گہر ہونے تک از صوفیہ کاشف————-سحرش مصطفی

بچپن سے کتابیں، اخبارات اور رسائل پڑھتے ہوئے بہت سی شخصیات کی زندگی اور کامیابیوں کے بارے میں پرھتے ہوئے کبھی بھی کسی ٹھوس آئیڈیلزم کا شکار نہیں ہوئی مجھے انسپائیریشن ہمیشہ اپنے آس پاس موجود انسانوں کی جدو جہد سے ملتی ہے۔۔ بطور انسان ان انسانو ں کی کامیابی نے زیادہ متاثر کیا جن کے سفر کی میں خود گواہ رہی یا پھر مشاہدہ کیا۔ صوفیہ کاشف بھی ان میں سے ایک ہیں۔ صوفیہ کاشف سے پہلا تعارف الف کتاب کے پلیٹ فارم پر کے ذریعے ہوا۔ پڑھنے والے ایک بات مانیں گے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز یا عرف عام میں سوشل میڈیا رائٹرز کو کچھ خاص سنجیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ ایسے میں یہ کامیابیاں اور یہ سفر بہت سے نئے اور خاص طور پر سوشل میڈیا رائٹرز کے لیئے ایک گائیڈ لائن اور امید کی حیثیت رکھتا ہے۔ صوفیہ کاشف کی پہچان ان کا نام نہیں بلکہ کام ہے اور یہ چیز مجھ جیسے لکھاریوں کو بہت ہمت اور امید دلاتی ہے۔ صوفیہ کاشف کا یہ سفر ڈیجیٹل پلیٹ فامرز سے شروع ہوکر ، صوفیہ ڈاٹ بلاگ سے ہوتا ہوا گہر ہونے تک آن ٹہرا ہے اور بہت سی منزلیں ابھی باقی ہیں۔

گہر ہونے تک

صوفیہ کاشف کی اس کتاب میں موجود مضامین میں پہلے بھی پڑھ چکی ہوں اور اب دوبارہ انہیں پڑھ کر وہی لطف آیا جو پہلی مرتبہ پڑھنے میں آیا تھا۔ سڈنی شیلڈن کی مایوسی سے کامیابی تک کا سفر، اوپر اونفرے کی ناقابل یقین داستان، پائلو کوئیلو اور اورخان پاموک کی کامیابیوں کی داستان میری سب سے زیادہ پسندیدہ رہیں اور انہیں کئی بار پڑھا۔ صوفیہ کاشف کا اسلوب تحریر اور الفط کا چناؤ بیحد خوبصورت اور دل آویز ہے۔ ان آرٹیکلز کی خاص بات یہ ہے کہ مصنفہ نے بہت حقیقت پسندی سے کام لیا ہے۔ انہوں نے کہیں بھی کسی بھی شخصیت کے تاریک پہلو کو چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ اس طرح کے مضامین میں موضوع گفتگو بنائی گئی شخصیات کو کوئی ماورائی چیز بناکر پیش کیا جاتا ہے لیکن صوفیہ کاشف نے ان خاص لوگوں کی انسانی کمزوریوں اور زندگی میں رونما ہونے والے نشیب و فراز کو کہیں بھی ڈیفینڈ نہیں کیا۔ اس سے قاری کے اندر ایک امید جاگتی ہے کہ بیسٹ سیلر رائٹر ہو یا مالدار ترین افریقی امریکن خاتون ہو سب اپنی زندگی میں کسی نہ کسی امتحان سے گزر کر ہی سرخرو ہوئے ہیں۔ زندگی کوئی بھی کامیابی پلیٹ میں رکھ کر ہمارے حوالے نہیں کرتی۔ اگر آپ کسی بھی حوالے سے تخلیقی صلاحیت کے مالک ہیں تو ”گہر ہونے تک“ آپ کے لیئے ایک یقین اور امید کا کام کرے گی۔

امید ہے کہ گہر ہونے تک کے اگلے حصے میں ہم صوفیہ کاشف کی زبانی سن سکیں گے کہ اس سفر میں ان کو کس طرح کی مشکلات کا سامنا رہا۔ کب امید کا دھاگا ٹوٹا اور کس خیال نے دوبارہ گرہ لگائی۔ کون سے سوچ نے ہمت توڑی اور کس خیال نے تحریک پیدا کی۔ مستقبل کے لیئے بہت سی دعائیں اور نیک تمنائیں

—————–

تحریر: سحرش مصطفی

فوٹو گرافی: ثروت نجیب

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.