تیسری قسط۔ “زیر نقاب” ————-غضنفر کاظمی

کور ڈیزائن : صوفیہ کاشف

جمیل صاحب مختلف چیزیں برآمد کرتے اور یہاں مارکیٹ میں فروخت کردیتے اس طرح اچھا خاصا نفع حاصل ہوجاتا جبکہ ان کا گیف کلر لیبارٹری سے بھی معاہدہ تھا ہم گیف کی فلمیں یہاں لے کر کراچی لیبارٹری میں بھجواتے جو وہاں سے ان کی تصاویر بناکر ہمیں ارسال کردیتے، یہاں میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتا رہا لیکن پھر ایک دن وہاں ایک افغانی چند کمبل لے کرآیا اور بتایا کہ وہ ان کمبلوں کو فروخت کرنا چاہتا ہے میں نے اس سے وہ کمبل لے کر کھول کر دیکھا لیکن مجھے پسند نہ آیا کیونکہ اس کا بور نکل رہا تھا لیکن وہ کمبل کھول کر دیکھنا میرے لئے مصیبت بن گیا نہ جانے اس کمبل میں ایسے کتنے جراثیم تھے کہ میں اسی وقت یرقان کا شکار ہوگیا، شروع شروع میں تو آغاز تھا اس لئے میں دفتر آکر کام کرتا رہے لیکن چند روز میں ہی یرقان اپنے جوبن پر آگیا اور مجھے ڈاکٹر نے ہدایت دی کہ میں صرف بستر سے صرف باتھ روم تک جاسکتا ہوں اس کے علاوہ میری نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ انسان کے بدن میں خون میں سرخ زرات اور سفید زرات ایک خاص تعداد میں ہوتے ہیں اور جب انسان کوئی محنت کرتا ہے تو اس محنت میں سرخ زرات خرچ ہوتے ہیں لیکن خوراک کی بنا پر قدرتی طور پر وہ سرخ زرات کی کمی پوری ہوتی رہتی ہے اور یرقان یا ہیپاٹائٹس میں جگر کام نہیں کرتا جس سے خون نہیں بنتا اور جسم میں موجود سرخ زرات محنت کی وجہ سے خرچ ہوجاتے ہیں جبکہ خون نہ بننے کی بنا پر ان کی کمی پوری نہیں ہوتی اس طرح وہ سرخ زرات آہستہ آہستہ کم ہوتے ہوتے ختم ہوجاتے ہیں اور انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

میں نے ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل شروع کردیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ پیسے ختم ہوگئے اور میں نے اپنے علاقے میں ایک حکیم اقبال صاحب سے علاج شروع کرادیا جنہوں نے ساندہ مین بازار میں کریمیہ دواخانہ کے نام سے ایک ہسپتال قائم کیا ہوا تھا۔ ہسپتال دو منزلہ تھا جس میں گراﺅنڈ فلور پر انہوں نے اپنا کلینک کھولا ہوا تھا جبکہ اوپر کی منزل میں مریضوں کے لئے کمرے بنے ہوئے تھے لیکن میں نے ان کمروں میں کبھی کسی مریض کو داخل ہوتے نہیں دیکھا تھا، اس زمانے میں ڈاکٹر اقبال دو روپے کی دوا دیتے اور اللہ نے ان کے ہاتھ میں شفا بھی دے رکھی تھی اس لئے ان کی حکمت خوب چمک رہی تھی۔ اس دوران گیف سے میری ملازمت چھوٹ گئی، میں پیسے پیسے کو محتاج ہوگیا، اس دوران میری بچپن کی دوست زاہدہ جس کو بچپن سے تاج کے نام سے پکارتے تھے جو کنیئرڈ کالج میں فارسی کی پروفیسر تھی میری ماموں زاد بہن ہونے کے علاوہ میری بہت اچھی دوست تھی، وہ میری عیادت کے لئے آئی اور جاتے وقت میرے تکئیے کے نیچے ایک لفافہ رکھ گئی، میں نے اس کے جانے کے بعد وہ لفافہ اٹھایا میرا خیال تھا کہ اس میں کوئی خاندانی مسئلہ ہوگا لیکن جب وہ کھولا تو اس میں سے دوسو روپے نکلے، اس وقت وہ دوسو روپے تنائیدِ غیبی محسوس ہوئے، میری بیماری کی وجہ سے میرے بچے بھی بہت پریشان تھے، اس سے قبل میں روزنامہ حیات میں ملازمت کے دوران چونکہ تنخواہ نہیں ملتی تھی اس وجہ سے ایک بیٹی صبا کھو چکا تھا، میں اپنی غربت کے باعث اس کا علاج نہ کراسکا تھااور اس نے میری ہی آغوش میں آخری سانس لئے تھے،میں بہت ڈرا ہوا تھا نہیں چاہتا تھا کہ میرا کوئی اور بچہ غربت کا شکار ہوجائے۔ میں نے اپنے بیٹے موسی رضا کو ایک کاغذپر سامان لکھ کر دیا اور کہا کہ شیخ سے یہ سامان لے آئے، شیخ کی وہاں پرچون کی دکان تھی میرے اس کے ساتھ اچھے مراسم تھے، بہرحال وقت گزرتا رہا میں صحت یاب ہوگیا لیکن اب ملازمت نہیں تھی، میں نے ملازمت کی تلاش شروع کردی، ظاہر ہے کہ آتش شکم حالات نہیں دیکھتی وہ تو اپنے وقت پر ستانے لگتی ہے، میں نے شیخ سے سامان ادھار لینا شروع کردیا، لیکن تین ماہ بعد شیخ نے بھی ہاتھ روک لیا اور کہنے لگا کہ پہلے پیسے دے دو پھر سامان ملے گا۔

اس دوران میرے ایک دوست نے مجھے ایرانی قونصلیٹ میں ملازمت کے لئے بھیجا، اس وقت کے قونصل جنرل آقای ابوالفضلی کو شکایت تھی کہ وہ کوئی بھی خط ٹائپ کراتے ہیں تو اس کی کاپی ان کے ساتھ ساتھ عراقی سفارت خانے میں پہنچ جاتی ہے، ان دنوں ایران اور عراق کی جنگ جاری تھی، میرے دوست نے ان کو یقین دلایا تھا کہ میں بھوکا مرجاﺅں گا لیکن غداری نہیں کروں گا، بہرحال انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا اردو یا فارسی ٹائپ آتی ہے، میں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہاکہ انگریزی ٹائپ آتی ہے، انہوں نے پھر پوچھا کہ کتنے دن میں سیکھ سکتا ہوں میں نے جواب دیا کہ ایک ماہ میں سیکھ لوں گا ، تو انہوں نے کہا کہ جاﺅ اور اردو ٹائپ سیکھو میں ایک ماہ بعد تمہیں بلوالوںگا، یہ سن کر میں اٹھ کر باہر نکل آیا، ان دنوں ایرانی قونصلیٹ کا دفتر 4 مین گلبرگ میں تھا یہ عمارت خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کی ملکیت تھی، پہلے ایرانی قونصلیٹ کا دفتر باوا پارک میں ایک عمارت میں تھا لیکن جب ایران میں انقلاب اسلامی کامیاب ہوا تو یہاں قونصلیٹ کا دفتر اپنی ملکیتی عمارت میں تبدیل کرلیاتھا، بہرحال میں بے دلی سے اٹھ کر باہر نکل آیا، اور پیدل گھر کی جانب روانہ ہولیا، دو روز بعد میں ملازمت ہی کے سلسلے میں اردو بازار گیا وہاں بھاٹی کے پاس سے گزرتے ہوئے میری نظر ایک دکان پر لگے بورڈ پر پڑی جس میں اردو انگریزی زبانوں میں ٹائپ سکھانے کا لکھا ہوا تھا میں وہاں گیا اور ان سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اردو ٹائپ سکھانے کے وہ بیس روپے ماہانہ لیتے ہیں، میں گھر گیا اور اپنے ایک عزیز سے پچاس روپے دو ماہ کے

وعدے پر ادھار لئے اور پھر واپس جاکر ٹائپ کالج میں داخلہ لے لیا، کچھ دن بعد ادھار کے لئے ہوئے پچاس روپے میں سے کالج کی فیس ادا کرنے کے بعد جو تیس روپے بچے تھے وہ ختم ہوگئے اب پھر کھانے کا مسئلہ تھا، میں اٹھ کر شیخ کے پاس گیا اور اس سے باتیں کرنے لگا، اس نے پیسوں کا پوچھا تو میں نے بتایا کہ اگلے ماہ یکم سے میں ایرانی قونصلیٹ میں جارہا ہوں پھر اس کے سارے پیسے ادا کردوں گا، باتوں باتوں میں میں نے اس سے کہا کہ شیخ یار تم نے سنا کہ مٹی کا تیل مہنگا ہونے والا ہے، اس میں فی لٹر دو روپے بڑھ رہے ہیں میرے پاس کوئی جگہ نہیں ہے ورنہ میں دس بیس لاکھ کا تیل ذخیرہ کرلیتا اور قیمت بڑھنے کے بعد فروخت کرکے اچھے خاصے پیسے کمالیتا، شیخ فوری بولا میری دکان میں رکھ لو، میں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں یار یہ میرے اصول کے خلاف ہے اگر تم رکھنا چاہتے ہو تو خود لے لو، شیخ نے بے چارگی سے کہا کہ یار شاہ جی میرے پاس اس وقت پیسے نہیں ہیں، مجھے اسی بات کا انتظار تھا میں نے پیش کش کردی کہ میں زیادہ تو نہیں البتہ دس لاکھ تک کا تیل اسے قرض پر دلاسکتا ہوں، میری اس بات پر وہ ریشہ ختمی ہوگیا اور منتیں کرنے کے انداز میں بولا یار شاہ دلادو مجھے میں کچھ نفع کمالوں گا، میں نے کہا اچھا میں تمہیں ایک کاغذ پر لکھ دیتا ہوں تم اکبری منڈی جاکر عرفان سے ملاقات کرلو وہ تمہیں ادھار تیل دے دے گا لیکن تیل میں فی لٹر چند پیسے بڑھادے گا، شیخ فوری ریشہ ختم ہوتے ہوئے بولا یار جلدی لکھو نا، میں نے کہا کہ تعارفی خط تو بعد میں لکھوں گا پہلے سامان میرے گھر پہنچاﺅ یہ کہہ کر میں نے کچن کا سامان لکھ کر دیا اور اتنا لکھا جس سے دو ماہ گزر سکیں، میں نے وہ کاغذ شیخ کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ سامان گھر پہنچاﺅ اور آکر مجھ سے تعارفی خط لے جاﺅ یہ کہہ کر میں گھر لوٹ آیا اور آتے ہی ایک خط لکھ کر تیار کیا، تھوڑی دیر میں شیخ سامان لے کر آیا اور میں نے اس کو وہ خط دیتے ہوئے کہاکہ اس سے بتا دینا کہ میں تمہارا مستقل گاہک ہوں اور ہماری دوستی بھی ہے شیخ نے انتہائی ممنونیت سے وہ خط لے کر مجھ سے دکان کے بارے میں سوال کیا، میں نے ایک دفعہ موچی سے گزرتے ہوئے بورڈ پڑھا تھا عرفان کریانہ مرچنٹ، لہذا اس کا پتہ سمجھادیا اور شیخ وہ خط لے کر چلا گیا، میری بیوی نے مجھ سے پوچھا کہ شیخ نے تو سامان دینے سے انکار کردیا تھا پھر یہ کیسے لایا میں نے اس کو ساری بات بتاتے ہوئے کہا کہ اب میں کچھ دن کے لئے غائب ہوجاﺅں گا جب شیخ آکر پوچھے تو کہہ دینا کہ کراچی گیا ہوں ایک مہینے تک آﺅں گا، وہ ہنستے ہوئے بولی تم بہت چالاک ہوگئے ہو وہ بے چارہ سیدھا سادا انسان ہے تم اسے بے وقوف بنارہے ہو، میں نے کہا نہیں بے قوف نہیں بنارہا ملازمت ملتے ہی سب سے پہلے شیخ کا قرض ہی اتاروں گا۔

