داستان___________صوفیہ کاشف

چلو آج مجھ سے سن لو

دیواروں پر تھک کر بیٹھی ہوئی داستانیں

سانس کی ڈوری سے چپکی

قدم قدم چلتی،سانس لیتی، دم بھرتیں

جینے کے جتن کرتی داستانیں

وہ جن کی انگلی پکڑے جینے کی طلب

سمندر کی ریت کنارے بیٹھ جاتی ہے

سسکتی ، آہیں بھرتی،تمھیں بلاتی ہے

بہتی ندیا کے رنگ میں ڈھل کر

سبز گنبدوں سے بھری نیک چادر پر

سر رکھتے ہی چیخ بنکر،

انگ انگ میں زنگ بن کراتر آتی ہے

تاریک راستوں کی سیاہی میں آسماں پر

پورا چاند بنکر تنہائ اتر آتی ہے

ذندگی کی ہر پور سے پیاس چھلکتی ہے

سوکھی بیلوں سے آس جھڑتی ہے

،کسکتی ہے تڑپتی ہے,تمھیں بلاتی ہے!

لفظ در لفظ اک تعبیر رکھتے

بے رنگ محل کی تعمیر کرتے

وہ خون جسے لال رنگ میں بدل کر

دیواروں کو چمکایا جاتا ہے

لہجے کو گرمایا جاتا ہے

اس لال لبادے کے رنگنے کی کہانی

اور جلتے ایندھن کی ان کہی داستان

محبت کی تھکی ہوئی، ہاری داستان

سانس لیتے،ہر موڑ پر گرتے بدن کی

شکست وریخت کی ماری داستان

چلو آج ہنسی کہ ہر تسبیح لپیٹ کر رکھ دو

چلو اپنی حدتوں کے آتش زرا مدہم کر دو

چلو آج بیٹھو زرا ہاتھ تھامے

بیتے موسم کی ساری کالی بارشوں کی

زمین پر آگے خودرو جھاڑیوں کی

ٹوٹی بستیوں کی ڈوبتی ہستیوں کی

داستانیں سن لو!

_________________

کلام :صوفیہ کاشف

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.