—–

عہد ِ وفا تو کر گئے ، کار ِ وفا نہیں کیا
ہم ایسے بے وفاؤں نے ، ایسا بُرا نہیں کیا

جو ساتھ چل پڑے مرے ، اُن کو گلے لگا لیا
جو چھوڑ کر چلے گئے ، اُن کا گِلہ نہیں کیا

ہائے یہ دلنواز لوگ ، کیسے عجیب لوگ ہیں
کہتے ہیں دل کو توڑ کر ، کوئی گُناہ نہیں کیا

یعنی کہ اختیار سے آگے تھے دل کے معاملے
ہم نے شوق سے ، خود کو تَباہ نہیں کیا

دل کے ہیں سب گِلے بَجا ، اِس کا تھا قصور کیا
دنیا نے بھی کیے ستم ، تُو نے بھی کیا نہیں کیا

شاید میرے جسم کی مٹی میں ریت تھی بہت
پیروں پہ اپنے دیر تک ، خود کو کھڑا نہیں کیا

روشنی کے قحط سے مرتے جا رہے تھے لوگ

روشن مگر کسی نے بھی ، کوئی دِیا نہیں کیا

_____________

کلام:مسرت

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف