دوام, آخری سحر ہے!______سدرتہ المنتہی

پیش لفظ
*********
گنجان جزیروں سے کچھ لوگ صرف ہماری خاطر آتے ہیں
وہ ہماری کہانیوں کے کردار ہوتے ہیں!
یا پھر ہمارے بیشتر خیالات، جو کبھی کرداروں کا روپ دھار لیتے ہیں
اور کردار خیالوں کا!
خیال کے توسط سے ہمیں اندر کی آنکھ بہت کچھ دکھاتی، محسوس کراتی ہے۔۔
مجھے تو کبھی کسی نئی کہانی کا بن جانا ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے کچھ اگلا ہو
وہ سب جو ہم زندگی کی کئی صورتوں میں نگلتے ہیں
مگر یہ اگلنا بہت خوب ہوتا ہے
ہم بن رہے ہوتے ہیں
ہم بگڑ رہے ہوتے ہیں
جتنا وژن مضبوط ہوتا ہے
خیالات کا گھیرائو کرداروں کی انسیت وہاں تک جاتی ہے۔
میرا یہ ماننا ہے کہ ہمارے کردار بھی ہمیں ڈھونڈتے ہیں۔۔
اور جب ہم اس قابل ہوجاتے ہیں تو وہ کردار چپکے سے ہمارے پاس آکر بیٹھ جاتے ہیں
اور بات چیت کرتے ہیں
اور آشنائی ہوتی ہے
شناسائی کا یہ لمحہ بہت عجیب ہوتا ہے
اور بہت طاقتور بھی۔۔جو ہمیں کسی ان دیکھے جہان کی بھول بھلیوں میں لے جاتا ہے
یا پھر دیکھے جہان کی بھول بھلیوں سے آشنائی دیتا ہے
ہم کئی بار خود کو حاصل کرتے ہیں
اور حاصل کرکے کھودیتے ہیں
ہر ایک کہانی جب اختتام کو پہنچ رہی ہوتی ہے تو لگتا ہے ہم بہت کچھ دان کرکے اور بہت کچھ کھوچکے ہیں
اور پھر یہ سلسلہ تب تک جاری رہتا ہے جب تک کوئی نئی کہانی چھب نہیں دکھاتی۔۔
پاس نہیں بلاتی۔۔دوستی نہیں کرتی ۔۔کبھی کبھار وہ کنارے سے ہی چھوٹ جاتی ہے۔۔
میری دعا ہے جو کہانی ہم شروع کرنے جارہے ہیں
وہ کنارے سے نہ چھوٹے بلکہ کنارے لگاکہ چھوٹے۔۔
یہ ہر دلچسپ سفر کے پہلے پڑائو کی طرح ہے
یہ ایک نئی آواز ہے جس کی پکار پر میں نے گردن گھماکر ہی نہیں پہلو بدل کر دیکھنے کی کوشش کی ہے
میں کہاں تک جا سکتی ہوں یہ میں خود بھی نہیں جانتی۔۔
البتہ چاہوں گی کہ کسی بھی ویب کے لئے جبکہ یہ میرا دوسرا ناول ہے
شریک حیات، کے بعد پھر
دوام آخری سحر ہے
آپکی توجہ کا منتظر رہے گا
مرکز کب بنتا ہے
اسے وقت پر چھوڑتے ہیں
اور تب تک میں کسی گنجان دری سے جھانکنے کی پھر سے کوشش کرنے لگی ہوں
مجھے ابھی ان سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔
یعنی کہ ان کرداروں سے۔۔قوی امید ہے کہ ہماری ایک اچھی بیٹھک ہوسکے گی۔۔اور میں ان سے ان کا حال جان پائوں گی۔۔اور کہانی اپنی زبانی چل پڑے گی
تب تک والسلام
خیر کی طالب

سدرت المنتہی’

_____________
فوٹوگرافی:قدسیہ,صوفیہ کاشف

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

ماڈل:ماہم

Advertisements