“دوام______آخری سحر ہے!”(3)__________سدرتہ المنتہی جیلانی

تحریر:سدرتہ المنتہی جیلانی

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

ماڈل:ماہم

_____________قسط نمبر 3

کہ میں بھی ایک خلیفہ فی الارض تھا

****

شام نے عجیب سرگم اوڑھ لیا تھا
خامشی اورمدھم سی چہل پہل میں بہت ساری مدھر سرگوشیاں تھیں۔۔مگر یاسیت بھری۔
عجیب احساس تھا جوکہ نہ تو زیادہ خوف ناک تھا!نہ ضرورت سے زیادہ اداس، نہ ہی بے وزن۔
کچھ تھا بوجھل بوجھل سا۔
جیسے سب طئہ شدہ ہو۔
ہونا ہو۔۔
اور ہوکر رہے گا۔
اور ہر ایک اسے تسلیم کررہا ہے ،بلکہ لاشعوری طور پر انتظار بھی کررہا ہے۔
انسان اپنے آئیندہ کے لئے ہمیشہ ہی پرجوش ہوتا ہے
وہ آنے والے کل کی صورتحال کو لیکر سوچتا ہی رہتا ہے
چاہے سوچنا نہ چاہے
مگر سوچنا پڑجاتا ہے
ہر کوئی جیسے طویل بیداری سے آکر سونا چاہتا ہو۔۔
نور فاطمہ بھی۔۔۔
اور پروفیسر سالس بھی بے بسی سے طاہرکے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا امید بھری نظروں سے نور فاطمہ کی طرف دیکھتے ہوئے بول رہا تھا۔

مجھے شام کی موسیقی محسوس ہوتی تھی
جب موسم کے پہر بدلتے ہیں تو مجھے محسوس ہوتاہے کہ کچھ بدل رہا ہے میں ان تبدیلیوں کو ،ہرارتوں کو محسوس کرسکتا ہوں۔
مجھے کبھی کبھار لگتا ہے کہ بہت کچھ کوانٹم ہوسکتا ہے۔
بہت کچھ سمٹ سکتا ہے
اور بہت کچھ پھیل بھی سکتا ہے۔۔۔
مگر اس سے آگے مجھے چارجنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔
بہت کچھ شکلیں بدل بدل کر میرے سامنے آتا رہتا ہے۔۔
انہوں نے بات کرنے کے دورآن جب التمش کی طرف دیکھا تو بھڑکتے ہوئے لہجو قدرے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولے۔۔
تم مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟ جیسے یہ سب میرا وہم ہو۔
نہیں۔۔مجھے یہ تمہارا وہم نہیں لگتا۔۔مجھے تعجب اس بات کا ہے تم ان معمولی سی حرکات کو اتنے اچھنبے سے کیوں بیان کررہے ہو۔۔
پھر یہ بھی کہ یہاں تم نور فاطمہ کے رشتہ دار کی حیثیت سے اس کا حال پوچھنے آئے ہو یا اپنے کارنامے بیان کرنا مقصود ہے۔۔
انہوں نے انکے لئے چائے پانی کا بندوبست بھی کیا تھا۔
گھر لاکر بیٹھنے کو کہا تھا
سلام دعا بھی مروت سے کرلی مگر اس سے زیادہ اب وہ کیا کرسکتے تھے بھلا۔۔
خصوصہ” سالس کاشمیری کی یہ باتیں ان سے حضم نہیں ہورہیں تھیں۔جنہیں وہ صرف باتوں کا ہی درجہ دے سکتے تھے
اس لئے نہیں کہ ان کے علم کی چنگاری سے ناواقف یا خائف تھے۔
بلکہ اس لئے کہ علم کا یہ ابتدائی منظر نامہ انکی نظر میں کوئی بڑی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔
وہ کھل کر کھیلنے کے عادی تھی
اور اپنی فیلڈ سے سنسئیر بھی تھے
مگر کسی کی لن ترانیاں بیٹھ کر سننے کی زرا بھی سکت نہ تھی
سو اس سے پہلے کہ سالس اور انکی نظریاتی اور تاثراتی جنگ شروع ہوجاتی وہ زرا کھسک گئے اور قدرے برہمی والی خاموشی سے۔۔اب اس سے زیادہ وہ انکے لئے کھانے کا بندو بست تو کرسکتے تھے مگر یہاں بیٹھ کر یہ تقریریں سننے کا حوصلہ ہرگزنہیں تھا۔
انکے کھسکتے ہی سالس نے زرا تسلی بھرا سانس لیا تھا۔
اور اپنی گفتگو کا تانہ پھر سے جوڑا۔۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا۔۔کہ۔۔میں کیا کہہ رہا تھا۔۔چلو چھوڑو۔۔
بس یہ کہنا چاہ رہاہوں کہ میں نے ایک سال سے مراقبہ بھی چھوڑدیا ہے۔
اور اب مجھے کہا جاتا ہے کہ لوٹ جائو۔۔اپنی عام سی زندگی کو جیو۔۔
نور فاطمہ جو بے بسی سے لیٹی تھیں بے تاثر چہرہ لئے ہوئے۔۔۔انکے چہرے کے تاثر میں کوئی اپنائیت کوئی احساس کسی مروت کی کوئی جھلک نہیں تھا۔
بس جو تھی سو خاموشی تھی
سنجیدگی تھی۔
اور سحر تھا۔
وہ اس چہرے کی طرف ایک بار پھر سے دیکھ رہے تھے۔
امید بھری نظروں سے۔۔
دیکھو نور فاطمہ۔۔میں تمہیں اپنے پرانے حساب بخش دوں گا۔۔
یہ بات سرگوشی میں کہی تھی مگر نور فاطمہ نے بڑی تکلیف سے آنکھیں بھینچ لی تھیں وہ گردن کو موڑ نہیں پاتی تھیں اور بولنا بھی دشوار تھا کچھ لفظ مشکل سے ادا کرپاتی تھیں ٹہر ٹہر کر غوں غاں کرکے اور وہ زبان بھی سوائے انکے شوہر کے اور زینت بیبی کے کوئی نہیں سمجھتا تھا۔
التمش نے کچن کی چھوٹی سی کھڑکی سے جھانکتے بہت ناگواری سے سالس کی طرف دیکھا تھا۔
جیسے یہ بات انہیں بھی ناگوار گزری ہو اور کرسی پر بیٹھے طاہر نے بھی انکی طرف کچھ نا سمجھی سے دیکھا تھا اس بار۔
یہ الگ بات تھی کہ وہ ان کی باتوں پر چونکنا چھوڑچکا تھا۔۔مگر بہرحال انکے ماضی سے تو بے خبر ہی تھا ۔
کچھ تو اندازے تھے انکی فطری ٹوٹ پھوٹ اور منتشر حالات زندگی کے مگر بہرحال انکی اس بات کی تان پیٹ کہاں جاکہ ٹوٹتی تھی اور کدھر سے شروع ہوتی تھی اس کا علم کمرے میں کھڑے تین افراد میں سے ایک ان کو تھا جو کہہ رہے تھے۔
ایک ان کو تھا جو ناگوار ہوئے تھے۔
اور تیسری عورت کو تھا۔
چوتھا طاہر پہلو بدل کر بس کارووائی ملاحظہ کررہا تھا۔

وہ جھکے تھے بات کرنے کے لئے رازداری سے ۔
اور کوئی جملہ نور فاطمہ کی سماعتوں کے پاس جو صرف نور فاطمہ نے ہی سنا اور انکی آنکھوں میں شدت سے نمی آگئی تھی۔
التمش کچن سے نکل کر باہر آیا۔
تم اب جاسکتے ہو سالس۔۔گوکہ میں کہنا نہیں چاہ رہا تھا مگر اب مجبوری ہے کہ تمہیں اٹھنا ہوگا۔
وہ کسی بھی قسم کی مروت کو بالائے تاک رکھ کر بولے۔۔
سالس نے انتہائی تلخ نظروں سے اس ناپسندیدہ شخص کا چہرہ دیکھا تھا۔
مجھے وہ چاھئیے۔۔نور فاطمہ۔۔مجھے چاھئیے۔۔مجھے دے دو۔۔
دیکھو میں ہی حق دار ہوں اس سب کا۔۔
تم نور فاطمہ پر پریشر ڈال رہے ہو سالس۔۔میں تمہیں جو کہہ چکا ہوں کیا وہ تمہیں سمجھ نہیں آرہا؟
تم چپ رہو۔۔پہلے بھی تم ہی میری زندگی میں آئے تھے۔۔میرا راستہ تم نے کاٹا تھا۔
آج میں اس سے مانگنے آیا ہوں۔۔
آہستگی سے بات کرو سالس کاشمیری۔۔کوئی یہاں تمہارا قرض دار نہیں ہے
ہے قرض دار۔۔نور فاطمہ ہے میری قرض دار۔۔میں وہی سب لینے آیا ہوں۔۔اپنا قرضہ لینے آیا ہوں۔۔
اور اب مجھے اسی صورت میں چاہئے جس صورت میں میں چاہتا ہوں۔ان کا لہجہ بے صبرا۔۔بے بس۔۔تلخ اور حتمی تھا۔لگتا تھا مزید اگر بحث بازی ہوئی تو وہ رودیں گے کھڑے کھڑے۔
نور فاطمہ نے آنکھیں بھینچ لی تھیں کرب سے۔۔
یہ ہے میری قرض دار۔۔مجھے چاہئے۔۔مجھے طاقت چاہئے اب۔۔مجھے پوری طرح دے دو۔ادھورا ہوں میں۔۔ادھورا۔۔
بھیک مانگ رہے ہو علم کی۔۔کتنے مکار ہو۔خداداد صکاحیتیں بھیک میں نہیں ملتیں سالس۔۔
ان کا لہجہ ابکی بار دھیمہ اور ملامتی تھا۔
بکتے رہو تم۔۔صلاحتیں کی بھیک نہیں فیض کہتے ہیں اسے جاہل انسان۔۔
وہ دونوں بچوں کی طرح الجھنے لگے تھے۔
چلیں سر۔۔پلیز۔۔۔طاہر نے صورتحال بگڑتی دیکھ کر سالس کے بازو پر ہاتھ رکھا۔۔
پلیز اسے کے جائو بچے۔۔اسے لے جائو یہ میری بیوی کو آخری وقت میں پریشان کرنے آیا ہے۔
اسے لے جائو۔۔اس کمب۔۔وہ کہتے کہتے لفظ چباگئے
تم سے زیادہ بخت آور ہوں التمش تامی ۔۔زبان بند رکھو۔۔۔نا قدرے اور بے سمجھ انسان۔۔پوری زندگی تو بیوی کی یاد نہ آئی تمہیں اور آخری وقت نباہنے آئے ہو لالچی آدمی۔۔
یہ میرے گھر آکر مجھ سے پٹے گا لڑکے۔۔کہہ رہا ہوں اسے لے جائو۔۔بتادو کہ اسکی طرح طاقتوں کا بھوکا نہیں ہوں میں۔۔صلاحیتیں یا ہوتی ہیں یا پیدا کی جاتی ہیں
بھیک نہیں مانگی جاتی۔۔
شٹ اپ۔۔شٹ یور مائوتھ۔۔تم بکتے ہو۔۔انکے منہ سے کف بہنے لگی تھی جزبات میں آکر۔
طاہر کا پریشر بڑھ گیا تھا بازو پر۔۔پلیز سر کول ڈائون ۔
نہ کریں۔۔چلیں۔۔
چھوڑو میرا بازو۔۔جارہا ہوں یہاں سے ۔
مگر نور فاطمہ کان کھول کر سن لو کہ یہ لوگ تمہارے دئیے ہوئے فیض کی قدر نہیں کریں گے۔
نہ تمہارا شوہر اس قابل ہے
نہ تمہارے بچے ایسے تھے
اور نہ ہی تمہاری نواسی اس قابل ہوگی۔۔
ضایع مت کرو نورفاطمہ۔۔خود کی صلاحیتیں ضایع مت کرنا۔۔بہت مشکل سے کمائی ہونگی۔۔سالوں کی ریاضت کے تحفے۔۔بے قدروں پر مت لٹانا
مجھے قدر ہے۔۔۔۔مجھے احساس ہے نور فاطمہ۔۔
وہ جاتے جاتے التجاکررہا تھا
اور التمش سر تھام لیتا اب کی بار اس کی ڈھٹائی دیکھتے ہوئے اگر نور فاطمہ کے منہ سے بہتا کف نہ دیکھ لیتا۔۔
وہ غوں غاں کرکے کچھ کہنا چاہ رہی تھی۔۔روبھی رہی تھی
التمش اسکی طرف بڑھا
ان کے منہ سے کف صاف کرتے ہوئے تسلی دینے لگا۔۔
پریشان مت ہو نور فاطمہ۔۔پریشان مت ہو۔۔
کچھ نہیں ہوا۔۔ہمیں کچھ نہیں چاہئیے۔۔جو جس کا ہے اسی کو ملتا ہے۔۔
مجھے تم سے کچھ نہیں چاہئے۔۔میں تمہیں تکلیف سے بچانا چاہتا ہوں۔۔پریشان مت ہو۔۔
طاہر نے سالس کو عاجزانہ انداز میں چلنے کے لیے کہا تھا
اور وہ ناگواری سے نکل پڑا تھا
میں تمہیں پھر جاتے ہوئے کہہ رہا ہوں نور فاطمہ کہ یہ زیادتی مت کرنا۔۔
سر پلیز۔۔طاہر نے اسی انداز میں انہیں دروازے کی طرف متوجہ کیا
جو شخص خود کو خلیفہ فی الارض سمجھ کر آیا تھا
شیطانی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہوکر جارہا تھا۔۔
اس نے کب سوچا تھا ایسے لوٹنا۔۔
نور فاطمہ لرز رہی تھی
اور تامی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ہوا تھا
دوسرے ہاتھ سے مٹھی کی صورت بھنچا ہاتھ پکڑے رکھا تھا۔۔وہ کسی طرح چاہ رہا تھا کہ وہ رلیکس ہوجائیں
مگر وہ مسلسل اپنی آواز میں زیب کا نام لے رہیں تھیں۔۔
وہ اس کا انتظار کررہیں تھیں
اور انہیں انتظار تھا کہ زیب انکی موت سے پہلے پہلے آجائے گی۔۔
اور وہ امانت ٹھیک جگہ پہنچادیں گی۔
اور آخری بار اپنی نواسی کو دیکھنے کے بعد آسانی سے مرجائیں گی۔
اور تامی کو انکی یہ تکلیف بہت گراں گزررہی تھی مگر باوجود اس کہ وہ کہہ نہیں پایا کہ نور فاطمہ بس کردو۔۔اب اللہ کو کہو کہ تمہیں جلدی بلالے۔
بس دوسرے معنوں میں مرجائو۔۔
نور فاطمہ مرجائو۔۔
کہہ تو نہیں سکا تھا مگر بے بسی سے قرآنی آیات پڑھتے ہوئے جارہا تھا
اور نورفاطمہ کی ٹیڑھی نظر اس کے آنسووں پر تھمی تھی۔
مجھے کچھ نہیں چاہئے۔۔
زیب کو کچھ نہیں چاہئے
کسی کو کچھ نہیں چاہئے۔۔
بس تم۔اپنے لئے آسانی کرو۔۔نور فاطمہ خود کو اذیت نہ دو۔۔
دوسرے لفظوں میں اس بات کا سیدھا مطلب یہی نکلتا تھا کہ برائے مہربانی نورفاطمہ خود پر آسانی کرو اور موت کو جلد از جلد قبول کرلو۔
اور نورفاطمہ نے شدت سے آنکھیں بھینچ لیں۔۔
انکی آنکھ سے نمی بہہ رہی تھی
منہ سے جھاگ۔۔
اور جسم کا لرزہ کچھ دھیمہ ہوا تھا
وہ اپنے شوہر کی بے بس التجا کا مطلب سمجھ گئیں تھیں۔۔تبھی دکھی ہورہی تھیں
نہ لڑسکتی تھیں۔۔
نہ موقف بیان کرسکتی تھیں۔
نہ سمجھاسکتی تھیں۔۔
بس لرزے کی حالت میں زندہ تھیں۔۔
اور بے بس تھیں
اور یہی خواہش کرتی رہیں تھیں۔۔
زیب کو بلانے کی۔۔
اور التمش نے بے چارگی سے انہیں دیکھا
وہ جانتا تھا کہ وہ ایسا نہیں کرے گا۔
اس نے اس سب سے بچنے کے لئے کتنے مہینوں سے زیب کو فون نہیں کیا تھا۔
حال تک نہیں پوچھا تھا۔
نمبر بند کئے رکھا تھا پرانا تاکہ وہ خود بھی رابطہ نہ کرسکےایک خط لکھ دیا تھا تھیٹر کی مصروفیات کا جس میں ہر طرح سے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ وہ فی الحال بہت مصروف ہیں۔
نئے عرصے سے تھیٹر کی کوششیں کررہے ہیں۔۔
بہت سارے چھوٹے بڑے کام رہتے ہیں
اگر نمبر بند ملے تو پریشان نہ ہو۔۔
اور بس اپنا خیال رکھے۔
اور عنصر کے ساتھ خوش رہنے کی کوشش کرے۔
انہیں پتہ تھا وہ پہلے اس بات پر خفا ہوگی
پھر دکھی۔۔پھر سوچے گی کہ واقعی کوئی مجبوری بھی ہوسکتی ہے۔۔
ہوسکتا ہے کہ وہ سچ کہتے ہوں۔
ہوسکتا ہے وہ سب جھوٹ نہ ہو۔۔
ہوسکتا ہے وہ اسی مصروفیات کے دبائو تلے دبے ہوں۔
ہوسکتا ہے
اور پھر خط رکھ کر درگزر کرنے کی کوشش بھی کرے گی البتہ خدا جانے کہ ان دنوں عنصر کے ساتھ اسکے تعلقات کیسے ہیں۔۔پہلی معمولی سی چپقلش نے گھٹنے کا نام لیا بھی کہ نہیں۔۔
آیا کہ وہ اب مطمئن ہے بھی کہ نہیں۔۔مگر وہ چاہتے ہوئے بھی۔۔بے پناہ فکر ہوتے ہوئے بھی زیب سے پوچھ نہیں پارہے تھے
نہ کچھ کہہ پارہے تھے۔۔
نہ ہی کچھ سوچنا چاہتے تھے۔۔باوجود سوچنے کے۔
اور نور فاطمہ تھیں کہ زیب مجاہد کو ایک بار دیکھنے کی ضد۔۔
اور پھر وہ سب۔۔
جو کہ انہوں نے سالوں سے نہیں چاہا تھا۔
وہ نورفاطمہ کو سمجھاتے ہوئے تھک سے گئے تھے
اور انہوں نے سوچا کیوں نہ ایک بار دعا کرکے دیکھ لیں۔۔
اور یہ خیال آیا تھا ابھی تو نور فاطمہ کی کلائی پر جمی انکے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی بھی نہیں ہوئی تھی کہ نور فاطمہ نے آنکھیں کھول کر شکایتی انداز میں دیکھا
اور وہ جیسے دھک سے رہ گئے تھے

*****

یہ کالے اندھیرے کی خبر تھی
*****
میں نے اس شخص کے ساتھ محبت کی شادی کی تھی
اس کے لئے پیرنٹس سے بغاوت لی تھی
گھر چھوڑا۔جائیداد چھوڑی۔۔سب کچھ چھوڑا۔۔
میرا باپ اس شادی کے بعد مجھ سے کٹ گیا۔۔
تمہارے باپ نے بھی اپنے دکیانوسی ماں باپ کو چھوڑا تھا
وہ بڑی مشکل سے وہ احسان مان رہیں تھیں۔۔
ہم نے سوچا تھا مستقیم کہ ہم اپنا گھر بنائیں گے۔۔
ہم نے سوچا تھا کہ ایک اچھی فیملی ہوگی۔۔
میں نے تو سب کچھ کھویا تھا۔۔
البتہ تمہارے باپ کا رابطہ تب بھی رہتا تھا پیرنٹس کے ساتھ۔۔
میں نے اتنے عرصے میں سیکھا ہے کہ عورت چاہے جتنی بھی آزاد اور خود مختار ہو مگر کچھ اختیارات اسے کبھی دئیے نہیں جاتے مستقیم۔۔شکر کرو تم ایک عورت نہیں ہو۔۔۔
مجھے تو اطمینان ہے کہ تم ایک مرد ہو۔۔
اگر تم لڑکی ہوکر پیدا ہوتے تو شاید تمہیں چھوڑتے وقت میں ابھی بہت اذیت سے گزررہی ہوتی۔۔
یہ تمہاری خوش قسمتی ہے کہ تم ایک لڑکے ہو۔۔
اپنی مرضی کی زندگی چن سکتے ہو۔۔
تم پر کسی قسم کا کوئی بوجھ نہیں۔۔کوئی پابندی نہیں۔۔
تم جہاں چاہے نکل جائو۔۔گھر پر رہو یا باہر۔۔تمہارا شوہر کبھی تم سے سوال نہیں کرسکتا۔۔یہاں تک کہ شک نہیں کرسکتا۔۔
اگر تمہاری بیوی ایسا کرے بھی تو تمہیں اتنی تکلیف نہیں ہوگی۔۔
تم۔آزاد ہوگے۔۔بہرحال تم خوش نصیب ہو کہ تم اکلوتے ہو۔۔
تمہارے باپ کا سب کچھ تمہارا ہے۔۔
اور تمہاری ماں کے پاس ۔۔۔کچھ بھی نہیں ہے۔۔
انکی آواز خالی تھی۔۔
سوائے کبھی ایک معمولی سے کارخانے کے جو میری ماں نے اپنی زاتی ملکیت سے میرے نام کیا تھا
جسے بیچ کر میں نے برے وقت کا سامنا کیا تھا۔۔جب تمہارے باپ کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے

جب ہم پر برا وقت تھا۔
جسے کاٹنے کے لئے میں نے ایک مشقت بھرا سفر گزارا ہے۔۔
میں نے ہر موقع پر اس شخص کا ساتھ دیا مستقیم۔۔جو تمہارا باپ ہے
جو میرا شوہر تھا۔۔۔بہرحال میرے پاس اب کچھ نہیں ہے۔۔
سوائے تمہارے۔۔مگر نہیں ۔۔میں تمہیں بائونڈ نہیں کرنا چاہتی۔۔کیونکہ تمہارا فائدہ باپ کے ساتھ رہنے میں ہے۔۔
میں تمہیں مشکل میں نہیں ڈال سکتی۔۔
میں چاہتی ہوں تم اچھی زندگی گزارو۔۔
میرے پاس کچھ پیسے ہیں۔۔میں تمہاری آنی کے پاس باہر جارہی ہوں کچھ عرصے کے لئے۔۔
مجھے پتہ ہے کہ تم اپنا خیال رکھ سکتے ہو۔۔
تم جوان ہو۔۔
تمہارا اسکولنگ ٹائم گزرچکا ہے
تمہارا کالج کا وقت گزرچکا ہے
اب عنقریب بہت جلد تم خود مختاری کی زندگی گزارسکو گے۔۔
بہت جلد۔۔پھر تم چاہو تو اکیلے رہو۔۔
چاہو تو کسی کو ساتھ رکھو۔۔
بس دوستی کرنے سے بہتر ہے کہ تم شادی کرلینا مستقیم۔۔

وہ کیا کچھ کہہ رہیں تھیں۔۔
اس کا باپ راہ داری سے گزرکر ان پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر باہر لان میں جاکر بیٹھ گیا تھا
اسے اندازہ تھا کہ وہ آپس میں کیا بات کررہے ہونگے۔۔
بلکہ وہ کیا بات کرتی ہونگی
اور مستقیم کیا سنتاہوگا
وہ لان میں بیٹھے سگار پیتے ہوئے دھواں چھوڑتے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کسی سوچ میں مستغرق تھے۔
اور اندر انکی بیوی ۔۔اور مستقیم کی ماں مستقیم پر طوفان چلارہی تھیں۔۔
اتنی تلخ حقیقتیں جو سوچتے اور محسوس کرتے اور تسلیم کرتے وقت بھی کڑواہٹ بھردیتی ہیں
ان کا کہنا ماننا اور سمجھنا دوہرا مشکل تھا۔
مگر وہ کہہ رہیں تھیں آسانی سے۔۔
اور اس کے اندر جیسے لاوا اتر رہا تھا
کڑواہٹ اتر رہی تھی۔۔
شکوہ اتررہا تھا۔۔شکایت اتر رہی تھی۔
اور اس نے وہ دن دیکھا۔۔اگلے چند روز میں جب
کاغذی کارووائی چل رہی تھی
اس کی ماں کا وکیل بیٹھا تھا
اس کا باپ بھی بیٹھا تھا
طلاق نامے پر سائن ہورہے تھے دونوں کے
اور وہ فاصلے پر بیٹھا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا
اس سے اگلا دن بھی دیکھا ۔۔جب اسکی ماں کچھ مختصرسامان کے ساتھ اس گھر سے جارہی تھی ۔
وہ اس کے باپ کے دئیے ہوئے استعمال اور غیر استعمال شدہ تحفے بھی چھوڑے جارہی تھی۔
یہ تحفے جو صرف رسمی طور پر تبدیل ہوئے تھے
کئی رسمیں محبت کو نہیں جنماسکتیں
محبت کو صرف محبت جنما سکتی ہے
اگر وہ ہے تو۔۔۔
ورنہ کوئی چیز محبت کا کچھ نہیں بگاڑسکتی۔۔
تعلقات تک نہیں۔۔
تبھی تو اس کی ماں کو کسی نے روکا نہیں
تبھی تو وہ رکی نہیں۔۔
تبھی تو بیچ میں اتنا فاصلہ تھا
انہوں نے بہت عرصے بعد مستقیم کے گال پر پیار کیا تھا
بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا
صرف اس لئے شاید کہ اس لمحے وہ خود محبت کی طلب گار تھیں۔۔یا پھر محبت کھودینے کے یقین نے انہیں افسردہ کردیا تھا۔
کتنے عرصے بعد وہ سنہری شام کو اداسی میں ڈبوکر چلی گئیں۔۔
اور اسے پہلی بار پتہ چلا کہ گھر میں فقط ان کے ہونے سے بھی ایک قرار تھا۔
فقط اتنا سہی کہ گھر مکمل ہے
فیملی مکمل ہے۔۔
چاہے کم وقت دیا گیا ہو۔۔مگر گھر میں چلتا پھرتا احساس ،لمس،آواز،یا وجود تو ہوتا ہی ہے۔
اسے پہلی بار اندازہ ہوا تھا کہ ماں کا ہونا ہی اس گھر کے لئے کافی تھا
انکے بغیر گھر اداس ہے
اور جس وقت باپ کی موجودگی نہ ہوتی تو تنہا محسوس ہوتا تھا۔
گھر عجیب سناٹوں میں گھر گیا تھا
اس نے پھر سے ہاسٹل جانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
اس سے ایک رات پہلے وہ ماں کے بیڈروم میں بیٹھا انکی مختلف چیزوں سے انکے لمس کی خوشبو کشید کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا
ابھی کچھ دیر پہلے ہی اس کی باپ سے بات ہوئی تھی
اس نے محسوس کیا تھا کہ اس کا باپ بیوی کے جانے کے بعد غیر معمولی طور پر مطمئن ہے
دن بھر کام کرتا ہے
شام کو اس کے چہرے پر دو گھنٹے سوکر اٹھنے کے بعد عجیب تازگی آجاتی ہے
اور شام ڈھلے تیار ہوکر وہ گھر سے نکلتا تو دیر گئے لوٹتا تھا۔
اسے لگا اس کا باپ پہلے سے زیادہ آزاد ہوگیا ہے۔
وہ جو مروت یا پرواہ کا معمولی سا احتیاطی خیال تھا اب اس کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہی ہے۔
وہ جیسے کٹی پتنگ کی طرح لہرارہے تھے۔۔
اس شام گھر سے نکلتے وقت انکی مستقیم پر نظر پڑی جو خالی الذہنی سے کتاب کھولے ہوئے بیٹھا تھا۔
وہ اس کے سامنے سے گزرتے ہوئے رکے۔۔
اسے ایک چیک سائن کرکے پکڑایا جو اس نے خاموشی سے لے لیا تھا
چیک مستقیم کے ہاتھ میں تھا اور اس نے سرسری سی نظر ڈالی تھی اس کاغذ کے ٹکڑے پر جس کی وقعت انسانوں کو معمولی ہونے کے بعد بھی بعض دفعہ ہیچ کرلیتی تھی
وہ اس کاغذ کے ٹکڑے کو بے دلی سے کتاب میں رکھ کر بند کرنے لگا تو انہوں نے ٹوکا
اسے جیب میں رکھو۔۔یہ جیب میں رکھنے کے لئے ہے۔۔
اسکی قدر کیا کرو۔۔پیسے کی جب قدر نہ کی جائے تو وہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
وہ پوچھنا چاہتا تھا کہ کیا میری ماں کی بھی ناقدری کی تھی آپ نے ؟
وہ پوچھ نہ سکا مگر اسکی آنکھوں نے شکایت کی تھی۔۔اور وہ شاید بھانپ گئے تھے
تبھی ٹہرے اور کچھ لمحوں کا احسان کرگئے ۔۔باتیں۔۔جنہیں سننے کے لئے وہ ترستا تھا
وہ اپنے طور پر سناتے تھے۔۔جب بھی سناتے تھے ۔
اور اب بھی۔۔
مجھے معلوم ہے تم مجھے مجرم سمجھتے ہوگے۔۔
دیکھو تمہاری ماں کو بہت باتیں بنانی آتی ہیں۔۔
وہ تمہیں قائل کرکے گئی ہوگی
مگر میں تمہیں صرف اتنا بتاتا ہوں کہ ہم اب ساتھ نہیں چل سکتے تھے۔۔
اتنا کہہ کر وہ اٹھے تھے۔
تم سے امید رکھتا ہوں کہ تم اپنی اسٹڈی پر دھیان دوگے۔۔
میں ہاسٹل جانا چاہتا ہوں
اتنی ساری گفتگو میں یہ اس کا پہلا جملہ تھا
ٹھیک ہے۔۔جو تم اپنے لئے بہتر سمجھو۔۔
وہ بڑی آسان مسکراہٹ کے ساتھ ایک اچھے باپ بننے کا حق ادا کرتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گئے تھے
ڈرائیور انکے اشارے کے انتظار میں سر جھکائے ہوئے پہلے سے کھڑا تھا۔
اس رات مستقیم کو لگا کہ یہ گھر اسے مزید کوئی خوشی نہیں دے سکتا باوجود اس کے یہ گھر اسے عزیز تھا
اس گھر میں اچھی یادیں بھی تھیں
تمام تر رویوں کی لاپرواہیوں کے باوجود بھی گھر کے در و دیوار انسانی بوء تھی
ورنہ خالی گھروں میں فقط کباڑ کی بوء رہ جاتی تھی
اسے خدشہ تھا کہ عنقریب ان کے گھر کی دیواروں سے آتی انسانی لمس آہٹ اور آوازوں کی حرارت سے محروم ہوکر کہیں یہ کوٹھی کباڑ کی بوء اور بوسیدگی کا شکار نہ ہوجائے کیونکہ اس نے محسوس کیا تھا کہ جس گھر کو مکین چھوڑجاتے ہیں
وہ کباڑخانہ بن جاتا ہے۔
حالانکہ اس کے گھر میں باپ تھا۔
ملازم تھے
مگر ایک ماں کے نہ ہونے سے کتنا فرق پڑا تھا۔
حالانکہ وہ تو سوچتا رہا تھا کہ وہ انکے بغیر بھی رہ سکتا ہے
مگر اس کا اندازا مکمل نہیں تھا۔
وہ رہ تو سکتا تھا مگر ادھورا سا۔۔
اس رات اس نے ماں کو ٹیکسٹ کیا تھا
مس یو مام کا
اور اسے ریپلائی نہیں آیا تھا
حالانکہ ٹیکسٹ سین ہوچکا تھا
اگلے دو دن بعد ماں کا ٹیکسٹ تھا مختصر سا جس میں مس یو ٹو مائی ڈئیر، لکھا اس کا منہ چڑارہا تھا بناوٹ اس لفظ کے لہجے سے پوری طرح سے چھلک رہی تھی
یہ نہیں کہ وہ یاد نہیں کرسکتی تھیں
یہ تھا کہ انہیں یاد کرنے کی شاید ضرورت نہ تھی اور یہ شاید یقین میں تب بدلا تھا جب اگلے کچھ روز میں اس کی ماں سے بات ہوئی تھی
وہ بتارہی تھیں کہ تمہاری آنی کے ساتھ یہاں وہاں گھومنے گئئ تھی
یہ ملک بہت اچھا ہے
یہاں سبزہ ہے
لوگ اوئیر ہیں۔۔ماحول اچھا ہے وغیرہ۔۔اپنی ہائی سوسائٹی کی طرح ہی لگتا ہے سب کچھ ۔۔وغیرہ
وہ اتنی ساری باتوں میں جس چیز پر دھیان دے رہا تھا
وہ صرف ماں کی آواز تھی
وہ آواز کو سننا چاہ رہا تھا
مام پھر کال کرنا۔۔یہ آخری جملہ جو اس نے فوری کہہ دیا تھا
انہوں نے شاید اپنی ہنسی میں ہی اڑادیا تھا کیونکہ برابر میں انکی کوئی پرانی فرینڈ بیٹھی تھی جس کی طرف بات کرنے کے درمیان ہی ان کی توجہ کھنچتی چلی جاتی تھی
اور وہ انکی اگلی بات سننے کے کئے کان دھرتا یا پھر کوئی مختصر سا جملہ کہہ دیتا اور وہ ایک جملہ ادھر کہتیں ایک ادھر۔۔بلآخر فون رکھا گیا اور اگلے کئی روز تک ممکنہ طور پر کوئی فون نہیں آیا تھا
اس نے دو تین بیلز دیں
بیلز جاتی رہیں تھیں
انکے پاس فون رسیو کرنے کا وقت نہیں تھا
جواب میں انکا مختصر سا آڈیو مل جاتا تھا
ھئے جانی کیسے ہو؟
سوری فون سائلینٹ تھا۔۔یا بیل نہیں سنائی دی میں کہیں باہر تھی
اس وقت کچھ لوگ تھے فون اٹھا نہیں سکی۔۔سوری پھر بات ہوگی۔۔ٹیک کئیر۔۔
کتنی نفاست تھی لہجے میں۔۔
کتنی عجلت تھی انداز میں۔۔
اور کتنی ٹوٹ پھوٹ اس کے اندر ہوئی تھی
اس کا بہت ضروری امتحان تھا
مگر وہ پڑھ نہیں پارہا تھا
اس کے پیرنٹس کیوں اس کی وجہ سے اپنی ایکٹوٹیز کو آگے کرتے ۔۔ماں اپنی دنیا میں تو باپ نے نئی دنیا بسائی تھی
وہ ایک تیس بتیس سالہ خوش شکل سی لڑکی تھی
جس سے اس کے باپ نے نکاح کرلیا تھا۔
اور اس کے گھر میں ایک نئے فرد کا اضافہ ہوگیا تھا۔
جس سے اسے کوئی فرق نہیں پڑا تھا
مگراس کی ماں کو بات کرنے کے لئے ایک کڑک موضوع مل گیا تھا۔
وہ ان سے کہنا چاہتا تھا کہ اپنی باتیں کریں۔۔
وہ ان سے کہنا چاہتا تھا کہ میں نے اس سب پر ڈسکس کرنے کے لئے فون نہیں کیا۔
وہ کہنا چاہتا تھا کہ اب آپکا انکے ساتھ کوئی رشتہ نہیں۔۔میرے ساتھ ہے
مجھ سے بات کریں۔۔
میری بات سنیں۔۔
مجھے کہنے دیں۔۔
میں آپکو مس کرتا ہوں
اس گھر میں آپکو دیکھنے کی مجھے عادت تھی۔۔کوئی دوسری عورت عجیب لگتی ہے
یہ تو آپکا گھر تھا مام۔۔
یہاں پر آپکا مستقیم رہتا ہے
مگر وہ کچھ بھی نہیں کہہ پارہا تھا۔
بلکہ کچھ کہنے کا خاص فائدہ بھی نہیں تھا۔
*****

