس کے ڈھانچے اور دیگرپرزہ جات۔ ایک کے بعد ایک سارا سامان جو وہ دکان بند کرتے ہوئے اندررکھتا اب باہر رکھ رہا تھا۔ ظفر بھی انہی میں سے ایک ٹائر پر بیٹھ گیا۔
”یار! آج ایک ریس میں حصہ لینا ہے۔ ذرا میری بائیک کو کسٹمائز تو کر دے۔“
”ارے واہ میرا بھائی! تو بھی ریس میں حصہ لے گا ۔کتنی بار تجھے کہا لیکن تو نہیں مانا۔ لگتا ہے آج جیب میں کافی مال ہے۔“ رحمت اللہ کو بھی بڑی حیرانی ہوئی ۔ورنہ وہ ہمیشہ اسے ریس میں حصہ لینے اور پیسے جیتنے کا مشورہ دیتا تھا۔ لیکن ظفر اپنی خالی جیب کو دیکھ کر خاموش ہو جاتا۔ آج اس نے خوشی خوشی پانچ ہزاررحمت اللہ کے آگے رکھے کہ میری بائیک آلٹر کر دے ۔ پھر تقریباً تین بجے تک اس کی بائیک ریس کے لیے بالکل تیار تھی۔ آج وہ ہر قیمت پر ریس جیتنا اور اپنی قسمت آزمانا چاہتا تھا۔ مگر قسمت اسے کسی اور طرح آزمانا چاہتی تھی۔
٭….٭….٭
ناہید بیگم بہت پریشان تھیں۔ جانتی تھیں کہ اگر یہ کام ظفر نے کیا ہے تو پھر حاجی صاحب نے اسے بالکل نہیں چھوڑنا۔ کیا کروں کس سے بات کروں۔
”ارے سامعہ دوبارہ اس کم بخت کا نمبر تو ملا کہاں چلا گیا ہے ۔میرا تودل ہول رہا ہے۔“ انہوں نے دل میں بُرے بُرے خیالات کے آنے پر دہل کر سامعہ کوپکارا۔ تو چائے بناتی سامعہ نے دوبارہ نمبر ملایا جہاں سے آپ کا مطلوبہ نمبر بند ہے کی نوید ملی۔ اس نے وہیں سے کہا” اماں فون ابھی بھی بند ہے۔ فکر مت کریں آجائے گا۔“ اس نے اپنی فکر چھپاتے ہوئے ماں کو دلاسہ دیا اور ساتھ ہی کپوں میں چائے انڈیل کرلے آئی۔ اماں اسی پوزیشن میں پریشان سی بیٹھی تھیں۔ اسے ان پر ترس آگیا۔
”اماں آجائے گا فکر مت کریں یہ لیں چائے پئیں۔“ اس نے کپ اس کے سامنے پڑی میز پر رکھا اورتسلی دی تو وہ رو پڑیں۔
”سامعہ! مجھے بھی سمجھ نہیں آیا۔ یہ مرد کی توجہ اور محبت میری قسمت میں کیوں نہیں۔ بھائی، شوہر اور اب بیٹا سب نے مجھے ایک جیسے ہی دُکھ ہی دیے ہیں۔“ آج پہلی بارسامعہ نے اماں کو رشتوں کا دُکھ کرتے دیکھا تھا ورنہ وہ تو ہمیشہ ان رشتوں کی نارسائی پرسکون نظر آتی تھیں۔
”اماں آپ نے ان رشتوں سے خواہ مخواہ کی محبت بھی تو بہت کی لیکنجب محبت کی جاتی ہے تو توقع کی پوٹلی ایک طرف رکھ کر کی جاتی ہے۔ ورنہ سوائے دکھ کے اور کچھ نہیں ملتا۔“ اس نے ماں کو سمجھایا۔
”ہاں شاید تم ٹھیک کہتی ہو۔ باپ کے مرنے کے بعد بھائی کو باپ سمجھا۔ ان کے ہر حکم پر سر جھکایا۔ حتیٰ کہ کبھی کبھی اپنی خوشی بھی قربان کر دی۔ لیکن دیکھو بھابھی جان کے آتے ہی انہوں نے کیسے آنکھیں پھیر لیں۔ تمہارے باپ کی ہر جائز ناجائز مانی لیکن کیا پایا اور اب میری پیٹ کی اولاد ایسا دُکھ دے رہی ہے۔ میں تو اُسے بددعا بھی نہیں دے سکتی۔“ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔ تو سامعہ نے انہیں اُٹھ کرگلے سے لگا لیا۔ اسے معلوم تھا کہ اماں ظفر کے دُکھ کو دل ہی دل میں پال رہی ہیں۔
اچھا ہے آج ان کا دُکھ اندر سے آنسوﺅں کی صورت بہہ جائے۔ اس نے اماں کو رونے دیااور پھر جب وہ خاموش ہوئیں تو چائے کا کپ اُٹھاکر انہیں تھما دیا۔
”اماں خالہ جان سے بات کراﺅں۔ آپ کے دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔“ اس نے پوچھتے ہوئے خالہ جان کا نمبر بھی ملا کر فون انہیں تھما دیا۔ دوسری طرف بڑی بہن کی آواز سن کر ان کے آنسو تیزی سے بہنے لگے اور انہوں نے سارا قصہ سنا دیا۔ تو وہ بھی پریشان ہو گئیں۔
”پریشان نہ ہو وہ آجائے گا ۔دوستوں میں بیٹھا ہو گا۔“ انہوں نے بہن کو تسلّی دی۔
”آپا فون بند جارہا ہے۔ اس کا سامعہ کئی بار ٹرائی کر چکی ہے۔“ وہ روہانسی ہوگئیں۔
”فکر مت کرو میں ابھی کبیر کو آفس فون کرتی ہوں کہ اٹھ کر پتا کرے۔“ وہ بھی پریشانی سے بولیں تو ناہید بیگم نے فوراً منع کر دیا۔
”نہیں آپا! ابھی کبیر کو آفس میں پریشان مت کریں۔ میں شام تک دیکھتی ہوں اگر نہ آیا تو آپ کو بتاﺅں گی۔“ وہ بھانجے کی محبت میں فوراً بولیں کہ وہ انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھیں۔
”اچھا چلو ٹھیک ہے پریشان مت ہونا اور جیسے ہی ظفر گھر آجائے مجھے ایک فون کر دینا ۔ورنہ میں بھی گھر میں پریشان رہوں گی۔“
”جی ٹھیک ہے آپا! میں نے آپ کو بھی پریشان کر دیا۔“ ناہید بیگم کوشرمندگی سی ہوئی کہ اب سوچ سوچ کر ان کی شوگر ہائی ہو جائے گی ۔ خوامخواہ فون کرکے بتا دیا۔
”کیسی غیروں والی بات کرتی ہو ناہید! بہن بھائی اگر ایک دوسرے کی محبت میں پریشانی نہیں بانٹیں گے تو لعنت ہے ایسے خونی رشتوں پر۔“ وہ غصہ ہوگئیں۔
”آپا یہ توسمجھنے والی بات ہے ۔بھائی جان نے توایسا رشتہ توڑا کہ پلٹ کر بھی نہیں پوچھتے کہ تم زندہ ہو کہ مر گئیں۔“ انہیں پھر بھائی کی محبت یاد آگئی۔
”کاش حاجی صاحب بھی تھوڑا سخت رویہ نہ رکھتے تو کوئی درمیانی راہ نکل سکتی تھی ناہید۔ بھابھی جان کو تو موقع چاہیے تھا بھائی جان کوبھرنے کا اور انہیں موقع مل گیا۔“ انہوں نے ناہید کوسمجھایا کہ ساری غلطی بھائی کی نہیں ،ان کے میاں کی انا بھی اس میں برابر کی شریک ہے۔
”آپا کہتے ہیں کہ بھائی تو سب پیارے ہوتے ہیں لیکن ماں باپ کے مرنے کے بعد وہ بھائی زیادہ پیارے ہو جاتے ہیں جنہوں نے آپ کا میکہ آبادرکھا ہو۔ بھائی کم از کم یہی سوچ کر آجاتے کہ ہمارے میکے کا وہی ایک سہارا ہیں۔ حاجی صاحب سے معافی مانگ لیتے۔ بات ختم کر دیتے۔“ ان کے لہجے کی حسرت نے بہن کا دل چیر دیا۔
”اچھا چلو چھوڑو ہمیشہ یہی باتیں دہراتی ۔ہو ادھر حاجی صاحب اور ادھر ہماری بھابھی۔ کبھی بہن بھائی کو ملنے نہیں دیں گی۔ تو چھوڑو ان باتوں کو دعا کرو کہ ظفر جلدازجلد گھر پہنچ جائے۔“ اس بار انہوں نے بات بدلنے کی کوشش اور اس میں وہ کامیاب بھی ہو گئیں۔ ادھر ادھر کی چند باتوں کے بعد انہوں نے فون بند کر دیا۔

