“وہ بولو!”_________نور العلمہ حسن

کبھی تم نے مقرر
کیں، وہ تقریریں
کہ جن میں تم
زباں سے دل کے اپنے بول ادا کرتے؟
کبھی ایسا کیا تم نے
کہ فتح و ہار کو اپنی جدا کرتے؟
کبھی ایسا کیا تم نے
کہ رٹ رٹ کر خطابت کے ہنر
دکھلا کے ٹرافی کی قطاریں
تم لگانے کی بجائے
ایک دن افکار پر چھائی
غبار آلود تہ کے خاتمے کی غرض سے بولو؟
وہ بولو ذہن میں تمہارے جو پُر ہے
وہ بولو دہن جو تمہارا کہنا چاہے
وہ بولو!

لُغت سے لفظوں کے جو استعارے
تم لئے تقریر کو اپنی سجاتے ہو
تصنع سے لگی لپٹی خطابت چھوڑ کر جانا۔۔۔
ادیبوں کے اشارے تم جو سرقہ کر کے
عادی بولنے کے ہو۔۔۔
کبھی اِس خُو کو تم، گھر چھوڑ کر جانا۔
مرا ایماں ہے کہ اُس روز اک تقریر ہوگی
جو حقیقت میں اثر انگیز ہوگی…
تب مقرر اصل میں بولے گا
اس دن ہی حقیقی جیت طے ہوگی…

_________________

کلام:نورالعلمہ حسن

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.