کشمیر

____________

دیتی ہے ہر دم یہ ایفا کے اشارے
خوں کی جو ہولی ہے نیلم کے کنارے

چھ برس کی ایک بچی جو ہے رہتی
بابا کی خواہش کہ بوڑھی ہی وہ ہوتی

مہندی کا رنگ مقتل میں سجائے
بیٹھی دلہن روپ بیوہ کا بنائے

بیٹیوں کے رخ سے جوبن ہے سدھارا
صرفِ مقتل ہو رہا ہر اک دلارا

وہ لہو بہنوں کا جو ہے قرض ہم پر
بےسہارا کی مدد ہے فرض ہم پر

تم سمجھتے ہو کہ ہم کشور کشا ہیں؟
بھائیوں سے اپنے پابندِ وفا ہیں!

~نورالعلمہ حسن، کراچی

____________

کیوں الگ ہیں ہم فرد واحد کی طرح
ایک کلمہ ہے لہو رنگ ہے کشمیر

اے خدا بھیج تو اب دیں کے سپاہی یہاں
ظلم کی انتہا ہے، لہو رنگ ہے کشمیر

تیز دھار آلے سے کٹ رہی ہے شہ رگ
کیسے یہ جسم زندہ ہے، لہو رنگ ہے کشمیر

____________________

کلام: قرةالعین فرخ

2 Comments

Comments are closed.