کبیر علی اپنی ذمہ داریاں بہ خیر و خوبی نبھا رہے تھے اور اس سلسلے میں انہیں شمیم صاحب کی پوری سپورٹ حاصل تھی۔ انہیں جہاں مشکل پیش آتی وہ شمیم صاحب سے فوری مدد طلب کر لیتے۔ انہیں معلوم تھا کہ ریحان صاحب نے خاموش ہو کر نہیں بیٹھنا ۔اوروہی ہوا ۔آج آفس جاتے ہوئے انہیں ایک انجان نمبر سے کال ریسیو ہوئی۔ کسی پی سی او کا نمبر تھا۔ انہوں نے کچھ سوچ کر فون اٹھا لیا۔” ہیلو”
”ہیلو! بڑا اونچا اڑ رہے ہو. کبیر علی! بہت جلد تمہارے پر کترنے والے ہیں۔“ دوسری طرف کسی کی خبیث آواز نے ان کو چوکنا کر دیا۔
”کون بول رہا ہے۔“ اس بار انہوں نے ڈپٹ کر کہا۔
”بہت جلد پتا چل جائے گا۔ انتظار کرو اتنی آسانی سے چھوڑنے والے نہیں ہم۔“ دوسری طرف سے بھی سختی سے بات کرکے فون بند کر دیا گیا۔
کبیر علی بزدل نہیں تھے ۔لیکن بات کرنے والے کی آواز میں اتنی سختی اور ٹھنڈک تھی کہ انہیں ابھی تک اس کی آواز ریڑھ کی ہڈی میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ خاموشی سے بائیک آگے بڑھا کر چل دیے۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ یہ بات شمیم صاحب کو بتائیں یا نہیں۔ انہیں معلوم تھا یہ فون ریحان صاحب نے کروایا ہو گا…. اور شاید وہ اپنی شکست پر خاموشی سے نہیں بیٹھیں گے۔ آفس پہنچ کر انہوں نے شمیم صاحب کا پوچھا تو پتا چلا کہ وہ تو کل رات سے ہسپٹلائز ہیں۔ انہیں شدید بی پی ہائی ہونے کی وجہ سے ہسپٹلائز کر دیا گیا تھا ۔ ابھی کسی سے ملاقات کی اجازت نہیں۔ آفس کے سب لوگ ان کی خیریت پوچھنے شام کو جانے کا ارادہ کیے ہوئے اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ کبیر علی نے بھی ان کی صحت کے پیش انہیںکوئی بات نہ بتانے کا فیصلہ کر لیا۔ اگر دوسری بار کوئی فون آیا تو پھر دیکھا جائے گا ،فی الحال خاموشی ہی بہتر ہے۔
٭….٭….٭
”لے بھئی شہزادلے! تیری بائیک تو مکمل طور پر آلٹر کر دی گئی ہے اب یہ شہزادی ریس کے لئے تیار ہے۔“رحمت اللہ نے بائیک ظفر کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا۔
”دیکھ لے بھائی کوئی مسئلہ تو نہیں کرے گی۔“ اس نے بائیک کی گدی پر ہاتھ مارتے ہوئے پوچھا تو رحمت اللہ ہنس پڑا۔
”او بھائی !تو نے یہ پہلی بار ریس کے لیے آلٹر کروائی ہے۔ رحمت اللہ کا پانابھی کسی ٹوٹی پھوٹی بائیک کو لگ جائے تووہ بھی گھوڑے کی طرح دوڑتی ہے۔“
”دیکھ لے بھائی مروا نہ دینا۔“ وہ ابھی بھی مطمئن نہ تھا ۔
”او! اگر ماں باپ کی دعائیں ساتھ ہیں تو تو نہیں مرتا ۔ورنہ تو موت پوچھ کر تو نہیں آتی۔ بھائی´۱ ابھی مرنا ہے یا کل۔“وہ تھوڑا مضحکہ خیز انداز میں بولا۔ تو اسے اماں یاد آگئیں، جو روز اس کے گھر سے نکلتے وقت اس پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکتیں تھیں۔ لیکن آج تو اماں نے آیت الکرسی کا حصار بھی نہیں کیا۔ خیر اللہ مالک ہے۔ یہ سوچ کر اس نے بائیککو زور دارکک لگائی۔ وہ جلد از جلد گھوڑا چوک پہنچنا چاہتا تھا جہاں احمر اور اس کے دوسرے ساتھی انتظار کررہے تھے۔
احمر اسے دیکھتے ہی بولا: ”میں سمجھا تو نہیں آئے گا۔ بھاگ گیا تو۔“
”ارے نہیں یار بائیک آلٹر کروا رہا تھا۔ اسی میں دیر ہو گئی۔“اس نے کھّسیاکر جواب دیا۔
” آج تمہارا مقابلہ فہیم سے ہے۔ جانتے ہونا فہیم کو۔“ احمر نے اس سے پوچھا تو اس کی آنکھوں میں تیز رفتار بائیکر فہیم گھوم گیا ۔جس نے کبھی کوئی ریس نہیں ہاری تھی۔
”او بھائی! مروائے گا کیا وہ تو بہت زبردست بائیکر ہے۔“ ظفر پریشان ہو گیا۔
”تو پھر ایسا کر وہ سامنے میرا منّا کھڑا ہے۔ اس سے ریس لگوا لے۔“ احمر نے اپنے بارہ سالہ چھوٹے بھائی کی طرف اشارہ کیا۔ تو آس پاس کھڑے سب لڑکے ہنسنے لگے۔ ظفر کو کھسیاہٹ سی محسوس ہوئی۔
”نہیں میں یہ تو نہیں۔ چاہ رہا لیکن۔“ اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو فہیم نے روک دیا۔
”لیکن ویکن کچھ نہیں اگر ریس لگانی ہے تو پیسہ نکالو۔ فہیم بھی آنے والا ہے۔ ورنہ فہیم کا مقابلہ میں کسی اور کے ساتھ کروا دوں گا۔“ احمر نے دھمکی دی اور دھمکی کامیاب بھی ہو گئی۔ اس نے جلدی سے جیب سے پانچ ہزار نکال کر اس کے حوالے کر دیے۔ پانچ پانچ سو والے دس نوٹوں والی گڈی تھی، جو جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے احمر نے کھینچ لی…. روڈ بالکل سنسان تھی اکا دکا کاریں آجا رہی تھیں۔ کچھ دیر میں فہیم بھی پہنچ گیا۔جس کی بائیک بھی مکمل کسٹمائز تھی اور لش پش کر رہی تھی۔ اس کے مقابلے میں ظفر کو اپنی بائیک سوزکی اور پجارو کا مقابلہ محسوس ہوئی۔ لیکن کیا ہو سکتا تھا۔ او کھلی میں سردیا تو موصلوں سے کیا ڈرنا کے مصداق وہ فہیم کو دیکھ کر مسکرانے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔ فہیم نے بھی ایک مسکراہٹ اس کی طرف اُچھالی اور دوسرے لڑکوں سے بات کرنے لگا۔ احمر نے دونوں کو چند ہدایات دیں، جس میں سب سے اہم بات یہ کہ پولیس والوں کو دیکھتے ہی تمام موٹر بائیکس والے فوراً کسی نہ کسی طرف دوڑ لگا لیں ۔ ورنہ اگر پکڑے گئے تو اس کی ذمہ داری نہیں ہو گی اور نہ ہی کوئی اس کے گروپ کا نام لے گا۔
اس کی آخری بات سے ظفر کے اندر خوف نے جنم لیا کہ اگرپکڑے گئے تو جیل بھی ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ یہ ریس زندگی اور موت کا کھیل ہے۔ اس نے آخری بار اپنی بائیک کا ہر پرزہ اچھی طرح چیک کیا۔
٭….٭….٭
عمر کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اتنی سی لڑکی نے اسے انکار کی جرا¿ت ہی کیسے کی۔ اسے تو آج تک انکار سننے کی عادت ہی نہ تھی۔ وہ جب جس موقع پر چڑیا کو دانا ڈالتا ممکن ہی نہ تھا کہ چڑیا نہ پھنستی۔ اور یہ چھٹانک بھر کی لڑکی مجھے کھری کھری سنا رہی ہے۔ صرف اس لئے کہ وہ عالیہ کی دوست ہے اور عالیہ کی نظروں میں گرنا نہیں چاہتی۔
”ایسا کیا کروں کہ وہ میری بات کا اعتبار کرلے….“ وہ آج ڈے فرسٹ آفس آیا تھا اورپہلے ہی دن اس کاکسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا….
”کیا کروں؟ “تین بج چکے تھے اس نے آفس سے اُٹھنا ہی مناسب سمجھا…. اور کار میں بیٹھتے ہی فون پر عالیہ کا نمبر ملایا اور ایسا نادانستہ ہوا یا دانستہ اس کی سمجھ میں نہیں آیا…. دوسری طرف اس کی کال دیکھتے ہی عالیہ نے فوراً فون اُٹھا لیا….
”ہاں عمربولو!“ اس کی بے تابی عمر سے چھپی نہ رہی۔
”کیا تمہاری سامعہ سے کوئی بات ہوئی ہے۔“ اس نے سلام دعا کی ضرورت بھی محسوس نہ کی فوراً اپنا سوال داغ دیا۔
”نہیں بالکل نہیں۔“ عالیہ نے صاف جھوٹ بولا۔
”اچھا تو پھر وہ مجھ سے بات کرنے میں اتناکترا کیوں رہی ہے۔“ وہ تشویش کا شکار تھا۔ اسے عالیہ کے جھوٹ پر یقین نہ آیا۔
”دیکھو عمر میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا کہ وہ ایک پرانی سوچ رکھنے والی لڑکی ہے۔ اسے ایسی باتوں پر بالکل یقین نہیں دو سالوں میں میں نے اسے کسی لڑکے میں کبھی انوالو نہیں دیکھا۔ اس کے ماں باپ تو بی اے کے بعدہی اس کا نکاح کر دیں گے۔“ عالیہ نے پھر ایک بار جھوٹ کا سہارا لیا ۔وہ ہر صورت سامعہ کا پتا صاف کرنا چاہتی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ عمر اس معاملے میں زیادہ سیریس ہو…. اسی لیے اس نے سامعہ کو پہلے ہی ساری بات بتا دی تھی۔ خوبصورت لڑکیاں اس کی کمزوری ہیں لیکن وہ یہ کمزوری چند دن تک ہی اپنی زندگی کا حصہ بناتا ہے پھر چھوڑ کر نئے شکار کی تلاش کرتا ہے۔
”نکاح مگرکس سے۔“وہ ایک دم چونک گیا۔
” یقینا کوئی نا کوئی تو ہو گا ۔ کوئی کزن بھی ہو سکتا ہے۔“ عالیہ نے اندھیرے میں تیر چلایا ۔تو عمر خاموشی سے اس کی شکل دیکھنے لگا۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا وہ کسی کے لیے اتنا سیریس ہوا اور وہ ابتدا میں ہی اس کے ہاتھ نہ آئی۔
٭….٭….٭
سامعہ جانتی تھی کہ اکثر خوبصورت لڑکے فلرٹ ہوتے ہیں لیکن اس کی زندگی میں آنے والا پہلا لڑکا ہی اس سے فلرٹ کرے گا۔ اسے بالکل یقین نہیں آرہا تھا۔وہ عالیہ کا کزن تھا اور عالیہ اُسے بہت اچھی طرح جانتی تھی۔ جھوٹ تو نہیں بولے گی نا…. کاش تم میرے لیے سچی محبت کا پیغام لاتے عمر! تو میں تمہیں ہرصورت پانے کی کوشش کرتی….ہمارے جیسی لڑکیاں آٹھ دس لڑکوں سے فلرٹ افورڈ نہیں کرسکتیں…. بے شک تم خوبصورت ہو امیر ہو مگر شاید میری قسمت میں نہیں…. اور جوقسمت میں نہ ہو…. اس کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہئے…. وہ رات والی بات سے سخت اداس تھی…. ادھرظفر بھی صُبح سے غائب تھا اور اس کا فون بھی بند جارہا تھا…. اس بات نے اسے اور بھی تکلیف اور کوفت میں مبتلا کر دیا…. کیا ہے یار اس گھٹن زدہ زندگی میں کہیں کوئی درز ایسی نہیں جہاںکبھی کبھار ناک رکھ کر تازہ ہوا ہی لے لی جائے…. ہر طرف سے بند گھٹن زدہ ماحول انسان کے اندر ایسی گھٹن پیدا کر دیتا ہے کہ آہستہ آہستہ پہلے روح مردہ ہوتی ہے اور پھر بنا روح کے جسم ساکت…. اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کا دم گھٹ رہا ہے۔ وہ تازہ ہوا کے لیے باہر آنگن میں نکل آئی۔ جہاں نیم کے درخت کے نیچے پڑے تخت پر اماں چپ چاپ بیٹھی تھیں۔ شاید کسی طوفان کا انتظار کر رہی تھیں یا ان کے چہرے پر ایسا درد لکھا تھا کہ ایک لمحے کے لیے سامعہ کپکپا کر رہ گئی….
