ملکہ اعظم ______(شین گوو)…..جیودث گٹشیئے

مصنف: Judith gautier

ترجمعہ :صوفیہ کاشف

امپیریل پیلس پر رات اپنے پنجے گاڑ چکی تھی اور محافظوں کے علاؤہ سب خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے جب ایک شخص دیواروں کے ساتھ چپکے سے کھسکتااور چھپتا چھپاتا باغ اور احاطے میں سے گزرا ۔دبے پاؤں آہستگی سے چلتا وہ ملکہ کی خوابگاہ پہنچا جہاں ملکہ سو رہی تھی۔

کسی عبادت گاہ کی طرح مہکتی خوابگاہ میں سلک سے ڈھکی روشنیاں ایستادہ تھیں ۔ وہ شخص بے دریغ ملکہ کے قریب پہنچ کر کھڑا ہو گیا۔ملکہ اپنی چیخ روکتی حیرت زدہ اٹھ کر بیٹھی ۔

نیند میں مداخلت کرنے والے کو وہ بخوبی جانتی تھی۔یہ اس کی فوج کا خوبرو سالار اعظم جنرل”ٹاکے نے اوسی سوکونے” تھا جس کی دھول آلود وردی پر خون کے چھینٹے ابھی تک گیلے لگتے تھے۔

ملکہ مچھر دانی کی جالی پرے ہٹا کر بستر سے اتری ۔وہ خوبصورت تھی اور اپنے لمبے ڈھیلے ڈھالے شب بسری لباس میں شاندار لگ رہی تھی۔اس کے لبادے سے واضح دکھائی دیتا تھا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔

“تم؟”اس نے حیرانگی سے پوچھا “تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ کیا ہوا؟؟ کیا ہم ہار چکے؟”

“ملکہ عالیہ!____ خبر اس سے بھی بُری ہے”_ جواب آیا۔

“اس سے براکیا ہو سکتا ہے؟فورا بولو!”

“آسمانوں کے بیٹے،عظیم سلطان،آپ کے عالی رتبہ زوج محترم اپنی جان کی بازی ہار چکے۔_ان کی قیادت میں ہم فتح کے قریب تھے کہ کورینوں کی طرف سے ایک تیر انکو گھائل کرتا چلا گیا ،انکی عظیم روح عالم ارواح کی طرف کوچ کر گئی جہاں سے وہ ہمیں نوازی گئی تھی ۔ ”

“اوہ______تو میرا وہم درست تھا!”ملکہ نے اپنے ہاتھ گھنے بالوں پر مارتے گریہ کی۔

“ہمیں خوف تھا کہ جاپان کے عالیجاءکو میدان جنگ میں ان خوفناک لوگوں کے ساتھ جان خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیےمگر وہ ہماری بات کو خاطر میں نہ لائے۔اور اب وہ ہم میں نہ رہے ۔ہمارے سر کا تاج،جنگجوں کے شہزادے،جنہوں نے ہزاروں سفید برف جیسے بگلوں کو محض اس لئے پالا کہ انکے باپ کی روح ان میں سے کسی میں ہے ۔آہ!اور اب خود ان کی روح کہاں ہو گی؟افسوس! اب ہم انہیں کہاں پا سکیں گے!”

تھوڑی دیر میں ملکہ نے خود سنبھال لیا اور وقار سے ہاتھ اٹھا کر اپنے قدموں میں ڈھیر سالار اعظم کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔

“ہمیں تفصیل سے بتاو،کیا ہم مکمل طور پر شکست کھا چکے!”کیا فتح ہمارے ہاتھوں سے ہمیشہ کے لئے نکل چکی؟”

“ہم کچھ بھی نہیں ہارے ملکہ عالیہ!”سالار اعظم ٹاکے اوسی اٹھ کر گھٹنوں کے بل کھڑا ہوا “میں نے بادشاہ سلامت کے جسد خاکی کواپنے بازؤں پر اٹھا کر ان کے خیمے میں پہنچایااور انتہائی قابل اعتماد محافظوں کو انکی حفاظت کا زمہ دیا ہے۔ زرا سی غفلت ان محافظوں کی جان لے لے گی۔ ہم نے یہ خبر پھیلا دی ہے کہ بادشاہ سلامت محض زخمی ہیں اور جلد صحت یاب ہو کر واپس لوٹیں گے۔یہ انتظام کرتے ہی میں وہاں سے نکلا اور منزل بہ منزل سفر طے کرتا بغیر کہیں رکے سیدھا آپ کے حضور حاضر ہوا ہوں۔”

ساتھ ہی وجیہہ سالار اعظم نے نظر اٹھا کر اپنے سامنے کھڑی عزت ماب ملکہ کے چہرے پر نظر ڈالی۔ملکہ کو اس کی آنکھوں میں وفاداری،خلوص،ستائیش اور محبت سب ہی جھانکتا دکھائ دیا ۔ ریاست کی طاقتور ملکہ کے سینے میں عورت کا دل کمزور پڑ رہا تھا۔سالار اعظم کی صورت میں اسے وہ مضبوط سہارا دکھائی دیا جس پر وہ بھروسہ کر سکتی تھی اور یہی وفادار دل اسکی طاقت بن سکتا تھا۔ا

اس خیال نے اسکے اندر کی عورت کا غرور اور جوش پھر سے بیدار کر دیا۔ملکہ کو یقین ہوا کہ اس کا آنجہانی شوہر بھی ملکہ اور ولی عہد کے سرپرست کے طور پر سالار اعظم کو ایک بہترین انتخاب کے طور پر پسند کرے گا۔

“شکریہ معزز سالار اعظم!____تم نے بہت بھرپور لائحہ عملی دکھائی!بادشاہ سلامت ابھی ذندہ ہیں اور ان کے زخم جلد بھر جائیں گے۔کل ہم مورچے پر اکٹھے چلیں گے اور ہم ان کی جگہ میدان سنبھالوں گے۔ان کا وارث اور اس عظیم سلطنت کے مستقبل کا شہنشاہ ان کا ولی عہد ہماری طاقت بنے گا۔ہماری صورت میں یہ بچہ اس جنگ کی قیادت کرے گا۔ہم میدان جنگ کے لئے اور اپنے بچے کی حفاظت کے لئے تمھارے ساتھ جا کر قیادت سنبھالنے کو تیار ہیں۔۔اور تم،ٹاکے اوٹسی،میرے مددگار اور میری طاقت ہو گے. آج سے تمھیں نائی تائی ژن۔۔(جراتمند لیڈر )کا خطاب دیا جاتا ہے!”

عظیم ملکہ شین گوؤ کچھ دن تک سالار اعظم کے ساتھ محاذ کا معائینہ کرتی رہی ،فوج کو مضبوط کرنے کے لئے نئی بنائ گئیں بٹالین انکے ساتھ رہیں۔

چمکدار زرہ بندی کے ساتھ نیزہ باز سب سے پہلے میدان میں اترے جنکے سروں پر پیچھے سے کٹے ہوئے نمائشی ہیلمٹ تھے اور سینے پر کانسی کی صلیبیں سجی ہوئی تھیں۔نیزوں کے اوپر لہراتے چھوٹے چھوٹے جھنڈے بھرپور نظارہ پیش کر رہے تھے۔پھر سروں پر سفید اڑتی پٹیاں باندھے،ترکش کمر پر لٹکاے اور بڑی بڑی کمان دائیں ہاتھوں میں تانے تیر انداز اترے ،۔انہیں کے ساتھ تیر اندازوں کی ایک دوسری کھیپ اتاری گئی جنکی کمانیں بڑے وزنی پتھر پھینکنے کے لئے مختلف انداز میں بنای گئی تھیں۔

ان کے پیچھے باقی فوج قدیم جاپان کی منفرد وردیاں پہنے چلی جو سرخ پلکوں اور جانور کے بالوں والی مونچھوں والے مضحکہ خیز ماسک پہنے ہوئے اور سروں پر تانبے کے سینگوں والے ہیلمٹ پہنے یا بارہ سنگھے کے سینگ تھامے ہوئے تھے۔کچھ فوج ایسے ہیلمٹ پہنے ہوئے تھی جن کے گرد زنجیریں لٹکتی اور انکی جالیوں کے درمیان صرف ان کی آنکھیں دکھائی دیتیں۔ سروں پر تمام مورچوں کے جھنڈے لہراتی یہ فوج مارچ کرتی آگے بڑھتی رہی۔

ملکہ ایک عمدہ گھوڑے پر جسکی گردن کے بال ایک تاج کی مانند گوندھے گئے تھے سوار تھی ،پاوں ایک منقش رکاب پر دھرے فوج کی قیادت کرتی وہ ایک ندی پر پہنچے جسے مستورا گاوا کے نام سے جانا جاتا تھا۔

شین گاؤ نے اس نہر پر کچھ دیر قیام کا فرمان جاری کیا۔ملکہ کے سینے میں بحرحال ایک عورت کا دھڑکتا دل تھا جو نہر پر مچھلیاں پکڑنے کا خواہش مند تھا۔ملکہ نے ایک ٹیلے پر بیٹھے جال پھینکا اور اعلان کیا:

“اگر آج ہماری قسمت میں فتح ہے تو یہ شکار ضرور پھنسے گا۔اور اگر ہمارا نصیب ناکام رہنا ہے تو پھر مچھلی بھی ہمارے قابو میں نہ آئے گی”_

کچھ دیر کو سناٹا چھا گیا اور تمام نظریں ندی کے اوپر ڈولتی روشنیوں کے تعاقب میں چل نکلیں۔اچانک ندی میں ہلچل ہوئ ،ملکہ نے فوراً تار کھینچی اور چاندی رنگ مچھلی کانٹے میں پھنسی اور ایک خنجر کی طرح چمکتی دکھائی دی ۔

ہر طرف سے خوشی کے نعروں سے اک شور برپا ہو گیا۔ شین گاؤ نے باآواز بلند کہا!۔”بڑھو میرے جوانوں! بیڑے ہمارے منتظر ہیں اور فتح یقینی!”

ایک درازقد باوقار بوڑھا آگے بڑھا اور ملکہ کے سامنے سجدہ ریز ہوا.یہ بوڑھا اس علاقے کا نیک ،مشہور عالم اور راہب تھا جس کا قیام ندی کے قریب ہی تھا۔.اس نے ملکہ کو نیلے پتھروں سے بنا ایک سوراخ کے زریعے بندھا ایک تعویز پیش کیااور بولا:

“ملکہ عالیہ! اسے ہمیشہ پہن کر رکھیے گا!جب ولی عہد پہلی بار آنکھیں کھول کر دنیا کی روشنی کو دیکھے تو ضرور اس کی نظروں کے سامنے جنگ کے خاتمے اور فتح کے جشن کا نظارہ ہو گا۔”

شین گوؤ نے شکریہ کے ساتھ راہب سے تعویز قبول کیا اور جنرل ٹاکے اوسی کی مدد سے اسے اپنی گردن کے گرد پہن لیا۔

فوج “کیسیفی نے اوروا۔”کی بندرگاہوں پر پہنچی۔بیڑے کو بہت شان سے اٹھایا گیا۔ جہاز کی بلند رسیاں سمندری دیو کی مانند اور بادبان بلند ہیبت ناک پروں سے دکھائی دیتے تھے۔ملاح اور سپاہیوں نے ایک دوسرے کا استقبال کیا۔ملکہ اتر کر پانی کے قریب پہنچی اوراپنا سنہری ہیلمٹ اتار کر اس نے لمبے سیاہ بال کھول کر سمندر کے پانی سے انہیں غسل دینے لگی۔بال دھو کر جھٹک جھٹک کر سکھائے اور لپیٹ کر جاپانی مردوں کی طرح سر کے پیچھے ایک اونچے جوڑے کی صورت باندھ لیے۔ پھر اپنا جنگی خنجر لہراتی پلند ترین رسے پر سوار ہو گئی۔

شین گاؤ اونچے ستون پر لگے کسی مجسمے کی طرح عوام سے اونچائی پر تھی۔کالے سینگ کی بنی زرہ بکتر پہنے جسے جامنی سلک کی ڈوریوں سے باندھا گیا تھا۔یہ ڈوریاں سفید کمخواب کے چوڑے پاجامے کے اوپر سے پیروں تک گرتیں.کندھےپر کالی مخملی ڈوریاں اور سفید کاٹن کے پھولوں کی کشیدہ کاری والی چوڑی آستینیں اسکے پاؤں تک آتیں اورارد گرد ایک طلائ کمخواب کا لبادہ سا بنا دیتیں۔

ملکہ کی زرہ پر سونے کا بنا گل داؤدی جوڑا گیا تھا اور لمبے تیکھے ہیلمٹ کو مخملی پٹیوں سے اسکی تھوڑی کے نیچے باندھا گیا تھا۔دو تلواریں اور ایک خنجر کمر بند سے باندھے یہ جنگجو حسینہ ایک لمبے سونے اور ہاتھی دانت سے بنے نیزے پر جھکی ہوئی تھی۔

بادبان ہواؤں کے سنگ چل پڑے ، بحری جہاز لہروں کے سپرد ہوے اور شین گاؤ نے کہیں دور تلک دیکھا اور چلائ

“!اے سمندر کے دیوتا!دیکھ!”فوہیمی یونی مئیو شین ” خود ہماری رہنمائی کرے گا اور ہمیں فتح دلاے گا!”

دیوتا محض اسے دکھائ دیتا لیکن نعرے میں اس کے ساتھ سب شریک ہوتے تو فتح یقینی تھی۔

شہنشاہ کوریااپنے محل میں روتا اور تڑپتا رہا۔ اس کے ملک پر حملہ ہو چکا تھا اور اس کی فوج بکھر کر رہ گئی تھی۔جاپان کی طاقتور جرات کے سامنے کوئ مزاحمت ٹھہر نہ سکی تھی ۔ میدان میں نکلنے سے پہلے ہی اسے اپنی ہار یقینی دکھائ دے رہی تھی۔

فاتحین شہر پر قبضہ کر چکے تھے۔جنگجو ملکہ محل کے دروازے پر پہنچ چکی تھی۔وہ ایک ایسی جادوئی شخصیت تھی جس نے اپنی فوج کو طاقت بخشی تھی اور اسے ہر مشکل سے نکال کر فتح تک لائ تھی۔اس نے ہر حملے کی قیادت کی،ہر خندق کو عبور کیااورمحل کے دروازے پر چلاتے ہوے حملہ کیا

“کوریا کا بادشاہ جاپان کی طاقت کے سامنے محض ایک کتا ہے۔”۔۔۔۔۔۔۔۔

گیٹ کھول دئیے گئے اور فاتحین اندر داخل ہوئے۔ملکہ نے سونے اور ہاتھی دانت کی بنی اپنی چھڑی داخلی دروازے پر ٹانک دی تا کہ آنے والے وقت میں وہ ان کی فتح کا نشان سمجھی جاتی رہے۔عوام قتل عام اور لوٹ مار کی توقع کر رہی تھی۔۔شاہ کوریا خود کو ایک قیدی کے طور سرنگوں کرنے کے لئے آگے بڑھا۔ہاتھ کمر پر باندھے گردن میں ایک رسی ڈالے وہ مرے ہوے لوگوں اور زخمیوں کے ڈھیر میں سے گزرتا آگے بڑھا۔

“میں آپ کا غلام ہوں!”

شکست خوردگی سےروتا شاہ کوریا جنگجو حسینہ کے قدموں میں ڈھیر ہوا تو طاقتور ملکہ کی آہنی زرہ کے نیچے عورت کا نرم دل پسیج گیا ۔شین گوؤ نے شکست خوردہ بادشاہ کو اٹھایا اور زنجیروں سے آزاد کر دیا۔

“آپ ہمارے غلام نہیں!___آپ ابھی بھی کوریا کے بادشاہ ہی ہیں اگرچہ اب ہمارے کارندے بن کر رہیں گے۔!”

ملکہ نے شہر کے گھیراؤ سے سختی سے منع کر دیا اور صرف شاہی خزانہ اکٹھا کرنے پر زور دیا۔ان زمانوں میں جاپان میں آرٹ کی کسی قسم کی کوئ مہارت نہ تھی۔ملکہ کو چائینہ سے لائ گئی تصاویر اور نقاشی ۔۔۔۔نے بہت متاثر کیا۔

بلآخر فتح کی خوشی نے بادشاہ کی موت کے ماتم کو ہرا دیا۔عزت ماب ملکہ کی فتوحات کے ڈنکے بجنے لگے ۔سب سے بہترین تحفہ اسے اپنے سالار اعظم جنرل ٹسکے اوسی کی ستائش اور محبت کی صورت ملا جسے بلآخر اس نے اپنا شوہر اور ولی عہد کے باپ کا درجہ دیا۔

اس ملکہ کو فاتح ہو کر اپنے وطن لوٹے اور ولی عہد کو جنم دئیے جس کی آنکھیں جادوئی پتھر کی بدولت فتح کے نظارے پر کھلیں۔ چھ صدیوں سے ذیادہ وقت بیت چکا۔اس کا دور حکومت بہت طویل اور شاندار گزرا۔آج بھی جاپان کا تخت اسی کے وارثوں کے پاس ہے اور آج بھی جاپان کے سپاہی اور ملاح اتنے ہی بہادر ہیں جتنے وہ ملکہ شین گوو کے ماتحت لڑنے والے سپاہی اور ملاح تھے۔

_______________

Advertisements