زندگی کے لب چوم لینے سے
خوشگوار لمحہ تادیر غلام نہیں رہتا
کچھ سالوں کو سسسکتا چھوڑ آنے کے بعد
وقت کی بدلتی آنکھوں میں
عمر کی ڈھلتی راتوں میں
سنبھالے گئے آنسو بھی تازگی کھو دیتے ہیں
زندگی اپنا گیت خود لکھتی ہے
بس آوازیں ہماری چراتی ہے
وہ دھن بجاتی ہے
جس پر خوشی اور غم
ایک ساتھ رقصاں ہوتے ہیں
ہمیں جھپٹ کر درد کو گلے لگانا آتا ہے
اُداسیوں کے ناز اُٹھانا آتا ہے
اور ہر سانس سے یہ آس باندھ دی جاتی ہے
خوشی خود چل کر آئے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔

_______________

کلام:حمیرا فضا

کور ڈیزائن صوفیہ کاشف