وہ جب تھک کر 
بیٹھ جاتی 
تو اس کے ہاتھ ہاتھوں میں لیتا
اس کی بند مٹھی کھولتا 
ہتھیلی کو پھیلتا دیکھتی تو 
تکھن سے چور آنکھوں میں 
ستارے دمکنے لگتے 
سب کو لگا چکی مہندی؟؟ 
تمھاری ہتھلیاں کیوں خالی ہیں ؟؟؟
لاؤ میں تمھاری ہتھیلی پر پورا چاند اتارتا ہوں __
وہ اسکی شرارت بھانپ لیتی تھی 
میں جانتی ہوں سب 
چاند اس رنگ کا نہیں ہوتا __
“نہیں ایسا ہی ہوتا ہے 
ہماری رات روشن ہے 
چاند پر تمھاری زلف کا سایہ ہے” 
مگر اب 
ایسا کچھ نہیں ہوتا 
رات سیاہ ہے 
اور چاند روشن ہے ___ !!!
(عظمیٰ طور)
فوٹو گرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف