منڈیر کا کوا __________احمد نعیم

وہ کوا کائیں کائیں کرکے روزانہ مجھے بیدار کرتا، میرا کوئی شناسا نہیں تھا…. اس لئے کبھی اس کی کائیں کائیں مجھے اچھی بھی لگتی، مگر جب احساسِ تنہائی شدید ہو جاتا تو مجھے اس کی آواز سے الجھن بھی ہونے لگی…. شدید الجھن _وہ روزانہ صبح سویرے ہی آجاتا کبھی اذان سے پہلے کبھی کبھی تو مرغے کی بانگ سے پہلے ہی آجاتا.. کبھی کائیں کائیں میں جھینگر ؤں کی آواز اک عجیب سا ماحول پیدا کردیتی __آواز کرتا سلیپنگ فین میری تنہائی میں حائل ہوتا _تیز سانس کبھی آہیں کبھی ھوں ھوں کرکے بے آواز رونا کبھی جلدی جلدی میں لکھنے کی سرسراہٹ نقطہ دیتے وقت نب کو پٹکنے کی آواز کبھی “جاگتے رہو کی سدا”
بے وقت بھی آجاتا یہ کوا… میری منڈیر اسکا ٹھکانا تھی دن میں بھری دوپہر میں اسکا رنگ سورج کی کرنوں سے چمکدار ہو جاتا سر شام میں بجھتےبجھتے بھی کبھی میں اسے دیکھتا تو وہ مجھے گھر کے اطراف ہی کاوا مارتے نظر آتا گھر جاتے پرندوں کو دیکھ کر جذباتی ہونے سے پہلے ہی کاوا مارتا یک لخت میرے سامنے آجاتا میں سوچتا اس کا اور میرا کیا رشتہ ہے کیوں یہ میرا ہمزاد بنا ہے _
کالا کوا سیاہ بختوں کا نصیب ہے کیا……..کالے کالے کی مناسبت سے
اس دن وہ وہ نہیں آیا مجھے اس کا احساس تھا اس کا نہ آنا مجھے میں تجس پیدا کررہا تھا وہ سارا دن گزار گیا رات اب صبح کی دہلیز پر جانے والی تھی – – – -ہمیشہ کی طرح – آج بھی سونے کی کوشش کررہا تھا مگر میں سو نہیں پا رہا تھا ___کوا آج کیوں نہیں آیا یہ سوال باربار مجھے ماضی کی حیرت ناکیوں سے کھینچ رہا تھا مجھے اس آواز کا نہ آنا ادھورے پن کا احساس دلا رہا تھا
میری خاموشی کا آوازوں سے رشتہ تھا
آواز کے نکالنے والوں سے نہیں
میں آوازں کے بغیر جی نہیں سکتا ہمیشہ میری طویل خاموشی نے تنہائی کے ساتھ باہری آوازوں کو اپنا بنایا تھا
___اب مجھے کوے کی نہیں اس آواز کی تلاش تھی دوسرے کوؤں کی آوازیں مجھے اس کوے جیسی نہیں لگتی تھی ان آوازیوں میں وہ مانوسیت نہیں تھی میں نے مفاہمت سیکھ لی اب دوسرے کوؤں کی آوازوں سے میں اپنائیت محسوس کرتا مگر یہ کوے میری منڈیر پر نہیں بیٹھتے یہ بس مخصوص وقت کے لئے آتے ہیں وہ کوا میرا اپنا تھا ____آخر تھا وہ کون؟؟؟؟ کیوں وہ بار بار ہر گھٹری آتا تھا میرے پاس بہت بہت سوچنے پر میں یہ سمجھ پایا کہ شاید وہ بھی میرے جیسا ہی ہوگا،
اپنا اک رنگ اپنا ایک مزاج اور اپنا پن رکھنے والا میری تنہائی میری اداسی میری تیرگی دیکھ کر شاید اس کی “‘جاندار نوازی” کا جذبہ جاگ جاتا ہوگا اپنا ایک اپنے سے دور ہوگیا جانے کہاں چلا گیا تھا وہ_مجھے آج بھی اس کی کائیں کائیں محسوس ہوتی __میں اس آواز کا انتطار کرتا ہوں میری سماعت بھی اس آواز کی چاہت مند ہے آخر میری منڈیر میں کیا کیا ہے؟؟؟ کیوں دوسرے کوے نہیں آتے.

_________________

تحریر:احمد نعیم،انڈیا

فوٹو گرافی وکورڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements