پاداش__________شاذیہ خان

کور ڈیزائن :طارق عزیز

تحریر:شازیہ خان

—–

قسط نمبر 1
دروازے پر زور زور کی دستک نے ناول پڑھتی سامعہ کو ایک لمحے کے لیے چونکا دیا۔ابھی وہ کلائمکس تک پہنچی تھی جہاں ہیرو کا ہیروئن کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے اس سے محبت کا اظہار کرنے ہی لگا تھا کہ دروازے پر دستک ہونے لگی۔ وہ بدمزہ سی ہو گئی۔
”یہ کون آگیا اس وقت” ۔ اماں بھی نہارہی تھیں اور جب وہ نہانے جاتیں تو کافی وقت لگاتیں۔ ابا نے اسے دروازے تک آنے سے منع کیا ہوا تھا۔ کھولوں یا نہ کھولوں۔ اماں کا انتظار کر لوں۔ سوچ رہی تھی کہ دروازے پر دستک اونچی ہوئی۔ ابا بھی ہو سکتے ہیں یہ سوچ کر اس نے دروازے کی جانب دوڑ لگائی۔ جلدی سے دروازہ کھولا تو ابا ہی سامنے موجود تھے۔ جلدی میں وہ سر پر دوپٹہ لینا بھول گئی تھی۔ بس ایک تو دروازہ کھولا اور دوسرا بنا دوپٹہ سامنے آگئیں۔
”السلام علیکم ابا جی!” ”وعلیکم السلام” ”لا حول ولاقوة یہ تم نے دروازہ کیوں کھولا۔ ماں کہاں ہے تمہاری؟” وہ اسے دیکھتے ہوئے چونکے۔ ”وہ ابا جی اماں نہا رہی ہیں”۔ اُسے پتا تھا اگر ابا ہوئے تو ڈانٹ تو ضرور پڑے گی مگر دروازہ کھولنا بھی تو ضروری تھا۔ ”ظفر کہاں ہے؟” دوسرا سوال بھی بہت غصے میں تھا۔ جسے دیتے ہوئے وہ ہکلا گئی۔ ”وہ وہ ابا جی ظفر۔۔۔۔۔۔” ”کیا ہو گیا حاجی صاحب خیر تو ہے۔” وہ تو بھلا ہو اماں کا جو شاید آدم بو پاتے ہی غسل خانے سے نکل آئیں۔ میں پوچھ رہا ہوں کہ تم اگر نہا رہی تھیں تو ظفر کہاں ہے دروازہ کھولنے یہ کیو ں آئی؟”
”وہ حاجی صاحب ظفر مسجد گیا ہوا ہے نماز کے لیے۔”
”مسجد سے تو میں آرہا ہوں وہاں تو آپ کے سپوت نظر نہیں آئے۔” وہ انتہائی تندی اور تلخی سے بولے۔
”مجھ سے تو نماز کا ہی کہہ کر نکلا تھا۔” وہ بے چارگی سے بولیں۔
”ناہید بیگم تم جیسی لاپروا ماں میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی ۔اپنی اولاد کا ہی نہیں پتا کہ کہاں اور کن عیاشیوں میں گم ہے، گھر سے نماز کا کہہ کر نکلا اور یقینا کہیں بیٹھا جوا کھیل رہا ہو گا۔”
وہ گرجے تو ماں تھیں ناں دہل کر رہ گئیں فوراً بیٹے کے لیے بولیں:
”اللہ نہ کرے حاجی صاحب ایسی باتیں تو نہ کریں اولاد ہے آپ کی”
”ایسی ناخلف اولاد کے لیے اور کیسی باتیں کروں آپ ہی بتا دیں” وہ بہت طنزیہ انداز میں بولے۔
”کبھی بچوں سے پیار سے بھی بات کر لیا کریں۔ ہر وقت غصے سے اولاد باغی ہو جاتی ہے” وہ ڈرتے ڈرتے بولیں۔
”واہ! میرا باپ ہوتا تو ایسی حرکتوں پر چار جوتیاں مارتا اور گنتا ایک بھی نہیں میں تو صرف ڈانٹ ہی رہا ہوں شکر کرو” وہ پھر طنزیہ انداز میں بولے۔
”اور بی بی تم کیا کھڑی کھڑی منہ تک رہی ہو میرا جاو جلدی سے ایک کپ چائے کا بنا کر لائو۔” اب توپوں کا رُخ سامعہ کی طرف ہو گیا تھا۔ ”ابھی لائی ابا جی” اس نے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی۔
”فون ملائو کم بخت کو پوچھو کہاں مر گیا ہے۔ ہر وقت دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کرتا پھرتا ہے لگتا ہے اس بار بھی میٹرک میں فیل ہونے کی ہیٹ ٹرک کرے گا۔”وہ گرجے۔
”اللہ نہ کرے اس بار تو اس نے بہت محنت کی ہے۔” انہوں نے دہل کر دل پر ہاتھ رکھا ۔وہ تو بیٹے کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔”اللہ کبھی بُرا نہیں کرتا ناہید بیگم یہ بندہ ہی ہے جو خود اپنے ساتھ بُرا کرتا ہے۔” انہوں نے انتہائی سفاکی سے کہا۔ انہیں اپنے بیٹے سے کوئی امید نہ تھی اسی لیے آئے روز وہ باپ کی جھڑکیاں سنتا رہتا مگر باز نہ آتا۔
”ابا جی چائے۔” وہ جلدی سے چائے دے کر واپس چلی گئی۔ ناہید بیگم تیزی سے فون ملا رہی تھیں لیکن دوسری طرف سے کال جانے کے باوجود کوئی جواب نہیں آ رہا تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ اگر کچھ دیر اور ظفر نے فون نہ اُٹھایا تو حاجی صاحب نے دوبارہ شروع ہو جانا ہے۔ وہ فون لے کر کچن میں آگئیں ۔سات بجنے والے تھے۔ سالن تیار تھا۔ انہیں بس جلدی سے گرم گرم پھلکے ڈالنے تھے۔ حاجی صاحب گھر کے ہر معاملے میں بہت بااصول تھے۔ بچوں کو کسی قسم کا spaceدینے کے بالکل قائل نہ تھے۔ ان کے خیال میں کھلائو سونے کا نوالہ لیکن دیکھو شیر کی نظر سے۔ مگر انہیں یہ اندازہ نہ تھا کہ ان کے دور سے اس دور تک وقت کے پل کے نیچے سے پانی بہت حد تک بہہ چکا تھا۔ آج کی نوجوان نسل ایسے دبائو پر چور دروازے ڈھونڈ لیتی ہے اور ان کی اولاد بھی چور دروازے ڈھونڈ رہی تھی۔ ظفر بھی اس وقت اپنے دوستوں میں بیٹھا تاش کھیل رہا تھا جب اس نے ماں کے فون کو دیکھ کر بھی ان دیکھاکیا۔ ابا نے آٹھ بجے تک آنا تھا۔اسی لئے آرام سے کھیل رہا تھا ۔
”یار ظفر فون اٹھا کتنی دیر سے بج رہا ہے”۔ ایک دوست نے فون کی طرف اشارہ کیا۔
”بجنے دے یار اماں کا ہے گھر سے” اس نے لاپروائی سے پتے پھینٹتے ہوئے جواب دیا۔
”تو اُٹھا نا دیکھ کر بھی نظر انداز کر رہا ہے۔” دوست نے دوبارہ کہا ۔
”بس یہ آخری بازی کھیل لوں پھر اٹھاتا ہوں ورنہ وہ کہیں گی کہ فوراً گھر آجا حاجی صاحب آنے والے ہیں”۔
منہ بناتے ہوئے اس نے پتے دیکھے اور بولا۔
”تو اتنا ڈرتا ہے اپنے ابا جی سے لیکن باز پھر بھی نہیں آتا۔” ایک دوست نے ہنستے ہوئے اس کا مذاق اُڑایا۔
”یار ایک تو یہ باپ اپنی جوانی میں چاہے کتنی عیاشیاں کر چکے ہوں ہماری چھوٹی موٹی عیاشیاں انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔” دوسرے دوست نے منہ بنایا۔
”او بھائی! تو میرے اباجی کو نہیں جانتا عیاشی تو دور کی بات انہیں میرا ہنسنا بھی بُرا لگتا ہے۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ اپنی اولاد کو کسی مرغی کے ڈربے میں بند کر دیں اور ہاتھ میں کورس کی کتاب دے دیں۔ بیٹا سبق یاد ہو جائے تو باہر آجانا”۔
ظفر حاجی صاحب سے شدید بدگمان تھا۔ وہ اس پر سختی بھی تو اتنی کرتے تھے۔ بچپن سے ہی مار مار کر قرآن پاک ختم کروایا سبق یاد نہ ہونے پر دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان پنسل پھسا کر دبا دیتے اس کی چیخیں سُن کر اماں بھاگی بھاگی آتیں تو ان کی بھی ایک نہ سُنتے۔ جب کہ وہ دور کھڑی آنسوئوں کے ساتھ اسے دیکھتی رہتیں۔ جب تک ظفر کو سبق یاد نہ ہوتا اسی قسم کی سزائوں سے اسے خود سے بد دل کرتے۔ حاجی صاحب کی بہت کوشش تھی کہ وہ قرآن پاک حفظ کر لے لیکن اس نے اُن کو اتنا زچ کیا کہ اُنہوں نے بھی ہاتھ اُٹھا لیے اور آج تک اُٹھتے بیٹھتے اسے لا دین ہونے کا طعنہ دینا نہ بھولتے۔ اب بندہ پوچھے کہ کلمہ گو مسلمان جس نے کئی بار قرآن پاک بھی ختم کر لیا ہو لادین صرف قرآن پاک حفظ نہ کرنے پر کیسے ہو سکتا ہے؟ اُسے اپنے باپ سے شدید بد دلی اوربد گمانی تھی۔ اسی لئے وہ زیادہ تر وقت باہر دوستوںمیں گزار کر ان سے بچنے کی کوشش کرنے لگا اور اسی وجہ سے اپنی صحبت بگاڑ بیٹھا ۔بُرے دوستوں نے اُسے جھوٹ بولنا بھی سکھا دیا۔ ماں تو ماں ہوتی ہے اُسے اپنی ماں پر ترس بھی آتا اور وہ سوچتا کہ اگر اس کی ماں تھوڑی دبنگ ہوتی تو اباجی کے آگے اپنی اولاد کا کچھ تو دفاع کر تی۔ لیکن مجبور ماں جو روز اس کی گالیوں میں باپ کی طرف سے حصہ دار صرف اس لیے بنتی کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت صحیح طور پر نہ کر سکی۔ حاجی صاحب کو کون بتائے اولاد کی تربیت باپ کا بھی فرض ہے۔
”ویسے یار تو ہے بڑی شے اپنے باپ کو بھی ڈاج دے دیتا ہے۔” ایک دوست نے ہنسی اڑائی۔
”بیٹا بھی تو ان کا ہوں اماں کو کہہ کر آیا تھا نماز پڑھنے جا رہا ہوں اگر ابا جی آجائیں تو ان کو بتا دیجئے گا۔” لا پروائی اس کے ہر انداز سے عیاں تھی۔”اور بے چاری اماں کو معلوم نہیں کہ نفلی عبادتیں تو یہاں بیٹھ کر ادا کر رہا ہے۔” اس کے دوست نے قہقہہ لگایا اور بولا ”لیکن یار اگر کسی دن یہ جھوٹ کھُل گیا؟”
”تو کیا کوئی نیا جھوٹ بول دوں گا دنیا میں جھوٹ ہی تو وہ شے ہے جس کی بھٹی ہمیشہ چلتی رہتی ہے بس یقین کرنے والے چاہئیں۔” چل تو بازی چل دیر ہو رہی ہے۔”اس نے پتے پھینکتے ہوئے کہا تو فون کی گھنٹی دوبارہ بج اُٹھی اور ساتھ ہی ایک میسج بھی آگیا ۔جو ظفر کو پڑھنا پڑا۔ اس کے ساتھ ہی اِس نے دروازے کی طرف چھلانگ لگا دی۔ ”یار آپا کا میسج ہے ابا گھر پہنچ گئے ہیں میں نکلتا ہوں”۔اللہ حافظ”۔
____________ x ______________ x _______________
”یا خدا! یہ ظفر تو کسی دن میری درگت اپنے باپ کے ہاتھوں بنوائے گا۔ اب کتنے جھوٹ بولوں اس کی خاطر ۔ توے پر مظہر صاحب کے لیے روٹی ڈالتے ہوئے وہ اپنی سوچوں میں گُم تھیں کہ روٹی جل گئی۔” ارے اماں روٹی تو دیکھیں کہاں گُم ہیں۔” وہ باپ کے لیے کھانا لینے کچن میں آئی تھی اور اماں کو سوچوں میں گُم دیکھتے ہوئے بولی تو ناہید بیگم چونک گئیں ”ارے خیال ہی نہ رہا چائے پی لی تمہارے ابا نے۔” انہوں نے اس کے ہاتھ میں چائے کا کپ دیکھتے ہوئے پوچھا ”جی اور ابا اب کھانا مانگ رہے ہیں ساتھ ہی بار بار ظفر کا بھی پوچھ رہے ہیں”۔ میں نے کتنی بار فون ملایا اور تم نے میسج بھی کر دیا مگر یہ کم بخت نہ جانے کہاں مر گیا۔ اس بڑھاپے میں میری چوٹی کٹوائے گا۔” وہ تلخی سے بولیں ۔ساری عمر حاجی صاحب کی گالیاں صرف اس لیے سنیں کہ وہ ایک اچھی ماں نہیں اور اپنی اولاد کی تربیت نہیں کر سکیں۔
”اماں اب وہ بچہ نہیں ہے۔ اُسے تھوڑی space تو دیں۔ تھوڑی آزادی دیں۔ وہ بڑا ہو گیا ہے۔” سامعہ نے ماں کو سمجھایا۔
”اسی کا تو ڈر ہے تم دونوں اب بڑے ہو گئے ہو اور جب بچے بڑے ہو جائیں تو ماں باپ کی فکریں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔” ناہید بیگم نے ٹھنڈی سانس بھری۔
”اماں ایک بات کہوں”۔ ”ہاں بولو” انہوں نے پوچھا۔
”اماں ابا کو اب ظفر کا دوست بن جانا چاہیے۔ اس سے پیار سے بات کرنی چاہیے۔ وہ گھر سے اسی لیے فرار ہوتا ہے کہ اس کی شکل دیکھتے ہی ابا بُرا بھلا کہنے اور گالیاںدینے لگتے ہیں۔” اس نے سمجھایا۔ تم جانتی ہو حاجی صاحب کتنے اصول پسند اور وقت کے پابند ہیں۔ ہر کام وقت پر ہو ان کی مرضی کے خلاف کوئی بھی کچھ کرے وہ اس سے پیار سے بات نہیں کر سکتے۔” ناہید بیگم نے مُسکراتے ہوئے سمجھایا۔
”مگر یہ اصول پسندی تو نہ ہوئی حکمرانی ہوئی کہ جو جائز یا نا جائز نہ مانے وہ گالیوں کا حق دار ٹھہرے” وہ بھی اپنی بات پر اڑی ہوتی تھی۔”تو تم دونوں اُن کی مرضی کے خلاف کوئی کام کرتے ہی کیوں ہو۔” انہوں نے جلدی جلدی دوسری روٹی توے پر ڈالی اورروٹی بیلنے لگیں۔
”اماں ابا اپنے دور کی بات کرتے ہیں ۔ہم اپنے دور میں زندہ رہنا چاہتے ہیں بند ڈربے میں سانس گھٹتی ہے ہماری۔” وہ منہ بنا کر بولی۔ ساتھ ہی وہ ٹرے میں پلیٹیں اور سالن کا ڈونگہ بھی رکھ رہی تھی۔ اس کی بات پر ناہید بیگم نے غور سے اسے دیکھا۔ تو اس نے اپنی بات آگے بڑھائی۔”یہ نہ کرو! وہ نہ کرو! یوں نہ بیٹھو! ایسے نہ سو! آج ہی دیکھیں جلدی میں سر پر دوپٹہ لینا بھول گئی۔ بس ان کو مل گیا موقع۔”
”تو تم ان کو موقع ہی کیوں دیتی ہو بیٹا خیال رکھا کرو کہ ان کو کیا اور کیسی باتیں پسند نہیں۔” انہوں نے اس کی شکایت پر اُسے پیار سے سمجھایا۔”اماں ابا تو بس باتیں ڈھونڈتے ہیں اب اگر جلدی میں دوپٹہ لینا بھول گئی تو نظر انداز بھی تو کر سکتے تھے مگر نا جی وہ تو جیسے تیار بیٹھے تھے آپ کو کیا پتا لڑکیاں کالج میں چھوٹی چھوٹی شرٹس اور سکن ٹائٹس پہن کر آتی ہیں اور میرے عبائے کا مذاق اڑاتی ہیں۔” اس نے ان کی بات پر منہ بنایا۔”کیوں اس میں مذاق اڑانے کی کیا بات ہے ہر گھر کا اپنا ماحول ہوتا ہے اور ویسے بھی کالج پڑھنے جاتی ہیں یا اپنے فیشن دکھانے۔” ناہید بیگم کو بھی بیٹی کی بات پر تپ چڑھ گئی۔”چھوڑیں اماں آپ لوگوں کا بس چلے تو ہمارے سانس لینے پر بھی پابندی لگا دیں۔ آپ کو کیا پتا زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے۔”
