ڈوبتے سورج کا کرب___________احمد نعیم

وہ جسے کہیں سورج، کہیں آفتاب، کہیں خورشیداور کہیں شمس کہا گیا۔۔۔۔

اب وہ ڈوب جانا چاہتا ہے۔۔۔۔مگر وائے ناکامی اسے ڈوبنے سے پہلے ڈوبنے کے لیے مطمئن کر دینے والے ان لمحات کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے ڈوبنے کے لیے درکار ہوتے ہیں ۔۔۔۔

ہائے ۔۔۔۔ اب شروع ہوتے ہیں وہ لمحات

سیلیکٹ ۔۔۔۔ڈیلیٹ۔۔۔۔ ناٹ فاونڈ۔۔۔۔

ہائے قیامت ۔۔۔۔ ہائے قیامت ۔۔۔۔ افففف خدا۔۔۔۔ڈیٹا آف ۔۔۔۔۔۔۔

اب وہ کہاں ہے ۔۔۔۔

الٰہی توبہ ۔۔۔ سرخ زمیں، سرخ آسماں، سرخ ہوائیں اور سرخ سماج ۔۔۔۔مگر اس کے خیال سبز ہیں ۔

وائے ناکامی!!!

یہ کیا کمبینیشن ہے!!!

کہیں اس سے سیاہی تو نہیں پھیلے گی؟؟؟؟

یہ سیاہی گہری ہوگی ۔۔۔۔یا ہلکی؟؟؟

ہائے افسوس!!!

ہائے افسوس!!!

ہائے افسوس!!!

اب وہ اپنا رنگ بنانا چاہتا ہے نہ سرخ، نہ سبز، نہ سیاہ ۔حالانکہ اس کی بنیاد سفید تھی ۔اب کون سا رنگ بچا ہے جسے وہ ابھارے؟؟

اس کے ذہن و دل کو اب نئے رنگوں کی تلاش ہے ۔

—————-

تحریر :احمد نعیم،انڈیا

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements