زیر نقاب(4)_____________غضنفر کاظمی

…………………………..
چوتھی قسط

________________
اب مجھے کوئی مکان کرائے پر لینا تھا تاکہ امی جان اور اپنی بیوی اور بچوں کو بلاسکوں، آخر ساندہ میں ایک مکان چھ سو روپے ماہاناہ پر کرائے پر لے لیا، اور پھر کراچی فون کر کے امی جان سے لاہور آنے کا کہا، اب مسئلہ یہ تھاکہ کراچی میں مکان کا کرایہ چھ ماہ کادینا تھا اور پھر آنے کے لئے کرائے کی بھی ضرورت تھی، مکان کے کرائے کے لئے تو میں نے مالک مکان باقر بھائی سے بات کرلی اور انہیں بتایا کہ میں کوشش کروں گا کہ جلد ان کا کرایہ بھجوادوں اگر نہ بھجوا سکا تو معاف کردینا اور باقر بھائی نے انتہائی محبت سے حامی بھرلی اور کہا کہ کرائے کی فکر نہ کرو پہلے خود سیٹل ہونے کی فکر کرو، پھر میں امی جان کے حوالے سے سوچنے لگا کہ اب کو کیسے بلاﺅں پھر اچانک مجھے یاد آیا کہ کراچی میں میرے ایک ماموں مسلم رہتے ہیں وہ امی جان سے ملتے رہتے تھے، میں نے مسلم کو فون کیا اور ان سے کہا کہ وہ امی جان کو لاہور بھجوادیں، اور انہوں نے بخوشی حامی بھرلی، یہاں یہ بتادوں کہ میرے نانا نے چار شادیاں کی تھیں اور ماموں مسلم آخری بیوی سے ہوئے تھے وہ میرے ہم عمر تھے اور میں انہیں ماموں کہنے کے بجائے مسلم ہی کہہ کر پکارتا تھا، مسلم سے کسی زمانے میں کافی دوستی تھی لیکن پھر وقت دھکے دیتا رہا اور مسلم کراچی چلا گیا اور میں لاہور میں ہی رہا، بہرحال ایک ہفتے بعد امی جان میری بیوی او ربچوں کے ساتھ لاہور پہنچ گئیں، اور ہم نے ساندہ والا گھر آباد کردیا۔
یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن اصل مسئلہ ابھی بھی باقی تھا کہ میں نے جن لوگوں کے پیسے دینے تھے وہ تو ابھی بھی سر پر تھے اور قرض خواہوں کو جیسے ہی معلوم ہوتا کہ میں لاہور واپس آگیا ہوں تو وہ پھر سر پر سوار ہوجاتے۔ اسی خوف میں زندگی بسر کرتا رہا، مجھے ایرانی قونصلیٹ سے سرکاری طور پر ایک موٹر سائیکل ملی ہوئی تھی سفارت خانوں، قونصلیٹ کے دفاتر اور خانہ ھائے فرہنگ کی گاڑیوں اور موٹر سائکلوں کے نمبر عام نہیں ہوتے بلکہ سفارتی نمبر ہوتے ہیں اور ہر ملک کے لئے ایک بین الاقوامی کوڈ ہوتا ہے ، جیسے سی سی 64 محکمہ صحت کا ہے، اسی طرح امریکہ اور دیگر ملکوں کے خاص نمبر ہیں، ایران کا کوڈ 29 ہے اس کی کاروں پر CC 29, CD 29 اور موٹر سائیکلوں پر x 29 ہوتاہے اور اس کے بعد وزارت خارجہ سے دیا گیا نمبر۔ آخر ایک روز وہی ہوا جس کا ڈر تھا کہ میںموٹر سائکیل پر اچھرہ گیا وہاں ایک لڑکا نبیل مل گیا جس کے میں دس ہزار روپے دینے تھے اس نے موٹر سائیکل دیکھی تو بولا، اوئے لکی انسان پھر قونصلیٹ میں کام مل گیا، میرے ہاں کہنے پر اس اپنے پیسوں کا مطالبہ کردیا ، میں نے کہا کہ یار نبیل میں نے مختلف افراد کے تقریباً پانچ لاکھ روپے دینے ہیں اور میں یہ ادا ضرورکروں گا اس لئے تم سرپر سوار نہ ہونا میں تمہارے دس ہزار روپے بھی ادا کردوںگا، نبیل کچھ کہے بغیر میری آنکھوں میں گھورتا رہا پھر رہائش کا پوچھا تو میں نے بتادیا اور پھر وہ چلا گیا، لیکن دس بارہ روز بعد ایک دن وہ گھر آگیا اور بولا کہ آج اسے ہر حال میں پیسے چاہئیں، اس کے ساتھ تین لڑے اور تھے جو شکل سے ہی بدمعاش نظر آتے تھے ، میں نے اس کو ٹالنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ نہ مانا اور باتیں کرتے ہوئے وہ چلتا رہا اور مجھے بھی اس کے ساتھ چلنا پڑا ہم چلتے چلتے ساندہ سے باہر نکل کر گلشن راوی والی سڑک پر آگئے، وہاں آکر نبیل توخاموش ہوگیا لیکن اس کے ساتھ جو بدمعاش آئے تھے انہوں نے مجھے پکڑ لیا اور ایک نے پستول نکال کر میرے پہلو سے لگادی اور بولا کہ جلدی سے بول پیسے دیتا ہے یا نہیں، میں نے کہا کہ اگر گولی مارکر تم پیسے وصول کرسکتے ہو تو کرلو، ویسے سوچ لو کہ تم مجھے گھر سے لائے ہو، میری بیوی بچوں اور والدہ کو معلوم ہے کہ میں نبیل کے ساتھ نکلاہوں، اور یہ بھی جان لو کہ اب میں قونصلیٹ کا ملازم ہوں سوچ لو تم بچ نہیں سکوگے، میری بات سن کر نبیل بولا اچھا یار کاظمی ایک کام کردو مجھے کرائے پر ٹی وی اور وی سی آر لے دو، بس پھر ہم چلے جائیں گے، اتفاق کی بات ہے کہ میں وہیں سے ٹی وی اور وی سی آر کرائے پر لیتا تھا اور یہ بات نبیل کو معلوم تھی، ہم اکثر اپنے گھر پر ایرانی اردو میں ڈبڈ فیچر فلمیں دیکھتے تھے اس کے لئے وسی آر اور ٹی کرائے پر لیتے تھے، میں چاہتے ہوئے بھی نبیل کو انکار نہیں کرسکا اور مجبوراً اسے وہاں دکان سے وی سی آر اور ٹی وی کرائے پر اٹھ وادیا، اس کے بعد وہ لوگ چلے گئے اور میں اپنے گھر آگیا۔
دو روز تو سکون سے گزر گئے لیکن تیسرے روز وی سی آر والا گھر آگیا اور کہنے لگا کہ وہ لوگ ابھی تک ٹی وی اور وی سی آر واپس نہیں لائے، میں نے اس کو ٹالتے ہوئے کہا کہ میں پتہ کروں گا تم جاﺅ فکر نہ کرو۔ اسی طرح دو دن اور گزر گئے پھر وہ چند افراد کے ساتھ قونصلیٹ کے دفتر پہنچ گیا گیٹ پر پولیس اہل کار کو پیغام دے کر مجھے بلوایا اور بولا کہ ہاں جی اب بتاﺅ وہ وی سی آر اور ٹی وی کب دوگے، میں نے اس کے ساتھ لڑکوں کو دیکھا اور بے خوفی کی اداکاری کرتے ہوئے بولا کہ یار تم کیوں پریشان ہوتے ہو اگر وہ لوگ سیٹ واپس نہیں لاتے تو تم تو مجھ سے پیسے مانگو گے اس سیٹ کے تمہیں کس بات کی پریشانی ہے پریشان تو میں ہوں جس کو پنلٹی پڑے گی، تم جاﺅ اگر وہ نہ ملا تو میں قیمت دوںگا، میری بات سن کر اس کے ساتھ آنے والوں میں سے ایک نے کہا کہ ”تسی جاﺅ، ایدی فکر نہ کرو، اک تے اے شریف آدمی اے دوجے میں ایدا ٹھکانا ویکھ لیا ہے میں اپئی نبڑ لاں گا“۔ اس کے بعد وہ چلے گئے، اس طرح چند روز مزید گزر گئے، اور پھر ایک رات وہ ویگن بھر کر گھر آگئے، اتفاق سے میں اس روز موٹر سائیکل میرے پاس نہیں تھی، ہوا یوں تھا کہ چلتے چلتے موٹر سائیکل بند ہوگئی تھی تو میں نے وہ دفتر میں کھڑی کردی تھی کہ دفتر کا ملازم اس کو گھسیٹ کر لے جائے گا اور مرمت کرالے گا، میں رکشا لے کر گھر پہنچا تھا اور رات کا کھانا کھا کرایک دوست سے ملنے اس کے گھر گیا اور دوست مجھے فلم دکھانے لے گیا، ہم نے آخری شو دیکھا وہاں سے واپسی پر رات کا ڈیڑھ بج گیا میں جب گھر پہنچا تو دیکھا کہ وہاں وین کھڑی ہے اور اس میں سے اجنبی لڑکے نکل کر دروازہ پیٹ رہے ہیں، میں وہیں سے خاموشی کے ساتھ واپس مڑ گیا۔ اس مکان میں ہم اوپر کے پورشن میں رہتے تھے جبکہ نیچے خود مالک مکان تھے، ان کے گھر فون لگا ہوا تھا، جس پر میں اکثر دفتر سے لیٹ ہونے کی صورت میں فون کرکے بتادیا کرتا تھا لیکن رات کے دو بجے میں کہاں سے فون کرسکتا تھا لہذا وہیں گلی کے ایک کونے میں اندھیرے میں دبکا کھڑا رہا، وہ لوگ گالیاں بکتے اور دھمکیاں دیتے رہے کہ وہ مجھے
چھوڑیں گے نہیں، شور اتنا مچا کہ محلے کے چند افراد بھی گھروں سے باہر نکل آئے اور ان کو سمجھانے لگے کہ یہ لوگ شریف ہیں اس نے اگر پیسے دینے ہیں تو وہ ضرور دے گا، آپ لوگ صبر کریں۔ اس طرح محلے والوں نے ان کو سمجھا بجھا کر پندرہ دن کا وقت لے لیا جس پر وہ تقریباً تین بچے صح پندرہ روز بعد آنے کا کہہ کر واپس لوٹے اور میں نے شکر ادا کیا۔ اور جب وہ لوگ چلے گئے تو میں گھر چلا گیا۔
اس رات ہم میں سے کوئی بھی نہ سو سکا ہم بیٹھے باتیں کرتے رہے امی جان بار بار کہہ رہی تھیں کہ میں نے یہ کیا مصیبت مول لے لی، بہرحال ایسے ہی باتیں کرتے کرتے صبح ہوگئی ، صبح ہوتے ہی میری بیوی چائے بنا کر لائی ابھی ہم چائے پی ہی رہے تھے کہ اللہ کی مدد شروع ہوگئی، یہاں یہ بات بتادوں کہ میں جتنی بھی مشکلات میں پڑا ہر مرتبہ اللہ پاک کی جانب سے مدد ملی اور میں ایسی آسانی سے اس مشکل سے نکل گیا جیسے مکھن سے بال، بہرحال ہمارے چائے پینے کے دوران میرے کالج کے زمانے کا ایک دوست گلشن آگیا۔
اس کا پورا نام گلشن اسلام تھا، اس کے والد فوج میں کیپٹن تھے، جہلم میںجب وہ داخل ہوا ان دنوں اس کے والد کی پوسٹنگ وہیں کہیں آس پاس کنٹرول لائن پر تھی، اس کے والد (اب میں ان کا نام بھول گیا ہوں) حسن بھائی جان کے دوست تھے ، (قارئین کو یاد ہوگا کہ حسن بھائی جان اردو کے پروفیسر تھے اسی کالج میں اور مجھے بھی انہوں نے ہی داخل کرایا تھا) اس لئے کیپٹن صاحب نے حسن بھائی جان سے کہہ دیا تھا اور حسن بھائی جان نے گلشن کو داخل کرانے کے بعد میرے ساتھ متعارف کراتے ہوئے ہم دونوں کو ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی تاکید کی جس کے بعد ہم دونوں دوست بن گئے، حسن بھائی جان سے رخصت ہوکر ہم کالج کی کنٹین میں جا بیٹھے، وہاں اس زمانے میں بیس پیسے کا چائے کا کپ اور بیس پیسے کا ہی میٹھا سموسہ ملتاتھا، لیکن میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ سموسہ کھاتا، میں نے چائے منگائی، کنٹین میں میرا حساب چلتا تھا کنٹین کے ٹھیکیدار سے حسن بھائی جان نے کہہ کر میرا حساب کھلوادیا تھا کہ میں ہر ماہ کی پانچ یا چھ تاریخ کو بل ادا کردیا کروں گے اور یہ بھی میں بتا چکا ہوں کہ میرے خالہ زاد بھائی نزہت بھائی جان مجھے بیس روپے مہینہ بھجواتے تھے اس میں سے میں دس روپے مہینہ کالج کی فیس ادا کرتا اور دس روپے سے پورا مہینہ عیاشی کرتا۔ اس معاملے میں گلشن عیش میں تھا، ایک تو وہ ہوٹل میں رہتا تھا، پھر اس کے والد اسے کھلے پیسے بھیجتے تھے، اس روز کنٹین پر چائے کا آرڈر میں نے دیا تھا لیکن گلشن نے سموسے بھی منگالئے میں قہر درویش برجان درویش سموسہ زہر مار کرتا رہا لیکن جب اٹھتے ہوئے گلشن نے بل ادا کردیا تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا بہرحال چائے پی کر باہر نکلے تو گلشن نے مجھ سے کہا کہ اس کو رہائش کے لئے کوئی کمرہ چاہئے کرائے پر میں مشین محلہ نمبر تین میں حسن بھائی جان کے ساتھ رہتا تھا وہیں سڑک پر ایک عمارت تھی جس میں کمرے کرائے پر دئیے جاتے تھے میں گلشن کو لے وہاں آگیا اور بات کرنے پر پچیس روپے ماہوار پر ایک کمرہ مل گیا، ایک روز گلشن نے وہاں سے سائیکل کرائے پر لی اور میرے ساتھ جہلم کی سیر کو نکل گیا، سیر سے شام کو واپس آئے تو سائیکل والے کی دکان بند ہوگئی تھی، اس نے سائیکل اپنے کمرے میں کھڑی کردی اور صبح جب وہ کالج آیا تو اس وقت تک سائیکل والے کی دکان کھلی نہیں تھی، کالج میں گلشن کی طبیعت خراب ہوئی اوروہ وہیں سے چھٹی لے کر یہ کہہ کر گھر گیا کہ دوا لے کر اگلے روز واپس آجائے گا لیکن آیا وہ چھ روز کے بعد، اس دوران سائیکل والے نے میری جان کھالی تھی میں نے اس کوبتادیا تھا کہ گلشن کی کالج میں طبیعت خراب ہوئی تھی وہ گھر گیا ہے، لیکن اس کو پریشانی یہ تھی کہ معلوم نہیں اتنا کرایہ ملے گا یا نہیں، بہرحال میں ہر روز کالج سے گھر جاتے وقت گلشن کا کمرہ چیک کرتا لیکن قفل ہی ملتا، آخر ایک روز میں گیا تو کمرہ کھلا تھا میں جلدی سے اندر گیا تو گلشن اپنی چارپائی پر بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا میں نے اس کو دیکھتے ہی با آواز بلند گانا شروع کردیا
لایا ہوں میں تمہارے لئے قرض کا پیام
ہوتا ہے اب جہلم میں رہنے کا اختتام
اے گلشن اسلام ہے آخری سلام
میرے اس فی البدیہہ گانے پر گلشن کا ہنس ہنس کے برا حال ہوگیا پھر وہ میرے ساتھ سائیکل والے کی دکان پر گیا اور ہم نے اس کا سائیکل بھی واپس کیا اور پیسے بھی ادا کردئیے۔
گلشن کا تھوڑا سا تعارف اس لئے کرایا کہ آپ ہمارے تعلقات سمجھ سکیں۔ بہرحال اس روز ہمارے چائے پینے کے دوران گلشن آگیا اور جب اس کو حالات کا پتہ چلا تو وہ مجھے اپنے ساتھ لے گیا، ان دنوں اس کے والد فوج سے ریٹائر ہوگئے تھے اور گلشن اقبال میں گھر بنا لیا تھا وہیں پر رہتے تھے، ان کے بالمقابل ان کے چھوٹے بھائی نے گھر بنایا ہوا تھا، گلشن مجھے اپنے گھر لے گیا اور اپنے بھائی کے گھر میں ایک کمرہ مجھے دے دیا کہ جب تک حالات ٹھیک نہیں ہوتے میں وہیں رہوں، صبح کو انڈے اور پراٹھے کا ناشتہ آجاتا، اسی طرح دوپہر اور رات کو خصوصی کھانے کی ٹرے سجی سجائی میرے پاس آجاتی، میں کئی روز وہیں رہتا رہا پھر ایک کمرے میں پڑے پڑے گھبراگیا اور گلشن سے بات کی تو وہ مجھے بڑی چابک دستی اور ہوشیاری کے ساتھ میرے گھر لے گیا میں گھر آتے ہی امی جانے کے سینے سے لگ گیا، کافی دیر امی جان کے سینے سے لگا رہا پھر اپنے بچوں کو سینے سے لگایا اور بیوی کو آنکھوں ہی آنکھوں میں پیار کیا اور کچھ دیر وہاں بیٹھا باتیں کرتا رہا پھر شام ہونے لگی تو گلشن کے کہنے پر اٹھ گیا اور واپس اس کے گھر چلا گیا، اسی طرح نہ جانے کتنے دن بیتے، ایک روز پھر دل گھبرایا تو میں گلشن کو ساتھ لے کر جنگ کے دفتر چلا گیا جہاں حسن رضور ادبی ایڈیشن کا انچارج تھا، حسن سے ملا اور اس سے سارے حالات بتائے تو اس نے کہا کہ ”یار خانہ فرہنگ میں ایک نوجوان ڈائریکٹر آیا ہے صادق گنجی نام ہے، اس کو ایک ایسے لڑکے کی تلاش ہے جو دفتر میں بھی کام کرسکے اور اخبارات میں بھی اس کے تعلقات ہوں، تومیں نے صادق گنجی کے سامنے تمہارا نام لے دیا ہے اور وہ تیار بھی ہیں تم ابھی وہاں چلے جاﺅ“۔ حسن نے یہ کہتے ہی فون کا رسیور اٹھایا اور آپریٹر کو خانہ فرہنگ ملانے کو کہا پھر حسن نے آقائے صادق گنجی سے بات کر کے مجھے کہا کہ فوراً جا کر صادق گنجی سے ملوں، میں گلشن کو لے کر وہاں خانہ فرہنگ چلاگیا اور آقائے صادق گنجی کو اپنے تمام حالات بتادئیے کہ کہیں قونصلیٹ کی طرح بدمعاشوں کے آنے پر یہاں سے بھی بھاگنا نہ پڑے، میری پوری بات سن کر انہوں نے کہا ”آقائے کاظمی فکر نہ کرو تم کام شروع کرو اور جو بدمعاش تمہارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ان کو یہاں بلا کر مجھ سے ملوا دو میں ان سے بات کرلوں گا،“ یہ سن کر گلشن بولا ”میں ابھی بلا لاﺅں؟“ گلشن کو معلوم تھا کہ میں کس دکان سے ٹی وی اور وی سی آر کرائے پر لیتا تھا، جب آقائے صادق گنجی نے حامی بھرلی تو گلشن نے مجھے وہیں بیٹھنے کو کہا اور خود اٹھ کر گلشن راوی چل دیا تقریباً دوگھنٹے بعد گلشن چار بدمعاشوں کے ساتھ وہاں آگیا پھر آقائے صادق گنجی کے ساتھ ہماری میٹنگ ہوئی، صادق گنجی نے ان سے کہا، ” دیکھو میں تمہیں نہیں جانتا لیکن تم یہ جان لو کہ میں سفارت کار ہوں اور یہ ایک سفارتی ادارہ ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر عائد ہوتی ہے، تم نے کاظمی سے پیسے لینے ہیں اس وقت اس کے پاس پیسے نہیں ہیں لہذا تم اس کو جان سے بھی ماردو تو یہ پیسے نہیں دے سکے گا، میں اس کو یہاں ملازمت دے رہا ہوں یہاں پر ہر مہینے کی اکیس تاریخ کو تنخواہ ملتی ہے تم ہر مہینے کی بائیس تاریخ کو یہاں آکر دو ہزار روپے مجھ سے لے جایا کرو اس طرح تمہاری رقم ادا ہوجائے گی اور اگر تم بدمعاشی کرنا چاہتے ہو تو پھر مجبوراً مجھے آئی جی کو خط لکھنا ہوگا کہ ہمارے ایک کارکن کو تحفظ فراہم کرے پھر تم کہاں ہوگے، بہرحال تمام باتیں کرکے طے پایا کہ وہ ہر مہینے کی بائیس تاریخ کو آکر مجھ سے دو ہزار روپے لے جایا کریں گے، انہوں نے ٹی
وی اور وی سی آر کے پچیس ہزار روپے بنائے تھے، معاملات طے ہونے کے بعد میں نے اٹھ کر صادق گنجی کو شدت جذبات سے سینے سے لگا لیا، بہرحال پھر باتوں باتوں میں صادق گنجی نے مجھے بتایا کہ وہ مختلف اخبارات میں میرے مضامین پڑھتے رہے تھے۔ یہاں یہ بتادوں کہ اخبارات میں مضمون لکھنا میرا شوق تھا جو جنون کی حد تک تھا، میں بدترین حالات میں بھی مضمون لکھتا رہتا تھا اور جنگ، نوائے وقت، مشرق وغیرہ میں چھپواتا رہتا تھا۔ بہرحال تمام معاملات طے پانے کے بعد آقائے صادق گنجی مجھے اپنے ساتھ اوپر اپنی رہائش گاہ میں لے گئے اور وہاں جاکر انہوں نے مجھے پانچ ہزار روپے دیتے ہوئے کہا، ”آقائے کاظمی میرا تعلق بھی ایک بہت ہی غریب گھرانے سے ہے، اور تم کو ایک بات بتاﺅں کہ میں چائے کبھی نہیں پیتا اور چائے نہ پینے کی وجہ یہ ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو ہم دو بھائی تھے اور ہماری ایک بہن تھی، ہمارے گھر میں ایک کپ تھا صبح کو جب ناشتے میں چائے پیتے تو میری والدہ پہلے چھوٹوں کو چائے دیتیں اس طرح میرا نمبر سب سے آخر میں آتا تو میں سکول سے لیٹ ہوجاتا، جب میرا تاخیر سے سکول جانا اصول بن گیا تو ایک روز ماسٹر صاحب نے میری بہت بے عزتی کی اس روز میں نے عہد کرلیا کہ چائے تعلیم کے حصول میں حارج ہورہی ہے لہذا آج کے بعد چائے نہیں پیوں گا اور اس کے بعد سے آج تک میں نے چائے نہیں پی، تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں جس غربت سے گزرا ہوں میں تمہاری حالت کو بہت اچھی طرح سمجھتا ہوں تم یہ پیسے لو آج اور کل اپنے گھر والوں کے ساتھ آرام و سکون کے ساتھ وقت گزارو اور پرسوں سے تم ڈیوٹی جائن کرلو اور ہاں تم اپنی رہائش بھی یہاں ہی رکھو خانہ فرہنگ کے عقبی سمت میں چند کوارٹر ہیں ان میں سے ایک پسند کرلو وہ میں تمہارے لئے رکھ لیتا ہوں،“ میں نے انتہائی عقیدت کے ساتھ صادق گنجی کو دیکھا اور پیسے پکڑ کر ایک بار پھر ان کو سینے سے لگالیا، اس کے بعد وہ مجھے لے کر عمارت کے عقب میں گئے جہاں تین کمروں، ایک گیلری، سٹور، کچن اور باتھ پر مشتمل ایک کوارٹر خالی تھا میں نے یہ پسند کرلیا اس کا عقبی دروازہ لان میں کھلتا تھا یہ خانہ فرہنگ کا تقریباً تین چار کنال پر مشتمل لان تھا جہاں خوشنما سبزہ تھا، پھول تھے اور درخت تھے، بہرحال اس کے بعد میں گلشن کے ساتھ اپنے گھر گیا، جاتے ہوئے راستے میں سے کچھ پھل لئے اور پھر ایک چرغہ لیا کچھ کباب اور نان لئے اور گھر آگیا، امی جان اور شگفتہ (یہ میری بیوی کا نام ہے) تو خوش ہوئے ہی میرا بیٹا موسی رضا،چھوٹا بیٹا عمران اور بیٹی جویریا اور سکینہ کی خوشی دیدنی تھی، جب ان کو تمام حالات بتائے تو سب کے سب خوشی سے پھولے نہ سمائے امی جان نے مجھے سینے سے لگا کر اتنی دعائیں دیں جن کا حساب ممکن نہیں، وہ رات ہم میاں بیوی سو نہیں سکے، ہم ساری رات مستقبل کے سپنے بنتے رہے، کہ مستقبل میں کیا کریں گے، کیسے کریں گے،ہم ٹی وی اور وی سی آر کا قرض ادا ہونے کے بعد پیسے جمع کیا کریں گے، بہرحال یہ دو دن کیسے گزرے پتہ ہی نہیں چلا، پھر میں خانہ فرہنگ ڈیوٹی پر چلا گیا، جس دن میں خانہ فرہنگ میں گیا مجھے فارسی کا ایک لفظ بھی نہیں آتا تھا، حالانکہ پہلے قونصلیٹ میں کام کرچکا تھا لیکن فارسی نہیں سیکھ سکا تھا، بہرحال یہاں میری ملاقات خانم ثمینہ سے ہوئی یہ یہاں پر اکاﺅنٹینٹ تھی، انہوں نے فارسی میں ماسٹرز کی ڈگری لی ہوئی تھی اور اس کے بعد انٹرآپریٹر کا کورس بھی کیا ہوا تھا، ان سے میرا دماغ مل گیا اور ہم بے تکلف ہوگئے، میں ان سے اتنا مذاق کرتا کہ وہ بے چاری غصے میں آجاتیں، پھر جب میرے اہل خانہ وہیں شفٹ ہوگئے ، خانم ثمینہ بھی ان دنوں وہیں خانہ فرہنگ میں ہی رہتی تھیں، اور ان کے گھر سے تیسرا ہمارا گھر تھا وہاں میری بیوی کی ان سے گہری دوستی ہوگئی لیکن خانم ثمینہ مجھ سے بہت تنگ تھیں میں بعض اوقات اتنا مذاق کرتا کہ وہ زچ آکر رونے لگتیں، ایک روز میں ان کے کمرے میں گیا تو دیکھا کہ ان کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہیں اور وہ کچھ لکھ رہی ہیں، میں جاکر کرسی پر بیٹھ گیا اور مذاق میں پوچھا کہ کیا لکھا جارہاہے تو انہوں نے غصے سے میری طرف دیکھتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، ” میں استعفی لکھ رہی ہوں کیونکہ اب میں تم سے تنگ آگئی ہوں“۔ ان کی یہ بات سن کر میرے دل میں دھکا سا لگا میں تو ان کو اپنی بہن سمجھتا تھا اور دوست سمجھ کر مذاق کرتا تھا، مجھے حقیقت میں قلبی دکھ ہوا، میں چند لمحے ان کی صورت دیکھتا رہا پھر میز پر جھک کر ان کے ہاتھ سے وہ کاغذ لے لیا، اور ان سے کہا، ” خانم ثمینہ میرا مقصد آپ کا مذاق اڑانا ہے نہ ہی آپ کو زچ کرنا میں تو دوست سمجھ کر مذاق کرتا تھا اگر آپ کو پسند نہیں ہے تو آئندہ نہیں کروں گا اور اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کی عزت کروں تو آپ مجھے فارسی سکھانا شروع کردیں میں استاد کی بہت عزت کرتا ہوں،“ میری بات سن کر وہ بولیں، ” سوچ لو میں اگر استاد بنوں گی تو غلطیوں پر پٹائی بھی کروں گی،“ میں چند لمحے ان کی صورت دیکھتارہا پھر حامی بھرلی اور ان سے کہا کہ اگر میں غلطی کروں یا آپ کا دیا ہوا کام نہ کروں تو آپ کو حق ہوگا کہ چاہے میری کھال کھینچ لیں، اس معاہدے کے بعد انہوں نے مستعفی ہونے کا ارادہ ترک کیا اور مجھے فارسی سکھانی شروع کردی۔ شروع شروع میں انہوں نے گن گن کر بدلے لئے جتنا میں ان کو ستا چکا تھا اس سے کہیں زیادہ انہوں نے میری پٹائی کی لیکن میں چونکہ سنجیدگی سے فارسی سیکھنا چاہتا تھا اس لئے برداشت کرتا رہا اس کا نتیجہ یہ نکلاکہ میں اتنی فارسی سیکھ گیا کہ اب ایران سے جو فود آتے ان کو لے کر پی ٹی وی اور جنگ فورم میں یا نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظام سے ملاقات کرانے لے کر جاتا تو ان کی ترجمانی کرتا۔ اس میں ایک لطیفہ بھی پیش آیا، ہوا یوں کہ خانہ فرہنگ کے ڈائریکٹر جنرل آقائے عزیزاللہ خردمند تھے، ان دنوں مولانا اسد گیلانی کا سانحہ ارتحال پیش آیا تھا، تو اسلام آباد سے سفیر کبیر آقائے منصوریاں تشریف لائے، یہاں کارپوریشن کے حال میں مولانا اسد گیلانی کی نسبت سے کوئی تقریب منعقد ہونا تھا شائد چہلم تھا، آقائے خردمند مجھے ساتھ لے گئے وہاں سفیر کبیر آقائے منصوریاںمہمان خصوصی تھے اتفاق سے ان کا مترجم نہیں آیا جب سٹیج سیکرٹری نے ان کو پکارا تو میں سٹیج کے قریب ہی اخباری رپورٹروں کے ساتھ کھڑا ان سے مل رہا تھا، آقائے منصوریاں نے مائک پر جاکر کہا، ”آقائے کاظمی بی آ ترجمہ کن“ یعنی کاظمی آﺅ اور ترجمہ کرو، میں اچانک یہ سن کر حواس باختہ ہوگیا، اور رپورٹروں سے کہا کہ یار کوئی کاغذ پینسل دے دو لیکن وہاں کسی کے پاس بھی پینسل فالتو نہیں تھی اتنے میں آقائے منصوریان نے اپنا پہلا جملہ بول دیا میں بھاگم بھاگ سٹیج پر گیا اور اس جملے کا ترجمہ کردیا، (اس دوران ایرانی قونصل جنرل نے آقائے خردمند سے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا کہ کیا کاظمی درست ترجمہ کرلے گا؟ آقائے خرد مند نے جواب دیا کہ ترجمہ ٹھیک کرے گا یا نہیں یہ تو نہیں معلوم البتہ جو بولے گا وہ درست بولے گا،) پھر یہ ہوا کہ آقائے منصوریان نے فارسی میں جو جملہ بولا اس کا مطلب یہ بنتا تھا کہ آقائے اسد گیلانی کے بعد جماعت اسلامی میں اس پائے کا کوئی عالم نہیں رہا، مجھے یہ ترجمہ کرنا جماعت اسلامی کی توہین محسوس ہوئی لہذا میں نے ترجمہ کردیا کہ جماعت اسلامی میں جو علمائے کرام ہیں ان کواسدگیلانی کے مقام تک پہنچنے میں قوت درکار ہوگا۔
بعد میں جب ہم واپس جارہے تھے تو آقائے خرد مند نے مجھے قونصلیٹ کی بات بتاتے ہوئے کہا کہ جب جواد منصوریان نے وہ علماءوالا جملہ کہا تو میں پریشان ہوگیا تھا کہ تم اس کا کیا ترجمہ کرتے ہو لیکن تم نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات سنبھال لی تھی۔ ایسا ہی ایک واقعہ آواری ہوٹل میں پیش آیا، وہاں یوم اقبال کے حوالے سے ہم نے تقریب کی اس میں ایران کے سفیر کبیر کوبھی مدعو کیا، خورشید محل میں تقریب ہورہی تھی میں نے خورشید محل کے انچارج راجہ صاحب سے کہا تھا کہ جب میں آخری مقرر کو بلاﺅں گا تو پھر ہال میں جاکر کھانے کی میزیں خود الگ کراﺅں گا کہ کون سا حصہ وی آئی پییز کے لئے، کون سا صحافیوں کے لئے، کون سا مردوں کے لئے اور کون سا خواتین کے لئے، اس اجلاس کی کمپئرنگ میں ہی کر رہاتھا، بہرحال ہمارے آخری مقرر ایران کے سفیر ہی تھے جب میں نے ان کو پکارا تو خود سٹیج سے اتر کر کھانے والے حصے میں آکر راجہ صاحب کو میزوں کی ترتیب بتانے لگا، اس دوران مجھے سپیکر پر آقائے کاظمی کی آواز سنائی دی میں بھاگتا ہوا ہال میں گیا تو آقائے خرد مند نے مجھے کہا کہ سفیر کے لئے کوئی مترجم نہیں ہے تم ترجمہ کرو، میں سن کرپریشان ہوگیا کہ میں نے ان کا ایک لفظ بھی نہیں سنا تھا کہ کیا بولے ہیں ، میں تیزی سے آگے آیا اور پہلی رو میں ڈاکٹر اکرم شاہ اوری اینٹل کالج یونیورسٹی کے صدر شعبہ فارسی بیٹھے