جس گھر پر نور فاطمہ کے نام کی تختی تھی
******

گھور اندھیرا ہر طرف پھیلا ہوا تھا
بمشکل گاڑی اسٹارٹ ہوئی تھی دوبارہ۔۔
یہ ایک ویران علاقہ تھا جہاں گھنٹے بھر سے وہ کھڑی اپنی کھٹارہ گاڑی کے ساتھ مغز ماری کررہی تھی
ماں کی مسڈ کالز فون پر ثبت تھیں
اور پھر ماں کا ایک خفگی بھرا آڈیو نوٹ تھا جو اس نے اسی دورآن سنا تھا
اور جواب میں اسے بتایا تھا
نمبر اور پتہ تب اس نے سالس سے لیا تھا
اور سب سے پہلے ان کے مکان کی طرف گئی تھی جو کہ بند تھا
التمش کا پرانا پتہ اسے کسی نے طاہر منیب سے لے دیا تھا
اور وہ روانہ ہوگئی تھی
کچھ بھی سوچے بغیر۔۔کیونکہ یہ اس کی زندگی کا تجربہ تھا کہ زیادہ سوچ بچار سے بھی فیصلے کمزور ہوتے ہیں
اور فیصلہ کمزور ہونے سے انسان خود کمزور ہوجاتا ہے
اسی کمزوری سے جان چھڑانے کے لئے اس نے مضبوط بننا چاہا تھا
غلط بات پر انکار کرنا اور ٹھیک بات کی ہامی بھرنا مشکل تھا مگر ناممکن ہرگز نہیں تھا۔
اسی طرح وہ مشکل سہی مگر ممکنہ طور پر ٹھیک ساڑھے چھ گھنٹے بعد، جس میں ایک گھنٹہ گاڑی خراب ہونے کا اور پندرہ منٹ پیٹرول پمپ پر رکنے کے تھے اور ایسے ہی لگ بھگ بیس پچیس منٹ کے لئے اس نے راستے میں آتے ہوئے ایک کچے ہوٹل پر کھانا کھایا تھا
اور پاس گرد بہتے پکے روڈ کے پار بنے پل اور پٹڑی کے نیچے پتھروں پر کھڑے ہوکر نظارے کی تصویریں لیں تھیں
وہ وقت سورج کے غروب کا تھا
اور اس وقت پہاڑوں کی اوٹ میں سورج کا گولا گرتا ہوا نارنجی تو کبھی سرخ شعائیں پھینکتا ہوا ڈوبنے لگا تھا
اس کی گاڑی کھرکھراتی اسٹارٹ ہونے کے بعد سبکی سے پہاڑوں کے بیچ بنے راستے پر چلتی جارہی تھی۔
اور شام کا دھندلکا تیزی سے رات کی طرف کھسکنے لگا تھا
اس کی گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں تھی
سڑک کشادہ تھی۔
رش نہ ہونے کے برابر تھا،اور خاموشی کا سفر ایک اپنا سا لطف دے رہا تھا اگرچہ گاڑی نہ ویرانے میں خراب ہوتی ۔۔گھنٹہ نہ ضایع ہوتا
اور کوفت نہ ہوتی تو یہ سفر دوسرے معنوں میں ضرور ہی یادگار ٹہرتا۔
اور اب ساڑھے چھ گھنٹے کے بعد وہ فائنلی اس بستی میں پہنچ ہی گئی جس کی کشادہ کچی گلیوں میں سے التمش تامی کے گھر کا راستہ ملنے آتا تھا اور مسافر کی رضامندی پر
اپنی اور لے جاتا تھا۔
اس طرف سناٹوں کا ہجوم تھا
یا پھر خاموشیوں کا پہرہ جس کی ہو کے عالم میں سے کبھی کوئی کھانستا۔۔یا بورچی خانے میں برتن گرتا
کوئی کڑا پڑتا ۔۔کوئی کھٹکا ہوتا تو آواز آتی۔۔
اس بستی کے لوگ شام ڈھلتے ہی شاید بستروں کی آسودگیوں میں کھوجاتے تھے۔
وہ زرا ججھک کر گلی تک پہنچی۔۔گاڑی فاصلے پر کھڑی کی۔۔
کوئی بھینسوں کے باڑے میں چمنی لٹکائے بیٹھا تھا
اونگھتے ہوئے گاڑی کی خراہٹ بھری آواز پر چونکا۔اٹھا
۔اور اس سے دریافت کرنے پر تامی کے گھر کی طرف اشارہ کیا۔۔جہاں سبز لوہی دروازہ لگا تھا
وہ اس گھر کو نورفاطمہ کا گھر کہہ رہا تھا
اور اس نے دیکھا کہ گھر کے دروازے کی بیرونی سطح پر نورفاطمہ نامی تختی لگی ہوئی تھی۔
اس نے دروازہ بجایا تھا
اور لوہی دروازے پر پڑی دستک جیسے سماعتیں بجادیتی تھی۔
کچھ لمحوں بعد کسی کے قدموں کی چاپ ہوئی تو اس نے ہتھوڑا برساتی ہوئی دستک سے ہاتھ روک کر تھیلے پر مضبوطی سے جمالیا تھا
اور دوسرے ہاتھ میں سیل فون تھاما تھا جس کی ٹارچ کی روشنی سیدھی دروازے پر لگی تھی جسے کھولتے ہوئے اس کی تو تصدیق ہوئی مگر وہ شخص گڑبڑاکر برا مناتے ہوئے اسے ٹارچ ہٹانے کا کہنے لگا تو اس نے شرمندگی سے فورا” ٹارچ نیچے کی اور معذرت کے ساتھ سلام دعا کرنے لگی
انہوں نے خفت مٹاتے ہوئے اس کے پیچھے جھانیا
تم انٹرویو۔۔اسی سلسلے میں آئی ہو نہ بیٹا؟تم ہی ہو میرا مطلب ہے؟
جی میں ہی ہوں۔۔اور میرا نام عالین افتخار حیدر ہے۔
اچھا۔۔خاصہ لمبا نام ہے۔۔خیر چلو بہتر ہے والد کا تعارف بھی ہوگیا۔چلو
آجائو آجائو
تم اکیلی ہی آئی ہو نہ؟وہ آگے جاتے ہوئے پھر رکے
جی۔۔میں اکیلی ہوں۔
اچھا ۔۔چلو آجائواندر۔۔مگر خاصی دیر ہوگئ ہے بیٹا کسی کو ساتھ لے لینا چاہئے تھا۔۔خیر۔۔اب شکر ہے پہنچ گئیں۔۔
وہ اس کے آگے جاتے ہوئے فکر سے کہنے لگے
راستہ صحن سے فوری دالان میں پڑگیا تھا جہاں نور فاطمہ کی نیم جان لیٹی ہوئی کچی چھت پر لگے بانس کی نارنجی لکڑیوں کو محویت سے تکتے ہوئے کہیں اور ہی مگن تھی
اور وہ اس سکوت کو توڑنے کے لئے آگے بڑھ گئے تھے۔
زینت بی بی موجود ہیں تو پانی لائیے گا۔۔
موجود ہیں کہنے کا لہجہ ایسا تھا جیسے کہہ رہے ہوں کہ زندہ ہیں تو پانی لائیے گا۔
لاتی ہوں جی۔۔وہی کھڑوس سا لہجہ۔۔ بے نام مروت کا مارا۔وہ سامنے سے گزر کر کچن کی طرف گئیں۔

نور فاطمہ کی نحیف اور لرزتی آواز نے کیا پوچھا عالین نہیں سمجھ سکی

لڑکی ہے۔ایک لڑکی آئی ہے۔وہ جلدی سے جان چھڑانے والے انداز میں بولے۔
ابکی بار انکی چرمراتی غوغاں جیسی آواز دوبارہ ابھری؟
لڑکی ہی ہے مگر زیب نہیں ہے نہ ہی اسکی کوئی دوست۔
ان کا لہجہ ابکی بار نرم تھا مگر زرا اکتایا ہوا۔
زیب آئی ہے؟نور فاطمہ بے چینی سے دیکھنے لگی تھیں سیدھ میں
یہ ایک پیاری لڑکی ہے عالین۔۔
انٹرویو کرنے آئی ہے میرا وہ انہیں مطمئن کرنے کی بجائے فکرمند کرگئے تھے۔
۔ایک لمبی سی سانس خارج ہوئی آہستگی سے اور ہوک سی اٹھی۔
تم۔سوجائو آرام کرو۔۔انہوں نے عالین کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے نور فاطمہ سے کہا تھا۔
زی۔ب۔۔گوں۔۔غوں۔۔ک۔۔۔ب آں۔۔انہوں بمشکل بولا تھا ؟نور فاطمہ کا لہجہ بے بس تھا۔
آجائے گی۔۔انکے لہجے میں ترحم تھا۔۔جلدی آئے گی فکر نہ کرو۔۔اور تمہیں ابھی کچھ نہیں ہورہا۔۔ٹھیک ہے۔۔بس تھوڑی سی بیماری ہے۔۔سوجائو ۔۔جلدی ٹھیک ہوجائوگی نورفاطمہ۔۔ایسے بے تکے دلاسے وہ کم ہی دیتے تھے مگر کبھی کبھار دلاسہ خالی سکہ ہو تب بھی پھینکنا پڑجاتا ہے
انہوں نے بے بسی سے آنکھیں موند لیں۔۔
ہاں سوجائو۔۔۔۔شاباش۔۔انہوں نے تھپکی دی انکے سر کو اور اندر کمرے میں گھس گئے
عالین نے دیکھا کہ نور فاطمہ نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔۔گویا وہ سونا چاہتی تھیں۔
سو وہ انکا حال جاننے کا ارادہ رد کرکے التمش کے پیچھے اندر چلی گئی کمرے میں۔۔
انہوں نے اسے کرسی پیش کی۔۔یہ لکڑی کی مضبوط کرسی تھی
نیچے کچھ فاصلے پر سنگل بیڈ رکھا تھا۔۔
اور فرش پر قالین بچھا تھا۔
کرسیاں دو ہی تھیں اور آگے چھوٹی سی رائٹنگ ٹیبل سامنے پڑی تھی۔۔
وہ زرا فاصلے پہ انکی پیش کی گئی کرسی پر بیٹھ گئی تھی
اور وہ اسکی خیریت پوچھنے لگے حالانکہ وہ زیب کے متعلق پوچھنا چاہ رہی تھی مگر فی الفور انکے سوال کا جواب دینے لگی۔اسی وقت
زینت بیبی ایک گلاس پانی اور ایک گلاس جوس لے آئیں تھیں۔اس نے پانی کا گلاس پکڑلیا تو انہوں نے جوس کا گلاس میز پر رکھ دیا ۔
اور پلٹنے سے پہلے عجیب نظروں سے دیکھنے لگیں
وہ ہراساں تو نہیں مگر حیران ضرور ہوئی تھی۔
فکر مت کرو یہ زینت بیبی شکل کی ایسی ہیں
دل کی اچھی ہیں۔
کہتے ہوئے ہنس پڑے تھے تو زینت بیبی کا موڈ سخت خراب ہوگیا اور ٹرے لیکر باہر کی طرف جانے لگیں۔۔
عالین کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی
رکیں زینت بیبی بتاتی جائیں کھانا گرم ہوسکتا ہے؟
ہاں جی۔۔ہوسکتا ہے۔۔وہی قاتلانہ لہجہ۔۔۔
کھانا کب سے تیار تھا۔۔تمہارا انتظار تھا اب یہ بتائو پہلے کھانا کھالیں؟
یا انٹرویو شروع کریں؟
اگر آپ نے بھی نہیں کھایا تو پہلے کھانا کھالیتے ہیں۔۔ویسے میں نے مغرب کے وقت راستے میں لے لیا تھا۔۔
کوئی بات نہیں۔۔وہ والا حضم ہوگیا ہوگا
اس وقت رات ساڑھے گیارہ بجارہی ہے۔
ٹھیک ہے سر۔۔ویسے یہاں پر اتنی جلدی سب سنسان ہوجاتا ہے؟
ہاں بیٹے یہ ایک ویران سے علاقے کی چھوٹی سی بستی ہے۔یہاں بہت کچھ جلد ہی سنسان ہوجاتا ہے
گرمیوں کی رات سردیوں جیسی لمبی اور سردیوں کی تو سال بن جاتی ہے۔۔
کہتے ہوئے مسکرائے۔۔
اب انتظار کی تو ایک طویل رات بھی سال ہوجاتی ہے نہ۔۔
انتظار؟
انتظار۔۔۔رات ختم ہونے کا۔۔کہتے ہوئے خود پر ہنس پڑے تھے
ہلکی مدھم بے وجہ کی ہنسی۔۔
وہ انہیں بظاہر بغور نہیں دیکھ رہی تھی مگر لہجے کو بہت محسوس کررہی تھی۔۔
زینت بیبی کھانا لیکر آگئیں تھیں
اس نے باہر نکل کر ایک پرانے اسٹیل کے سنک میں ہاتھ دھوئے ۔۔جو کچن سے باہر لگا ہوا تھا
اور پھر نورفاطمہ پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے اندر آگئی
اس عورت میں کچھ تھا۔۔جیسے وہ نہ دیکھنے کے باوجود بھی دیکھتی ہو
اسے کچھ خوف سا محسوس ہوا تھا اس لمحے نورفاطمہ کے وجود سے۔۔
آپکی بیوی ہیں غالبا”؟وہ باہر۔۔
وہ میز کے پاس کرسی کھینچ کر لاتے بیٹھی ۔
ہاں بیٹا۔۔نور فاطمہ بدقسمتی کے ساتھ میری بیوی ہیں۔۔
اچھ۔۔چھا۔۔وہ کچھ چونکی۔۔میں اسے خوش قسمتی سمجھنا چاہتی ہوں
نہ بچے نہ۔۔دل نہ خوش کرو۔۔جو سچ ہے سو ہی سچ ہے۔۔
جانے دو۔۔ابھی پہلی بار ملی ہو تبھی ایسی باتیں کررہی ہو۔۔
زیب؟جن کے متعلق وہ پوچھ رہی تھیں؟
وہ ہماری نواسی ہیں بیٹے۔۔
اچھا کھانا کھائو آرام سے۔۔خوب پیٹ بھرکر کھانا بار بار نہیں تاکید کروں گا۔

بے فکر رہئے یہ سجی دیکھ کر تو ویسے ہی مجھے لگتا ہے کہ ہاتھ صاف ہوجائیں گے۔۔
سجی مجھے پسند ہے۔۔اگر مہمان کی پسند کا علم نہ ہو تو میں مہمان کے لئے اپنی پسند کا کھانا بنواتا ہوں۔۔
یہ میری پرانی عادت ہے۔۔
مجھے بہت خوشی ہوئی کہ میں آپکی میزبانی کا شرف لے رہی ہوں ویسے میں اتنی مہذب زبان بھی کم استعمال کرتی ہوں
اچھا۔۔وہ مسکرائے اسکی بات پر اور پھر اپنی پلیٹ میں لینے لگے۔۔
کھانا کھاتے ہوئے بھی عالین کی توجہ بے وجہ ہی ادھر ادھر بھٹکتی تھی
جیسے اس گھر میں کچھ تھا
اسے لگ رہا تھا دیواروں کی بھی آنکھیں ہیں۔۔
تبھی نظر جھکا کر کھانا کھارہی تھی۔
تم یہاں سیو ہو بچے۔۔بھ فکر رہنا
جی۔۔جی بالکل۔۔اس نے محسوس کیا کہ وہ جتنا محسوس کررہی ہے اتنا ہی تیز ہورہا ہے
جیسے گھڑیال ابھی اپنی جگہ سے ہٹ جائے گا
اور میز چلنے لگے لگی
اس کا لاشعور جیسے پرجوش ہورہا تھا
وہ محسوسات کو جھٹلاتے ہوئے انکی ہلکی پھلکی گفتگو میں حصہ لینے لگی۔۔یہاں تک کہ توجہ اچھی طرح سے بٹ گئی
حالانکہ اس نے توجہ نہیں دی تھی
مگر گھڑیال نے واقعی اپنی جگہ کھسک کر آگے کی تھی۔
******

یہ دنیا ایک انتظار گاہ ہے
******
اپنے گھر کا دروازہ کم از کم کھلا رکھا کرو نگار افروز۔۔
وہ بہت چڑے ہوئے انداز میں اندر داخل ہوئی تھی۔
دروازہ کھلا رکھوں تاکہ چور اچکے آتے رہیں۔۔حد کرتی ہو۔۔
اسے وائپر تھامے بغیر دوپٹے کے ٹی شرٹ میں ملبوس کھلے پائنچوں والے میلے ٹرائوزر میں ملبوس نگار افروز بولتے ہوئے اس وقت سخت زہر لگ رہی تھی۔
میرا دل کررہا ہے جانے کیوں میں تمہیں اس حلیے میں ایک تھپڑ جڑدوں۔۔
پاگل ہوگئی ہو کیا زیب مجاہد۔۔
اپنے سے آٹھ سال بڑی دوست کو تھپڑ لگاتے ہوئے شرم نہیں آئے گی تمہیں۔۔
کوئی شرم نہیں رہی مجھ میں نگار افروز۔۔
دل چاہتا ہے ہر اس بندے کے ساتھ برا کروں۔۔جو میرے ساتھ برا کررہا ہے
تمہارے ساتھ سوائے تمہارے چہیتے شوہر کے اور کوئی برا نہیں کرسکتا زیب۔۔ہوش کرو۔اوروں پر غصہ مت اتارو۔۔
وہ گیلے فرش پر دوبارہ وائپر لگارہی تھی۔
زیب نے نگاہیں پھیر لی تھیں۔۔
تم۔آخر اتنے بڑے گلے کیوں پہنتی ہو نگار۔۔
نگار کا اس بے تکی بات پر بے ساختہ قہقہہ چھوٹ گیا تھا۔
کون کہے گا تم شادی شدہ ہو۔۔
عورتوں سے بھی تمہیں حیا آتی ہے۔۔
اپنے جیسی عورتوں سے۔۔حد ہے
وہ اب تک ہنس رہی تھی۔۔
بے ہنگم ہنسی۔۔
ایک تو تم اپنا ویٹ لوز نہیں کرتیں۔۔اوپر سے کپڑے عجیب پہنتی ہو۔۔زرا نہیں خیال رکھتی ہو اپنا تم۔۔تبھی تو حاکم علی نے تم سے اکتاکر دوسری شادی کرلی ہے
وہ اس بات پر فورا” سنجیدہ ہوئی تھی۔۔
تمہارے نانا سچ کہتے تھے زیب۔۔تم بہت کڑوا بولتی ہو۔۔
زہر اگلتی ہو۔۔مت اگلا کرو۔۔
کوئی کسی کا زرخرید نہیں ہوتا کہ زہر پیتا رہے۔۔
کہتے ہیں اندھے کو منہ پر اندھا نہیں کہتے اور تم سوائے عنصر کے سب کو ایک تو اندھا سمجھتی ہو۔۔
اوپر سے کہتی بھی ہو۔۔حد کرتی ہو بے قدری کی زیب مجاہد ۔۔حد کرتی ہو۔۔
وہ خاصی مایوس تھی اسکی گفتگو سے۔
ہاں مجھے معلوم ہے۔۔میں ایسی ہی ہوں۔۔زہریلی۔۔کٹیلی۔۔مگر میرے ساتھ جڑے ہوئے لوگ بھی کچھ کم نہیں ہیں۔۔
وہ غصے سے پیر پٹختی ہوئی اس کے بیڈرو میں چلی گئی تھی اسے پتہ تھا وہ جتنا ابھی اس کے سامنے رہے گی
زہر اگلے گی۔۔
اس سے بہتر تھا کہ فی الحال ٹل جائے اس کا بس چلتا تو خود اپنی ہی نظر سے ٹل جاتی ۔۔جیسے حالات سے گزررہی تھی۔
نگار کو پتہ تھا کہ اسے کچھ دیر اکیلے چھوڑدینا ہے۔
اس لئے وہ تسلی سے فرش صاف کرنے کے بعد اس کے لئے کھانا آرڈر کرنے کے بعد اندر آئی تھی۔
زیب کو لگا وہ اس سے کچھ کہے گی
اس لئے اٹھ کر اس نے بیڈروم سے متصل گیلری کا پردہ ہٹادیا تھا۔
نگار نے اپنے لئے کپڑے نکالے اور واش روم میں گھس گئی۔
اس کے واش روم جاتے ہیں زیب نے بے ہنگم طریقے سے گیلری میں نیچے فرش پر بیٹھ کر رونا شروع کردیا تھا۔
نگار جلدی جلدی نہاکر نکلی تو گیلری سے ہچکیوں کی آواز نے اس کا دل پکڑ لیا تھا
وہ دروازے پر جاکھڑی ہوئی اور اسے روتا ہوا دیکھتی رہی۔۔خود اسکی بھی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
گیلری کی رینلگز اونچی تھیں۔۔مگر کھڑے ہونے پر سامنے والے چار مکانوں کی چھتوں پر بنے سیکنڈ فلورز سے واضح نظر پڑتی تھی۔
خود وہ بھی کئی بار پڑوسیوں کے خفیی جھگڑے یا مد بھیڑملاحظہ کرلیا کرتی تھیں
سو اس وقت اسے یہاں بیٹھ کر روتے دیکھ کر فکرمند ہوگئی۔
اندر آئو زیب ۔
پلیز اندر آجائو۔۔میں تمہیں ڈسٹرب نہیں کروں گی۔۔
وہ کہہ کر دروازے سے ہٹ گئی تھی
اور زیب اندر آکر باتھ روم میں چلی گئی
سنک کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے اپنے بقیہ آنسو ضایع کئے اور پھر سڑکتی ہوئی ناک پونچھتی ہوئی باہر آئی تو نگار نے اسے کھانے کے لئے آواز دی۔
وہ جیسی بھی تھی اس کا خیال رکھتی تھی
جب بھی دکھی ہوتی اسکے پاس چلی آتی تھی۔
اسے پتہ تھا وہ اسی کے سامنے دل ہلکا کرے گی۔
اور اسی لئے فی الحال وہ رودھوکر تسلی سے باہر گئی جہاں نگار افروز نے اس کے لئے کھانا لگادیا تھا۔
پہلے کھانا کھائو۔۔پھر بات کرتے ہیں۔۔
وہ بڑی تسلی سے بیٹھی ہوئی تھی۔
زیب نے کرسی کھینچی اور بیٹھ گئی تھی
آج بہت دنوں بعد وہ کسی چخ چخ کے بغیر کھانا کھارہی تھی۔
اور اس کے بعد اس نے نگار افروز کو وہ ساری باتیں بتانی تھیں۔۔
جو وہ بتانا چاہ رہی تھی۔
جو اسے بتانی تھیں۔
جو کچھ حقیقتیں تھی۔۔اور کچھ واہمے جو کبھی حقیقت سے پہلے منڈلاتے ہیں۔
یا پھر حقیقت ہونے کے لئے تڑپتے ہیں۔۔
*****

بس متضاد گھومتے ہیں
*****

ہم سخت گرمیوں کے جھکڑ میں ہمیشہ سردیوں کی سکون کو یاد کرتے ہیں
اس وقت ہمیں سردیوں کی کپکپی کے مارے ہوتی سستی اور بے چارگی کا احساس نہیں ہوتا۔۔
ہم بس متضاد گھومتے ہیں۔۔
ہم جس موسم جس جگہ جس صورتحال میں ہوتے ہیں، دکھ تو یہی ہے کہ ذہنی طور پر وہاں کم ٹہرتے ہیں۔۔ہم۔ذہنی طور پر کسی الگ جگہ سفر کرتے ہیں
اور ظاہری طور پر الگ۔۔۔
ہم متضاد گھومتے ہیں۔۔
ہمیں دو اشکال کی ضرورت ہوتی ہے۔۔
دو طرح کا احساس۔۔ایک سامنے۔۔اور ایک پوشیدہ۔۔
ایک ظاہر اور ایک اندر۔۔
ایک مخفی اور ایک واضح۔۔۔ہمیں شاید اسی طرح رکھا گیا ہے۔۔
خود ہمارے اندر بھی دو رائے رہتی ہیں۔۔
مجھے انسان کی اس فطرت اور مجبوری سے بے چارگی کی بوء آتی ہے عالین۔۔
تمہارا مکمل نام عالین حیدر ہے نہ؟
عالین افتخار حیدر۔۔یہی نہ؟
وہ بات کرتے ہوئے جب اس کی طرف مڑے تو فورا” احساس ہوا ۔
اور عالین افتخار حیدر کے چہرے پر مدھم مسکراہٹ در آئی۔۔
آپ بہت مزے دار ہیں۔مگر میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ آج سے پہلے میں آپ جیسے مزیدار شخص سے کبھی نہیں ملی۔۔
مجھے مزیدار کہلاتے ہوئے اچھا لگے گا پیاری لڑکی۔۔
تمہیں پتہ ہے جب میں نیا نیا تھیٹر کرتا تھا تب رفیق صاحب مجھے یہی کہتے تھے کہ التمش ایک مزیدار تھیٹر کرو۔۔
تب میں سوچتا تھا کہ مزیدار کس قسم کا کھیل ہوتا ہے؟
بہت سنجیدہ منجھا ہوا۔
بہت فنی اور رچا ہوا
یا پھر ان دونوں کا مکسچر مزیدار۔۔
پھر میں نے بس کہانی کی تھیم پر کام کرنا شروع کیا۔۔اور اسے اسی طرح ایکٹ کروانے کی کوشش کی جیسے رائٹر نے لکھا ہوتا ہے۔۔
شروع شروع کے وہ پلے میں خود بھی لکھ لیتا تھا
مگر سچ تو یہی ہے عالین کہ میں ایک اچھا رائٹر نہیں تھا۔
مگر جب مونا نے لکھنا شروع کیا تو دھوم مچادی۔۔
مونا کیریکٹر کے اندر اترجاتی تھی۔
مونا۔۔وہ شاید آپکی بیٹی تھی نہ؟
ہاں وہ میری بیٹی ہے۔۔انہوں نے تھی کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔
بہت پیار کرتے ہیں آپ اپنی بیٹی سے ؟
عالین نے بھی تھے کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔
ہاں عالین۔۔بہت ۔۔میں بہت پیار کرتا ہوں مونا سے۔۔
میں اس سے دور ہوں۔۔۔مگر دلی طور پر ہرگز نہیں۔۔
انکی آنکھوں میں نمی تھی۔
وہ میرے نزدیک ہے۔۔
اب تک ۔۔کبھی کبھار مجھے اسکی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔
آپکو انکی آوازیں سنائی دیتی ہیں؟
ہاں۔۔مجھے مونا کی آواز سنائی دیتی ہے۔۔۔
کبھی کبھار جب میں اسے آواز دیتا ہوں۔۔
یا پھر آواز دینا چھوڑدیتا ہوں۔۔
یا جب میں اداس ہوتا ہوں۔۔۔تب وہ مجھے آواز دیتی ہے۔۔
مجھے لگتا ہے وہ میرے کہیں قریب ہی رہتی ہے۔۔
پہلے پہل مجھے خدشہ تھا کہ کہیں وہ بھٹک تو نہیں گئی۔۔
مگر ایسا نہیں ہے۔۔میرا دل نہیں مانتا۔۔
میری بیٹی بہت اچھی جگہ رہتی ہوگی۔۔کم۔از اس دنیا سے بہتر ۔۔یہاں اس کے لئے جہنم تھا۔۔
پلیز عالین اپنا ریکارڈر بند کردو۔۔
میں بہت تلخ ہوتا جارہا ہوں۔۔
وہ کھڑے سے بیٹھ گئے تھے۔
اور سر ہاتھوں میں گرادیا تھا
عالین نے جھٹ سے اپنا ریکارڈر بند کردیا تھا۔
وہ کچھ لمحوں تک بہت ڈسٹرب رہے تھے
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ انہیں کیسے ڈیل کرے۔۔
آپ مجھ سے کچھ شئیر کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔۔
کچھ بھی۔۔اپنی بیٹی کے بارے میں۔۔یا پھر۔۔اپنے بارے میں۔۔یا پھر وہ سوچیں جو آپکو پریشان کرتی ہیں۔۔
میں نے بہت عرصے سے کسی سے کچھ شئیر نہیں کیا۔مگر عالین میں اپنی بیٹی کو ڈسکس نہیں کرنا چاہتا۔
البتہ کوئی اگر میری نظر سے دیکھے تو وہ ہیرا ہے
اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
میں صرف انکے بارے میں سننا چاہتی ہوں۔۔انکے بچپن کے قصے۔۔اور ان کا ٹیلنٹ۔۔ان کا کام۔۔اور انکا آپکے ساتھ گزارا ہوا وقت۔۔یہی سب۔۔۔
ہاں عالین۔۔تم بہت اچھی ہو۔۔مگر دیکھو اس کے لئے کافی وقت درکار ہوگا۔
ہمیں دو تین سیشن کرنے پڑیں گے۔۔
تم کب تک رکوگی یہاں؟
میں یہاں یہ رات تو رک سکتی ہوں کیونکہ رات کافی بیت چکی ہے
اور اس کے دورآن ہم بہت ساری باتیں کرسکتے ہیں
باقی باتیں ہم فون پر کرلیں گے۔۔
جو باتیں آپ چاہیں گے وہ میں گول کرلوں گی انٹرویو میں۔۔
تم بہت کچھ گول کروگی۔۔یا پھر شاید کچھ بھی نہیں۔۔
خیر چھوڑو تم اپنے سوالات کرو۔۔اور ترتیب وار کرلو تو بھی مسئلہ نہیں ہے۔۔
میرے بچپن سے شروع کریں یا جوانی سے؟
آپکے پیدا ہونے سے۔۔وہ مسکرائی۔
وہ تو مجھے بھی یاد نہیں ہے۔۔مگر ہاں میں تمہیں اتنا بتادوں کہ مجھے تب کا وقت یاد ہے جب میں کنچے کھیلتا تھا۔۔
ہاں میں تمہیں تب سے بتاسکتا ہوں۔۔
کنچے کھیلنے میں کیا ایسی خاصیت تھی کہ آپ اپنے بچپن کی کہانی کنچے کھیلنے کے واقعے شروع کررہے ہیں۔۔
ہاں تھی ایک خاصیت۔۔دراصل۔۔میں جب کنچے کھیلتا تھا تب مجھے پشت پر چھوٹے چھوٹے کنکر لگتے تھے
میں جب پیچھے مڑکر دیکھتا تھا تو کوئی نہیں ہوتا تھا۔۔
مجھے لگا یہ کسی کی شرارت ہے
مگر جب مجھے گلی سے نکلتے ہوئے تاریکی میں بھی کنکر لگتے تھے تو میں چونک جاتا تھا۔۔
میں حیرت میں مبتلا ہوجاتا تھا اور کچھ کچھ خوف میں بھی۔۔
پھر مجھے کسی کی ہلکی سی ہنسی۔۔بلانے کی پکار اور آوازیں سنائی دینی لگیں تو میں ڈرسا گیا تھا
میں نے باہر نکلنا چھوڑدیا اکیلے میں۔۔میں گھر میں دب کر رہ گیا تھا۔۔
پھر میری ماں نے میرا ڈر بھانپ لیا۔۔اور مجھ سے کچھ پوچھا میں نے انہیں بتایا۔۔اور وہ کسی آدمی کے پاس اس مسئلے کے حل کے لئے گئیں تو انہوں نے بتایا کہ کوئی مافوق الفطرت طاقت مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے
کیا میں چاہتا ہوں کہ وہ طاقت مجھ پر کھلے؟
اگر ہاں تو پھر وہ طاقت بہت جلد مجھ پر عیاں ہوگی
مگر یہ سنتے ہوئے تو میں زار و قطار روپڑا تھا
اور میری ماں نے جاکہ اس آدمی سے درخواست کی کہ کسی طرح میرے بچے کی جان چھڑائو ان کنکریوں اور آوازوں سے۔۔
آدمی نے کہا دعا کرتے ہیں
تو بچے کو دنیا کی طرف راغب کر مگر نیک نیتی نہ جانے دینا۔۔
بس پھر کیا تھا ماں نے اس دن کہ بعد مجھے کبھی نہ ٹوکا کہ کیا کرتا ہے اور کیا نہیں۔۔
وہی وقت تھا جب میں نے میاں سفیر کے ساتھ بائوجی کی حویلی گیا تو ایک کمرے کے اندر جالی دار دروازے سے جھانکا اور مبہوت رہ گیا تھا
وہ ایک آدمی تھا جو دیوانہ وار رقص کررہا تھا
وہ ڈانس تھا یا رقص میں تمیز نہیں کرسکا مگر درحقیقت اسی دن سے مجھے ڈانس کرنے کا شوق پیدا ہوا اور میں گھر آکر کمرے چوری چپ کہ اماں سے دروازہ بند کرکے الٹے سیدھے ہاتھ پائوں چلاکر بے ہنگم ناچتا تھا
اور مجھے اس میں مزا آنے لگا۔۔بہت ہی مزا۔۔
مجھے لگا بس زندگی میں ایک یہی لمحہ ہے اور دوسری ماں جن کے لئے میں جیتا ہوں
گھر آکر اماں کے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی کھانے کے بعد جو پہلا کام تھا وہ یہی تھا کہ اماں کے لیٹتے ہی جب پہلا خراٹہ گونجتا۔۔تب اماں بڑے سکون سے سوتی تھیں۔۔دوپہر کی نیند بھی اتنی گہری ہوتی تھی کہ وہ دو گھنٹے تک مزے سے خراٹے مارتے ہوئے سوئی رہتیں۔۔
اور میرا وہ وقت ہوتا بند کمرے میں ناچنے کا۔۔
باپ کی نوجوانی میں ہی وفات ہوگئی تھی باپ کا پیار تو میں نے کبھی نہیں دیکھا۔
جب باپ بنا تب احساس ہوا کی باپ بننے کے بعد ایک سیدھا سادہ انسان شفقت کھ بوجھ سے لد جاتا ہے۔
وہ بندہ جو شادی کے بعد یا تو گدھا بنتا ہے یا پھر گدھی کا مالک ۔۔یا مار کھاتا ہے
یا پھر کھلاتا ہے
ہماری تو صدیوں سے نسلی طور پر میاں بیوی کی دشمنی چلی ہے
سنا تھا دادا دادی کی تو تو میں میں بھی مشہور تھی تب ہی سے۔۔
اور اماں اور ابا کی بھی خاص نہیں بنی ۔
اس کے بعد میں نے اور نورفاطمہ نے بھی اسی ڈھب سے زندگی گزاردی۔۔ہم لڑتے نہیں تھے
اختلاف کرتے تھے۔۔
شادی کے اول روز سے ہمارے اختلافات شروع ہوئے تھے
اور انہیں اختلافات نے ہمیں کبھی اس طرح سے نزدیک آنے نہیں دیا۔۔اور ہم نے اسی میں عافیت جانی۔۔خیر۔۔..
تو میں زکر کررہا تھا کہ ہم ان دنوں نانا کے گھر پہ رہتے تھے۔
ماموں اوپری منزل پر رہتے تھے انہیں نہ ہمیں دیکھنے کی فرصت تھی نہ خیر خبر لینے کی۔۔اس وقت میں میری ماں سودہ لانے سے لیکر زمینی معاملات خود دیکھتی تھی
ابا کی زمین انہوں نے رینٹ پر چڑھادی تھی
جس سے سالانہ انکم آتی تھی
اماں کچھ مجھ پر خرچ کرتیں کچھ باقی اخراجات تو تھوڑی رقم بچالیتی تھیں ہر سال۔۔میں جب سترہ سال کا ہوا تو میرے لئے بستی میں ایک پلاٹ خرید کر اس پر بیرونی دیوار کے ساتھ ایک چوکور کمرہ ایک اسٹور نما کوٹھی آگے کچے بانس کا دالان ۔اور کھلا ڈھلا صحن تیار تھا۔۔یہ گھر
۔جو آج تک تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اسی صورت میں موجود ہے۔۔یہ میری ماں نے بنایا تھا میرے لئے۔۔جو اب تک میری جائے پناہ ہے۔۔جس گھر نے میرے دکھ سکھ۔۔سب اپنے اندر چھپالئے۔۔۔
ماں کے احسانات سے کندھے مضبوط ہوگئے میرے۔۔وہ ماں باپ ہی کیا جو اولاد پر احسانات نہ کریں۔۔
ہاں۔۔۔تو میں بتارہا تھا۔۔۔؟کیا
وہ سوچنے لگے۔۔
جب آپ بند کمرے میں ناچتے تھے۔۔یا جب آپ سترہ سال کے ہوگئے۔۔
اور تبھی شاید آپنے شفٹ کیا ہوگا اس گھر میں؟
ہاں ٹھیک کہتی ہو ۔۔وہیں۔۔اور پھر اٹھارواں لگتے ہی ایک نواں شوشہ چڑھا۔۔میں تو خوبرو تھا
جوان تھا
سترہ سال تک مجھے ناچ رقص۔۔تبلہ اور بانسری بجانا آگیا تھا۔۔میں ہاتھ میں لکڑی کے ٹکڑے کا مائیک بناتے ہوئے گیت بھی گاتا تھا۔۔
مگر اب تک باقاعدہ کوئی پلیٹ فارم میسر نہیں تھا
اور یہ ان دنوں کی بات تھی ۔۔جب میں نے پہلی بار نور فاطمہ کو دیکھا تھا۔
اور میں پہلی بار میں ہی نور فاطمہ پر عاشق ہوگیا تھا۔
یہ میری جوانی کا پہلا عشق تھا۔
عالین کی محویت بڑھ گئی تھی
انہوں نے ٹہرنے کے لئے ایک وقفہ لیا تھا۔۔
شاید وہ ماضی سے کچھ کشید کررہے تھے۔۔شاید وہ سوچ رہے تھے۔
اور انکے چہرے پر بڑے دلنشین تاثرات درآئے تھے۔
عالین نے بڑے آرام سے انکی طرف دیکھا تھا۔۔
تو میں بتارہا تھا کہ جب میں نے پہلی بار نورفاطمہ کو تانگے کی پچھلی نشست میں بیٹھے دیکھا تھا۔
تانگہ منڈی سے آگے مکانوں کی طرف نکل گیا تھا
مگر میری نظر اسی راستے پر جیسے فریز ہوگئی تھی۔
********

جاری ہے!

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.