بہرحال شیخ وہاں گیا ظاہر ہے کہ عرفان میرا واقف نہیں تھا لیکن خط پڑھ کر وہ بھی سوچ میں پڑ گیا کہ جس نے اتنے اعتماد سے خط لکھا ہے وہ واقف تو ضرور ہوگا، لہذا اس نے شیخ سے کہا کہ تیل تو وہ دے دے گا لیکن جس نے یہ خط لکھا ہے اس کو لے کر آﺅ، شیخ یہ سن کر خوشی خوشی سیدھا میرے گھر آیا، اتفاق سے اس وقت میں گھر کے باہر کھڑا تھا، شیخ نے آتے ہی مجھے گلے سے لگا لیا اور بولا، یار شاہ وہ تو بہت بڑی دکان ہے اس سے بات کرادو میں باقی سامان بھی اس سے لے لیا کروں گا، میں نے شیخ سے کہا کہ اچھا تم دکان پر جاﺅ میں اس سے مل کر تیل لے لوں گا اور ان کا پھیری والا تمہاری دکان پر پہنچادے گا تم اس کو کرایہ دے دینا، میری بات سن کر شیخ خوش ہوگیا اور وعدہ کرگیا، اس کے پیچھے پیچھے میں ایک بار پھر اس کی دکان پر پہنچا اور اس سے کہا کہ یار مجھے اتنے سگریٹ دے دو جو ایک ماہ چل جائیں اس نے مجھے مارون گولڈ کے تین ڈنڈے دے دئیے یعنی تیس پیکٹ ایک پیکٹ روز کے حساب سے وہ ایک مہینے کا کوٹہ تھا، سگریٹ لے کر میں نے کہا کہ شکریہ دوست میں کل تو نہیں البتہ پرسوں ضرور منڈی جاکر تیل بھجوادوں گا، پھر میں گھر لوٹ آیا، اس کے چند روز بعد شیخ سے میری ملاقات ہوگئی تو اس نے تیل کا پوچھا میں نے جواب دیا کہ میری عرفان سے بات ہوگئی ہے اس نے ایک مہنے بعد کا ٹائم دیا ہے ابھی اس کے پاس پرانے آرڈر ہیں جو وہ پورے کررہا ھے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں سب کو علم ہوگیا تھا اور ہر دکاندار تیل سٹاک کرنے کے لئے جمع کررہا ہے، میری بات میں چونکہ وزن تھا اس لئے شیخ نے یقین کرلیا۔

بہرحال اس دوران ایرانی قونصلیٹ سے آئے ہوئے پورا ایک مہینہ ہوگیا اور اسی روز میرے گھر کے دروازے پر ایک مرسڈیز گاڑی آکر رکی، میں نے باہر نکل کردیکھا اس میں ایرانی قونصلیٹ کا ڈرائیور خادم تھا، خادم نے مجھے کہا کہ آقای ابوالفضلی مجھے بلارہے ہیں، میں نے پوچھا کہ کب آﺅں تو اس نے کہا کہ کب آﺅں نہیں انہوں نے مجھے تمہیں لینے کے لئے بھیجا ہے تو کپڑے بدل کر آﺅ اور میرے ساتھ چلو، میں اسی وقت چاچا خادم کے ساتھ بیٹھ گیا۔ قونصلیٹ پہنچا تو آقای ابوالفضلی نے کہا، آقای کاظمی ایک مہینہ ہوگیا ہے تم اردو ٹائپ کا ٹیسٹ دو، اور مجھے ایک ایرانی نوجوان غلام رضا نام آور کے سپرد کردیا، غلام رضا نے مجھے ٹائپ مشین پر بٹھادیا میں نے اس سے کہا کہ مجھے اردو ٹائپ سیکھتے ہوئے ابھی پچیس دن ہوئے ہیں، اس لئے رفتار کم ہے وہ بولا کوئی بات نہیں تم ٹیسٹ دو، میں نے اردو ٹائپ شروع کردی اور غلام رضا نے مجھے اس بنیاد پر پاس کردیا کہ ٹائپ کرتے وقت میری نظریں کی بورڈ کے بجائے اس کاغذ پر تھیں جس سے میں ٹائپ کررہا تھا، بہرحال اب آقای ابوالفضلی نے مجھ سے تنخواہ کے بارے میں سوال کیا تو میں نے ان سے پندرہ سو مانگے، اس وقت تک میں نے زیادہ سے زیادہ ایک ہزار روپے ماہوار لئے تھے اور پندرہ سو روپے مہینہ میرے لئے ایک خزانے سے کم نہیں تھا، میرا مطالبہ وہ فوری مان گئے اور میں نے وہاں کام شروع کردیا۔ دنوں دنوں میں میری ٹائپ کی رفتار اتنی تیز ہوگئی کہ میں وحدتِ اسلامی نامی مجلہ پورا سٹینسل پیپر پر ٹائپ کرتا، اس کے پچیس سے تیس صفحات ہوتے تھے، اور ہم وہ سٹینسل سے پرنٹ نکال کر اپنے ممبران کو مفت تقسیم کرتے، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ رسالہ بہت معلوماتی ہوتا تھا جس میں ایران کے بارے میں ہی نہیں بلکہ اسلامی لحاظ سے بھی بہت معلومات ہوتی تھیں۔ بہرحال جب مجھے پہلی تنخواہ ملی اور میں شیخ کی دکان پر گیا تو وہ میری شکل دیکھتے ہی بولا، اوئے شاہ فراڈئیے، توں میرے پیہے دینے نے کہ نئیں؟ اور میں نے کوئی بات کئے بغیر جیب سے پیسے نکال کر اس کا بل چکایا اور اس کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا کہ یار شیخ میں بچوں کو بھوکاتو نہیں مار سکتا تھا نا اور تم ادھار دینے پر آمادہ نہیں تھے اس لئے وہ ڈرامہ رچانا پڑا اور دیکھ لو آج تمہارا سارا بل ادا کردیا اب ملازمت مل گئی ہے اور انشاءاللہ مستقل ہے، شیخ نے کہا اور وہ عرفان، میں نے اسے پوری بات بتادی کہ ایک روز وہاں سے گزرتے وقت میری نظر اس بورڈ پر پڑ گئی تھی ورنہ میں عرفان کو بالکل نہیں جانتا، البتہ اگر وہ کچھ تیل سٹاک کرنا چاہتا ہے تو میں نقد دے دوں گا، میری بات سن کر اس کا قہقہ نکل گیا اور بولا، شاہ فراڈئیے کچھ اور سامان لینا ہے کیا؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں اور سامان تو نہیں لینا البتہ میرا دکان پر آنا ممکن نہیں ہوگا تم ہر مہینے سامان میرے گھر پہنچا دیا کرو اور بل وہیں سے مل جایا کرے گا، اس پر شیخ نے پھر ہنستے ہوئے کہ اچھا اگر کبھی بھابی نے بل نہ دیا تو تم کتنے عرصے بعد دو گے، میں نے بھی ہنستے ہوئے کہا کہ یار شیخ تمہیں یہ تجریہ تو ہوگیا ہے نا کہ میرے گھر دیر تو ہے لیکن اندھیر نہیں ہے، جلد یا بدیر میں ایک ایک پیسہ ادا کردیتاہوں، میری اس بات پر شیخ بھی ہنسنے لگا، بہرحال اس کے بعد میں اپنی ادارتی ذمہ داریوں میں مصروف ہوگیا، مجھے قونصلیٹ سے ہونڈا 125 مل گئی پٹرول بھی دفتر کی ذمہ داری تھا، میں اٹھارہ سے بیس گھنٹے دفتر میں اردو ٹائپ کرتا اب میں نے فارسی ٹائپ بھی شروع کردی تھی، وہیں میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کمپیوٹر دیکھا ان کے پاس Apple کا کمپیوٹر تھا جس کی قیمت ساڑھے چار لاکھ روپے تھی۔ اس وقت مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کمپیوٹر کو چلاتے کیسے ہیں لیکن اللہ پاک کا کرم کہ اس نے مجھے ذہانت بہت عطا فرمائی تھی میں مشکل سے مشکل کام دنوں میں سیکھ لیا کرتا تھا۔ بہرحال اب میری انگریزی، اردو، فارسی اور عربی ٹائپنگ کی رفتار اَسّی الفاظ فی منٹ سے بھی زیادہ تھی۔

ایرانی قونصلیٹ میںکا م کرتے ہوئے مجھے چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ آقای ابوالفضلی کا تبادلہ ہوگیا اور ان کی جگہ آقای احمد نغمہ نے لے لی، انہوں نے آتے ہی قونصلیٹ کی تعلقات عامہ کی ذمہ داری بھی مجھے سونپ دی اور ساتھ ہی تقریبات کا اختیار بھی مجھے تفویض کردیا، اور میں نے وہاں پر محافل مشاعرہ کی بنیاد ڈالی، اس کام میں میرے بھانجے اور دوست حسن رضوی مرحوم نے میرا بہت ساتھ دیا جبکہ حسن کے علاوہ سرفراز سید، ڈاکٹر نذرالاسلام، حسنین جاوید، پروفیسر مشکور حسین یاد، قتیل شفائی، احمد ندیم قاسمی، مظفر وارثی، منیر نیازی، عارف عبدالمتین، امجد اسلام امجد اور مصنف اصغر ندیم سید کے ساتھ ساتھ دیگر ممتاز شعرا نے بہت ساتھ دیا۔

اس طرح چار برس گزر گئے اور اب قونصلیٹ کی قونصل جنرل کے عہدے پر آقای محمد حسن شیرازی کسائی براجمان تھے، انہوں نے مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جو ہفت روزہ اور ماہانہ مجلات ہیں ان میں سے کوئی بھی معیاری نہیں ہے ان میں خواتین کی بے حجاب تصاویر ہوتی ہیں اگر تم کوئی ایسا مجلہ شروع کرو جس میں وہ مواد دیا جائے جو نئی نسل کو دینا چاہئے تو ہم مالی معاونت کریں گے، یہ کام تو میرے مذاج کے مطابق ہونے کے ساتھ میری روح تھا لہذا میں نے اسد چیمبرز پرانی انار کلی میں ایک دفتر کرائے پر لیا، یہ پلازہ پیر سید آصف علی گیلانی کے بڑے بھائی مشتاق شاہ کا ہے، وہاں دفتر کرائے پر لے کر میں نے اپنے دوست شیخ قیوم انور سلطان کو ساتھ ملایا اور ایک ماہانہ میگزین ”نقاش“ کرائے پر لے کر اس کی اشاعت کی تیاری شروع کردی اس دوران تمام اخراجات میں خود ادا کرتا رہا اور اس کے لئے قرض بھی لیتا رہا،حتی کہ دفتر کا افتتاح کردیا اور یہ افتتاح بھی آقای کسائی کے ہاتھوں ہوا، اس کے بعد میں ماہنما نقاش کی اشاعت کی تیاری شروع کردی، لیکن ابھی یہ اشاعت کی منازل طے کررہا تھا کہ آقای کسائی کو ایران بلایا گیا وہ مجھے یہ کہہ کر گئے کہ وہ ایران میں وزارت خارجہ سے بات کر کے میرے لئے بجٹ کی منظوری لے لیں گے، لیکن وہ نہ آئے، بہرحال ماہنامہ نقاش شائع ہوگیا اور اس میں میں نے جو اداریہ لکھا وہ میرے حقیقی جذبات یعنی حب الوطنی سے بھرپور تھا، اس ادارئیے نے ایک حساس قومی ادارے کو میری جانب متوجہ کردیا اور ان کا ایک اہل کار اے ایس آئی سلطان آکر مجھ سے ملا (مجھے شک ہے کہ یہ ایک فرضی نام تھا) اور میری ملاقات لارنس روڈ میں ایک دفتر میں ایک سینئر افسر (میجر زبیر) سے کرائی، جنہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ تمہارے لئے ایران کی زیادہ اہمیت ہے یا پاکستان کی؟ میں نے جواب دیا کہ جناب ایران سے میرا رزق وابستہ ہے لیکن پاکستان میرا گھر ہے اس لئے میرے لئے پاکستان اہم ہے اس کے لئے میں سب کچھ تج سکتا ہوں، تب انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اگر ایرانی اداروں میں پاکستان کے خلاف کوئی کام ہو تو تم کیا کروگے؟ میں نے جواب دیا کہ میں ایسا ہونے ہی نہیں دوں گا وہیں شور مچادوں گا، انہوں نے کہا کہ اس سے کیا ہوگا اس طرح تم اپنی زندگی بھی خطرے میں ڈال دو گے بہتر ہے کہ اگر ایسا کوئی بھی کام ہو جو پاکستان کے خلاف ہو تو تم ہمیں خبر دو گے، میں نے حامی بھرتے ہوئے کہا لیکن ایران تو پاکستان کا مخلص دوست ہے وہ ایسا کوئی بھی کام کیوں کرے گا، اس پر انہوں نے مجھے ایک خبر دی لیکن میں نے اس خبر کو رد کردیا وہ خبر وطن عزیز میں دو تنظیموں آئی او (امامیہ آرگنائزیشن) اور آئی ایس او کے حوالے سے تھیں جبکہ غلام رضا نامور کا نام بھی مشکوک افراد میں تھا، میں نے انہیں اس حوالے سے یقین دلایا کہ جس کسی نے بھی یہ خبریں دی ہیں وہ محب وطن نہیں بلکہ وطن میں خانہ جنگی چاہتا ہے، میں نے غلام رضا نامور کے بارے میں بتایا کہ وہ بی ڈی ایس کا طالب علم ہے اور چونکہ انقلاب کے بعد وہ قونصلیٹ سے رابطے میں رہا اس لئے قونصلیٹ میں بھی اہمیت اختیار کرگیا اور وہ اس پر اعتماد کرنے لگے جبکہ ایرانی طلبا بھی اس کے ذریعے قونصلیٹ سے رابطے کرتے ہیں اس لئے وہ عام ایرانی کی نسبت اہم ضرور ہے اور اسی لئے وہ ایک ایرانی عالم آیت اللہ حلیمی کی جانب سے لاہور میں ایرانی طلبا کو ماہانہ تعلیمی وظیفہ بھی دیتا ہے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتا خاص طور پر پاکستان مخالف کسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہے اگر کبھی ایسا ہوا تو میں سب سے پہلے آپ کو مخبری کرکے اس کو قانون کی گرفت میں لاﺅں گا، میری اس بات سے وہ مطمئن ہوگئے۔

اس دوران میرے حالات خراب سے خراب تر ہوگئے کیونکہ آقای کسائی واپس نہیں لوٹے اور یہاں جن لوگوں سے میں قرض لیتا رہا تھا وہ میرے پیچھے لگے ہوئے تھے میں نے ان سے ایک ماہ کے لئے قرض لیا تھا جبکہ اب چھ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا تھا، مجھے ملازمت ترک کرنا پڑی، گھر بھی چھوڑنا پڑا کیونکہ میرے قرض خواہوں میں سے ایک نے مجھے بدمعاشوں کے ہاتھوں فروخت کردیا تھا اس نے گوالمنڈی کے گلو کو میرے پیچھے لگادیا تھا، اب میں اپنے ہی شہر میں غیروں کی مانند چھپتا پھر رہا تھا۔ جب مجھے اپنی زندگی انتہائی خطرے میں نظر آئی تو میں روزنامہ حیات مرحوم کے ایگزیکٹو ایڈیٹر امجد جاوید سے ملا جنہوں نے ایوان مشرق میں ایک کمرہ کرائے پر لے کر دفتر قائم کیا ہواتھا، ان سے سو روپے لے کر اور ماہنامہ نقاش کے چند مجلے لے کر اسلام آباد گیا، وہاں پہلے ایرانی اداروں سے پیسے لینے کی کوشش کی اور انکار پر میں پریشان ہوگیا کیوکہ اسلام آباد میں میں ایک ہوٹل میں ٹہرا تھا مجھے اس کا کرایہ بھی دینا تھا، اس پریشانی کے عالم میں مجھے یاد آیا کہ ایک بار لاہور میں ڈاکٹر یاسین رضوی نے مجھے عراقی سفارت خانے کے ایک افسر حسن خلف سے میری ملاقات کرائی تھی جنہوں نے مجھے ایرانی قونصلیٹ کی دفتر سے مخبری کی پیش کش کی اور کافی بڑی رقم کی دعوت دی لیکن میں نے ٹھکرادی تھی، وہ اپنی رقم بڑھاتے رہے اور میں انکار کرتا رہا آخرانہوں نے کہا کہ مسٹر کاظمی دنیا میں کچھ لوگ بہت سستے ہوتے ہیں، کچھ قیمتی ہوتے ہیں اور کچھ بہت ہی قیمتی ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کو خریدنا بہت مشکل ہوتا ہے وہ اپنی قیمت خود طے کرتے ہیں تم بتاﺅ کیا لوگے، میں نے غصے میں جواب دیا کہ مسٹر حسن خلف تمہارا واسطہ ایک سچے اور وفادار پاکستانی سے ہے میں بھوکا بھی مرتا ہوں گا تو اپنے دفتر سے غداری نہیں کروں گا ہاں یہاں سے کام چھوڑ کر تمہارے سفارت خانے میں کام شروع کرسکتا ہوں لیکن اس صورت میں بھی تمہیں ایرانی قونصلیٹ کے حوالے سے کچھ نہیں بتاﺅں گا، یہ کہہ کر میں اٹھ کر وہاں سے چلا گیا، یہ خیال آتے ہی میں عراقی سفارت خانے گیا اور حسن خلف سے ملنے کی درخواست کی گیٹ مین نے مجھے روک کراندر انٹرکام پر اطلاع دی اور پھر مجھے اندر بھیج دیا جہاں ایک کارکن مجھے انتظار گاہ تک لے گیا اور وہاں بٹھا کر چلا گیا تھوڑی دیر میں حسن خلف آئے اور آتے ہی مسکراتے ہوئے بولے، ” ہاں تو کاظمی صاحب اب بکنے پر تیار ہو؟“ میں نے اسی طرح کہا کہ میں مر جاوں گا لیکن بکوں گا نہیں، ان کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی اور انہوں نے مجھے گھورتے ہوئے پوچھا کہ پھر یہاں کیوں آئے ہو، میں نے کہا کہ میں اس وقت مشکل میں ہوں مجھے کچھ رقم چاہئے اس لئے یہاں آیا ہوں کہ ہوسکتا ہے میں عنقریب تمہارے سفارت خانے میں کام شروع کردوں لیکن فی الحال مجھے کچھ رقم چاہئے، یہ سن کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور پوچھا کہ کتنی رقم چاہئے میں نے جواب دیا پانچ ہزار روپے، انہوں نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا کہ کس مد میں دوں گا میں اور تم اس کی رسید بھی دوگے۔ میں نے اقرار میں کہا کہ ہاں میں رسید دوں گا اور یہ لو(میں ماہناماہ نقاش کے میگزین دیتے ہوئے کہا) یہ لے لو ان کی قیمت کے طور پر مجھے پانچ ہزار روپے ادا کردو اور میں ان پانچ ہزار روپوں کی رسید بھی دوں گا، وہ چند لمحے میرے چہرے کو گھورتے رہے پھر اٹھ کر چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد آکر پانچ ہزار روپے مجھے دیتے ہوئے میرے سامنے ایک کاغذ رکھ دیا اور بولے اس پر رسید تحریر کردو، میں نے جیب سے قلم نکال کر اس پر رسید تحریر کردی کے ماہنامہ نقاش کے میگزین کے بدلے پانچ ہزار روپے وصول پائے۔ انہوں نے رسید پڑھی اور پھر مسکراتے ہوئے بولے مسڑ کاظمی مجھے تم جیسے ذہین اورمحب وطن شخص کی خدمات اپنے ادارے کے لئے حاصل کرکے خوشی ہوگی تم جب چاہو آسکتے ہو ہمارے دروازے ہمیشہ تم پر کھلے رہیں گے، میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے پیسے پکڑے وہاں سے سیدھا ہوٹل گیا اور بل ادا کرکے ریلوے سٹیشن پہنچا اور کراچی کی ٹکٹ لی اس وقت صرف خیبر میل کی ٹکٹ مل سکی وہ بھی صرف سیٹ کی، میں نے غنیمت جانا اور وہاں سے اپنی بیوی کو لاہور فون کیا کہ کل صحب دس بجے ریلوے سٹیشن پر آجائے میں اسے کچھ رقم دے دوں گا جس سے وہ کچن چلاسکے، اگلے روز جب گاڑی لاہور پہنچی تو میں تلاش کرتا رہے لیکن وہ نہ آئی اور گاڑی روانہ ہوگئی، خانیوال پہنچ کر میں نے ایک لفافہ لیا اور اس میں دو ہزار روپے ڈال کر اپنا ایڈریس لکھ کر ڈاک کے حوالے کردیا اور دل ہی دل میں دعا مانگتا رہے کہ اللہ کرے یہ لفافہ میری بیوی کو مل جائے اور اللہ کا شکر کہ وہ اس کو مل گیا تھا، بہرحال میں کراچی پہنچا اور وہاں اپنے

خالہ زاد بھائی صفی عباس کے گھر جاکر رکا جو ان دنوں سٹیٹ بنک میں شماریات کے آفیسر تھے۔ وہاں کافی عرصہ رہا پھر میری خالہ زاد بہن مجھے اپنے گھر لے گئی، وہیں میرے بردار نسبتی قیصر عباس زیدی نے مجھے جامعہ تعلیمات اسلامی کے ادارے میں کام دلا دیا جو کھارادر میں تھا وہاں آقای یوسب کسم نفسی انچارج تھے، یہ آیت اللہ خوئی کا ایسا ادارہ تھا جو اسلامی کتب کو انگریزی میں ترجمہ کرکے افریقہ مفت ترسیل کرتا تھا، ان کا مقصد تھا کہ اس سے پہلے کہ افریقہ میں قادیانی پہنچے ہم حقیقی اسلام کی تعلیم وہاں عام کردیں، اس مقصد کے لئے وہ اسلامی کتب کا آسان انگریزی زبان میں ترجمہ کرکے ان کو شائع کرتے اور پھر افریقہ سے جو لوگ طلب کرتے ان کو مفت ارسال کرتے ، مجھے اس دفتر میں مینیجر کی جگہ ملی اور میرا کا افریقہ سے آنے والے خطوط کا جواب دینا اور ان میں طلب کردہ کتب کی ترسیل تھا، میں نے ایک روز محترم یوسف کسم نفسی سے کہا کہ جو لوگ کتابوں کے لئے خط لکھتے ہیں ان کی انگریزی دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ وہ یہ کتابیں پڑھ سکتے ہوں گے میرے خیال میں وہ انہیں فروخت کرتے ہوں گے، انہوں نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ فروخت کرتے ہیں لیکن جو ان سے خریدتے ہیں وہ تو پڑھتے ہوں گے نا اور یہی ہمارا مقصد ہے، تم اس پر نہ سوچو وہاں سے جو بھی جتنی کتابیں طلب کرے تم بھیج دو، میں یہ جواب سن کر خاموش ہوگیا، لطف کی بات یہ ہے کہ نفسی صاحب بھی کینیا کے شہری تھے جو ویزا پر پاکستان آئے ہوئے تھے۔ اس ادارے میں ایک صاحب اور بھی تھے جو کاظمی تھے ان کا تکیہ کلام تھا، ” ہم شیر ہیں ہم سے کون بچ سکتاہے“۔ میں ان سے بہت مذاق کرتا تھا ایک روز نفسی صاحب کے دفتر میں کچھ مہمان بیٹھے تھے، نفسی صاحب نے مجھے بلایا اور کسی کام کے سلسلے میں بات کی جواس وقت مجھے یاد نہیں ویسے تھا وہ ڈاک خرچ سے متعق، اسی سلسلے میں انہوں نے کاظمی صاحب کو بھی بلوایا اور ان سے کام کے بارے میں تفصیل طلب کی۔ کاظمی صاحب نے جواب دے کر حسب معمول کہا کہ نفسی صاحب ہم شیر ہیں، میرے منہہ سے فوری طور پر بے ساختہ نکل گیا کہ کاظمی صاحب یہ تو بتائیں کہ کوئی شیر آپ کے گھر آگیا تھا یا آپ کی والدہ کہیں بھٹک کر جنگل میں چلی گئی تھیں، اس پر وہاں قہقہ تو پڑا لیکن نفسی صاحب نے مجھے ٹوکتے ہوئے کہا کہ کاظمی صاحب ایسے کسی کو گالی نہیں دیتے آپ ایسے بھی کہہ سکتے تھے کہ آپ کے والد کہیں جنگل میں گئے تھے یا کوئی شرنی گھر میں آگئی تھی، میں نفسی صاحب کی اس بات پر شرمندہ ہوگیا اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ کاظمی تم نے ان کی والدہ کی شان میں گستاخی کی ہے جاﺅ ان سے معذرت کرو، اور میں نے آکر کاظمی صاحب سے معافی مانگی لیکن اس کے ساتھ ہی میرے ذہن میں اسلامی اخلاق سے متعلق ایک خانہ روشن ہوگیا اور میں اسلامی اخلاق کا دل سے قائل ہوگیا۔

کچھ عرصہ ملازمت کرنے کے بعد میں نے ملیر پندرہ میں آغا باقر کا ایک گھر چھ سو روپے ماہانہ کرائے پر لے لیا، اور وہاں فرنشڈ کرنے کے تو پیسے نہیں تھے البتہ نفسی صاحب سے پیسے لے کر فرش پا پلاسٹک شیٹ بچھالی یہی کام کچن میں کیا اور کچھ ضروری بر تن لاکر رکھے، پھر مہینے بھر کا کچن کا سامان لے آیا اور لاہور میں اپنی والدہ اور بیوی کو خط لکھ کر کراچی آنے کاکہا اور یہ لوگ میری خالہ کے گھر رہ رہے تھے جو کیمپس میں رہتی تھیں میرے خالو پنجاب یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر تھے ان کو کیمپس میں سرکاری رہائش ملی ہوئی تھی۔ امی جان نے پہلے میری بیوی کو بھیجا اور پھر چند روز بعد خود بھی آگئیں اس طرح کراچی میں میں نے نئے سرے سے زندگی شروع کی۔ وقت بہت اچھا گزر رہا تھا کہ شومئی قسمت ایک روز میں چلتا ہوا ایک گٹر میں اس طرح گرا کہ میری ٹانگ اس کے اندر پھنس گئی، اصل میں ویسے تو گٹر کے منہہ پر ڈھکنا تھا لیکن جب میرا پاﺅں ڈھکنے پر پڑا تو وہ الٹ گیا اور میری ٹانگ ڈھکنے اور گٹر کے درمیان پھنس گئی، جس سے میرے ٹخنے کی ہڈی کریک ہوگئی اور میں چلنے سے معذور ہوگیا، کئی روز گھر میں پڑا رہا ، نفسی صاحب مجے پیغام بھیجتے رہے کہ دفتر میں بہت سے خطوط جمع ہوگئے ہیں آکر ان کو کتابیں بھیجو، لیکن میں چلنے کے قابل نہیں تھا، آخر ایک روز انہوں نے میری جگہ ایک آدمی رکھ لیا اور مجھے پانچ ہزار روپے دے کر خدا حافظ کہہ دیا۔ وہاں میرا اپنے رشتے داروں کے گھر آنا جانا تھا، ان میں میری بڑی خواہر نسبتی سعیدہ باجی لانڈھی میں رہتی تھیں میرے ہم زلف آفاق ایک کپڑے کی مل میں کام کرتے تھے ساتھ میں گھر میں دھاگوں کے خوبصورت پھول بھی بنا کرمارکیٹ میں فروخت کردیتے اس طرح معقول آمدنی ہوجاتی، میں ان کے گھر جاتا تھا جب ان کو میری ملازمت چھٹ جانے کا علم ہوا تو انہوں نے مجھے پھول بنانے سکھادیئے اور کہا کہ بھائی یہ کام سیکھ لو ملازمت ہو نا ہو تم بھوکے نہیں رہوگے اور پھر بعد میں وہی کام میرے کام آیا اور میں پورا ہفتہ پھول بناتا اور اتوار کو اتوار بازار میں فروخت کردیتا، اس طرح روکھی سوکھی کھا کرزندگی بسر ہوتی رہی البتہ مکان کا کرایہ ادا نہ کرسکا اور یہ باقر بھائی کی شرافت ہے کہ انہوں نے مجھ سے کبھی کرایہ طلب نہ کیا حتی کہ جب میں وہاں سے لاہور لوٹا تب تک کئی ماہ کا کرایہ سر پر چڑھ چکا تھا لیکن انہوں نے وہ نہیں مانگا، اب باقر بھائی اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں اور میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اس کرائے کے بدلے اللہ ان پر رحم و کرم فرمائے۔

ایک روز مجھے لاہور سے ایک ٹیلی گرام ملا جس میں میرے ایک دوست آصف نے مجھے پیغام بھیجا کہ ایرانی قونصلیٹ کے ویزا انچارج آقای نجفیان نے مجھے فوری بلایا ہے، یہ تار ملتے ہی میں وہاں سے لاہور کے لئے روانہ ہوگیا، یہاں یہ بتادوں کہ کراچی میں میرے ایک ماموں مسلم بھی رہائش پذیر ہیں انہوں نے بھی میری کافی مدد کی اور جب لاہور آنے کا ہوا تو انہوں نے مجھے کہا کہ گھر کی فکر نہ کرنا وہ اپنی باجی کی ضرورتیں پوری کرتے رہیں گے اور انہوں نے ایسا ہی کیا بعد میں جب میں نے امی جان کو بلایا تومیرے ماموں مسلم نے ان کو گاڑی میں سوار کرایا اور گاڑی کی ٹکٹوں سمیت پورا سفر خرچ برداشت کیا۔

کراچی میں مجھے ایک سانحہ کا بھی سامنا کرنا پڑا، ہوا یوں کہ وہاں میری بیوی نے ایک بیٹے کو جنم دیا، ان دنوں کراچی کے حالات خربا تھے ایم کیو ایم نے بہت خون خرابہ کیا ہوا تھا، کراچی میں ہر وقت کرفیو رہتا، اتفاق سے میرا نوزائیدہ بیٹا بیمار ہوگیا، چند روز تو کسی نہ کسی طرح گزر گئے ایک رات اس کی حالت بگڑی، میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ چلو جو بھی ہوگا دیکھی جائے گی ہم کسی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں، امی جان نے پوچھا کہ اس وقت کس ڈاکٹر کے پاس جاﺅ گے؟ میں نے کہا کہ امی جان یہاں راستے میں ایک گھر پر میں نے بورڈ پڑھا تھا وہ کسی ڈاکٹر کا گھر ہے، میں اسی ڈاکٹر کے پاس جاﺅں گا، امی جان یہ سن کر خاموش ہوگئیں، اور میں اپنی بیوی کو لے کر رات کے گیارہ بجے کے قریب گھر سے نکلا اور ہم چھپتے چھپاتے آگے بڑھتے رہے، ایک طرف ایم کیو ایم کے غنڈوں کا خطرہ تھا اور دوسری طرف پولیس کا کیونکہ کرفیو میں کسی کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم چل رہا تھا، ہم چھپتے چھپاتے ڈاکٹر کے گھر پہنچے، کال بیل دی پہلے تو ڈر کی وجہ سے کسی نے توجہ ہی نہ دی آخر کافی دیر بعد ایک خاتون کی آواز آئی جو پوچھ رہی تھیں کہ کون ہے؟ میں نے کہا ”باجی میرا بیٹا بیمار ہے پلیز دروازہ کھولیں تاکہ ڈاکٹر صاحب اس کو دیکھ کر دوا دے سکیں، میری منتوں کے بعد ڈاکٹر صاحب دروازے پر آئے اور نہ مجھے اندر بلایا نہ خود باہر آئے بلکہ تھوڑا سا دروازہ کھول کر بچے کو دیکھا اور اس کے منہہ میں دو قطرے دوا ٹپکادی اور کہا کہ بس جاﺅ اب یہ صبح تک ٹھیک ہوجائے گا، میری بیوی نے مجھے اور میں نے اس کو دیکھا اور خاموشی سے گھر لوٹ آئے، صبح اذان کے وقت میرا بیٹا فوت ہوگیا، یہ میرا چوتھا بچہ تھا جو شِیرخواری کے دنوں میں فوت ہوا تھا، میرا دل اندر سے کٹا جارہا تھا لیکن مجھے ماں کی مصیبت کا احساس تھا اس لئے اپنے آنسوﺅں پر بند باندھ لیا۔ اتفاق سے میرے برادر نسبتی سعید اس دن کراچی میں تھے ان کو علم ہوا تو وہ ہمارے گھر آئے اور تدفین کا انتظام کیا ورنہ میرے پاس تو پیسے ہی نہیں تھے پھر تدفین کے لئے چندہ ہی جمع کرنا پڑتا۔ اس کو کرفیو کے دورا ہی دفن کیا اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ کہاں دفن کیا کیونکہ مجھے کراچی کے راستوں کا علم نہیں تھا بس جہاں میں جاتا تھا وہیں کے راستے جانتا تھا، اس لئے وہ میرا محروم بیٹا ایسا مرحوم تھا جس کو ایک بار دفن کر کے پھر اس کی قبر پر کبھی جانا نہیں ہوا شائد اس کی متلاشی نگاہیں ہرطرف نگران ہوں کہ کبھی تو اس کی ماں یا باپ آئیں گے لیکن وہ دن اور آج کا دن ہم قبر پر نہیں جاسکے شائد قیامت کے روز وہ میرا گریبان پکڑ کرسوال کرے کہ بابا کیامیں

آپ کا بیٹا نہیں تھا؟ پھر آپ کیوں کبھی میرے پاس نہیں آئے، پتہ ہے میں رات کو اکیلا کتنا ڈرتا تھا، میں خوف کے مارے آنکھیں بند کرلیتا پھر اس لئے کھول لیتا کہ کہیں آپ آکر واپس نہ چلے جائیں اور میں آپ کے چہرے کی زیارت سے محروم رہوں،لیکن آنکھیں کھلتیں تو سوائے تنہائی کے اور کوئی منظر نظر نہ آتا، میں اب سوچتا ہوں کہ قیامت کے روز میں اپنے محبت سے محروم بیٹے کو کیا جواب دوں گا، بہرحال جواب تو دینا ہی ہوگا ۔

خیر قصہ مختصر میں لاہور آگیا اور یہاں آکر اپنے بڑے بھائی شبر کاظمی کے گھر سمن آباد میں آگیا ایرانی قونصلیٹ گیا اور وہاں آقای نجفیان سے ملا تو انہوں نے مجھ سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ آقای محمد شیرازی کسائی نے میرے ساتھ بہت زیادتی کی ہے اور اب وہ مجھے پھر سے وہاں ملازمت دینا چاہتے ہیں میں مان گیا اور اسی روز سے وہاں کام شروع کردیا انہوں نے مجھے دو ہزار روپے دئیے تاکہ میں ایک ماہ اپنا خرچ چلا سکوں۔ میں نے ساندہ چھ سو روپے ماہانہ پر ایک مکان کرائے پر لیا اور امی جان کو آنے کے لئے کہہ دیا اس طرح لاہور سے فرار ہونے کے بعد میں دوبارہ لاہور آگیا لیکن جن کا مقروض تھا ان کا قرض ظاہر ہے کہ ابھی واجب الادا تھا۔

Advertisements