”سب پتا ہے زمانے کا کل بھی اور آج بھی اسی ڈر سے تو باپ پابندیاں لگاتا ہے تاکہ اپنی اولاد نہ بگڑے”۔
”اولاد کی تو بات ہی چھوڑیں اماں وہ تو آپ کو بھی پابند سلاسل کئے بیٹھے ہیں۔ کتنے سال ہو گئے آپ اپنے میکے نہیں گئیں ۔ایک اکلوتا رشتہ تھا ہماری ننھیال کا ۔ہمارے بڑے ماموں جن سے ہم پچھلے چند سالوں سے صرف اس لیے نہیں مل پائے کہ ماموں نے اپنی بیٹی کی شادی کے وقت ہمارے بادشاہ سلامت سے مشورہ نہیں کیا۔ واہ جی واہ! نہ آپ کو شادی میں جانے دیا اور نہ وہاں سے کسی کو یہاں آنے کی اجازت ہے۔ بس بڑی خالہ سے ان کی نہ جانے کیسے بن جاتی ہے ؟” ”کیوں گڑے مُردے اکھاڑ رہی ہو۔ کھانا نکال کر باپ کو دے آئو ابھی ڈانٹ پڑ جائے گی۔” انہوں نے بے وقت راگنی پر سنی ان سنی کرنے کی کوشش کی لیکن بات وہ بھی غلط نہیں کر رہی تھی۔
”ویسے اماں ایک بات سچ سچ بتائیں آپ نے اتنے سال ابا جی کے ساتھ گزار ا کیسے کیا؟ اس نے بڑے اشتیاق سے پوچھا”گزارا تو ہماری قسمت کرواتی ہے۔ اس میں ہمارا کیا کمال ۔میری قسمت میں یہ سب لکھا تھا۔ میری مجال کہ میں چوں بھی کر جائوں۔” ان کے لہجے میں دکھ ابھر آیا۔ اپنی ایسی زندگی سے وہ بھی توخوش نہ تھیں۔ ساری عمر ترس ترس کر گھٹ کر گزار دی اور اب بچوں پر اتنی زیادہ سختی دیکھ کر کلس کر رہ جاتی مگر مجبور تھیںشوہر کا ساتھ دینے پر تاکہ بچے باپ سے باغی نہ ہو جائیں۔
”اماں کہے دے رہی ہوں میں کم از کم ایسی زندگی گذارنے والی نہیں۔ یہ آپ کا ہی حوصلہ ہے میرا گذارا نہیں ایسے مرد کے ساتھ ۔” اس نے ڈونگے میں سالن ڈالا اور دیگچی کا ڈھکن بند کر دیا۔
”پائے پک گئے ہو ں تو لے آئو بھوک سے دم نکلا جا رہا ہے۔ ان ماں بیٹی کو احساس تک نہیں نہ جانے کون سی رام کہانی سنائی جا رہی ہے۔” باہر سے حاجی صاحب کی چنگھاڑ گونجی۔
”لائی ابا جی!” ابا کی زور دار دھاڑ نے سامعہ کو ہڑ بڑا کر ٹرے سمیت باہر کی طرف دوڑ لگانے پر مجبور کر دیا۔ کوئی پتا نہیں بادشاہ سلامت غصے میں باہر ہی نہ نکل جائیں اور پھر چار دن تک کھانا نہ کھا کر ایک نئے ہنگامے کا آغاز ہو گا۔
____________ x ______________ x _______________
ثنا نے کمرے میں داخل ہو کر کمرے کی کھڑکی سے پردہ ہٹایا تو سنہری دھوپ پورے کمرے میں پھیل گئی۔ لگتا ہے اماں نماز کے بعد دوبارہ سو گئیں تھیں۔ اس نے ماں کے بستر پر بیٹھ کر ان کے ماتھے پر ایک بوسہ لیا تو امینہ بیگم کی آنکھ کھل گئی۔ ”السلام علیکم اماں اُٹھ جائیں۔” ”وعلیکم السلام! ارے تم کب آئیں ۔نماز پڑھ کر آنکھ لگ گئی تھی۔” وہ اُٹھ کر بیٹھ گئیں اور جو ابا ثنا کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ اتنی دیر میں ثنا نے ان کی انسولین ٹیکے میں بھر کر ان کے ہاتھ میں پکڑائی۔
”بس ابھی آئی ہوں ناشتہ بالکل تیار ہے آپ یہ انسولین لگائیں اور نیچے آجائیں۔” یہ کہہ کر وہ کھڑی ہو گئی۔
”کبیر اُٹھ گیا۔” انہوں نے انسولین سنبھالتے ہوئے پوچھا۔
”بھائی کو ابھی اُٹھا کر آئی ہوں تیار ہو رہے ہیں۔ روز ان کی وجہ سے لیٹ ہوتی ہوں کالج سے۔” ثنا نے منہ بناتے ہوئے بھائی کی شکایت کی تو وہ بھی مسکرا دیں روز یہی شکایت سنتی تھیں۔
”ارے بیٹا بڑا بھائی ہے ایسا نہیں کہتے۔” انہوں نے پیار سے سمجھایا۔ ”اماں آپ بھی نا ہمیشہ ان کی ہی سائڈ لیتی ہیں میں تو کچھ ہوں ہی نہیں آپ کے لیے” اس نے مصنوعی غصے کا اظہار کیا۔” ایسا بالکل نہیں ایک میری آنکھ ہے تو ایک اس کی روشنی ایسا کبھی سوچنا بھی مت تمہارے باپ کے بعد تم دونوں کے سہارے ہی میں نے اپنی پہاڑ جیسی زندگی گذاری۔” ان کی آواز میں نمی آگئی۔
”ارے ارے اماں آپ تو جذباتی ہو گئی نو سٹریس ورنہ شوگر ہائی ہو جائے گی۔” وہ پریشان ہو اٹھی۔
”اچھا چلیں آئندہ نہیں کہوں گی آپ پلیز دوائی لیں ۔آجائیں ۔اور ہاں 5بجے آپ کی ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ بھی ہے۔ تیار ہو جائیے گا۔” یہ کہتے ہوئے ثنا باہر نکل گئی۔ اسے روز ناشتہ بناتے ماں کو دوائی دیتے اور بھائی کو تیاری میں مدد دیتے یونہی دیر ہو جاتی تھی جس کا گلہ وہ اکثر ماں اور بھائی سے کر بھی دیا کرتی۔ اور ابھی بھی ناشتے کی میز پر ماں اور سامعہ کبیر کا ہی انتظار کر رہے تھے۔ امینہ بیگم اسے سمجھا رہی تھیں ۔”بیٹا تم تو اپنا ناشتہ ختم کرو کبیر آتا ہی ہو گا۔” ان کی بات کے اختتام تک کبیر نے کرسی کھینچی اورآ کر بیٹھ گئے۔ ”السلام علیکم اماں! اوئے لڑکی !تیرا منہ کیوں سوجا ہوا ہے؟” انہوں نے پانی کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے کہا۔ ”کیا مصیبت ہے بھائی ! روز لیٹ کروا دیتے ہیں۔ دیکھیں دس منٹ رہ گئے ہیں کالج لگنے میں۔” وہ منمناتے گھڑی دیکھتے ہو ئے بولی۔
”ارے ارے بلاوجہ مجھ پر الزام لگا رہی ہو بلکہ یہ کہو کہ تمہاری وجہ سے میں روز لیٹ ہوتا ہوں۔ تم وین کیوں نہیں لگوا لیتیں” انہوں نے چڑاتے ہوئے کہا۔
”خدا کا خوف کریں بھائی وین آپ نے خود بند کروائی تھی کہ تمہیں میں خود کالج چھوڑ دوں گا اور اب آپ ہی”وہ ناراض ہو گئی آنکھوں میں نمی آگئی۔ تو کبیر کو حالات کی گھمبیرتا کا احساس ہوا۔ ”ارے واہ آج تو فرنچ ٹوسٹ بہت مزے کے بنے ہیں”۔ جلدی جلدی مزے سے منہ چلاتے ہوئے انہوں نے بہن کو دیکھا جو خاموشی سے روٹھی روٹھی چائے پی رہی تھی۔
”اوئے یار ناراض کیوں ہوتی ہو میں تو مذاق کر رہا تھامیں اپنی پیاری بہن کو ناراض نہیں دیکھ سکتا” وہ پیار سے مسکرائے اور بولے۔ ”ارے بھئی بس بھی کرو یہ لڑائی ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔”امینہ بیگم نے بھی بات بڑھتے دیکھ کر اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا۔
”میں بیگ لے کر آرہی ہوں جلدی ختم کریں اپنا ناشتہ”۔ وہ انہیں گھورتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چل دی تو کبیر علی نے ماں کو مسکرا کر دیکھا۔ ”مت پریشان کیا کرو میری بیٹی کو۔” انہوں نے پیار سے ڈانٹا۔”ارے اماں آپ کو کیا پتا اس کا روٹھنا اور پھر فوراً ہی مان جانا میرے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔ خیر اماں آپ آج بطور خاص میرے لیے دعا کیجئے گا آفس میں کچھ مسائل ہیں اللہ سب آسانی سے حل کروا دے۔”
”ارے میرے بچے میری تو ہمہ وقت دعائیں تمہارے اور ثنا کے ساتھ ہیں۔ اللہ تمہیں ایمان داری پر چلائے اور رزق حلال کمانے کی توفیق دے ۔کیوں کہ عزت اور برکت صرف رزق حلال ہی میں ہے۔” انہوں نے معوذتین پڑھ کر ان پر پھونکی۔”اماں قسم سے آپ کی یہ باتیں بچپن سے ہمارا حوصلہ بڑھا رہی ہیںاسی لئے کبھی غلط راستے پر قدم اٹھانے کا سوچا ہی نہیں۔” انہوں نے ماں کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر پیار سے چوما۔
”تمہارے باپ کے بعد ایک لمبی زندگی پوری ایمانداری سے میں نے کیسے اکیلے کاٹی اور پھر اللہ نے تھوڑے میں بھی اتنی برکت دی کہ تم ایک اچھی پوسٹ پر لگ گئے۔ اور جلد ہی ثنا بھی گریجوایشن کر لے گی۔ بیٹا بس میری ایک ہی نصیحت ہے جو تم نے ماننی ہے یاد رکھو کیسے بھی حالات ہوں رزقِ حلال اور سچ ہمیشہ عزت دیتا ہے۔”
”جی اماں فکر مت کریں آپ کو کبھی مایوسی نہیں ہو گی۔” انہوں نے ماں کو یقین دلایا ۔
”بیٹا رزق حلال سے کبھی کبھی تنگی تو آتی ہے لیکن بے سکونی نہیںاور زندگی میں اگر سکون صرف اتنی سی مشقت سے مل جائے تو وہ انمول ہوتا ہے۔”انہوں نے بیٹے کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔
”اماں آپ کی ان باتوں میں کتنا سکون ہے کوئی مجھ سے پوچھے۔” کبیر نے مسکرا کر ماں کو دیکھا تو وہ بھی مسکرا دیں۔
اس سین پر اندر آتی ہوئی ثنا بولی: بھائی خدا کے لیے یہ 1945 کی فلم شام تک اٹھا کر رکھیں دیر ہو رہی ہے۔”
تو کبیر نے اس کی بات پر ایک زور دار قہقہہ لگایااور بولے ”جل ککٹری اماں اور میری محبت تو برداشت ہی نہیں کر سکتیں۔”
”اللہ حافظ اماں”۔ ”اللہ حافظ اماں” دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔ ”اللہ کی امان میں جائو” امینہ بیگم نے دعا دی۔
”اماں فریج میں کھانا رکھا ہے گرم کر کے کھا لیجئے گا بھول مت جائیے گا۔” ثنا نے جاتے جاتے آواز لگائی تو وہ اس کی محبت پر مسکرا اٹھیں اور چائے کا کپ منہ کو لگالیا۔
دس سال پہلے ثنا دس سال کی اور کبیر 16سال کا تھا جب وہ بیوہ ہوئی تھیں۔ شوہر ایک مل میں معمولی سے ملازم تھے۔ وہ ان کی معمولی تنخواہ کو بڑے طریقے سے استعمال کرتی لیکن پھر بھی مہینے کے درمیاں تک تنخواہ ختم ہو جاتی تو انہوں نے شوہر کی اجازت سے اچار کے کاروبار کا فیصلہ کیا۔ گھر میں اچار بنا کر دکانوں پر دے کر آتیں۔ چند دنوں میں ہی اُن کا اچار ان کے اپنے علاقے میں ہی کافی مقبول ہو گیا۔ تو اس طرح انہوں نے بقیہ پندرہ دنوں کے لئے بھی آٹے دال کا ایک بہترین انتظام کر لیا۔ بچوں کی بھی کئی خواہشیں بڑے آرام سے پوری ہونے لگیں۔ اچانک ہارٹ اٹیک سے اُن کے میاں کی ڈیتھ نے انہیں بے بس کر دیا کہ حالات سے اب کس طرح لڑا جائے۔ لیکن شوہر کی کمپنی سے ملنے والی ایک معقول رقم سے انہوں نے اپنے کاروبار کو بڑھایا اور شوہر کی کمائی سے زیادہ کمانے لگیں۔ سردیاں اور گرمیاں بچوں کے سکول اور کالج جانے کے بعد وہ بڑے سے صحن میں بیٹھ کر اچار بنایا کرتیں۔ بڑی دکانوں میں سپلائی کے لیے انہوں نے ایک لڑکا رکھ لیا جو کمیشن پر ان کا اچار سپلائی کرنے لگا۔ اللہ نے برکت ڈال دی۔ ماں باپ تھے نہیں ایک امیر بھائی جو غریب بہنوں کو کیوں پوچھیں۔ چھوٹی بہن ناہید بیگم نے بھی اس وقت اُن کا بڑا ساتھ دیا۔ ناہید کے میاں ذرا ترش مزاج تھے لیکن بااصول تھے۔ اکثر کبیر کو گھر بلا کر نصیحتیں کرتے جنہیں ماں کی ہدایت کے مطابق کبیر بڑے سکون اور تسلی سے سنا کرتے اور بڑے باادب انداز میں خالو کو یقین دلاتے کہ آپ بالکل فکر مت کریں آپ کی ہدایت پر پورا عمل ہوگا۔ اسی لیے وہ کبیر کو بہت پسند کرتے تھے۔ان کے خیال میں کبیر جیسی شریف اور با ادب اولاد ان کی ہونی چاہیے تھی خیر داماد بھی تو بیٹا ہی ہوتا ہے۔ وہ سامعہ کے لیے راضی ہو کر بیٹھے تھے کہ اگر امینہ نے ان سے بات کی تو وہ فوراً ہاں کر دیں گے۔
یہ بات کبیر علی بھی جانتے تھے کہ خالو ان کو کتنا پسند کرتے ہیں۔ یقینا اسی بات نے انہیں آس دی ہوئی تھی کہ اچھی نوکری اور اپنا گھر لینے کے بعد وہ پہلی بات ہی اماں سے یہ کریں گے کہ بس اب آپ خالو جان سے بات کر لیں ۔ سامعہ جو کہ ان کی زندگی تھی گھر لے آئیں۔ بچپن سے ہی انہوں نے سامعہ کو اپنی دلہن کے روپ میں دیکھا تھا۔ یہ اور بات کبھی سامعہ سے اظہار نہ کیا۔ کیوںکہ وہ وقت سے پہلے اظہار کے قائل نہ تھے۔ ابھی بھی وہ اچھے وقت کا انتظار کر رہے تھے کہ بس ادھر وہ بی اے کرے اور ادھر ان کی نوکری پکی ہو جائے تو وہ اماں سے سامعہ کے بارے میں بات کریں گے۔
______________ x ____________ x _____________
عمر آفندی تم کیا جانو تم میرے لیے رب کے کسی تحفے سے کم نہیں۔ بچپن سے اب تک سب نے صرف تمہارے ہی خواب دکھائے ہیں لیکن اب ۔۔۔۔۔۔۔۔ افففف میرے خدا کس امتحان میں ڈال دیا ہے تو نے۔ ایک ایسے شخص سے محبت کرنا جسے آپ کی قدر ہی نہ ہو پل پل تکلیف دیتا ہو پلِ صراط کا سفر ہوتا ہے۔ عالیہ نہ جانے کیا کیا سوچے جا رہی تھی۔ کتنا افسوس تھا اسے کہ عمر آفندی جو اسے اپنا سب سے اچھا دوست کہتا تھا لندن جانے سے پہلے اُسے بتایا تک نہیں۔ لیکن عالیہ بی بی تم نے بھی تو اظہار محبت کر کے خود اپنی بے قدری کروائی۔۔۔۔۔۔۔ کیا کرتی میں؟۔ کیا کرتی میں؟ کب تک اُسے نئی رنگ برنگی تتلیوں کے ساتھ دیکھوں اور خاموش رہوں۔ بول کر بھی کیا پایا اس نے جواب دینا بھی ضروری نہ سمجھا اور فون رکھ دیا۔ آج صبح کی فلائٹ سے وہ لندن چلا گیا۔ عمر کو صبح اٹھ کر ہی عالیہ نے فون کیا تو فون بند تھا۔ وہ بھی اگر میں خالو جان کو فون نہ کرتی تو پتا بھی نہ چلتا کہ وہ ظالم مجھے بتائے بغیر ہی چلا گیا۔ کتنے کٹھور ہو تم عمر آفندی میری تڑپ تمہیں کب تک سکون سے رکھے گی۔ ایک نہ ایک دن تم ضرور میری طرف پلٹو گے کیوں کہ جتنی محبت میں نے تم سے کی ہے کوئی نہیں کر سکتا۔ یہ تمہارے ارد گردرہنے والی تتلیاں صرف تمہاری دولت سے پیار کرتی ہیں لیکن میں تمہاری روح سے اور مجھے یقین ہے کہ میں تمہیں پالوں گی۔”وہ ابھی اور بھی نہ جانے کیا کیا سوچتی کہ اماں بی اندر آگئیں۔
”عالیہ بیٹا کیا سوچ رہی ہے۔ اکیلے اکیلے۔” انہوں نے ماتھے پر پیار کیا تو وہ بھی ان سے لپٹ گئی۔ اماں بی اس کی نانو تھیں، جو ان کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔ پچھلے سال ماما کے انتقال کے بعد انہوں نے اس کی مکمل دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھالی۔ 75سالہ گڈ لکنگ نانو کہیں سے بھی ساٹھ سے زیادہ کی نہیں لگتی تھیں۔ بوب کٹ بال، زندہ دل سی نانو جو دو بیٹیوں کے انتقال کا صدمہ اٹھانے کے بعد بھی بڑی ذمہ داری سے اُن کی اولاد کا خیال رکھ رہی تھیں۔ عمر آفندی اور عالیہ کی شادی اُن کا بھی دیرینہ خواب تھا۔ جسے وہ باتوں باتوں میں عمر کے باپ سعود آفندی سے کر چکی تھیں۔ وہ دونوں بیٹیوں کے مرنے کے بعد ان کے بچوں کو مضبوط رشتے میں جوڑنے کی خواہاں تھیں۔ لیکن سعود آفندی نے عمر کی خواہش کے مطابق فیصلہ کرنے کی مہلت مانگ لی۔۔۔ کہ جب تک عمر شادی کے لیے ہاں نہیں کرتا وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ یوں بات آئی گئی ہو گئی۔ اماں بی کی نظر سے نواسی کی عمر سے والہانہ محبت پوشیدہ نہ تھی، لیکن عمر نے کبھی اپنا کوئی سرا ان کے ہاتھ نہ دیا۔۔۔۔ عالیہ کے بی اے کے بعد وہ ذاتی طور پر عمر سے خود بات کرنے کا فیصلہ کر چکی تھیں۔۔۔۔ وہ چاہتی تھیں عمر کی طرف سے کوئی جواب آئے تو انہیں اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہو جائے۔
”اکیلے بیٹھی کیا سوچ رہی ہو۔ چلو کہیں شاپنگ کر کے آتے ہیں بہت دن ہو گئے مل کر اچھا سا کھانا بھی نہیں کھایا۔ سُنا ہے ایم ایم عالم روڈ پر کوئی اچھا ریسٹورنٹ کھلا ہے۔” انہوں نے بستر پر اس کے پاس ہی بیٹھتے ہو ئے اس کا سر سہلایا۔
”نہیں نانو موڈ نہیں ہے ابھی۔” اس نے سستی سے ان کو دیکھا۔ ”کیا ہو گیا میری بیٹی کے موڈ کو۔ چلو مجھے کچھ نہیں سننا تیار ہو جائو۔ وہیں سنوں گی کہ آج میری جان اداس کیوں ہے؟” انہوں نے کھڑے ہوتے ہوتے اُسے حکم دیا ۔تو اُسے بھی ناچار تیار ہونا پڑا۔ اب ان کی بات ٹال بھی تو نہ سکتی تھی۔ لیکن ان کے ساتھ ڈھیر سارا گھومتے اور کھاتے پیتے وہ اصل بات چھپا گئی ۔ اب دل ٹوٹنے کے اشتہار تو نہیں لگائے جاتے ۔کیا کمی تھی اُس میں جو وہ عمر آفندی کو نظر ہی نہیں آتی۔ اکثر کسی پارٹی میں اونگی بونگی شکلوں کو لائن مارتے دیکھ کر اُسے عمر آفندی پر شدید غصہ آتا لیکن وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔ سوائے خاموشی سے دیکھنے اور صبر کرنے کے۔
______________ x ______________ x _______________
سامعہ جلدی جلدی کالج کے لیے تیار ہو رہی تھی آج اس کی تیاری کچھ خاص ہی تھی۔ کتنے دن سے وہ عالیہ کے پیچھے پڑی ہوئی تھی کہ شاپنگ مال چلو کافی دن ہو گئے ہیں۔ ثنا نے تو پڑھائی کی وجہ سے صاف انکار کر دیا تھا لیکن اس نے کسی نہ کسی طرح عالیہ کو تیار کر لیا۔ آج وہ اور عالیہ مال جا رہے تھے۔ عالیہ نے کچھ شاپنگ کرنی تھی اور اس نے صرف دل پشوری پھر بعد میں چاٹ دہی بھلے کھا کر واپس آجانا تھا۔۔۔ لیکن وہاں جو خوبصورت کلاس آتی تھی انہیں دیکھ کراس کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی تھیں ۔ صاف ستھرے سمارٹ ڈریسنگ والے لڑکے۔ جن کی ایک نظر میں ہی وہ اپنے لیے بہت کچھ پا لیتی تھی۔ وہ اکثر سوچتی اللہ نے اُسے ایسے گھٹے ماحول میں کیوں پیدا کر دیا۔ جہاں سانس لینے پر بھی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ اسے کسی بڑے گھر میں کیوں نہیں پیدا کیا؟ اور دوسرے ابا کا رویہ اُسے باغی بنا رہا تھا۔ وہ سوچتی ہی نہیں کہ کبھی باپ یا بھائی نے اسے یوں کھلے منہ میک اپ کئے کسی شاپنگ مال میں دیکھ لیا تو کیا ہو گا۔
اس نے آنکھوں میں کاجل ڈال کر دو تین کوٹ مسکارے کے لگائے اور پھر آئی لائنر لگایا۔ لپ اسٹک ڈریسنگ سے اٹھا کر بیگ میں ڈالی اور تیزی سے عبائیہ پہنا۔ حجاب سر کے گرد لپیٹ کر اس نے شیشے میں اپنا تنقیدانہ جائزہ لیا اور خود ہی اپنی تعریف میں بڑ بڑائی۔”کیا بات ہے سامعہ بی بی آج تو آنکھیں بڑی قاتلانہ لگ رہی ہیں۔ کئی قتل ہو جائیں گے۔ مس صبا میری آنکھوں کی ایسے ہی تو تعریف نہیں کرتیں”۔اس نے خو د اپنے آپ پر پڑھ کر پھونکا ۔
”سامعہ تم اب تک تیار نہیں ہوئیں وین والا آگیا ہے۔” اماں اُسے آواز دیتی ہوئی کمرے تک آ گئیں۔
”اماں اس سے کہیں بس دو منٹ میں آئی۔” سامعہ نے تیزی سے کتابیں بیگ میں ٹھونستے ہوئے ماں کی طرف دیکھے بغیر کہا ”اور ہاں اماں آج کچھ دیر ہو جائے گی۔ ثنا کے ساتھ مل کر نوٹس بنانا ہیں۔ پیپرز ہونے والے ہیں نا۔”کچھ یاد آنے پر اس نے ماں کو بتایا۔ ”تمہیں تو روز ہی دیر ہو جاتی ہے اور میرا دل ہولتا رہتا ہے حالات اچھے نہیں ہیں” ۔ انہوں نے دل پر ہاتھ رکھا۔ ”اماں کالج میں اکیلی تھوڑی ہوتی ہوں ۔پوری لائبریری بھری ہوتی ہے لڑکیوں سے سب امتحان کی تیاری کر رہی ہیں”۔ اس نے وضاحت کی۔ اچھا اچھا زیادہ دیر مت کر دینا اور موبائل آن رکھنا تاکہ میں فون کر کے پوچھتی رہوں”۔ انہوں نے سمجھایا۔ ”ٹھیک ہے اماں فکر مت کریں”۔ کیسے فکر نہ کروں تیرے ابا جی کو سمجھانا بہت مشکل ہے ۔ذرا دیر ہو جائے تو لاکھ وضاحتوں کے بعد بھی تمہاری پڑھائی پر سو باتیں سننی پڑتی ہیں۔ میں تمہیں پڑھا کر غلطی کر رہی ہوں۔ ایک دن سر پکٹر کر روئوں گی۔” انہوں نے ٹھنڈی سانس بھر کر بیٹی کی طرف دیکھا۔
”چھوڑیں اماں انہیں سمجھانا بہت مشکل کام ہے۔ وہ بسں اپنے مطلب کی بات ہی سنتے ہیں۔ اچھا میں چلتی ہوں۔ اللہ حافظ” یہ کہتی ہوئی وہ باہر نکل گئی۔ناہید بیگم نے اتنی دیر میں آیت الکرسی پڑھ کر اس پر پھونک دی تھی۔ یہ اُن کا روزانہ کا معمول تھا ۔دونوں اولادیںاور حاجی صاحب جب بھی باہر جاتے وہ ان پر آیت الکرسی پڑھ کر ضرور پھونکتی تھیں۔ اور ایسا سالوں سے جاری تھا۔ ایک بیوی اور ماں کی حیثیت سے ان سب کو اللہ کے حوالے کر کے وہ مطمئن ہو جاتی تھیں۔ اللہ کا قرب مومن کی سب سے بڑی ڈھال ہے۔ پوشیدہ مگر ہمہ وقت مومن کے پاس ۔ہر مشکل میں اس کو پیار اور سکون کی تھپکی دینے والا۔ وہ تھپکی تہجد میں ہو یا مومن کی پنج وقتہ نماز کے سجود میں صرف مومن کو محسوس ہو تی ہے۔ بظاہر نظر نہ آنے والے رابطے کا لطف وہی محسوس کر سکتا ہے اور وہ اللہ سے ایسے ہی رابطے میں تھیں۔ حاجی صاحب کی سخت زبانی اور وقت بے وقت بچوںاور غیروں کے سامنے بار بار ان کی انا کی تذلیل نے انہیں اکثر شدید تکلیف میں مبتلا کر دیا۔ مگر انہوں نے اس تکلیف کو ڈھال بنا کر اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط کر لیا تھا۔ کھانا کھایا یا نہیں مگر تہجد کبھی قضا نہیں ہوتی اور اسی تہجد میں وہ اللہ کے بہت قریب ہوتیں ۔ ابھی توان کا رُتبہ اللہ نے بہت بلند کرنا تھا اسی لیے آگے ان کے کتنے بڑے بڑے امتحانات تھے یہ تو شاید اُن کو بھی نہیں معلوم تھا۔
لائبریری پہنچ کر اُس نے سب سے پہلے ایک ناول ایشو کروایا۔ جسے دیکھ کر ثنا نے اُسے بہت بُرا بھلا کہا۔ ” خدا کے لیے سامعہ امتحانات میں صرف یہی مہینہ ہے اور تم ناول ایشو کروا کر لائی ہو۔ ادھر دیکھو نوٹس بنا بنا کر میرے ہاتھ دُکھ گئے۔”وہ چیخی تو وہ سامعہ بھی ڈھٹائی سے بولی ۔
” یا رکتنے دن سے اس ناول کی تلاش تھی۔ حمیرا بتا رہی تھی سمیرا کلیم کا یہ نیا ناول آیا ہے۔ کیا کمال کا ہیرو ہے۔ ڈائجسٹ میں بھی نہیں پڑھ سکی ۔ابا نے ڈائجسٹوں کی گھر میں آمد پر پابندی جو لگا دی ہے۔” اس نے چٹخارہ لے کر ناول کھولا اور صفحات الٹنے لگی تو ثنا کو تپ چڑھ گئی۔ ”یار میں اکیلی اتنے سارے نوٹس کیسے بنائوں گی؟” ثنا نے غصے سے سامعہ کو گھورا ” پیاری دوست بنا کر فوٹو کاپی کروا دینا” سامعہ نے ڈھیٹ پنے سے جواب دیا” ۔ سیریس ہو جائو لڑکی بی اے میں فیل ہو گئیں تو کوئی اچھا رشتہ بھی نہیں دے گا۔” اس کے انداز پر ثنا مسکرادی اور بولی۔ ” تم سے کس نے کہا کہ اچھے رشتے کے لیے بی اے پاس کرنا ضروری ہے۔” وہ لاپروائی سے بولی۔ ” پھر کیا ضروری ہے؟” ثنا نے حیرانی سے پوچھا۔
” ایک عدد خوبصورت اور پیاری شکل جو کہ اللہ نے مجھے دی ہے۔ مگر لگتا ہے کہ میرا نصیب ہی ٹھنڈا ہے۔ جو کسی کو اب تک نظر ہی نہیں آتی۔ جس دن کسی نے نظر بھر کر دیکھ لیاپھر دیکھنا۔ ” وہ منہ لٹکا کر بولی۔ ”اللہ نہ کرے تمہارا نصیب ٹھنڈا ہو وہ بھی تمہاری طرح بہت خوبصورت ہے ۔انشاء اللہ وقت تو آنے دو ۔ ” ایسا تم کہتی ہو میری دوست ہونا نہ جانے کیسی فضول صورت لڑکیاں ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر لڑکوں کے دل پھڑک کر گر جاتے ہیں۔” اس نے مایوسی سے کہا۔ تو ثنا نے غصے سے اُ سے گھورا ۔ ” دیکھو سامعہ تم ایک شریف خاندان کی لڑکی ہو کوئی انٹرٹینمنٹ پیکج نہیں کہ ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کا دل تمہارے قدموں میں پڑا ہو۔” ثنا نے اسے سمجھایا۔ ” کیوں کیا شریف گھرانوں کی لڑکیوں کا دل نہیں ہوتا وہ نہیں چاہتیں کہ کوئی ان سے پیار کرے۔ انہیں چاہے۔ ان کی تعریف کرے۔” وہ تنک کر بولی۔ اسے بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا اس وقت ثنا کا اس طرح سمجھانا ۔
” ہر شریف عورت کی تعریف اور اس سے محبت کا حق صرف اس کے شوہر کے پاس ہوتا ہے۔” ثنا نے سمجھانے کی ایک اور کوشش کی۔ تو وہ زروردار آواز میں ہنس پڑی ۔ ثنا نے لائبریری میں اردگرد دیکھتے ہوئے اس کا ہاتھ دبایا۔ سب انہی کو گھور رہے تھے ۔ تو اس کی ہنسی بند ہوئی اور بولی: ” شادی کے بعد محبت کو محبت تھوڑی کہتے ہیں؟”
” پھر کیا کہتے ہیں؟ثنا نے پوچھا ۔” ” مجبوری کا نام شکریہ؟” وہ بھی دو بدو بولی۔ ” مطلب؟” ثنا نے حیرانی سے پوچھا۔ ”مطلب یہ میری بھولی سی دوست کہ جو مل گیا جیسا مل گیا اسی پر شکر ادا کرو۔”
ہاں تو اس میں غلط بھی کیا ہے؟” ثنا نے اس کی بات کو دوبارہ رد کیا ۔” دستور بھی یہی ہے” ۔ثنا ء نے دوبارہ سمجھایا ۔ ”لیکن میں نہیں مانتی ایسے#۔ دستور کو ظلمِ بے نور کو۔ ” سامعہ نے حبیب جالب کے انداز میں شعر پڑھا تو ثنا کی ہنسی نکل گئی۔
