خوبصورتی اور سکون کہیں بھی مل سکتا ہے! ایک گلاب کی تازہ کلی سے بڑھ کر یہ کام اور کون کر سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں گزارے اتنے سالوں میں مجھے اندازہ ہوا کہ مجھے گلاب سے کس قدر محبت ہے!

گلاب جو متحدہ عرب امارات میں صرف دکان سے ملتا تھا کیونکہ یہ وہاں کی ریتیلی ذمین پر اگ نہیں سکتا!

امارات کے ریتیلی کھردری ذمین پھولوں کی نرمی اور تازگی کا بوجھ اٹھا نہیں سکتی یہ دم ہماری پاک سرزمین کی مٹی میں ہے کہ کہ یہ ہزاروں انداز کا سبزہ اور ہزاروں رنگوں کے پھول اور میٹھے اور مزیدار پھلوں کا بوجھ اٹھا سکتی ہے!

مجھے پاکستان سے اس لئے محبت نہیں کہ یہ میرا ملک ہے!

میں یقین رکھتی ہوں کہ یہ ساری دنیا میرا ملک ہے اور میرے اس انسانی حق کو کوئ ریاست کوئی قانون چھین نہیں سکتی اس لئے میں متحدہ عرب امارات کی ریتیلی مٹی سے بھی اتنا ہی پیار کرتی ہوں جتنی اپنے ہریالے وطن کی خوشبو سے!

مجھے پاکستان سے پیار ہے اس لئے بھی کہ یہ ذمین اپنے لوگوں کے لئے بہت شفیق ہے! یہ اپنے لوگوں کو ہر رنگ اور خوشبو سے نوازتی ہے یہ ان کو وہ تمام ذائقے دیتی ہے جو دنیا کی ایک بڑی آبادی کو نہیں ملتے!

میں جانتی ہوں پاکستان کی مٹی میں جتنی محبت اور شفقت ہے اس کے لوگوں میں اتنی ہی سختی اور خرابی ہے اور یہ لوگوں کی خرابیاں ہیں جو اس دھرتی کے رنگوں کو آلودہ کرنے کا باعث ہیں۔

یہ ہم لوگ ہیں جو اس نرم مٹی پر اکڑ کر اسے روندتے ہوئے چلتے ہیں۔

یہ ہم لوگ ہیں جو اس کی دی ہر خالص غذا میں اپنی مرضی سے زہر ملا کر اسکا تناسب خراب کر رہے ہیں

۔ہماری بداعمالیاں ہماری ہواؤں کو ذہریلا کر رہی ہیں۔

فطرت قدرت کے ہاتھوں تشکیل پاتی ہے اور انسانوں کے غیر محتاط رویوں کے ہاتھوں اجڑ جاتی ہے!

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