دوام, آخری سحر ہے (1) __________ سدرت المنتہی’

فوٹوگرافی:قدسیہ،صوفیہ کاشف

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

ماڈل:ماہم

________________________________________

پہلی قسط:

میں بھی ایک خلیفہ فی الارض ہوں

********

وقت سب پر الگ الگ اثرات مرتب کرتا ہے
اور مجھ پر وقت زیادہ بیتا ہے
ہاں اپنی عمر سے بھی زیادہ بیتا ہے
کشادہ سڑک پر سبک رفتار سے گزرتی ہوئی گاڑی میں وہ فرنٹ سیٹ پر نڈھال سا بیٹھا ہوا آدمی اپنے خیالوں میں بڑبڑارہا تھا
اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا وہ نوجوان انکی بات پر چونکا نہیں تھا
وہ اب چونکنا چھوڑچکا تھا
انکی صحبت میں رہنے کے بعد شاگرد چونکنا چھوڑدیتے تھے
یا پھر انہیں ہی چھوڑکرچلے جاتے تھے
کیا تم بھی میری باتوں کی وجہ سے مجھے چھوڑجائوگے؟
نہیں سر۔۔میں آپکو نہیں چھوڑوں گا
پھر ایسا نہ ہو کہ تمہاری بیوی تمہیں چھوڑدے۔۔دیکھو میں جو کچھ کہتا ہوں
سچ کہتا ہوں ۔۔مگر تم ایسی باتیں کبھی اپنے گھر میں مت کرنا
اس لئے کہ تم اگر ایسی کوئی بات کروگے تو دیوانے سمجھے جائوگے
۔اور تمہیں مجھ سے دور لے جایا جائے گا۔۔
حالانکہ میں تو صرف شاگردوں کو فزکس پڑھاتا ہوں
پھر وہ اگر میرے پاس تاریخ سننے یا کچھ سیکھنے سننے آتے ہیں تو میرا اس میں بھلا کیا جاتا ہے
میں تو محبت بانٹتا ہوں۔۔
میں تو علم بانٹتا ہوں طاہر میاں
انکا لہجہ بھی تھکا ہوا تھا
آپ فکر نہ کریں۔۔آپ واقعی سچ بولتے ہیں۔۔مگر خود پر اختیار کھونے لگے ہیں۔آپ خود پر اختیار رکھئے۔۔ہر کسی کے سامنے وہ سب نہیں کہا جاتا جو ہوچکا ہے
جو ہورہا ہوتا ہے
یا پھر ہونا ہوتا ہے
مجھے معلوم ہے کہ انسان اپنی کیپسٹی سے بڑھ جائے تو وہ سنبھل نہیں پاتا۔۔ڈولنے لگتا ہے
آپ سے پہلی بار ملنے والے خوش ہوتے ہیں
پھر حیران ہوتے ہیں
اور پھر جب حیران ہونا چھوڑدیتے ہیں تو آپکو چھوڑجاتے ہیں۔۔بس کلاسز تک رہتے ہیں۔۔
مجھے بھی بعض دفعہ لگا تھا کہ آپ شاگردوں کے مسائل گھٹانے کے بجائے بڑھاتے جارہے ہیں
مجھے بھی ایسا لگا تھا کہ آپ الجھادیتے ہیں۔۔مجھے بھی ایسا لگا تھا کہ راستہ نئی دوربین سے دکھانے کے بعد سڑک پر کدال ماردیتے ہیں
دو تین سمتیں دکھاتے ہیں تاکہ چلنے والا الجھے۔۔
چلنے والا خود اپنی راہ متعین کرے۔۔مگر اس سب کے اندر چلنے والا بار بار بہکتا ہے
ٹوٹ جاتا ہے
یا پھرکھوجاتا ہے
پھر دوبارہ واپسی پر اگر اسے اپنے گھر کا سرا ہاتھ لگتا ہے تو وہ پلٹ کر نہیں دیکھتا
وہ آپسے ملنا آپ سے بات چیت کرنا۔۔یہاں تک کہ آواز سننا پسند نہیں کرتا۔۔۔
مگر میں آپکو بتائوں سر کہ جو لوگ آپسے محبت کرتے ہیں
وہ ایسا نہیں کرتے
وہ دراصل ایسا کرہی نہیں سکتے
تم نے آدھا سچ بولا ہے بڑی ہمت کی ہے۔۔
ہاں طاہر منیب آدھا سچ بولنا بھی جرت کا کام ہے بچے۔۔مجھے معلوم ہے۔۔۔ہاں مجھے معلوم ہے کہ تم مجھے خفا نہیں کرنا چاہتے۔۔
مجھے معلوم ہے تم مجھے چھوڑنا نہیں چاہتے
مجھے معلوم ہے
مجھے سب معلوم ہے
مگر طاہر تمہیں تو پتہ ہے نہ کہ مجدد ثانی نے مجھے چھوڑدیا۔۔
عالین حیدر نے مجھے چھوڑدیا
مستقیم نے مجھے چھوڑدیا۔۔مستقیم کے نام پر انکی آواز میں بھی نمی تھی
اور لہجے میں بھی۔۔
مستقیم ایسا نہیں کرسکتا۔۔کم از کم جیتے جی ہرگز نہیں۔۔
میں مستقیم کو جانتا ہوں سر۔۔اچھی طرح سے۔۔
طاہر۔۔تمہیں بھی کیا یہ لگتا ہے کہ اسکی موت ہوچکی ہوتی ہے۔۔
پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہے
مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنے وعدے نباہنے آئے گا۔مجھے لگتا ہے کہ مستقیم زندہ ہے
پتہ ہے وہ وعدہ کرکے گیا تھا
آخری لنچ کا میرے ساتھ
اس دن میں نے اسے شکار پر ساتھ چلنے کے لئے بھی راضی کرلیا تھا
اس نے کہا تھا جب تم بندوق چلائوگے تو میں سر گھٹنوں میں دے دوں گا
یا پھر کانوں پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کرلوں گا
میں کسی کو موت کی وجہ سے تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔۔
مجھے معلوم ہے کہ وہ ایسا معصوم انسان ہے کہ اسے اپنے کسی کئے کی کوئی سزا نہیں ملے گی
سوائے محبت کے آخر اس اور کیا ہی کیا ہے۔۔
ایک ہی تو جرم ہے اس معصوم فرشتے کا۔۔
اور اسے اس جرم کی اتنی بھی کڑی سزا نہیں ملے گی
کاش ایسا ہی ہو۔۔کاش ایسا ہو جیسا تم کہہ رہے ہو۔۔میں نے تو مراقبہ کرکے اسے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی ہے مگر ایسا نہیں ہوا کہ اس کا کوئی سراغ مجھے ملتا ہاں البتہ مجھے محسوس یہ ہوا کہ وہ ہے یہیں کہیں اسی دنیا کے کسی فریب کے اندر ہے
وہ کہیں پھنسا ہوا ہے دراصل۔۔
دیکھنا وہ نکلے گا
وہ آئے گا
ہم سے ملنے کے لئے۔۔وہ آئے گا اپنے لئے
وہ آئے گا خود اس لڑکی کے لئے جو اس سے بے پناہ محبت کرتی ہے
وہ آئے گا ۔۔۔اور اس لڑکی کے سارے دکھ دھل جائیں گے۔۔
ہاں بالکل وہ لڑکی بہت خوبصورت ہے۔۔بہت بھولی اور پیاری بھی
میں آخری بار اس سے ملا تھا تو اسے یقین دلایا تھا کہ مستقیم بے وفائی نہیں کرسکتا
اس لئے کہ وہ بے وفائی کو پسند نہیں کرتا
وہ سمجھ گئی تھی اس بات کو؟
ہاں بالکل وہ سمجھ گئی تھی
اس نے کہا تھا وہ نائٹ ڈیوٹی کرکے اتنے پیسے کمالے گی کہ مستقیم کو ڈھونڈنے کے لئے کہیں دور تک جاسکے حالانکہ میں نے اسے آپکا فارمولا بتایا تھا کہ اپنے دل میں جھانکو۔۔اور مراقبہ کرو۔۔
اور دعا مانگو۔۔اور کام کرو۔۔۔اور محبت سے اسے آواز دو
آواز پہنچتی ہے
سفر کرتی ہے
پھر اس نے کیا کہا تھا؟پروفیسر سالس کے ہونٹوں پر مدھم مسکراہٹ درآئی تھی
وہ اپنے کسی شاگرد پر جب اپنا کوئی اثر دیکھتے تھے تو جی اٹھتے تھے
خود کو باکمال سمجھنے کا احساس بھی کتنا طاقتور ہوتا ہے
بندے کو بندہ بنادیتا ہے
حالانکہ انکے ایک دوست کا خیال تو اس کے الٹ تھا
انہیں معلوم تھا وہ ان سے نفرت کرتا ہے
انہیں معلوم تھا کہ وہ انہیں لالچی بھی سمجھتا ہے
ہوسکتا ہے دوزخی بھی سمجھتا ہو۔۔
اسکے منہ سے فریبی کا لفظ تو وہ سن ہی چکے تھے
اور اسکی سخت گوئی کا خیال آتے ہی وہ مسکرادیتے تھے
ایک تلخ اور ٹوٹی ہوئی مسکراہٹ تھی یہ
تو کیا آپکو یقین ہے کہ وہ آپکو ویلکم کریں گے؟
طاہر کو خدا جانے کیسے مگر اب انکی مدھم مسکراہٹ سے لیکر چہرے کے تاثرات سے سوچوں کے کچھ غبار کا پتہ لگ جاتا تھا
وہ طاہر کی طرف دیکھ کر دوبارہ مسکرائے
اور اس بار انکی مسکراہٹ میں ایک ہی وقت میں کئی تاثر تھے
باخبری،دکھ،شکایت،بے بسی،طنز،معصومیت،اور پھر ایک آخری تاثر امید کا تھا
طاہر نے اپنی اگلی نظر سڑک کی جانب گاڑھ دی جو اب پل میں بدلنے جارہی تھی
اس پل پر وہ مستقیم کے ساتھ کئی بار گزرا تھا
اس پل پر سے وہ اپنی بیوی نبیلہ کے ساتھ گزرا تھا اور وہ ہر بار آنکھیں بند کردیتی تھی اس پل سے گزرنے پر ۔۔اسے ڈرلگتا تھا
نبیلہ معصوم سی تھی
اور ان دنوں بیڈ ریسٹ پر تھی
انکے ہاں بچہ ہونے والا تھا
اور انہوں نے سوچا تھا کہ ابکی بار وہ نہیں لڑیں گے
دو مرتبہ نبیلہ کا حمل ضایع ہوچکا تھااور دونوں مرتبہ انکا دھواں دھار جھگڑا ہوا تھا جس کی وجہ سے نبیلہ کی بے احتیاطی اور بے وقوفی نے یہ دن دکھائے تھے
اس بار اس نے اس سے وعدہ لیا تھا کہ وہ ایسا کچھ نہیں کرے گی
اپنے جزبات پر قابو رکھے گی
اور چھوٹی موٹی باتوں پر غصہ نہیں کیا کرے گی
بلکہ جو جیسا ہے اسے ویسا ہی رہنے دے گی
کچھ عرصہ اسے صرف اور صرف اپنے بچے کو بچانے کے لئے جینا ہے
ساری پرفیکشن انکے بچے کو چاھئے ابھی
جو پرفیکشن وہ گھر میں اور شوہر میں دیکھنا چاہتی ہے
وہ ساری پرفیکشن صرف بچے کی پروٹیکشن کے لئے بچے کی افزائش کے لئے وقف کردے۔۔
باقی دنیا میں بہت ساری چیزوں کے ساتھ پرفیکشن کے بغیر ہی گزارا ہوجاتا ہے
پھر چاہے وہ گھر ہو یا پھر شوہر۔
حالانکہ خود اس نے بھی اس سے کئی وعدے کئے تھے اور خود کو ان وعدوں کے نباہ کے لئے تیار کررہا تھا
تم نے اپنی بیوی سے اجازت لی تھی اس ایک رات کی؟
وہ انکے اچانک سوال پر چونکا اور پھر ہنس پڑا تو وہ اب ایسے بھی حیران کیا کریں گے۔۔
تم میرے شاگرد ہو طاہر منیب تو میں بھی تمہارا استاد ہوں۔۔
ابکی بار وہ کہتے ہوئے مسکرائے تھے
اور طاہر نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے مدھم آواز میں موسیقی چلادی تھی
یہ کوئی گیت کے بغیر ہی دھن تھی
جیسے تاروں پر کھیلتی ہوئی کوئی دھن۔۔
جیسے مدھم سرگم۔۔جیسے کوئی سر بھرا ساز
انہیں پتہ تھا یہ دھن مستقیم نے بنائی تھی
وہ اس دھن کو بہت خوشی سے سن رہے تھے
اور گاڑی عین پل کے درمیان پہنچ چکی تھی
جب بھی گاڑی عین درمیان پہنچتی تھی
اور وہ گاڑی کی کھڑکی کا شیشہ نیچے گرادیتے تھے
اور پھرپانی کی گاڑھی لہروں اور موجوں کو دیکھتے ہوئے ذہن کے اندر کئی سوچیں الٹ جاتی تھیں
سماعتیں کیا سن رہی ہیں یہ پتہ نہ چلتا اور دریا کے پیٹ سے اٹھتے پانیوں میں انکی نظر مستغرق ہوجاتی تھی
یہ کھیل کچھ لمحوں کا ہوتا تھا مگر ذہن کی بازیاں پلٹنے کے لئے کافی تھا
وہ دریائے سندھ کے پیٹ میں بل کھاتی ہوئی موجوں میں کھوئے یہ سوچنے لگے تھے کہ
کاش یہ پل اسی آن سمندر میں گرجاتا اور میں اپنی سواری سمیت گہرے پانیوں میں لڑھک جاتا اور پھر زمین کی خشکی پر میرا نام لیکر میرے جاننے والے مجھے یاد کرتے رہتے
اس خیال سے ہی وہ پہلے پل میں مسکرائے پھرمسکراہٹ غائب ہوگئی اور انہیں لگا دونوں بازوں پر کھڑا پل گرجائے گا
طاہر نے انکی آنکھوں کی رنگت دیکھی تھی تبھی اسپیڈ بڑھادی گئی
اور انہوں نے اسپیڈ کو بڑھتے دیکھ کر گردن نیچے گرادی تھی۔۔
انہیں خود سے شرمندگی سی محسوس ہوئی اس لمحے اور ایک احساس بھی جو انہیں حال ہی میں ہوا تھا کہ مثبت قوتوں کی بجائے منفی اسرار انکے اندر زیادہ طاقتور ہیں
دو تین مرتبہ ان سے غلطیاں ہوئیں تھیں اور اب کسی غلطی کو دہرانے کی انکے پاس کوئی گنجائش نہیں تھی
وہ اپنی زندگی کو کوئی نیا موڑدینا چاہ رہے تھے
اور اس کے لئے صبر کے پل سے گزرنا بے حد ضروری تھی
انہیں چپ رہنے کی ہدایات جاری ہوگئیں تھیں
اور وہ پچھلے کئی دنوں سے صبر کے مرحلے سے گزرتے ہوئے خود کو بہت ہی بے بس اور لاچار محسوس کررہے تھے
اور انہیں اندرہی اندر ایک ڈر بھی تھا کہ کہیں بہت کچھ حاصل کرنے کے چکر میں وہ بہت کچھ سے ہاتھ دھو نہ بیٹھیں۔۔مگر بہرطور اس سب کے بغیر کوئی چاہ نہیں تھا
اور اب وہ پل سے نظریں چرائے ہوئے گزررہے تھے جو اپنی اختتامی پٹی کے نزدیک تھا۔
وہ مضبوط لوہے کا پل سمندر کے اوپر ایک ڈھال کی طرح بنا ہوا تھا
مگر محض سمندر کے اوپر ایک پٹی جتنا فاصلہ لے سکا تھا
اس کی جڑیں بہت گہری تھیں
اور لوہے کی میخوں اور اوزاروں کے ہار سنگھار سے لیس تھا
پل کسی مغرور آدمی کی طرح ہر وقت بانہیں پھیلائے ہوئے رہتا تھا
پل کے بازو دونوں کناروں سے جا لگتے تھے
وہ میخوں بھرے توانا بازو ہر وقت دریا کو اپنی دہشت دکھانا چاہتے تھے
اور دریا کو جب جوش آتا تو وہ حدود توڑنے لگتا تھا
فی الفور تو دریا اپنے پیٹ کے اندر ہچکولے لیتے ہوئے موج میں تھا
سیلاب کا خطرہ گوکہ ٹل چکا تھا مگر دریا اب بھی پل کو اپنی کروڑوں آنکھوں سے گھورتا تھا
اور پل بے پرواہی سے مونچھیں دکھاتے ہوئے سر تائو کھاتا مگر باندھا ایسا تھا کہ سر نہ جھٹک سکتا اگر جھٹکتا تو پل کی انگلی کے پور جتنی گاڑیاں جو سیدھ میں رینگتی ہوئیں جاتی تھیں سودریا کی بے ترتیب موجوں کے اندر کی گہرائی تک جاسکتی تھیں
اور پل کو ایسا کرنے سے کسی حکم نے روکے رکھا تھا
ورنہ لوہے کے نٹ، بلٹ،اور ہتھوڑوں کی دہشت برابر ڈھارس بندھاتی ہو مگر بلٹس کھلنے کی دیر تھی اور لوہے کی میخوں نے چنگھاڑتے ہوئے ہل جانا تھا
انسانوں کے ہاتھوں کی کاریگری بھی کسی ذہنی اپروچ کی صلاحیت تھی
جہاں سے اطلاعات کی نشریات کا آنا جانا تھا
ایک دن کے اندر ڈھیروں نشریات ضایع ہوجاتیں اور ان میں سے کچھ چند جو ذہن کے کونوں کھدروں میں گھس جاتی تھیں سو ہاتھوں پیروں زبانوں میں منتقل ہوجاتی تھیں
اور تہذیب بتاتی تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے پہاڑوں کی اوٹ سے،اور بہتے چشموں کے اوپر حکمران غاروں سے،اور اوپر نیچے زمین کی کھائیوں کے فریب اندر سے ،اور بھول بھلیوں کے جنگلی محلات سے نکل کر انسان جب بالا ہوا تو شہر بننے لگے اور شہروں کے سروں پر مہریں جڑنے لگیں
عمارتوں کی بلندیوں کی ،اور پھر ان مہروں کے اوپر نام کندہ کئے گئے تاکہ انکی پہچان ہو۔۔
خلیفہ فی الارض نے زمین کی سطح پر اپنے ذہن کے پنجے گاڑنے شروع کردئیے تھے

_____________________________

میری زندگی میں کوئی ہیرو نہیں ہے
******

ایک محبت دے کر وہ تم سے تمہارا سب کچھ لے جائے گا
دکھ ،محرومی،اداسی دیکر بھی وہ تمہارے دل میں رہے گا
اور تم اسے دیکھنے کی
اسے سوچنے کی ،چاہنے کی،بات کرنے کی تمناکروگی
اور اس کی ملاقات کا کوئی ایک لمحہ تمہیں روکے رکھے گا جس کو سوچ کر تم مسہور ہوا کروگی
اور وہ اس طرح تمہارے ساتھ بہت وقت گزارے گا
اور تم اس کے ساتھ بہت سارا وقت گزارا کروگی
اور وہ تمہارا ہیرو ہوگا!
اسے سعدیہ نورعین کی بات بڑے غلط موقع پر یاد آئی تھی
عمومہ” سفر کے دورآن تمام یعنی لایعنی سوچیں اپنے پرانے خیالات کے ساتھ امڈپڑتی ہیں
آپ سفر میں اور نیند کے دورآن ہمیشہ کوئی اچھی سوچ سوچنا چاہتے ہیں
مگر جیسے ہی اپنے گزرے اوقات کو جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو لایعنی جو کبھی بہت یعنی بن کر رہے تھے آپکے ساتھ
چاہے ان سے بدلے میں دکھ ہی ملے ہوں
وہ تمام اوقات سارے خیالات کو پیچھے دھکیل کر آگے بڑھ جاتے ہیں
اور سر فہرست کھڑے ہوجاتے ہیں
اس کے بعد دوسری کوشش آپکی اختیاری ہوتی ہے
انہیں کنارے لگانے کی یا پھر کنارہ کردینے کی
ایسی تمام باتیں جو ہونٹوں پر مسکراہٹیں لاتی ہوں
اپنے سحر میں وہ بہت معنی خیز معلوم ہوتی ہیں
اسے معلوم تھا کہ جب ہم آپ ہی آپ مسکراتے ہیں تو کئی ناشناسا چہرے بھی آپکے تاثرات بھانپنے کی کوشش کرتے ہیں
وہ فورا” شعور میں لوٹتے ہی اپنے ارد گرد بیٹھے مسافروں کا انہیں نظروں سے جائزہ لینے لگی
حالانکہ یہ وقت تھوڑا سا افراطفری کا تھا
گوکہ مسافر تمام اپنی سیٹوں پر بیٹھ چکے تھے
اور پچھلی کچھ سیٹیں خالی رہ گئیں تھیں
اس نے ایروپلین موڈ آن کرنے سے پہلے ایک مرتبہ ماں کے طویل وائز نوٹ کا جواب ایک مختصر ٹیکسٹ کی صورت لکھ کر سینڈ کیا
جس میں اس نے انکی تسلی کرائی تھی کہ آرام دہ سفر شروع ہونے لگا ہے
فون کچھ گھنٹے آف رہے گا اور اس کے بعد بس شام کے پہلے پہر میں وہ وہاں پہنچ جائے گی
اور پہنچتے ہی انہیں فون کرے گی
اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا جملہ جو وہ چاہتے ہوئے بھی نہ لکھ سکی کہ یہ چھ ماہ کا عرصہ بہت آسانی کے ساتھ گزرجائے گا
بہرحال چھ ماہ کا وقت چھ ماہ تک ہی گزرنا تھا
یہ البتہ ہوسکتا تھا کہ وہ وہاں پہنچ کر اور ہوٹل میں شفٹ ہونے کے بعد انہیں مکمل طور پر ایک بھرا پرا وائز نوٹ بھیجے کہ یہ اگلے چھ ماہ انہوں نے کیسے اور کس طریقے سے گزارنے ہونگے
جس روٹین سے کم از کم وقت کی طوالت کا احساس ختم ہوجائے گا
وہ ہزار بار انہیں سمجھاتی کہ وقت ایک دن گزرجانا ہے
دن ہفتوں ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں میں گزرجائیں گے۔۔
ہم ایک دن بوڑھے ہوجائیں گے
اور اس سے آگے نہ وہ سوچنا چاہتی تھی اور نہ کہنا
بلکہ اتنا بھی۔۔۔وقت آسانی سے گزرجانے کا خیال اتنا آسان نہیں تھا
اسکی ماں کئی بار کہہ چکی تھی کہ سال کے اندر بارہ ماہ ہوتے ہیں
ان کے اندر اڑتالیس ہفتے ہوتے ہیں
اور تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں
اور ان دنوں میں کئی لمحے کئی خیالات کئی سوچیں اور دکھ سب کچھ ایک ساتھ سفر کرتے ہیں
اور انسان ایک لمحے میں کئی لمحے ایک ساتھ جی لیتا ہے
اسے پروفیسر سالس کی تھیوری بھی یاد آئی
انہوں نے کہا تھا کچھ لوگ ایک سال میں بہت سارا جی لیتے ہیں
اور کچھ لوگ سال بھر میں صرف سال جتنا جیتے ہیں
سال بھر میں سال جتنا جینا کوئی بڑی بات نہیں ہے
مگر ایک سال میں بہت سالوں کے برابر جینا اچھنبے کی بات ہوتی ہے
وہ جب بھی وقت کو قابو کرنے کا سوچتی اسے سعدیہ اور مستقیم کی محبت کے وہ تمام لمحات یاد آجاتے تھے جن لمحوں کو انہوں نے قید کرنا چاہا تھا
ہم محبت بھرے لمحوں کو قید کرنا چاہتے ہیں
تاکہ ہم ان پر جی جان چھڑک سکیں
اس کے پاس ڈائری میں مستقیم اور سعدیہ کی بہت ساری باتیں تھیں جو اس نے ڈائری کے اندر نوٹ کرلی تھیں
یہ ایک ایسی ڈائری تھی جس میں اس کے علاوہ باقی لوگوں کی یادیں بھی محفوظ تھیں
یہ ڈائری اس کے لئے قیمتی تھی
جسے وہ ہمیشہ سفر میں ساتھ رکھتی تھی
ابکی بار اسکی ماں نے اس سے وہ ڈائری لیکر رکھ لی اور اسے ایک نئی ڈائری گفٹ کی تھی
اب کے بعد تم اس میں اپنے دوستوں کے بارے میں لکھا کرنا
وہ نہ کرنہ سکی مگر بے بسی سے انہیں دیکھنے لگی
انہوں نے جب الماری کے اندر وہ ڈائری رکھ دی تو وہ چپ ہوگئی کچھ کہہ نہ سکی البتہ کچھ ضروری پتے اور فون نمبر اس ڈائری سے اتار کر اس میں نئی نکور ڈائری میں سیو کرلئے تھے
یہ اس لئے بھی ضروری تھا کہ آئے دن فون میمری کسی بھی وجہ سے ضایع ہوجانے کی صورت میں اس کے پاس ڈائری پر کچھ اہم پوائنٹس اور نمبرز محفوظ رہ جاتے تھے
وہ پورے چار سال بعد پاکستان جارہی تھی
اور اس کا دل چاہ رہا تھا ہر اس شخص سے ملے جس سے اسے ملنا تھا
جس سے ملنا چاھئیے تھا
اس کے پاس سعدیہ کا پرانا پتہ تھا
اور فون نمبر نیا بھی بند تھا
اس کے نمبرز آئے دن بدل جاتے تھے
اس کے جانے کے بعد اسکے پیچھے جتنی تبدیلیاں ماحول میں ہوئی ہونگی اسے پتہ وہ ان سب کو محسوس کرے گا
بہت کچھ پہلے جیسا نہیں ہوگا
مگر بہرحال اسے اپنا گھر جاکہ کھولنا ہے
کمروں کی صفائی کروانی ہوگی
لان کی گھاس کٹوانی ہوگی
بہت زیادہ ڈسٹ آچکی ہوگی کمروب کے اندر اور اسکی کتابوں پر بھی
اور میز کی درزیں اٹی ہوئی ہونگیں ۔
بستروں کی چادروں میں کوئی شکن نہ بھی ہو مگر کسی انسانی لمس کا کوئی احساس نہیں ہوگا
ہر جگہ گرد ،جالے،بوسیدگی کی بوء آتی ہوگی۔۔
ڈائننگ میز پر وہ زندگی بھرا منظر نہیں ہوگا جو صبح کے وقت ہمیشہ ہوا کرتا تھا
کچن سے امی کی آوازیں
ملازم کی کام میں عجلت،امی کی ڈانٹ جھلاہٹ غصہ اور ابا کے بیڈروم سے کف لنک کے کھوجانے سے لیکر تازہ اخبار کی بے حرمتی پر اعتراض جب وہ گھنٹے بھر سے دروازا کھلنے کے ساتھ ہی دھکیل دی جاتی
اور اخبار کا رول زرا سا کونے میں ہوکر چرمرایا سا جاتا تھا جسے اباجی خود آکر اٹھاکر سیدھا کرکے کڑاکے کے ساتھ اسے کھولتے ہوئے پہلے اخبار کی سلوٹیں سیدھی کی جاتیں اس کے بعد اس کی چار کرسیوں والی ڈائننگ میز کے پاس سے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے امی اور ملازم کی طرف ایک نگاہ ناگوار سی اٹھتی اور کوئی بدمزہ سا فقرہ بھی
جب وہ تیزی سے اپنے کمرے میں بجتا میوزک بند کرکے بالوں میں کنگھی پھیر کر اور آڑھی ترچھی پونی ڈال کر کس دیتی اور ساری فکر کاغذوں کی ہوتی
یا پھر والیٹ میں پیسے فون اور چابیوں کے گچھے کی تاکید جن میں سے اکثر کوئی ایک چیز وہ اپنے کمرے میں بھول آتی تھی
صبح کے سات نہیں بجنے تھے اور گھر کے بکھیڑے کھلنے کا اعلان گھر میں ایک ہلڑ سا مچاکر رکھتا تھا
حالانکہ گھر میں گنتی کے چار افراد ہوتے تھے
ایک زبیر اس سے دوسال بڑا بھائی
ایک امی ایک ابا
اور جب کبھی دادی آتیں تو وہ ہمیشہ کھڑکی کے شیشوں سے لگے چھوٹے سے تخت پر بیٹھ کر ہی چائے پیتی تھیں
ابا بھی انکے ساتھ ہی بیٹھ جاتے تھے
اور وہ اور زبیر میز پر ایک دوسرے کے ناشتے کے ساتھ خوب انصاف کرتے کبھی زبیر کی پلیٹ پر اس کا ہاتھ پڑرہا ہے تو کبھی اسکی پلیٹ سے آملیٹ غائب
کبھی اس کے لئے دادی کے لائے گئے دیسی مکھن کے چھوٹے سے پیڑے کو پراٹھے پر جماتے وقت ضرب لگ جاتی چمچ کی اور وہ چیختی رہ جاتی
زبیر اپنی بریڈ کو مکھن سے بھرکر ساتھ جیم کی پالش کرتا اور وہ تب تک اس کا آملیٹ اڑالیتی
زبیر کا ہاتھ اس کی کلائی پر زور کا پڑتا تو آملیٹ کا پیس چھوٹ جاتا
اوہ یہ نکما ، ابا دیکھیں مجھے زخمی کردیا آپکے نالائق نے
اور ابا زبیر کو گھوری ڈالتا دادی ماں تشویش سے بڑبڑاتیں کہ بچوں کی حرکتیں اب تک بچکانہ ہیں
یہ سب شہری تربیت کا نتیجہ ہے ورنہ دیکھو تو بستی میں شاکر کا بیٹا ان سے دو سال چھوٹا ہے اور روزانہ کھیتی پر جاتا ہے
شادی بھی کرلی بچہ بھی ہوگیا
ایک زمادارانہ زندگی گزاررہا ہے
اور یہ دونوں بہن بھائی ابھی تک لڑمرکر رہ رہے ہیں
انکی سجیشن ہمیشہ شادی سے لیکر رشتوں تک آ پہنچتی زبیر اپنی پسند کی لڑکیوں کی ایک ایک خاصیت گنوادیتا کہ ٹھیک ہے دادی لڑکی ڈھونڈیں میرے لئے آپ، دیکھئے جس کے بال باجی فرزانہ کے بالوں جیسے ہوں
آنکھیں چاچے یعقوب کی بڑی بیٹی جیسی ہوں
مزاج میری یونیورسٹی فیلو سنیعہ جیسا ذہانت بختاور جیسی
آواز بابرہ کی آواز سے ملتی جلتی اور اخلاق میری ماں جیسا
آخری جملہ وہ محض ماں کی گھورتی تنبیہی آنکھوں دبائی گئی مدھم مسکراہٹ کو نرمی میں بدلنے کے لئے ہوتا
آگے وہ شروع ہوجاتی کہ سوچیں دادی کی سوچوں کی طرح فرسودہ کہنے سے رہ جاتی اور سنگین کہہ جاتی ،مزاج اما کی طرح کا نرم یہ نہ کہہ پاتی کہ غصیلہ ہڑبڑاہٹ بھرا یا پھر بیزار سا،آنکھیں چچا یعقوب کی بڑی بیٹی کے جیسیں مگر سرمے والیں
اور بال باجی فرزانہ کے بالوں جیسے کھردرے اور دیکھنے کے لمبے عالیشان قریب سے جانے پر پشت پر پھیلی ہوئی کشادہ جھاڑو جیسی کمانیں اور ذہانت تو بس۔۔۔اپنا کالر کھڑکاکر مسکراتی کہ ایسی تو ملنے سے رہی
زبیر ابکی بار ہاتھ کی جگہ ہاتھ پر چمچ مارتا وہ سی کرکے اسے ایک جھڑدیتی اور بھاگتی ہوئی اپنا بیگ جس میں ادھ کھلے اڑسے ہوئے کاغذ میگزین اور دو تین پین جو پاکٹ میں پھنسے نوک سے جھانک رہے ہوتے تھے
اور وہ والیٹ میں چابیاں رکھیں تو پیسے غائب اور گیٹ سے دوبارہ دوڑتی ہوئی اندر آکر آواز لگاتی یا پھر دوڑتی ہوئی پھر سے کمرے میں جاتی یا ابا وہیں سے اس کے لئے الگ سے نوٹ رکھے ہوئے تھمادیتے اور وہ فون اور کاغذ دیکھتے ہوئے چابیاں نکال کر اپنی پرانی ڈبیا جیسی مہران سوزوکی اسٹارٹ کرکے نکل جاتی
اور زبیر اس کے کمرے کی طرف نکل جاتا اسکے بقیہ نوٹ چرانے اور کمبخت کہہ کر باہر نکل آتا کہ اسکی موجودگی میں عمومہ” وہ احتیاط سے کام لیتی تھی کہ اسکی عادتوں کا پتہ تھا کہ وہ ہر وہ حرکت ضرور کرنا چاہتا تھا جو اسکے تمام بدلے چکادے اور کسی طرح اسے وقتی طور پر ہی بوکھلاکر رکھ دے
حالانکہ یہ وہی زبیر تھا جو اسکی معمولی سی پریشانی پر بھی خود پریشان ہوجاتا تھا
اور سب سے پہلے والیٹ نکال کر اسے پیش کرتا اور اسکی کھٹارہ گاڑی کے ٹائر بدلواتا اور جب وہ ہاسٹل چلا جاتا تو وہ اسے کچھ دنوں تک تو رج کہ یاد کرتی روزانہ فون کرتی فراغت کے وقت اور میسج کرنا کبھی نہ بھولتی کہ میں تمہیں زرا یاد نہیں کرتی زبیر ۔۔اور یہ بھی کہ تمہارے بغیر گھر میں بڑا سکون ہے اور یہ بھی کہ زندگی بڑے سکون سے گزررہی ہے
اب میں لاکر سے باہر پیسے رکھتی ہوں
اور کبھی یہ بھی کہ تم ابھی تک ننھے ککو بن کر پڑھتے جائو میں ایوننگ کلاسز کے ساتھ مارننگ کی جاب سے اچھا کمارہی ہوں
کم از کم اپنے لایعنی شوق پورے کرنے کے لئے میرے پاس اپنی زاتی پاکٹ منی ہوتی ہے
اور تم تو ہمیشہ ننھے ککو بن کر پڑھتے رہنا دیکھنا میں اس بار چھٹیوں کے موسم میں جب ماسٹرز کی کلاسز ختم ہونگی تو جاب سے چھٹی کرکے بابا کے ساتھ اسپین جائوں گی اور ہم خوب مزے کریں گے گھومیں گے اور خوش رہیں گے
اور تم جلتے رہنا
چھوٹے ککو۔۔
یہ نام اسکی چڑ تھا
اور وہ بھر بھرکر اسے بکواس لکھتا اور وہ قہقہہ لگاتی کہ دیکھو تمہیں جلانے میں ایک بار پھر میں جیت گئی
اور وقت نے کیسا پھیر لیا کہ وہ ان دو سالوں میں کہیں جا نہ سکی اور زبیر کو انگلینڈ میں جاب ہوگئی
وہ پھر وہاں سے کئی روز اسے ایسے ہی جلے کٹے میسجز لکھتا رہتا تھا
اور مہینے کے آخر میں وہ اسے زیادہ کماتے ہو کے طعنے دیکر اس سے اچھے خاصے پیسے نکلوالیتی
مگر پھر بہت کچھ تبدیل ہوتا گیا یہاں تک کہ کافی حد تک زبیر بھی
جو پہلے کی طرح نہ تو شرارتی رہا تھا نہ ہی اس قدر زندہ دل ہاں البتہ وہ زمادارا سنجیدہ اور موڈی ضرور ہی بن گیا تھا
ترجیحات کے ساتھ انسان کتنا بدل جاتاہے
اور وہ اب پاکستان آنے کے لئے تیار ہی نہیں تھا
اسے حیرت ہوئی کہ کیا اسے گھر یاد نہیں آتا۔۔؟؟
کیا وہ گھر سے آنکھیں چرانا چاہتا ہے۔۔۔
کچھ تو تھا ہی مگر خیر وہ خوش تھی کہ اس کا اپنا ایک گھر ہے
بیوی ہے
بچی ہے پیاری سی
اور اب ماں بھی اسکے ساتھ ہے تو وہ یقینی طور پر مطمئن ہی ہوگا
ماں کے پاس بیٹے کے علاوہ انکے دیگر رشتہ دار بھی تھے بڑے بھائی کی فیملی بھی عرصے سے وہیں مقیم تھی
وہ مطمئن تھیں کسی قدر حالانکہ زندگی کی بنیادی کمی کو تو کوئی بھی محسوس کرسکتا ہے وہ بھی اور انکے ساتھ آسودہ رہنے والا بیٹا بھی
باپ سے بھی تو وہ محبت کرتا تھا
وہ اسے بھی یاد آتے ہونگے مگر اسے یاد تھا ایکسڈنٹ کے بعد وہ مسلسل ماں کو ٹٹول رہا تھا
ماں کی آواز ماں کا وجود اسے خدشہ تھا کہ کہیں وہ بھی بے جان تو نہیں ہوگیا ۔۔
حالانکہ چوٹوں کی ضربیں اتنی تھیں کہ نڈھال سا وجود اپنی جان ہار بیٹھتا اگر زبیر اس وقت نہ پہنچا ہوتا
اس نے رورو کر ماں کو آوازیں نہ دی ہوتیں
وہ دھاڑیں مارکر اللہ سے ماں کی زندگی نہ مانگ چکا ہوتا
اور پہلی بار ہوش آنے پر بھی وہ کتنا جی اٹھا تھا
ماں کی ریکوری میں اس کا ہاتھ تھا
یہی وجہ تھی کہ ماں کے سارے آنسووں اس نے سمیٹ لیے تھے
ماں کے دکھوں کا بوجھ اس نے خود اٹھالیا تھا
اور ماں اسکی خاطر رونا یا افسردہ ہونا ترک کرچکی تھی
کتنی بڑی بات تھی کہ وی بیوی اور ایک بچی کے ہوتے ہوئے ماں کو زرا برابر بھی نظر انداز نہیں کرسکا تھا
اسکی ماں اگر آج زندہ بچ جانے کے بعد اگر چوٹوں کی ریکوری میں پرجوش تھیں اور زندگی کی طرف لوٹی تھی تو اس میں زبیر کا بہت بڑا ہاتھ تھا
وہ ایک خوش نصیب بیٹا تھا جس نے ماں کو بچالیا تھا
اور وہ ماں جو خود کو خوش نصیب کہتی تھی تو وہ بھی کوئی جھوٹ تو نہ تھا
البتہ وہ بعض چیزوں کے لئے اجنبی اور کھردری طبیعت کا مالک ہوگیا تھا
اس کا مزاج بدلا تھا کافی
انداز روٹین زندگی اور ترجیحات بدلیں تھیں
اسے فقط اس سے یہ شکوہ تھا کہ زبیر اسکے ساتھ پاکستان کیوں نہیں آیا۔۔۔
ہوسکتا ہے کہ وہ ماں کو ماضی قریب کت کسی دکھ سے بچانا چاہتا ہو۔۔
ہوسکتا ہے کہ ایسا ہو۔۔مگر بہرحال اس سے شکوہ تب بھی تھا
اور جب شکوہ زور پکڑے تو آپ یا شکوے کو جواب دیتے ہیں یا چپ کرجاتے ہیں
اور اس وقت تو اسکے لئے سر فہرست اپنے ادھورے وعدے مکمل کرنے تھے
اور بقیہ جتنے کام نہیں کرپائی تھی
وہ کرنے تھے
پروفیسر سالس سے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک سرسری سی ملاقات کرنی تھی کیونکہ انہیں سے تھیٹر ڈائیریکٹر کا پتہ ملنا تھا
وہ وعدہ جو اس نے ایک ویران علاقے کے اندر سیٹ لگاکر پانچ ہزار کا کرائوٹ اکٹھا کرکے تھیٹر پلے کردکھانے والے التمش تامی کے چہرے کا عزم حوصلہ اور شادابی دیکھتے ہوئے اس کے ایک تفصیلی انٹرویو کا خود سے کرتے ہوئے ان سے لے لیا تھا
اور وہ ادھیڑ عمر آدمی بھی کتنی خوشی میں تھا کہ بے ساختہ وہ وعدہ کر بھی لیا حالانکہ اس کے لئے مشہور تھا کہ وہ کبھی انٹرویو نہیں دیتا
نہ اخبارات کی طرف رجوع کرتا ہے
نہ میڈیا ڈیسک کھڑکھڑاتا ہے
وہ صرف تھیٹر پلے کا شیدائی ہے
اور اپنے شاگردوں کو جمع کرکے انہیں ساتھ لگا کر تھیٹر کو زندہ رکھنے کی بقیہ ماندہ کوششیں کرتا رہتا ہے
حالانکہ سندھ کے اندر تھیٹر کی اس قدر بحالی جوناممکن نظر آتی تھی
مگر وہ عمرکوٹ اور تھر تک بھی گیا اور اس نے ہر اس جگہ تھیٹر ڈرامہ کرایا ناٹک منڈلیاں رچائیں کہ دیوانے عش عش کر اٹھے
وہ اس کا بھی اب تک آخری پلے تھا دیکھنے کے حساب سے اس سے پہلے وہ تھیٹر کے لئے بہت دور تک بھی گئی تھی
ایک صوبے سے دوسرے صوبے تک کا سفر بھی کیا تھا مگر وہ حیران رہ گئی تھی یہ پلے دیکھ کر
اور اگلے ہی ہفتے التمش کا ایک پلے آرٹس کونسل میں لگوایا گیا تھا
اسٹیج پر منڈلی رچانا کوئی انوکھی بات نہ تھی گوکہ مشکل تھی
مگر ایک ویران علاقے کی طرف ایک کرائوٹ لے جانا انوکھا کام تھا
اسے بہت اکسائیٹمینٹ تھی
مگر ان دنوں وہ جانہ سکی تھی
نہ ہی اسکی ریکارڈڈ وڈیو کسی کے ہاتھوں منگواسکی
وہ وقت جو انٹرویو کے لئے موزوں ہوتا وہ کبھی اس کے پاس نہ ہوتا تو کبھی انکے پاس نہ میسر آتا
بہانے بنتے گئے اور بلآخر اس خیال پر دیگر زمادریوں کی گرد اٹ گئی
اور وہ نئے کاموں میں کھپنے لگی
انہیں دنوں ایڈیٹر ڈیسک پر اس کا دھواں دھار جھگڑا ہوگیا تھا
انہیں دنوں اس نے نوکری چھوڑی تھی
انہیں دنوں انیس کا دوسرا روپ سامنے آیا تھا
انہیں دنوں وہ مجدد ثانی سے بھی ملی تھی
مجدد ثانی جو خود ایک پہیلی تھا
انہیں دنوں زبیر باہر سیٹل ہوا تھا
انہیں دنوں بہت کچھ ایسا ہوا تھا جو اچانک افتاد کی طرح نازل ہوا تھا
جیسے سارے خوش گوار اور ناخوشگوار واقعات انہیں دنوں کے پنوں پر درج کردئیے گئے تھے
اور وہ انہیں دنوں کا سوچتی تو کئی حساب کتاب کھلتے کئی ادھورے کھاتوں کی فائلیں جھانکتیں
کئی صورتیں لاشعور سے شعور تک چکراتیں
اور کئی جملے ایک ہی بازگشت کے اندر گھومتے اور شور کرتے ہیں
اس لئے وہ فی الفور انہیں دنوں سے زرا نظر چراکر سیٹ کی پشت سے سر ٹکاکر بیٹھ گئی
جہاز اپنے پروں کو اونچا اڑارہا تھا
مسافر اپنی اپنی دھن مگن تھے
کچھ خاموش چپ چاپ کھوئے ہوئے
کچھ تھکے ہوئے نیند کے غبار میں اور کچھ کے چہروں پر جوش اور خیالات کا اتارچڑھائو تھا
سب کے ساتھ اجنیبت کے باوجود بھی آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ کوئی ایسی آنکھ ہے جو آپکو دیکھ رہی ہے
کوئی ایسی نظر آپکے چہرے پر ٹکی ہے
اور کوئی غائبانہ نظر ہے
اسے اس طرح کے موقع پر مجدد ثانی کی بات یاد آجاتی تھی
مجدد ثانی جس کے ساتھ ایک ملاقات ہی اسے اس انسان کے ساتھ مانوس کرگئی تھی اتنا کہ اسکی باتیں اکثر موقعوں پر یاد آجاتیں یا پھر یہ کہ اسکی باتیں بھلانے لائق نہیں تھیں
یا پھر وہ بھلانے لائق نہیں تھا
یا تو پھر یہ تھا کہ عرصہ کم ہوا تھا
اس نے سوچا کیا کبھی وہ بھی اسے کسی حوالے سے یاد رکھتا ہوگا۔۔
کیا کبھی یوں ہی اچانک اس کا نام یا خیال اس اجنبی شخص کو آجاتا ہوگا جس کے ساتھ کوئی دوستی نہیں کوئی رشتہ نہیں کوئی ملاقات نہیں بس ایک اتفاقی ملاقات۔۔
اتفاقی ملاقاتوں میں ملنے والے اسے کبھی دوبارہ نہیں ملے تھے
مگر اس بار ایک عجیب اتفاق ہوا جو اس کی غیر یقینی کو ایک خیال دے گیا جب ائیر پورٹ پر اترنے کے بعد اس نے اپنے کسی شناسا کے چہرے کے طلب کی تھی
ائیر پورٹ کی عمارت کی مانوسیت بھی چار سال بعد ویسی ہی تھی
افراد کے مجموعے میں غیرشناسا چہروں کے درمیان جب اسے یقین تھا کہ اسے اپنے ملک کے اڈے پر ان دنوں کوئی رسیو کرنے نہیں آئے گا
اسے یقین تھا کہ ایسا نہیں ہوگا
اور وہ کیب لیکر گھر تک اکیلے جائے گی
اور پھر اسے اکیلے ہی رہنا ہوگا
اور پھر اسے تمام کام ہی اکیلے کرنے ہونگے جس سب کی کم ہی عادت تھی مگر اس وقت بوجھل دل کے ساتھ اپنی ٹرالی گھسیٹتے ہوئے جب وہ باہر ائیر پورٹ کے لائونج کی طرف آئی تاکہ سامان اتار کر کچھ چائے وغیرہ پینے کے بعد ٹیکسی منگائے اور ٹھیک اسی وقت اسے ائیر پورٹ کے لائونج میں منتظر بیٹھی وہ عورت نظر آئی جسے اس نے پہلی ہی نظر میں پہچان لیا تھا اور شاید اس عورت نے بھی تبھی تو اسکی طرف حیرانی سے لپکی تھی
اسے یاد آیا وہ اس عورت سے پہلے کہاں اور کس جگہ ملی تھی
اور یہ انہیں دنوں کی ہی بات تھی شاید۔۔
یا ان سے کچھ قریب تر دنوں کی
_________

ہم خود کو زندہ رکھنے کے لئے ڈائریاں لکھتے ہیں
******

ہم خود کو زندہ رکھنے کے لئے ڈائریاں لکھتے ہیں
کتنا عمدہ احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنے مرنے کے بعد بھی یاد کئے جائیں۔۔۔
ہم مکمل طور پر مٹیں نہیں ،
ہم یاد رکھے جائیں یا پھر رہ جائیں۔۔کہیں نہ کہیں۔۔کسی جگہ پر ہمارا وجود نہ ہونے کے باوجود بھی ہماری یاد ہو۔۔۔
خدا جانے مرنے کے بعد یہ احساس تقویت دیتا بھی ہوگا کہ نہیں۔۔
نہیں مگر ہرگز نہیں میں نہیں چاہوں گا کہ کوئی میرے بعد میری وجہ سے روئے ۔۔کیونکہ غیرموجود اگر ہمارے بس میں نہ ہو تو ہم اکثر رودیتے ہیں
میں بھی رویا تھا
میں بلکہ روتا رہا ہوں۔۔
شاید اب کچھ عرصے سے کوئی احساس ہے جس نے مجھے تقویت دے دی ہے
ورنہ میرا حال اس سے بھی برا ہونا تھا جیسا ابھی حال ہے
اس وقت تو میرے پاس کرنے کے لئے بہت سارے کام ہیں
مجھے یہ بکھیڑا سمیٹنا ہے
گھر کے کتنے سارے ایسے کام ہیں جو اب مجھے اکیلے کرنے پڑتے ہیں
پرہیزی کھانا بنانے سے لیکر نور فاطمہ کو کھلانے تک کئی چھوٹے بڑے کام میرے ہیں
زینت بیبی جو دن میں بارہ گھنٹے ادھر گزارکر مجھ پر احسان کرجاتی ہے اس کا بس چلے تو مجھے اس کام کی کڑی سزا دلوائے
اور نہیں تو وہ تیلیوں والی کھردری جھاڑو بھی مجھ سے دلوائے یا پھر گیلی کھردری جھاڑو میرے سر پہ دے مارے
کس قدر خون خوار نظروں سے گھورتی ہے مجھے
جیسے میں اس کا قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں
یا پھر خواب میں آکر میں نے اسکی نیند تباہ کی ہو
رات اس کے گھر کی دیوار پھلانگ کر اس کے نکمے چودہ پندرہ سالہ بچوں کو بری بری شکلیں بناکر ڈراتا ہوں
یا پھر عمومہ” رات کے وقت اسکے کچے صحن کی دیوار پر جو عمومہ” بے نام لمبے سائے لہراتے ہیں
وہ میری بنائی ہوئی کٹھ پتلیاں ہوں یا کسی لیزر لائٹ کے ذریعے میں ہی اپنا عکس بھیجتا رہتا ہوں
نفرت تو وہ مجھ سے ایسے کرتی ہے جیسے نور فاطمہ کے سارے حق میں نے مارے ہیں
میں تو اس حد تک جانتا ہوں کہ وہ مجھے دوزخی سمجھتی ہے
اور نور فاطمہ کے توسط سے شاید وہ مجھے بے پناہ بددعائیں بھی دینا چاہتی ہو
وہ یہ بھی چاہتی ہے کہ میں اپنے کئے کی سزا اس جہاں میں بھی بھگتوں اور اگلے جہاں میں تو دگنا بھگتوں وہ بس مجھے کسلتا ہوا بے چین دیکھ کر خوش ہوتی ہے
ایسا میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اپنی فکرمندی کے دورآن اس کے ہونٹوں پر ٹیڑھی مسکراہٹ میں نے کئی مرتبہ دیکھی ہے
وہ اگر نہ بھی مسکرائے تو اس کی آنکھیں مسکراتی ہیں
اس کا چہرہ مسکراتا ہے
کم بخت سالس کہتا تھا کہ عورت کا چہرہ مسکرائے تو کائنات مسکراتی ہے
میں اسے کہنا چاہتا ہوں کہ تم نے کبھی زینت بیبی کے چہرے کی تمسخرانہ جلی مسکراہٹ دیکھی ہے۔۔
اگر دیکھی ہو تو تمہیں شاید لگے کہ کائنات کی مسکراہٹ اتنی بھی حسین نہیں ہے
اور میں یہی سوچوں گا کہ خدارا یہ مسکراہٹ تم جیسے جلے کٹے مردوں کے لئے واجب مستحب ہے
مگر میں کیا کروں کہ زینت بیبی اور سالس کا سوچ کر میں خود کتنا جل کڑھ جاتا ہوں اس کا اندازہ میں خود اپنے لہجے اور اپنے اندر امڈتے ہوئے قہر بھرے جذبات سے کرسکتا ہوں
فرق صرف اتنا ہے کہ میں زینت بیبی کی طرف زہر بھری مسکراہٹ نہیں پھینک سکتا
میں صرف گردن موڑ کر خود پر نفرین بھیج دیتا ہوں
میں اپنے مشکلوں بھرے وقت کا سارا بوجھ کسی کھڑوس ناشائستہ اور مجبور عورت پر کیوں ڈالوں آخر
مجھے خود بھی تو اپنے بوجھ اٹھانے ہیں
سو اٹھارہاہوں
البتہ سالس کا خیال آتے ہی میرا جی چاہتا ہے کہ میں اسے چھوٹے چھوٹے کنکر ماروں جو اسے سوئیوں کی طرح چبھوئیں ۔۔خدا خانے کچھ دنوں سے سالس کم بخت کچھ زیادہ ہی یاد آرہا ہے
ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ وہ اچانک آن دھمکے گا
اور میرے منہ کا ذائقہ گلے تک کڑواہوجائے گا
ناچاہتے ہوئے بھی مجھے دور سے آئے مسافر اور اپنی بیوی کے رشتہ دار کو گھر بٹھاکر کھانہ پانی کا پوچھنا پڑے گا
ایک ناگور سہی گفتگو کرنی پڑے گی
اور اس دورآن وہ مجھے طیش دلاتی طنزیہ اور مدھم تیکھی مسکراہٹ سے دیکھتا رہے گا
جیسے اسکی صحت پر میرے سلوک کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا نہ ہوا تھا نہ کبھی ہوگا
بہرحال میں چند فراغت کی اچھی گھڑیاں اس کی یاد میں لٹانا نہیں چاہتا
نہ ہی زینت بیبی کے روئیے پر غور و فکر کرکے اپنی تباہی کا سامان کروں
ویسے بھی مجھے اب تو ان ساری چیزوں کا عادی ہوجانا چاھئیے۔۔
آخر انسان کیا کچھ نہیں سہہ لیتا۔۔یہ تو پھر بھی زینت بیبی کا رویہ ہے
اور میں اپنے کمرے میں آکر بیٹھا ہی ہوں اور اپنا سارا غصہ اپنی مظلوم ڈائری پر نکالنے ہی لگا ہوں کہ دروازہ پھر سے بجنے لگا ہے
مجھے شاید جانا پڑے گا۔۔
زینت بیبی خراٹے لے رہی ہونگی نور فاطمہ کے ساتھ وہ بھی آدھی ادھوری نیند لیتی ہے
تو چلو کوئی بات نہیں میں خود ہی اٹھ کر دیکھتا ہوں

قلم ڈائری اور چائے کا ادھورا کپ میز پر رہ گیا تھا
اور دروازے پر بے وقت کا مسافر کھڑا سالس کاشمیری زہر بھری مسکراہٹ سے مسکرارہا تھا
اور التمش تامی کے منہ سے لیکر حلق تک کا سارا ذائقہ کڑوا ہوگیا تھا

____________

ملاقاتیں پہلے سے طہ شدہ ہوتی ہیں

*******
قسمت پر یقین رکھنے والوں کی باتیں ایسی ہی ہوتی ہیں
کہ ملاقاتیں پہلے سے طہ شدہ ہوتی ہیں
ہمیں کس سے کس وقت کب ملنا ہے یہ طہ شدہ ہے
تب ہی پہلی ملاقات بڑی آسانی اور حیرانی کو جنم دیتی ہے
وہ کچھ سال پہلے تقدیر سے زیادہ تدبیر پر یقین رکھتی تھی
اب بھی اسے اندازہ تھا کہ تدبیر آدھا کام کرتی ہے
مگر تقدیر اگر اپنے حصے کا کام نہ کرے تو تدبیر دھری کی دھری رہ جاتی ہے
اور اگر تدبیر نہ کی جائے تو تقدیر دھری کی دھری نہیں رہتی صرف منہ موڑلیتی ہے اپنا۔۔رخ بدل لیتی ہے
لوگ اپنے پیچھے رشتے خون احساس اور باتیں چھوڑجاتے ہیں۔۔
لوگ سب کچھ چھوڑجاتے ہیں
سوائے خود کے۔۔ایک سال اگلے کئی سالوں کو جنم دیتا ہے
سفر صرف بہانہ ہوتا ہے
ملنے ملانے کا ردوبدل کا
یہ سب اس عجیب شخص نے ہی تو کہا تھا
یہ تو جان ہی نہیں چھوڑتا اگر کبھی ملی تو بتائوں گی کہ تم ایسی باتیں کرتے ہو جو لوگوں کا چین اڑائے رکھتی ہیں
وہ اپنے خیال کو پیچھے کی یادداشت میں بھیجتے ہوئے مدھم مسکراتی ہوئی دوسری ملاقات کا حظ لینے کے لئے اس خاتون کی طرف بڑھی اور اس سے کہیں زیادہ اکسائٹمینٹ دوسری طرف تھی
اوہ خدایا۔۔یہ تم ہو۔۔؟؟
میں نے تو کبھی سوچا ہی نہ تھا کہ میں تم سے دوبارہ ملوں گی۔۔
ان کا نام شاہینہ تھا اور وہ زندگی سے بھرپور ایک عورت تھیں
بالکل یہ تو ہے
مگر مجھے لگا تھا کہ ہماری دوبارہ بھی ملاقات ہوگی وہ مسکرائی تھی کہتے ہوئے
کچھ ہونے والی باتوں کا احساس لاشعور کھٹکھٹاتا رہتا ہے
تم اب بھی بڑی خوبصورت باتیں کرتی ہو عالین۔۔
یہی نام ہے نہ تمہارا؟دیکھو مجھے یاد ہے
وہ ایک چھوٹے سے بچے کو خود سے تھپکتے ہوئے کہہ رہیں تھیں
اور یہ آپکا بے بی ہے۔۔ہے نہ؟
عالین نے اپنی ٹرالی کا رخ موڑ دیا تھا اور خود بچے کو دیکھنے لگی تھی
ہاں بالکل یہ میرا بیٹا ہے علی۔۔دیکھو پیارا ہے نہ۔۔کس پر گیا ہے؟وہ اکسائٹڈ ہوگئی تھیں
عالین نے بچے کی انگلی پکڑی تو ایک سالہ بچہ اسکی طرف متوجہ ہوگیا اور کھلکھلانے لگا
عالین نے اسے بازووں پر اٹھالیا اور وہ خوشی خوشی آگیا
ماں کے چہرے کی خوشی دیدنی تھی۔۔
اوہ دیکھو یہ تمہارے پاس کیسے لپک کہ آیا ہے۔ حالانکہ یہ ہر کسی پر لپکنے والا بچہ ہرگز نہیں ہے
ارے یہ تو گھر میں اپنے دادا کے پاس بھی نہیں جاتا اب یہ اور بات ہے کہ انکے دادا کچھ ڈراونے سے لگتے ہیں۔۔نہ صرف شکل سے بلکہ آواز سے بھی
وہ آپس کی بات بچوں کی طرح کہتے ہوئے ہنس دیں۔۔
اور عالین کی مسکراہٹ گہری ہوگئی
بچے نے اسکی انگلی پکڑی ہوئی تھی
ایک کام کریں۔۔کہیں پرسکون جگہ پر بیٹھ جائیں دو منٹ۔۔؟آپکو کہیں جلدی نکلنا تو نہیں؟
ارے بالکل بالکل باہر چل کر سبزے پر بیٹھتے ہیں
میں دراصل جلدی آگئی تھی انکے دادا مجھے دو گھنٹے پہلے ہی چھوڑگئے ابھی فلائیٹ ایک ڈیڈھ گھنٹہ لیٹ ہے
اور ہم گھنٹہ بھر تو آرام سے بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں
اس کے بعد میں اندر جائوں گی۔۔
عالین نے انکی بات پر سر ہلاکر ٹرالی آگے کی طرف بڑھائی اور اس پر انکا کچھ سامان بھی رکھ دیا جس میں ایک بے بی بیگ تھا اور ایک سوٹ کیس
دوسرا ہینڈ کیری انہوں نے خود اٹھالیا تھا چھوٹا سا
پھر آگے پارکنگ ایریا سے نکل کر گھاس کی طرف جاکر ٹرالی سے انکی مدد سے سامان اتار کر لکڑی کے بینچ کے سہارے رکھا اور خود بینچ کے ساتھ گھاس پر بیٹھ گئیں
شاہینہ نے نے اپنا ہینڈ بیگ بے بی بیگ اور سوٹ کیس بھی وہیں رکھ دیا تھا
بچہ اب ماں کے پاس تھا مگر عالین نے اسے کھیلنے کے لئے اپنا ہاتھ دیا ہوا تھا وہ بار بار اسکی انگلی اٹھاکر منہ میں دینے کی کوشش کرتا اور وہ کھینچ لیتی اور اس کے کھینچتے ہی بچہ منہ بسورتا یا پھر اسکی شرارت بھانپ کر کھلکھلاتا
شاہینہ بات کرتے ہوئے دونوں کی طرف دیکھ کر مسکرادیتی تھیں
ایک ماں کے لئے یہ کتنا اہم ہوتا ہے کہ کوئی اسکے بچے کو اہمیت دے رہا ہے
میں دراصل سنگاپور اپنے شوہر کے پاس جارہی ہوں
اوہ اچھا زبردست۔۔یہ تو خوشی کی خبر ہے
شادی کب ہوئی؟
چونکہ وہ اسے پہلی ملاقات میں آدھی سے زیادہ داستان بتا چکی تھیں اس لئے اسے پوچھنے میں الجھنا نہیں پڑا
دیکھو عالین میری شادی کو تین سال ہوگئے ہیں
مگر میری شادی وہاں نہیں ہوئی۔۔جہاں میں چاہتی تھی۔۔
یہ نہیں تھا کہ وہ مجھے پسند نہیں کرتا تھا
وہ سب باتیں سچ تھیں۔۔بس میں ہی زیادہ خواب دیکھنے لگ گئی تھی۔۔
اس نے تو کہا کہ میں تمہیں اپنی دوست سمجھتا ہوں۔۔
جب تک اسے اندازہ تھا کہ شادی ہوگی تب تک وہ مجھے ڈھکے چھپے انداز میں بہت کچھ کہتا رہا
اور جب اسے لگا کہ کچھ مشکل ہے۔۔
حالانکہ دیکھو میری فیملی زیادہ اچھی تھی
سب لوگ پولائیٹ تھے
ابو نے مجھے کہہ دیا تھا کہ اگر کوئی لڑکا مجھے پسند ہو تو میں بتادوں مگر شرط یہی تھی کہ لڑکے کے والدین رشتہ لینے آئیں گے اور لڑکا مجھے ہر طرح کی سیکیورٹی دے گا
ایک چھوٹا سا ہی گھر میرے نام کرے گا
اور کچھ شرائط انکی تھیں جو کہ جائز تھیں
خدا جانے ابو کو میری پسندیدگی کے بارے میں اندازہ کیسے ہوگیا تھا۔۔
یہ باپ لوگ بھی بڑی گھنی چیز ہوتے ہیں
عالین کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی بجھی سی
مگر جب میں نے عاطف کو یہ باتیں بتائیں تو وہ ایسے جان چھڑاکر بھاگا جیسے ہمارے درمیان کچھ تھا ہی نہیں۔۔
حالانکہ اسکے لیٹرز جسے وہ دوست کو بھیجے ہوئے لو لیٹر کہتا تھا
اس میں میری کتنی باتیں ہوتی تھیں
اسے تو میری پسند کے کلرز تک یاد ہوتے تھے
میں کیا کھاتی ہوں۔۔کیا پہننا پسند کرتی ہوں
کیا کیا ہابیز ہیں میری ۔۔مزاج کی کیسی ہوں۔۔کھانا کیسا پکاتی ہوں۔۔مسئلہ” بہت سارا اسے پتہ تھا عالین۔۔
انکے لہجے میں دکھ درآیا تھا۔۔
مگر اس نے کتنی آسانی سے کہہ دیا کہ ہم صرف دوست ہیں۔۔میں نے تو ایسا کبھی سوچا ہی نہیں۔۔
اور میں تو اسکے لیٹرز بھی اس کے منہ پر نہ مارسکی صرف اتنا کہا کہ شاید میں ہی غلط سمجھتی رہی۔۔چلو اب تمہارے خط جلادوں گی۔۔وہ اگر کسی نے پڑھ لئے تو انسے قطعی یہ نہیں محسوس ہوتا کہ یہ خط صرف ایک دوست کو لکھے ہوئے ہیں۔۔
اور پھر میری اس شخص سے شادی ہوئی۔۔جسے میرے باپ نے چنا۔۔
جو شخص میرے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا کہ میری پسند کا رنگ کون سا ہے
میں کیا کھاتی ہوں۔۔کیا پیتی ہوں۔۔کھانا کیسا پکاتی ہوں
پہننے میں مجھے کیا پسند ہے
مزاج کی کیسی ہوں۔۔کچھ بھی نہیں۔۔
مگر اس شخص نے مجھے پہلے دن سے اپنے گھر میں عزت دی۔۔۔اہمیت دی۔۔اور اس شادی سے مجھے علی ملا۔۔وہ بچے کی طرف دیکھتے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرانے لگیں۔۔ایک تھکی مگر پرسکون سی مسکراہٹ۔۔
اب آپ خوش ہیں نہ۔۔شاہینہ۔۔دیکھو مجھے بھی آپکا نام یاد ہے
وہ تو مجھے معلوم ہے کہ تمہیں یاد ہوگا۔۔
اور دیکھو دوبارہ اتفاقی طور پر مل کر کتنی خوشی ہوئی ہے
اس سال اتفاق تھا کہ روڈ ہڑتال کی ڈسٹربنس کی وجہ سے مجھے ریل کی ٹکٹ لینی پڑی تھی
اور آج اتفاق ہے کہ ہماری یہاں ملاقات ہوگئی
حالانکہ میں نے تو سوچ لیا تھا کہ میں اس اچھی لڑکی سے دوبارہ نہیں مل سکوں گی کیونکہ تم زیادہ تر ریل کا سفر کرتی تھیں
اور میں سالوں بعد مجبوری کی حالت میں ایسا کرتی ہوں
اور تم بھی تو کچھ اپنے بارے میں بتائو نہ۔۔دیکھو وقت تو اب کم رہ گیا ہے
میں کیا بتائوں۔۔جو پوچھیں وہ بتادوں۔۔بلکہ بتایا ہوگا پہلی ملاقات میں۔۔
بتایا تھا۔۔مگر شاید کم ہی۔۔ہاں یاد آیا
تم نے بتایا تھا کہ تم اپنے ممی ڈیڈی کے ساتھ ایک ایک کشادہ لان والے گھر میں رہتی ہو
اور۔۔ اور۔۔۔تمہارے گھر میں بہت ساری کتابیں ہیں۔۔
اور یہ کہ تمہارے کمرے کی دائیں دیوار پر ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں کی تصویریں بڑے بڑے پوسٹرز کی طرح لگائی ہیں تم نے
تمہیں سفر بہت پسند ہے
اور تم دنیا کی تمام گاڑیوں کی کھڑکیوں سے شہروں اور ویران راستوں کو دیکھ کر اچھا محسوس کرتی ہو۔۔
اور یہ بھی کہ تم ایک میگزین میں جاب کرتی ہو
اور کچھ محنتی لوگوں کے انٹرویوز کرتی ہو
اور یہ کہ مگر ایک عجیب شخص سے ملاقات ہوئی ہے تو اب تم نے سوچا ہے کہ تم ریل میں ذیادہ سفر کروگی تاکہ کبھی اس سے ملاقات ہوسکے اور تم اس سے انٹرویو ضرور کروگی
ہیں نہ۔۔۔
دیکھو میری یادداشت کتنی اچھی ہے ۔۔ہے نہ؟
وہ بچوں کی طرح جتانے لگیں
جی بالکل آپکی یادداشت اچھی ہے
بلکہ بہت اچھی
مگر چند سال پہلے کی باتیں تو ہماری گرفت میں ہوتی ہیں حالانکہ ہمیں تو بچپن کی بھی کچھ باتیں یاد رہ جاتی ہیں
دیکھو وہ تو ٹھیک ہے تمہاری بات مانتی ہوں مگر دراصل بات یہ ہے کہ ہمیں زندگی کی مصروفیات میں بہت ساری چیزیں یاد نہیں بھی رہتیں۔۔
تو تم بتائو نہ کہ تم نے شادی کی؟انہیں اچانک خیال آیا کہ یہ تو بہت ضروری بات تھی جو انہوں نے اب تک اس سے نہیں پوچھی تھی
میری شادی متوقع تھی؟وہ الٹا سوال کرنے لگی
یہ تو تمہیں ہی پتہ ہوگا نہ۔۔
میں نے تو تم سے پوچھا تھا کہ کیا تمہاری زندگی میں بھی کوئی ہینڈسم لڑکا ہے
تو تم نے کہا تھا کہ معاف کیجئے گا میری زندگی میں کوئی ہیرو نہیں ہے
میں اب بھی یہی کہوں گی کہ معاف کیجئے گا
میری زندگی میں کوئی ہیرو نہیں ہے
کیا تمہیں کبھی کوئی راستے میں اپنے لئے کوئی ہیرو نہیں ملا؟
آپکو راستوں میں کوئی اپنے لئے نہیں ملتا۔۔بس راستہ کاٹنے کے لئے ملتا ہے
میری تو اکثر راستے میں دوستیاں ہوجاتی تھیں
کبھی کسی بوڑھی نانی سے
کبھی کسی بڑے صاحب سے باتوں کے درمیان ہم آہنگی ہوتی۔۔کبھی کسی کھڑوس عورت کا امتحان لینے کی کوشش کرتی۔۔
اپنے ہم عمر لوگوں میں لڑکیوں کی نسبت لڑکوں سے میری اچھی دوستی رہی ہے
مگر سفر میں صرف آپ ہیں جن سے پہلی مرتبہ دوسری ملاقات ہوئی ہے تو اب یقین سا آیا ہے کہ کسی کے ساتھ بھی کبھی بھی آپکی دوسری ملاقات ہوسکتی ہے
ہاں مگر جب آپ چاہتے ہیں تب شاید نہیں۔۔
جب آپکو دھیان نہیں ہوتا شاید تب ہی۔۔
ایسا نہیں ہے۔۔یاد ہے تم نے کہا تھا کہ جو خواہش رکھی جائے اگر وہ گاڑھی ہوتو توجہ کھینچتی ہے
میں تو بہت کچھ کہتی رہتی ہوں۔۔
دیکھیں مگر آپکے خلوص کی توجہ کیوں نہیں کھینچی اس شخص نے۔۔جو آپکو چھوڑگیا۔۔
ارے چھوڑدو عالین۔۔جانے والوں پر کیا غم کرنا اس نے مجھے چھوڑنے کا پہلے ہی سوچ رکھا ہوگا
اس کے ذہن میں ہوگا کہ اگر سودہ مہنگا ہوا تو مجھے چھوڑدے گا
تبھی تو اس نے آسانی سے سب کرلیا۔۔
خیر جانے دیں۔۔آپکو اپنے سفر کے لئے ہیرو تو مل گیا نہ۔۔
ہاں یہ تو ٹھیک کہتی ہو تم۔۔وہ ہنس دیں۔۔
تمہیں بھی تمہارا ہیرو مل سکتا ہے عالین۔۔
ارے جانے دیں ایسا کوئی غم نہیں فی الحال کئی چھوٹے بڑے کام رہتے ہیں۔۔
میرے کشادہ لان کی گھاس بڑھ گئی ہوگی
اسے کٹوانا بھی ہے۔۔اور بھی ڈھیرسارے کام ہیں۔
امی دراصل انگلینڈ میں ہیں بھائی کے ساتھ
تو مجھے ہی اکیلے رہ کر یہاں کچھ معاملات دیکھنے ہونگے۔۔
ارے تمہاری میگزین والی جاب کیسی جارہی ہے؟
اوہ وہ تو میں نے تب ہی چھوڑدی تھی یار۔۔ایکچولی میگزین کے ایڈیٹر کے ساتھ میرا جھگڑا ہوگیا تھا
وہ فون اٹھاکر کیب آرڈر کرتے ہوئے اپنی لوکیشن بھیج چکی تھی
اب انکے بھی اٹھنے کا وقت تھا
اوہ۔۔کہیں وہ تم پر عاشق تو نہیں ہوگیا؟
ارے نہیں۔۔وہ ہنس پڑی بے ساختہ
ایسا نہیں ہے بس ہمارے کچھ نظریات نہیں مل رہے تھے
بحث ہوئی اور پھر میں نے انکے لئے رپورٹنگ کی جاب چھوڑدی البتہ کبھی کبھار کوئی انٹرویو انہیں دے دیا کرتی تھی
کچھ بھی تھا اس میگزین کے ہاں میں نے کچھ سال لگ کر کام کیا تھا انسیت ہوگئی تھی
اب بھی ایک مرتبہ جائوں گی ملاقات کے لئے
میری ٹیبل جو مجھے اپنی اپنی سی لگتی تھی دیکھوں گی اب وہاں کون بیٹھتا ہے۔۔
اچھا پلین ہے تمہارا۔۔اب بس مجھے اپنا فون نمبر اور پتہ دے دو ہوسکتا ہے کبھی زندگی میں اب ہماری تیسری بھی ملاقات ہو حالانکہ فی الحال کچھ وقت تو میں سنگاپور میں ہی رہوں گی۔۔
ضرور ۔۔مجھے خوشی ہوگی۔۔بلکہ چلیں میں آپکی مدد کرتی ہوں آپکا سامان اٹھوانے میں وہ آگے جاکہ انکے لئے دوسری ٹرالی لے آئی تھی اس میں ان کا سامان رکھا
اور اپنا بیگ ریلینگ ہینڈل سے گھسیٹھتی ہوئی دوسرا ہینڈ بیگ خود تھامے انکے ساتھ اندر تک گئی تھی
اور تب تک کھڑی رہی جب تک وہ اندر چلی گئیں
فون نمبرز کس تبادلہ ہوا اور بچے کو بوسہ دیا تب تک کیب ائیر پورٹ روڈ سے ہی ٹرن ہوگئی تھی
اور ان کے اندر جانے کے بعد دوسری کیب کے لئے آکر گرائونڈ میں کھڑی ہوگئی تھی
نسبتا” یہ گاڑی جلدی پہنچ گئی تھی
وہ پورے چار سال بعد اپنے گھر جارہی تھی
___________

تمہیں میری خاطر ایک دن رونا پڑے گا

******
اندھیرا عجیب ہوتا ہے
مجھے اندھیرے سے ہمیشہ ڈرلگتا ہے
مگر مجھے اندھیرے میں سفر کرنا پڑرہا ہے
اور رات کی تنہائی سے ڈرتی ہوں۔۔
اپنی بڑبڑاہٹ وہ خود سن رہی تھی
اور پلیٹ فارم پر گرمیوں کی رات میں بھی ایک سناٹا چھایا ہوا تھا
اکا دکا لوگ مسافر خانوں سے باہر ٹہل رہے تھے
اور اسے لگا کہ اس بھری دنیا میں اس کا کوئی بھی نہیں ہے
ہر کوئی تنہائی کا رونا روتا ہے
مگر جدائی کا کوئی کوئی رونا روتا ہے
جدائی سخت ہوتی ہے
تھکادیتی ہے
گھلادیتی ہے
ختم کردیتی ہے
اور باقی کچھ نہیں بچتا۔۔۔انسان بچ جاتا ہے
اور انسان کا اندر بچ نہیں پاتا۔۔
وہ کتنی دیر سے خود سے باتیں کررہی تھی
اور خود سے باتیں کرنے والا آدھا پاگل ہوتا ہے
یہ اسکی دادی کہتی تھیں۔۔
تب ۔۔جب وہ خواب دیکھنے سے پہلے سونے لگتی تھی تو خود سے کچھ باتیں کرکے سوتی تھی
اس کے پاس اپنے لئے ڈھیر ساری تسلیاں تھیں اور کچھ امیدیں بھی۔۔اسکی دادی کو اسکی یہ عادت عجیب لگتی تھی حالانکہ وہ خود خودکلامی کی عادی تھیں مگر یہ انکا خیال تھا کہ وہ ایسا تب کرتی ہیں جب انکے لئے کسی کے پاس وقت نہیں ہوتا سننے کا۔۔تب وہ سارے چھوٹے موٹے ضروری کاموں کی فہرست باندھتے ہوئے خودکلامی کرتی تھیں
یہ عادت رات کے وقت پروان چڑھ جاتی تھی
اور یہ ترکیب بھی اس نے اپنی دادی سے ہی سیکھی تھی کہ جب کوئی سننے والا نہ ہو
تو خود کو اپنے مسائل سنادیا کرو
اور خود بیٹھ کر ان مسائل کے حل نکالا کرو
اور خود بیٹھ کر سوچا کرو پھر بول دیا کرو
بلکہ سوچتے وقت ساتھ ساتھ بول بھی دیا کرو
اسے اسکول میں ٹیچر نے بھی بچپن میں یہی مشورہ دیا تھا کہ سبق یاد نہیں ہوتا تو اونچے اونچے پڑھاکرو اس طرح یہ ہوگا کہ تمہارے کانوں نے جو بات سن لی وہ شارٹ ٹرم میموری سے ہوتے ہوئے لانگ ٹرم میموری میں چلی جائے گی
اور تم سبق کو ایک طویل عرصے تک یاد رکھا کروگی۔۔
اور اس نے ایسا ہی کرنا شروع کیا تھا
اسے یاد تھا جب دادی کے کمرے میں بیٹھ کر وہ سبق پڑھا کرتی تھی تو دادی اس کی اس عادت سے بہت چڑتی بھی تھی
وہ پھر بالکنی میں نکل جاتی تھی
اور وہاں سے نیچے جھانکتے ہوئے سبق یاد کرنا بھول کر نیچے والوں کی چہل پہل میں کھوجاتی ۔۔اسے دیکھنے میں مزا آتا تھا
نیچے کے گھر والوں کے ہاں زندگی تھی
شور شرابا تھا
لڑائی جھگڑے بھی تھے
اور خوشیاں بھی تھیں۔۔کم از کم زندگی کا احساس زیادہ تھا
اور تنہائی کا کم تھا
اسے دادی کے ساتھ رہتے ہوئے تو مزید تنہائیوں کے احساسوں کے قصے سن سن کر تنہائی کے بھوت سے ڈر لگنے لگا تھا
یہ وہی وقت تھا جب وہ چھٹی جماعت میں آنے کے بعد بھی دادی کے ساتھ لپٹ کر سوتی تھی
اور نیند میں انہیں جکڑے رکھتی تھی
وہ غسل خانے جانے کے لئے بھی بمشکل اٹھ پاتیں وہ بھی اسے زبردستی خود سے الگ کرکے ۔
اور وہ تب تک آنکھیں کھول کر جاگتی رہتی یا پھر آنکھیں بھیچے بھی اس کا شعور جاگا رہتا
دادی کے آکر بستر پر لیٹنے کے بعد ایک لمبی جمائی لیکر بے فکر ہوکر نیند میں ڈوب جاتی تھی
ایسے جیسے اگر ڈوب ہی گئی تب بھی کوئی اسے نکال لے گا ۔۔چاہے جس قدر گہرائی ہو
اور جب دادی غصے میں آکر بولتیں کہ کب اٹھے گی تو لگتا ہے کہ تجھے اب اٹھنا ہی نہیں ہے
تب وہ ایک لمحے کو چاہتی کہ کاش ایسا ہو کہ وہ نہ اٹھے اور دادی انتظار کرتی رہ جائے۔۔
مگر ایساہوا اس کے ساتھ تھا جب ایک روز دادی سوئیں تو پھر نہیں اٹھیں۔۔
اور اس کے بعد اسے اس گھر سے وحشت ہونے لگی تھی۔۔
دادی نے اس سے کہا تھا کہ تو موت مانگ رہی ہے۔۔مت مانگا کر۔۔جب بھی تو موت مانگتی ہے تو کچھ برا ہوجاتا ہے
دیکھنا اب اگر موت مانگی تو تو نہیں مرے گی۔۔
میں مروں گی۔۔اور مرنے کو تو میں مربھی جائوں مگر پھر تمہارا کون ہوگا۔۔
تو اس دنیا میں اکیلی ہے
تیرا کوئی نہیں میرے علاوہ
اور میرا میرے اللہ کے سوا۔۔
میں تو اپنے اللہ کے پاس جائوں
پر تجھے کس کے پاس چھوڑجائوں کمبخت۔۔
تو ہی سدھر جا۔۔نہ کیا کر مرنے کی باتیں۔۔
زندگی اتنی بھی بری نہیں ہوتی۔۔
پھر اپنے ماضی کے کسی ادھورے قصے میں کھوجاتی تھیں۔۔
اور پھر سکھ بھرے دنوں کی بات جیسے انکے منہ سے جچتی ہی نہ تھی۔۔
اور وہ گھور اندھیری گلیوں میں جیسے کھوجاتی تھیں
پھر اسے ہی انکو ان گھور اندھیاری گلیوں سے لانا پڑتا تھا اور ایسے میں وہ خود بھی لاشعوری طور پر ان کے ذہن میں چلتے ہوئے اندھیروں سے گزرجاتی تھی
کوئی تو وجہ تھی کہ انہوں نے اسے کہا تھا کہ بچیا اندھیرے سے لڑنا سیکھو
اگر اندھیرے سے لڑنا نہیں سیکھا تو روشنی تک نہیں جاپائوگی
اور اسے ڈر لگتا تھا کہ اندھیروں سے لڑتے لڑتے وہ کہیں ان اندھیروں میں کھو ہی نہ جائے۔۔
ایسا نہ ہوکہ اندھیرا بڑھنے لگے۔۔اور وہ اندھی گلیوں کی نظر ہوجائے۔۔جیسا کہ اسے ابھی لگ رہا تھا
یہی کہ وہ کسی اندھیری گلی سے مسلسل گزررہی ہے
یہاں تک کہ سفر لمبا ہونے چلا ہے
یہاں تک کہ وہ یہیں کہیں کھوجائے گی۔۔
بلکہ کھوگئی ہے
اور خود کو اس خوف سے نکالتے ہوئے وہ بینچ پر دمبخود سی بیٹھی رہ گئی کہ اچانک
ٹرین ایک زناٹے سے پلیٹ فارم سے گزرگئی تھی
اور وہ حواس باختگی سے تیزی سے گزرتی ٹرین کے شور میں زنزناہٹ کو سماعتوں پر سمیٹتی ہوش میں تب آئی جب منظر خالی ہوا ٹرین بہت آگے جاچکی تھی
ایک بوڑھا کلی کمر سیدھی کرنے کی کوشش میں اکڑتا تھا اور پھر کچھ جھک کر مسافر خانے کی طرف جانے لگا تھا
اس نے حواسوں کو سنبھالتے ہوئے ایک ساتھ والی سنگل بینچ پر خاموش بیٹھے ہوئے نوجوان کی طرف دیکھا تھا اور بے ساختہ سوال کیا
یہ ٹرین رکی کیوں نہیں؟
یہ رکنے کے لئے نہیں گزری تھی۔۔دوسری جانب سے بڑے اطمینان کے ساتھ جواب آیا تھا
کاش یہ رکتی۔۔اسے رکنا چاہئے تھا گاڑیاں ہر پلیٹ فارم پر تھوڑا رکتی ہیں۔۔وہ بے زاری میں کہنے لگی
ہر گاڑی ہر پلیٹ فارم کے لئے نہیں بنی ہوتی
اور ہر گاڑی ہر پلیٹ فارم پر نہیں رکتی
بات تو ٹھیک ہے مگر۔۔۔پھر اس پلیٹ فارم پر رکنے والی گاڑی کب آئے آخر۔۔میں تھک گئی ہوںں انتظار کرکر کر۔۔کہہ رہے تھے کہ گاڑی لیٹ ہوگئی ہے مگر اب تو دو گھنٹے بج چکے ہیں۔۔
محض دو گھنٹے کے انتظار نے آپکو تھکادیا ہے؟
وہ اب کچھ افسوس سے کہہ رہا تھا
لوگوں کو تو کبھی کبھار صدیوں کا انتظار کرنا پڑجاتا ہے
مجھے ہمیشہ دو گھنٹے کا انتظار کئی بار کئی گھنٹوں کی صورت کرنا پڑجاتا ہے
یہ دو دو مل کر بہت سارے گھنٹے اور دن بنالیتے ہیں۔۔
مگر میں مسلسل انتظار سے تھک چکی ہوں۔۔
ہاں مسلسل انتظار سے تو کوئی بھی تھک سکتا ہے
کوئی بھی۔۔۔وہاں یاسیت بھرگئی تھی
آپ بھی انتظار کررہے ہیں گاڑی کا؟
میں بس یوں ہی بیٹھا ہوں اور جو گاڑی اس کے بعد پلیٹ فارم پر رکی۔۔میں اس میں سوار ہوجائوں گا۔۔
اچھا۔۔کوئی طہ شدہ منزل نہیں آپکی؟
نہیں میں کبھی کبھار طہ شدہ منزل کے بغیر ہی اجنبی پلیٹ فارمز پر اترتا ہوں۔۔اور اجنبی شہروں کے ریلوے اسٹیشنوں پر اجنبی لوگوں کو دیکھتا ہوں
اور مجھے یوں مزا بھی بہت آتا ہے۔۔
تم بہت عجیب ہو ویسے۔۔معاف کرنا میں جلدی میں تم کہہ گئی۔۔

کوئی بات نہیں۔۔مجھ سے کبھی کسی نے آپ جناب کہہ کر بات کی بھی نہیں ہے۔۔وہ مدھم مسکراتا تھا
پلیٹ فارم کی زرد روشنیوں میں اس موچھوں تلے دبا اوپری ہونٹ ڈھکا ہوا تھا
اور ناک نکشہ کھڑا تھا
البتہ وہ اسکی آنکھوں کو نہیں دیکھ سکی تھی کیونکہ وہ اب تک اس کی طرف دیکھے بغیر سامنے خالی پٹڑی کو دیکھ کر بات کررہا تھا
لہجہ کھرا اور تھوڑا صاف تھااس کے باوجود بھی وہ جب بات کرتا تو محسوس ہوتا کہ وہ کسی نشے میں گم ہے
یا پھر نیند سے تازہ بیدار ہوا ہے

تم کہاں جائوگی؟
جام پور۔۔مجھے جام پور جانا ہے
جام پور کے لئے ٹرین کب آئے گی؟
شاید عنقریب آجائے جو ڈیرہ کی طرف جاتے ہوئے جام پور کے ریلوے ٹریک پر رکے گی۔۔
مگر ویسے وہ سفر دور ہے
تم تھک جائوگی۔۔اور ہوسکتا ہے تمہاری ٹکٹ کے پیسے کم پڑجائیں اگر ایسا محسوس ہو تو مجھے بتانا۔۔میں دے دوں گا کیونکہ آدھے سفر تک شاید میں تمہارا ساتھ دے سکوں۔۔
تم تو بہت اچھے انسان لگتے ہو۔۔حقیقت میں اس کے دل کا کافی بوجھ ہلکا ہوگیا تھا یہ سن کر
کیونکہ اس کے پاس پیسے واقعی بہت لگے بندھے تھے
ٹرین اب آئے گی نہ؟وہ بے صبری اور اپنائیت سے پوچھنے لگی
اس طریقے سے وہ صرف زندگی میں مختصر لوگوں کے ساتھ بات کرسکی تھی
ہاں آجائے گی۔۔۔وہ بہت تسلی بھرے لہجے میں بولا
جیسے کسی بچے کو تسلی دی جاتی ہے
ویسے تم نے جام پور میں کس سے ملنا ہے؟معاف کرنا اگر یہ زاتی سوال لگے تو۔۔
نہیں یہ ذاتی سوال تو ہے مگر۔۔۔خیر
مجھے وہاں دیہاتی بستی کی طرف
کسی عورت سے ملنا ہے
اچھا ۔۔اس نے لمبی سانس بھری۔۔اور یہ پوچھتے پوچھتے رک گیا کہ کیوں ملنا ہے
کیوں ملنا ہے؟یہ پوچھنا چاہتے ہو نہ۔وہ بھانپ گئی تھی
اور اتنی دیر میں پہلی بار بے ساختہ اس نے اسکی طرف دیکھا تھا
میں بتاسکتی ہوں۔۔بات حیرت کی ہے مگر بتانے میں ہرج نہیں۔۔
میں اس عورت سے ملنا چاہتی ہوں۔۔جس کے بارے میں میں نے سنا ہے کہ وہ مرے ہووں سے ملاقات کرواتی ہے
لڑکے نے پہلے ناسمجھی پھر ناگواری اور پھر لمبا سانس باہر کھینچ کر اسکی طرف دیکھا
نام کیا ہے تمہارا؟
سعدیہ نورعین
اور تمہارا؟
مجدد ثانی
********
جاری ہے
_____

Advertisements