” ویسے تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے کیا ہوگا ۔ ہوگا وہی جو اس گھر میں تمہارے ابا اور ہمارے خالو جان چاہیں گے۔” اس نے لکڑی میں آخری کیل ٹھونکتے ہوئے اس کی بات کو لگام دینے کی کوشش کی۔ تو وہ یکدم چُپ ہو کر کچھ سوچنے لگی۔ ”ارے کیا سوچ رہی ہے ہماری پھولن دیوی۔” اس نے چھیڑا ۔ “ثنا ایک بات تو بتائو۔” ” پوچھو؟” اس نے لکھتے لکھتے سر اٹھایا اور پوچھا۔ ” اگر تمہارے لیے کوئی ایسا رشتہ آئے جو شکل و صورت میں قبول صورت بھی نہ ہو اور پیسہ بھی بس یوں ہی ہو تو کیا تم قبول کر لو گی۔” اس نے بڑے دھیان سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ” اگر اماں اور بھائی کو مناسب لگا تو انکار کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔” ثنا نے بہت تحمل سے جواب دیا۔
”اور سچ پوچھو تو ایک اچھی شادی شدہ زندگی کے لیے یہ باتیںاتنی اہم نہیں۔ یہ تو بونس ہیں۔” اس نے سمجھ داری سے جواب دیا تو وہ پھٹ پری۔
”دیکھو مریم بی بی! تم کچھ بھی کہو کچھ بھی کرو میں تو ایک پھوکٹ اور بدصورت شخص کے ساتھ ساری زندگی نہیں گزار سکتی۔” یہ کہہ کر وہ ہاتھ جھاڑکر کھڑی ہو گئی۔ اسی وقت عالیہ وہاں آگئی ۔ ” ارے یار تو یہاں چھپی بیٹھی ہے اور میں پوراکالج ڈھوندتی پھر رہی ہوں۔” ” لیکن عالیہ ہم دونوں تو نوٹس بنا رہے ہیں تم کیوں سامعہ کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ ” ثنانے مشکوک نظروں سے سامعہ کو دیکھا۔ ” وہ دراصل میرا آج شاپنگ پر جانے کا پرورگرام تھا۔ میں نے سوچا کہ سامعہ کو بھی ساتھ لے جائوں۔” عالیہ نے ثنا کی گھورتی نظروں سے بچتے ہوئے سامعہ کو دیکھا کہ تم ہی کچھ کہو۔ ” ارے ہاں میں تیار ہوں۔ ثنا بس ہم دو گھنٹے میں واپس آتے ہیں۔ اگر اماں کا فون آجائے تو کہہ دینا کہ واش روم گئی ہوئی ہوں۔ اور جلدی سے اپنی چادر دو میں یہ عبائیہ پہن کر نہیں جارہی۔” اس نے عجلت میں اپنا عبائیہ ثنا کی طرف اچھالا اور اس کے بیگ سے چادر نکال کر اوڑھ لی۔ ” لیکن میں خالا سے جھوٹ کیسے؟” وہ اس کی دیدہ دلیری پر ہکلائی ۔ ”لیکن ویکن کچھ نہیں میری پیاری دوست نہیں ہو میری خاطر پلیز خدا کی قسم دو مہینے ہو گئے بوتیک کے کپڑوں اور جوتوں سے آنکھیں نہیںسیکیں ترس گئی ہیں میری آنکھیں ” ۔ اس نے آنکھ مار کر التجائیہ انداز میں کہا۔ تو ثنا کے چہرے پر دبی دبی مسکراہٹ دوڑ گئی۔ وہ جانتی تھی بیچاری کے گھر کا ماحول کتنا دبائو والا تھا۔ اس لیے خاموش ہو گئی ۔دونوں ایک رکشے میں بیٹھ کر شاپنگ مال پہنچیں اور پھر انہوں نے تقریباً دو گھنٹے مال میں گھومتے پھرتے اور سامان لیتے گزار دیئے۔ واپسی پر چاٹ کھاتے اور کوک پیتے آس پاس میزوں پر بیٹھے کئی لڑکوں نے اس پر اچٹتی سی نظر ڈالی اور نظروں ہی نظروں میںپسندیدگی پیغام دیا۔ اس کے لیے اتنا ہی بہت تھا۔ وہ اس وقت خو دکو ایک ناول کی ہیروئین سے کم نہیں سمجھ رہی تھی۔ چادر سر سے سرک کے اب کاندھوں پر آچکی تھی۔ لیکن حجاب کرنے والی اس وقت ساری باتوں سے لا تعلق خود کو ایک ہیروئن سمجھ رہی تھی۔ جو ارد گرد مردوں کی سراہتی نظروں سے لطف اندوز ہو رہی تھی مگر ان میں سے کسی نے سرا ہنے کہ علاوہ آگے بڑھنے کی کوئی ہمت نہ کی۔ شاید راہ چلتوں کے لیے ان کا ساتھ اور ان کی ہمت صرف اتنی ہی ہوتی ہے۔
______________ x ______________ x _______________
آج صبح سے موسم بہت خوش گوار تھا ۔ کالج کی چھٹیاں ہونیوالی تھیں۔ لیکن صبح سے ہی سامعہ کی طبیعت کچھ ڈھیلی ڈھیلی سی تھی تو اس نے لمبی تان کے سونے کا ارادہ کیا ۔ تقریباً بارہ بجے جب وہ اٹھ کر ٹی وی لائونج میں آئی تو اماں سبزی بناتے ہو ئے رات کا دیکھا ہو ا ڈرامہ دوبارہ دیکھ رہی تھیں۔ ظفر آج توقع کے برخلاف گھر میں موجود تھا اور موبائل پر گیم کھیل رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی اماں بولیں: ”آج تو بڑی دیر تک سوئیں ” ۔
”ہاں اماں رات کو نوٹس بناتے بناتے کافی دیر ہو گئی تھی (یہ نہ بتایا کہ لائبریری سے ایشو کر وایا ناول پڑھتے پڑھتے دوبج گئے تھے ) اسی لئے کالج جانے کا بھی دل نہ کیا۔ تھوڑی سستی سی ہے۔ ناشتے میں کیا ہے؟ ”۔اس نے جمائی لی۔
” آج ظفر نان چنے لایا تھا۔ تمہارے لئے کچن میں رکھے ہیں ۔مائیکرو ویو میں گرم کر کے کھا لو ۔۔” اور ہاں چائے بنائو تو ایک کپ زیادہ بنا لینا ۔” ”آپا میں بھی پیئوں گا۔ ذرا ملائی اوپر ڈال دینا۔ ” ظفر نے بھی موقع سے فائدہ اٹھایا تو اس نے باہر کی راہ لی۔ ناشتہ کر کے چائے لے کر آئی توسین ہی بدل چکا تھا۔ اماں رو رہی تھیں وہ گھبرا گئی۔ ”ارے اماں آپ کیوں رو رہی ہیں”اس نے گھبرا کر ظفر کو دیکھا کہ کہیں اس سے تو کو ئی بات نہیں ہوئی۔ لیکن وہ ابھی بھی اپنی گیم میں مگن تھا ۔
” ارے اس کمبخت حماد کو دیکھو خواہ مخواہ معصو م بیوی پر الزام لگا کر اسے تھپڑ مار دیا۔” دوپٹے سے آنسو پونچھتے ہو ئے انہوںنے ایکٹر حماد کو گھورا جسے پتا بھی نہیں کہ اس بے چارے کو گالیاں پڑ رہی ہیں ۔
”ارے میری معصوم بھولی بھالی اماں! ایسے سین کی وجہ سے تو ڈرامے کی Rating آتی ہے۔ ” ظفر بھی اب ان کی طرف متوجہ ہو چکا تھا اور اس نے ہنس کر انہیں بتایا ۔”اب موئی یہ Rating کیا بلا ہے۔ ” ماں نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں پوچھا ۔۔۔
”میرا مطلب ہے اماں کہ ایسے سین کی وجہ سے ڈرامہ زیادہ دیکھا جاتا ہے ۔ آپ نے رات کو بھی یہ قسط ایسے ہی روتے ہو ئے دیکھی اور اب صبح repeat میں بھی دیکھ رہی ہیں۔ ” اس نے rating کا مطلب آسان الفاظ میں سمجھایا ۔
”ارے یہ سین دیکھ کر تو مجھے اپنی خالہ زاد بہن ثریا یاد آگئی تھی۔ اس کا میاںبھی بات بے بات پر اُسے ایسے ہی مارتا تھا۔”
انہوں نے اپنی خالہ زاد کو یاد کر کے ایک لمبی ہچکی لی تو ظفر اور سامعہ دونو ں کی ہنسی نکل گئی ۔
”اماں یہ ڈرامے وہی سب تو دکھاتے ہیں جو کچھ ہمارے ارد گرد ہو رہا ہے ۔” ظفر نے بھی بولنا مناسب سمجھا ۔
”اماں ہماری زندگی بھی کسی ڈرامے سے کم نہیں۔ بس ذرا ڈائریکٹر صاحب کو آنے دیں۔ سب اپنے اپنے کردار یاد کریں گے۔” اس نے باپ پر طنز کیا تو ناہید بیگم کو غصہ آگیا ۔
”ظفر بد تمیزی مت کرو۔ باپ ہیں تمہارے شرم نہیں آتی ان کا ذکر اس طرح کرتے ہو ئے۔” انہوں نے اس بد تمیزی پر ظفر کو جھاڑدیا!۔ انہیں بالکل برداشت نہیں ہو تا تھا کہ بچے باپ کا تذکرہ بد تمیزی سے کریں ۔ ”سوری اماں غلطی ہو گئی ۔” اس نے مصنوعی شرمندگی سے کہا اور چائے کا کپ ہونٹوں سے لگا لیا۔ اتنے میں دروازے پر اونچی اونچی دستک ہونے لگی تو کمرے میں کُھلبلی مچ گئی۔ ظفر دروازے کی طرف لپکا کہ ذرا دیر ہو ئی تو دروازہ کھولنے والا ہی اُن کے عتاب کا نشانہ بنے گا ۔ باپ کے کمرے میں آنے تک منظر نامہ ہی بدل چکا تھا۔ ٹی وی پرQ ٹی وی کا اسلامک پروگرام چل رہا تھا۔ سامعہ کے ہاتھ میں قرآ ن پاک تھا اور ظفر نے بھی اندر آکر کورس کی کتاب ہاتھ میں لے لی ۔ ”السلام علیکم آپ آگئے۔” ناہید بیگم نے کرسی سے کھڑے ہو تے پوچھا ۔ ”کہو تو واپس چلا جائوں دیکھ کر خوشی نہیں ہو ئی۔ چائے کی عیاشیاں چل رہی ہیں بے وقت۔” سب کے ہاتھوں میں کپ دیکھ کر انہیں آگ لگ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”تو بہ ہے میں ایسا کیوں کہوں گی۔ ” وہ دھیرے سے بڑ بڑائیں۔ ”پوچھ تو ایسے رہی ہو کہ آنا اچھا نہیں لگا ۔۔۔۔۔۔” وہ دوبارہ طنز سے باز نہ آئے۔ ”جائو سامعہ ابا جی کے لئے چائے بنا کر لے آئو ۔” ”تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے دن کے ساڑھے بارہ بجے چائے کون پیتا ہے کھانا لائو۔ ” وہ گرجے ۔
جی حاجی صاحب بس جا رہی تھی ہانڈی چڑھانے۔ ” وہ سہم گئیں کم بخت ڈرامے کے چکر میں آج دیر ہو گئی لیکن حاجی صاحب کا بھی تو کچھ پتا نہیں کہ وہ ا چانک اتنی جلدی آجائیں گے ۔
”تم سست عورت اتنی دیر سے کیا کر رہی تھیں۔ ہاں ٹی وی سے فرصت ملے تو کو ئی کام ہو۔ اس گھر میں بس کما کما کر دیتے رہو۔ کھانے کے وقت کھانا نہ ملے تو لعنت ہے ایسی عورت پر۔ ” انہیں تو بولنے کا مو قع مل گیا ۔ وہ جیسے تیار بیٹھے تھے۔ ظفر نے سمجھ لیا تھا کہ اب ان کا دوسرا شکار وہ ہو گا۔ وہ تو کھسک گیا اور سامعہ نے ماں کے ہاتھ سے کٹی ہو ئی سبزی کی ٹوکری اُٹھا کر کچن میں جانے میں ہی عافیت سمجھ لی ۔ کیوں کہ اب اباجی نے خاموش تو رہنا نہیں تھا ۔
___________ x ____________ x ___________
کبیر علی نے جب سے شمیم سنز جوائن کیا تھا۔ انہیں بہت ساری پریشانیوں کا سامنا تھا۔ اس کے سیکنڈ باس کمپنی کے چیف اکائونٹنٹ کافی بڑے فراڈ میں انوالو تھے۔ اور انہوں نے اسے بھی اپنے ساتھ شامل ہونے کی آفر کی ۔۔۔۔۔ مگر آفر قبول کرنا اُن کے بس میں نہ تھا۔ اب وہ ہر لمحہ اسی بارے میں سوچ رہے تھے۔ اس سلسلے میں آخری فیصلہ کرتے ہوئے انہوں نے ریزائن کے ارادے کے ساتھ لیٹر شمیم صاحب کو دینے کا فیصلہ کیا ۔ کچھ بھی تھا انہوں نے پچھلے چھے مہینے اس کمپنی کا نمک کھایا تھا ۔ اتنی نمک حلالی تو بنتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمیم صاحب اس کا ریزائن دیکھ کر حیران رہ گئے ۔ ”خیر تو ہے ینگ مین یہاں کو ئی تکلیف ہے۔ ” انہوں نے حیرانی سے سوا ل کیا ۔ ”نو سر بالکل نہیں بس میری اپنی کچھ پرابلمز ہیں۔ ” وہ سب کچھ بتاتے ہو ئے جھجھک رہے تھے ۔ ”تنخواہ کم ہے تو بڑھا دیتے ہیں ریحان صاحب کو بلوائیں۔ ” انہوں نے غلط سمجھا کہ ایسا وہ شاید تنخواہ بڑھانے کے لیے کر رہے ہیں ۔
نو سر! نو سر! ایسی کو ئی بات نہیں ہے۔ ” وہ فوراً بولے ۔
”پھر کیسی بات ؟ اتنی اچھی نوکری اتنی آسانی سے نہیں ملتی Think about it۔” انہوں نے اسے سمجھایا کیوں کہ وہ چھے مہینے سے کبیر کو خود Observe کر رہے تھے۔ بہت محنت سے اس نے کمپنی میں کم وقت میں اپنی جگہ بنائی تھی اور وہ ایسے ہیرے کو بالکل کھونا نہیں چاہتے تھے ۔
” سر میں جانے سے پہلے آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں بلکہ دکھانا چاہتا ہوں۔ ” وہ ہچکچاتے ہوئے بولے۔
”ہاںہاں بولو ۔۔۔۔۔۔۔۔” انہوں نے دل جمعی سے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بات سنی اورانہوں نے کڑے دل سے ریحان صاحب کی ساری مکّاری اور فراڈ ان کے آگے رکھ دیا تو وہ حیران ہو گئے ۔
”افففف ! خدایا اتنا بڑا فراڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
”لیکن اتنا سب کچھ جاننے کے بعد تم یہاں سے جانا کیوں چاہتے ہو؟ کیا ہمارا ساتھ نہیں دو گے۔ ” ایک فائل چیک کرتے ہو ئے انہوں نے چونک کر اُسے دیکھا ۔ ”سر پچھلے کتنے ہفتوں سے میں شدید مشکل میں تھا کہ کیا کروں؟۔ ان کی جڑیں یہاں بہت گہری ہیں۔ انہوں نے جب مجھے آفر دی تو میں نے سوچنے کے لئے وقت مانگ لیا تھا۔ تا کہ وہ مجھے تنگ نہ کر سکیں۔ ”
”بہت اچھا کیا اگر فوراً انکار کر دیتے تو وہ مشکلات پیدا کر سکتا تھا۔ لیکن میں حیران ہوں پچھلے پانچ سالوںسے کتنی دیدہ دلیری سے وہ سب کچھ کر رہا ہے اور یہاں کسی کو خبر تک نہیں۔ ”شمیم صاحب نے سر پکڑ لیا ۔ ”سر ان کے پچھلے سارے اسسٹنٹ ان کے اپنے رشتہ دار یا جاننے والے ہوتے تھے جو ان کے ساتھ مل کر یہ سب کرپشن کرتے اور جو انکار کرتا اُسے وہ نکلوا دیتے۔ میں نے بھی بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔ ظاہر سی بات ہے بات نہ ماننے کی صورت میں مجھے باہر جانا ہوگا۔” خیر یہ تو وقت بتائے گا کہ کون باہر جائے گا۔ تم فکر مت کرو۔” انہوں نے اسے تسلی دی۔
لیکن تم نے اس کی آفر کیوں قبول نہیں کی۔” شمیم صاحب نے حیرانی سے سوال کیا ۔
”سر کچھ لوگوں کو حرام لقمہ کبھی ہضم نہیں ہو تا۔ میری ماں کا سبق ہے کہ بھوک برداشت کر لو مگر حرام کی طرف دیکھنا بھی نہیں اسی لئے دل پر پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کیا ۔” وہ مسکرا کر بولے۔
”Welldone I am proud of U Kabir” خیر تم جائو اور یہ لیٹر بھی پھاڑ دو۔ ریحان صاحب سے اب میں خود نپٹ لوں گا ۔۔ انہیں میری طرف بھیجو مگر ابھی انہیں کوئی شک نہیں ہو نا چاہئے۔ یہ سارے ثبوت بورڈ میٹنگ میں سامنے آئیں گے۔” انہوں نے لیٹر کبیر کی طرف بڑھایا۔ جو ”OK سر” کہہ کہ انہوں تھام لیا وہ کمرے سے باہر نکلنے لگے تو شمیم صاحب نے انہیں دوبارہ پکارا ۔
”کبیر ”۔ ”جی سر’ ‘ انہوں نے پلٹ کر ان کی طرف دیکھا ۔ ”again thank u” شمیم صاحب نے مسکراتے ہو ئے کہا تو کبیر کا دل بڑھ گیا ۔”No problem sir its my duty” بار بار Thnak u کرکے مجھے شرمندہ مت کریں ”۔ یہ کہہ کر وہ خاموشی سے باہر نکل گئے اور شمیم صاحب سوچ میں پڑ گئے کہ دنیا میں اگر فراڈئیے ہیں تو اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں۔ لیکن واقعی ایک شریف اور اچھی تربیت کا حامل نوجوان خال خال ہی نظر آتا ہے ۔پھر کچھ سوچ کر انہوں نے خود سے ایک وعدہ کر لیا کہ اب اس نوجوان کو کسی صورت نہیں کھونا ۔
______________ x ______________ x _______________
عمر آفندی کو سعود آفندی نے کافی عرصے کے بعد ناشتے کی میز پر دیکھا۔ تو کہے بغیر نہ رہ سکے ۔ ” کہاں ہو تے ہو عمر لندن سے آئے دو دن ہو گئے لیکن آج دیدار ہو رہا ہے ۔” شکوہ ان کی زبان سے پھسل پڑا۔ تو آملیٹ کو کانٹے اور چھری سے کاٹتے ہو ئے عمر نے سر اُٹھا کر باپ کو دیکھا۔ ”السلا م علیکم بابا! بس نیندیں پوری کر رہا تھا ۔ وہاں تو آپی نے اتنا گھمایا کہ سونے کا ٹائم ہی نہیں ملتا تھا ۔ آپ کو تو پتا ہے وہاں راتیں بھی جاگتی ہیں۔ ” وہ مزے سے بولا۔ ”و علیکم السلام تمہاری راتیں تو یہاں بھی جاگتی ہیں بر خوردار۔ یہ بتائو کہ آفس کب سے جوائن کر و گے۔ ”انہوں نے مطلب کی بات پر آتے ہوئے پوچھا۔ وہ جلد از جلد اُسے آفس کے کاموں میں مصروف دیکھنا چاہتے تھے۔ اسی لئے پیپرز کے بعد اس کے کسی کام یا خواہش کو نہیں ٹالا۔ بہن کے پاس لندن جانے کی خواہش کی تو بہ خوشی مان لی۔ اب اس کے پیچھے رزلٹ بھی آگیا تھا، جو اس نے پاس کر لیا ۔۔۔۔۔۔تو اب وہ چاہتے تھے کہ اس کے دوستوں سے نجات مل جائے اور وہ آفس کی ذمہ داریاں سنبھال لے لیکن وہ اپنے پَروں پر ہاتھ ہی نہیں رکھنے دے رہا تھا ۔
”بابا ابھی تو رزلٹ آیا ہے کچھ انجوائے تو کرنے دیں پھر تو آفس ہو گا اور میں ہوں گا ۔۔۔۔۔۔۔”اس نے منہ بنایا ۔
”بیٹا جی کچھ زیادہ ہی انجوائے نہیں ہو گیا اور کتنا ٹائم لوگے۔ ” انہوں نے جو س کا گلاس منہ سے لگایا ۔
”کام تو اب مجھے ساری عمر ہی کرنا ہے بابا۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے تھوڑا سا ٹائم اور دے دیں۔” اس نے ریکویسٹ کرنا مناسب سمجھی ۔” خیر تم ہمیشہ سے اپنی من مانی کرتے آئے ہو۔ پھر میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ جب تمہاری ماں زندہ تھی تب بھی تم میری بات سننے کے بجائے اس کی سنتے تھے اور اب بھی۔ ” انہوں نے اسے ایموشنل بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔
”جب بیٹے جوان ہو جائیں تو باپ کے کاندھے بیٹوں کے سہارے کے لئے ترستے ہیں ۔ تمہاری ماں ہوتی تو تمہیں زیادہ بہتر سمجھا سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔” وہ شکستہ دلی سے بولے تو عمر کو ان پر ترس آ گیا۔
”اوہ بابا نو بلیک میلنگ پلیز try to understand me میں آتا ہوں اسی ہفتے بس اب تو خوش۔” اس نے اٹھ کر ان کے پاس جا کر ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دبائے ۔ تو وہ اس بات پر خوش ہو گئے۔
”خوش بہت خوش اچھا سنو تمہارے پیچھے عالیہ کا فون آیا تھا۔ وہ بتا رہی تھی کہ تمہارا فون، Whatsaap سب بند جا رہا ہے۔ تو میں نے بتایا کہ تم لندن گئے ہو ئے ہو۔ ٹائم ہو تو اسے فون کر لینا ۔” ”اوکے بابا کو ئی اور حکم۔ ” عمر نے تابع داری دکھائی ۔” نہیں بس یہی کافی ہے۔ تم جلدی سے آفس آجائو تا کہ میرا بھی کچھ بوجھ ہلکا ہو جائے ۔” یہ کہہ کر وہ کھڑے ہو گئے ۔ ”آپ جا رہے ہیں بابا! ناشتہ تو پو را کر لیں۔” اس نے ان کی پلیٹ میں انڈہ ویسے ہی دیکھ کر کہا۔ ”بس خواہش نہیں کچھ دن سے طبیعت کچھ گری گری سی ہے۔ شاید گرمی زیادہ پڑ رہی ہے، اس لئے کچھ کھانے کو دل نہیں چاہتا۔ خیر تم ناشتہ کرو میں دفتر جا کر کافی کے ساتھ کچھ لے لوں گا ۔” ”اوکے بابا خیال رکھئیے گا اپنا اللہ حافظ”۔ یہ کہہ کر وہ اپنی پلیٹ پر جھک گیا۔ سعود صاحب نے تھوڑی دیر اس کی طرف دیکھا اور دروازے کی سمت بڑھ گئے۔ اپنی طبیعت کا ذکر انہوں نے اس کے سامنے خاص طور پر کیا تھا لیکن اس نے کو ئی زیادہ دلچسپی نہ لی۔ بچپن سے ہی باپ کے ساتھ اس کی Bonding کچھ ایسی ہی تھی۔ بچپن میں اس کے لئے باپ کے پاس بھی تو وقت نہیں ہو تا تھا ۔ وہ اپنی رپورٹس ان کو خوشی خوشی دکھاتا اور پیرنٹس ٹیچر میٹنگ میں ان کو ساتھ لے جانا چاہتا تو وہ انکار کر دیا کرتے تھے کہ وقت نہیں۔ وہاں ماماہی اس کو پورا ٹائم دیتیں ۔ اپنی جاب کے باوجود وہ اس کا بہت خیال رکھتیں اور پھر آہستہ آہستہ وہ ان سے دور ہو تا گیا ۔ جس کا احساس انہیں اپنی بیوی اور عمر کی ماں کے مرنے کے بعد اس وقت ہو ا ۔۔۔۔۔جب تدفین والے دن انہوں نے عمر کو گلے سے لگانا چاہا تو وہ خاموشی بلکہ بہت بد دلی سے ان کے گلے لگ گیا ۔مگر رویا نہیں۔ ایک بے دلی اور بے گانگی سی تھی اس کے انداز میں ،جس کو سعود صاحب نے شدت سے محسوس کیا۔ رات کو اپنے کمرے میں ماں کی تصویر کے ساتھ لپٹ کر اس نے خوب آنسو بہائے یا نانو کے پاس جا کر پھوٹ پھوٹ کر رویا۔۔۔۔۔وہ جانتے تھے باپ بیٹے کے درمیان جو خلا آچکا ہے وہ بھرنا بہت مشکل ہے ۔ لیکن ایک کوشش تو کی جا سکتی تھی اور وہ یہ کوشش مسلسل کر رہے تھے ۔ وہ جب بھی سعود صاحب سے کو ئی خواہش کرتا وہ منع نہیں کرتے تھے۔ کچھ دنوںسے وہ محسوس کر رہے تھے کہ اس کا دل اب گھر میں کم سے کم لگتا ہے، وہ زیادہ سے زیادہ باہر رہنے کی کوشش کرتا ۔۔۔۔۔وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کس قسم کی سوسائٹی میں اُٹھ بیٹھ رہا ہے لیکن انہیں یقین تھا کہ اس کی سوسائٹی غلط نہیں ہو سکتی ۔۔۔مگر کسی کا یقین ٹوٹتے کتنا وقت لگتا یہ ان کو نہیں معلوم تھا۔۔۔
______________ x ______________ x _______________
عمر نے باپ کے آفس جاتے ہی اپنی تیاری پکڑ لی ۔ آج اس کی ایک دوست کی طرف ایک برتھ ڈے پارٹی تھی۔ جہاں پرانے یونی ورسٹی فیلوز نے ملنا تھا ۔ اسے چار بجے نکلنا تھا اور اب گیارہ بج رہے تھے ۔ استری کے لیے اپنے کپڑے ملازم کو دے کر وہ واپس کمرے میں چلا آیا۔ سوچا تھوڑی دیر نانو نے بات کر لوں کہ اچانک فون کی بیل بج اٹھی۔ نمبر عالیہ کا تھا ۔ ناچاہتے ہو ئے بھی اسے عالیہ کی کال لینی پڑی ۔۔۔” ہیلو” دوسری طرف سے عالیہ کی بے تابی سے بھر پور آواز نے اُسے کوفت میں مبتلا کر دیا۔ نہ جانے اس لڑکی کی بے تابی عمر کو کیوں اچھی نہیں لگتی تھی۔ اُسے اپنا آپ لڑکوں کے آگے پیش کرنے والی لڑکیاں کبھی پسند نہ تھیں۔ عالیہ بچپن سے ہی اسے صر ف ایک دوست جیسی لگتی تھی۔ اس سے محبت یا شادی کا کو ئی تصور اس کے پاس نہ تھا ۔
”ہیلو عمر آفندی مجھ سے کیوں بھاگ رہے ہو ”۔ دوسری طرف عالیہ کا شکوہ بھرا انداز اسے کوفت میں مبتلا کر دیا۔
”کون بھاگ رہا ہے ؟”عمر نے اس کی بات کا اسی انداز میں جواب دیا۔
”تم اور کون اسی لئے نہ تو لندن جانے کا بتایا اور نہ ہی آنے کا” ۔ ”بس یار! اچانک ہی پروگرام بن گیا نانو کو بھی نہیں بتا سکا۔ آئوں گا کسی دن وہاں سے آپی نے کافی گفٹ بھیجے ہیں۔نانو اور تمہارے لئے ” ۔اس نے جان چھڑائی ”۔اور تم کیا لائے ہو ”۔ اس نے بڑے مان سے پوچھا تو وہ چڑ گیا اور بولا: ”مجھے شاپنگ کا ٹائم نہیں مل سکا ۔اسی لیے میں کسی کے لئے کچھ نہیں لایا۔ ” اس کے سخت لہجے سے وہ ایک دم چپ سی ہو گئی ۔ ”عمر پلیز میں تم سے ملنا چاہتی ہوں ”۔ اس نے ایک بار پھر ہمت کر کے عمر کو منانا چاہا۔ لیکن وہ تو اور ناراضی سے بولا: ”سوری” میں ابھی بہت بزی ہوں انشاء اللہ جلد ملتے ہیں ”۔ عمر نے جان چھڑائی۔ ”لیکن میں تم سے مل کر سوری کرنا چاہتی ہوں۔ ” عالیہ نے بھی ہمت نہ ہاری ۔
”Sorry for what” عمر نے سمجھ کر بھی نہ سمجھنے ایکٹنگ کی ۔”عمر میں نے تم سے جانے سے پہلے جو بات کی تھی شاید مجھے نہیں کرنی چاہئے ۔” اس کے لہجے میں ہچکچاہٹ کو عمر نے بھی محسوس کیا ۔ اُسے تھوڑی شرمندگی سی بھی ہو ئی۔ یہ پاگل لڑکیاں بار بار خود بھی شرمندہ ہوتی ہیں اور ہمیں بھی کرتی ہیں ۔ٹھیک ہے اسے یہ بات اچھی نہیں لگی۔ وہ عالیہ کے لئے ایسا انہیں سوچتا تھا لیکن اسے بار بار عالیہ کے Sorry کرنے کی وجہ سے شرمندگی ہو رہی تھی ۔
”for get about it عالیہ میں بھول گیا اس بات کو۔” اس نے عالیہ کو شر مندگی سے نکالنے کی کوشش کی ۔
”لیکن میں نہیں بھولی۔ ” اس کے لہجے میں شر مندگی سی تھی۔ ”پلیز عالیہ بھولنے کی کوشش کرو۔ ” عمر نے اُسے سمجھایا ۔ ”کیاکیا بھولنے کی کوشش کروں عمر! بچپن سے لے کر اب تک میں نے صرف تمہارے بارے میں ہی سوچا ہے۔ بلکہ ہمارے بڑوں نے بھی یہی کہا کہ میں اور تم ۔۔۔۔۔۔۔۔” اس نے بات ادھوری چھوڑی۔
” دیکھو عالیہ میں ابھی ان سب چکروں میں نہیں پڑنا چاہتا ۔” اس نے عالیہ کو ایک بار پھر پٹڑی سے اترتے دیکھ کر بے زاری سے کہا ۔ ”لیکن وہ تمہاری لگاوٹ بھری باتیں ، میرا خیال رکھنا اور دن میں بار بار فون کرنا وہ سب کیا تھا۔ ”
عالیہ نے بھی آج ہی ہر بات کلیئر کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ ”ایسا سب کچھ تو میں اپنے دوستوں کے ساتھ بھی کر تاتھا ۔”
”Male friends اور Female friends میں بہت فرق ہو تا ہے عمر۔ ” ” میں تواپنی کلاس فیلوز کا بھی اتنا ہی خیال رکھتا ہوں تو کیا سب سے شادی کر لوں ۔” عمر نے سختی سے کہا ۔تو عالیہ کے دل کو کسی نے اپنی مُٹھی میں لے لیا ۔ ”دیکھو یار میرے پاس ابھی ایسی باتوں کا وقت نہیں ہے ۔لائف ابھی شروع ہو ئی ہے۔ میں اسے اتنی جلدی ختم نہیں کرنا چاہتا۔ اپنی زندگی جینا چاہتا ہوں۔ خوامخواہ کے بندھن میں بندھنا میرے بس کی بات نہیں ۔” عمر کا سخت لہجہ اس کے دل پر برچھیاں چلا گیا۔ ”اوکے عمر لیکن ملو تو صحیح ورنہ میں سمجھوں گی کہ تم ناراض ہو۔ ” عالیہ نے بات ختم کرنا ہی مناسب سمجھا۔ ”جلد ملتے ہیں یارمیرے پاس تمہارے گفٹ امانت ہیں۔ ابھی تو میں اپنی کلاس فیلو کی ایک پارٹی میں جا رہا ہوں۔ انشاء اللہ ایک دو دن میں ملنے کا پروگرام بناتے ہیں۔ نانو کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ میں جلد آئوں گا بائے۔ ” اس نے بات ختم کر کے فون آف کیا اور بیڈ پر اچھال دیا ۔ خود تھوڑی دیر آرام کرنے کے خیال سے بیڈ پر ڈھیر ہو گیا۔
یہ بے وقوف لڑکیاں زندگی کو صرف شادی تک محدود سمجھتی ہیں۔ کو ئی پاگل ہی ہو گا جو ایک لڑکی تک زندگی محدود کر کے بیٹھ جائے ۔ بے شک اس نے عالیہ سے بھی کئی بار فلرٹ کیا اور وہ اسے اپنی زندگی سمجھنے لگی۔ جب اس نے شادی اور محبت کی بات کی تو عمر نے اس سے جان بچانے میں ہی عافیت سمجھی ۔ آج بھی وہ اپنی ایک کلاس فیلو کی برتھ ڈے پارٹی میں جا رہا تھا، جہاں سارے یو نی ورسٹی فیلوز نے مل کر ہلہ گلہ کرنا تھا۔ عمر نے کچھ دیر بعد ٹائم دیکھا اور فریش ہونے کے لئے واش روم میں گھس گیا ۔ تیار ہو کرآیا تو آئینے کے سامنے اپنے بھر پور ورزشی جسم کو دیکھ کر اسے خود پر رشک آگیا۔ لڑکیاں یونہی تو اس پر نہیں مرتی تھیں۔ خوبصورت چھے فٹ ہائیٹ اور ورزشی جسم کے ساتھ گورا رنگ اور برائون بال۔ وہ لڑکیوں کی دل کی دھڑکنیں خراب کرنے کا باعث بنتا تھا۔ اس وقت بھی اس نے بلیک شرٹ کے ساتھ بلیو ٹرائوزر پہنا اوربالوں میں جیل لگا کر ایک سٹائلش لک دیا ۔ ہاف آستینوں کو مزید اوپر کی طرف موڑ کر اپنے ورزشی بازئووں کو نمایاں کیا ۔ اور خود پر پرفیوم سپرے کر کے باہر نکل آیا ۔ اُسے ابھی راستے سے اپنی کلاس فیلو روحا کے لئے کیک اور پھول بھی لینے تھے ۔ روحا کے لیے گفٹ وہ لندن سے لایا تھا ۔ روحا آج کل اس کے لئے ”خاص” تھی ۔ جب وہ پارٹی میں پہنچا تو سب اس کا ہی انتظار کر رہے تھے ۔ ”اوئے ہوئے میرے Rayan Gosling کیا بات ہے تیری۔” احمد کو پتا تھا کہ بالی وڈ ایکٹر ریان گوسلنگ سے عمر کی بہت مشابہت تھی۔ اسی لئے وہ اور یونی ورسٹی کے اکثر دوست اسے ریان کے نام سے بلاتے تو وہ خو ش ہو تا ۔ ”روحاکہاں ہے۔ ” اس نے احمدسے پوچھا۔ ”وہ بس آنے ہی والی ہے۔ تم سُنائو تمہارا لندن کا Tour کیسا رہا ۔” احمدنے اسے فریش دیکھ کر رشک سے پوچھا۔ یونی ورسٹی کے زمانے سے ہی عمر اپنی ڈائٹ اور صحت کا بہت خیال رکھتا اور ڈریسنگ تو وہ کرتا ہی کمال تھا ۔ اسی لئے شاید ہی کو ئی لڑکی ا س سے بچ پاتی۔ عمر کی ایک نظر ہی کسی بھی لڑکی کو اپنا بنانے کے لئے کافی ہوتی۔ وہ سمجھتی کہ شاید اتنا خوبصورت اورہینڈ سم مجھ پر فدا ہو گیا ہے ۔ لیکن اسے کیا پتا کہ یہ ہینڈسم تو ایسا ہر خوب صورت لڑکی کے ساتھ کرتا اور پھر بھول جاتا ہے ۔ روحا آج خاص طور پر عمر کے لئے تیار ہو کر آئی تھی ۔ بلیک لانگ میکسی میں وہ بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی ۔ ساتھ ہی اس نے پرل کی ہلکی سی جیولری پہنی ہو ئی تھی ۔وہ یونی ورسٹی کے زمانے سے ہی عمر کو پسند کرتی تھی لیکن عمر نے کبھی اسے زیادہ لفٹ ہی نہ کروا ئی۔ حالانکہ وہ ایک بڑے باپ کی بیٹی تھی اور عمر کو اس کی آنکھوں میں اپنے لئے پسند یدگی نظر آتی تھی۔ چالباز تو وہ ہمیشہ سے تھا۔ اس کا خیال تھا کہ مرد جتنا عورت کو نظر انداز کرتا ہے۔ اتنا ہی عورت کے دل میں اس کے لئے چاہت اور شدت بڑھ جاتی ہے۔ اپنے من چاہے مرد کے دل میں اپنے لئے محبت کے پھول کھلتے دیکھنا ہر عورت کی خواہش ہو تی ہے۔ شاید وہ اس کے لئے ہر حد پر جانے کے لئے تیار ہو جاتی ہے ۔ اتنے سالوں جس چڑیا کو اس نے اپنے جال میں پھانسے رکھا، آج وہ اپنے صیاد کی شدید محبت میں گرفتار تھی۔ عمر سے ملتے ہوئے روحاکے والہانہ انداز کو پارٹی میں موجود عمر کا ہر دوست عمر کے ساتھ محسوس کر رہا تھا ۔ احمد نے تو اسے ”بے چاری” تک کہہ دیا ۔۔۔ ”یار اب اس بے چاری کو تھوڑا سا دانا ڈال دے ”۔ ”دانا کھا کر پرندہ اُڑ جاتا ہے اور میں ابھی پرندے کو قید رکھنا چاہتا ہوں ۔” عمر نے سفا کی اور مکّاری سے جواب دیا ۔ ” یار تو تو بڑا ہی سخت دل ہے اتنی محبت کو ئی مجھ پر لٹا رہا ہوتا تو میں کب کا اس سے شادی کر چکا ہو تا۔ ” احمد نے ترس کھانے والے انداز میں کوک پیتی دور کھڑی روحا کو دیکھا جو ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی ۔ پھر کیک کٹنے کا شور اٹھا۔ روحا اسے اشارے سے میز کے پاس ہی بلا رہی تھی۔ کیک کاٹ کر پہلا پیس اس نے عمر کے منہ میں رکھا تو ہر طرف شور بلند ہو گیا۔ سیٹیاں بجنے لگیں۔عمر کو خفت سی محسوس ہوئی لیکن روحا کا چہرہ سُرخ ہو گیا ۔۔۔۔ کھانے کے بعد وہ روحا کے اصرار پر اُسے گھر تک چھوڑنے آیا۔ راستے میں ہی ایک جگہ رُک کر اس نے روحا کا تحفہ دیا۔ جو بڑے شوق سے روحا نے وہیں کھول لیا، اور بہت پسند کیا۔ ”تمہیں کیسے پتا کہ مجھے پرفیوم پسند ہیں۔ ” وہ لہک کر بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”جس لڑکی کے محفل میں آتے ہی خوشبو کی بہار آجائے یقیناً وہ خوشبو کو اتنا ہی پسند کرتی ہو گی۔ ” اس نے بھی اسی انداز میں جواب دیا ۔
”Very smart” یہ کہتے ہو ئے اس نے پرفیوم پہلے خود پر اور پھر کار میں سپرے کیا تو ایک حسین سی مہک سے پوری کار مہک گئی ۔ ”عمر یہ بتائو آگے کیا ارادہ ہے۔ ” ”مطلب ۔” عمر نے حیرانی سے پوچھا۔
”مطلب یہ کہ رزلٹ بھی آگیا۔ تم اپنی چھٹیاں بھی گزار آئے۔ اب آگے کیا کرو گے؟’ ‘ وہ جو پوچھنا چاہتی تھی عمر سمجھ رہا تھا۔۔ ”اب بابا کے ساتھ آفس جائوں گا ۔” وہ اب بھی ہار نہیں مانی تھی ۔ ”پھر۔” ” پھر کیا ؟” عمر نے بنتے ہو ئے سوال کیا ۔ ”مطلب تم نے شادی وغیرہ کے بارے میں کیا سوچا ہے۔ ” ”Not at all ابھی تو میں اپنی لائف بنائوں گا۔ انجوائے کروں گا پھر کچھ سوچوں گا۔’ ‘ اس نے بھی کورا جواب دیا ۔
” لیکن پاپا تو مجھے دوسرے گھر بھیجنے کے چکر میں ہیں۔ ” اب کہ وہ بے دھڑک بولی۔ وہ دودھ اور پانی کو الگ کرنا چاہتی تھی۔ ”تو مان لو ان کی بات۔ ” اس نے بھی اسی انداز میں جواب دیا ۔ ”کیا مطلب ؟” روحا کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ اُسے عمر سے اس کورے جواب کی توقع نہ تھی۔ ”مطلب یہ کہ کر لو شادی ۔” ”دیکھو روحا ‘to be frank’ میں ابھی شادی کے بالکل موڈ میں نہیں ہو ں۔ تو تمہارے بابا جہاں کہتے ہیں تم شادی کر لو۔” وہ سفا کی سے بولا۔ ”یہ تم کہہ رہے ہو عمر۔” وہ ہکا بکا رہ گئی۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ آج اس کی سالگرہ پر عمر اسے ضرور پرپوز کرے گا۔ لیکن آج تو اس نے بالکل ہی نامراد کر دیا۔ ایک لمحے کے لئے روحا کے حلق سے کو ئی آواز ہی نہ نکلی۔ وہ بالکل ساکت تھی ۔۔۔۔ کار میں کافی دیر تک خاموش رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”عمر پلیز مجھے گھر چھوڑ دو۔ ”۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ الفاظ روحا کی حلق سے سر سرا تے ہو ئے نکلے تو عمر نے چونک کر اس کو دیکھا۔ اس کا چہرہ بالکل سفید پڑا ہو ا تھا ۔ وہ ساری کہانی سمجھ چکی تھی ۔ بے وقوف بننا اتنا آسان تو نہیں ہو تا پھر بھی ہم لڑکیاں اتنی آسانی سے بے وقوف کیوں بن جاتی ہیں؟ کسی مرد کے چند لفظ اور آنکھوں کی نہ سمجھ میں آنے والی زبان ہمارے لئے مکمل جہاں کیسے بن جاتی ہے؟ کیوں ایسے راستوں پر چل پڑتی ہیں جس کے مسافر کا پتا نہ منزل کا۔ جانتے بوجھتے اپنے لئے سراب کا انتخاب کیوں کر لیتی ہیں ۔ وہ اس وقت اسی شش و پنج میں مبتلا تھی۔۔۔۔ و ہ اس کی بات کو مکمل طور پر سمجھ چکی تھی اور اب اس سے کوئی بحث نہیں کر نا چاہتی تھی۔ جس کلاس سے اس کا تعلق تھا۔ وہاں خود کو مضبوط ظاہر کرنا بچپن سے سکھایا جاتا تھا اور اس نے بھی ایسا ہی ظاہر کیا کہ اسے کو ئی فرق نہیں پڑا۔۔۔۔چلتے چلتے گھر آگیا اور وہ اُتر گئی ۔۔۔۔ عمر نے کھڑکی سے اسے پرفیوم دینے کی کوشش کی، جو وہ کار کی سیٹ پر ہی چھوڑ چکی تھی ۔ ۔۔ لیکن اس نے عمر کے بڑھے ہو ئے ہاتھ کو نظر انداز کر کے دروازے کی طرف قدم بڑھا دئیے۔۔۔ وہ اب اس کی کسی یاد کو اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتی تھی ۔ عمر نے شکر ادا کیا کہ یونی ورسٹی کا یہ قصّہ بنا کسی جھگڑے کے ختم ہو گیا ۔۔۔ یعنی اب میں مکمل آزاد ہوں ۔۔۔ ۔ اس کی دوستیاں صرف وقت گذاری کے لئے ہوتی تھیں۔ عمر بھر کا ساتھ نبھانے کے لئے وہ شادی کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کے خیال میں شادی کر کے گلے میں گھنٹی کون باندھے۔ جب تک غیر شادی شدہ زندگی کے مزے لوٹ سکتے ہیں لوٹ لو ۔ اب کیا کیا جائے بے چاری لڑکیاں خوامخواہ سیریس ہو جاتی ہیں اس طرح تو ہر دوسری لڑکی سے شادی نہیں کی جا سکتی۔ یہی سوچتے ہوئے اس نے کار آگے بڑھادی۔
_____________ x ____________ x _____________
عالیہ آج بہت اداس تھی۔ کالج میں بھی اس کا دل نہیں لگ رہا تھا۔ چند دن کے بعد کالج بند ہو جائیں گے پھر امتحان۔ اس کے بعد کیا؟؟؟۔۔ یہ ایک سوال تھا ۔ آگے پڑھنے کے بارے میں اس نے سوچا نہیں تھا۔ فلمز، شاپنگ اور اسی طرح کی دوسری سرگرمیاں شر وع سے ہی اس کو محبوب رہیں۔ ماں نے کسی نہ کسی طرح کالج تک پہنچا دیا تھا ۔ لیکن اب اس کی بس ہو گئی تھی۔ وہ تو ہمہ وقت عمر کے ساتھ کا خواب دیکھتی تھی۔ اُسے معلوم تھا کہ ایک نہ ایک دن اس کی شادی عمر سے ہو جائے گی لیکن کل کی گفتگو کے بعد اس کو احساس ہو ا کہ یہ بات اتنی آسان بھی نہیں جتنا وہ سمجھ رہی ہے ۔اُسے معلوم تھا کہ عمر دل پھینک ہے۔ ہر دوسری خوبصورت لڑکی سے فلرٹ اس کی فطرت میں شامل ہے۔ لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ ایک تو یہ عمر اور اوپر سے اتنا خوبصورت بندہ اتنا حق تو بنتا ہے۔ پھر بھی عمر سے شادی اُسے ایک کوہ گراں نظر آرہی تھی ۔
عمر نے تو ذرا بھی مروت نہیں دکھائی اسے انکار کرنے میں۔ لیکن عمر! تم صرف میرے ہو میں تمہیں کسی اور کا کسی صورت نہیں ہونے دوں گی۔ یہ میں خود سے وعدہ کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔ بچپن سے میں تمہارے خواب دیکھ رہی ہوں۔ کس طرح ان خوابوں کو چکنا چو ر ہونے دوں ۔۔۔۔۔ میں تمہیں ہر حال میں پا کر ہی رہوں گی ۔ اور تم دیکھنا ایک دن تم میرے غلام بن جائو گے۔ میری محبتوں کے غلام ۔ اتنی آسانی سے میں اپنی چیزیں نہیں چھوڑتی ۔۔۔۔۔ اور تم تو میر ی سب سے پسندیدہ شے ہو ۔ ۔۔۔۔۔وہ گرائونڈ میں لگے بیری کے درخت کو گھورتے ہو ئے نجانے کب سے یہ سب کچھ سوچے جا رہی تھی۔ اُسے سامعہ کے آنے اور پاس بیٹھنے کا بھی پتا نہ چلا ۔۔۔۔۔ پتا تب چلا جب سامعہ نے عالیہ کی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرایا ۔
”ارے کہاں گُم ہو لڑکی۔’ ‘ تو عالیہ چونک اٹھی۔ ”تم کب آئیں۔” ”جب تم اس سالوں پرانے بیری کے درخت کے سارے پتے گن رہی تھیں۔ ویسے کتنے ہیں ؟” ۔ ”کیا کتنے ہیں ؟” ”بیری کے پتے ” تو عالیہ مُسکر ا دی۔ اسے سامعہ کی یہی عادت بہت پسند تھی۔ کیسا بھی موڈ ہو اپنی گفتگو سے دوسرے کا موڈ ٹھیک کر دیتی تھی ۔ ایک لمحے کو عالیہ نے سوچا کہ اپنی اُداسی میں سامعہ کو شراکت دار بنائے لیکن پھر ٹھہر گئی۔ کیا بتائے گی اس کو کہ ایک شخص نے اُسے refuse کیا ہے۔ عالیہ حیدر کو جو بچپن سے جو چیز چاہتی تھی، پا لیتی تھی۔ اُسے انکار سننے کی عادت ہی نہ تھی اور اب جب زندگی کے سب سے بڑے فیصلے میں انکار ہو ا۔ تو اب تک اُسے یقین ہی نہیں آرہا تھا ۔ وہ بتاتے بتاتے رُک گئی ۔۔۔۔۔ ”آ کچھ نہیں یار بس کالج چھوڑنے کا سوچ کر ہی عجیب سی feelings ہو رہی ہیں۔ چار سال ہم نے یہاں بہت enjoy کیا ہے۔ ” وہ اپنے دل کی حالت چھپا گئی ۔۔۔۔۔ ”ہاں کہہ تو ٹھیک رہی ہو ۔۔۔۔۔۔ مگر میرا خوف تو کچھ اور ہی ہے۔ ” ”وہ کِیا؟” ”یہی کہ اب ابا جی کی نظروں میں کانٹے کی طرح کھٹکوں گی اور پھر انہوں نے کسی” للّو پنجو” سے میرا نکاح کر دینا ہے۔” وہ منہ بناتے ہو ئے بولی ۔ ”للّلو پنجو!یہ کیا ہو تا ہے۔ ” عالیہ نے حیرانی سے پوچھا ۔ ” ایک ایسا شخص جو آپ کے قابل نہ ہو۔۔۔۔ لیکن آپ کے متھے پڑ جائے۔ ” اس نے اپنی ڈکشنری خود ہی بنائی ہو ئی تھی ۔ ۔۔۔۔۔
عالیہ کی ہنسی چھوٹ گئی ۔۔۔۔ ”تم ہنس رہی ہو اور مجھے جیسے جیسے کالج بند ہو نے کا خیال آتا ہے، میرے آنسو نکل پڑتے ہیں”۔ ”اچھا چھوڑوساری باتیں یہ بتائو آج تمہیں ٹائم کیسے مل گیا۔ وہ تمہاری یار غار کہاں ہے۔ ” عالیہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔ ”آج اس نے اپنی امی کو ڈاکٹر پر لے کر جانا تھا۔ دو پیریڈز کے بعد ہی چلی گئی۔ ” ”جب ہی تمہیں میرے پاس آنے کا موقع مل گیا ۔ ” عالیہ نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا ۔ ”ویسے یار! تمہاری وہ کزن ہے بہت تیز تمہاری ہر بات پر یوں نظر رکھتی ہے۔ جیسے تمہاری اماں ہو۔ مجھ سے تو جیسے اسے خدا واسطے کا بیر ہے۔ ” ”ارے نہیں نہیں ایسی کو ئی بات نہیں بس وہ چاہتی ہے کہ سب اس کی طرح پڑھا کو ہوں ۔ یہ گھومنا پھرنا عیاشیاں کرنا سب بعد کی باتیں ہیں۔ ”بعد میں کب بڑھاپے میں یہی تو کھیلنے کودنے کے دن ہیں۔ اُس دن بھی میں تمہیں اپنی دوست کے گھر پارٹی میں لے جا رہی تھی تو محترمہ نے آگے سے منع کر دیا اور تم بھی اس کی ہی مانتی ہو۔ ” عالیہ نے منہ بنایا۔
”ارے ایسی کوئی بات نہیں بس ڈرتی ہوں اماں سے شکایت نہ کر دے تو کالج آنا ہی بند ہو جائے گا۔ ” سامعہ نے تاویل دی تو عالیہ خاموش ہو گئی۔ وہ بھی اس کے گھر کے حالات کے بارے میں اچھی طرح جانتی تھی ۔۔۔۔۔ اسی لئے کچھ نہ بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔” اچھا یہ بتائو فیئر ویل میںپارٹ لے رہی ہو۔ میں نے مس صبا کو انار کلی کے رول کے لئے تمہارا نام دیا ہے۔ ” عالیہ نے اس کے سرپر بم پھوڑا ۔۔ ”ارے نہیں یار گھر سے کبھی پر میشن نہیں ملے گی ۔” تو گھر والوں کو بتانے کی کیا ضرورت ہے؟ ”۔ ”پتا چل جاتا ہے یار میں کوشش کرتی ہوں کہ اماں ابّا سے کو ئی بات نہ چھپائوں!” وہ ہاتھ مسلتے ہو ئے یوں بولی جیسے یہ اس کی کو ئی کمزوری ہو۔ ”ہاں تو پھر بھگتتی رہو ان کی ڈانٹ لیکن سچ بتائوںاس پورے کالج میں تم سے زیادہ اس رول کے لائق کو ئی نہیں۔ اتنی خوبصورت آنکھیں، حسین ہاتھ ، لمبا قد اور خاص طور پر گالوں پر پڑتے یہ ڈمپل۔ اگر میرا کوئی بھائی ہو تا تو یقین کرو میں اب تک تمہیں اپنے بھائی کے نام کی انگوٹھی پہنا چکی ہو تی۔ ” یہ سچ تھا سامعہ تھی بھی اتنی خوبصورت اور عالیہ کو اس کی جانب سامعہ کی خوبصورتی نے ہی کھینچاتھا۔ ورنہ ایک مڈل کلاس لڑکی میں اُسے کیا دلچسپی۔ وہ بہت زیادہ حسن پرست تھی۔ خود بھی اچھی صورت تھی لیکن سامعہ تو حسین تھی اور سامعہ کو اپنے حسن کا احساس بھی تھا اور اب یہ احساس کئی گنا بڑھ چکا تھا ۔ عالیہ کی باتوں کے بعد اسے اماں ابا سے بات کرنے کی ہمت پڑی ۔ کیوں کہ اگر وہ پارٹ لیتی تو اسے اس کے لیے کاسٹیوم تو لینا پڑتا۔ جیولری کھسّہ ان سب کے لئے تو اسے اماں ابا سے پیسے لینے پڑتے۔ یہی سوچ کر اس نے شام کو اماں سے بات کرنے کا ارادہ کر لیا ۔
______________ x ______________ x _______________
اماں اس وقت کھانا پکا کر فارغ ہو ئی تھیں اور صحن میں بیٹھی پسینہ سکھا رہی تھیں۔پسینہ سکھاتے ہوئے ہوا بالکل بند تھی۔۔
رسّی پر صبح کے دھوئے کپڑے یونہی پڑے تھے ۔ انہوں نے سامعہ کو آواز دی کہ آ کر کپڑے اتارے اور تہہ لگائے ۔۔ سامعہ جو اس وقت FM100 کے کسی پروگرام میں محو تھی۔ اچانک ان کی آواز پر باہر آگئی کیوں کہ اس سے اچھا موقع اسے پھر نہیں مل سکتا تھا۔ رسی سے کپڑے اتار کر ۔۔۔۔ وہیں اماں کے پاس بیٹھ گئی ۔
”اماں ایک بات کرنا تھی۔ ” اس نے ڈرتے ڈرتے کہا ۔
”ہاں بولو ” ان کے ہاتھ میں جھلنے والا پنکھا تھا جو وہ ہوا بند ہونے کی وجہ سے جَھل رہی تھیں ۔ ”اماں کالج ختم ہونے کو ہے تو فیئر ویل پارٹی ہو رہی ہے ۔” وہ بولتے بولتے رُک گئی ۔ ”ہاں تو چلی جانا لیکن دیکھو ابا کو خبر نہ ہو۔ ” وہ سمجھاتے ہو ئے بولیں۔ ”وہ تو ٹھیک ہے اماں لیکن کالج میں انارکلی کا ایک پلے ہو رہا ہے۔ تو مس نے انار کلی بننے کو کہا ہے۔ ” ”صاف منع کر دو اپنے ابا جی کو نہیں جانتیں کتنا ناراض ہوں گے ۔ ” انہوں نے پنکھا جھلاتے اپنا ہاتھ روکا۔ ”اماں میں ایسا کون سا گناہ کر رہی ہوں ایک کردار ہی تو ہے اور ساری لڑکیاں ہی تو ہوں گی ۔ ” ”لیکن تمہارے ابا جی نہیں مانیں گے یا تو ان کو کچھ مت بتائو۔” اماں نے اس کی شدید خواہش دیکھ کر مشورہ دیا ۔ وہ اکثر اپنی اولاد کی خوشی کو اپنی خوشی کی طرح محسوس کرتی تھیں ۔ ”لیکن اماں اس کے لئے مجھے کپڑے جوتے اور جیولری بھی چاہئے ہو گی۔ ” وہ خوش تو ہو گئی اماں کی اجازت سے لیکن پھر یہ سب سوچ کر اس کا منہ بن گیا ۔ ”یہ سب کچھ کتنے کا آئے گا ” ناہید بیگم نے اس سے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”کم از کم پانچ ہزار تو چاہئیے ہوں گے۔ ” پانچ ہزار ” ناہید بیگم خاموش ہو گئیں۔ مہینے کے آخر میںاتنے پیسے کہاں سے آئیں گے۔ وہ سوچ میں پڑ گئیں ۔ ”اچھا دیکھتی ہوں تمہارے ابا سے تو مانگ نہیں سکتی کسی او ر سے مانگتی ہوں۔” وہ اپنی اولاد کی خوشی کے لئے ہر حد پر جانے والی ماں تھیں ۔ وہ سمجھ گئی کہ اب اماں کچھ نہ کچھ انتظام کر لیں گی مگر کہاں سے اور کیسے ؟ یہ سوچ کر اُسے بھی ماں پر ترس آگیا ۔ ”رہنے دیں اماں کسی سے مانگئے گا مت اگر آسانی سے ہو جائیں تو ٹھیک ہے۔ آپ فکر مت کریں چھوڑیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کل مس کو منع کر دوں گی۔ ” اس کے دل میں کچھ ہو ا ۔۔۔۔۔۔اور وہ تہہ کئے ہو ئے کپڑے اُٹھا کر وہاں سے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔ دوسرے دن پورے کالج میں اس کے انکار کی خبر پھیل چکی تھی۔ سب اُسے سمجھانے آ رہے تھے ۔خاص طور پر ثنا ناخوش تھی۔ ”یار پلے میں حصّہ لینے سے انکار کیوں کر رہی ہوں ؟ اتنا اچھا موقع ہے اپنی صلاحتیں دکھانے کا اور پھر کردار بھی تو تمہاری پسند کا ہے۔ ” اس نے خاموش بیٹھی سامعہ کو ہلایا ۔ ”انار کلی صاحبہ ! اگر یہ کردار مس صبا مجھے دیتیں تو کبھی انکار نہ کر تی ۔”
” ہاں تم کر سکتی تھیں مگر میں انار کلی کا ڈریسں، جیولری اور دیگر چیزیں کہاں سے لائوں ۔ ایسی خواہش پوری کرنے کا کیا فائدہ جس کے لئے آپ کی ماں کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑیں۔ ”اس کے لہجے میں تلخی ثنا کے دل میں کُھب کر رہ گئی۔ بچپن سے اب تک ان دونوں نے اپنا ہر دکھ سُکھ ایک دوسرے سے شیئر کیا تھا ۔ اور اب بھی سامعہ نے اس کو اپنا دل کھول کر دکھا دیا ۔ ”بس اتنی سی بات کے لئے تو انکار کر رہی ہے۔ ” ثنا نے آنکھیں نکالیں۔ ”یہ اتنی سی بات نہیں ہے نہ میرے پاس ڈریس ہے۔ نہ جیولری اور نہ کُھسا۔ ا ب ان سادا سے کپڑوں میں تو میں انار کلی نہیں بن سکتی ۔ ” سامعہ نے تلخ لہجے میں اور کڑوے تیوروں کے ساتھ اُسے دیکھا ۔ ”تم میرے ساتھ گھر چلو میں یہ مسئلہ ابھی حل کر دیتی ہوں۔ ” اس نے کھڑے ہوتے ہو ئے اس کا ہاتھ بھی پکڑ کر کھینچا ۔۔۔۔۔ ”مگر ” وہ ہچکچائی ” اگر مگر چھوڑو ۔۔۔۔۔۔۔ساتھ چلو سیدھے طریقے سے کلاسز تو ساری آف ہو چکی ہیں۔ ” وہ اسے تقریباً کھینچتی ہو ئی دروازے تک لائی ۔ آدھے گھنٹے کے بعد وہ اس کی الماری کے پاس کھڑی تھی ۔ ثنا نے وارڈروب سے اپنی نئی سبز پشواز نکال کر اسے تھمائی۔ ”یہ لو ٹرائی کرو یقیناً فٹ آئے گی۔ ” ” اففف میر ے خدا کتنا خوبصورت سوٹ ہے کب لیا ؟ ” وہ حیرانی سے آنکھیں پھاڑتے ہو ئے بولی۔۔۔۔۔۔ ”چند دن ہی ہو ئے ہیں۔ بھائی نے دلایا ہے۔ ابھی پہنا بھی نہیں تم پہنو گی تو مجھے خوشی ہو گی ۔ ” اس نے سامعہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے کہا تو سامعہ اس سے لپٹ گئی۔
”تھینک یو یار تم نے میرا بہت بڑا مسلہ حل کر دیا۔” چٹاچٹ ثنا کے گال پر پیار کیا۔ ”اچھا یہ مسکہ بازی چھوڑو اور سامنے واش روم ہے ٹرائی کرو۔ میں تمہارے لیے جوس لے کر آتی ہوں۔ چائے کا پانی بھی رکھ دوں۔ بھائی بھی آنے والے ہوں گے۔” ثنا نے اُسے واش روم کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا۔ تو وہ مُسکرا کر واش روم کی طرف بڑھ گئی۔ پہن کر آئی اور آئینے میں دیکھا تو خود ہی شرما کر رہ گئی۔ جسم پر لباس اس طرح فٹ تھا۔ جیسے اس کے لیے ہی بنایا گیا ہو۔ اس نے ہر ہر طرح سے گھوم کر اپنا جائزہ لیا۔ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ اسی وقت کبیر علی ہاتھ میں کتابوں کا بنڈل اٹھائے کمرے میں آگئے۔
”ثنا ساری بکس مل گئیں ہیں ایک رہ گئی ہے۔ وہ بھی کل تک مل جائے گی۔” اس وقت تک ان کی نظر اس پر نہیں پڑی تھی۔ ”السلام علیکم کبیر بھائی ثنا تو کچن میں ہے۔” اس نے جلدی سے کرسی پر پڑا دوپٹہ اُٹھا کر کندھے پر ڈالا۔ تو کبیر علی کی نظریں اس پر جیسے ٹک سی گئیں۔ انہیں حساس تک نہ ہوا کہ وہ کتنی دیر تک یونہی اسے بے دھیانی سے تکتے رہے۔ وہ بالکل یقین نہیں کر پا رہے تھے کہ اس واقت ان کے سامنے سامعہ ہے۔ سامعہ جس کے ساتھ کے کئی خواب انہوں نے چپکے چپکے دیکھے تھے۔ لیکن اسے کبھی خبر بھی نہ ہونے دی۔ کیوں کہ وہ چاہتے تھے کہ جب وہ کچھ بن کر کسی قابل ہو جائیں تو اماں سے بات کریں اور شاید سامعہ کو پانے کی بھی ایک خواہش ایسی تھی جس نے انہیں شدید محنت پر تیار کیا۔ ”کبیر بھائی ثنا کچن میں ہے۔ ” ثنا ان کی بے خودی پر تھوڑا کسمسائی۔ کیوں کہ آج تک انہوں نے کبھی اس انداز میں اُسے نہیں دیکھا تھا۔” اوہو سوری! مجھے معلوم نہیں تھا کہ تم کمرے میں ہو ورنہ دروازہ ناک کر کے آتا۔” وہ اپنی اس حالت پر شرمندہ سے ہوئے۔ ”کوئی بات نہیں its ok ” اس نے بھی ان کی شرمندگی کو کم کرنا چاہا۔ اسی وقت ثنا ہاتھ میں جوسز کی ٹرے لے کر داخل ہوئی اور کبیر علی کو وہاں دیکھ کر بولی: ”ارے بھائی آپ کب آئے۔” بالکل ابھی ابھی۔ میں سمجھا کر تم کمرے میں ہو گی تو سیدھا یہاں چلا آیا۔ یہ لو تمہاری ساری بکس مل گئیں بس یہ ایک رہ گئی کل مل جائے گی۔” انہوں نے بکس کے ساتھ کتابوں کی پرچی بڑھاتے ہوئے بتایا۔ ”تھینکس بھائی اوہو تم کتنی پیاری لگ رہی ہو۔” اب اس نے سامعہ کی طرف دیکھا۔ ”بھائی سامعہ ایک پلے میں انارکلی کا پارٹ کر رہی ہے۔ ” ”گڈ ” ویسے اسے انارکلی بننے کی کیا ضرورت یہ تو بنی بنائی انارکلی ہے۔ ” آخری جملہ وہ منہ ہی منہ میں بڑ بڑا ئے ۔ ”بھائی کچھ کہا آپ نے ” ثنا ء نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں پوچھا ۔ تو وہ گڑ بڑا گئے ”نہیں یا ر میں تو کہہ رہا تھا کہ چائے تیا رہے تو لگا دو ٹیبل پر، میں ذرا اماں کو بھی سلام کر لوں ” ”بس پانچ منٹ دیں میں نے رول بھی فرائی کئے ہیں۔ سامعہ تم بھی Change کر کے آجا ئو اس کے ساتھ کی جیولری اورکُھسہ میں تمہیں چلتے ہو ئے پیک کردوں گی۔ ” یہ کہہ کر وہ وہاں سے نکل گئی اور سامعہ اٹیچ باتھ میں گھس گئی ۔
چائے پیتے اور باتیں کر تے کافی ٹائم ہو گیا تھا۔ سامعہ کو گھبراہٹ ہو نے لگی۔ تو اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ثنا کو اشارہ کیا کہ اب اجاز ت دو ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
”اچھا خالہ جان میں چلتی ہوں۔ شام ہو چکی ہے اماں انتظار کر رہی ہوں گی۔ ” ” تم فکر نہ کرو میں نے خالہ جان کو فون کر کے بتا دیا تھا کہ تم میرے ساتھ ہو اور ابھی بھائی تمہیں چھوڑ بھی آئیں گے۔ وہ مطمئن ہو گئی ہیں ۔ ” ثنا ء نے اسے اطمینان دلایا۔ ”اگر آج تم میرے پاس رُک جاتیں تو مجھے بہت اچھا لگتا۔ ” انہیں اپنی بھانجی دل سے عزیز تھی بالکل ناہید بیگم کی طرح خوبصورت اور حسین ۔ ان کی دلی خواہش تھی اسے بہو بنانے کی ۔ لیکن وہ انتظار میں تھیں کہ کب کبیر کی ترقی ہو اور وہ بہن اور بہنوئی کے آگے دوپٹہ دراز کریں ۔
”خالہ جان ابّا دوسرے شہر گئے ہیں اور اماں بالکل اکیلی ہیں۔ ظفر کا تو آپ کو پتا ہے گھر میں کم ہی رہتا ہے ”۔ ا س نے نہ رکنے کی توجیہہ پیش کی ۔ ”اچھا چلو یہ بات ہے تو میں نہیں روکوں گی۔ لیکن اباجان آجائیںتو پھر اماں کو لے کر ضرور آنا۔ ناہید سے ملے ہوئے کافی دن ہو گئے ۔ ” انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پریشانی پر بوسہ لیا ۔
”جی ضرور خالہ جان وہ خود بھی آنا چاہ رہی تھیں۔ آپ کو تو پتا ہے ابا جی زیادہ نکلنا پسند نہیں کرتے۔ ” اس نے عذر پیش کیا۔ ”ہاں سب جانتی ہوں میری یہ بہن اتنی ملنسار سب سے مل جل کر رہنے والی تھی ۔۔ اس شادی نے تو اس کی مسکراہٹ ہی غائب کر دی ۔ کتنے سالوں سے بڑے بھائی صاحب سے نہیں مل پائی وہ کہ تمہارے ابا نہیں چاہتے ۔ ” انہیں اپنی بہن اور بھائی میں جدائی کا بہت قلق تھا۔ حالاںکہ بڑے بھائی تو اس سے بھی کم ہی ملتے تھے۔ اربوں کی جائیداد کے مالک لیکن دل کے غریب بہنوں سے انہیں کو ئی انسیت نہیں تھی۔ امینہ بیگم کے پاس بھی عید بقر عید پر ایک مٹھائی کا ڈبہ یا گوشت بھجوا کر وہ اپنا فرض پورا کرتے تھے ۔ لیکن تھے تو بھائی اور ماں جائے۔ بہنوں کو تو بھائیوں کا مان ہی بہت ہو تا ہے اور انہیںبھی تھا۔ ”جائو بیٹا کبیر سامعہ کو گھر چھوڑ دو اور راستے سے خالہ کے لیے فروٹ ضرور لے لینا۔ ” انہوں نے کبیر کو ہدایت دی تو انہوں نے بھی فرماں برداری سے سر ہلا دیا۔ ثنا بھاگ کر پشواز اور دیگر چیزوں کا پیکٹ اُٹھا لائی اور اسے تھما دیا ۔ اس نے ایک بار پھر اس کے گالوں پر چٹا چٹ پیار کیا ۔ تو ثنا ء مُسکرا دی۔ اسے اپنے بھائی کی سامعہ کے ساتھ محبت کا احساس تھا ۔ اکثر بھائی کے کمرے کی صفائی کرتے ہو ئے وہ سامعہ کے بچپن کی تصویر یں کسی نہ کسی کتاب میں دیکھتی تو مُسکرا دیتی۔ یہ وہ تصویریں تھیں جو اس کی خاندانی البم سے کبھی نہ کبھی نکال لی گئی تھیں ۔ اور اب روز رات کتابوں میں رکھ کر دیکھی جاتی۔
وہ دل سے یہی چاہتی تھی کہ سامعہ اس کی بھابھی بنے ۔ لیکن اس نے بھی سامعہ کو کبھی احساس نہ ہونے دیا کہ وہ اور کبیر اس کے بارے میں کیا چاہتے ہیں ۔ وہ جانتی تھی کہ کبیر آگے بڑھنے کیلئے کتنی محنت کر رہے ہیں اور ایک نہ ایک دن وہ اس میں کامیاب بھی ہو جائیں گے۔ تب وہ اپنے بھائی کی ساری بے تابیاں اُسے بتائے گی ۔۔۔
______________ x ______________ x _______________
موسم بہت خوب صورت ہو رہا تھا یا شاید کبیر کو اچھا لگ رہا تھا۔ کیوں کہ آج وہ بہت عرصے کے بعد اس کے ساتھ تھی۔ لیکن خاموش تھی ۔ بات کرنے میں پہل کبیر علی نے ہی کی ۔ ”پیپرز کے بعد کیا ارادے ہیں؟”
”کبیر بھائی میرا اراد ہ تو ثنا کے ساتھ یونی ورسٹی میںداخلے کا تھا لیکن آگے جو ابا جی کا حکم۔ وہ کہتے ہیں ناحکم حاکم مرگِ مفاجات تو بس ۔۔۔۔۔۔۔۔” اس نے منہ بناتے ہو ئے چہرے پر آئے ہو ئے بال پیچھے کئے ۔ ”کیا مطلب ؟ ” کبیر نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں پوچھا ۔ ”مطلب یہ کہ وہ نہیں چاہتے کہ میں اکنامکس میں ماسٹرز کروں اور پھر نوکری کروں ۔۔ آپ کو ان کا پتا تو ہے بھائی۔ ” سامعہ نے انہیں اپنی بات سمجھاتے ہو ئے کہا ۔ ہاں وہ تو میں جانتا ہوں لیکن ان کو سمجھایا بھی تو جا سکتا ہے۔ ” کبیر نے ہمت دلاتے ہو ئے کہا ۔
”ایسا سوچئے گا بھی مت کبیر بھائی بھلا ان کوکون سمجھا سکتا ہے ؟” وہ ہلکی سی ہنسی کے ساتھ بولی ۔۔۔۔۔۔ تو ان کو خفت سی محسوس ہو ئی ۔ ”کیوں ؟ سمجھایا کیوں نہیں جا سکتا میں کوشش کرکے دیکھوں ؟۔” ان کا انداز سوالیہ سا تھا تو اس کا منہ بن گیا۔ وہ جتنا اپنے باپ کو جانتی تھی کو ئی نہیں جانتا تھا اسی لئے اس نے کوشش کی کہ ان کو منع کر دے ۔ ”چھوڑیں بھائی وہ میرے ابا ہیں جتنا میں جانتی ہوںوہ یہ بات کبھی نہیں مانیں گے۔ ”
لیکن ایک کوشش تو کی جاسکتی ہے۔ ” انہوں نے بھی اصرار کیا ۔ تو اس نے کندھے اُچکائے اور بولی: ”چلیں دیکھ لیں آپ بھی کوشش کر لیں ۔ ” پھر دونوں کے درمیان کا فی دیر تک خاموشی رہی۔ ”ایک بات کروں کبیر بھائی۔’ ‘ اس نے کچھ سوچ کر کہا۔ ”ہاں بولو! ” ثنا بہت لکی ہے۔ ” وہ واقعی ثنا کی قسمت کی قائل تھی اس کی ماں اور بھائی ہمیشہ اس کا ساتھ دیتے تھے۔ ”وہ کیسے ؟” انہوں نے بھی دلچسپی سے پوچھا ۔ ”اس کو آپ جیسا بھائی اور خالہ جان جیسی ماں ملی ہیں ۔جو اس کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں۔ ” اس کے انداز میں ثنا کے لیے رشک تھا ۔
”تمہیں شوق ہے تو شادی کے بعد تم بھی پڑھ سکتی ہو۔ ‘ ‘ انہوں نے اس کے لہجے میں رشک محسوس کرتے ہو ئے ایک آفر کی۔ تو وہ منہ بنا کر بولی: ”رہنے دیں آگے کی کس نے دیکھی ہے، جو چیز ابھی نہیں ملنی وہ آگے کیا ملے گی۔ ” اس لہجے میں بے زاری کو محسوس کر تے ہو ئے کبیر علی نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا۔ پھر باقی راستہ بھی خاموشی سے کٹا۔ پتا تو تب چلا جب وہ گھر کے دروازے پر کھڑے تھے ۔ ”اترو گھر آگیا ہے۔ ” کبیر علی نے اسے چونکا دیا ۔ تو وہ اتر کر سامنے کھڑی ہو ئی۔ اپنے گھر کے پاس ہی سے خریدا ہوا فروٹ کا شاپر کبیر علی نے اس کے ہاتھ میںتھما دیا ۔
”یہ لو اور خالہ جان کو میرا سلام کہہ دینا۔ کافی دیر ہو چکی ہے ورنہ اندر ضرور آتا۔ ” ارے یہ کیا بات ہو ئی اماں سے تو مل لیں اور بے فکر رہیں ابا گھر پر نہیں ہیں۔ تو آج آپ کو لیکچر بھی نہیں ملے گا۔ ” اس نے آخری جملہ شرارت بھر ے انداز میں کہا۔ تو کبیر علی مُسکرا دئیے ۔ ”ارے نہیں ایسی کو ئی بات نہیں میں واقعی جلدی میں ہوں۔ آفس کا کچھ کام کرنا ہے۔ اگر بیٹھ گیا تو خالہ جان کھانا کھائے بغیر نہیں جانے دیں گی ۔ آج ان سے میری طرف سے معذرت کر لینا اور کہنا انشا ء اللہ جلد ان کے ہاتھ کی کڑھی اور چاول کھائوں گا۔ اب چلتا ہوں اللہ حافظ۔ ”یہ کہہ کر انہوں نے بائیک موڑ لی تو وہ بھی اللہ حافظ کہہ کرکندھے اچکاتے ہوئے مڑ گئی ۔۔۔ اب ان سے کیا بحث کرنی۔۔۔۔۔
______________ x ______________ x _______________
فیئر ویل والے دن اس کی انارکلی کی ایکٹنگ کو سب نے بہت انجوائے کیا ۔ سب حیران رہ گئے کہ اس میں خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اداکاری کے جوہر بھی موجود تھے۔ اتنی تالیاں پڑیں کہ وہ خود بھی پریشان ہو گئی کہ لوگوں نے اسے اتنا پسند کیا۔ ٹیچرز نے ڈرامے کے بعد سٹیج کے پیچھے اُسے گلے سے لگا یا تو خود اسے اپنی ذات پر فخر ہو ا ۔۔۔۔ ماں باپ نے تو اس کی کسی صلاحیت کو کبھی نہیں سراہا تھا ۔ بچپن سے ہی وہ شعرو شاعری اور اچھے اقتباسات کی شائق تھی۔ اکثر اپنی ڈائری میں نوٹ کرتی رہتی۔ رات کو شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر بڑے انداز میں تحت اللفظ کے ساتھ اشعار اور اقتباسات پڑھا کرتی ۔پھر اسکول کے پروگرامز میں حصہ لیتی ۔ اماں ابا نے کبھی کوشش ہی نہ کی کہ اس کی ان صلاحیتوں کو سراہتے۔ ابا تو بس تنقید کرتے تھے۔ اس کے اٹھنے، بیٹھنے ،چلنے پھرنے پر۔ پھر وہ بھی ان کی آمد کے ساتھ ہی کمرے میں بند ہونے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرتی ۔ گھر والوں نے اس کا جتنا مورال ڈائون کیا تھا۔ باہر والوں نے اسے اتنا ہی سراہا۔۔ کافی دیر ہو چکی تھی۔ جلدی جلدی وہ باہر آئی تو کالج تقریباً خالی ہو چکا تھا ۔ اس نے اپنے وین والے کو منع کر دیا تھا۔ وہ آج اسے لینے نہ آئے اور اماں کو بتا دیا تھا کہ ثنا کے ساتھ آجائے گی۔ لیکن اُسے ثنا کو بتانا یاد نہ رہا اور اس وقت پورے کالج میں اسے ثنا نظر نہ آئی۔ اس نے سامنے سے آتی رابعہ کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔ رابعہ جلدی سے اس کے پاس چلی آئی۔ ”یار سامعہ! آج تو تم نے انارکلی کے کریکٹر میں جان ڈال دی مزہ آگیا” رابعہ بڑے جوش سے جھوم کر بولی ۔ ”تھینک یو یار یہ تو بتائو کہ تم نے کہیں ثنا کو دیکھا ہے۔ ” سامعہ نے اس کے اگلے سوال سے پہلے ہی پوچھ لیا ۔ ”ہاں ہال میں وہ میرے ساتھ ہی تھی۔ ہم دونوں ساتھ ہی بیٹھے تھے۔ گھر سے اچانک اس کی مدر کی کال آئی کہ ان کی طبیعت بہت خراب ہے۔ شاید شوگر لو ہو رہی تھی۔ وہ بے چاری تو بوکھلا کر گھر بھاگی مجھ سے کہہ گئی تھی کہ میں تمہیں بتا دوں۔ ” اس نے روح فرسا خبر سنا کر اسے مشکل میں ڈال دیا ۔ ”وہ تمہیں بھی کال کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن تمہارا موبائل آف تھا۔ ” ہاں ٹیچر ز نے سب کے موبائل ڈرامے کی وجہ سے آف کر وا دئیے تھے۔ ” ساری صورت حال کو دیکھتے ہو ئے وہ رونے والی ہو گئی۔ ”anyproblem”۔ رابعہ نے اس سے پوچھا۔ ”ہاں یار میں نے وین والے کو آنے کے لیے منع کر دیا تھا۔ میرا خیال تھا دیر ہو جائے گی تو ثناء کے ساتھ اس کے رکشے پر چلی جائوں گی۔ وہ گھر ڈراپ کر دے گی۔ ”
وہ پریشانی سے ہاتھ ملنے لگی ۔ ”یار سوری میں تمہیں اپنی وین میں ڈرا پ کر دیتی لیکن تمہارا روٹ اور میرا بالکل مختلف ہے وہ نہیں مانے گا ایسا کرو تم کو ئی رکشہ لے لو۔ ” رابعہ نے معذرت خواہانہ انداز میں اسے مشورہ دیا۔ تو اس نے پریشانی اور بے خیالی میں سر ہلا دیا ۔ ”ہاں اب تو یہی کرنا پڑے گا کیوں کہ تھوڑی دیر میںتو سارا کالج ہی خالی ہو جائے گا۔ اب بھی کچھ ہی لڑکیاں رہ گئی ہیں۔ ” اس نے ارد گرد دیکھا ۔
”اوکے میں چلتی ہوں میرا وین والا آگیا ہو گا ۔” یہ کہہ کر رابعہ دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ وہ پریشانی سے سوچنے لگی کہ اب کیا کیا جائے؟ وہ آج تک کبھی اکیلی رکشے میں نہیں گئی تھی لیکن اب تو ایسا کرنا پڑے گا ۔ مجبوری ہے اس نے عبائیہ پہنا اور حجاب بہت اچھی طرح سے اپنے چہرے کے اردگرد لپیٹ لیا اور دروازے کی طرف بڑھ گئی ۔ ۔۔۔۔
دروازے پر چوکیدار بھی کسی کا م سے گیا تھا اور سڑک بالکل سنسان تھی۔ اس نے ہمت کر کے دروازے سے با ہر نکل کر دیکھا۔ سامنے آتے ہو ئے ایک رکشے کو ہاتھ دیا جو نہیںرکا ۔۔ وہ دس منٹ تک اسی طرح کھڑی اِدھر اُدھر دیکھتی رہی۔ ایک رکشہ والا آکر رُکا۔ اس کے گلے میں لال رنگ کے رومال کو دیکھ کر ہی وہ دہل گئی۔ کم بخت آنکھوں سے ہی کمینہ لگ رہا تھا۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کا کہہ دیا ۔ ۔۔۔۔ کہ کہیں اس کے ساتھ بیٹھ کر جانے میں کسی اور مصیبت میں نہ پھنس جائے ۔۔۔۔ لیکن جو مصیبت آنی ہوتی ہے وہ تو آکر ہی رہتی ہے اور وہ آگئی ۔۔ دو مسٹنڈے بائیک سواروں نے اسے یوں راستے میں کھڑا دیکھ کر بائیک اس کے پاس ہی لا کر رو کی۔ وہ اچھل کر دور ہو گئی ۔ ”کہاں جانا ہے۔ آئو ہم ڈراپ کر دیں اتنی گرمی میں کہیں بے ہوش نہ ہو جانا۔ ” ایک کمینہ سا مسٹنڈا بائیک سوار بالکل اس کے پاس آکر بولا ۔ ”دفع ہو جائو مجھے تمہاری مدد کی کو ئی ضرورت نہیں ۔” وہ اندرسے ڈری ہو ئی تھی لیکن ان پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس لئے چلا کر بولی ۔
”اوہو بھئی واہ! مزہ آگیا بھیا منصور پہ برقعے والی توچیختی بھی ہے۔ ” موٹر بائیک سوار میں سے ایک نے مزہ لیتے ہو ئے دوسرے کو دیکھا اور ہنستے ہو ئے بولا ۔
” میں کہتی ہوں دفع ہو جائو ورنہ میں شور مچا دوں گی۔ ” اس نے غصے میں دوبارہ کہا ۔۔۔ ”اس وقت بھری دو پہر میںتمہاری مدد کو کون آئے گا۔ چڑیا! اور دیکھو یہ رکشے والا بھی تمہارے ہا تھ دینے پر نہیں رُکا۔ ”ا س نے سامعہ کو ایک رکشے والے کو ہاتھ دیتے دیکھ کر کہا اور آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ ‘آجائو ہم چھوڑ دیں۔ ” یہ کہتے ہو ئے اس نے زور سے سامعہ کو اپنی طرف کھینچا ۔۔۔۔۔۔ ”چھوڑو میرا ہاتھ کمینے۔ ” اس نے زور سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی۔ ”کیسے چھوڑ دوں اتنے نرم و نازک ہاتھ چھوڑنے کے لئے تو نہیں پکڑے ۔” ایک انتہائی بدتمیزی سے بولا! سامعہ کی جیسے سانس رک گئی اور وہ زور زور سے چیخنے لگی ”چھوڑو مجھے ذلیل، کمینے ۔” وہ اس دوران بُری طرح رو بھی پڑی ۔۔۔۔
”اوئے چھوڑدو لڑکی کو۔ ” اسی وقت وہاں ایک کار آکر رُکی اور اس میں سے نکلنے والا نوجوان زور سے چیخا ۔۔۔
(باقی آئندہ )