چھٹی جماعت——————عظمی طور

کاغذ اس کے لیے ایسے ہی ہے جیسے سونے والے کے لیے سرہانہ جیسے بھوکے کے لیے روٹی کا آخری لقمہ جیسے پیاسے کے لیے بیٹھ کر تین گھونٹ میں پانی پینا ۔ کاغذ کی ساخت ،اسکا پھڑپھڑانا اس کا نم ہو کر پھٹنا یا چائے کے داغ کو پکڑ لینا وہ جیسے اپنے جسم پر موجود اعضاء سے واقف ہے ایسا ہی کچھ ان معاملات میں بھی رہا۔

قلم ہاتھ میں تھامنا ضروری نہیں سیاہی اس کی پوروں سے ٹپکتی ہے۔

بستہ کاندھوں پہ ڈالے بے فکری کی عمر پیروں میں دھرے فٹ بال کی مانند تھی ۔ ایک کک اور وقت کی ایسی کی تیسی ۔ مگر گیند کوٹ میں ڈالنا ہی اصل کھیل ہے اور اس کے حِصے میں کوئی کوٹ نہیں تھا ۔

شروع سے اچھی کارکردگی سے حاصل کی گئی دو چار پانچ ننھی منی اس کی عمر کے مطابق ٹرافیاں الماری میں سجی تھیں ۔

اسے اڑنا تھا ،اپنے باپ کی خواہش پورا کرنا تھی ۔

اس کے باپ نے پڑھنے کے نام پر تین جماعتیں پڑھ رکھی تھیں اور وہ بڑی اولاد ہونے کے ناطے اسے بہت پڑھانا چاہتا تھا ۔

اس کے باپ کو اگر کوئی چیز مرعوب کرتی تھی تو وہ تعلیم تھی ۔

وہ پڑھے لکھے لوگوں کی عزت کرتا تھا ۔

بے فکری کے چھکے چھوٹے تو گیند ادھڑے دھاگوں کے ساتھ اس کے سامنے دھری تھی ۔

تعلیم کو عزت دینے والا باپ اسے ہر لحاظ سے یتیم کر گیا تھا ۔

ایک حادثے میں باپ جاں بحق ہوا اور اس کی تقدیر کے پرخچے اڑ گئے ۔

وہ اس کے اسکول کا آخری دن تھا ۔ پھر کبھی اسے اسکول نہ جانے دیا گیا ۔

بارہ برس کی چھوٹی سی عمر میں اس نے گیند دوسروں کے ہاتھوں میں دے دیا ۔

باپ کی موت کے بعد باپ کے سگے بھائیوں نے اپنی رگوں میں رنگ بدلتے خون پر دھیان نہ دیا ۔

اس کے چھوٹے بہن بھائی اسکول جاتے اور وہ ان کے لیے ٹفن تیار کرتی ۔ پورا دن گھر کے کام کرتی ،بہن بھائی کی دیکھ بھال کرتی ۔

دنیا دکھاوے کو اسے کتابیں تو دی گئیں مگر پڑھنے کے لیے وقت نہ دیا جاتا ۔

دن گزرتے رہے وہ بھی چلتی رہی ۔

خون میں لالی کے ساتھ سیاہی بھی گھلنے لگی تھی.

تلخی نے زبان و دل کو سیاہ کرنے کے بجائے رگوں میں دوڑنا شروع کر دیا ۔

رات ہوتی سب سو جاتے اور وہ بند دروازے کی درز سے آتی ایک باریک لکیر میں گھر میں رکھے پرانے اخبار ،رسالے، ڈائجسٹ سب پی جاتی۔

ایسا جام منہ کو لگا کہ سب تلخیاں نشہ بن کر صفحوں پر لفظوں کی صورت رقص کرنے لگیں ۔

صفحے لہکنے لگے ، تحریروں نے گھنگھرو باندھے اور وہ جھومنے لگی ۔

اب چاہے وقت تابع ہو نہ ہو لفظ تابع ہیں قلم تابع ہے ،اور قلم سے بڑا کوئی وقت نہیں ۔ یہ گردن اکڑائے کھڑا کٹھور وقت بھی قلم کی سیاہی کا محتاج ہے ۔

اب وہی بال کو ٹھڈے مارنے والے اس کی تحریروں کو ہاتھوں میں تھامے لرزتے ہیں اور اپنی ہی لگائی زور دار کک کی شننن کی آواز کے زناٹے میں اپنی کپکپاہٹ چھپاتے پھرتے ہیں اور وہ آج بھی تابع قلم کو ہاتھ میں تھامے صفحوں پر دسمبر میں رہ جانے والے آخری دو پرچوں کا غم لیے سینے سے اپنا بستہ لگائے سر جھکائے چھٹی جماعت کے باہر اک پرچھائیں کو تحریر کرتی رہتی ہے ۔

(عظمیٰ طور)

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.