”اماں کیا سوچ رہی ہیں؟“ اس نے ساکت بیٹھی اماں کے کندھے کو ہلایا تو وہ چونک گئیں۔
”کیا ظفر آگیا۔ “ انہوں نے بے ساختہ پوچھا۔
”نہیں اماں ابھی تک اس کا کوئی پتا نہیں اورفون بھی بند ہے۔“ وہ خود بہت پریشان تھی…. اماں کچھ تو کھا لیں۔ لے آﺅں۔“ اس نے پریشان سی اماں کو دیکھ کرپوچھا۔ تو وہ طنزیہ سی مسکرا کربولیں۔
”کھا تو رہی صبح سے غم، دُکھ، تکلیف بس پیٹ بھر گیا ۔لگتا ہے زیادہ کھا لوں گی تو بدہضمی ہو جائے گی۔“ وہ تلخی سے بولیں تو سامعہ کا دل دکھ سے بھر گیا۔
”اماں مت کریں ایسی باتیں۔ چائے بنا کرلاﺅں آپ کے لیے؟“ اس نے سمجھایا اور پوچھا۔
اسے اماں پر بہت ترس آیا۔وہ چاہتی تھی کہ چائے کے ساتھ ہی ان کو دو چار بسکٹس کھلا دے تاکہ انہیں کچھ تو سکون ملے۔ چائے تو دن میں وہ کئی بار پی جاتی تھیں۔ لیکن آج تک ظفر کی وجہ سے ناشتہ تو کیا شاید صبح کی چائے بھی ٹھیک سے نہیں پی۔ اس نے چولہے پر پانی رکھا اور اپنا اور اماں کا کپ ٹرے میں رکھ کر کیتلی میں پتی ڈالی ۔پانچ منٹ میں چائے تیار تھی۔ وہ ساتھ میں کیبنٹ میں رکھا بسکٹ کا ایک پیکٹ بھی ٹرے میں رکھ کر اماں کے پاس آگئی۔
”لیں اماں چائے پئیں اور ساتھ بسکٹ بھی کھائیں۔“
اس نے ٹرے تخت پر رکھتے ہوئے اماں سے کہا تو وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگیں۔
”سنو! اگر پیسے واقعی ظفر نے چرائے ہیں تو آج تمہارے ابا نے اسے چھوڑنا نہیں ہے۔“ان کی آنکھوں میں خدشات تھے ۔
وہ دور خلاﺅں میں گھور رہی تھیں۔ ان کے دماغ کی ساری سوئیاں ظفر، ابا اور پیسوں کی چوری پرہی اٹکی ہوئی تھیں۔
”ارے اماں چھوڑیں ساری باتیں، آپ چائے پئیں ٹھنڈی ہو رہی ہے۔“ اس نے ان کے دماغ سے بات نکالنے کے لئے چائے کا کپ اُٹھا کر ہاتھ میں تھمایا تو انہوں نے بھی خاموشی سے کپ تھام لیا۔ چائے پر پپڑی جمنے لگی تھی۔ ابھی انہوں نے پہلا سپ ہی لیا تھا کہ دروازہ بجنے لگا۔ انہوں نے اللہ خیر کہہ کر کپ ٹرے میں واپس رکھا اور بوکھلا کر دروازے کی طرف دوڑ لگائی…. دروازہ کھولا تو دروازہ پر حاجی صاحب موجودتھے۔ جو دروازہ کھلتے ہی بے نتھے بیل کی طرح غصے میں اندر داخل ہوئے۔
”آگیا وہ ناہنجار۔“ وہ صحن میں آتے ہی دھاڑے۔
”نہیں ابا جی وہ ابھی تک نہیں آیا میں اور اماں وہی پریشان ہو رہے تھے۔“ سامعہ نے اماں کے بولنے سے پہلے ہی بات مکمل کی….
”آج کتنی مشکل سے دس ہزار کا انتظام کرکے فنڈ کی رقم جمع کروائی ہے اور وہ بے غیرت اس رقم سے کہیں عیاشی کر رہا ہوگا…. آجائے وہ خبیث نہ ٹانگیں توڑ دوں تو کہنا۔“
ان کے منہ سے جھاگ اُڑ رہا تھا۔ غصے کی وجہ سے بالکل بپھرے ہوئے تھے کہ اگر ظفر ان کے سامنے ہوتا تو وہ اس کی واقعی ٹانگیں توڑ دیتے۔
”خدا کے واسطے حاجی صاحب اکلوتی اولاد ہے ایسی باتیں تو مت کریں۔ سامعہ کے بعد کتنی منتوں مرادوں سے ظفر پیدا ہوا تھا….“
“ایسی اولاد کے ہونے سے تو نہ ہونا بہتر۔ جو باپ کی ذمہ داریاں بٹانے کے بجائے اس کی پریشانی میں اضافہ کرے۔“ “ابا خدا کے لیے ایسا مت بولیں۔” “تم خاموش ہو جاﺅ۔” تم دونوں ماں بیٹی نے اسے سر چڑھا کربرباد کر دیا۔ اگر کبھی میں نے کوئی تربیت کی کوشش کی تو میرے سر پر سوار ہو گئیں۔ ہاتھ پیر جوڑ کر اسے بچا لیا۔ بچپن سے ہی جوتے پڑتے تو شاید اتنا نہ خراب ہوتا۔“ وہ اب سامعہ کی طرف پلٹ گئے۔ تو اس نے خاموش ہو جانے میں ہی عافیت سمجھی…. اسے معلوم تھا کہ جو حرکت ظفر نے کی ہے، ابا اسے کسی صورت نہیں بخشیں گے۔ شاید یہ وہ آخری غلطی ہو گی جس کے بعد ظفر یا توٹھیک ہو جائے گا یا زیادہ سختی اسے بالکل ہی بگاڑ دے گی۔ ابا شروع سے ظفر کے معاملے میں اتنے ہی سخت تھے ذرا ذرا سی بات پر گالی گلوچ اور ڈانٹ ڈپٹ سے وہ اب بہت حد تک ڈھیٹ ہو گیا تھا۔ پھر کچھ آوارہ دوستوں کی صحبت نے اسے کسی کی پروا کا احساس تک مٹا دیا تھا۔ سامعہ اکثر اسے سمجھانے کی کوشش کرتی تو وہ طنزیہ اندازمیں اسے بھی بالکل ابا کی طرح سنا ڈالتا ۔یہ احساس بھی نہ کرتا کہ وہ اس سے چھے سال بڑی ہے۔
”اس کے دوستوں کو فون کرو۔“ وہ دھاڑتے۔
”اس کے سارے دوستوں سے پتا کر لیا ابا وہ آج کسی سے نہیں ملا۔“ کہاں گیاکم بخت ایسی اولاد توپیدا ہوتے ہی مر جائے تو جان چھوٹے۔“ ہاتھ ملتے ہوئے انہوں نے دل سے بددعا دی۔
”خدا کے لیے حاجی صاحب باپ ہیں، ایسی بددعا تو نہ دیں ،جگرگوشے کو ۔باپ کی دعا اور بددعا کو آسمان تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔” وہ ہاتھ جوڑ کر گڑ گڑائیں۔ ماں تھیں نا دل پر دھکا سا لگا۔
”ہاں دوں گا بددعا۔ ایسی اولاد جو ذلیل کرنے کا باعث بنے۔ خدا کرے وقت سے پہلے مر جائے ۔تاکہ سکون تو ملے۔ صبح سے اب تک پیسوں کے لیے کتنے در کھٹکھٹائے ہیں تمہیں کیا پتا تم تو یہاں بیٹھی مزے سے چائے اُڑا رہی ہو۔“ انہوں نے ایک طنزیہ نظر تخت پر رکھے چائے کے کپوں پر ڈالی تو وہ وہیں بے دم ہو کر بیٹھ گئیں۔ سیدھے ہاتھ سے اپنا دل پکڑ لیا۔ سامعہ کمرے کی طرف جاتے ہوئے باپ کو کینہ توز نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اور دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ باپ تو ایک شفیق روپ ہوتا ہے۔ یہاں جوان اولاد کوصرف اتنی سی بات پر بددعا دے رہا ہے کہ اس نے پیسے چرا لئے۔باپ تواپنی اولاد کو بڑی سے بڑی بات پر معاف کر دیتے ہیں اور یہاں ….
”یا میرے اللہ! حاجی صاحب کی بددعا کو ایک دکھی باپ کی بددعا نہ سمجھنا۔ اس دعا کو قبولیت مت دینامیرے مالک! بچے غلطیاں کرتے ہیں۔ توہی انہیں معاف کر سکتا ہے۔“ وہ بلبلا کر رو رہی تھیں اور سامعہ ان کو چپ کروا رہی تھی، لیکن تیر ترکش سے نکل چکا تھا۔
٭….٭….٭
ریس اسٹارٹ ہو چکی تھی…. فہیم اپنی بائیک پر ایک چکر لے کر آیا۔ اس میں اس نے طرح طرح کے کرتب دکھا کر ریس دیکھنے والوں کو محظوظ کیا۔ ون ویلنگ بھی کی اور لیٹ کر بھی بائیک چلائی۔ یہ سارے کرتب ابھی ظفر کو سیکھنے تھے۔ ہاں اس نے بائیک کا چکر ون وہیل پر لگایا تو لڑکوں نے اس کے لئے تالیاں بجائیں۔ ظفر کا حوصلہ بڑھ گیا۔ بائیک آلٹر کروانے کے بعد بہت ہلکی ہو چکی تھی اور رواں چل رہی تھی۔ اسے مزہ آرہا تھا۔ آخری راﺅنڈ میں اس کی اور ظفر کی ریس تھی کہ کون سب سے زیادہ تیز بائیک چلا کر چوک تک پہنچتا ہے…. ان دونوں نے اپنے اپنے پوائنٹ پر بائیک کو ریس دینی شروع کی ۔دونوں کی طرف سے لڑکوں نے تالیاں بجائیں۔ لیکن بدقسمتی کہ جیسے ہی دونوں نے بائیکس دوڑائیں ایک پولیس موبائل نہ جانے کہاں سے آن پہنچی۔ کچھ دیر میں ہی سارے موٹر بائیکس والے لڑکے ادھر ادھر ہو گئے۔ فہیم بھی کسی کونے سے غائب ہو گیا…. لیکن ظفر نے رُکنے کے بجائے موبائل کو دیکھ کر اپنی بائیک دوڑا دی…. پولیس والوں نے اشارہ بھی کیا لیکن اس نے بائیک نہ روکی۔ اسے خدشہ تھا کہ اگر دھر لیا تو سیدھا جیل میں جائے گا….
پولیس موبائل نے بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑا اور…. کافی دیر تک اس کے پیچھے دوڑتی رہی۔
وہ ایک روڈ چھوڑ دوسرے اور دوسرے چھوڑ تیسرے میں بائیک دوڑاتارہا…. لیکن ان کے ہاتھ نہ آیا۔ اسی گھبراہٹ میں ایک روڈ پر سامنے سے آتا ٹرک اسے نظر نہ آیا۔ اور بائیک زور سے لہرائی اورپوری قوت سے ٹرک سے ٹکرا گئی۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا جب حاجی صاحب نے اس کے لئے بددعا کی تھی….
گھر کا دروازہ بہت زور زور سے بج رہا تھا۔ حاجی صاحب سمجھے کہ ظفر ہو گا…. اُٹھ کر تیزی سے دروازے کی طرف دوڑے…. کہ اگر ظفر ہوا تو اس کی وہیں خاطر مدارت کریں گے۔ ، لیکن وہ ظفر کا دوست تھا…. جس نے ظفر کے ایکسیڈنٹ کی خبر انہیں سنائی۔
”حاجی صاحب ظفر کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ ایمبولینس میں جنرل ہسپتال لے گئے ہیں۔ آپ بھی آجائیں۔“
(باقی آئندہ)

Advertisements