تھے، میں نے ان کے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا ہے ابھی وہ کچھ بولنے ہی والے تھے کہ سفیر صاحب والسلام علیک کہہ کر مائیک چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے، میرے پاس وقت نہیں تھا میں مائک پر آیا اور گھڑی میں وقت دیکھا کہ سفیر نے کتنی دیر بات کی تھی انہوں نے تقریباً پندرہ منٹ بات کی تھی، میں علامہ اقبال کے حوالے سے شروع ہوگیا اور پورے پندرہ منٹ کھڑا بولتا رہا، حاضرین تو بہت لطف اٹھا رہے تھے اور باربار تالیاں بھی بجارہے تھے لیکن ڈاکٹر اکرم شاہ اور شعیب احمد ، پروفیسر ظہیر صدیقی (گورنمنٹ کالج کے صدر شعبہ فارسی) اور دیگر فارسی فہم افراد مسکرا رہے تھے، میں سمجھ گیا کہ کچھ غلط ہوگیا ہے لیکن میرے پاس وقت نہیں تھا اس لئے پورے پندرہ منٹ بول کر ہٹ گیا اور سٹیج سے نیچے آکر آقائے خرد مند سے پوچھا کہ سفیر نے کیا کہا تھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ سفیر کو جہ کہنا چاہئے تھا تم نے وہی کچھ کہا، میرے اصرار پر انہوں نے بتایا کہ سفیر نے ڈاکٹر علامہ اقبال کی فلسفیانہ شاعری کے انقلاب ایران پر اثرات پر بات کی تھی لیکن وہ یہاں کے عوام کے لئے دلچسپ نہ ہوتی، تم نے ٹھیک کام کیا، یہ دو واقعات ایسے تھے جو شائد میں ساری زندگی فراموش نہ کرسکوں۔
بہرحال ویڈیو والے صاحب ہر مہینے کی بائیس تاریخ کوآتے اور میں ان کو دو ہزار روپے ادا کردیتا، اسی طرح سات آٹھ مہینے گزر گئے تو ایک روز ان صاحب نے کہا کہ کاظمی صاحب اصل میں آدمی کا پتہ نہیں ہوتا آپ دس دیانت داری کے ساتھ وقت پر پیسے دے رہے ہیں اگر آپ بھاگنے کے بجائے خود ہم کو کہہ دیتے تو ہم آپ کو تنگ نہ کرتے، میں نے کہا یار تم درست نہیں کہہ رہے کیونکہ اس وقت میرے پاس ملازمت نہیں تھی میں تمہیں کیا کہتا کہ جب ملازمت ملے گی تب پیسے دین شروع کروں گا اس وقت تم میری یہ بات کبھی بھی نہ مانتے اور اپنے اصول کے مطابق اپنا بھرم قائم رکھنے کو میرے بازو ٹانگیں توڑ دیتے اور میں ساری زندگی کے لئے معذور ہوجاتا۔ بہرحال یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس نے دس ماہ مجھ سے پیسے لئے اور بیس ہزار روپے لے کر باقی کے پانچ ہزار چھوڑ دئیے۔
یہاں کام کرنے کے دوران میں نے پہلی بار رنگین ٹی وی اور فریج لیا، ان دنوں میری بڑی خالہ ہمارے ہاں مقیم تھیں وہ میر ے خالہ زاند بھائی اطہر کے ساتھ موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے گر گئی تھیں جس سے ان کے سر پر چوٹ آئی تھی اور کافی خون بہا، ان کو سٹیچنگ کرنا پڑی تھی اور چونکہ خون بہہ رہا تھا اس لئے اطہر نے وہیں قریب ہی ایک ڈاکٹر کی دکان دیکھ کر ٹانکے لگوالئے تھے، لیکن ان میں سیپٹک ہوگیا اور پیپ پڑ گئی ، اس کے بعد ان کا ہسپتال میں علاج ہوا اور سرجن نے کئی بار پیپ نکالی لیکن وہ زخم ٹھیک نہ ہوا یہاں تک کہ خالہ بولنے سے بھی معذور ہوگئیں ، وہ سارا سارا دن خاموش لیٹی ہم کو دیکھتی رہتیں، ان دنوں وہ ہمارے گھر تھیں میں رنگین ٹی وی لے کر گیا تو ان کو پکار کر کہا کہ ” اماں میں ٹی وی لایا ہوں اٹھ کے دیکھو“ یہاں یہ بتادوں کہ ہم تمام خالہ زاد ان کو اماں کہتے تھے اور میں چھوٹی خالہ کو باجی جب کہ میرے خالہ زاد میری امی کو باجی کہتے تھے، بہرحال میرے کہنے پر اماں کچھ کچھ متوجہ ہوئیں میں نے پھر کہا ”اماں وہ دیکھو میں رنگین ٹی وی لایا ہوں“ میں نے ٹی وی سیٹ کرکے آن کردیا تھا، اماں ن آنکھیں جھکا کر دیکھا اور پھر اٹکتے ہوئے بولیں ” اُننا“ یعنی اٹھنا، اور یہ ان کی زندگی کا آخری لفظ تھا اس کے بعد وہ چھوٹی خالہ ممتو باجی کی طرف چلی گئیں اور وہیں ان کا انتقال ہوگیا، انا للہ وہ انا الیہ راجعون۔

_________________

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف