تجدید وفا۔۔۔۔۔۔۔زارا رضوان

تحریر: زارا رضوان

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

————————

صبر دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک نا گوار باتوں پر صبر اوردوسرا پسندیدہ چیزوں سے صبر۔ سب کچھ کرنے کی صلاحیت و طاقت رکھتے ہوئے خاموشی اِختیار کرنےکو جبر کہتے ہیں۔ صبربندہ خود کرتا ہے مگر جبر پر وہ اپنے سے منسلک رِشتوں پر بھی بند باندھ دیتا ہے جس سے زندگی تلخ نہیں تلخ ترین ہو جاتی ہے۔ یہ کہانی صبراورجبر کے درمیان رِشتوں کی ڈور میں اُلجھی ہوئی ہے جو بیان کرتی ہے کہ کس طرح دوغلے کردار رِشتوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔

**********************

محبت دھوپ جیسی ہے، جلا کر بھسم کرتی ہے!

بدگمانی ایک ایسا کیڑا ہے جورِشتوں کی خوبصورتی کو چاٹ جاتا ہے۔یہ اِنسان میں سرایت کر جائے تورِشتوں میں گھن لگ جاتا ہے۔ اورپھر یہ کیڑا رِشتوں کو ختم کرکے ہی چھوڑتا ہے۔ آہ! آئی تھنک بدگمان ہونا برا نہیں، بد گمان رہنا برا ہے۔بہت سی باتیں وضاحت طلب ہوتی ہیں جنکوواضح کر دینےسے رِشتہ بچ جاتا ہے۔۔ پلر سے ٹیک لگائے وہ روانی سے گویا ہوئی۔ ایسا لگتا تھا وہ کسی بارہویں کلاس کے بچے کو لیکچر دے رہی ہو۔

 اگربات بدگمانی سے نکل کر اَنا میں آجائے تو ؟۔۔ انمول کی بات سن کر فخر نے  پوچھا۔

پھر کچھ بھی نہیں بچتا کیونکہ انا میں اِنسان ہر طرح کی تفریق کھو دیتا ہے ۔۔ یہاں تک کہ محبت کی تفریق بھی۔۔

یعنی کسی نے بالکل ٹھیک کہا ہے جب محبت اور انا کی کشمکش میں جیت انا کی ہو توزندگی  ہار جاتی ہے، ختم ہو جاتی ہے۔۔ تب اِنسان بے بس ہو جاتا ہے ۔۔ ہاتھ سینے میں باندھے دُورخلاؤں میں گم وہ جیسے خود سے مخاطب تھا۔۔آہ!! زندگی کو ہارنا ہی پڑتا ہے۔۔ لمبا سانس لیا ۔ ایکدم ٹرانس کی کیفیت سے نکلا ۔۔

کیا ہوا چپ کیوں ہو گئے؟ بولئے نہ۔۔ انمول نے فخر کو خاموش ہوتے دیکھا تو بول پڑی۔

بولنے کو کچھ بچا ہوتا تو شاید ضرور بولتا۔۔ ہونٹوں پر کھوکھلی اور پژمردہ مسکراہٹ لئے وہ اُداسی کا مجسمہ لگا۔ انمول بے چین ہو گئی۔ دونوں کے باجودبھی خاموشی تھی ایسی گہری خاموشی تھی جس میں بہت کچھ تھا کہے اَن کہےشکوے ، ادھورے وعدے ، بکھرا مان ، رِشتوں کا ختم ہوتا بھرم اورعہدو پیمان سے قطع تعلقی کی بکھری ہوئی زنجیریں ۔۔ کیا کچھ نہیں تھا۔

لوگ کہتے ہیں وقت کیساتھ ساتھ سب زخم بھر جاتے ہیں، زخم کبھی نہیں بھرتے بلکہ ہمیں اُنکو سہنا آجاتا ہے۔۔ کافی دیر بعد وہ دوبارہ بولا تو انمول دوبارہ دِل و جان سے متوجہ ہو گئی۔ 

تو کیوں سہہ رہے ہیں ؟کس نے کہا سہیں آپ؟ کیوں کر رہے ہیں خود پر اور اُس پرظلم؟ ۔۔اُسکے لہجے کی تڑپ وہ باآسانی محسوس کر سکتا تھا۔

کون کہتا ہےمیں سہہ رہا ہوں؟ میں تو بھگت رہا ہوں اپنا کیا ہوا، وہ جو میں نے کیااورجان بوجھ کر کیا۔ میں اِسی قابل ہوں۔۔ اُداسی ، مایوسی، برسوں کی تھکن کیا نہیں تھا اُسکے لہجے میں۔ انمول کے دِل کو کچھ ہوا۔اپنوں کا کیا وہ بھگت رہا تھا۔

مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ جاؤ تم یہاں سے۔ جاؤجاؤ پلیز۔۔ فخر نے کہا تو وہ مزید کچھ کہے آنسو ضبط کرتی وہاں سے چلی گئی۔ اُس کا وہاں سے جانا ہی بہتر تھاتاکہ وہ کھل کر رو سکے۔ دِل کا غبار ہلکاکر سکے۔ وہ چلی تو گئی لیکن جاتے ہوئے کتنے سوال چھوڑ گئی۔ جسکا خلاصہ تھاکیوں۔۔ اور اِس کیوں کو اُس سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔

****************

محبت آب جیسی ہے، سبھی کچھ لے گزرتی ہے!

آخری بار کہہ رہا ہوں زیادہ مت ہنسا کرو۔ جب تمہارے ڈمپل پڑتے ہیں تو تم اور بھی خوبصورت لگتی ہواور مجھے ڈر لگتا ہے کہ تمہیں کہیں میری ہی نظر نہ لگ جائے۔۔ لہجے میں محبت کے رنگ بھرے مصنوعی خفگی سےوہ بولا تو اُسکی ہنسی سے فضاء مہک اُٹھی۔۔

آپ میرے ہنسنے پر پابندی لگا رہے ہیں؟۔۔ مسکراتے ہوئےسوال کیا تو گالوں کے گڑھے مزید گہر ے ہو گئے۔ دھوپ کی تمازت سے چہرہ سرخی مائل ہو رہا تھا ، میرون اسکارف اوراسکن وائٹ عبایہ میں ملبوس اِبتسام کووہ ایک حسین و نازک مجسمہ لگی ۔

میں ایسا کر سکتاہوں کیا؟ ۔۔ پل بھر کو لہجہ بدلا۔

ارے ۔ میں نے تو یونہی کہا۔ آپ سیریس ہو گئے۔۔ اُس نے صفائی دی۔

اچھا اب منہ نہ بنائیں۔ نہیں ہنستی اِتنا۔ اب خوش۔ اِبتسام کے بدلتے رُوپ کو دیکھتے گردن جھکا کراَدا سے کہا تو وہ مسکرا دیا۔

اِبتسام کو اُسکی یہی بات تو پسند تھی کہ اُسکی ہر بات پر لبیک کہتی تھی، ہر بات مانتی تھی۔ محبت کرنا اوراُسکا مان رکھنا اُسکو آتا تھا ۔ تبھی تو وہ دِل و جان سے اسکو چاہتا تھا۔ اُسکی ایک مسکراہٹ پر وہ کھل جاتا ۔  زندگی روشن اور خوبصورت لگنے لگتی۔ جیسے ہی ایم بی اے مکمل ہوا اُس نے فوراً اپنے والدین کو اُسکے گھر بھیج دیا۔

اُس کے والدین زرنش کے گھر گئے ڈھائی گھنٹے ہو رہے تھے ۔۔ اُسکا دِل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔۔ خدشات، وہم اور اُمید کی ملی جلی کیفیت سے دِل بھرا ہوا تھا۔۔ ٹیرس سے کمرے اور کمرے سے ٹیرس کے چکر لگا لگا کر ٹانگیں شل ہو گئیں مگر وہ نہ بیٹھا۔ بے چینی اس قدر کہ بیٹھ ہی نہ سکتا تھا۔محبت ایسی ہی تو ہوتی ہے جو اِنتظار میں بے چین کر دیتی ہے، ناراضگی میں تڑپادیتی ہے  اورجدائی میں تو جھلسا کہ رکھ دیتی ہے۔ ۔

محبت آس دِلاتی ہے کبھی بے آس کرتی ہے

کسی کو روند دیتی ہے تو کسی کو خاص کرتی ہے!

کیا ہوا؟ کیا کہا اُنہوں نے؟ مثبت جواب ہے نہ؟ آئی مین کسی کو اعتراض تو نہیں رِشتے پر؟۔۔ اُنکے آتے ہی اُس نے سوالات کی بھرمار کر دی۔

اللہ اللہ ! بتا دیتے ہیں بیٹھ تو لینے دو۔۔ ثمن نے بیٹے کو صوفے پر لیٹاتے ہوئے کہا۔

 امی آپ بتایئے۔۔ اُسکا بے صبرا پن دیکھ کر مسز غفورہنسے بنا نہ رہ سکیں۔

امی کیا بتائیں گی۔ اُنہوں نے صاف منع کر دیا ہے۔ تنخواہ کم ہے یہ عذرپیش کیا ہے۔ ہم نے کہا بھی کہ  جاب اچھی ہے  آہستہ آہستہ سیلری بڑھتی جائے گی۔ آپکی ہونیوالی ساس  نے ٹکا سا جواب دے دیا کہ جبسیلری بڑھے گی تو آجایئے گا ہمیں کوئی جلدی نہیں۔ ویسے بھی۔۔ ثمن نے ایک ہی سانس میں جو بولنا شروع کیا مجبوراًاِبتسام کو اُسکا منہ بند کرنا پڑا۔

تم ہمیشہ اول فول بولتی ہو۔ کوئی ڈھنگ کی بات کی بھی ہے آج تک۔ امی آپ بتایئے کیا کہا اُسکے پیرنٹس نے؟۔۔ 

اول فول۔ ارے واہ۔ آپکی خاطر ضیغم کو گھر چھوڑ کر آئی، مہمانداری کا بوجھ لئے آپکا رِشتہ لے کر گئے اور آپ کہتے ہیں میں فضول بولتی ہوں۔ امی کچھ مت بتایئے گا۔۔ ثمن نے خفگی سے کہا۔

 تم بھی توبھائی کو تنگ کر رہی ہو۔ بیٹاتم ہاں ہی سمجھو۔ اُنہو نے وقت مانگا ہے لیکن یہ سب رسمی ہے۔ مسز غفور نے اُسکو تسلی دی۔

آپ کیسے کہہ سکتی ہیں رسمی ہے؟ میرا مطلب آپکو لگتا ہے وہ مان جائیں گے؟۔۔

ہاں بھئی مان جائیں گے۔ لڑکی والے ہیں تھوڑا وقت تو لیں گے ۔ ایکدم ہاں بھی تو نہیں کر سکتے۔۔ غفور احمدنے تسلی دیتے ہوئے کہا

 ویسے بھی لڑکی کہاں اِنکار کرنے دے گی۔ آخر کو اُسی کی مرضی سے گئے تھے رشتہ لیکر۔۔ ثمن نے بیگ  کی زپ بند کرتے ہوئے طنز کیاجسے کوئی محسوس ہی نہ کر سکا۔۔

 لڑکی سمجھدار ہے، باشعور ہے۔ ہینڈل کر لی گی سب۔۔ غفور احمدنےکہا تو اُس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

بھائی آپ مجھے گھر چھوڑ آئیں۔ دانیال کو دیر نہ ہو جائے اِسلئے اُنکو منع کر دیا ہے۔ مہمانوں کیلئے کھانا بھی بنانا ہے ۔ وقت لگ جائے گا۔ ثمن نے بیگ اُٹھاتے ہوئے کہا۔

چلو۔۔ اِبتسام نے سوئے ہوئے ارحم کو اُٹھالیا۔

*********************

چائے۔۔

اوہ! تھینکس۔ مجھےواقعی   چائے کی طلب ہو رہی تھی۔۔ کپ پکڑتے ہوئے خوش دِلی سےکہا۔

راجہ گدھ۔۔ ہمم ہر دور میں پڑھی جانیوالی کتاب۔۔وہ  بات بڑھانے کی غرض سے بولی

تم نے پڑھی ہے؟۔۔ وہ حیران ہوا۔

جی۔پر اِس میں اِتنا حیران ہونیوالی کونسی بات ہے؟ بلکہ آپ بہت لیٹ پڑھ رہے ہیں جناب۔۔ مجھے یہ کتاب پڑھے بہت عرصہ ہو گیا۔۔ انمول نے بہت کے ہ کو کھینچتے ہوئے کہا۔

 میں نے تو نسیم حجازی، بانو قدسیہ، اِشفاق احمد،عمیرہ احمد،فرحت اِشتیاق، طاہر جاوید مغل اور بہت سے رائٹرز کو پڑھا ہے۔ اِن فیکٹ مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے۔۔ وہ حیران ہوا لیکن ظاہر نہیں کیا۔اُسے اندازہ نہیں تھا کہ اِکنامکس جیسے خشک مضمون پڑھنے والی لڑکی پڑھائی کی شوقین ہو سکتی ہے۔

اُسے بھی پڑھنے کا بہت شوق تھا۔۔ وہ بڑبڑا یا

کچھ کہا؟۔ 

نہیں۔ چائے کا سپ لیکر دوبارہ کتاب پڑھنے میں مگن ہو گیا۔

کہتے ہیں محبت اِنسان کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جب آپ کسی کو دِل و جان سے چاہتے ہیں تو اُسکی ہر چیز آپکو عزیز ہو جاتی ہے۔ اُسکی پسند نا پسند کا خیال رہتا ہے۔ اُسکی ہر بات پر دِل لبیک کہتا ہے۔ اُس کے ہنسنے سے چہار سو بہارآجاتی ہے اور جب وہ افسردہ ہو تا ہے تودِل بے چین ہو جاتا ہے، جب وہ ناراض ہو توپتہ ہے کیا ہوتا ہے؟۔۔ فخر نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

 ہر طرف سناٹا چھا جاتا ہے ۔ کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔۔ موسم، حسین سے حسین مناظر، ہر شے، کچھ بھی اچھا نہیں لگتا ۔۔ یہاں تک کہ اپنا آپ بھی۔کرسی کو دھکیل کر بیٹھتے ہوئے بولی۔ فخر کے چہرے کا رنگ بدلا ۔محبت پر وہ  کتنے آرام سے بات کر رہی تھی۔ اُسکے دِل کی کیفیت کو کتنی آسانی سے بیان کر رہی تھی۔

اُس نے پہلی بار اُسکو غور سے دیکھا ۔۔ زرد اور نارنجی رنگ کا لباس پہنے وہ بہت معصوم اورپاکیزہ لگ رہی تھی۔   رنگت گندمی مائل تھی مگر چہرہ محبت کے نام پر کھل رہا تھا۔۔ سیاہ بڑی بڑی دِلکش آنکھیں ۔۔جس میں جانے کتنے خواب سمائے ہوئے تھے بلکہ ٹوٹے ہوئے خواب۔ ۔

کیا ہوا؟ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟ ۔۔ وہ کنفیوژ ہو گئی۔ چہرے کی لالی مزید گہری ہو گئی۔

محبت کے بدلتے رنگ دیکھ رہا ہوں۔۔ 

وہ جانتا تھا انمول اُسکو چاہتی ہے۔ وہ بچپن سے اُسکو پسند کرتی آئی ہے۔ اُس نے انمول کی آنکھوں میں ہمیشہ اپنے لئے پیار دیکھا تھا۔ انمول نے کبھی اِظہار نہیں کیالیکن چہرے کا رنگ، لہجے کی کھنک ، جذبات کی تپش اور فخر پر توجہ اُسکے جذبات کے ترجمانی تھے۔ فخر کے والدین بھی اُسے بہو بنانے کی خواہش رکھتے تھے۔ ۔ فخر ایسے بات کرتا تھا جیسے وہ اُسکے جذبات سے ناواقف ہو، کچھ جانتا ہی نہ ہو۔

محبت کے رنگ؟ لیکن محبت کاتو کوئی رنگ نہیں۔ یہ پانی کی طرح خالص و شفاف ہے۔۔ 

صحیح کہتی ہو۔۔ ہر کوئی اسکو سمجھ بھی نہیں سکتا۔ اِسکی زبان وہی سمجھتا ہے جو اِسکی رمزیں جانتا ہے ۔

یعنی آپ اِسکے رموز و اوقاف سے واقف ہیں؟ چلو اچھی بات ہے۔۔ انمول نے چائے کا آخری گھونٹ ختم کیا۔

محبت رنگ ایسا ہے کہیں کچا کہیں پکا  کہیں پہ سفید و سات رنگ

محبت دھوپ، محبت چھاؤں، محبت ہے دھنک و برسات رنگ

ایک بات کہوں؟۔۔ انمول نے بات بڑھانی کی غرض سے پوچھا۔

کہو

والدیناور بہن کی محبت ،اُنکا عزت و احترام  اپنی جگہ لیکن جب آپ کسی کو اپنی زندگی میں شامل کرتے ہیں تو ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ آپکو لائف کو بیلینس کرکے چلنا پڑتا ہے تاکہ کسی کو آپ سے شکایت نہ ہو۔ شریکِ حیات آپکی زندگی کا حصہ ہے، آپکےدُکھ سُکھ کی ساتھی۔اپنے والدین کو چھوڑ کر وہ صرف ایک آدمی کے آسرےپر نئی دُنیا آباد کرتی ہے۔ اُسکی تمام تر اُمیدیں اُس ایک آدمی سے وابستہ ہوتی ہیں جو اُسکا شوہر ہوتا ہے۔ اگروہ اُنکو پورا نہیں کرتا تو وہ ٹوٹ جاتی ہے، بکھر جاتی ہے ، اُسکی شخصیت ادھوری رہ جاتی ہے، اِک خلاء رہ جاتا ہے جس کو کوئی پر نہیں کر سکتا۔ کوئی محبت، کسی کی توجہ اُس خلاء میں اپنائیت کا بیج نہیں بو سکتا جو شوہر کی طرف سے دیا گیا ہو۔اُسکا عزتِ نفس مجروح ہونے سے بچانا شوہر کی ذمہ داری ہے۔ اُسکو عزت و مان دینا، اعتماد بخشنا، اُسکی باتوں کو اہمیت دینا شوہر پر فرض ہے۔۔

فخر خاموشی سے سنتا رہا۔ انمول وہاں سے جا چکی تھی۔ لوہا گرم دیکھ کر اُس نے چوٹ لگانا تھی سو لگا دی۔ اب سوچنا فخر کا کام تھا۔

**********************

اِبتسام کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا جب زرنش نے بتایا کہ گھر والوں نے ہاں کر دی ہے۔ جھٹ منگنی پٹ بیاہ والا معاملہ ہوا۔ کوئی ظالم سماج نہ تھا۔ سب کتنا آسانی سے ہوگیا اُنہوں نے سوچا نہیں تھا۔۔ دونوں بے حد خوش تھے۔ ہنی مون پر جانے کیلئے مری ناران کاغان کو ترجیح دی۔ اُنہیں کیا معلوم کہ ضروری نہیں priorities پوری ہوں خاص کر جب آپکی زندگی کا کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہو اور وہ اُسکا غلط استعمال کرے۔

 ہنی مون  ؟ شادی پر اِتنا خرچہ ہوا ہے۔۔ مہمانوں کا آنا جانا لگا رہے گا پھر تم لوگوں کی دعوتیں وغیرہ اُس میں بھی اِخراجات لگتے ہیں۔ عجیب ہی چونچلے ہیں آجکل کے۔ اِبتسام نے ہنی مون کی بات کی تو مسز غفورنے صاف منع کرتے ہوئے اِخراجات گنوا دیئے۔

امی ثمن بھی تو گئی تھی نہ؟

ہاں تو؟ وہ اپنے گھر کی ہے۔جو مرضی کریں وہ لوگ۔۔

زرنش بھی تو اب اس گھر کی ہے امی۔۔ اُسکی بھی خواہش ہے کہ

اِس گھر کی ہے تو اِس گھر کا سوچے اب۔۔ اُنہوں نے بات کاٹ کر کہا۔

 میں نے اِس مقصد کیلئے ساٹھ ہزار جمع کئے تھے الگ سے۔ گھر کا خرچہ کیوں متاثر ہونے لگاامی۔

مقصد۔۔ واہ بیٹا۔ جب سب خود طے کر ہی لیا ہے تو مجھے کیوں بتا رہے ہو۔ چپ چاپ نکل جاتے۔رہی بات پیسوں کی یہ بھی تو گھر کے ہی پیسے ہیں نہ۔ گھر کے اِخراجات اورکہیں آنے جانے میں لگ جائیں تو اچھا نہیں؟ دو چار دِن کی تفریح میں اِتنے پیسے لٹانے کا فائدہ؟ باقی تمہاری مرضی ہے جیسا چاہو کرو۔ میں کون ہوتی ہوں روکنے والی۔۔ 

مسز غفور رسالے میں متوجہ ہو چکی تھیں۔

تمہاری امی ٹھیک کہہ رہی ہے ۔میں ریٹائر ہو چکا ہوں۔ بوجھ تم اکیلے پر ہی ہے۔ ایسے میں بلاوجہ کے خرچوں پر پیسے اُڑانااچھی بات نہیں۔۔ غفور احمد نے بھی اپنی بیگم کا ساتھ دیا تو  اِبتسام خاموش ہو گیا۔  مزید بحث فضول تھی۔

میں نے ساری پیکنگ کر لی ہے اِبتسام۔۔ زرنش نے جوش سے کہا

ہم کہیں نہیں جا رہے۔

کیا مطلب؟ہمیں تو  

کہا نہ کہیں نہیں جانا۔ شادی میں کتنا خرچہ ہو گیا۔۔ کس طرح اِخراجات منہ کھولے کھڑے ہیں۔ مہنگائی نے اَت مچا رکھی ہے۔ ایسے میں جانا بہت مہنگا پڑ جائے گا۔

مگرآپ نے توکہا تھاکہ پیسے

یار تمہیں ایک دفعہ کی بات سمجھ نہیں آتی کیا؟۔۔ اِبتسام نے سارا غصہ زرنش پر نکال دیا۔

اِس بار بھی زرنش اِبتسام سے ہار گئی ۔مزید کچھ کہے کپڑے واپس الماری میں رکھنے لگی۔ وہ اپنی خواہشوں و ضرورتوں کو قید کر رہی تھی۔ اِبتسام اُسے کپڑے بیگ سے نکال کر الماری میں رکھتا تو دیکھ رہا تھا مگر آنکھوں کی نمی اورٹوٹے ہوئے ارمان وہ نہ دیکھ سکاوہ دیکھ ہی کہاں سکتا تھا۔ آنکھوں میں پٹی جو بندھی تھی۔

زرنش کی زندگی کا تلخ دور شروع ہوگیا۔۔ جب اُس نے کھانا بنانے کیلئے میٹھے میں ہاتھ ڈالا۔ ساس کیساتھ ساتھ نند نے بھیابھی بہت وقت ہےکہہ کر اُسکو منع کر دیا۔ اُس نے کہا وہ میٹھا بنا لے پھر بے شک کھانا بعد میں بناتی رہے مگر کسی نے ایک نہ سنی۔ وہ خوش تھی کہ سب کتنا خیال رکھنے والےہیں ورنہ تو اِدھر بہو آئی اُدھر گھرداری شروع کروا دی۔ لیکن اُسکی یہ سوچ آہستہ آہستہ بدلنے لگی جب شادی کے کچھ ماہ گزرنے کے بعد بھی اسکو کچھ نہ کرنے دیا گیا۔ جبکہ ثمن آتی تو وہ اپنی مرضی سے جو چاہے بناتی، اپنے لئے اپنے شوہر کیلئے۔ اُسے کوئی روک ٹوک نہ تھی نہ کسی کوگھر کے بجٹ آؤٹ ہونے کی فکر۔۔

زرنش جب بھی کچھ بنانے کیلئے کہتی مسز غفور فوراً منع کر دیتیں کہ وہ خود بنا لیں گی۔ ۔ اپنی مرضی کا کھانا تو وہ جیسے کھانا ہی بھول گئی تھی۔ جو اُسکی ساس کا دِل کرتا بناتیں۔ اِبتسام کو نرگسی کوفتے، چائنز چاول اور مٹن کڑاہی بے حد پسند تھی۔ شادی کے اِتنے ماہ گزرنے کے بعد بھی یہ اب تک نہیں بنایا گیا تھا۔  ایک دو بار اپنی ساس سے اِن کھانوں کو بنانے کی خواہش ظاہر کی جسے رد کر دیا گیا۔

جبکہ وہ بیٹی اور داماد کی پسند نا پسند کا مکمل خیال رکھتی تھیں۔ دانیال کیلئے دہی بھلے بن رہے ہیں کیونکہ اُسکو پسند ہیں، کڑی بن رہی ہے، چکن روسٹ بنایا جا رہا ہے ، وہ بیف پلاؤ شوق سے کھاتا ہے۔ ۔ بچوں کیلئے نگٹس، مرغی کے کباب، وغیرہ وغیرہ۔۔ نہ بجٹ آؤٹ ہونے کی پروا، نہ ہاتھ تنگی کا رونا۔۔ جب بھی ثمن آتی مسز غفور کچن اُس کے حوالے کر دیتیں جیسے مرضی بناؤ جو مرضی بناؤ۔

شروع شروع میں اِبتسام اپنی والدہ کوکھانا بناتے یا چھوٹے موٹے کام کرتے دیکھتا تو نظر انداز کرجاتا۔ زرنشسے کہتا امی کا ہاتھ بٹا دے۔ وہ اچھا کہہ کر خاموش ہو جاتی۔۔ ایسا اکثر ہونے لگا تو زرنش سے بحث میں پڑ جاتا کہ اُسکے ہوتے ہوئے امی کام کر رہی ہیں۔ وہ صفائی دیتی تو بھی اُسکی نہ سنتا۔

امی اب زرنش آگئی ہے۔ آپ اِسکو بولیں کام۔ یا کم از کم مل جل کر لیاکریں۔اکیلے لگی رہتی ہیں آپ۔ تھک جاتی ہیں۔ ماں کو کپڑے دھوتا دیکھ کر و ہ اپنی ماں سے اُلجھ پرا۔

ارے بیٹا کچھ نہیں ہوتا۔ جب تک ہمت ہے کر رہی ہوں۔ پروین ابھی تک آئی نہیں گاؤں سے ۔۔ کپڑوں کا انبار پڑا تھا سوچا دھو ہی لوں۔ بہو پر رہتی تو پڑے رہتے اِسی طرح۔۔ پرسوں ہی ثمن نے ڈھیر دھویا ہے کپڑوں کا۔۔ وہ کپڑوں سے پانی  نکالتے ہوئے بولیں۔

زرنش کو بولا کریں آپ۔ فارغ ہوتی ہے سارا دِن ۔ جب دیکھو موبائل لیکر بیٹھی رہتی ہے۔۔ اِبتسام نے کہا تو زرنش نے شکایتی نظروں سے دیکھا۔ لیکن وہ اُسے دیکھ ہی کب رہا تھا۔ اُسکی توجہ تو اپنی ماں کی طرف تھی جواب کپڑوں کو سپینر میں ڈالنے میں مگن تھیں۔

ارے بھئی میں خود کر لیتی ہوں۔ ۔ چلو چھوڑوتم۔ میں چائے کا پانی رکھتی ہوں۔ تم جا کر سموسے اور جلیبیاں لے آؤ۔ بہت دِل کر رہا ہے کھانے کا۔ زرنش تم سپینر سے کپڑے نکال کرپھیلا دینا۔۔ اُس پر احسانِ عظیم ہوا۔

**************

 آج جلدی آ سکتے ہیں؟ مجھے کچھ شاپنگ کرنی تھی ۔۔ ڈبل روٹی پر مکھن لگاتے ہوئےزرنش نے پوچھا

شاپنگ۔ خیریت؟

ہاں شارق بھائی کی منگنی ہے اِس اِتوار۔

ارے واہ۔ مبارک ہو۔ پراٹھے  کیساتھ اِنصاف کرتے ہوئے بولا۔لیکن مجھے مارکیٹ جاتے اُلجھن ہوتی ہے تمہیں پتہ تو ہے۔ ایسا کروامی کیساتھ چلی جانا۔

ٹھیک ہے میں امی کیساتھ چلی جاؤنگی۔ آپ کچھ پیسے دے دیجئے گا سوٹ اور سینڈل کیلئے۔ ہمیشہ کی طرح ہتھیار ڈال دیئے۔ اپنی بات منوانے کیلئے آج تک اُس نے زور ہی نہ دیاتھا۔

پیسے امی کے پاس ہوتے ہیں اُن سے لے لینا جتنے چاہیے ہوں۔ زرنش نے حیرانگی سے  دیکھا ۔

کیا ہوا کس کو چاہیے پیسے؟۔۔ مسزغفورچائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولیں۔

زرنش کو امی۔ شارق کی منگنی ہے تو اِسکو شاپنگ کرنی ہے۔ آپ ساتھ چلی جایئے گا۔

ارے بھی مجھ سےکہاں چلا جاتا ہے۔تم لے جانا۔ میں پیسے دے دونگی۔۔ مسز غفور نے کرسی کھسکاکر بیٹھتے ہوئے کہا۔

چلیں ٹھیک۔ تم تیار رہنا میں آجاؤنگا جلدی۔۔ زرنش اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی۔ رِشتوں میں فرق کو وہ سمجھنے لگی تھی۔

****************

کیا ہوا؟ تم ٹھیک تو ہو؟۔۔ اُلٹیاں کرتی زرنش کو دیکھ کر اِبتسام پریشان ہو گیا۔

ٹھیک ہوں۔ طبیعت صبح سے بوجھل تھی۔ اب بہتر ہو گئی ہے۔۔ تولیے سے منہ صاف کرتے ہوئے کہا۔

آر یو شیور؟

ہنڈرڈ پرسن۔۔ زرنش نے یقین دہانی روائی

 مجھے سیون اپ لا دیں گے؟ 

لاتا ہوں۔۔ اُسکے کمرے سے جاتے ہی زرنش بستر پر ڈھیر ہو گئی۔

کیا ہوا لائے نہیں؟۔۔ اُسکو واپس آتا دیکھ کر پوچھا

یار۔ پیسے امی کے پاس ہیں۔ وہ تو ثمن کی طرف گئی ہیں اُسکی ساس کا پتہ لینے۔ میرے پاس بھی ختم ہو گئے ہیں۔ ورنہ لا دیتا۔۔ پیشانی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

آپ اپنے پاس اِتنے پیسے تو رکھا کریں کہ اپنی اور میری ضروریات کیلئے امی سے نہ مانگنا پڑیں ۔۔

خرچے کے پیسے امی کے پاس ہوتے ہیں زرنش۔ مجھے جو پاکٹ منی ملتی ہے وہ پٹرول اور بیلینس میں ختم ہو جاتی ہے ،  یہی میری ضروریات ہیں۔۔ اِبتسام نے بات کاٹ کر کہا

پاکٹ منی؟ آپ جاب کرتے ہیں اِبتسام۔ کم از کم اِتنے پیسے تو رکھا کریں پاس کہ۔۔ زرنش کو بحث بیکار لگی تو چپ کر گئی اور الماری کی طرف بڑھ گئی

کہ؟۔۔ اِبتسام نے پوچھا

کچھ نہیں۔ یہ لیں۔۔ پانچ سو کا نوٹ اِبتسام  کو دیتے ہوئے بولی تو اُس کے چہرے کا رنگ بدلا۔وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے۔ آج پہلی بار اُسکو سبکی ہوئی۔ زرنش نے ٹھیک کہا اُسکو کچھ پیسے تو پاس رکھنے چاہیے تاکہ بوقتِ ضرورت خرچ سکے۔۔مگر یہ سوچ وقتی ثابت  ہوئی کیونکہ اُسکے پاس وقت کہاں تھا کہ کچھ اور سوچتا۔

امی کچھ پیسے چاہیے۔ زرنش کو اسپتال لیکر جانا ہے۔۔

کیا ہوا اسکو۔۔

کل سے اُلٹیاں کر رہی ہے۔

ہیضہ ہو گیا ہوگا۔ میں قہوہ بنا دیتی ہوں پودینے کاٹھیک ہو جائے گی۔۔ مسز غفور احمد نے لاپرواہی سے کہا۔

وہ بنا کر پی چکی ہے ذرا بھی فرق نہیں پڑا۔

ایک بار میں تھوڑی فرق پڑتا ہے۔۔ دیتی ہوں پیسے۔ بے دِلی سے پیسے لاکر اُسکے ہاتھ میں رکھ دیئے۔

پورے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جب اُنکو نئے مہمان کے آمد کی خبر ملی ۔ 

زرنش کو لگا اُسکے قدم مضبوط ہو جائیں گے۔ وہ نہیں جانتی تھی جب دِلوں میں بغض اور کینہ کی سرایت کر جائے تو کچھ بھی مضبوط نہیں رہتا۔ سب کمزور ہوتا چلا جاتا ہے، سب ہاتھ سے ریت کی مانند پھسلتا جاتا ہےیہاں تک کہ رِشتے بھی۔۔

********************

چائے۔ جیسے ہی وہ آفس سے آیا انمول چائے لیکر حاضر ہو گئی۔

اایک تو تم ہر وقت چائے لیکر آجاتی ہو۔ اِس وقت چائے کی بالکل طلب نہیں۔ مجھے آرام کرنا ہے۔

تھوڑی دیر میں مغرب ہو جائے گی اور خالہ جانی کہتی ہیں اِس وقت سونا نہیں چاہیے۔۔ رہی بات چائے کی تو جناب یہ ایک بہانہ ہے آپ سے ملاقات کا۔۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے وہ ہمیشہ کی طرح معصوم لگی۔

مجھ سے بات کرنے کیلئے تمہیں کسی بہانے کی ضرورت نہیں انمول۔ فخر نے چائے کا مگ لے لیا ۔

ہمم! اچھا۔۔ شکریہ شکریہ!” مسکراتے ہوئے کہا تو ڈمپل مزید نمایاں ہو گئے۔ فخر بے دھیانی میں اُسکو دیکھتا رہا۔

لگتا ہے آج زیادہ اچھی لگ رہی ہوں۔۔ انمول نے اُسکی توجہ اپنی طرف مبذول دیکھی تو شرارت سے کہا۔ وہ جانتی تھی وہ اُسکو نہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ دیکھ ہی کہا سکتا تھا جسکی آنکھوں میں کوئی اور سمایا ہو۔ وہ اِن ڈمپلز کے بھنور میں کہاں تھاوہ تو اِن میں سے کسی اور کو دیکھ رہا تھا۔

سوری۔۔ ایسی بات نہیں۔۔ فخر شرمندہ ہو گیا۔

زندگی کا کام چلتے جانا ہے یہ کسی کے جانے سے رُکتی نہیں۔ انمول کی نگاہیں دیوار پر لگی پینٹنگ کی طرف تھیں لیکن مخاطب وہ فخر سے تھی۔

رُکتی واقعی نہیں لیکن متاثرضرور ہوتی ہے۔ اِنسان کی زندگی میں ایک خلا رہ جاتا ہے جسکو کوئی پر نہیں کر سکتا۔ مرنے والوں پر صبرآجاتا ہے لیکن جو چھوڑ کر چلا جائے اُس پر نہیں۔۔۔

 یہ خلا وہی پرسکتا ہے جسکی وجہ سے ۔۔ انمول نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی

ممکن نہیں۔ فخر سمجھ گیا وہ کیا کہنا چاہتی ہے۔

سب کچھ ممکن ہے۔ صرف حوصلے کی ضرورت ہے، اپنی انا کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، ضرورت ہے فاصلے مٹانے کیلئے پہل کرنے کی۔ انمول نے چائے کا خالی کپ ٹرےمیں رکھا۔

حوصلہ ہوتا تو آج تنہا نہ ہوتا۔

کب تک تنہا رہیں گے؟ کب تک اندر ہی اندر گھلتے رہیں گے؟ انکل اورخالہ کو تو کوئی سروکار نہیں کہ کیا ہو رہا ہے ؟کیوں ہو رہا ہے؟ آخر کب تک ایسے چلے گا؟ آپی تو بالکل لاغرض ہیں اِس معاملے میں ۔۔اِن فیکٹ وہ اپنی نند کی شادی کروانے کے چکر میں ہیں۔۔ انمول نے غبار نکالا۔

جب تک سانس ہے یا جب تک امی ابو کو احساس نہیں ہو جاتاکہ میں کس۔۔

اوہ! ایکسکیوز می ! خالہ اور انکل کو احساس ہوتا تو آپ تنہا نہ ہوتے۔۔ آپکی تنہائی، اُداسی اور بے چینی دیکھ کر وہ لوگ اب تک اُسکو لے آتے۔ لیکن نہیں۔ اُنکوکیا ضرورت پڑی ہے۔ میں نے آج تک ایسے پیرنٹس نہیں دیکھے۔ ۔۔ انمول بات کاٹ کر بولی۔

وہ دو تین بار جا چکے ہیں ۔ لیکن وہ نہیں آنا چاہتی۔۔

نہ آنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری بات اُنکے اور آپکے جانے میں فرق ہے فخر ۔ ہم سفر آپ ہیں۔۔ آپ کتنی بار گئے؟

میری اُسکی کوئی لڑائی نہیں انمول۔ بحث اُسکی امی ابو سے ہوئی تھی اور وہ جا کر منا چکے ہیں مگر وہ اپنی ضد میں قائم ہے۔

آئی کانٹ بیلیو۔ جتنا میں آپکی وائف کو جانتی ہوں وہ ایسا نہیں کر سکتی۔  آئی مین وہ رِشتوں کی باریکیوں کو سمجھتی ہے، گھر بنائے رکھنا جانتی ہے  “۔۔

کیا کہہ سکتا ہوں۔ کاش کہ وہ امی ابو سے نہ اُلجھتی۔انمول نے دیکھا وہ اب بھی اپنے والدین کو ہی جسٹیفائی کر رہا ہے۔

کیوں؟ کیوں نہ اُلجھتی؟ جب تک وہ نہ اُلجھتی گتھی کیسے سلجھتی؟

کیا مطلب ؟۔۔ فخر نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

کچھ نہیں۔میں اِتنا کہہ رہی ہوں ماں باپ کے حقوق اپنی جگہ اور بیوی کے اپنی جگہ۔ ۔ تصویرکا ایک رُخ دیکھ کر فیصلہ کرنے والے مرد ہمیشہ نامراد رہتے ہیں جیسے کہ آپ۔۔ چند لمحوں کیلئے وہ خاموش ہو گئی

 کسی کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا فخر۔ سب اپنی زندگی میں مگن ہیں۔ آپی، خالہ، انکل۔۔۔ ہے کوئی جو زبانی کلامیکے سوا کچھ کر سکتا ہو آپکے لئے؟۔ ۔ وہ چپ تھا کیونکہ جو بھی تھا سچ تھا اورانمول اُسکو آئینہ بہت اچھی طرح دِکھا رہی تھی۔

آپ نے محبت کی ہے تو نبھائیں بھی۔۔ اگر وہ خفا ہے تو اسے منا لیں ۔ کیونکہ محبت ہمیشہ اس مان سے روٹھتی ہے کہ اسے منا لیا جائے۔ یہ مان ٹوٹنے نہ پائے۔ وقت آج بھی آپکی مٹھی میں ہے اگر یہ ہاتھ سے نکل گیا تو سوائے پچھتاوے اور محرومیوں کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔

اور ایک بات بتا دوں جو شاید آپکے علم میں نہیں۔ آپکی بہن آپکی شادی اپنی نند سے کروانے کا اِرادہ رکھتی ہیں۔ خالہ اِس معاملے میں اُن کیساتھ ہیں۔۔ انمول وہاں سے جا چکی تھی ۔ فخر کرسی کی پشت پر سر ٹکائے سوچ میں گم تھا۔ چہرے پر اضطراب، بے چینی، پشیمانی اور شرمندگی کے آثارمزید گہرے ہوچکے تھے۔

**************************

اللہ نے بیٹے سے نوازا تو زرنش اور اِبتسام کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ وہ دونوں پھولے نہ سما رہے تھے۔۔

دِن اُسی رفتار سے گزر رہے تھے۔ زرنش کی روٹین بدل چکی تھی۔ وہ رافع کیساتھ مصروف رہتی اُسکے چھوٹے چھوٹے کام کرتی۔ البتہ مسز غفور کی روٹین اب تک نہ بدلی تھی۔ سب کام اُسی طرح اُنکے ذمے تھے زرنش کی شادی سے پہلے، شادی کے بعد اور اب اولاد ہونے کے بعد بھی۔ وہ اب تک کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ کبھی ثمن ملنے آتی  یا رہنے کیلئے آتی تو کچن میں لگی یا اِدھر اُدھر کاموں میں لگی رہتی۔

اِبتسام ثمن اوراپنی ماں کو کام کرتا دیکھ کر زرنش کے سر ہو تاتو وہ شکایتی نظروں سے دیکھ کر رہ جاتی۔ آئے دِن بحث و تکرار ہونے لگی جس میں اِبتسام تکرار کرتا اور زرنش صفائی دینے کی کوشش میں چپ رہ جاتی۔

ثمن  ملنے کیلئے آتی ہے زرنش نہ کہ گھر کے کام نبٹانے۔۔۔ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئے کہا ۔ زرنشچپ رہی۔ اُسے چپ ہی رہنا تھا ۔بولنے کا فائدہ نہیں تھا۔

میں تم سے مخاطب ہوں۔وہ روٹیاں بنا رہی ہیں جا کر کچن میں اُسکا ہاتھ ہی بٹا دو۔۔ 

میں نے تو کہا تھا میں بنا لیتی ہوں۔ انہوں نے منع کر دیا جیسے امی منع کرتی ہیں۔ دو تین بار بولا بھی مگر۔۔ رافع کا ڈائپر تبدیل کرتے ہوئے زرنش نے کہا۔

یار بولا مت کرو کام کر لیا کرو ساتھ۔ صفائی کیلئے اور کپڑوں کیلئے ماسی آتی ہے مگر گھر کے اور بھی کام ہوتے ہیں دیکھ لیا کرو خود ۔ امی اکیلی لگی رہتی ہیں ۔ تھک جاتی ہیں۔ ثمن آکر ہاتھ بٹائے تو بٹائے۔ ابتسام بلاوجہ تپ گیا۔

مجھے اندازہ ہے اِبتسام لیکن وہ کچھ کرنے دیں تب نہ۔ جتنا ہوتا ہے وہ میں کرتی ہوں۔ امی مجھے کچھ کرنے دیتی کہاں ہیں۔ زرنش نے کہا

میں نے تو آج تک نہیں دیکھا کرتے۔ پہلے موبائل اور اب رافع۔ تم رافع کو چھوڑو تو وہ تمہیں کچھ بولیں۔ سارا وقت اپنے ساتھ چمٹائے رکھتی ہو وہ بیچاری کیا بولیں۔۔ خود ہی کرنے لگ جاتی ہیں۔ ٹائی اُتار کر بیڈ پر پھینکی۔

ایسی بات نہیں ہے۔ میں نے کئی بار کہا ہے رافع کو وہ سنبھال لیں تاکہ میں کام کر سکو ں لیکن وہ منع کر دیتی ہیں۔ میں زبردستی تو نہیں کر سکتی اُنکے ساتھ۔ نا چاہتے ہوئے بھی زرنش کا لہجہ تلخ ہو گیا۔

اور ویسے بھی شادی کے بعد سے اب تک امی کی روٹین وہی ہے۔ وہ مجھے کچھ کرنے دیتی کب ہیں۔ ۔ ثمن آئے تو سب اُسکے حوالے کرکے سکون کرتی ہیں لیکن مجھے کبھی کچھ کہا ہی نہیں کرنے کو۔ شکوہ زبان پر آہی گیا۔

تم کچھ کرنے والی ہو تو وہ کرنے دیں۔۔ اور کیا وہ کہیں گی تو تم کرو گی کچھ؟ تم میں خود سینس آف رسپانسیبیلیٹی نہیں ہے۔۔

کیا مطلب ؟ کیا میں کچھ نہیں کر تی؟۔۔ زرنش نے غم و غصے سے کہا

مجھے کیا پتہ۔ موبائل ٹیبل پر پٹخ کر وہ کمبل اوڑھے لیٹ گیا  جیسے مزید بات نہ کرنا چاہتا ہو۔ زرنش اُسکو دیکھتی رہ گئی۔

بدگمانیاں بڑھتی جا رہی تھیں اور فاصلے بھی۔ صبر کرتے کرتے وہ جبر کی سیڑھی پر قدم رکھ چکی تھی۔۔

**************

امی آپ کام مت کیا کریں۔ کوئی بھی کام ہو مجھے بول دیا کریں۔ یا کم از کم ہم مل بانٹ کر کام کرلیں۔۔اگلے دِن زرنش نے مسز غفور سے کہا جو سالن  بنا رہی تھیں۔

بول کر کام کروانے سے بہتر ہوتا ہے بندہ خود کام کرلے۔ ویسے بھی کام ہوتا ہی کتنا ہے۔

زرنش نے شکایتی نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو امی آپ نے کچھ کرنے دیا کب آج تک ۔ وہ جتنی بار کام کیلئے کچن میں جاتی مسز غفور سالن بنا رہی ہوتیں، کبھی آٹا گوندھ رہی ہوتیں، کبھی کچھ تو کبھی کچھ۔ سارا دِن وہ  کچن میں لگی رہتیں۔ اُسکے کرنے کو کیا رہ جاتا۔۔ 

 پھر بھی ۔ مجھے اچھا نہیں لگتا۔ایسا کریں ایک وقت کا کھانا آپ بنا لیا کریں ایک وقت کا میں ۔

 کھانا  میں اپنے طریقے سے بناتی ہوں۔ مسز غفور ٹس سے مس نہ ہوئیں۔ 

آپ اپنا طریقہ مجھے بتا دیں میں اُسی طریقے سے بنا لونگی۔۔ زرنش نے چاہت سے کہا

تمہارے ابا کو میرے ہاتھ کا کھانا ہی پسند ہے۔۔ اُنہوں نے عذر پیش کیا۔

زرنش کا دِل کیا کہہ دے کہ آپکو اپنے شوہر کی پسند کی پروا ہے۔۔میرے شوہر کی پسند کا کیا؟ وہ بھی چاہتا ہے کہ اپنا پسندیدہ کھانا کھائے جو آج تک بنا نہیں ۔۔ پر وہ کہہ نہ سکی۔

اِبتسام مجھ سے اُلجھتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں میں کچھ کرنا نہیں چاہتی۔ آخر  میرے کام کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟ ۔۔ اُس نے کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا۔

حرج کیوں ہونے لگا تمہارا گھر ہے جو چاہو کرو۔ جو میں کرتی ہوں وہ مجھے کرنے دو۔ رہی بات تم دونوں کی تو وہ تمہارا اور اُسکا مسئلہ ہے۔

مسئلہ اِس گھر کو لیکر ہی ہے امی۔ ورنہ ہماری زندگی بہت سموتھ چل رہی ہے۔۔

دیکھوبیٹا تمہارا جو دِل چاہتا ہے کرو۔ میں نے روکا تھوڑی ہے۔ چلوایسا کروایک وقت کا کھانا بنا لیا کرو۔جانے کیا سوچ کر اُنہوں نے حامی بھری۔۔مگراُن کا یہ کہنا ہی کافی تھا۔گویا زرنش پر احسان کیا گیا۔

***********************

رات کا کھانا بنانا زرنش کے ذمے کر دیا لیکن کیا پکے گا یہ مسز غفور بتاتیں اور کس طریقے سے بناناہے یہ بتانا وہ ہرگز نہ بھولتیں۔ زرنش نے اعتراض بھی نہ کیااُسکو یہ ذمے داری مل گئی اُسکے لئے کافی تھا۔۔

ارے واہ!چائنز رائس۔۔ واؤ۔۔ مائی فیورٹ ۔۔ اِبتسام پہلی بارگھر پر اپنی پسند کا کھانا کھا رہا تھا۔

کباب ۔۔ ہمم۔۔ مزہ اگیا۔۔  کھانا تو لاجواب بنا ہے۔۔ 

نمک  تھوڑا زیادہ ہے۔ کباب کا مصالحہ بھی ہلکا ہے۔ یہ سپائسی اچھے لگتے ہیں۔۔ مسز غفور نےنوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا ۔

  آپ کم نمک کھاتی ہیں امی اِسلئے  آپکو زیادہ لگ رہا ہے۔۔ اِبتسام نے کھاتے ہوئےکہا

نمک کم ہی کھانا چاہیے برخوردار ۔ آئندہ دھیان رکھنابیٹا۔۔ غفور احمد نے کہا۔

زرنش جی اچھا کہہ کر رافع کو کھانا کھلاتی رہی۔  اِبتسام کو  کھانا اچھا لگا اُسکے لئے اِتنا ہی کافی تھا۔

ایسا روز ہی ہونے لگا۔ کبھی نمک زیادہ لگتا تو تیل کم، کبھی گوبھی ہپا لگتی تو کبھی کہتیں بھنڈی کچھ زیادہ ہی کھڑی کھڑی بنی ہے۔ الغرض زرنش کو ہر وقت تنقید کا سامنا رہتا ۔ وہ یوں سمجھاتیں جیسے اُسکو کھانا بنانا نہیں آتا۔  جب بھی زرنش کھانا بنانے کھڑی ہوتی اُنکے مشورے جاری رہتے ایسے بناؤ ایسے نہ بناؤغیرہ۔۔

ثمن تم کھانے کا دیکھ لو۔ میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی ۔۔ ۔ چائے کی ٹرے رکھتے ہوئے زرنش کے چہرے کے بدلتے تاثرات کواِبتسام اور دانیال دونوں نے محسوس کیا۔

آج تو  بھابھی کے ہاتھ کا کھانا ہو جائے۔ ذائقہ تبدیل کر لینے میں حرج نہیں۔۔ کیوں بھابھی؟۔۔ دانیال نے کہا تو اِبتسام نے ہاں میں ہاں ملائی۔

کیوں نہیں۔ آپ کیا کھائیں گے بتا دیں؟۔۔ زرنش نے کہا۔ لہجے میں مان ٹوٹ جانے کا دُکھ تھا۔۔

کچھ بھی اچھا سا بنا لیں۔ میں سب کھا لیتا ہوں سوائے سبز پتوں یعنی پالک، میتھی اورساگ کے۔۔ 

ارے بیٹا نمک تیل کا حساب کتاب اِسکو کہاں پتہ چلتا ہے۔ ثمن ماہر ہے کوکنگ میں۔ اِسکے ہاتھ میں لذت ہے ۔۔ مسز غفور نے کہا۔زرنش کا اپنا آپ بے وقعت سا لگا۔

ثمن کے ہاتھ کا کھانا روز ہی کھاتا ہوں ماں جی۔ آپکے ہاتھوں کا کھانا پندرہ دِن بعدکھاتا ہوں۔۔ بھابھی کے ہاتھوں کا کھانا آج تک نہیں کھایا۔ پتہ چلے یہ کیسا بناتی ہیں۔۔ ثمن نے عجیب سا منہ بنایا۔۔

امی زرنش بہت لذیذ اور خوش ذائقہ کھانا بناتی ہے۔۔ اِبتسام بول پڑا۔۔ اُسکو حقیقتاً برا لگاتھا۔ زرنش کے چہرے پر شرمندگی کے آثار مدھم پڑنے لگے۔ اُس نے تشکر بھری نگاہوں سے اِبتسام کو دیکھا۔

ڈائننگ ٹیبل پر ہر چیز ترتیب سے رکھی ہوئی تھی جس سے اُسکے سلیقے کا پتہ چلتا تھا۔۔ تکہ، چکن بریانی، کباب،  رائتہ، رشین سیلڈ ۔۔ دانیال اور اِبتسام ہر نوالے کیساتھ ساتھ کھانے کی تعریف کرتے جاتے۔

یہ تو بالکل شادی کا کھانا لگ رہا ہے۔ لذیذ۔ مزہ آگیا بہو۔۔ غفور  احمد نےتکہ کھاتے ہوئے کہا ۔ سسر کے منہ سے پہلی بار تعریف سن کر وہ بے حد خوش ہوئی۔ اُسے لگا محنت وصول ہو گئی۔۔

چاول میں کنی ہے بیٹا، کباب تم ہمیشہ ہی پھیکے بناتی ہو۔ میں نے کہا بھی تھا یہ سپائسی اچھے لگتے ہیں ۔۔ مسز غفور نے کہا۔ دانیال اپنی ساس کے رویےپرحیران تھا۔ اُنکی شخصیت کا یہ پہلو اُس سمیت سب سے مخفی تھا۔

بھابھی آپ ثمن کو گول گول اور پتلی روٹی بنانا سیکھا دیں۔۔ گول گول چپاتی اپنی بیگم کو دِکھاتے ہوئےمران نے مزا ق سے کہا۔ 

بیٹا آپ سیلڈ کھا لیں۔ کھانے میں مرچیں بہت ہیں۔۔ ثمن نے ناگواری سے زرنش کو دیکھ۔۔

میں چکن بریانی لونگا۔۔ آئی لو دِس ۔  ضیغم نے کہا۔

بھابھی رشین سیلڈ اور تکہ بچ جائے توامی اور ثوبیہ کیلئے تھوڑا سا پیک کر دیجئے گاپلیز۔۔

یہ کوئی کہنے کی بات ہے بھائی۔ ٹیبلنگ سے پہلے ہی میں نے سب پیک کر دیا تھا ۔۔

سو نائس آف یو۔۔ بہت شکریہ بھابھی۔۔ خوش رہیں۔۔ 

ثمن کے جانے کے بعد زرنش نے شکر ادا کیا کہ سب اچھے سے ہوگیا۔

**********************

آہستہ آہستہ زرنش کوثمن اور مسز غفور کے رویے، ڈپلومیٹک پرسنالیٹی اور دوغلی باتوں کی سمجھ آنے لگی۔ اب جہاں ضرورت پڑتی وہ اپنا دفاع کرتی۔

ماش کی دال بنا لو۔ ذرا کھڑی کھڑی رکھنا۔ کھچڑی نہ بنا دینا۔ ساتھ میں سلاد بنا لینا۔۔ 

اِبتسام ماش کی دال نہیں کھاتے۔ ساتھ میں کچھ اور بنا لیتی ہوں۔۔

ایک تو یہ لڑکا بھی نہ۔ ہر چیز میں نخرے۔۔ آلو مٹر بنا لو۔۔ 

زرنش نے مزید کوئی جواب نہ دیا۔چپ چاپ اپنا کام کرتی رہی۔ فریج سے مٹن نکالا مصالحہ لگا کر واپس رکھ دیا۔

یہ کوئلہ کس لئے؟۔۔ چولہے پر کوئلہ دیکھا تو پوچھا۔۔

مٹن کڑاہی بنائی تھی۔ کوئلے کا دھو۔۔

تم سے کہا تھا آلو مٹر بنا لو۔۔ زرنش کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بول پڑیں۔۔

امی روز دال سبزی کھاتے ہیں۔ کبھی ایسا کچھ بن جائے تو کیا حرج ہے؟۔۔

حرج ہے۔ گھر کا بجٹ آؤٹ ہو جاتا ہے۔ ۔ ثمن آتی ہے تو کتنا کچھ بنتا ہے ماشاء اللہ سے۔۔

امی وہ تو اُنکے لئے بنتا ہے وہ بھی دو ہفتوں بعد۔ وہ ہمارے لئے ہی کماتے ہیں۔ اُنکے کھانے پینے کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔۔

کیا مطلب میں خیال نہیں رکھتی۔۔

میں نے ایسا کب کہا امی۔ میں تو اِتنا کہہ رہی ہوں کہ

بس بس۔۔ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ تمہیں تھوڑا سا اِختیار کیا دے دیا چلی اپنی مرضی کرنے۔

مرضی؟ وہی تو نہیں کر سکتی امی جبکہ ثمن جب بھی آتی ہے آپ کچن اُسکے حوالے کر دیتی ہیں۔ کیا بنانا ہے کیسے بنانا ہے پلٹ کر نہیں پوچھتیں۔ اصولاً تو یہ حق میرا ہے اور۔۔ زرنش کا لہجہ شکوہ کناں ہو گیا۔

ثمن ہفتے دو ہفتے بعد ایک آدھ دِن کیلئے آتی ہے تمہیں پھر بھی اُس پر اعتراض ہے ۔۔

مجھے اُسکے آنے پر کیوں اعتراض ہونے لگا امی؟ اُسکا میکہ ہے وہ ہزار بار آئے۔ میں بات کچھ اور کر رہی تھی۔۔

بات جو بھی ہو۔ آئندہ کوکنگ میں خود ہی کرونگی۔ ۔ پورا اِختیار دے دیتی تو جانے کیا کرتی۔۔ ہنہ۔۔

امی اگر میں کوکنگ نہیں کر سکتی تو ثمن بھی نہیں کرے گی ۔۔

وہ میری بیٹی ہے جو چاہے کرے۔۔

زرنش نے کوئی جواب نہ دیا۔ اپنی ساس کا کھلم کھلا رویہ دیکھ کر اُسکا دِل عجیب سا ہو گیا۔ اُسے لگتا تھا اُنکی فطرت ایسی ہے حکم دینا اور اپنی اہمیت جتانا۔۔ اِس روپ کی توقع اُس نے کبھی نہ کی تھی۔

تم لوگ بھی کیا باتیں لیکر بیٹھ گئے ہو۔۔ دیکھو بہو جو تمہارے ذمے جو کام ہیں تم وہ کرو۔ باقی تمہاری اماںدیکھ لیں گی کسطرح کرنا ہے ۔ رہی بات ثمن کی تو اُسکا تمہارا مقابلہ نہیں۔ وہ بیٹی ہے گھرکی اور تم بہو۔۔مسٹر غفور نے اپنے تئیں بات ختم کی۔۔

میں جانتی ہوں میں بہو ہوں اور وہ بیٹی۔ ویسے بھی میرے ذمے صرف میرے بیٹے کے ہی کام ہیں۔ غفور احمد کو بیٹی اور بہو کے واضح فرق جتلانے پر زرنش کا دِل کٹ کر رہ گیا۔

********************

محبت آب جیسی ہے، سبھی کچھ لے گزرتی ہےآپ یہاں ہیں۔ میں آپکو ہر جگہ تلاش کرکر تھک گئی۔۔ انمول کا سانس پھولا ہوا تھا۔ فخر کو قریبی پارک میں بیٹھا دیکھ کر شکر کا سانس لیا۔

خیریت؟ مجھے کس لئے تلاش کیا جا رہا تھا؟ کچھ رہ گیاتھا کیا سنانے کو؟۔۔ انمول کو دیکھ کر ڈائری بند کر دی۔

ہنہ۔ میں نے کیا سنانا۔ میں نے تو ہمیشہ وہی کہا جواصولاً آپکو کرنا چاہیے تھا۔ مگرآپکے کانوں میں جوں نہیں رینگی۔ خیر۔۔ مجھے کیا۔ زندگی آپکی ہے۔ کیسے گزارنی ہے آپکو بہتر معلوم۔۔ انمول نے مصنوعی  لاپروائی سے کندھے اچکاتے ہوئےکہا۔

میں نے مذاق کیا ہے تم سنجیدہ ہوگئی۔۔ فخر نے کہا

مذاق۔۔ ہنہ۔۔ زندگی مذاق نہیں فخر ۔۔

جانتا ہوں۔۔ لمبا سانس لیا۔

اچھا؟ جانتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں خرابی یہی ہے۔۔

چھوڑو ۔۔ یہ بتاؤ مجھے کیوں ڈھونڈ رہی تھی؟۔۔ فخر نے بات بدلی

میں جا رہی ہوں۔ شام کو ابو آئیں گے لینے۔۔ انمول نے کہا۔

اِتنی جلدی؟۔۔ 

جلدی ؟۔۔ ڈیرھ ماہ ہو گیا ہے جناب۔ ۔۔ واپس بھی جانا ہے۔ کلاسز شروع ہونیوالی ہیں۔۔ انمول نے کہا

ٹی پنک سوٹ پہنے سر پر ہم رنگ سکارف لئے وہ ہمیشہ کی طرح معصوم لگ رہی تھی۔فخر کا دِل عجیب سا ہو گیا۔ ایک وہی تو ہے جو اُسکو آگے بڑھنے حوصلہ دیتی ہے۔

وقت کیسے گزر گیا پتہ بھی نہیں چلا۔۔ وہ بڑبڑایا جسے انمول نے سن لیا۔

وقت کہاں گزرا ہے۔ یہ اب بھی آپکے ہاتھ میں ہے۔۔ انمول نے اپنا نازک ہاتھ فخر کے ہاتھ پر رکھا۔ اُس نے سر اُٹھا کر دیکھا۔۔انمول کی آنکھوںمیں کیا کچھ نہیں تھا مان، بھروسہ، اِلتجا، اپنی باتوں کی پاسداری کا یقین۔

کسی کے صبر کا اِتنا اِمتحان مت لیں کہ وہ خود کو آپکے بغیر رہنے کا عادی بنا چکا ہو اور جب آپ واپس مڑیں تو دروازے بند ملیں ۔۔  انمول نے کہا تو فخر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

تھینکس تم نے میرا بہت ساتھ دیا ہے۔حوصلہ دیا ہے اپنے لئے راہ بنانے کا۔ جو کام اپنوں کو کرنا چاہیے تھا وہ تم نے کیا ہے۔۔

میں بھی آپکی اپنی ہی ہوں اگر سمجھیں تو۔۔

بے شک۔۔ میں تمہارا احسان مند ہوں۔ آئی ایم بلیسڈ وِد ونڈرفل فرینڈ الحمدللہ۔ 

یس یو آرمسٹر فخر۔۔ ۔ تھینکس کی ضرورت نہیں۔۔ انمول نے کالر جھاڑ کراِک ادا سے کہا۔

اُسکی ہنسی کی جلترنگ سے اُداسی و مایوسی کا غبار چھٹ سا گیا۔ فخر کو لگا خوشیاں اب بھی ُاسکی منتظر ہے، زندگی پھر سے جینے کیلئے دستک دے رہی ہے ۔ بند در اُسے خود ہی کھولنا ہوگا۔

 توووو کیا میں ہاں سمجھوں؟۔۔ انمول نے سوالیہ نظروں سے دیکھاتو فخر نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا۔

تھینک یو سو مچ!! میں آپکے فون کاشدت سے اِنتظار کرونگی۔۔ انمول نے مسکراتے ہوئے کہا اورلمبے لمبے قدم بھرتی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔

************************

 آج تم نے امی سے کس طرح بات کی ؟۔۔ آفس سے آتے ہی وہ زرنش کے سر ہو گیا۔

کیا مطلب کس طرح؟۔۔  وہ سمجھ چکی تھی وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا۔

تم اچھی طرح جانتی ہو میں کیاپوچھ رہا ہوں۔۔ تم نے امی سے بدتمیزی کی ۔۔

بدتمیزی میری تربیت میں شامل نہیں اِبتسام۔۔ اُس نے دُکھ سے کہا۔نہ چاہتے ہوئے بھی لہجہ بھر گیا جسے محسوس کرکے بھی اِبتسام نے نظرانداز کیا۔

اپنے سے بڑوں کے آگے سخت لہجہ بدتمیزی میں ہی شمار ہوتا ہے۔۔

 میں نے سخت لہجہ استعمال نہیں کیا۔۔

تو کیا ہم جھوٹ کہہ رہے ہیں؟۔۔ غفوراحمد اُنکے کمرے میں آگئے

ابو میں بات کر رہا ہوں ۔ آپ چپ کر جایئے۔۔

کیوں چپ کریں؟ بڑے ہیں اس گھر کے یہ معاملہ ہمارا ہے، اس گھر کا ہے۔ ہاں تو اب بولو کیا جھوٹ بولا تمہاری ماں نے؟۔۔ وہ دوبارہ زرنش سے گویا ہوئے

ابو آپ پلیز جائیں۔ میں بات کر رہا ہوں۔۔ 

 میں نے کوئی ب تمیزی نہیں کی امی سے۔۔ ابتسام کی بات کو نظرانداز کرکے وہ غفور احمد سے مخاطب ہوئی۔

بڑوں کے آگے بدزبانی کو بد تمیزی میں ہی شمار کیا جاتا ہے بیٹا۔۔  مسز غفور نے پہلی بار زبان کھولی ۔۔

پوچھو اِس سے جو کہتی ہے کہ ثمن کچن میں نہیں جائے گی۔ کیوں نہیں جائے گی وہ بھئی۔ بیٹی ہے ہماری۔

جی کہا تھاابو پر کیوں کہا یہ بھی آپ ہی بتا دیں۔۔ ۔ جب امی نے مجھے صاف منع کر دیا کہ میں کھانا نہیں بنا سکتی تومیں  نے جواب میں کہا تھا یہ۔اگر مجھ پر پابندی تو ثمن تو اپنے گھر کی ہے اب۔۔

بس بس جانے دو۔ معلوم ہے تم نے کیا کہا تھا۔ ہنہ؟۔۔ غفور احمد بھڑک اُٹھے

میں بیٹی ہوں اِس گھر کی۔ یہ گھر میرا بھی ہے۔ یہاں کچھ بھی کرنے کیلئے مجھے کسی کی اِجازت کی ضرورت نہیں۔۔ ثمن جانے کب آئی۔ 

تمہاری بات نہیں ہو رہی ثمن۔ تم اندر جاؤ۔۔ اِبتسام نے ثمن کو منع کیا تاکہ بات بڑھ نہ جائے۔۔ 

تم بیٹی ہو تو پھر میں کون ہوں؟  میری خواہشات و ضروریات کاکیا؟ اُنکو پورا کرنا کس کے ذمے ہے؟ یہ، یہ ایک بچے کا باپ ہوکر اپنے پاس اِتنے پیسے نہیں رکھتے کہ بچے کی اور میری ضروریات پوری کر سکیں ۔ مجھے اِس بات کا دُکھ نہیں کہ بیٹی اور داماد کیلئے ہر ہفتے من پسندکے کھانے بنتے ہیں ۔ دُکھ اِس بات کا ہے کہ تب گھر کا بجٹ آؤٹ نہیں ہوتا مگر بیٹے کو وہی دال سبزی پھر بھی پیسوں کی تنگی کا رونا ۔ یہ کما کر لاتے ہیں پرمیں کبھی اِنکی پسند کی ایک ڈِش نہیں بنا سکی۔ اگر تھوڑا سا اِختیار مل گیا اور میں اپنے شوہر کی پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ کرنے لگی تو اعتراض کیوں؟ امی کوکبھی بنانے کی توفیق ہوئی اور نہ ہی اِنہوں نے کھانے کی فرمائش کی۔ آپکا شوہر  پیسے آپکے ہاتھ میں رکھتا ہے،، جیسے مرضی اپنا گھر چلائے۔۔ جبکہ یہاں، یہاں ہر چھوٹی بڑی چیز کیلئے پیسے مانگنا پڑتے ہیں وہ بھی خرچہ  بہت ہوگیا کہہ کر بات اگلے مہینے پر ڈال دی جاتی ہے۔۔ آپکو آپکے بچوں کو دینے کیلئے فوراً پیسے آجاتے ہیں جبکہ۔۔۔۔ بات کرتے کرتے وہ ہانپ گئی۔

 دیکھ لیا بھائی۔ کس طرح میرے خلاف اِتنا کچھ دِل میں رکھ کر بیٹھیں ہیں یہ۔۔ میری ساس اورشوہرنے  گھر کی ساری ذمہ داری مجھ پر ڈالی ہےکیونکہ وہ جانتے ہیں کہ میں ذمہ داری پوری کرنے کی اہل ہوں۔آپ اپنا محاسبہ کریں۔۔ غیر ذمہ دار ہیں آپ۔۔ 

غیر ذمہ دار؟ ہنہ!! میں غیر ذمہ دار ہوتی تو تمہاری طرح میں بھی ہر ہفتے اپنے میکے کے چکر لگاتی۔۔

وہ جب مرضی آئے  تم ہوتی کون ہوہماری بیٹی کے آنے پر اعتراض کرنیوالی؟۔۔ غفور احمد تنک گئے

چپ کر جائیں خدا کا واسطہ۔ دماغ خراب کرکے رکھ دیا ہے آپ لوگوں نے۔۔ اِبتسام سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔

 مجھے کیوں اعتراض ہونے لگا۔ آپ چاہیں تو گھر پر بٹھا لیں۔۔ 

اِنف اِز اِنف یار۔ حد میں رہو۔ بڑے ہیں وہ تمہارے۔۔ ابتسام پہلی بار اُس سے اونچی آواز میں مخاطب ہوا۔

حد؟ میں ہی اپنی حد میں رہوں؟ باقی سب کی حدود کا کیا؟۔۔اِن باتوں پر کب تک صبر کروں؟۔۔

کون سے تم پر ظلم کے پہاڑ توڑ ے ہیں بیٹا جو تم صبر کر رہی ہو؟ سب کام بیٹھے بٹھائے ہو جاتے ہیں۔ شوہر اچھا ہے ، عزت کرتا ہے ہر خواہش پوری کرتا ہے ۔ کس بات پر صبر کر رہی ہو؟۔۔ وہ آج  روایتی ساس بنی ہوئی تھیں۔

اِتنا کچھ بتا  یا وہ کافی نہیں۔۔ وہ بڑبڑائی۔۔

 بڑبڑکرنے کی ضرورت نہیں؟۔۔ مسز غفور نے کہا

 اپنی مرضی کے مالک ہیں۔۔ بھاڑ میں جاؤ سب۔۔ ٹیبل کو ٹھوکر مارتا وہ باہر نکل گیا۔ زرنش دُکھ سے دیکھتی رہ گئی۔ 

سب کچھ اُس کے سامنے تھے۔ زرنش نے ساری باتیں اُسکے سامنے رکھ دیں تھیں۔سمجھنے کیلئے بہت کچھ تھا۔ وہ چاہتا توسمجھ بوجھ سے مسئلے کو حل کر سکتا تھا لیکن جب بندہ ہوش کھو کر جوش و غصے میں آتا ہے تو ایسے ہی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ بات بڑھتے بڑھتے اتنی آگے بڑھی کہ زرنش کو جھکنا پڑا، ہارنا پڑا۔ وہ اپنا موقف بیان کرنے میں کامیاب رہی لیکن مدِ مقابل کےدِل میں بغض اور کینہ ہو تو کوئی بھی دلیل کام نہیں کرتی۔ ہر بات تکرار لگتی ہے، اپنا حق مانگنا اور حق کی بات کرنا بدتمیزی میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ اکیلی کہاں تک اپنا دفاع کرتی، کہاں تک اُنکو قائل کرتی۔ جب ساتھ دینے والا ہی راہِ فرار اِختیار کر گیا تو اُسکے کہے کی کوئی وقعت رہ نہیں جاتی تھی۔ سو اُس نے بھی خاموشی سے راہِ فرار اپنائی۔

*****************

محبت باد جیسی ہے، سبھی کچھ روند سکتی ہے

چارگھنٹوں بعد واپس آیاتو گھر بائیں بائیں کر رہا تھا۔ ۔کمرے میں گیا پر خالی کمرہ اُس منہ چڑھا رہا تھا۔ والدین  کے کمرے میں گیا تو غفور احمد اخبار پڑھنے میں مگن تھے ۔ مسز غفور کمبل اوڑھے سکون کی نیند لیٹی ہوئی تھیں۔

زرنش نظر نہیں آ رہی؟۔۔

چلی گئی ہے۔۔ سکون سے جواب دیا گیا۔

چلی گئی ؟؟ کہاں چلی گئی؟۔۔

اپنے ماں باپ کے گھر اور کہاں جانا ہے اسکو۔۔ غفور احمد نے اکھڑے لہجے میں کہا۔

واٹ؟مگر کیوں؟  میں سمجھا تھا آپ لوگ خود ہی معاملات ہینڈل کر لیں مگر۔۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔

وہ گھر سنبھالنے والی ہوتی تو اِتنی سی بات پر گھر چھوڑ کر نہ جاتی۔ سمجھداری سے معاملات ہینڈل کرتی۔۔۔غفور احمداُسکو سنا کر دوبارہ اخبار میں گم ہو گئے۔

اِبتسام کو زرنش سے اِس  بات کی ہرگز توقع نہیں تھی۔ اُسے لگا وہ تحمل مزاجی اور عقلمندی سے اِس معاملے کو ختم کرے گی لیکن وہ گھر چھوڑ کر چلی جائے گی یہ بات اُس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔۔

اُس کے وہم و گمان میں تو بہت کچھ نہ تھا۔۔ ماں کا منافقانہ رویہ، بہن کی دُوراندیشی، دونوں ماں بیٹی کی دوغلی شخصیت۔۔ 

وہ نہیں جانتا تھا کہ کس طرح اُسکے جانے کے بعد کس طرح ثمن اور ساس نے مل کر اُسکو ذہنی ٹارچر کیا۔ وہ جتنا دفاع کر سکتی تھی کیا مگر جب مدِ مقابل کے عزائم ناپاک ہوں اور دِلوں میں میل ہو تو کسی کوکچھ سمجھانا بیکار جاتا ہے۔۔۔ آخرکار وہ ہار گئی اور بیٹے کو لیکر چلی گئی۔۔

ویران سی گلیاں ہیں دَر و بام ہیں خاموش

شاید کہ میرا شہر کوئی چھوڑ گیا ہے!!

دن گزرتے رہے۔ وہ کال ملاتا لیکن اُسکانمبر بند تھا۔۔عجیب دوراہے پر آکھڑا ہو اتھا وہ۔۔  گھر جانے کی ہمت وہ کر نہیں پا رہا تھا۔ ماں باپ نے سختی سے منع کردیا کہ خود گئی ہے تو  خود ہی واپس آئے۔۔ جب جب نمبر ملاتا بند ملتا۔۔ ُاسکا  غصہ مزید بڑھ جاتا۔۔۔ ایک بارپھر منتیں کرکے دونوں کو زرنش کے گھر بھیجا ۔۔

اب کے ہم نہیں جانیوالے۔ سمجھے۔ یہ صحیح ہے بھئی۔ اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ غلطی بھی اُسکی اور منائیں بھی ہم۔۔ ہنہ۔۔  دونوں میاں بیوی نے ہری جھنڈی دِکھا دی۔

تمہیں کونسا لڑکیوں کی کمی ہے۔۔ میری بہن کی بیٹی نہ صحیح۔ ثمن کی نندبہت اچھی ہے ،سمجھدار ہے ۔ میں اپنے بیٹے کیلئے بات کرونگی۔۔

فار گاڈ سیک امی۔ وہ میری بیوی ہے میرے بیٹے کی ماں۔ آپ لوگ بجائے کچھ کرنے کے دوسری شادی کی بات کر رہے ہیں۔ کیا ہو گیا ہے آپ لوگوں کو۔۔ وہ حیران رہ گیا۔

 تمہارے کہنے پرگئے تھے۔ نہیں آئی۔۔ اب کیا ہاتھ جوڑ کر لائیں واپس؟ ہماری بھی عزتِ نفس ہے بیٹا۔۔ مسز غفور نے کہا اور بیگ اُٹھاتی کمرے میں چلی گئیں۔

*********************

بھائی آپ؟  آج میرے گھر کیسے آگئے؟۔۔ ثمن نے اِبتسام کو دیکھا تو حیران ہو گئی۔

کام تھا کچھ۔

 معلوم ہے کام سے ہی آئے ہیں ورنہ اِتنے سالوں میں کبھی نہیں آئے۔۔ مصنوعی خفگی سے کہا۔

تم زرنش کو فون کرو کہ وہ واپس آجائے۔۔ بنا لگی لپٹی وہ اصل بات کی طرف آیا۔

میں؟ امی ابو دو بارگئے ہیں منانے۔ اُنکی  بات نہیں مانی تو میرے فون کال کی کیا اہمیت۔۔ ثمن نے تکا سا جواب دیا۔

ممکن ہے وہ تمہاری سن لے۔ ایک بار فون تو کرو۔۔

آپ بیٹھیں میں کچھ لاتی ہوں۔۔ ثمن نے ٹالنا چاہا

 تھینکس مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ ۔ تم پلیزفون کرو۔۔

میرے فون کرنے سے کیا ہوگا؟ وہ کونسا مجھے اپنا سمجھتی ہے۔ دیکھا نہیں کیسے اُس دِن۔۔

فون کر سکتی ہو تو بتا دو۔۔ اِبتسام نے بات کات کر کہا۔

میں کھانا بنا رہی ہوں بھائی۔ فارغ ہو کر کرونگی۔

ابھی کر لو، پلیز ۔۔ وہ گرگڑایا۔

 میں سالن کا چولہا ہلکا کر کہ آتی ہوں۔۔ وہ کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔

ارے آپ؟ السلام علیکم! کیسے ہیں؟ کتنے ٹائم بعد آئے ہیں۔۔ ثوبیہ نے دیکھتے ساتھ ہی سوالات کر ڈالے۔

ٹھیک ہوں۔ کام تھا ثمن سے اسلئے آنا پڑا۔۔ مختصر سا جواب دیا۔

ہمم یعنی کام کے سلسلے میں آمد ہوئی ہے۔۔ وہ چپ رہا۔ مزید جواب نہ پا کر وہ  خاموش ہو گئی۔

کیسے ہو بیٹا؟ ۔۔ رخشندہ بیگم کے آنے پر کھڑے ہو کر سلام کیا۔

میں ٹھیک ہوں آنٹی الحمدللہ۔ یہاں سے گزرا تو سوچا مل لوں۔۔ 

اچھا کیا۔ چکر لگاتے رہا کرو۔ کچھ پوچھا بھی ثمن نے یا یونہی بٹھایا ہوا ہے؟۔۔

نہیں آنٹی کچھ کھانے پینے کی طلب نہیں بس ملنا تھا۔۔

نہ نہ آج ایسے تو نہیں جانے دونگی۔ ثمن نے قیمہ بھرے کریلے بنائے ہیں۔ کھا کر ہی جانا ۔ بلکہ امی کیلئے لیکر جانا۔ فوزیہ کو بہت پسند ہیں۔۔ رخشندہ بیگم نے ہنستے ہوئے کہا۔ عمر میں وہ اُسکی والدہ سے چھ سال چھوٹی تھیں۔ دھان پان سی ہر وقت نک سک تیار رہنااُنکو پسند تھا۔ 

آپکے ہاتھوں سے بنے ہوتے تو ضرور کھاتا۔۔ بہانہ بنایا۔ 

نہ بھئی میں تو کچن میں نہیں جاتی۔۔ اِشتیاق صاحب کو بول دیا تھا مجھے اب کچھ مت کہا کریں۔ بہو آگئی ہے وہ جانے اُسکا کام۔ کیا بنانا ہے کیسے بنانا ہے، کیا لانا ہے، گھر کو کیسے سنبھالنا ہے سب ثمن کے ذمے ہے۔ جو کھانا ہے بہو سےفرمائش کریں۔۔ رخشندہ بیگم نے تفصیلی جواب دیا تو اِبتسام کو زرنش کا شکوہ یاد آیاجب اِبتسام نے شادی کے کچھ دِن بعداُسکے ہاتھوں سے بنے نرگسی کوفتے کھانے کی فرمائش کی۔امی اپنی مرضی سے کھانابناتی ہیں ۔ میں روٹی تک نہیں بنا سکتی جب تک وہ نہ کہیں ۔۔ آپ نرگسی کوفتوں کا کہہ رہے ہیں۔۔

امی آپکو کچھ منگواناہے؟ میں اور دانیال آج مارکیٹ جا رہے ہیں۔ بچوں کیلئے شاپنگ کرنی ہے۔ مجھے اپنے بھی کچھ سوٹ چاہیے۔۔ چائے میں چینی ملاتے ہوئے ثمن نے اپنی ساس سے پوچھا۔

نہیں بیٹا کسی چیز کی ضرورت نہیں۔۔ اچھا میں ذرا نماز پڑھ لوں۔ تم بھائی کو چائے پانی دو۔ کھانایاد سے کھلا کر بھیجنا۔۔

یہ سموسے لیں نہ بھائی۔ ثوبیہ نے بنائے ہیں۔ بہت مزے کے کھانے بناتی ہے۔۔ ثمن نے ثوبیہ کی طرف دیکھتے ہوئے ۔

اُس نے سموسمہ اُٹھا کر پلیٹ میں رکھا۔وہ ثوبیہ کی موجودگی کو مسلسل نظر انداز کر رہا تھا ۔ ثوبیہ اِس بات کو محسوس کر سکتی تھی۔  

 آپ چائے پئیں میں جب تک میں فون کرتی ہوں۔۔ وہ نمبر ملاتے ملاتے وہاں سے چلی گئی۔

آپ اُنکے لئے اِتنے بیقرار ہیں ۔۔ اُنکو آپکی پروا ہی نہیں۔ورنہ رابطہ ضرور کرتیں ۔۔ثوبیہ نے کہا۔۔

mind your own business. Please stay away from my personal matters۔ اُس نے حتی الامکان لہجہ متوازن رکھتے ہوئےجواب دیا۔ ثوبیہ کے چہرے پر خفت کے آثارتھے۔۔

نمبر آف ہے۔۔ کافی دیر کوشش کرنے کے بعدثمن نے کہا۔

اوہ ! بھول گیا۔ اُسکا نمبر تو کب سے بند ہے۔۔ اُس نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔

خیر ۔ میں اب چلتا ہوں۔۔ والٹ اور گاڑی کی چابی پکڑتے ہوئے کہا۔

کھانا تو کھا لیں بھائی۔۔ 

بھوک نہیں چندہ۔۔

مزید کچھ سنے وہ وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا۔

*****************

دیکھا تم نے اُس نے میری طرف دیکھا تک نہیں۔۔ ثوبیہ نے غصے سے کہا۔

اوہ کم آن یار۔ تم ٹینشن کیوں لیتی ہو۔ اب توامی ابوبھی ہمارےساتھ ہیں۔کب تک فرار رہیں گے۔۔ آخر کو تو گھر بسائیں گے۔۔ ہم سب مل کر راضی کر لیں گے۔۔

دانیال بھائی مان جائیں گے؟ وہ زرنش کی بہت تعریفیں کرتے ہیں ۔۔

تمہارے بھائی میری ہر بات پر آنکھیں بند کرکے یقین کرتے ہیں۔۔

آپکے بھائی ؟ اگر کسی دِن وہ زرنش کو لینے گھر چلے گئے تو؟ دیکھا نہیں کیسے بے چین ہو رہے ہیں۔۔ ثوبیہ نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔

محبت جوش مار رہی ہے۔ خود ہی ٹھنڈی پڑ جائے گی۔ وہ کبھی نہیں جائیں گے زرنش کو لینے۔ امی ابو اُنکے کہنے پر دو بار جا چکے ہیں منانے مگر اب نہیں جائیں گے۔ غیرت ، عزت اور اَنا بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔۔سموسہ کھاتے ہوئے ثمن نے کہا۔

شکر ہے انکل آنٹی واقعی ہی نہیں چلے گئے ۔ ورنہ وہ تو آہی جاتی۔۔ اچھا ہوا تم نے زرنش کا موبائل کھسکا لیا۔۔

اوں۔۔ وہ  سائیڈ ٹیبل پرہی بھول گئی تھی۔پتہ نہیں کیوں میں نے اُٹھا لیا۔پھر سم نکالی اورتوڑ دی ۔۔سموسہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔

ویسے اِبتسام انا پرست ہے۔ ثوبیہ نے کہا

انا نہ ہوتی تو کب کا جا چکے ہوتے زرنش کو لینے۔ تمہارے حق میں اچھا ہی  ہے ۔۔

ہاں، سو تو ہے۔۔ 

 اب تم فکر نہ کرو۔ جلد ہی امی ابو آئیں گے تمہارا ہاتھ مانگنے۔۔

وہ جو اپنا موبائل لینے آیا تھا واپس پلٹ گیا۔ غم، غصہ، دُکھ ۔۔ اُسکی بہن کی دوغلی شخصیت ۔۔ ماں باپ کامنافقانہ رویہ۔۔سب واضح ہو چکا تھا اُس پر۔

گھر آکر اپنا احتساب کرتا رہا۔ جتنا سوچتا اُتنا اُلجھتا۔ہر جگہ کوتاہیاں اپنی ہی نظر آتیں۔ 

امی زرنش کو کچھ  پیسے چاہیے تھے۔رافع کیلئے ضروری چیزیں خریدنی تھیں۔۔

میرے پاس سات ہزار ہیں۔ تمہاری تنخواہ آنے میں پانچ دِن ہیں۔ گھرکے خرچے، مہمان داری، دیکھ لو گھر کا بجٹ آؤٹ نہ ہو۔ ایسا کرو پھر کسی دِن چلے جانا۔۔ ہمیشہ کی طرح بات کسی اور دِن پر ڈال دی

ابتسام کو زرنش کا شکوہ یاد آیاجسے وہ نظر انداز کر گیا تھا۔۔

امی نے رافع کیلئے پیسے نہیں دیئے کہ گھر کا بجٹ آؤٹ ہوگا۔ ثمن کو چار ہزار دے دیئے کہ وہ اپنے اور ارحم کیلئے کپڑے لے لیں۔سات ہزار پانچ دِن کیلئے ناکافی پڑ رہے تھے ۔ تین ہزار سے پانچ دِن کیسے نکالیں گیوہ؟۔۔ اِس سوال جواب وہ  نہ دے پایا۔۔

سوچ در سوچ!

 میں کب سے کپڑے خریدنے کیلئے کہہ رہی ہوں ۔۔ آپ اگلے ماہ کا کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ امی ہر ماہ ثمن کو خرچے کے پیسے دیتی ہیں۔ کبھی کپڑے بنوانے کیلئے پیسے پکڑا دیئے تو کبھی ارحم ، ضیغم کے کھلونوں کیلئے۔۔ وہ پیسے کہاں سے آتے ہیں؟۔۔ 

امی زرنش کو دو دِن سے بخار ہے۔ پینا ڈول ، بیسوکوئین سے فرق نہیں پڑ رہا۔ سوچ رہا ہوں ڈاکٹر کو دِکھا دوں۔۔

بیٹا ڈاکٹراپنی فیس لیکر بھی  کونسا نئی دوائی دےگا۔ میدیکل سٹور والے کو کیفیت بتا کر لے آؤدوا۔۔

بخار نہ اترنے کی صورت میں ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ لکھ دیئے جس پر کافی خرچہ ہوگیا۔ مسز غفور احمد اُٹھتے بیٹھتے پورا مہینہ اُن پیسوں کا رونا روتی رہیں۔ وہ یہ تک نہ کہہ سکا جو ہر ہفتے ثمن کے آنے پہ کھانے پینے پر پیسے لگاتی ہیں اُنکا کیا۔آخر کہتا بھی کیسے اُسکی بہن جو تھی۔

اُسے یاد آیا کہ اُس دِن بھی زرنش نے اِبتسام کیلئے مٹن کڑاہی بنائی تھی ۔۔ جس پر بحث ہوئی جو سنگین صورتحال اِختیار کرگئی۔۔

اِبتسام امی ثمن ، دانیال بھائی اور ارحم ضیغم کی پسند کا کھانا بناتی ہیں۔ کبھی وہ آپکی پسند کا کھانا بھی بنا لیں۔۔ شرٹ اِستری کرتے ہوئے کہا

وہ بہن بہنوئی ہیں۔ کونسا روز آتے ہیں اِسلئے وہ اُنکی پسند کا خیال رکھتی  ہیں۔۔ بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ بول پڑا۔ زرنش نے مزید کچھ نہ کہا۔۔ چپ چاپ شرٹ استری کرکے ہینگ کر دی۔۔

سوچوں کانہ ختم ہونیوالا سلسلہ!! ابتسام نے مٹھیاں بھینچ لیں۔ ہر طرف کوتاہیاں اُس کی تھیں۔۔ ماں باپ اور بہن کے حقوق کی حق تلفی نہ کی، اُنکے حقوق تو پورے کر دیئے لیکن بیوی کے حقوق پورے نہ کر سکا۔بلکہاُسے کرنے ہی نہ دیا گیا۔۔ ماں نے بچپن سے دبا کر رکھا تھا۔۔ شادی کے بعد بھی اُس پردباؤ رہا۔۔ اُسکی آنکھوں پر بھی والدین اور بہن کی محبت کی پٹی ایسی بندھی تھی کہ وہ کچھ دیکھ ہی نہ سکتا تھا۔ وہ دیکھتا جو ماں دِکھاتی ، وہ کہتا جو ماں کہتی۔۔

وہ ایک اچھی پوسٹ پر تھا۔ گھر بہت اچھے سے چلتا تھا۔ پیسوں کی کبھی تنگی نہیں ہوئی۔ اُس نے کبھی غور ہی نہ کیا کہ گھر کے سبھی خرچے پورے ہوتے ہیں، ثمن اور اُسکے بچوں کا امیمکملخیال رکھتیں لیکن زرنشاور رافع کی ذات کیلئے پیسے کم پڑ جاتے، اِخراجات گنوائے جاتے۔ قصور کسی کا نہیں تھا اُس کا تھا ۔ وہ اُس کی ذمہ داری تھی نہ کہ اُسکے والدین کی۔ عہد و پیمان کیا نبھاتا۔ وہ اپنی بیوی کو ایک سوٹ تک تو دِلا نہ سکا تھا۔ 

************* 

محبت دھوپ جیسی ہے، جلا کر بھسم کرتی ہے

ڈور بیل بجی ۔۔ ہمیشہ کی طرح وہ بھاگ کر دروازہ کھولنے گئی۔ اور ہمیشہ کی طرح مایوس ہو گئی۔ سامنے دودھ والے کو دیکھ کر اُسکا منہ بن گیا۔

ایسے کب تک چلے گا؟۔۔  نجمہ رحمٰن نے پوچھا

جب تک  وہ آ نہیں جاتے یا جب تک اُمید ٹوٹ نہیں جاتی۔۔ دودھ کی دیگچی چولہے پر رکھتے ہوئے کہا۔

تم ہمیں بات نہیں کرنے دیتی نہ خود بات کرتی ہو۔ کم از کم ایک فون تو کر سکتی ہو نہ۔۔ ایسے کیسے چلے گا زری؟ ۔۔

امی کیا میں بوجھ بن گئی ہوں آپ پر؟۔۔ اُس نے الٹا سوال کیا۔

کیسی باتیں کرتی ہو بیٹا۔ بیٹیاں کبھی بوجھ نہیں ہوتیں۔۔ مگر ہر ماں باپ اپنی بیٹی کو آباد دیکھنا چاہتا ہے۔ خوش دیکھنا چاہتا ہے۔

آپکی دُعائیں ہیں نہ ساتھ۔ خوشیاں میرا مقدر ہونگی آپ دیکھئے گا۔۔ ماں کا ہاتھ چومتے ہوئے کہا 

اِنشاء اللہ ضرور میری بچی۔۔ نجمہ رحمٰن نے دِل سے دُعا دی۔

******************

کبھی یوں آؤ کہ مہک اُٹھے

میری زندگی پھر چہک اُٹھے

بھائی آئے ہیں۔۔ شارق نے کہا ۔  رافع کو کھانا کھلاتے ہاتھ رُک سے گئے۔

مذاق مت کرو۔ اُس نے خود کو کمپوز کیا۔ 

مذاق؟ میں ایسا کر سکتا ہوں کیا؟۔ وہ واقعی ہی آئے ہیں۔۔ شارق نے کہا اور شفقت بھرا ہاتھ زرنش کے سر پر رکھا ۔ چھوٹے بھائی نے باپ جیسا مان دیا تو وہ رو پڑی۔

دیر سے سہی وہ آئے تو۔۔ اُنکو مایوس مت لوٹایئے گا۔ میں رومانہ کو چائے کاکہہ دیا ہے ۔۔ زرنش نے اثبات میں سر ہلا یا اور رافع کیساتھ ڈرائنگ روم کی جانب بڑھ گئی۔۔

وہ میرےرو برو تھا یوں کھڑا

چلتی سانس جیسے زندگی کیساتھ!

کیسی ہو۔۔ وہ ایکدم اُٹھ کھڑا ہوا۔ رافع بھاگتا ہوا باپ سے چمٹ گیا۔

کیسی ہو سکتی ہوں؟۔۔ زرنش نے شکوہ کناں آنکھوں سے دیکھا۔

جانتا ہوں بہت تکلیف دی ہے ۔ میں  ہر دُکھ ہر تکلیف کا ازالہ کرنے آیا ہوں زرنش۔ میں بہت شرمندہ ہوں تم سے۔۔ اُسکے لہجے میں کیا کچھ نہیں تھا۔ دُکھ، پچھتاوا۔۔

میں نے کتنی اذیت میں دِن گزارے ہیں یہ میں ہی جانتی ہوں۔۔ رافع کے سوالات، گھر والوں کی پریشانی۔۔

بہت چھوٹا لفظ ہے مگر آئی ایم سوری۔ معاف کردو۔۔ پلیز۔۔ اِبتسام نے ہاتھ جوڑ دیئے

یہ کیا کر رہے ہیں۔۔ 

کہتے ہیں صبح کا بھولا شام کو گھر آئے تو اسکو بھولا نہیں کہتے۔۔ گود میں  بیٹھے رافع کا ہاتھ چوما۔

ہاں ہاں اُسکو بھُولا نہیں بھولا کہتے ہیں۔۔ چائے کی ٹرے ٹیبل پر رکھتے ہوئے رومانہ نے کہاتو سب ہنس پڑے۔ زرنش کے گال پر پڑنے والے ڈمپل اُسی طرح گہرے اور دِلکش تھے ۔

آنٹی دو چار دِن میں مکان کا بندو بست کر کے زرنش کو لے جاؤں گا۔۔ اِبتسام نے نجمہ رحمٰن کو کہا زرنشنے حیرت سے دیکھا۔

 مکان کا بندوبست کرکے؟۔۔ نجمہ رحمٰن  خود حیران تھیں۔

جی صحیح سنا آپ نے۔۔ ماں جی میں نہیں چاہتا یہ وہاں رہے۔ سب کے دِلوں میں میلے ہیں۔۔ بغض ہے۔ دوغلے ہیں بظاہر اچھے لیکن اُنکے دِل۔۔ وہ رُک گیا۔ رِشتوں کا یہ روپ بہت تکلیف دہ تھا۔۔۔کتنے دِن لگے سنبھلنے میں اُسے۔

وقت کیساتھ ساتھ دِل صاف ہو ہی جائیں گے اِبتسام۔۔ زرنش نے پر اُمید ہو کر کہا۔

دِل اُنکے صاف ہوتے ہیں جن کے دلوں میں گنجائش ہوزرنش۔ اُنکے دِل میں تمہارے لئے جگہ ہی نہیں ہے۔ دُکھ اس بات کا ہے اُنکو اپنے پوتے تک کی پروا نہیں۔ کہتے ہیں اصل سے سود پیارا ہوتا ہے لیکن یہاں معاملہ ہی الگ ہے۔ اُنکو صرف اپنی بیٹی کے بچوں سے پیار ہے ۔۔

فخر بھائی آپکی آنکھوں سے بدگمانی کی پٹی ہٹ گئی یہی بہت ہے۔۔ اللہ آپ دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے، آباد رکھے۔۔

آمین۔۔ سب نے بیک وقت کہا۔

چلتا ہوں۔ اِن شاء اللہ جلد آؤنگا۔۔

*****************

فیصلہ ہوگیا؟۔۔

ہاں کر لیا۔۔ بہت کٹھن وقت گزارا ہے ہم نے۔ دوغلے رِشتے، منافقانہ رویہ۔۔ تکلیف ختم نہیں ہوتی۔۔ جتنا سوچتا ہوں اُتنی تکلیف ہوتی ہے۔۔

 تکلیف تو ہوگی۔۔ ماں باپ بہن بھائی  زیادہ قریبی رِشتے ہوتے ہیں فخر۔خون کے رِشتے۔۔  اِنکی جانب سےایسا سلوک اِنسان کو توڑ دیتا ہے، رِشتوں پر سے اعتماد ختم ہو جاتا ہے ۔۔

میں شاید کبھی یقین نہ کرتا اگر امی کی ثمن سے اورثمن کی ثوبیہ سے باتیں نہ سن لیتا۔۔ اپنی نند کو بھابھی بنانے کیلئے میری بہن اِس حد تک چلی جائے گی۔۔ سوچا نہیں تھا۔۔ خواب و خیال میں بھی نہیں۔۔ اُسکو ذرا بھی میرا خیال نہ آیا۔۔ میرے بیٹے کی پروا تک نہ کی۔۔اور امی۔۔ امی کاہر حکم بجا لانا میں اپنا فرض سمجھتا تھا۔۔

خالہ کے ڈکٹیٹر شپ ایٹیچیوڈ کوآپ کبھی نہیں سمجھ سکے کیوں آپ اُنکو بیٹے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے کاموں میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کر سکتیں۔ مگر لالچ کا یہ رنگ مجھ سے بھی چھپا ہوا تھا۔ میں نہیں جانتی تھی کہ آپکی ثوبیہ سے شادی وہ اُسکی جائیداد کے لئے کر رہی تھیں ۔۔ یہ فتور بھی آپی نے ہی ذہن میں ڈالا ہوگا۔۔۔ چلیں چھوڑیں۔۔ آپ نے دِل کی سن  کر فیصلہ کرلیا۔۔ اِتنا کافی ہے۔۔

ہاں۔۔ شکریہ انمول تم نے میری رہنمائی کی۔۔

شکریہ کس بات کا۔ یہ تو میرا فرض تھا۔۔ جن سے محبت کی جاتی ہے اُنکی خوشیوں کا خیال بھی تو رکھا جاتا ہے۔۔اِبتسام نے محسوس کیا انمول کا لہجہ نم تھا۔۔

 اپنے دِل میں بدگمانی کو کبھی جگہ مت دینا فخر۔کسی کے صبر کو اور محبت کو مت آزمانا ۔ ضروری نہیں ہر بار جیت جاؤ۔۔

ہرگز نہیں۔۔ انمول تم اچھی نہیں بلکہ  بہت اچھی ہو۔۔ اِبتسام نے دِل سے اعتراف کیا۔

شکریہ جناب لیکن زرنش سے زیادہ اچھی نہیں ہو سکتی!! “۔۔ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔۔

زرنش تو زرنش ہے ۔۔ لیکن وہ شخص خوش قسمت ہوگا جسکی زندگی میں تم جاؤ گی۔

آپ کہتے ہیں تو مان لیتی ہوں جناب اِبتسام فخر احمد۔۔ اب آپ جایئے۔۔ خوشیاں آپکی منتظر ہیں۔ انمول نے دِل سے خوش رہنے کی دُعا دی اور فون رکھ دیا۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.