تم مجھ میں ہو_____سمیرا حمید

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف’

٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭

واشنگٹن بہار کو خوش آمدید کہہ چکا تھا، اور شہد کی ان مکھیوں کو بھی جو پرجوش دن میں میوزک کنسرٹ جیسی پر ہجوم جگہ پر پاکٹ ما ررہی تھیں۔۔۔۔۔۔یعنی جیب کاٹ رہی تھیں۔اس میوزک کنسرٹ میں نارمل کم اور دیوانے زیادہ تھے، ایسے ہی کچھ مسٹر بین اور مس پینی بھی۔۔۔۔۔۔
”یہ میرا ہے مس!اس لیے مجھے واپس کر دیں۔”
وہ اس کے پیچھے آیا تھا اور اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کراسے روکا اور پھر اس کے سامنے آکر کھڑاہو ا تھا۔۔۔۔۔۔وہ یعنی زوہان۔
”کیا۔۔۔۔۔۔”اس نے ببل کو منہ میں ادھر ادھر منتقل کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔۔وہ یعنی ارسلہ۔۔۔۔۔۔
”جو میری جیب میں ہاتھ ڈال کر تم نکال لائی ہو۔۔۔۔۔۔”اس نے کامل اطمینان سے کہا۔ گردن موڑ کر اسٹیج پر کھڑے سنگر کو گھور کر ایسے دیکھا جیسے اس کے گھورنے سے وہ اپنے حلق کا والیوم کچھ کم کر لے گا۔ اس کا توسگا باپ بھی اسے چپ نہیں کروا سکتا تھا، وہ تو پھر سوتیلا، یعنی ٹکٹ لے کر آنے والا فین تھا۔
”تمہاری جیب۔۔۔۔۔۔میرا کیا تعلق ہے تمہاری جیب سے۔۔۔۔۔۔؟”ببل کا غبارہ بنایا اور پھوڑ دیا، چلا کر کہا۔
”جیب سے۔۔۔۔۔۔ جیب میں رکھے والٹ سے۔۔۔۔۔۔والٹ میں رکھے پیسوں سے۔”وہ حلق پھاڑ کر کہہ رہا تھا۔
”ہا۔۔۔۔۔۔یعنی تمہیں پتا بھی ہے کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔۔۔۔”اس نے ببل کو تھوک کی طرح تھوک دیا۔ اوہ غصہ۔
”یعنی کہ اگر مجھے میرا والٹ واپس نہیں ملا تو تمہیں معلوم بھی نہیں ہو گا کہ تمہارے ساتھ کیا ہور ہاہے۔”
”تم دفع ہونا پسند کرو گے، یا میں چند لوگو ں کو تمہاری طرف متوجہ کرنے کی زحمت کروں تاکہ وہ تمہیں ”دفع”ہونے کا طریقہ سمجھائیں۔”
”تم سیدھی طرح سے میرا والٹ واپس کرو گی یا میں چند لوگوں یعنی پولیس کو بلاؤں اور وہ تمہیں ”الٹا ” کر کے میرا والٹ حاصل کریں۔۔۔۔۔۔یعنی میرا پیسہ۔۔۔۔۔۔یعنی صرف میرے ڈالرز۔۔۔۔۔۔”
”ہونہہ۔۔۔۔۔۔کر کے دیکھ لو۔۔۔۔۔۔”اس نے جینز کی پاکٹ میں ایک ہاتھ زن کیا ۔خود کو پرسکون ظاہر کیا۔(وہ کانپ رہی تھی)
” تم پینی ہو نا۔۔۔۔۔۔تم لوگوں نے چھوٹا بڑا کوئی کنسرٹ چھوڑا بھی ہے؟ہر جگہ پہنچ جاتی ہو ڈنگ مارنے۔۔۔۔۔۔”
”پینی؟یہ کیاہوتاہے۔۔۔۔۔۔”وہ تمسخر سے ہنسی۔
”ہوتا نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ایک ایک پینی کتر لینے والی، کاٹ لینی والی۔۔۔۔۔۔چھپکلی جیسی۔۔۔۔۔۔”
”آئی ایم سوری!کیا تم کسی چوہے کی تعریف بیان کررہے ہو۔۔۔۔۔۔یعنی اپنی۔۔۔۔۔۔”چھپکلی پر اپنی تعریف کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔
”تم نے غور نہیں کیا، میں چوہیا کی طرف متوجہ ہوا۔”اس کی جیکٹ کے کالر کو ہاتھ سے اپنی طرف کھینچا اور جھٹکا دیا۔
”یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔۔۔”وہ چلائی۔
” ہم جیسے شریفوں نے تم جیسے بے شریفوں یعنی اچکوں ۔۔۔۔۔۔یعنی ٹھگوں۔۔۔۔۔۔جیب کتروں کو ایک شریفانہ سا نام دیا ہے، اور وہ نام ہے ”مس پینی”۔”
”خود کو تم مسٹر یورو کہتے ہو یا مسٹر ڈالر۔۔۔۔۔۔”وہ کالر کو آزاد کروانے کی کوشش کررہی تھی لیکن ایسا ہو نہیں پا رہا تھا۔
”مسٹر شریف انسان۔۔۔۔۔۔”مسکرا کر کہا۔
”تو مسٹرکمینے انسان!تم یہ کیسے ثابت کرو گے کہ میں پینی ہی ہوں؟”زور لگا کر وہ اپنا کالر آزاد کروانے میں کامیاب ہو چکی تھی۔ سانس تھوڑا پھول گیا تھا۔ دو قدم پیچھے ہٹ کر بھی کھڑا ہونا پڑا تھا۔سنگر اپنا گانا، گا کر جا چکا تھا۔ اب ارسلہ کا رونا شروع ہونے والا تھا نا۔
”تمہارے منہ پرمکامار کر۔۔۔۔۔۔تم زمین بوس ہو جاؤ گی اور میں اپنا والٹ حاصل کر لوں گا۔۔۔۔۔۔”
”تمہیں لگتا ہے کہ تمہاری اتنی پہنچ ہے کہ تم یہ حرکت کر سکو۔”
وہ تمسخر سے ہنسا، اور اسی ہنسی کے دوران بجلی کی سرعت سے ہاتھ کو ہوا میں لہرایا اور ناک پر پڑا۔۔۔۔۔۔کیا بھلا؟پانچ بند انگلیوں کا اتحاد۔۔۔۔۔۔یعنی مکا۔۔۔۔۔۔درد کی تیز لہر اس کے ناک سے آنکھوں اور سر کی طرف روانہ ہوئی۔آنکھوں کے سامنے ایک دم سے اندھیرہ چھا گیا۔وہ نا ک پر ہاتھ رکھ کر دہرائی ہوتی ہوئی زمین بوس ہو چکی تھی۔ ناک کی تکلیف، دانت کی تکلیف کی طرح برداشت سے باہر، اختیار سے باہر۔۔۔۔۔۔
وہ اپنا والٹ حاصل کر چکاتھا۔ یہ ٹھیک تھا کہ وہ اچھا انسان تھا، لیکن بروں کے لیے بہت برا تھا۔یہ کیا بات ہوئی کہ اس نے، اس کے چند ڈالرز بھی اُڑا لیے تھے۔ اتنے پرندے اڑ رہے تھے، ان میں سے کسی کو پکڑ کر اُڑا لیتی۔مکھیاں بھی تو تھیں، اور نہیں تو گپیں ہی چٹکیوں میں اڑا لیتی۔اس میوزک کنسرٹ کی ٹکٹ ویسے ہی اتنی مہنگی تھی، پھر کچھ کھانا پینا بھی تھا۔ اب بندہ ایسی جگہوں پر آئے تو میوزک سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ چورنیوں سے اپنی جیب بھی کٹوائے۔۔۔۔۔۔بتاؤ بھلا۔۔۔۔۔۔
و ہ چورنی۔۔۔۔۔۔نا ک کی ہڈی ٹٹو ل رہی تھی کہ کچھ بچ گئی ہے یا پوری ہی پچک گئی ہے۔ تکلیف سے دہرائی ہو رہی تھی۔بری عادتیں بچپن سے لگتی ہیں ، لیکن اسے یہی کوئی ڈیڑھ سال پہلے لگی تھیں۔سگی ماں چھوڑ گئی، سگا باپ فوت ہو گیا، چچا نے اپنے ساتھ رکھا، اور محرومیوں کا آغاز ہو گیا۔ایک ضروری خانہ خالی ہو جائے ،تو کئی غیر ضروری خانے بننے لگتے ہیں۔ محبت کا خانہ خالی رہا تو اس نے جیب کا خانہ بھرنا شروع کر دیا تھا۔یہ ایسی اذیت تھی جو اس نے خود کو دینی شروع کر دی تھی۔ یہ غلط راستہ نہیں تھا، یہ خود کو سزا دینے کا راستہ تھا۔
ا س نے کالج میں ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیا تھا۔ چند تیز طرار لڑکیوں نے اسے پاکٹ مارنا، یعنی پینی بننا سیکھا دیا تھا۔ اسے مشکل تو ہوئی تھی لیکن وہ ”پینی”بن گئی۔انسان کوشش کرتے تو کچھ بھی بن سکتا ہے، ”چور”بھی۔والٹ مارنے میں ایک سکھ تھا، یا تو بہت کچھ ہاتھ آتا تھا یا بہت دکھ۔۔۔۔۔۔یعنی کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔اس لیے وہ شکل دیکھ کر والٹ مار ا کرتی تھی،یہ نہیں کہ ہر کنگلے کی جیب میں ہاتھ ڈال دیا۔۔۔۔۔۔ایسا گیا گزار ہاتھ نہیں تھا اس کا۔۔۔۔۔۔کیا سمجھے۔۔۔۔۔۔
وہ سب سمجھتا تھا کہ لڑکیوں میں پینی کی تعداد بڑھتی کیوں جا رہی ہے۔ شاپنگ مالز میں ایسے ایسے برانڈز آگئے ہیں،کہ حلال کمائی پر لڑکیوں کا گزارہ ہی نہیں ہوتا۔ اب صرف آکسیجن کی بات ہو تو انسان گزار کر لیتاہے۔ یعنی مر جاتاہے۔۔۔۔۔۔لیکن میک اپ، کپڑے، جوتے، بیگ، بیوٹی ٹریٹمنٹ، میوزک کنسرٹ، سنیما،نیٹ فلیکس وغیرہ ہوں، تو پھرآسانی سے مرا بھی کہاں جاتاہے۔جب تک آن لائن شاپنگ نہ ہو، آف لائن سکو ن بھی نہیں ملتا۔شانے سے شینل کا بیگ نہ جھول رہا ہوتو دل تک ٹھیک سے نہیں دھڑکتا، ایویں ٹاواں ٹاواں ڈرامے کرتا رہتاہے۔کچھ دکھائی دیتا ہے نہ سنائی۔
وہ ڈنر کے بعد، کافی پیتے ہوئے اپنے دوستوں کو مس پینی کا قصہ سنا رہا تھا۔وہ اس مکے کو یاد کر رہا تھا جس نے اس کا ناک پچکا کر رکھ دیا تھا۔منہ بگاڑ کر اور دل توڑ کر۔
”اس بے چاری کا مان، غرو ر سب چکنا چور ہو چکا تھا کہ اسے بھی کوئی رنگنے ہاتھوں پکڑ سکتا ہے۔”
”تم نے پکڑا اور ایسے رگڑ بھی ڈالا۔۔۔۔۔۔بے چاری۔۔۔۔۔۔”
”شکل سے بہت معصوم لگ رہی تھی۔یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ ایسا کام بھی کر سکتی ہے۔”زوہان ہنس رہا تھا۔
”پتا نہیں ایسی لڑکیوں کے ما ں باپ کہاں سو رہے ہوتے ہیں۔”
”سو نہیں رہے ہوتے۔۔۔۔۔۔انہیں یہ افیون دے دیتی ہیں کہ ہم بہت اچھی ہیں۔۔۔۔۔۔”
اور ان کے بھائی۔۔۔۔۔۔و ہ ہی کچھ عقل سے کام لیا کریں۔۔۔۔۔۔”
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
بھائی۔۔۔۔۔۔یعنی چچازاد بھائی۔۔۔۔۔۔کم عقل بے چارہ بھائی۔۔۔۔۔۔جب گھر آیا تو اس کے کمرے میں جھانک کر دیکھنا نہیں بھولا تھا۔ اسے اپنی اس تایاز اد بہن سے ہمدردی تھی۔وہ سات سال کی تھی جب تایا ابو کی ڈیتھ ہو گئی تھی۔ تب سے وہ ان کے ساتھ تھی۔چھوٹے سے کمرے میں بند رہتی تھی۔غصہ کرتی تھی تو بہت کرتی تھی،اور جب چپ ہوتی تھی تو مہینوں اس کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔
”کیا ہو رہاہے۔۔۔۔۔۔؟ وہ اند ر آیا، اس کے بے چارے ، غریب غربا سے کمرے کو دیکھنے لگا۔
وہ گھبرا گئی۔ جلدی سے والٹ کو چھپا دیا۔یعنی چوری کو۔۔۔۔۔۔”کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔”منہ بنا کر کہا۔ یہ والا مکا کھانے کے بعد اڑا یا تھا۔
”تمہارا بھائی ہو ںمیں ارسلہ! مجھ سے تو کچھ نہ چھپایا کرو۔۔۔۔۔۔”
”یہ دیکھو ذرا۔۔۔۔۔۔تو کیا صاف صاف بتا دیا کروں کہ میں کیا کرتی پھرتی ہوں۔۔۔۔۔۔”اس نے دل میں سوچا۔
”کسی چیز کی ضرور ت ہو تو بتاؤ۔۔۔۔۔۔کوئی کام وغیرہ ہو تو۔۔۔۔۔۔”
”پیسے چاہیے مجھے۔۔۔۔۔۔ہیں تمہارے پاس؟”
”تمہارے پاس کیوں نہیں ہیں؟تمہیں بھی توپاپا سے پاکٹ منی ملتی ہے؟”
(آج کل پاکٹس ہی تو زیادہ نہیں مل رہی ہیں)۔”ختم ہو گئی پاکٹس مطلب پاکٹ منی۔۔۔۔۔۔تھوڑے سے د ے دو۔”
آہ۔۔۔۔۔۔قمرآہ بھر کر رہ گیا۔ یہ تھوڑے سے پیسے ارسلہ کو ہمیشہ ہی چاہیے ہوتے تھے۔پتا نہیں اس لڑکی کو کتنا پیسہ چاہیے تھا۔ کیا کرے گی یہ اتنے پیسے کا ۔ کیا اسے دس بارہ پانڈازخرید کر پالنے تھے یا پھر کینگرو؟یا پھر وہ کوئی جہاز وغیرہ خریدنا چاہتی تھی۔اس کا حال پوچھنا ایسا تھا جیسے۔۔۔۔۔۔کیسی ہو تم ارسلہ۔۔۔۔۔۔دس ڈالر۔۔۔۔۔۔کیا ہو رہا ہے؟بیس ڈالر۔۔۔۔۔۔کچھ چاہیے تو نہیں۔۔۔۔۔۔سو ڈالر۔۔۔۔۔۔
”مانا کہ میرا باپ تمہارا باپ نہیں ہے، لیکن وہ تمہارا چچا اور تمہارے پاپا کا بھائی ہے۔میری ماں ایک کنگلی عورت اور تمہاری چچی ایک کنجوس عورت ہے۔۔۔۔۔۔”اس نے بتانا چاہا کہ اس کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آسکتاہے۔
”تم جاب بھی تو کرتے ہو۔۔۔۔۔۔”وہ یہ بتا رہی تھی کہ جاب کرنے سے پیسہ وغیرہ ملا کرتا ہے نا۔
”اسے جا ب نہیں، کام کہتے ہیں، گدھوں والا کام۔۔۔۔۔۔”
”تو جن گدھوں کا کام کرتے ہو، وہ تمہیں یعنی گدھے کو کچھ دیتے نہیں۔۔۔۔۔۔”
”جو وہ دیتے ہیں وہ مجھے یونیورسٹی میں مرنے سے محفوظ رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔سمسٹر کی فیس دینی ہوتی ہے۔”
”تو پھر پوچھا کیوں کہ کچھ چاہیے تو نہیں۔۔۔۔۔۔”
”میرا مطلب تھا ، اسٹڈی میں کوئی مدد،یا کچھ اور۔۔۔۔۔۔”
”تو ایسے کہو کہ نہیں دینے۔۔۔۔۔۔پیسے۔۔۔۔۔۔ویسے بھی میں تمہاری لگتی ہی کیاہوں۔”
”تم میری لگتی ہی کیا ہو؟پتا نہیں ساری دنیا کی لڑکیاں یہ بات کہاں سے سیکھ لیتی ہیں ،میں تمہاری لگتی ہی کیا ہوں، بھئی ہماری خوش قسمتی کے ساتھ بد بختی بن کر لگی تو ہوئی ہو اور کیا لگو گی۔یہ بلیک میلنگ نہیں، خرافات میلنگ ہے۔ناراضگی میں بھی خونی رشتوں کو ماننے سے انکار نہیں کرتے۔”قمر کہنا تو بہت کچھ چاہتا تھا لیکن مشکل سے یہ چند لفظ کہے ۔ ورنہ اس کا بگڑا ہوا منہ دیکھنا پڑتا۔
”تو کرو پھر ہاں۔۔۔۔۔۔دو پیسے۔۔۔۔۔۔”اس نے ہاتھ آگے کیا۔
پیسہ، پیسہ، پیسہ۔۔۔۔۔۔اب تو ایک بچہ تک اپنا نام بعد میں سیکھتا ہے، پہلے لفظ”پیسہ”سیکھتا ہے۔پیسے کی گنتی، پیسے کی پہچان، پیسے کی ضرورت۔۔۔۔۔۔اس نے گہرا سانس لے کر جیب میں ہاتھ ڈالا اور جتنے پیسے تھے نکال کر اسے دیے۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔
”یہ تمہارے ناک پر کیا ہوا؟گرگئی تھی کیا۔۔۔۔۔۔؟”دیتے ہوئے پوچھا۔
”ہاں۔۔۔۔۔۔گر گئی تھی۔۔۔۔۔۔”اس نے دانت پیسے، رخ بدلا۔
” دکھاؤ ادھر۔۔۔۔۔۔ ”وہ گھوم کر اس کی طرف آیا، غور سے دیکھنا چاہا۔
”کچھ نہیں ہوا، بس گر گئی تھی۔۔۔۔۔۔”وہ پھر سے اپنا رخ بدلنے لگی تو اس نے گھو ر کر اسے دیکھا۔
”پاگل مت بناؤ مجھے، گرتی تو کہیں اور بھی چوٹ آتی۔اپنی ناک کا حال دیکھو، کسی نے مارا ہے؟پھر لڑی ہو کسی کے ساتھ؟”
”پہلے کب لڑی تھی۔۔۔۔۔۔”وہ چلا اٹھی تھی۔ ایک تو رشتے داروں کی یادداشت بہت تیز ہوتی ہے۔ کام کی باتیں بھول جاتے ہیں، خراب باتیں یاد رکھتے ہیں۔
”جب تم اسکول میں تھیں۔۔۔۔۔۔”
”ہزاروں سال پرانی بات ہے یہ، بھول بھی جاؤ اسے خدا کے لیے۔ اور جاؤمیری جان چھوڑو، تھوڑے سے پیسے کیا دے دیے اب ہزار سوال بھی کرو گے۔۔۔۔۔۔پڑھنا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔”
پڑھنا ہے۔۔۔۔۔۔ہاں اسے واقعی میں پڑھنا تھا، ایک پڑھائی ہی تھی جسے وہ سیریس لیتی تھی۔ایک یہی وہ خواب تھا جسے وہ پورا کرنا چاہتی تھی ورنہ اس نے اپنا کباڑا نکال کر رکھ دیا تھا۔ کیا سوچا تھا اور کیا بن گئی تھی۔۔۔۔۔۔پینی۔۔۔۔۔۔کرنے کے لیے اتنے کام تھے، اور اس نے انتخاب ”پاکٹ ”مارنے کا کیا تھا۔ بیڈ چوائس۔۔۔۔۔۔شروع میں اسے عجیب لگا، ڈر بھی۔۔۔۔۔۔لیکن پھر وہ اس فیلڈ میں سیٹ ہو گئی۔ ایسے جیسے دنیا سے بدلہ لے رہی ہو۔ اپنی ماں کو بتا رہی ہو کہ اگر وہ کمپیوٹنگ میں بہت آگے جا سکتی ہیں، تو وہ شرمندگی میں آگے جا سکتی ہے، یعنی انہیں شرمندہ کرنے میں۔۔۔۔۔۔
جن لڑکیوں نے اسے یہ کام سیکھایا تھا، وہ ضرورت کم اور ”شوق”سے زیادہ کرتی تھیں۔ویسے بھی ان کی جنریشن کا ایک مسئلہ تھا”تھرل”۔۔۔۔۔۔گو سارا تھرل اسے گھر میں ہی مل گیا تھا۔ جب چھوٹی سی غلطی پر چچا کی تیز نظریں سہنی پڑتی تھیں۔ چچی اس کی خالہ بھی تھیں۔ لیکن وہ انہیں خالہ نہیں مانتی تھی کیونکہ خالہ تو ماں جیسی ہوتی ہے،ا ور جب ماں ہی ماں نہیں بنی تھی تو ماں جیسی کا کیا کرنا تھا ۔ اس لیے وہ صر ف چچی تھیں۔ وہ اس کا خیال رکھنے کی کوشش کرتی تھیں، لیکن وہ انہیں خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ماں اپنا کیریئر بنانا چاہتی تھیں، ابا انہیں گھر میں دیکھنا چاہتے تھے، اس لیے دونوں الگ ہو گئے ۔ دونوں بہنوں کی دونوں بھائیوں سے شادی ہو ئی تھی، تو ایک چھوڑ کر گئی تو دوسری کا گھر بھی ٹوٹتے توٹتے بچا۔ چچا نے ابا کی دوسری شادی کروانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانے۔وہ سات سال کی تھی جب چچا اسے اسکول سے پک کرنے آئے اور اسے سینے سے لگا کر رو دیے۔
”میرا بھائی، تمہارا باپ اس دنیا میں نہیں رہا ارسلہ!”
جوا ن بھائی کی موت نے، جوان چچا کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا۔ اس کی سزا چچی کو بھی بھگتنی پڑی اور ارسلہ کو بھی۔بھائی کی آخری نشانی سمجھ کر وہ اسے سینے سے لگاتے تو چھوڑ جانے والی کا خون ہونے کی پاداش میں جھٹک بھی دیتے۔ چچا خزاں اور بہار دونوں تھے۔ کبھی غصے اور نفرت کے جھکڑ چلتے اور کبھی محبت کی ہوائیں برستیں۔ بھائی کی محبت اور بھائی کو چھوڑ جانے والی کی نفرت۔۔۔۔۔۔ارسلہ نے دونوں بھگتیں۔۔۔۔۔۔
ابا کی ڈیتھ کے بعد ماں نے اسے اپنے پاس رکھنا چاہا لیکن چچا نے اسے جانے نہیں دیا۔ انہیں بس یہ ضد تھی کہ وہ عورت اسے حاصل نہ کر پائے۔ وہ اٹھارہ سال کی ہوئی تو اس نے خود اس عورت کے پاس جانے سے انکار کر دیا،جو اس کی ماں رہی تھی۔پیدا کر دینا کافی نہیں ہوتا، ممتا بھی کسی چڑیا کا نام ہوتاہے۔ اس نے ان کے پیسے بھی واپس کر دیے تھے، جو وہ اسے بھیج رہی تھیں تاکہ وہ مزید چچا پر بوجھ نہ بنے۔
وہ بھوکی مر جاتی اس عورت کے پیسے نہ لیتی۔۔۔۔۔۔کیرئیر۔۔۔۔۔۔کیا ہوتا ہے یہ کیرئیر۔۔۔۔۔۔جو انسان اپنی جنت، اپنی اولاد کو پروان نہ چڑھا سکے، اس کے لیے قربانی نہ دے سکے، وہ دنیا میں اور کوئی کمال کیا دکھائے گا۔اسے یہ منظور تھا کہ وہ پینی بن جائے لیکن یہ نہیں کہ ”بیٹی’ ‘ بن جائے۔ وہ اپنے چھوٹے سے کمرے میں گھٹ گھٹ کر رونے کے لیے تیار تھی لیکن ماں کے گلے سے لگ کر رونے کے لیے نہیں۔وہ ماں جس کا اپنا ایک شوہر تھا،ایک بیٹی تھی۔۔۔۔۔۔اس سے صرف پانچ سال چھوٹی بیٹی۔۔۔۔۔۔جس کے وہ ناز اٹھاتی ہوں گی، گال چومتی ہوں گی۔وہ بیٹی جب ناشتہ کیے بغیر گھر سے جاتی ہو گی تو یہ سینڈوچ لے کر اس کے پیچھے بھاگتی ہوں ۔۔۔۔۔۔
ہونہہ۔۔۔۔۔۔اچھا ہے اس کے پیچھے ہی بھاگیں، اس سے ہی پیار کریں، بھلا اسے دنیا میں کسی کی ضرورت ہی کہا ں تھی۔ ہوتی بھی تھی تو وہ پاکٹ ما رلیتی تھی۔ماں کا کیریئر بن گیا اور گھر بھی۔۔۔۔۔۔خالی تو وہ رہی نا۔۔۔۔۔۔نہ گھر۔۔۔۔۔۔نہ خاندان۔۔۔۔۔۔باپ موت کے ساتھ چلا گیا، ماں خواہش وخواب کے ساتھ۔۔۔۔۔۔پیسہ تو آ ہی جاتاہے، چیزیں بھی مل جاتی ہیں ، وہ لمحے اور جذبے نہیں ملتے پھر۔ اس کی جینز کی کتنی ہی پاکٹس میں کتنے ہی والٹ رکھے تھے ۔ کتنے ہی چھوٹے سے پاؤچ تھے جن میں مڑے تڑے نوٹ سسک رہے تھے۔اسے ضرورت ہوتی تھی تو وہ کسی ایک پاؤچ کو اٹھا کر شاپنگ کے لیے چلی جاتی تھی۔
اور وہ شاپنگ کے لیے ہی آئی تھی لیکن جیسے ہی چیزوں سے ٹرالی بھری ، اور کاونٹر کی طرف آئی تو ایک دم سے اس کا دل اچاٹ ہو گیا۔اُوپر تک بھری ٹرالی کو دیکھ کر اسے وحشت ہو رہی تھی۔محبت نہ ملے تو پھر سارا جہاں مل جائے۔ پھر ہیرے موتی سب مل جائیں۔ اس نے غصے سے ٹرالی وہیں چھوڑی اور تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی اسٹور سے باہر آگئی۔ہوا ٹھنڈی تھی لیکن اس کا دل سلگ رہا تھا۔
”انجوائے کرو۔۔۔۔۔۔” فٹ پاتھ سے گزرتے ہوئے اس نے ایک ہوم لیس بوڑھے کی طرف پاؤچ اچھا ل دیا۔ وہ سردی سے ٹھٹھر رہا تھا اور کافی کی ڈیمانڈ کر رہا تھا۔
”بہت اچھی لڑکی ہو تم۔۔۔۔۔۔”وہ خوشی سے چلایا۔
”پینی ہوں میں۔۔۔۔۔۔کسی کی پاکٹ ماری ہے۔۔۔۔۔۔سوچا تمہیں دے دوں۔۔۔۔۔۔”اس نے پیچھے پلٹے بغیر کہا۔
”کبھی کبھی تم جیسے چور، ایمانداروں سے زیادہ اچھے ہوتے ہیں۔”پیچھے سے آواز آئی توہ چلتے چلتے رک گئی۔
”کیا کہا۔۔۔۔۔۔”وہ واپس پلٹ کر اس کے پاس آئی ،گھٹنوں کے بل جھک کر بیٹھ گئی۔ چوری کے پیسوں سے خریدے سیاہ بوٹ، چمک رہے تھے۔
”پرندے کے پر کاٹ بھی دو ، تو بھی وہ کیڑ ے کی طرح نہیں رینگ سکتا۔ تم اس وقت برے راستے پر ہو سکتی ہے لیکن تمہیں اپنے اصل کی طرف لوٹنا ہو گا۔”
”اور کیا ہے میرا اصل۔۔۔۔۔۔”
”کم سے کم یہ چوری تو نہیں۔۔۔۔۔۔تم پیسے چرا کر دنیا سے بدلہ نہیں لے سکتی۔۔۔۔۔۔”
”مجھے دنیا پر کوئی غصہ نہیں۔۔۔۔۔۔یہ اچھی دنیا ہے۔۔۔۔۔۔”
”اچھی دنیا میں سب لوگ اچھے نہیں ہیں نا۔۔۔۔۔۔”
و ہ چپ ہو گئی۔ساری دنیا حقیقت کیسے جان لیتی ہے ۔اس بوڑھے نے کیسے اس کی آنکھیں پڑھ لی تھیں۔ کل رات ہی تو چچا پھر سے ماں کو گالیاں نکال رہے تھے۔وہ را ت کو دیر سے گھر آئی تھی، اس کا فون بھی بند تھا۔ چچی نے چچا کو چپ کروانے کی کوشش کی تو چار گالیاں انہیں بھی مل گئیں۔
اس نے برگر لے کر کھانا چاہا اور پھر وہ بھی رہنے دیا۔بے زاری سے سڑک کے کنارے کنارے چل رہی تھی۔وہ اداس نہیں تھی، وہ اداس ہونا پسند بھی نہیں کرتی تھی۔ایک تو اس لیے کہ اب انسان کتنا اداس رہے، دوسرا اس لیے کہ اداسی کا کوئی حل نہیں تھا۔ اس نے ایک نارمل لائف نہیں گزاری تھی۔ چچا اور چچی نے اچھی طرح پرورش کی لیکن کوئی کتنا بھی سگا یا اپنا ہو، وہ ماں اور باپ کی جگہ نہیں لے سکتا۔ وہ بھی نہیں لے سکے تھے۔جیسے وہ اپنے بچوں کے گال چومتے تھے،اس کے نہیں چوم سکے تھے۔ثمرہ کے بیمار ہونے پر چچا کی جو حالت ہو جاتی تھی، وہ اس کے بیمار ہونے پر نہیں ہوتی تھی۔ محروم انسان، حساس بھی ہو جاتاہے۔جس کا بچپن نارمل نہ رہا ہو، ا س کے جذبا ت بھی نارمل نہیں رہتے۔اسے چھت ملی ہوئی تھی اور زمین بھی،لیکن زندہ رہنے کے لیے صرف یہی دو چیزیں ضروری ہوتیں تو پھر دنیا کا ہر انسان خوش ہوتا۔
محبت کی قیمت پر دوسری طرف بھی ”محبت”رکھی جائے گی تو ہی مول طے پائے گا۔۔۔۔۔۔وزن برابر ہو گا۔۔۔۔۔۔وہ تلخ نہیں تھی۔ وہ اپنے دل کے دکھوں پر روتی بھی نہیں رہتی تھی۔بس وہ ماں کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔وہ ان کا نام بھی نہیں سننا چاہتی تھی۔ وہ نمبر بدل بدل کر بات کرنے کی کوشش کرتی تھیں، لیکن وہ آواز سنتے ہی بند کر دیتی تھی۔
”اپنی ماں سے با ت کر لو ارسلہ! وہ تمہیں عید وش کرنا چاہتی ہے۔”
ایسے کسی تہوار پر چچی ، چپکے سے اس کی سمت فون بڑھاتیں، تو وہ غصے سے انہیں دیکھتی تھی۔
”کیا میں چچا کو بتاؤں کہ آپ مجھے کیا کرنے کے لیے کہہ رہی ہیں؟”وہ سفاکی سے پوچھتی تھی۔
چچی چپ ہو کر رہ جاتی تھیں۔ وہ واقعی میں اگر بتا دیتی توپھر گھر، جہنم میں بدل جاتا تھا۔ بات نانی اور نانا کی تربیت سے شروع ہو کر ، ماں کی کم ظریفی اور چچی کی دھوکے بازی پر ختم ہوتی کہ وہ بھی اپنی بہن کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔
”تمہیں اپنی ماں سے ذرا سی بھی محبت نہیں ہے ارسلہ!”چچی دکھ سے پوچھتیں۔
”محبت۔۔۔۔۔۔ماں۔۔۔۔۔۔سے شروع ہوتی ہے،ماں سے نہ ملے تو کسی سے نہیں ملتی۔ تو پھر میں دے کیسے دوں؟”
”وہ اچھی عورت ہے، ہاں اس نے اپنے کیرئیر کے لیے بڑا قدم اٹھایا۔۔۔۔۔۔”
”بڑ ا قدم نہیں۔۔۔۔۔۔خود غرضانہ قدم۔۔۔۔۔۔”
”وہ تمہارے باپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی، اس نے منگنی ختم کرنے کی بہت کوشش کی تھی لیکن میں نہیں مانی۔”
”وہ ہمت دکھاتیں اور شادی سے انکار دیتیں، لیکن شادی کر کے نہ چھوڑتیں۔۔۔۔۔۔ پھر نبھاتیں۔”
”مجھے تمہارے چچا سے بہت محبت تھی ارسلہ!منگنی ٹوٹتی تو دونوں کی ٹوٹتی۔ اس نے میرے لیے قربانی دی ، لیکن پھر وہ زیادہ دیر تک تمہارے ابا کے ساتھ چل نہیں سکی۔ وہ اچھے انسان تھے لیکن بس سوچ کا فرق تھا، وہ عفت کو سمجھ نہیں سکے۔”
”جس نے بہن کے لیے قربانی دی ، اس نے میرے لیے خود غرضی کی انتہا ء کر دی۔”
اس کے سب شکوے درست تھے اسی لیے سب اس کے آگے ہار جاتے تھے۔حساب کتاب میں گڑ بڑ ہو جاے تو نقصان ہوتا ہے، محبت میں گڑ بڑہو جائے تو سب تباہ ہو جاتاہے۔وہ بھی تباہ حال تھی۔و ہ ظالم بھی ہوتی جا رہی تھی۔ یہ نہیں تھا کہ وہ خود ترسی کا شکار تھی، وہ بس کسی کی کم ہی پرواہ کرتی تھی۔ کبھی اسے فرق پڑتا تھا اور کبھی نہیں۔اسی لیے وہ پینی بن چکی تھی اور اس نے اخلاقیا ت کو کوڑ ے کے ڈھیرمیں پھینک دیا تھا۔ بھلا ساری اچھائی کا ٹھیکہ اس نے لیا ہوا تھا، ساری دنیا مزے میں زندگی گزارے اور وہ ایک ایک پینی کے لیے ترسے کس لیے۔ اس نے جاب کر کے اپنی مشکل زندگی کو اور مشکل نہیں بنایا تھا۔اس نے چچا کے سامنے ہاتھ پھیلانے بھی چھوڑ دیے تھے۔اس نے ماں کے بھیجے پیسو ں کو منہ چڑا دیا تھا۔ جو محبت نہ دے، اس سے کچھ اور بھی نہ لو۔۔۔۔۔۔اس نے یہ قانون اپنا لیا تھا۔
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
ان چار فرینڈز کا گروپ چند ملکوں کی سیاحت کے لیے غاروں ، یعنی گھروں سے نکلا تھا۔ تین مہینے میں انہوں نے اتنی پاکسٹس ماری تھیں کہ اچھے خاصے پیسے جمع کر لیے تھے۔ کمائی کوئی بھی ہو محنت لگتی ہے، تو ان کی بھی کافی محنت لگی تھی۔ان میں سے ایک کی تو اچھی خاصی ٹھکائی، دھلائی بھی ہو چکی تھی کہ وہ ابھی تک گردن کے پیچھے زخموں پر بینڈیج لگا رہی تھی۔ زخموں سے چور ہو کر ملنے والے والٹ بہت خاص ہوتے ہیں چونکہ وہ ”سخت محنت و مشقت” کے بعد ہاتھ آتے ہیں۔۔۔۔۔۔یعنی جان پر کھیل کر کمائے گئے پیسے۔۔۔۔۔۔انہیں خرچ کرتے ہوئے وہ واقعی میں خوشی محسوس کرتی تھیں۔
کافی ساری خوشیاں خرید کر وہ چاروں ہنگری کے شہر بدھا پیسٹ آئی تھیں۔موسم بدلتے ہے تو پرندے اپنے گیت بدل لیتے ہیں اورانسان ٹھکانے۔۔۔۔۔۔یعنی اپنے ٹھکانوں سے نکل کر دنیا کی سیاحت کی طرف بھاگتے ہیں۔ان بھاگتے دوڑتے انسانوں کی بھیڑ میں وہ بھی گھوم پھر رہی تھیں۔بڑا ہی پیارا ایک گاؤں نما ٹاون تھا، جس کی گلیاں پھولوں سے سجی ہوئی تھیں۔ پھولوں کی نمائش تھی اور بہت رش تھا وہاں۔ انہیں پھولوں سے تو کیا دلچسپی ہو سکتی تھی، وہ خود پھول تھی۔۔۔۔۔۔پینی فلور۔۔۔۔۔۔تو وہ ان گوبھی کے پھولوں کی تلاش میں تھیں،جن کی جیبیں پیسوں سے بھری ہوئی تھی اور جو پھولو ں میں اتنے مگن تھے کہ بھول چکے تھے کہ ان کے جیبوں میں ایک عدد والٹ ہوا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔اچھا۔۔۔۔۔۔تو اب وہ کہاں گیا۔۔۔۔۔۔
اب وہ ارسلہ کے ہاتھ میں تھا اور وہ ہاتھ ہڈ کی پاکٹ میں زن ہو چکا تھا۔چونکہ جس کا والٹ غائب ہوا تھا وہ تیز تیز آوا ز میں چلانے لگا تھا اور گلی کے کنارے پر کھڑی پولیس کی طر ف جا رہا تھا تو اس نے مناسب سمجھا کہ بقایا پھولوں کو بعد میں دیکھ لے۔ ایسے ہی بد مزگی پیدا کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔پھر اس نے ہڈ کو اترا اور الٹا پہن لیا۔یہ ہڈ اسی مقصد کے لیے لیا گیا تھا۔ یہ اندر اور باہر دو مختلف ڈیزائن میںتھا۔چونکہ وہ پوری مس پینی نہیں بنی تھی تو فوراوالٹ میں سے مطلوبہ چیز نکال کر پھینک نہیں دیتی تھی۔وہ گھر جا کر اطمینان سے یہ کام کرتی تھی۔۔۔۔۔۔صبر بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔
سر کو ہڈ سے کور کر کے وہ مین روڈ کی طرف آرہی تھی۔تینوں فرینڈز وہیں پھولوں اور ہجوم میں گھری رہ گئی تھیں، وہ ا نہیں اشارہ کر چکی تھی کہ وہ واپس جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔وہ جار ہی ہے۔۔۔۔۔۔کہ کوک کین کو منہ سے لگا کر گھونٹ گھونٹ پیتے ایک انسان سے ٹکرا رہی ہے۔ کین دور جا کر گر ا ہے اور اب گول گول قلابازیاں کھا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔اور وہ۔۔۔۔۔۔
”او! اچھا۔۔۔۔۔۔تو یہ تم ہو۔۔۔۔۔۔مس پینی۔۔۔۔۔۔”گرے ہوئے کین کو دیکھنے کے بعد وہ سختی سے اس سے پوچھ رہاہے۔
”شٹ اپ۔۔۔۔۔۔”اس کا اپناایک ذاتی نام تھا، یہ کیا وہ مس پینی کو ہی آفیشل کرر ہا تھا۔
” اوہ!یعنی شٹ اپ بھی مجھے ہی۔۔۔۔۔۔”
وہ کین کی طرف جھکا کہ شاید اندر کچھ بچا رہ گیا ہولیکن وہ اس سے پہلے جھکی اور جلدی سے کین کو اٹھا کر الٹا کر دیا۔۔۔۔۔۔بچا کچا سیال۔۔۔۔۔۔یعنی کوک۔۔۔۔۔۔یعنی پیسوں سے خریدی گئی کوک۔۔۔۔۔۔وہ زمین پر سیلاب کی طرح بہہ گئی۔ایک ایک قطرہ بہا دینے کے بعد اس نے کین کو تمسخر سے اچھال دیا۔
”یہ تم نے پچکے ہوئے ناک کا بدل لیا ہے۔۔۔۔۔۔کہاں ناک اور کہاں یہ معمولی کین۔۔۔۔۔۔ویسے در د تو نہیں ہوتا؟”
درد تو بہت رہا تھا ، بھاگ بھی گیا تھا لیکن ا ب سامنے کھڑا تھا۔وہ ہنسا اور پھر جس طر ف سے وہ آئی تھی، اس طرف دیکھا۔وہاں سیاحوں کا بہت رش تھانا۔۔۔۔۔۔امیر سیاحوں کا۔۔۔۔۔۔بے چارے سیاحوں کا۔۔۔۔۔۔
”کس کی پاکٹ ماری ہے۔”وہ پتھریلی زمین پر گری ہوئی کوک کو دیکھ رہا تھا۔( کیا زبان سے چاٹ لینے کا کوئی چانس بن سکتا تھا؟نہیں۔۔۔۔۔۔اب بس صبر کرو)
”تمہیں پتا ہے کہ می ٹو موومنٹ ابھی بھی زندہ ہے، مجھے بس ایک آواز لگانے کی ضرورت ہو گی۔”
”تم ایک آوا ز لگاؤ گی اور میں بس ایک کال ملاؤ ںگا۔۔۔۔۔۔یعنی پولیس کو،پچھلی بار بھی جانے دیا تھا۔”
”تمہیں پتا ہے کہ دنیامیں پک پاکٹ کیوں نہیں پکڑے جاتے؟کیونکہ پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔پک پاکٹ یہ تک کہہ سکتاہے کہ کہ یہ بندہ اپنی کوئی خا رمجھ پر نکال رہاہے، اس نے زبردستی اپنا والٹ میری جیب میں ٹھونس دیا اور مجھے پکڑوا رہاہے۔اور دنیا میں کم ہی لوگ پک پاکٹ کا ہاتھ پکڑ کر، یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ہاں واقعی اس نے ”جیب کاٹی” ہے۔”
وہ ہنسا۔۔۔۔۔۔”تم مس پینی نہیں۔۔۔۔۔۔مس پینی گوگل ہو، بڑی انفارمیشن ہے تمہیں۔لیکن میں تمہیں پکڑواؤ گا نہیں۔”
”یہ احسان کیوں؟”
”میں خود تمہارا بھرتا بناؤں گا۔”اس نے پنچ کے لیے مکا اٹھایا ،وہ ایک دم سے ڈر کر پیچھے کھسکی۔د ونوں کے عمل میں اتنی بے ساختگی تھی کہ دونوں ۔۔۔۔۔۔دونوں۔۔۔۔۔۔کچھ لمحے بعد قہقہہ لگائے بغیر نہیں رہ سکے تھے۔۔۔۔۔۔
”اگرمیں نے تمہیں تیسری بار یہ کرتے ہوئے دیکھ لیا تو تمہاری خیر نہیں۔۔۔۔۔۔”
”اگر تم تیسری بار بھی میرے سامنے آئے ۔۔۔۔۔۔تو تمہاری خیر ہو گی یا نہیں، کچھ کہہ نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔”
”چوری اور سینہ زوری۔۔۔۔۔۔”
”چور اور چو رکی دھمکی۔۔۔۔۔۔دیکھنا مہنگی نہ پڑ جائے۔۔۔۔۔۔”
”سستا زمانہ ہی کہاں رہا ہے اب۔لوٹ رہے ہیں سب سیاحوں کو۔کرنسی کو یورو میں تبدیل کروایا تو پورے پانچ ڈالر کی ڈنڈی ماری اس بے ایمان نے۔۔۔۔۔۔اوپر سے ہنس کر پوچھ رہا تھا”اور کچھ؟”۔۔۔۔۔۔ تم لوگوں کی برانچ کیا ہر جگہ ہوتی ہے ۔ جسے دیکھو چور بنا ہواہو۔”
”تم بھی بن جاؤ۔۔۔۔۔۔”اس نے شانے اچکاکر مزے سے کہا۔
”کیا کوئی ڈگری لینی پڑے گی؟”وہ شاید واقعی میں سنجید ہ تھا۔
”ڈگری والوں کو جاب لینی پڑتی ہے۔۔۔۔۔۔ہم جاب والوں کی سیلری لے لیتے ہیں۔”
”تو تم نے مان لیا کہ تم پینی ہو۔۔۔۔۔۔”
”تو تمہیں لگتا ہے کہ تم نے مجھے ڈرا دیا۔۔۔۔۔۔”
”مجھ جیسے ہینڈسم لوگ ڈرتے ہیں۔۔۔۔۔۔”
”ہینڈسم ۔۔۔۔۔۔اچھا اچھا۔۔۔۔۔۔ایک پاؤں پر پیچھے گھومنا ذرا۔۔۔۔۔۔”اس نے اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا۔
”کیوں۔۔۔۔۔۔؟”
”گھومو تمہیں آئینہ دکھاؤں۔۔۔۔۔۔”
وہ گھوم گیا۔۔۔۔۔۔پیچھے آئینہ کھڑا تھا، دیوار کے ساتھ دائیں شانے سے ٹیک لگا کر،بائیں کو اٹھا کر، آنکھوں پر گلاسز چڑھا کر، منہ کے ساتھ کین لگا کر۔۔۔۔۔۔اپنی قاتلانہ لک سے آتی جاتی دس بارہ لڑکیاں قتل کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔
” ہینڈسیم اسے کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔”اس نے باقاعدہ انگلی اس کی طرف اٹھا کر کہا۔
اس نے سر کو دائیں بائیں گھما کر ہینڈسم اور مس پینی کو دیکھا۔”یہ کام تم بھی کرتی ہو۔۔۔۔۔۔” اس کی آواز تھرا کر رہ گئی تھی، اتنی بے عزتی ۔۔۔۔۔۔ایسا آئینہ۔۔۔۔۔۔
”کون سا کام۔۔۔۔۔۔؟؟’ ‘ و ہ تمسخر سے مسکرا رہی تھی۔
”لڑکوں کو گھورنے کا۔۔۔۔۔۔”اب وہ اپنی بے عزتی ایسے کم کرنا چاہتا تھا۔
وہ ہنسی ۔”لڑکوں کو نہیں۔۔۔۔۔۔”ہاتھ سے اس کی سمت اشارہ کیااور پھر۔۔۔۔۔۔”صر ف ہینڈسم لڑکوں کو۔۔۔۔۔۔”ہاتھ گھما کر ہیندسم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ دائیں آنکھ کو دبایا اور چلی گئی۔۔۔۔۔۔وہ ہنس رہی تھی۔۔۔۔۔۔اس کی پشت ہلکورے کھا رہی تھی۔اس کی چال ایسی آگ تھی جیسے ساری دنیا کو جلا دے گی۔۔۔۔۔۔بھڑکا دے گی۔۔۔۔۔۔
لگ جائے آگ، بھڑک اٹھیں شعلے۔۔۔۔۔۔ویسے بھی انٹارکٹکا میں برف بہت بڑھ گئی ہے۔ اس نے وسل بجائی اور پلٹ کر ایک اور بار پیچھے کھڑے ہینڈسم کو دیکھااور ہونہہ کیا۔
”اتنے بھی سوہنے نہیں ہو تم۔۔۔۔۔۔”اردو میں بھنا کر کہا۔
سوہنے نے ، سواہ ہو چکے زوہان کو چونک کر دیکھا۔
”اب اور فٹے منہ لگ رہے ہو۔۔۔۔۔۔”وہ جیلس ہو گیا تھا نا۔۔۔۔۔۔آگ لگ گئی تھی اندر۔۔۔۔۔۔اب ایسے ہی ٹھنڈی ہونی تھی۔
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
والٹ اس نے اپنے بیڈ پر اچھالا اور خود بھی پیٹ کے بل بیڈ پر گر گئی۔سائیڈ ٹیبل پر رکھے باؤل میں سے چاکلیٹ بال اٹھا کر منہ میں ڈالی۔ وہ چاروں کافی مہنگے ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ ا ن کا ماننا تھا کہ دنیا سے لٹا ہوا پیسہ دنیا کو ہی واپس لوٹا دینا چاہیے۔ شاپنگ مالز میں مارے گئے والٹ، شاپنگ کر کے شاپس پر لٹا دینے چاہیے۔ہوٹل سے مارے گئے والٹ، ہوٹل میں کھا پی کر، ورنہ رہ کر۔ تو کل ملا کر ایمانداری سے وہ سارا پیسہ واپس کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔ہاں طریقہ غلط تھا، لیکن اب دنیا میں باقی کی چیزیں کہاں ٹھیک ہیں۔۔۔۔۔۔کیا ٹھیک ہیں؟
نہیں۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد اس نے ہاتھ بڑھا کر والٹ کو دیکھا۔یوروز کے علاوہ کچھ کارڈز اور ایک چھوٹی سی بچی کی تصویر تھی۔جس کی پشت پر دل کا سائن بنا ہوا تھا۔اس نے جس کسی کی پاکٹ ماری تھی،اس پاکٹ میں وہ اپنے دل رکھتا تھا۔ دل میں رہنے والے کو رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔بچی اتنی کیوٹ تھی کہ وہ کتنی ہی دیر رک اسے دیکھتی رہی تھی۔
محبت۔۔۔۔۔۔یہ کتنا پیارا جذبہ ہے۔باپ نے بیٹی کو کیسے سینے سے لگا کر رکھا ہوا تھا۔ اس نے بچی کی تصویر پر ہاتھ رکھا اور پھر گال بھی رکھ دیا۔ اس نے اس محبت کو محسوس کرنا چاہا جو اس بچی کے پاس تھی۔ کیا اس کی ماں بھی اپنے بیگ میں اس کی تصویر رکھنے کا تکلف کرتی ہو گی؟ایک تصویر اور اس کی پشت پر دل کا سائن۔۔۔۔۔۔
اس کا اپنا باپ جا چکا تھا۔وہ اس کے گال سے گال مس کرتے تھے۔ اسے کہانیاں سناتے تھے۔وہ چلے گئے تو کچھ بھی نہیں رہا۔محبت کا چلے جانا ایسے ہی ہے ، جیسے جسم سے جان کا نکل جانا۔ بھلا محبت کے بنا انسان کر ے گا ہی کیا۔بچی کی تصویر کو اس نے اپنے والٹ میں رکھ لیا تھا۔وہ محبت کے اس احساس کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتی تھی۔وہ جب جب اس تصویر کو دیکھے گی اسے یاد رہے گا کہ دنیامیں محبت کہیں زندہ ہے۔وہ کسی ایک کے پاس تو ہے۔
کافی بنا کر وہ ٹیرس پر آگئی۔بہار کے دن تھے اس لیے سیاحوں نے بدھا پسٹ پر حملہ کر دیا تھا۔جیسے اس شہر کے علاوہ کہیں بہار نہ آئی ہو۔اس شہر کو سلام کیے بغیر ان کی صبح نہ ہوتی ہو، دن نہ نکلتا ہو۔
دن کی روشنی، امید تھی۔۔۔۔۔۔معصوم اور بے ریا۔۔۔۔۔۔
ٹیرس کی ریلنگ کے ساتھ لگ کر وہ ترچھی کھڑی تھی، کافی پی رہی تھی، آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔ پرسکون اور مطمئن تھی کہ اس کا سکون اجڑ گیا۔ مزا کر کرا ہو گیا۔۔۔۔۔۔کیونکہ۔۔۔۔۔۔مصروف سڑک کے دوسری طرف، عین اس کے ٹیرس کے سامنے، ٹیرس پر ہی وہ کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔وہ جو اب ہر جگہ کھڑا ملتا تھا۔ مگ اس کے ہاتھ میں بھی تھا اور وہ بھی ترچھا ہی کھڑا تھا۔بالکل اسی کے انداز میں وہ بھی کافی کے سپ لے رہا تھا۔ ہاں بالکل اس کی طرح وہ ہوا سے اڑنے والے بالوں کو سنبھالنے میں ناکام تھا۔۔۔۔۔۔کیونکہ اس کے چھوٹے سے بال اس کی پیشانی پر گرنے کا تردد ہی نہیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔وہ لہرا ہی نہیں رہے تھے، ہاں لیکن وہ گردن کو تقریبا اس کی گردن کی طرح جھٹکے دے رہا تھا۔
”کام سے چھٹی ہے کیا۔۔۔۔۔۔” وہ چلا یا۔۔۔۔۔۔ہاتھ لہرایا۔۔۔۔۔۔مسکرایا۔۔۔۔۔۔اس کا جی جلایا۔
”آج قتل و غارت کی اجازت ہے۔۔۔۔۔۔”ا س نے دانت پیسے۔
”دور سے بہت اچھی لگتی ہو تم۔۔۔۔۔۔” وہ پھر سے چلایا۔
بلیک جینز پر گرے سویٹر اور پھر اس پر تھوڑی سی جیولری ، یعنی گلے میں جھولتا بچھو کا نشان۔۔۔۔۔۔وہ اتنی دور سے بھی دیکھ سکتی تھی کہ اس کے ہینڈسم والے طنز کے بعد اس نے پہلا کام، اپنے حلیے پر توجہ دینے کا کیا ہے۔توجہ دینا کارگر رہا تھا، کیونکہ وہ تھورا سا انسان، انسان سا لگنے لگا تھا۔اوریہ انسان، بندروں کی طرح ہاتھ لہرا رہا تھا۔۔۔۔۔۔اور اس کی دم۔۔۔۔۔۔چلو چھوڑو۔۔۔۔۔۔
وہ وہاں سے چلی جاتی لیکن وہ کیا اس سے ڈرتی تھی۔پھر اگر وہ چلی جاتی تو وہ سمجھتا کہ وہ منہ(چوری) چھپا رہی ہے۔ اس نے ایسے ظاہر کیا جیسے اس نے اسے دیکھا ہی نہیں۔وہ سڑک کی طرف دیکھتی رہی۔نیچے سے گزرنے والے چند بچوں کو ہائے ، ہیلو کرتی رہی۔
پھر وہ ٹیرس سے غائب ہو گیا۔۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد آیا تو اس کے ہاتھ میں میٹل کا ہارن تھا۔ یہ اس نے چند اور سیاحوں کے ہاتھ میں بھی دیکھا تھا۔ شاید یہاں کی شاپس پر مل رہا تھا۔اس نے وہ منہ کے ساتھ لگایا اور اسے بجایا۔ وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔وہ کارٹونوں جیسی حرکتیں کرر ہاتھا ۔ اب پتا نہیں وہ کارٹون کی کون سی قسم تھا۔۔۔۔۔۔جیان یا پھر ڈورے مون۔۔۔۔۔۔
”مسکراؤ کہ منہ لٹکانے کے لیے کوئی دن نہیں بنا۔”ہارن سے منہ ہٹا کر اس نے حلق پھاڑ کر کہا۔
”مر جاؤ کہ زندگی پر اب تمہارا کوئی حق نہیں بچا۔۔۔۔۔۔”وہ بڑ بڑائی،اور اندر چلی گئی۔
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
”تم یہاں آکر بھی خوش نہیں ارسلہ!”
اگلے دن لنچ کے لیے جاتے ہوئے میا نے اپنے بے چارے ہونٹوں پر کوئی پچاسویں بار لپ گلوز کا کوڈ کرتے ہوئے پوچھا۔
”میں تو خوش ہوں، لیکن تم ذرا ان ہونٹوں پر رحم کرو، کیوں رگڑ رہی ہو اتنا۔”
”میرا خیا ل ہے یہ میرے ہونٹ ہیں اورمیں ان کے ساتھ کچھ بھی کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔”
”نائف سے کاٹ ہی ڈالو۔۔۔۔۔۔ٹکڑے ٹکرے کر ڈالو انہیں۔۔۔۔۔۔”
”تمہارے۔۔۔۔۔۔؟”
”کانوں کا علاج بھی کرو ا لو۔۔۔۔۔۔”اس نے جل کر کہا۔
”لنچ کھاؤ گی یا ہمارا سر کھا کر ہی گزارا کرو گی۔۔۔۔۔۔؟”
وہ بے زاری سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی، ”تمہارا سر۔۔۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔۔۔آخ تھو۔۔۔۔۔۔”منہ بناتے ہوئے اس نے اپنا بیگ اٹھایا۔
”خداکے لیے ہم تین حور پریوں کے ساتھ اس سڑی ہوئی شکل کے ساتھ باہر نہ نکلنا، اور نہیں تواپنی جھاڑیوں یعنی بالوں کا ہی کچھ کر لو۔۔۔۔۔۔”
”تیل ڈال کر آگ لگا دوں انہیں؟”اس نے حورو ں کو گھور کردیکھا۔
”وہ تم گھر جا کر کرنا، فی الحال ایک عد د برش سے انہیں روشناس کروا دو۔۔۔۔۔۔”
ڈھیلے ہاتھوں سے اس نے برش اٹھایا اور بے زاری سے کرنے لگی۔”حور پریاں؟ٹھیک ہے کہ تم پاکٹ مارتی ہو لیکن پلیز!ایسی خوفناک زبان درازی نہ کیا کرو۔۔۔۔۔۔”تمسخر سے ہنس کر کہا۔
”تم ایسی خوفناک شکل کے ساتھ جا رہی ہو، اور ہم زبا ن درازی بھی نہ کریں۔۔۔۔۔۔”
نہ ۔۔۔۔۔۔نہ۔۔۔۔۔۔نہ کرتے بھی انہوں نے اچھے خاصا آڈر دیا تھا۔ ابھی وہ سب کی سب ڈائیٹ پر تھیں۔ اور ڈائیٹ شاید چھٹی پر تھی،یعنی نانی کے گھر گئی ہوئی تھی، اس لیے وہ دادی کے گھر بیٹھ کر ڈائیٹ سے مکمل بے ایمانی کر رہی تھیں۔ان میں سے ایک کا بڑا سا منہ، اس جھوٹے انسان کو دیکھ کر کڑوا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔وہ پھر سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔اور ہنس بھی رہا تھا۔۔۔۔۔۔دیکھو ذرا۔۔۔۔۔۔
”تو یہ سب بھی مس پینی ہیں۔۔۔۔۔۔؟” اور وہ ایسے واہیات سوال پوچھ رہا تھا۔
”یہ کون ہے۔۔۔۔۔۔”و ہ ارسلہ سے پوچھ رہی تھیں۔ ان کے منہ بن چکے تھے ۔
”میں نے اسے رنگے ہاتھوں پاکٹ مارتے ہوئے پکڑاہے۔۔۔۔۔۔”اپنی طرف سے اس نے اس کا پو ل کھولا۔
تینوں کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا تھا۔
”تمہاری شکل اور تمہاری بکواس۔۔۔۔۔۔اسے اور برداشت نہیں کیا جاے گا۔”اس کی زبان پر آگ کا اثر آیا تھا۔
”اچھا۔۔۔۔۔۔چور کو چور کہا جائے تو اسے اتنا برا کیوں لگتاہے؟” وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔اس کے عین سامنے۔۔۔۔۔۔
”چور پاکٹ کاٹ سکتا ہے تو گردن بھی توڑ سکتاہے۔۔۔۔۔۔” شعلے۔۔۔۔۔۔جی ہاں۔۔۔۔۔۔شعلے نکل رہے تھے اس کی زبان سے۔
”اینی وے!تم سب نے بل کیسے پے کیاہے؟کسی کا والٹ اڑا کر؟”شعلے۔۔۔۔۔۔شعلوں کا جوا ب مزید شعلے۔۔۔۔۔۔
”یہ کیا تماشا ہے؟کو ن نمونہ ہے یہ۔۔۔۔۔۔”میا نے چالاکی سے چہرے کو سپاٹ رکھتے ہوئے، سلاد کو منہ میں ٹھونستے ہوئے، ارسلہ سے پوچھا۔ ا یمرجنسی میں کام آنے والی کوڈ زبان”سپینش” میں۔
”تماشا۔۔۔۔۔۔نمونہ۔۔۔۔۔۔تمہاری انگلیاں چور ہیں اور زبانیں قاتل۔۔۔۔۔۔کٹیلیں۔۔۔۔۔۔” اس نے میا کی پلیٹ میں سے سلاد اچکتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔سپینش میں ہی کہا۔۔۔۔۔۔چاروں حیرت سے اسے دیکھے بغیر نہیں رہ سکی تھیں۔
”ا ن فیکٹ میرا ایک فرینڈ یہ زبان بولتاہے، تھوڑی سی مجھے بھی آگئی۔”اب وہ ارسلہ کی پلیٹ سے بے بی کارن اچک کر کھا رہا تھا۔
ارسلہ کی برداشت کی حد جواب دے چکی تھی۔ وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی۔”کچھ اور کہنا ہے؟”
”ہاں۔۔۔۔۔۔”اس نے ڈھٹائی سے کہا۔
”بھونکو۔۔۔۔۔۔”
”واوو۔۔۔۔۔۔woo۔۔۔۔۔۔”وہ واقعی میں بھونک دیا۔
ایسی سیریس سچویشن میں ۔۔۔۔۔۔ایسے۔۔۔۔۔۔ایسے۔۔۔۔۔۔وہ چاروں ہنستے ہنستے پاگل ہو گئیں۔۔۔۔۔۔
پاگل اب چین برج سے گزر رہے تھے۔۔۔۔۔۔یعنی پل سے۔۔۔۔۔۔وہ پیچھے پیچھے تھا۔۔۔۔۔۔
”مووی دیکھو گی۔۔۔۔۔۔”پیچھے سے وہ ایک دم سے اس کے سامنے آکر کھڑا ہوا تھا، الٹی چال میں پھدک رہا تھا۔
”عالیان مت بنو۔۔۔۔۔۔مجھے کسی چوہے اور اس کی کوکنگ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔”
”تو کارل بن جاؤں۔۔۔۔۔۔ریس لگا لو۔۔۔۔۔۔دوڑا ، دوڑا کر ماروں گا۔۔۔۔۔۔بولو منظور ہے۔۔۔۔۔۔”
اسے نامنظور تھا لیکن وہ زیر لب ہنس دی تھی۔ وہ ابھی تک اس کے سامنے الٹی چال سے چل رہا تھا۔دونوں پل پر بنے شیروں کے قریب سے گزرے۔پل کے نیچے بہتے دریا پر ایک فیری گزر رہی تھی۔ اس میں بیٹھے لوگ شور کر رہے تھے۔وہ رکی، موبائل نکالا اور ہاتھ اٹھا کر شیر کے ساتھ سیلفی لینی چاہی۔۔۔۔۔۔ تو۔۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔۔اس سیلفی میں وہ بھی دکھائی دینے لگا۔
”کیا اب تم میرا جہنم تک پیچھا کرو گے۔۔۔۔۔۔”
”تمہار اجہنم جانے کا ارادہ بھی ہے؟اس پتھر کے شیر کے ساتھ سیلفی لینے کا کیافائدہ؟میں زندہ شیر جوا ن عین تمہارے سامنے موجود ہوں۔ میرے ساتھ لو سیلفی۔۔۔۔۔۔”
اس نے غصے سے موبائل کو واپس جینز میں رکھا۔”شیر۔۔۔۔۔۔اچھا۔۔۔۔۔۔پیچھے گھومنا ذرا۔۔۔۔۔۔”
و ہ ہنس دیا۔” کیا اب پیچھے زندہ شیرکھڑاہے۔۔۔۔۔۔”
”گھوموتو سہی۔۔۔۔۔۔”
وہ گھوم گیا۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔پیچھے ایک عدد کوا بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔
”تم وہ ہو۔۔۔۔۔۔زیادہ خوش فہمی میں نہ رہنا۔۔۔۔۔۔”اس نے کوے کی سمت اشارہ کیا۔
”تو تھوڑی سی خوش فہمی میں رہ لوں۔۔۔۔۔۔کافی پیو گی۔۔۔۔۔۔”کوے نے کائیں کائیں کر کے کہا۔
وہ حیران ہوئی تھی، وہ اس کی پاکٹ مار چکی تھی اور وہ اسے کافی کا پوچھ رہاتھا۔”کافی۔۔۔۔۔۔اورمیں؟”حیرانگی ظاہر بھی کر رہی تھی۔
”کیوں انسانی چیزیں نہیں کھاتی پیتی؟کیا چورنیوں کی الگ خوراک ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔”
”شٹ اپ۔۔۔۔۔۔”
”شٹ می اپ۔۔۔۔۔۔لیکن پلیز کافی۔۔۔۔۔۔”اس نے ضد کرتے ہوئے کہا۔
وہ آنکھیں سکیڑ کر اسے غور سے دیکھنے لگی۔”اوکے۔۔۔۔۔۔”شانے اچکا کر احسان عظیم کرتے ہوئے کہا۔
”پیچھے گھومنا ذرا۔۔۔۔۔۔”
”کیوں؟کافی پیچھے آرہی ہے۔۔۔۔۔۔”پھربھی وہ گھوم گئی،پیچھے کچھ دور ایک چھوٹا سا کافی کارنر تھا۔۔۔۔۔۔”وہاں جانا ہے؟”
”ہاں!جاؤ اور خود پی آؤ او رمیرے لیے لے آؤ۔۔۔۔۔۔”دونوں بھنوؤں کو اچکایا، پھر گرایا۔۔۔۔۔۔پھر مسکرایا۔۔۔۔۔۔
اور چلا گیا۔۔۔۔۔۔واقعی میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔وہ دیکھتی رہ گئی۔ تینوں فرینڈز منہ بگاڑ کر اسے چڑا رہی تھیں۔
”تمہاری بے عزتی سی نہیں ہو گئی ارسلہ!”ایک پوچھ رہی تھی۔
بے عزتی ہوئی نہیں تھی، بے عزتی گھما کر اس کے منہ پر دے ماری گئی تھی۔ کافی کی صورت میں۔وہ سمجھی کہ وہ واقعی میں اسے کافی کا پوچھ رہاہے۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔
وہ کوا،کوے اڑاتا ہوا جار ہاتھا۔ کانوں میں ایئر فون دے دیے تھے۔میوزک کا والیوم شاید تیز کر لیا تھا۔دیوانے کوے نے، میوزک کی بیٹ کے ساتھ اچھلنا اور مٹکنا بھی شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔چین برج۔۔۔۔۔۔پتھریلے شیر۔۔۔۔۔۔وہ سب ارسلہ کو دیکھ کر چچ چچ کر رہے تھے، اور وہ مرر نکال کر خود کو دیکھ کر۔۔۔۔۔۔”ڈوب مرو۔۔۔۔۔۔”کہہ رہی تھی۔
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭

اگلی بار یہ دیوانہ فشر مین بیشن میں ملا تھا۔ وہ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی، وہ سیڑھیاں اتر رہاتھا۔ رش اتنا تھا کہ وہ اپنے دھیان سے جگہ بنا کر اوپر جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔اور کوئی آیا اور اس کے شانے سے پوری قوت سے ٹکرایا۔۔۔۔۔۔پھر ایک سیڑھی نیچے اترا۔۔۔۔۔۔پھر دو۔۔۔۔۔۔پھر تیسری پر جا کر رکا اور پلٹا۔اس کے سخت مردانہ شانے کی ٹکر کھا کر وہ بلبلا کر رہ گئی تھی۔ گھوم کر، گر۔۔۔۔۔۔گرتے گرتے بچ کر ۔۔۔۔۔۔لیکن لڑکھڑا کر۔۔۔۔۔۔
”یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔۔۔”وہ تین اسٹیپ اوپر سے چلائی تھی۔کچھ سیاح سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے رک کر اسے دیکھ کر رہ گئے تھے۔
”کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔؟؟” وہ ایئر فون کو کان سے نکال کر اس کی چیخ پر کا ن کی لو کو رگڑ رہا تھا۔ یعنی اس کی چیخ کے کان کھینچ کر اسے کان سے نکال رہا تھا۔افف، لڑکیوں کے حلق میں ایسا کیا فٹ ہوتاہے، جس کا کوئی توڑ نہیں ہوتا۔
”کیسے جنگلیوں کی طرح چلا رہی ہو۔۔۔۔۔۔”
”کیسے جنگلیوں کی طرح مجھ سے ٹکرائے ہو۔۔۔۔۔۔”اور حلق پھاڑ کر کہا۔
”شہریوں کی طرح بھی ٹکرایا جاتاہے؟یعنی پڑھے لکھوں کی طرح؟او ہ !مجھے نہیں آتا ویسے ٹکرانا۔۔۔۔۔۔ سیکھا دوذرا۔”
”تمہارا بھیجا نہ اُڑا دوں۔۔۔۔۔۔گدھے کی ڈمی اور کوے کی ممی۔۔۔۔۔۔”
”کوے کی ممی بھی ہوتی ہے؟ تم نے کہاں دیکھی؟شاپنگ کرتے ہوئے یا یوگا کرتے ہوئے؟دیکھو میں اتنا بڑا ہو گیا مجھے آج تک کسی نے بتایا ہی نہیں کہ کوے کی ممی بھی ہوتی ہے؟اور پاپا؟اور گرینڈ پا؟ اور گرینی وغیرہ؟مل چکی ہو ان سب سے۔۔۔۔۔۔؟”وہ مسکرا کر سے چڑا رہا تھا۔
وہ دانت پیس کر رہ گئی۔”تمہاری پاکٹ ہی ماری تھی، دشمن میرے ایسے بن گئے ہو جیسے گردن اڑا دی تھی۔۔۔۔۔۔”
”وہ بھی اڑا دینے کی کوشش کر کے دیکھ لو۔۔۔۔۔۔”اس نے دو انگلیوں کو پسٹل کی طرح کھڑا کر کے فائر کھول دیے۔۔۔۔۔۔اس پر۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے آگے بڑھ گئی۔اس کے شانے میں تکلیف تھی۔وہ تو پوری ہل ہلا کر رہ گئی تھی ۔گھومتے پھرتے وہ بار بار محتاط انداز سے رش سے ایک طرف ہو کر چل رہی تھی۔ وہ اپنا دوسرا شانہ نہیں تڑوانا چاہتی تھی۔بیگ میں رکھے سینڈوچ انہوں نے کھالیے۔۔۔۔۔۔ایک سینڈوچ وہ بھی کھا رہا تھا۔۔۔۔۔۔وہ جو فشر مین کی محرابوں کے سامنے سے گز ر رہا تھا۔۔۔۔۔۔یہ بلندی ہے۔۔۔۔۔۔اور وہ ہر ایک محراب میں رک کر سیلفی لے رہا تھا۔ اسے بھی شاید لڑکیوں والی بیماری تھی، پانچ سو سیلفیاں لے چکا تھا لیکن ”ایک ”اطمینان نہیں لے سکا تھا۔بار با ر جگہ بدل رہا تھا۔سر اٹھا کر وہ مطلوبہ اچھی والی جگہ ڈھونڈ ہی رہا تھااور اپنے دھیان سے جا رہا تھا کہ کسی چیز سے الجھ کر گرا۔۔۔۔۔۔
اس کی ایک عدد ٹانگ سے۔۔۔۔۔۔وہ محرا ب میں چھپ کر بیٹھ گئی تھی اور عین وقت پر اپنی ٹانگ اس کی ٹانگوں کے راستے میں حائل کر دی تھی۔۔۔۔۔۔وہ منہ کے بل گرا تھا اور بہت بری طرح سے گرا تھا ۔بندہ گرے تو پورا گرے ، بدترین انداز سے گرے، یہ کیا کہ گرنے کے نام پر دھبہ گرے۔ اب پچکی ہو گی ناک تو مزاا ۤیا ہو گا۔۔۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی اور مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔”اس جگہ کو مارک کر دو، اور تصویر لے لو، پھر سی آئی اے کے پاس لے جاؤ کہ میں نے تمہیں یہاں گرایاہے۔ تم نے تو دیا نہیں لیکن میں تمہیں دے رہی ہوں۔۔۔۔۔۔ثبوت۔۔۔۔۔۔”
وہ اٹھا اور کھسک کر دیوار کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گیا،وہ اپنی ٹانگ اور اپنی ناک سہلا رہا تھا۔ کیسا کمزور انسان تھا، داغ تو۔۔۔۔۔۔یعنی زخم تو اچھے ہوتے ہیں نا۔۔۔۔۔۔شاید اسے کسی نے بتایا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔بے چارا۔۔۔۔۔۔
”میری پیٹھ پر وار کیا ہے تم نے۔۔۔۔۔۔”تکلیف کچھ زیادہ ہی تھی شاید۔
”بالکل!پیٹھ پر وار کر کے ، منہ کے بل گرایاہے۔۔۔۔۔۔شاباش ہے مجھے۔۔۔۔۔۔”وہ ہاتھ سے خود کو شانے پر تھپکی دے رہی تھی۔
دونوں آمنے سامنے زمین پر بیٹھے تھے، درمیان میں سے لوگ گزررہے تھے اور ان دونمونوں کو ایک نظر دیکھ رہے تھے۔ سورج کی کرنیں اس کے بالوں میں چھنا چھن مصروف تھیں۔اسے گرا دینے کی خوشی میں اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی تھی۔
”تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت۔۔۔۔۔۔ہو سکتی تھیں اگر ان میں مکاری کے ذرات کچھ کم ہوتے۔”وہ اس کی آنکھوں کی چمک سے محظوظ ہوا تھا۔
وہ ہنس کر، گردن کو کھچوے کی طرح اندر کی سمت گھسیٹ کر اٹھ کر کھڑی ہونے لگی کہ۔۔۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔۔
”بیٹھ جاؤ ۔۔۔۔۔۔میرے سامنے۔۔۔۔۔۔ہلنا مت۔۔۔۔۔۔”اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کی طرف دھکا دیا۔۔۔۔۔۔
کتنی بے تکلفی سے اس نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا، کیسے دوستانہ انداز سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔کیونکہ۔۔۔۔۔۔
”زیادہ افلاطون بن کر نہ سوچو۔۔۔۔۔۔بیٹھ جاؤ۔۔۔۔۔۔”کیونکہ وہ نارمل انسان تھا۔۔۔۔۔۔بس۔۔۔۔۔۔
وہ بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔واقعی میں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔دونوں آمنے سامنے آگئے۔۔۔۔۔۔اور ساری دنیا کے سیاحوں کو اب اسی راستے سے گزرنا تھا۔بلند ی پربنی یہی محرابیں دیکھنی تھی۔باقی کا ایریا فوت ہو گیا تھا۔ ہڑتال کر دی تھی پورے فشر مین نے۔اپنے بچوں کو روک روک کر ، اپنی گر ل فرینڈز کے ہاتھ پکڑ پکڑ کر یہیں تصویریں بنانی تھی۔۔۔۔۔۔بس۔۔۔۔۔۔ وہ ان سے ٹکرا ٹکرا کر چلنے ، اور گزرنے(انہیں روندنے) لگے۔بلکہ کچھ تو بڑبڑانے بھی لگے تھے کہ یہ آلتو فالتو لوگ کہاں گھس کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ویسے ہی راستہ تنگ ہے، یہ اور تنگ کر رہے ہیں۔
”کب تک مس پینی بنے رہنے کا پلان ہے۔۔۔۔۔۔”وہ پھر سے اسے تنگ کرنے لگا تھا۔
و ہ بھنا گئی۔”یہ بتانے کے لیے بٹھایا ہے۔۔۔۔۔۔”(یعنی کوئی اچھی بات نہیں ہو سکتی۔ چوری کے طنز کے علاوہ)
”پوچھنے کے لیے۔۔۔۔۔۔اچھا یہ بتاؤتمہارے گھر والے اندھے ہیں، انہیں دکھائی نہیں دیتا کہ تم ”پینی” بن چکی ہو۔”
”وہ اٹھ کر جانے لگی تو اس نے فورا کان پکڑ لیے۔(گھر میں تھا کون جو اس پر اتنی توجہ دیتا)
”اچھا۔۔۔۔۔۔رکو۔۔۔۔۔۔پیسے نکال کر والٹ پھینک دیتی ہو؟میرا مطلب اگر تم وہ مجھے دے دو؟”
” تم نے کیاکرناہے۔۔۔۔۔۔”
”دیکھو یہاں سے کچھ دور ، روڈ پر ایک چھوٹے سے بچے نے لکڑی کے ٹیبل پر کچھ چیزیں سیل کرنے کے لیے رکھی ہوئی ہیں۔ وہ کافی پیسے کما رہاہے ، تم مجھے وہ والٹ دے دو، ٹیبل کا انتظام میں کر لوں گا۔ مل کر پیسے کماتے ہیں۔۔۔۔۔۔”
وہ مسکرا دی۔”وہ میں پھینک دیتی ہوں۔۔۔۔۔۔”
اس نے پاکٹ میں سے موبائل نکالا۔”میں ریکارڈ کر لوں تمہارا بیان۔۔۔۔۔۔”
وہ پھر ہنس دی۔”کیا چاہتے ہو تم؟خواہ مخواہ اتنا فرینڈلی ہونے کا کیا فائدہ ؟”
”ان فیکٹ جب میں نے تمہیں پنچ مارا تھا تو مجھے بہت افسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔۔”
” اٹس فائن ناؤ۔۔۔۔۔۔”وہ سمجھ سکتی تھی کہ وہ ایک لڑکی کو ایسے مارنے پر شرمندہ تھا۔ہونا بھی چاہیے تھا۔
”مجھے دو تین اور مارنے چاہیے تھے۔۔۔۔۔۔کم سے کم ایک آنکھ کو پورابند کر دینا چاہیے تھا۔۔۔۔۔۔یو نو کانی۔۔۔۔۔۔مطلب کانی۔۔۔۔۔۔”
کانی نے ، بھڑک کر اسے دیکھا اور اُٹھ کر کھڑی ہو گئی کہ سیلفی لینے والے ایک کوے یعنی انسان سے ٹکراگئی۔
”کیا ہر بندہ یہاں رک کر سیلفی لے رہا ہے۔۔۔۔۔۔کہیں اور مر جاؤ۔۔۔۔۔۔”
وہ اردو میں چلائی،جسے اس نے اطالوی میں سنااور۔۔۔۔۔۔”یعنی پراں مر۔۔۔۔۔۔”منہ پر ایسا تاثر بنا کر اس کی طر ف دیکھا۔
”ہاں۔۔۔۔۔۔پراں مر۔۔۔۔۔۔” و ہ بھڑک کر جانے لگی۔۔۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔۔
”میں مذاق(بکواس)کر رہا ہوں، سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔”
سویٹ ہارٹ پر وہ ایک دم پلٹی تو اس نے ایک آنکھ ماری۔۔۔۔۔۔اور وہ ہنسا۔۔۔۔۔۔پھر ایک فلاینگ کس ہوا کے سپرد کی۔۔۔۔۔۔
”میری جان۔۔۔۔۔۔اوہ !میرا مطلب تم ایسے پلٹی کہ میری نکل جان گئی۔۔۔۔۔۔”
شکل سے وہ لفنگا لگتا تو نہیں تھا لیکن بڑا ہی لفنگا ثابت ہوا۔۔۔۔۔۔اس کی جان۔۔۔۔۔۔یعنی جان ایک د م سے دل میں دھڑکی تھی۔ یعنی ، سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔یعنی”میری جان”۔۔۔۔۔۔کیا۔۔۔۔۔۔کیا اسے سننے کے بعد بھی کوئی نارمل رہ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔دل کی دھڑکن۔۔۔۔۔۔ہائے۔۔۔۔۔۔
وہ تیزی سے آگے بڑھ گئی لیکن آگے، پیچھے، دائیں بائیں ہر طرف”میری جان، میری جان”آگئی۔ ساتھ چلنے لگی۔ اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس کے شانے پر جھک گئی۔ اس کی کمر میں بازو حمائل کر دیے۔ اس کی لٹوں کو، اپنی انگلی پر لپٹ لیا۔اس نے ڈرتے ڈرتے پیچھے دیکھا۔ آس پاس وہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔لیکن پھر بھی۔۔۔۔۔۔
وہ نیچے پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔۔وہ اوپر محرا ب میں ہی کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔اس نے ڈرتے ڈرتے سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔۔۔۔۔۔وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔اپنی جان کو۔۔۔۔۔۔یعنی اپنی جان کو امان میں رکھ کر۔۔۔۔۔۔وہ سر کو جھٹک کر چلی گئی۔۔۔۔۔۔آگے بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔لیکن دراصل وہیں کھڑی رہی، جہاں وہ کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
” اس کھانے کا بل تمہیں پے کرنا ہے۔۔۔۔۔۔اس لیے کھا لواسے۔ ”
وہ رات کا ڈنر کر رہی تھی تو کھانے کو چکھ رہی تھی۔ آنکھیں پانی کے گلاس پر جمی ہوئی تھیں۔تینوں تشویش سے اس کی طرف دیکھ رہی تھیں۔اس نے میا کی طرف دیکھا، پھر فیا یعنی فرانسیکا اور پھر موٹی وینڈی کی طرف۔۔۔۔۔۔تینوں اسے اچھا خاصا ڈرا رہی تھیں۔
”تمہیں کبھی کسی نے سویٹ ہارٹ کہاہے؟”کھانے کی پلیٹ موٹی کی طرف کھکسا دی۔ جس کے پیٹ میں ہمیشہ اتنی گنجائش موجود رہتی تھی کہ وہ آدھی دنیا کا بچا کھانا کھا سکتی ، باقی کی آدھی دنیا کا وہ پہلے ہی کھا چکی ہوتی تھی نا۔۔۔۔۔۔
”کیا۔۔۔۔۔۔؟”میا پوچھ رہی تھی، اسے مردوں سے سخت نفرت تھی۔۔۔۔۔۔پھر عورتوں سے۔۔۔۔۔۔خود کو وہ معصوم بچہ سمجھتی تھی۔۔۔۔۔۔
”اوہ !مطلب کبھی موٹی کہا ہے؟”
”موٹی کو سب موٹی ہی کہتے ہیں اورمیں اچھی خاصی موٹی ہوں۔کیوں آج کل موٹی کو سویٹ ہارٹ کہا جا رہاہے؟دنیا اتنی رحمدل ہو تو نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔لیکن چلو، شاید دنیا نے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کے ارادے بدل دیے ہیں۔۔۔۔۔۔”
”افف!چپ کرجا موٹی۔۔۔۔۔۔مطلب میری سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔”اس نے صاف صاف بات کرنے کی ٹھان لی تھی۔
”ہاں ۔۔۔۔۔۔میری ماں کہتی ہے مجھے۔۔۔۔۔۔”
”ماں۔۔۔۔۔۔”اس کا منہ بن گیا، اس نے وہیں ٹاپک کلوز کر دیا۔ اس کا منہ اتر گیا تھا۔
وہ ہوٹل آئی تو ٹیرس کی طرف جائے بغیر نہیں رہ سکی تھی۔اور وہ سامنے ٹیرس پر ہی بیٹھا تھا۔ ہاتھ ہلا کر اسے اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا۔ پھر کافی کا مگ لہرایا اورفضائی ”چیرز”کیا۔ اس نے بے نیازی دکھائی اور سڑک کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔۔کبھی تونظر بھٹک ہی جاتی ہے نا۔۔۔۔۔۔یہی کو ساٹھ سکینڈز میں بس پچاس بار۔۔۔۔۔۔اتنا تو چلتا ہے۔۔۔۔۔۔تو اس کی معصوم نظریں اڑتی ہوئی جاتیں اور ٹیرس پر بیٹھے اس انسان پر ٹھہر جاتیں۔اس کی کھلے بٹنوں کی چیک شرٹ، ہوا سے اڑ رہی تھی۔۔۔۔۔۔اور وہ کیسے کیسے مسکرا رہا تھا۔۔۔۔۔۔اف توبہ۔۔۔۔۔۔اس کادل ٹیرس سے پھسل کر، سڑک سے گزر کر، اس کے ٹیرس کی دیوار چڑھ کر، اس کے قدموں۔۔۔۔۔۔قدموں۔۔۔۔۔۔
”اب اندر آجاؤ۔آدھے شہر کو معلوم ہو چکا ہے کہ تمہارا سامنے ٹیرس پر کھڑے اس لمبے منہ والے سے افیئرچل رہاہے۔”
”اس کا منہ لمبا تونہیں تھا۔۔۔۔۔۔بادام شیپ ہے۔۔۔۔۔۔”وہ بھڑک کر بولی۔
اندر تینوں ایک ساتھ ہنسی تھیں۔ وہ سٹپٹا گئی۔ کہیں وہ سڑک پاروا لا نہ سن لے۔ اس کی آنکھیں ادھر تھیں، تو کان بھی ادھر ہی ہوں گے نا۔وہ بھڑک کر اندر کی طرف لپکی۔
”کیاکہا؟کون سا افیئر۔۔۔۔۔۔”یعنی چوری اور سینہ زوری ، وہ بھی ایسی بونگی۔۔۔۔۔۔
”جو سنا ہے۔دنیا کو پاگل مت بناؤ۔۔۔۔۔۔نہ وہ ہل رہاہے اپنی جگہ سے ، نہ تم۔۔۔۔۔۔مل کر ایک جگہ ہی بیٹھ جاؤ۔اور وہ جو سائیڈ پر کمرہ ہے نا،دائیں طرف وہاں سے ایک لڑکی نکل کر تم دونوں کی ویڈیو بھی بنا چکی ہے۔ پتا نہیں کس ٹائٹل کے ساتھ اپ لوڈ کر ے گی۔ رومیو جیولیٹ یا پھر جیک اینڈ روز۔۔۔۔۔۔”
”اللہ نہ کرے رومیو مرے۔۔۔۔۔۔اللہ نہ کرے جیک ڈوبے۔۔۔۔۔۔”بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا تھا۔
بے ساختہ تینوں نے اسے دیکھا،اور پھر اپنا اگلا قہقہہ چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔”تمہارا جیک۔۔۔۔۔۔وہ بھی اندر جا چکا ہے۔”
وہ ایکدم سے پیچھے پلٹی،لیکن وہ تو وہیں کھڑا تھا۔اور وہ تینو ں لوٹ پوٹ ہو کر بیڈ پر گر گر کر ہنس رہی تھیں۔ ان کی ہنسی سے زمین ہل رہی تھی، چھت کانپ کر گر جانے کو تھی۔وہ بھنا گئی۔ اور منہ دھوئے اور برش کیے بغیر بستر پر گر گئی ۔ جس وقت کمبل کو کھینچ کر اس نے اپنا سر اندر چھپایا تھا توا س وقت پھر سے اس کے کانو ں کی طرف کوئی آیا تھا۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔
”او مائی سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔او۔۔۔۔۔۔میری جان۔۔۔۔۔۔”
اس نے کوئی ہزار با ر یہ الفاظ سنے تھے، لیکن محسوس آج کیے تھے۔ یعنی جیسے پہلی بار سنے تھے۔اچھا تو یہ ایسے ہوتے ہیں؟بڑے اچھے ہوتے ہیں ویسے۔۔۔۔۔۔ایسے گلابی گلابی سے، تتلیوں جیسے۔ وہ رات بھر سوتی رہی اور تتلیاں اس کے پیٹ میں اڑانیں بھرتی رہیں۔ چونکہ تتلیاں اور شہد کی مکھی یعنی مس پینی دونوں فارغ تھیں تو پھر یہ کام ساری رات چلتا رہا۔جب اس کی آنکھ کھلی، اسے سویٹ ہارٹ کان کے پاس ملا۔۔۔۔۔۔ دائیں رخ، بائیں رخ۔۔۔۔۔۔کبھی سامنے۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔
وہ اس کا کمبل کھینچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔اس کی پیشانی پر سے بال ہٹا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ۔۔۔۔۔۔یعنی وہ موٹی۔۔۔۔۔۔
” تم یہ ڈرامے بند کرو گی؟یا ہم چلے جائیں بریک فاسٹ کے لیے؟”
وہ ایکدم سے چونکی۔۔۔۔۔۔چونک کر آنکھیں پوری کھول دیں۔۔۔۔۔۔اوہ تو یہ ہوٹل روم تھا، فشر مین بیشن نہیں۔ جہاں وہ محراب میں اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔کہاں گیا وہ۔۔۔۔۔۔کہاں آگئی وہ۔۔۔۔۔۔ اس نے ڈرتے ڈرتے سر اٹھا کر کمبل سے جھانکا۔ تینوں اس کے بیڈ کے پاس کھڑی تھیں۔۔۔۔۔۔ایک سر پر ، دوسامنے۔۔۔۔۔۔
”کیا میں کچھ بڑبڑا رہی تھی؟”ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
”نہیں۔۔۔۔۔۔”تینوں نے بیک وقت کہا۔
”اوہ۔۔۔۔۔۔شکر۔۔۔۔۔۔”
” تم چلا رہی تھی۔۔۔۔۔۔سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔”
”کیا واقعی۔۔۔۔۔۔”وہ بدک کر اٹھ کر بیٹھی تھی۔
”اٹھ جاؤ، کیونکہ تمہارا سویٹ ہارٹ، وہ سامنے ٹیرس پر کھڑاہے۔صبح سے تین چار مگ کافی کے پی چکا ہے۔ اس پر اتنا ظلم نہ کرو، اس سے کہو کہ خود بھی بریک فاسٹ کر لے اور تمہیں بھی کچھ ٹھونسنے دے۔”
تینوں اسے، اس کے حال پر چھوڑ کرنیچے بریک فاسٹ کے لیے چلی گئیں۔ اس نے واش روم کی سمت جانا چاہا لیکن عجیب بات ہوئی،پاؤ ں واش روم کی سمت جانے کی بجائے ٹیرس کی سمٹ اٹھنے لگے۔ اس نے بہت زور لگایا، انہیں روکنا چاہا، لیکن وہ کسی کی سن ہی نہیں رہے تھے۔ سفید پردوں کو ذرا سا سرکا کر دیکھا، وہ باہر ٹیرس پر کرسی پربیٹھا تھا، اور بار بار ادھر اس کے ٹیرس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ زیر لب مسکرانے لگی تھی۔پھر وہ جلدی سے واش رو م کی طرف بھاگ گئی۔جلدی جلدی منہ کو رگڑا۔میا کی میک اپ کٹ واش بیسن کے قریب ہی رکھی تھی، اسے استعمال میں لائی۔جلدی جلدی ہلکا پھلکا میک اپ کیا۔ بالوں کو اچھی طرح سے برش کر کے، بری طرح سے ایسا بنا دیا جیسے وہ ”ایسے” ہی تھے۔یعنی اچھے والے برے۔۔۔۔۔۔اور پھر وہ ٹیرس کی طرف گئی، ایسے جیسے ابھی ابھی سو کر اٹھی ہے۔
سو کر، منہ دھو کرکر، میک اپ تھوپ کر، سلیپنگ بیوٹی ٹیرس پر بالوں میں (وہی الجھے بال) ہاتھ چلاتے ہوئے آئی ۔ آنکھوں کو چندھیانے کی کوشش کی، جیسے سورج کی کرنیں تنگ کر رہی ہوں لیکن یہی کرنیں پیاری بھی بڑی لگ رہی ہوں۔ اس نے شہر پر ایک نظر کرم کی لیکن ٹیرس کو نظر انداز کر دیا لیکن نظر بچا کر ٹیرس کی طرف دیکھتی بھی رہی۔وہ واقعی میں چورنی بن گئی تھی اب۔لیکن وہ اٹھا ، سامنے دیکھا۔۔۔۔۔۔سامنے۔۔۔۔۔۔اس کی بائیں سائیڈ پر ،وہاں ایک عورت بچے کے ساتھ کھڑی تھی، ا س نے بچے کو ہاتھ سے ہائی کہا اور اندر چلا گیا۔
یعنی یہ کیا بکوا س بات ہوئی ۔ کل تک تو وہ ٹیرس پر کھڑا ہو کر اسے دیکھ رہا تھا، آج دیکھنا ہی بھول گیا۔ وہ منہ پھلا کر نیچے ناشتے کے لیے پہنچی۔ سڑک کے کنارے ٹیبل لگے تھے، سورج کی کرنیں ان پر پڑ رہی تھیں۔اس نے منہ بنا کر روشنی کی سمت دیکھا اور آنکھو ں پر ہاتھ رکھ کر انہیں گھورا۔یہی کرنیں اوپر ٹیرس پر اسے اچھی لگ رہی تھیں یہی کرنیں نیچے بر ی لگ رہی تھیں۔عجیب بات تھی نا۔
”ناشتے کا آڈر دو گی یا میرا منہ ہی دیکھتی رہو گی۔”اس نے میا کو کھری کھری سنائی۔میا نے چپ چاپ آڈر دے دیا۔
”پردوں کی اوٹ سے جھانکنے والا بھی چور ہوتاہے کیا؟”ناشتے کے ساتھ ایک چٹ بھی آئی۔
وہ ہکا بکا رہ گئی۔ اف!وہ پاگل تھی، سفید باریک پردوں میں سے، اس کا بھوت بھی دکھائی دے جاتا، وہ کیا چیز تھی۔ شیڈز پہلے ہی میا ہٹا چکی تھی۔
”اس کا جواب نہیں لکھ کر بھیجو گی۔”میا نے کافی کا کڑوا سپ بھرتے ہوئے تمسخر سے پوچھا۔
اس نے انڈے کی زردی میں چھرا کھونپا اورمنہ میں ٹھونسا۔”اپنے کام سے کام رکھو۔”
”وہ تو ہم رکھ لیں گے اور تم اپنے دل کے کام سے کام رکھو۔۔۔۔۔۔”
”چپ رہو۔۔۔۔۔۔اور کم کھاؤ، یہ نہ ہو واپسی پر تمہیں جہاز کی ایک نہیں دو ٹکٹیں لینی پڑیں۔۔۔۔۔۔”جل کر کہا۔
پین سے پیپر پر ایک کوا بنا کر ویٹر کے ہاتھ بھجوا دیا۔واپسی پر ایک دل بنا ہوا آیا جس کی طر ف کیوپڈ تیر پھینک رہا تھا۔تینوں نے جھک کر پیپر دیکھا اور واؤ، واؤ کیا۔
‘آرٹسٹ لگتا ہے۔۔۔۔۔۔”
”بکوا س آدمی ہے۔۔۔۔۔۔”اس نے پیپر کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ کیسا انسان تھا، سویٹ ہارٹ کہتا تھا، اور پھر اسے پلٹ کر دیکھتا بھی نہیں تھا۔الٹے سیدھے کارٹو ن بنا کر بھیج رہا تھا۔بندہ کوئی اچھی(د ل کی) سی بات کرتاہے۔
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
اگلے دن وہ کرائے کی سائیکل لے کر شہر کی سڑکوں پر دوڑا(روند)رہی تھی کہ کہیں سے وہ نکل آیا۔
”یہ مانچسٹر نہیں ہے۔۔۔۔۔۔”اس نے جل کر کہا۔
”تم بھی کون سی امرحہ ہو۔۔۔۔۔۔”اس نے جلاتے ہوئے کہا۔
”دیکھو مذاق وغیرہ بہت ہو گیا ، اب بس کرو اور میری جان چھوڑ دو۔”
”جان کی جان چھوڑ دوں۔۔۔۔۔۔”
جان کی سائیکل ڈگمگائی اور وہ گرتے گرتے۔۔۔۔۔۔گر گئی۔۔۔۔۔۔و ہ ہنس دیا۔۔۔۔۔۔قہقہہ لگایا۔۔۔۔۔۔اپنی سائیکل کو لے کر آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔رکا نہیں۔۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں کے سامنے سائیکل چلاتا ہوا چلا گیا۔
جان کی جان۔۔۔۔۔۔سڑک پر بچھی پڑی تھی۔۔۔۔۔۔یہ بندہ آخر کتنی بار اسے جان کہہ کر اس کی جان پربجلی بن کر گرے گا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ دو لفظ اسے لے ڈوبیں گے۔ اسے ان کی اتنی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔اب وہ ہر بار آئے گا اور اس کی جان نکال کر چلا جائے گا۔
جس وقت وہ سائیکل کھڑی کر کے دوبارہ اس پر بیٹھ رہی تھی اس وقت وہ پیچھے سے گھوم کر واپس آیا تھا۔اب و ہ وسل بجا رہا تھا۔اس نے شعلہ اگلتی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ رکا۔۔۔۔۔۔ایک پاؤ ں کو زمین پر لگایا۔۔۔۔۔۔
”تم میرا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔؟”
” اتنے برے دن نہیں آئے ابھی۔۔۔۔۔۔”وہ سائیکل پر بیٹھ چکی تھی۔
”مجھے تو ساری رات نیند نہیں آئی۔۔۔۔۔۔شاید میرے برے دن آچکے ہیں۔۔۔۔۔۔”وہ اس کے ساتھ ساتھ سائیکل چلا رہا تھا۔
”فوکس۔۔۔۔۔۔ارسلہ۔۔۔۔۔۔فوکس۔۔۔۔۔۔”وہ خود کو اندر ہی اندر دھمکی دے رہی تھی کہ اس کی بات نہ سنے، اس پر کا ن نہ دھرے۔
”تم سن رہی ہو سویٹ ہارٹ؟” وہ پوچھ رہا تھا۔
اس نے سن لیا تھا، اور اب اکیلی نہیں گری تھی، اسے بھی ساتھ لے کر گری تھی۔زوہان کے قہقہے شہر کی سڑک سے آسمان تک جا رہے تھے۔ وہ کتنامحظوظ ہو رہا تھا۔ جلدی سے اپنی سائیکل اٹھا کر وہ، اسے دفع دور کر کے نکل گئی۔
لیکن چونکہ مصیبتیں جلدی جان نہیں چھوڑتیں تو ا ب وہ مصیبت اس کے سامنے کھڑی فلور ، روز شیپ جیلاٹوز آئسکریم کھا رہی تھی۔ اور یہ مصیبت فیری میں عین اس جگہ کھڑی تھی، جہاںجا کر وہ کھڑی ہوئی ہی تھی۔ ابھی تو سکھ کا سانس لیا ہی تھا۔
”تمہیں پتا ہے کہ جیلاٹوز اور آئسکریم میں کیا فرق ہوتاہے؟”و ہ ایسے پوچھ رہاتھا، جیسے وہ بہت فرینڈلی اندا زمیں ہاتھوں میں ہاتھ د ے کر فیری میں بیٹھے ہوں۔دنیا جہاں کی باتیں کر لی ہوں اور اب بس جیلاٹوز پر بات رہ گئی ہو۔
”وہی جو انسان اور بندر میں ہوتاہے۔۔۔۔۔۔”اس نے جواب دیا، یعنی بندر توڑ جواب۔۔۔۔۔۔
”اب یہ بھی بتا دو کہ ان دو میں سے انسان کون ہے اوربندر کون۔۔۔۔۔۔؟”اس نے اشارہ اپنے ہاتھ میں پکڑی کون کی طرف کیا تھا۔لیکن اسے ایسالگا جیسے اشارے سے وہ خود کو انسان اور اسے بندر جتا رہا تھا۔
”تم میرا پیچھا کرنا کب بند کرو گے۔۔۔۔۔۔”
”جب تک تمہیں پا نہیں لیتا۔۔۔۔۔۔”
فیری نے ایک جھٹکا کھایا تھا، یا وہ ہی ایسے ہل کر رہ گئی تھی کہ اسے سہارے کے لیے ریلنگ کو تھامنا پڑا تھا۔انگلی سے وہ اپنا ناک رگڑ رہاتھا۔ بہت ہی بد تمیز قسم کا انسان تھا ویسے۔دن دھاڑے فلرٹ کرتا تھا۔
”تم فلرٹ کرنا بند کرو گے یا نہیں۔۔۔۔۔۔”اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔
”تمہیں یہ فلرٹ لگتاہے۔۔۔۔۔۔”اس نے بھی سنجیدگی سے کہا۔ تھوڑا سا فاصلہ مٹا کر، قریب آکر کہا۔
”ہاں۔۔۔۔۔۔”اسے ہاں کہنے میں تکلیف تو ہوئی، پر وہ کیا کرتی، وہ اسے ڈرا رہاتھا۔اتنا قریب آرہاتھا۔
”سچ کہا۔۔۔۔۔۔میں فلرٹ ہی کرر ہاہوں۔۔۔۔۔۔”کہہ کر اس نے کون کا آخری حصہ بھی منہ میں ڈال لیا۔”تم والٹ چرا سکتی ہو، ہم دل بھی نہیں چرا سکتے؟کیوں بھلا۔۔۔۔۔۔”
افف بلا۔۔۔۔۔۔اسے اتنا غصہ آیا کہ اس کے سر پر اپنا بیگ دے مارا۔”چار ڈالر نہیں تھے تمہارے اس گھٹیا سے والٹ میں اورتم میرے دشمن بن گئے ہو۔”
اسے غصہ تھا کہ اس نے یہ تسلیم کیوں کیا کہ وہ فلرٹ ہی کر رہا ہے۔ بھلا ایسا بھی کرتا ہے کوئی۔ایسے دل توڑتا ہے کوئی۔کیا دنیا سے سچی محبت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ کیا کوئی ایسا جی دار نہیں بچا جو دس دن لڑکی کی کھڑکی کے نیچے کھڑا ہو اور گیارہویں دن ساری دنیا کے سامنے اپنی”سچی محبت”کا اقرار کرے۔۔۔۔۔۔سینہ ٹھونک کر کرے۔سب اسے دیوانہ اور مجنوں کہیں اور لڑکی اس دیوانے پر فخر کرے۔ بے شک چار پتھر خود بھی اٹھا کر اسے دے مارے۔ پر یہ نوبت تو آئے۔۔۔۔۔۔
ا س نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا۔”تمہیں پتا بھی ہے تم کیا کر رہی ہو؟”
”ہاں۔۔۔۔۔۔میرا باپ نہ بنو۔۔۔۔۔۔”
”باپ ایک ہی ہوتاہے، کوئی اور بننے کی کوشش کرے تو اس کا منہ توڑ دینا چاہیے۔”
”شٹ اپ کر جاؤ ویرا!”دھاڑ کر وہ میا کی طرف چلی گئی۔اسے نفرت ہو گئی تھی اس انسان سے۔ کیسے اسے پاگل بنا رہا تھا۔
جس سے نفرت ہو چکی تھی، وہ پیچھے کھڑا اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔دراصل وہ اس لڑکی کو جانتا تھا۔ جانتا تھا کہ اسے ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔وہ اس کی طرف کچھ اہم معاملات پر بات کے لیے بڑھا تھا۔ لیکن جیسے ہی دونوں ملتے تھے، بات کہاں کی کہاں نکل جاتی تھی۔وہ اسے اچھی لگتی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ بری اور ترچھی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔اچھی بھلی لائف گزر رہی تھی، کیا ضروری تھا کہ یہ کاکروچ آتا اور اسے ڈسٹرب کر دیتاہے۔ وہ دل ہی دل میں اسے بہت سے حشرات کے نام سے یادکر رہی تھی۔
وہ دل ہی دل میں یہ طے کر رہا تھا کہ اب آگے کیا کرنا ہے ،کیونکہ اتنی دور سے بھی وہ دیکھ سکتا تھا کہ وہ دس فٹ دور رہنے پر بھی بیس ہزار والٹ کا زور دار شارٹ ماردیتی ہے۔۔۔۔۔۔جان سے ہی مار دے گی۔۔۔۔۔۔اس لیے وہ پورے چوبیس گھنٹے بعد ، اگلے دن شام کو ، ہوٹل کے قریب ایک پارک میں اسے ملا تھا۔ وہ واک کر رہی تھی۔وہ بھی چپ چاپ اس کے ساتھ چلنے لگا۔
”گڈ ایوننگ ارسلہ!”
”گڈ ایوننگ پاگلستان۔۔۔۔۔۔”اس نے شرافت سے کہاتھا، تو اس نے بھی شرافت سے جواب دے دیا۔
”کب تک واپس جا رہی ہو۔۔۔۔۔۔”پاگلستان نے بالکل برا نہیں مانا تھا، نام ہی بگاڑا تھا ناں، کوئی بات نہیں۔پاگل دوسرے پاگل کو پاگلستان ہی تو کہہ رہا تھا ، ڈوب مرنے کے لیے تو نہیں۔
”دو د ن بعد۔۔۔۔۔۔”(تمہارے پاس بس دو دن بچیں ہیں۔۔۔۔۔۔تیاری کر لو۔۔۔۔۔۔)
”لیکن میرے پاس پیسے تو ختم ہو چکے ہیں۔”وہ اپنی تباہ حالی بتا رہا تھا۔
”تو میں کیا کروں؟ایک منٹ، کیا تم مجھ سے ادھار مانگ رہے ہو۔۔۔۔۔۔؟”
”تم ادھار سے ڈرتی ہو لیکن چوری چکاری سے نہیں۔میں دو دن تک یہاں کیسے رکوں۔۔۔۔۔۔”
”’تو گیٹ لاسٹ ہو جاؤ۔”بھڑکی وہ چوری کے لفظ پر تھی۔
”ہو جاتا۔۔۔۔۔۔پھر تمہارا پیچھا۔۔۔۔۔۔میرا مطلب تمہارے ساتھ ساتھ کون رہتا۔۔۔۔۔۔؟”
”تم کیامیرے باڈی گارڈ ہو۔۔۔۔۔۔”اترا کر پوچھا۔
”نہیں سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔میرا مطلب۔۔۔۔۔۔مم۔۔۔۔۔۔ ہماری اچھی جان پہچان سی نہیں ہو گئی ۔۔۔۔۔۔ہے نا؟”
”میں نے کبھی پہچان کے لوگوں سے اچھی طرح بات نہیں کی، تم کیا بات کرتے ہو۔”ہونہہ کا انداز۔
”محبت کی بات۔۔۔۔۔۔اوہ!میرا مطلب ادھار کی بات۔۔۔۔۔۔تھوڑے پیسے ادھار دے دو، تم کافی امیر لگتی ہو۔ پیسے والی۔”
”یعنی پاکٹ والی۔۔۔۔۔۔”وہ سب سمجھ رہی تھی۔
”نہیں۔۔۔۔۔۔وہ میں جان گیا ہوں کہ یہ کام تم نے ختم کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔”
وہ حیران ہو کر رکی۔”یہ گمان تمہیں کیوں ہوا۔۔۔۔۔۔”اب یہ بندہ اتنا سر چڑھے گا۔۔۔۔۔۔دفع دور کیوں نہیں ہو جاتا یہ۔۔۔۔۔۔
”وہ تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی ہے نا۔۔۔۔۔۔تو پھر محبت میں انسان بدل جاتاہے۔۔۔۔۔۔”
محبت میں بدلا ہوا نسان،حیران پریشان انسان۔۔۔۔۔۔وہ اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا۔”یہ بکواس تم سے کس نے کی؟”
”تم نے۔۔۔۔۔۔تم کل میرے خواب میں آئی تھی اور کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔۔بلکہ اظہار کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔”
”کیا۔۔۔۔۔۔”ٹیرس سے پھسل کر وہ اس کے خواب میں پہنچ چکی تھی، سامنے ہی تو کمرہ تھا ناں۔۔۔۔۔۔موت آجانی چاہیے اسے اب۔
”یہی کہ تم میرے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی،میں نہ ملا تو مر جاؤ گی۔”انسان مکاری دکھائے تو پوری دکھائے۔
”میں تمہیں مار کر مرنا پسند کرو ں گی، جیل جا کر۔۔۔۔۔۔” دانت کچکچائے۔
”یہ لو مار دو۔۔۔۔۔۔مار دو۔۔۔۔۔۔”وہ بھی پورا ڈرامہ تھا، گردن آگے کر کے کہہ رہا تھا۔
جی تو اس کا چاہا کہ اپنے لمبے ناخن اس کی گردن میں کھونپ دے لیکن چلو کوئی نہیں دو دن اور جی لے وہ اپنی زندگی۔”دیکھو !بس بہت ہو گیا۔ مذاق تک ٹھیک تھا لیکن تم تو کچھ زیادہ ہی لفنگا ثابت ہو رہے ہو۔”
”تھوڑا سا لفنگا کیسے ثابت ہوا جاتا ہے۔”وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔ پھر تیار شیار ہو کر آیا تھا۔ بڑا پیارا لگ رہا تھا۔
”تم سنجیدہ ہو؟”
”ہاں۔۔۔۔۔۔”
”کتنے پیسے چاہیے؟”اس نے منہ بنا کر پوچھا۔
”پیسے نہیں چاہیے۔۔۔۔۔۔”
”تو۔۔۔۔۔۔اتنی دیر سے کس چیزکے لیے بات کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔”
اس نے اسے کچھ دیر دیکھا اور پھر ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔”اس کے لیے۔۔۔۔۔۔”
وہ ہکابکا(خوش باش)، حیران پریشان(ہائے میری جان)اسے دیکھ رہی تھی۔جھٹک کر ہاتھ چھڑوایا، ”اب یہ بدتمیزی ہے۔”
”اب یہ میرا رائٹ ہے۔۔۔۔۔۔”وہ مضبوط انداز میں کہہ رہا تھا۔
”میرا ہاتھ پکڑنا۔۔۔۔۔۔”
”بالکل۔۔۔۔۔۔”یعنی انسان بولے تو پورا سچ بولے۔
”بڑی جرأت ہے تم میں۔۔۔۔۔۔”(تھوڑی اور جرأت دکھاؤ)
”محبت انسان کو بہادر بنا دیتی ہے۔”
”میں نے تو سنا تھا محبت انسان کو گدھا بنا دیتی ہے۔”
”جس نے سنا ہے، وہی گدھا بنے گا، میں نے ایسی کوئی بات نہیں سنی۔”گدھے نے سنجیدگی سے کہا۔
ناک کو اچکا کر، آنکھیں مٹکا کر اس نے اس کی طرف دیکھا۔”پتا نہیں کون ہو تم، اور کیسے محبت محبت کی بات کر رہے ہو، چلتے پھرتے نظر آؤ۔۔۔۔۔۔”دنیا میں وہ لڑکی آج تک پیدا ہی نہیں ہوئی جو نخرہ نہ دکھائے۔ جو جلدی مان جائے۔ جو شوخی نہ ہو۔
وہ واقعی میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔یعنی چلتے پھرتے۔۔۔۔۔۔چلا گیا۔۔۔۔۔۔فٹے منہ اس کا۔۔۔۔۔۔اتنا فرمانبردار بھی نہیں ہونا چاہیے عاشقوں کو۔ کچھ اپنی عقل سے بھی کام لینا چاہیے کہ لڑکی مذاق کر رہی ہو گی۔ پاگلوں وہ تو چاہتی ہے کہ اس کے پیچھے پیچھے آؤ، اس کی جان کھاؤ۔ اس پر عذاب(محبت)بن کر گرو۔ جو وہ کھائے، تم وہ کھاؤ ۔ جو وہ بولے، تم وہ سنو۔وہ دن کو رات کہے تو تم دن کو دن ہی سمجھو لیکن چھپا جاؤ۔ہاں پر
ا س کے سامنے دن کو رات کہتے جاؤ۔ وہ چاند پربڑھیا دیکھتی ہے تو تم بھی دیکھو۔ بے شک تم ماہر فلکیات ہو اور تمہارا باپ بھی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ چاند پر کوئی بڑھیا بیٹھی کچھ کات وات رہی ہے۔ یعنی اسے اور کوئی کام نہیں ہے۔۔۔۔۔۔بندہ کوئی برگر ہی بنا لیتا ہے، ورنہ پاستا۔ویسے چاند کی اس بڑھیا کو روئی دیتا کون ہے۔۔۔۔۔۔او رپھر اس کا دھاگہ خریدتا کون ہے؟
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
وہ ارسلہ جیسی لڑکیاں خریدتی ہیں ۔آج وہ بدھا پلیس آئی تھیں۔انسانوں کے بغیر عمارتیں بڑی کھوکھلی سی لگتی ہیں۔ اس لیے ایک کوا اڑتا ہوا آیا اور اس کے شانے پر۔۔۔۔۔۔بیٹھ۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔شانے کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ وہ بڑ ے مگن اندا زسے، خواہ مخواہ عمارت کو گھور رہی تھی کہ وہ پیچھے سے شانے پر جھک کر پھونک مار کر اس کی پیشانی پر آئی لٹ کو اڑانے کی کوشش کر رہاتھا۔
وہ جھٹکے سے پیچھے پلٹی تو اس کے سر سے ٹکرا گئی۔(ہاے۔۔۔۔۔۔میری جان)۔
”تم مجھے اکیلا چھوڑ کر کہاں چلی جاتی ہو؟سامنے ہی کمرہ ہے، اشارہ کر دیتی کہ یہاں آرہی ہو، میںنے تمہیں کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔”سڑک پار موجود”سامنے ” کے کمرے والا، اس کے سامنے کھڑا ہو کر پوچھ رہا تھا۔
وہ ابھی تک ابھی تک اس پھونک کے اثر میں تھی، جو اس کے شانے کے قریب جھک کر اس نے ماری تھی۔ سویٹ ہارٹ سے بچی رہ گئی، یہ پھونک اس کی جان ، لے لینی والی تھی۔ اس کی تو زبان ہی بند ہو گئی تھی۔وہ اچھی خوبصورت لڑکی تھی، اس وقت اور زیادہ خوبصورت ہو گئی تھی ۔ اس کے گال سرخ ہو چکے تھے۔دل کی دھڑکن اتنی تیز ہو چکی تھی کہ لگتا تھا ساری دنیا اس کے شور سے اپنے کانوںمیں انگلیاں ٹھونس کر کھڑی ہے۔
”کیوں ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔۔۔۔؟”یعنی پھونک کی پھوار میں بھیگ کر بھی وہ جاننا چاہتی تھی۔ میں نے کہا نا دنیامیں ایسی کوئی لڑکی پیدا ہی نہیں ہوئی جو سیدھی بات کو، سیدھی طرح سے سمجھ لے۔ اور شوخا ہوئے بغیر ظاہر بھی کر دے۔
سر کو شرارت سے جھٹکے دے کر، گالوں کا زاویہ بگاڑ کر وہ عین اس کے برابر آکر کھڑا ہوا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔”آؤ ساتھ ساتھ محل دیکھیں۔۔۔۔۔۔”
ساتھ ساتھ۔۔۔۔۔۔”وہ زیر لب بڑبڑائی۔
”میرے پاس ر ہ کر۔۔۔۔۔۔میرے ساتھ چل کر۔۔۔۔۔۔”میرے پاس کہتے ہوئے اس نے دل پر دونوں ہاتھ رکھے تھے۔
وہ اس کی ذہین آنکھوں کو اپنی بدھو آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔اس نے انکار نہیں کیا ۔ ہاتھ اس کے ہاتھ میں ہی رہنے دیا۔اس کے ہاتھ کے سب اشارے، اس کی محبت کے استعارے بن گئے۔ جس طرف وہ دیکھتا رہا، اس طرف وہ بھی دیکھتی رہی۔ جو وہ کہتا رہا، بس وہی سنتی رہی۔وہ چپ ہوتی تو وہ اس کے ہاتھ کو جھٹک کر کہتا۔
”کچھ بولو نا۔۔۔۔۔۔”
وہ سر اٹھا کر اسے دیکھتی اور ، اور زیادہ خاموش ہو جاتی۔محبت زبان بندی کا کام کیسے اہتمام اور آسانی سے کر دیتی ہے۔بس اتنی سی بات تھی۔۔۔۔۔۔اور محبت بڑے آرام سے طے پا گئی۔ پھر دن ڈھلے، دریا کے کنارے ، اس کے ساتھ کھڑے ہو کر اس نے اس کی کمر میں بازو حمائل کر دیے، موبائل اٹھا کر دونوں کی ایک ساتھ سیلفی لی۔ فیری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، ایک پھول کر خریدکر دیتے ہوئے، وہ اسے پورا خرید چکا تھا۔
ایک دل لیا۔۔۔۔۔۔ایک دل دیا۔۔۔۔۔۔اور دونوں دلوں کو ایک کر دیا۔۔۔۔۔۔
ڈنر کے بعد چہل قدمی کے دوران اور کافی کے بعد ساتھ ساتھ بیٹھ کر انہوں نے صدیوں کے فاصلے لمحوں میں طے کیے تھے۔وہ اسے یہ تو نہیں بتا سکی کہ محبت کا سمندر، ایک گھونٹ میں کیسے پیا جاتاہے، لیکن اس نے اسے یہ بتا دیاکہ وہ اس کی زندگی میں آنے والا پہلا انسان ہے، جس نے اس کے د ل کو اطمینان سے بھر دیا ہے، اس کے اندر کے خوف کو ختم کر دیاہے۔
”اور تمہارا خوف کیا تھا۔۔۔۔۔۔؟” وہ پوچھ رہا تھا۔وہ ایک مصروف سڑک کے کنارے بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے ، سیاحوں کابہت رش تھا وہاں۔ رات کا اندھیرہ، دو دلوں کی روشنی سے منور ہو رہا تھا۔رات کی چہل پہل ، دو دلوں کے ساز و حال پر فدا تھی۔
”کہ میں ہمیشہ اکیلی رہو ں گی،یا اگر کوئی ملا تو وہ مجھے چھوڑ جاے گا۔۔۔۔۔۔”اس نے صاف گوئی سے بتا دیا تھا۔
”کتنے لو گ چھوڑ کر جا چکے ہیں ارسلہ!”
”لوگ نہیں۔۔۔۔۔۔عزیز۔۔۔۔۔۔فادر کی ڈیتھ ہو گئی اورمیں اکیلی رہ گئی۔۔۔۔۔۔” وہ بس اتنا ہی کہہ کر خاموش ہو گئی۔
”اور مدر؟”خاموشی کے ایک مختصر وقفے کے بعد اس نے پوچھا تھا۔
”میری کوئی ماں نہیں ہے۔۔۔۔۔۔”
”سب کی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔”
”ہوتی ہو گی لیکن ان سب میں، میں شامل نہیں ہوں۔”
”تم اپنی ماں سے ناراض ہو۔۔۔۔۔۔”
”ناراض کسی تعلق میں ہوا جاتاہے، میری کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔۔۔”
”ہو سکتا ہے ان کی طرف کی کوئی کہانی ہو۔۔۔۔۔۔جو تمہیں معلوم نہ ہو۔۔۔۔۔۔”
اس کے شانے سے سر اٹھا کر وہ چونک کر اسے دیکھ رہی تھی، ”تم میری ماں کی سائیڈ کیوں لے رہے ہو۔”
”میں ان کی نہیں، تمہاری سائیڈ لے رہا ہوں، تمہیں تکلیف سے بچانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔”
”میں بالکل خوش باش ہوں، مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے۔۔۔۔۔۔”
”اسی لیے تم پینی بن گئی۔۔۔۔۔۔”
”وہ بس ایسے ہی کالج میں ، تھرل کے لیے۔۔۔۔۔۔”وہ آدھے سچ کو، پورا جھوٹ کر رہی تھی۔
”تم جیسی لڑکیاں تھرل میں اس طرح کے کام نہیں کرتیں۔۔۔۔۔۔”
”مجھ جیسی لڑکی سے تمہارا کیا مطلب ہے؟”
”تم جانتی ہوکہ میرا تم جیسی لڑکی سے کیا مطلب ہے، ایسی لڑکی جو اپنی حد اور اقدار کو بہت اچھی طرح سے جانتی ہے۔تمہیں خود کو برباد کرنے کے لیے یہی کام ملا اور تم نے یہ کر لیا۔۔۔۔۔۔جو بچے بچپن میں کسی محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں، وہ عام بچوں سے ہٹ کر ہوتے ہیں، وہ معاشرے کو ڈسٹرب کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، جیسے وہ خود ڈسٹرب رہ چکے ہوتے ہیں۔”
”میں اپنی مرضی اور ضرورت سے پینی بنی ہوں۔۔۔۔۔۔”
”یہ سب جھوٹ ہے ارسلہ! تم کہیں نہ کہیں اس غصے کی وجہ سے پینی بنی جو تمہیں اپنی ماں پر تھا۔تمہیں لگا کہ ایسے تم انہیں شرمندہ کر دو گی۔تم خود کو بھی تکلیف دینا چاہتی تھی، اور تم نے یہ کیا بھی۔۔۔۔۔۔یہ پاکٹ وغیرہ مارنا تمہیں کوئی خوشی نہیں دیتا۔”
”میرا اس عورت سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ شرمندہ ہوں یا فخر کرے۔۔۔۔۔۔”
”تعلق زبان سے ٹوٹ جایا کرتے تو پھر ہر انسان اکیلا اور اجنبی ہوتا۔”
وہ خاموشی سے اس کی طرف دیکھتی رہی اور پھر ٹھہر ٹھہر کر کہا۔”تم دوبار ہ یہ سب مجھ سے ڈسکس نہیں کر سکتے، یہ باتیں آج ہوئی ہیں دوبارہ نہیں ہونی چاہیے۔”
”تو پھر تم پینی سے ارسلہ بن جاؤ۔۔۔۔۔۔”
”تم نے محبت میں شرطیں رکھنی شروع کر دی ہیں۔۔۔۔۔۔”
”محبت میں، اطمینان، سکون، اور احترام رکھنے کی کوشش کرر ہاہوں۔کیا تمہیں خود شرمندگی نہیں ہوتی کہ تم کیا کرر ہی ہو؟”
وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئی۔”میں ایک عجیب و غریب لڑکی ہوں، تم سوچ لو کہ تم میرے ساتھ چلنا چاہتے ہو یا نہیں۔”وہ غصے سے اٹھ کر کھڑی ہو چکی تھی۔
”تو یہ عجیب و غریب لڑکی مجھے عزیز ہے۔۔۔۔۔۔” اس نے فورا اس کا ہاتھ تھام لیا کہ وہ کہیں جا نہ سکے۔”لیکن ارسلہ !کون انسان یہ برداشت کرے گا کہ جس سے وہ محبت کرتا ہے، وہ لوگوں کی پاکٹ مارتی پھرے، میرا دل مار لیا ہے تم نے، باقی یہ عظیم کا م چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔۔”
اس نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ اس سے محبت کرتی تھی، اس کے لیے سات خون معاف کر سکتی تھی، یہ توپھر ایک بری عادت تھی۔”میں کوشش کروں گی ۔”اس نے سیدھی طرح سے ، سیدھا ہونے کی کوشش نہیں کی۔لڑکیوں میں ایک خاص ہڈی ہوتی ہے جسے ”ڈھیٹ ہڈی” کہتے ہیں۔ ا س میں موجود یہ ہڈی اسے ٹیڑھا ہی رہنے کی ترغیب دے رہی تھی۔
”اچھے کاموں کے لیے فورا کوشش کر لینی چاہیے۔”کھڑا ہو کر، اس کی کمرمیں بازو حمائل کر کے اس نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
”جو جان سے زیادہ عزیز ہوں! ان کے لیے جان کے علاوہ ہر کام چھوڑ دینا چاہیے۔”کان کی طرف جھک کر کہا۔
وہ اس کی محبت اور اس کی قربت کے زیر اثر اس شدت سے آئی کہ اس نے جان لیا کہ وہ اس کے لیے اپنی جان تک چھوڑ سکتی ہے۔جہان محبت میں، جان عالم کی بھی کیا حیثیت ہو گی بھلا۔ایسے محبوب کی موجودگی پر، انکار کا حوصلہ کس میں ہو گا بھلا۔
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
امریکا واپس آتے ہوئے اس کے د ل کا مکین،اسے جان سے زیادہ عزیز ہو چکا تھا۔جس کے لیے وہ مس پینی سے، مس ارسلہ بن چکی تھی۔وہ بھول چکی تھی کہ وہ کیا کرتی رہی ہے، وہ یاد رکھنا چاہتی تھی کہ وہ کیا کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔”محبت۔۔۔۔۔۔”محبت پورا دل بدل دیتی ہے، اور آدھا انسان۔۔۔۔۔۔آہستہ آہستہ ہی سہی۔۔۔۔۔۔وہ بھی بدل گئی۔ پک پاکٹ بھی کوئی جاب یا فیلڈ تھی بھلا، جس میں کامیابی کے امکانات کچھ ایسے روشن تھے، کہ روشنی کے یہ روشندان جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھلتے تھے۔اس نے کہا چھوڑ دو اوراس نے چھو ڑدیا۔ ماں کی نفرت میں اپنائی تھی، اس کی محبت میں چھو ڑدی ۔ جب دنیا کی سب سے ضروری چیز مل گئی تھی، تو باقی کی چیزوں کو جیب میں رکھنے کی کیا ضرورت تھی ۔جب وہ اسے ”مائی لو، مائی لو”کہتا تو اس کا دل کتنی بیٹ مس کر دیتا تھا۔ وہ کیسے اس کے ایک ایک اظہار پر پورے د ل سے فدا تھی کہ نہ اسے سنتے ہوئے تھکتی تھی، نہ دیکھتے ہوئے۔ وہ ہر دن اس سے ملنا چاہتی تھی اور ہررات سوچنا۔
”ہم شادی کے بعد یوکے میں نہیں رہیں گے۔۔۔۔۔۔”وہ فرمائشوں سے پاک محبت بھی نہیں کر سکتی تھی۔
”کیوں۔۔۔۔۔۔؟”اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔وہ یوکے سے امریکا پڑھنے کے لیے آیا تھا۔
”مجھے پسند نہیں۔۔۔۔۔۔”(وہا ں میری ماں ہوتی ہے )
”ملک؟”
”وہاں کے لوگ۔۔۔۔۔۔”وہ جھلا کر بولی۔
”شہزادہ چارلس؟ یا پرنس ہیری۔۔۔۔۔۔؟”
”اف!نہیں۔۔۔۔۔۔بس عام لوگ۔۔۔۔۔۔”
”چلتے پھرتے عام لوگ؟”
”اف!تم کتنی بحث کرتے ہو۔”
”اف! تم کیسی عجیب باتیں کرتی ہو، سیدھی طرح سے بات کرو کہ کیا کہنا چاہتی ہو۔”
اس نے منہ بنا لیا لیکن پیزا کھانا نہیں چھوڑا، بلکہ وہ اس کا حصہ بھی صاف کرنے لگی تھی۔ آنکھیں پھیر لیں اور ہونٹوں کو ناراضی میں ٹیڑھا میٹرھا کرنے لگی۔ظاہر ایسے کر رہی تھی کہ اب پیزا میں کوئی دلچسپی نہیں رہی، اور حقیقت یہ تھی کہ وہ سوچ رہی تھی کوئی ناراضی ہو بھی جائے تو بھی وہ پیزے کا صفایا کر کے ہی اٹھے۔یعنی اس کا ماننا تھا کہ جو کام شروع کرو، اسے ختم کر کے ہی دم لو۔
” جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تو تمہارا چہرہ جانا پہچانا لگا تھا۔”اس کے چہرے کے زاویوں پر وہ ہنس رہا تھا۔
”چور ڈاکووں کی کسی فلم میں دیکھا ہو گا۔۔۔۔۔۔”وہ لڑکیوں کی سائنس پر پورتی اترتی تھی، پیزا کھا کر ، اب اس کے بچے ہوئے ذرات انگلیوں سے چگ رہی تھی۔جب چگ چکی تو ادھر ادھر پھیلار ائتہ۔۔۔۔۔۔یعنی ساس انگلی کی نوک سے سمیٹ کر چاٹنے لگی اور یہ ظاہر کرنے گی کہ چونکہ و ہ اپ سیٹ ہے تو ایسی بھوکوں والی حرکتیں کرر ہی ہے۔
”نہیں۔۔۔۔۔۔وہ مجھے بعدمیں یاد آیا کہ۔۔۔۔۔۔”اس کی رفتار کو ایک دم سے بریک لگے۔۔۔۔۔۔
”کہ۔۔۔۔۔۔؟”
”کہ تم تو بہت اچھی لڑکی ہو۔۔۔۔۔۔”(کہ تمہیں کہاں دیکھا ہے، لیکن میں یہ بات گول کر رہا ہوں)
”اور یہ بات تم کیسے جانتے تھے؟”وہ غور نہیں کر سکی کہ وہ بات کو گھما چکا ہے۔
”بس معلوم ہو جاتاہے۔ محبت انسان کو سہما دیتی ہے۔ کمزوربنا دیتی ہے۔میں تمہیں اپنی فیملی سے ملوانا چاہتا ہوں اور تم سے ڈرتا بھی ہوں۔”
”تو کیا ہم رجسٹرڈ میرج کریں گے؟چچا نہیں مانیں گے۔ فیملی کو لانا ہی پڑے گا۔۔۔۔۔۔”
”فیملی۔۔۔۔۔۔لیکن پہلے تم مل لو،پھر چچا کو منا لینا۔۔۔۔۔۔”
”چچا کو میری پسند پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔انہوں نے قمر سے بھی بس ایک ہی بات کہی تھی کہ لوگ شریف ہوں۔ تو تم لوگ شریف ہو نا؟”
”نہیں ہمارے گھر میں دوقاتل، ایک ڈاکو، اور ایک فراڈیارہتاہے۔اتنی شریف فیملی چلے گی؟”
‘ ‘ کیا مطلب ؟تمہارے گھر میں کوئی دہشت گرد نہیں ہے؟”کہہ کر اس نے قہقہہ لگایا۔
”لیٹرا ہے نا۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔لوٹ لیا تمہارا دل۔۔۔۔۔۔”
”چورنی کو لیٹرا ہی ملنا تھا۔۔۔۔۔۔” وہ ہنس ہنس کر پاگل ہو رہی تھی۔
”مجھے خوشی ہے کہ تم خوش رہتی ہو ارسلہ!”اس کے گال کو انگلیوں کی پشت سے چھو کر اس نے محبت سے کہا۔
”اور ہمیشہ خوش رہوں گی۔۔۔۔۔۔میرا سمسٹر ختم ہو رہاہے، فیملی کو بلا لینا۔۔۔۔۔۔پھر نہ کہنا کہ میری کہیں اور بات پکی ہو گئی۔ چچا پتا نہیں کس کس سے بات کر رہے ہیں میرے پرپوزل کے لیے۔۔۔۔۔۔”
”تم مجھے دھمکی دے رہی ہو؟”
”میں تمہیں ۔۔۔۔۔۔ہاں دھمکی ہی دے رہی ہوں۔۔۔۔۔۔”کہہ کر اس نے قہقہہ لگایا۔
”یعنی خوشیوں کے دن مختصر ہوتے ہیں۔ اب حقیقت کی طرف آنا ہی پڑے گا۔”وہ بے چینی سے ہنس دیا۔
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
خوشیوں کے دن مختصر تھے کیونکہ ٹینشن کا بھی کوئی حق بنتا تھا کہ وہ آئے اور سب کچھ تباہ و برباد کر دے۔ وہ آئی۔۔۔۔۔۔یعنی بس آنے ہی والی تھی۔زوہان چند دنوں سے کافی بزی تھا۔فون پر بات بھی کم ہو رہی تھی اور ملاقات تو ہو ہی نہیں رہی تھی۔ اس کے والدین حیات نہیں تھے۔ ایک ماموں تھے، اور وہ یوکے میں انہی کے ساتھ رہتا رہا تھا۔انہوں نے ہی اسے پڑھایا لکھا یا تھا۔ماموں، مامی دونوں اس سے بہت پیار کرتے تھے۔ ان کی ایک ہی بیٹی تھی زوہا، اور وہ اس کی اچھی دوست بھی تھی۔اپنی دوست سے اس نے اپنی ارسلہ کی بات بھی کروا دی تھی۔
”تو تم شادی کے بعد ماموں کے ساتھ رہو گے؟”اسے شادی کی اتنی فکر نہیں تھی جتنی یوکے کی تھی۔
”نہیں!الگ گھر میں، یہاں امریکا میں۔۔۔۔۔۔لیکن پہلے شادی تو ہو جائے۔۔۔۔۔۔”وہ منہ بنا کر کہہ رہا تھا۔ ایک تو یہ یوکے اور امریکا کے جھگڑے پتا نہیں کب ختم ہو ں گے۔
”تو منہ بنانا موخر کرو ناں!ماموں مامی کو بلا لو۔۔۔۔۔۔آئیں اور مل لیں ہم سب سے۔”ناخن کتراتے ہوئے اس نے کہا۔
”کیا تم واقعی میں مامی سے مل لو گی۔۔۔۔۔۔”
”ہاں۔۔۔۔۔۔کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔وہ مجھے کاٹ تو نہیں کھائیں گی نا۔۔۔۔۔۔”وہ ہنسی۔
لیکن وہ نہیں ہنس سکا تھا۔”کیا تم میرے ساتھ ، میرے گھرچل سکتی ہو؟”
”تمہارے فلیٹ میں۔۔۔۔۔۔؟”
”ہاں۔۔۔۔۔۔مامی جی کو بلا لیا تھا میں نے۔۔۔۔۔۔تین چار دن ہو چکے ہیں انہیں آئے ہوئے۔۔۔۔۔۔زوہا بھی آئی ہے۔”
”ہیں۔۔۔۔۔۔تو تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟پاگل انسان، پہلے بتا دیتے ، میں انہیں ایئرپورٹ لینے جاتی۔سسرال کے نام پر میرے پاس یہ چند رشتے ہی تو ہیں، کم سے کم مجھے ان کی توآؤ بھگت کرنے دو۔اچھا میں رات کو آؤ ں گی، یہاں سے سیدھا سیلون جا رہی ہوں۔ ایک تو تم نے اتنا لیٹ بتایا، مجھے شاپنگ بھی کرنی ہے، کوئی اچھا ڈریس بھی نہیں ہے میرے پاس۔ بالکل کنگال بھی ہوں میں، جب سے کام چھوڑا ہے، جیب اور ہاتھ خالی رہتے ہیں۔میں تو ایک دم سے اتنی پریشان ہو گئی ہوں۔”وہ پریشان، ہلکان، تباہ حال سب ہوچکی تھی۔
زوہان نے ہنس کر اس کا ہاتھ پکڑا۔”وہ تمہیں بہت پسند کرتی ہیں ارسلہ!”
”کیا تم نے میری تصویر انہیں دکھا دی ۔۔۔۔۔۔یعنی دکھا بھی دی۔۔۔۔۔۔”اسے اب یہ فکر تھی کہ وہ تصویر میں کیسی لگ رہی تھی۔(چورنی)
”ہاں۔۔۔۔۔۔وہ تمہاری خوبصورتی پر فدا ہیں۔۔۔۔۔۔بہت زیادہ۔۔۔۔۔۔”
”کیا واقعی میں۔۔۔۔۔۔میں انہیں سچی والی خوبصورت لگی ہوں؟”
”جھوٹا والا خوبصورت کون ہوتاہے؟”
”جسے جھوٹ موٹ کہا جائے کہ تم پیارے ہو۔۔۔۔۔۔جبکہ وہ ہو تا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔”
”تم انہیں مجھ سے بھی زیادہ پیاری ہو، زوہا سے بھی زیادہ ۔۔۔۔۔۔”
”او اچھا! ہوں تو میں اتنی ہی پیاری۔۔۔۔۔۔اچھااب تومجھے واقعی میں جانے دو۔ چچی سے بات کرتی ہوں، وہ یقینا مجھے کچھ پیسے دے دیں گی۔ ورنہ اگر ضرورت پڑی تو ایک آدھ پاکٹ مار لوں گی۔ کہتے ہیں کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتاہے، تو ا یک آدھ والٹ بھی جائز ہو ہی جاے گا نا۔۔۔۔۔۔”
محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتاہے۔۔۔۔۔۔اوریہی محبت ہر جذبے کا خون کر دیتی ہے۔ اس نے اسے بہت سمجھایا کہ وہ ایسے ہی اس کے ساتھ چلے لیکن وہ نہیں مانی، وہ تیار ہو کر، پھول لے کر ہی وہاں پہنچی تھی۔درواز ہ زوہان نے کھولا تھا۔ و ہ اس کی تیاری اور خوشی دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا۔ اس کے چہرے کے رنگ اڑ گئے تھے۔
”اندر آجاؤں یا یہیں فوت ہو جاؤں۔”وہ چہک کر پوچھ رہی تھی۔
وہ ہنسا ہی نہیں اور چپ چاپ راستہ چھوڑ دیا۔”آجاؤ ارسلہ! اور پرسکون رہو۔۔۔۔۔۔”آخری الفاظ اس نے زیر لب دہراے تھے۔
”گھر اچھا ہے ویسے تمہارا۔۔۔۔۔۔”چند دیواریں دیکھ کر وہ تعریف کر رہی تھی، یعنی بری طرح سے گھبرائی ہوئی تھی۔
”بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔۔۔۔لیکن اب پلیز ایسی ہی پیاری پیاری باتیں بھی کرنا۔”
”تو کیا میں بری باتیں کروں گی۔۔۔۔۔۔”وہ معصومیت سے پوچھ رہی تھی۔
”نہیں۔۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔۔”اسے لے کر وہ آگے بڑھ گیا۔ اوپن کچن میں ایک عورت کھڑی کوکنگ کر رہی تھی۔ شاید وہ بہت سی ڈشز بنا رہی تھی ۔اس کا چہرہ تمتمتا رہاتھا، مصروف ہاتھ ، پرجوش تھے۔جب وہ اس کی سمت پلٹی تو سب ختم ہو گیا۔
وہ اس کی ماں تھی۔۔۔۔۔۔وہ ماں جس سے وہ نفرت کرتی تھی۔۔۔۔۔۔
اس نے ایک نظر زوہان اور پھر ایک نظر خود اپنے آپ کو دیکھا۔ تو اسے کہتے ہیں زندگی۔۔۔۔۔۔یہ ہوتی ہے قسمت۔۔۔۔۔۔انسان وہیں جا کر مرتا ہے، جہاں سے بچ کر نکلتا ہے۔ایک لمحے کے لیے وہ سب چپ چاپ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے۔ پھر وہ عورت اس کی سمت بڑھی اور اسے گلے سے لگانا چاہا۔ وہ تب بھی بت بن کر کھڑی رہی۔ پیچھے زوہا کھڑی تھی ۔۔۔۔۔۔زوہا، جس کی تصویر دیکھ کر اس نے سوچا تھا کہ وہ اسے دیکھی دیکھی سی کیوں لگ رہی ہے۔ وہ ماں جیسی تھی نا۔۔۔۔۔۔اس کی اور اپنی ماں جیسی۔۔۔۔۔۔
”تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔”ماں سے خود کو دُور کر کے، وہ زوہان سے پوچھ رہی تھی۔آواز پرسکون تھی۔
”تم بیٹھ جاؤ پہلے۔۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔۔”
”وہ بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔واقعی میں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔”اب بتاؤ۔۔۔۔۔۔”بہت اطمینان سے پوچھا۔
باقی سب کھڑے رہے۔ ”میں بتانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔۔مجھے تم سے ڈر لگتا تھا۔۔۔۔۔۔”
”ا ب نہیں لگا۔۔۔۔۔۔؟”
”کبھی تو یہ سب کچھ سامنے آنا ہی تھا۔۔۔۔۔۔”
”اور پھر۔۔۔۔۔۔پھر سب ختم ہو جانا تھا۔۔۔۔۔۔”
”ایسے تو نہ کہو ارسلہ!”وہ اس کے قریب آکر بیٹھ گیا تھا۔
”میں کسی بھی ایسی عورت کو نہیں جانتی، جو ماں ہو بھی اور نہیں بھی۔ باپ بعد میں مرا تھا، یہ بہت پہلے مر گئی تھیں۔ تم نے مجھے دھوکے سے ان سے ملوایا ہے۔”
”تم نے ہی کہا تھا کہ چچا ہمارے لیے نہیں مانیں گے، جب تک فیملی نہیں آئے گی۔ تو میںنے انہیں۔۔۔۔۔۔”
”چچا مان بھی گئے تو میں نہیں مانوں گی۔بھول جاؤ کہ تم کسی ارسلہ کو جانتے ہو۔ مجھے ان سے تعلق رکھنے والے ہر انسان سے نفرت ہے۔”اس نے اطمینان سے کہا۔وہ اٹھی، پھول جو ابھی تک ہاتھ میں تھے، انہیں سنبھالا اور دروازے کی سمت بڑھ گئی۔
”اپنی ماں کو معا ف کر دو ارسلہ!”ماں بڑی بے قراری سے اس کی سمت لپکی تھیں۔
”شاید معاف کر دوں ، لیکن محبت نہیں کر سکوں گی۔۔۔۔۔۔اب پلیز آگے کا ڈرامہ مت کیجئے گا۔ دی اینڈ کر چکی ہوں، دوبارہ اس فلم کو پیچھے کی طرف مت چلائیے گا۔بہت کچھ بھگت لیا ہے میں نے۔”وہ کچھ زیادہ ہی پرسکون تھی۔بڑے آرام سے کہہ رہی تھی
زوہان بے بسی سے اسے دیکھ رہا تھا۔”میرا بس اتنا قصور ہے کہ میں ماموں کا بھانجا ہوں۔”
”نہیں۔۔۔۔۔۔یہ قصور ہے کہ تم شاید پہلے د ن سے جانتے تھے کہ میں کون ہوں، تمہیں مجھ سے دُور رہنا چاہیے تھا۔”
”تم سے دور رہا نہیں گیا۔۔۔۔۔۔”
”تو اب رہ لینا۔۔۔۔۔۔” اطمینان سے آہ بھر کر کہا۔
وہ سب اسے کیسے کیسے روکتے اور سمجھاتے رہے، لیکن وہ گھر سے باہر نکل گئی۔ زوہان نے اسے اسے ڈراپ کرنا چاہا لیکن اس نے بس ایک بار سنجیدگی سے اس کی طر ف دیکھ کر کہا۔
”مجھے اور تکلیف نہ دو۔۔۔۔۔۔جو ہو گیا، سو ہو گیا۔۔۔۔۔۔واپس لوٹ جاؤ۔۔۔۔۔۔”
اس نے کچھ ایسے تکلیف دہ انداز میں کہا تھاکہ اس کا راستہ روک کر کھڑ ا زوہان سائیڈ پر ہو گیا تھا۔وہ بکھر تو چکی تھی لیکن ظاہر نہیںرنا چاہتی تھی۔پھول اس نے چچی کو لا کر دے دیے تھے۔’
‘یہ لیں۔۔۔۔۔۔یہ آ پ کی آپا جان نے بھیجے ہیں۔ باقی بات ان سے فون پر سن لیں۔”
وہ حیران ارسلہ کو دیکھ رہی تھیں۔کمرے میں آکر اطمینان سے اس نے جیولری اتاری۔ڈریس چینج کیا۔ منہ دھویا۔ کھانا کھایا۔ کمبل لیا اور ۔۔۔۔۔۔سسکنے لگی۔۔۔۔۔۔صبح تک سسکتی رہی۔۔۔۔۔۔
ایک سے محبت۔۔۔۔۔۔ایک سے نفرت۔۔۔۔۔۔زندگی نئے ہی موڑ پر کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
فون اس نے بند کر دیا تھا۔ یونیورسٹی میں زوہان سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ بلکہ اس کی منت کی کہ وہ اس کا پیچھا نہ کرے ۔لیکن ماں نے پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔وہ یونیورسٹی سے گھر آئی تو دونوں بہنیں بیٹھی رو رہی تھیں۔ ایک دوسرے کے آنسو پونچھ رہی تھیں۔ چچا کے گھر آنے میں ابھی بہت وقت تھا۔ وہ تمسخر سے ہنس کر رہ گئی۔
”چچی آپ نے کہا تھا آپ کو چچا سے محبت ہے، کچھ اس محبت کا ہی لحاظ کر لیں، اور جس عور ت سے آپ کے شوہر کو نفرت ہے، اور نہیں تو اس عورت کے گلے سے لگ کر رونا ہی بند کر دیں۔”
رو، رو کر چچی کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔”دیکھا ہے اپنی بیٹی کو عفت۔”
وہ تڑپ اٹھی تھی۔ ”میں عفت کی نہیں، اپنے باپ کی بیٹی ہو ں صرف۔۔۔۔۔۔”
عفت کتنی محبت سے اس کی طرف بڑھی تھیں۔”میرا قصور صرف اتنا ہے کہ میں نے طلاق لے لی؟”
”مجھے چھوڑ کر لی۔۔۔۔۔۔”وہ ان سے دور ہٹ کر کھڑی ہو چکی تھی۔
”میں تمہیں اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتی تھی، لیکن تمہارے پاپا نہیں مانے۔۔۔۔۔۔”
”و ہ کیوں مانتے، میں ان کی بھی اولاد تھی، وہ مجھے اپنے پاس رکھناچاہتے تھے۔”
”لیکن انہوں نے مجھے تم سے ملنے بھی نہیں دیا۔”
”کیوں ملنے دیتے؟آپ کے پاس حق ہی نہیں رہا تھا مجھ سے ملنے کا۔”
”ارسلہ!ایک اچھی بھلی عورت، بس ایک طلاق لے لینے سے بری عورت، بری ماں بن جاتی ہے؟کیا صرف اس لیے کہ وہ جس انسان کے ساتھ خوش نہیں تھی،اس کے ساتھ مزید نہ رہنے کا فیصلہ کر لیتی ہے۔ اس سے خوشی کی اداکاری نہیں ہو رہی ہوتی۔ وہ اس نقلی زندگی سے الگ ہو جاتی ہے۔ تو کیا یہ برا کرتی ہے؟کیا دنیا میں جو جو عورت طلاق لے گی وہ بری عورت ہی کہلائے گی؟”
وہ چپ ہو چکی تھی۔
”کیاکوئی بھی عورت، گھرتوڑنے کے لیے گھر بناتی ہے؟کیا وہ چاہتی ہے کہ اس پر طلاق کا دھبہ لگے؟میری غلطی بس اتنی تھی کہ میں اپنی چھوٹی بہن کے رونے اور گڑگڑانے پر اپنا فیصلہ بدل بیٹھی تھی۔ میں یہ منگنی جو میرے ابا اور تمہارے داد ا نے کی تھی، توڑ رہی تھی، لیکن میری بہن نہیں مانی۔ اسے لگتا تھا کہ منگنی ٹوٹی تو وہ مر جاے گی۔ میںنے غلطی کی کہ میں نے قربانی دی اور پھر نبھانہیں پائی۔ تو کیا ساری زندگی سسکتی رہتی؟جب میں طلاق لے رہی تھی تو تمہارے پاپا نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے عدالت نہیں جانا پڑے گا اور وہ تمہیں مجھ سے ملنے دیں گے۔ لیکن پھر انہوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ کیا روتی صرف تم رہی ہو، میں سکون میں رہی ہوں۔”
اس نے بے زاری سے اپنی ماں کو دیکھا۔”آپ نے اپنی زندگی جی لی نا، تو بس پھر ٹھیک ہے۔”
”ادھوری زندگی جی۔۔۔۔۔۔تم مجھ سے الگ رہی، تو کیامیری زندگی مکمل رہی۔۔۔۔۔۔”
”آپ کے پاس آپ کی اپنی بیٹی ہے۔۔۔۔۔۔زوہا۔۔۔۔۔۔”
”وہ تمہارے بعدہے۔۔۔۔۔۔”
”بعد میں ہوتی تو ساتھ نہ ہوتی۔۔۔۔۔۔”
”کیاطلاق یافتہ عورت کا اپنی اولاد پر کوئی حق نہیں بچتا ارسلہ؟کیوں؟ایسی ظالم نہ بنو۔میںنے ہمیشہ تمہارا بڑا ہونے کا انتظار کیا تاکہ تم بہت سی چیزوں کو سمجھ سکو ۔ جان سکو کہ کبھی کبھی عورت کچھ ایسی تکلیف سے گزرتی ہے کہ وہ بڑی تکلیف”علیحدگی”کو قبول کرلیتی ہے۔ وہ خود سے پہلے اپنی اولاد کا ہی تو سوچتی ہے، اور یہ دعا کرتی ہے کہ اس کی اولاد ، ا سے سمجھنے کی کوشش کرے گی۔ کیا بروکن فیملی صرف بچوں کو ملتی ہے؟و ہ عورت جو نئے اور پرانے گھر کے درمیان پھنسی رہ گئی ہے وہ بروکن نہیں ہوتی؟وہ ٹوٹ پھوٹ نہیں جاتی؟ کیا دوسرے شوہر اور اولاد کے درمیان وہ نہیں پستی؟وہ نہیں کچلی جاتی؟کیا میرے روز و شب تمہیں یاد کرتے ہوئے نہیں گزرے؟”
” سارے حساب میں گڑ بڑ آپ نے کی ہے تو اس کا حاصل جمع بھی آپ اپنے کھاتے میں ہی رکھیں۔”
”سب بھگتنے کے لیے تیار ہوں میں، نہ ملو مجھ سے، مت اپناؤ مجھے، لیکن اپنی خوشی کا گلا نہ گھونٹو۔۔۔۔۔۔”
اس نے اپنی نم آنکھیں رگڑیں اور وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔خوشی کا گلا گھونٹ کر، محبت کا دم گھوٹ دیا تھا۔۔۔۔۔۔ا ب اور کیا بچا رہ گیا تھا۔عفت وہاں سے گئی نہیں تھیں، وہ چچا کا انتظار کر رہی تھیں۔ چچی نے بھی انہیں نہیں روکا تھا۔گھر میں دونوں بہنوں کی سرگوشیوں گونج رہی تھیں۔ چچی بہن کو گلے سے لگا کر، اس کی ہاں میں ہاں بھی ملا چکی تھیں۔وہ اسے ہمت دلا رہی تھیں کہ وہ اپنی بیٹی کی خوشیاں لے کر ہی جائیں۔ یہ ان کا حق بنتاہے کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے ہر حد سے گزر جائیں۔
چچا کے آتے ہی رات بھر گھر میں ہنگامہ ہوتا رہاتھا، لعن طعن کا ایک ایسا طوفان اٹھا تھا کہ در و دیوار ہل رہے تھے۔ چچا بہت غصے میں تھے۔ پھر وہ اس کے کمرے میں آئے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر عفت کے سامنے لے گئے۔
”تمہاری ماں، اپنے شوہر کے بھانجے کا رشتہ لے کر آئی ہے تمہارے لیے، کروں گی یہ شادی؟”
اس نے ماں کی طرف دیکھے بغیر صاف انکار کر دیا۔”نہیں۔۔۔۔۔۔”منہ سے اقرار بھی کیا۔
”یہ زوہان کو پسند کرتی ہے۔”چچی نے کہا تھا۔ آج وہ ڈر نہیں رہی تھیں۔چچا نے کھا جانے والی نظروںسے چچی کو گھورا۔ قمر اپنے باپ کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرر ہا تھا۔
”میں اسے پسند نہیں کرتی۔۔۔۔۔۔”اس نے سپاٹ انداز میں سب کو جتا دیا۔
”یہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔۔۔۔”چچی کی ہمت کی داد دینی پڑے گی۔
”جہاں چچا چاہیں گے وہیں میری شادی ہو گی۔۔۔۔۔۔”اس نے اطمینان سے کہا اور اپنے کمرے میں آگئی۔
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
چچا نے بہت جلدی کی تھی اس کے لیے پرپوزل ڈھونڈ لانے میں۔ وہ اس کا نکاح کر رہے تھے، رخصتی اسٹڈی کے بعد تھی ۔ زوہان کئی بار اس سے یونیورسٹی میں آکر مل چکا تھا۔اسے منانے کی کوشش کرر ہا تھا۔
”تم نے مجھے دھوکا دیا ہے۔۔۔۔۔۔تم جانتے تھے کہ میں کون ہوں۔”وہ چلا اٹھی تھی۔
”فورا نہیں لیکن بعد میں تمہیںجان گیا تھا۔۔۔۔۔۔دو دن شش و پنچ میں رہا اور پھر مامی کو کال کر کے تمہاری ایک تصویر منگوائی تھی۔ میں نے تمہیں مامی جی کے موبائل میں دیکھا تھا۔ تمہاری چچی انہیں تمہاری تصویریں بھیجتی تھیں۔ مامی جی بھی تمہارا ذکر کیا کرتی تھی۔ وہ تمہیں کتنا یاد کرتی تھیں، یہ ہم سب جانتے تھے۔ تمہیں پینی بنے ہوئے دیکھا تو بہت افسوس ہوا۔ مجھے سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ تم ایسی ہو نہیں، بلکہ بن چکی ہو۔۔۔۔۔۔تلخ ہو چکی ہو تم۔۔۔۔۔۔ شاید بروکن فیملی کی وجہ سے۔میں نے کچھ پلان نہیں کیا تھا،بدھا پسٹ میں، میں تم سے بس دوستی کرنا چاہتا تھا تاکہ تمہیں مامی جی سے ملوا سکوں۔۔۔۔۔۔محبت دھوکا نہیں تھی ارسلہ!کم سے کم میری محبت پر شک نہ کرو۔۔۔۔۔۔”
”اب میری جان چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔”
”ارسلہ معاف کرنا اور حقیقت کو قبول کرنا سیکھو۔۔۔۔۔۔”
”یہ کہنا آسان ہے کیونکہ تمہارے ساتھ یہ سب نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔”
”بچپن میں ماما کی ڈیتھ ہوگئی، پھر پاپا کی۔۔۔۔۔۔کیا میرے ساتھ ٹھیک ہوا؟کیا ہر انسان زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں محرومی کا شکار نہیں ہوتا؟کیا سب سکھی ہیں؟کیا کسی بھی انسان کو ایک بھی دکھ نہیں؟اگر تم نے مامی کے ساتھ اپنا تعلق ختم نہ کیا ہوتا تو آج تم اتنی تلخ نہ ہو چکی ہوتیں۔ تم پینی نہ بن چکی ہوتیں۔ تمہیں اپنی ماں کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی ارسلہ! تمہیں اس عورت کے دل کے درد محسوس کرنے چاہیے۔زوہا نے ہمیشہ اس بیٹی کے قصے سنے ہیں، جوماں کی پہلی اولاد تھی،لیکن ماں کو پسند نہیں کرتی تھی۔ تو کیا زوہا کی لائف میںکمی نہیں رہی؟اسے یہ شکایت نہیں ہو گی کہ ماں نے پہلی اولاد کو اتنا یاد کیا کہ ا سے بھول گئیں۔لیکن اس نے شکایت نہیں کی ، ماں کو گلے سے لگا لیا۔ارسلہ! دکھ سب کو ملتے ہیں، لیکن اچھے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنا دکھ بھول کر، دوسروں کے دکھ میں شریک ہو جاتے ہیں۔ تم اپنی ماں کے دکھ کو سمجھ کر، اسے کم کر دو۔ ماں کو گلے سے لگا لو۔ اگر دنیا میں کہیں اولاد نہیں ملتی تو ماں بھی نہیں ملتی ۔ مجھ سے پوچھو ماں کی قدر۔”
وہ جواب دیے بغیر گھر آگئی۔ جمعے کو اس کا نکاح تھا۔ قمر تک اسے سمجھانے آیا تھا۔
”تم بے وقوف ہو ارسلہ! زوہا ن کو پسند کرتی ہو، تو پھر تھوڑا سا دل بھی بڑا کرو۔”
”تم اپنے ہی باپ کے خلاف بول رہے ہو۔۔۔۔۔۔”
”کس نے کہا؟ میں صرف تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔ تائی جی اور تایا جی الگ ہو گئے۔ تائی جی نے تایا جی کو کوئی دھوکا نہیں دیا تھا۔ وہ گھر سے نہیں بھاگی تھیں۔ان کی تایا جی سے انڈرسٹینڈنگ نہیں ہو سکی تھی۔ تو ارسلہ !یہ سب کوئی ایسی انہونی باتیں تو نہیں ہیں کہ کسی انسان سے نفرت کی جائے۔تم چاہتی تھی کہ تمہاری ماں گھٹ گھٹ کر لائف گزاردیتیں لیکن تایا جی کے ساتھ ہی رہتیں؟تایا جی اچھے انسان تھے ، لیکن میاں بیوی کی نہیں بن سکی۔۔۔۔۔۔بس۔۔۔۔۔۔دونوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔۔۔۔ لیکن تم اپنی ماں سے الگ نہ ہو، ان سے اپنا تعلق بنا لو۔ہم سب نے ہمیشہ تمہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی لیکن تم نہیں مانیں۔رشتوں میں انا اور ضد نہیں رکھتے ارسلہ!ورنہ سب کچھ بکھر جاتاہے۔”
”ہر انسان میری ماں کی حمایت کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔تمہاری ماں بھی۔۔۔۔۔۔”اس نے طنز کیا۔
”یہی تو تمہارا مسلہ ہے کہ تمہیں لگتاہے کہ ہم ان کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں ہم تمہاری حمایت کر رہے ہیں۔تم ایک کی سزا کسی اور کو نہیں دے سکتی۔ زوہان اچھا لڑکا ہے۔ تم دونوں کی انڈر سٹینڈنگ بھی ہے۔۔۔۔۔۔ایسے خود کو سز ا نہ دو ارسلہ!ایسی سزائیں پھر سب کچھ برباد کردیتی ہیں۔ ساری عمر بھگتنی پڑتی ہیں۔”
سزا۔۔۔۔۔۔ماں کی سزا خود کو۔۔۔۔۔۔
محبت کی سزا۔۔۔۔۔۔زوہان کو۔۔۔۔۔۔
‘ایک بار میں عفت کے سامنے گئی تھی کہ یہ منگنی نہ توڑنا، میں مر جاؤں گی، اور وہ بے چاری میرا رونا نہیں دیکھ سکی تھی۔ ارسلہ! جمعے کو تمہارا نکاح ہے، ایسا نہ ہو کہ ایک اور ارسلہ کی کہانی شروع ہو جائے۔ تم نکاح کو نبھا نہ پاؤ، اور پھر ایک اور بچی ، تمہاری جگہ لے لے۔۔۔۔۔۔محبت میں اتنی گنجائش ضرور رکھنی چاہیے کہ وہ سو بار معاف کر سکے۔ ہزار بار درگزر کر سکے۔عفت نے تمہیں منانے کی ہر طرح سے کوشش کی لیکن تم نہیں مانی۔اب تمہیں زوہان سے محبت ہوئی ہے تو شاید تم سمجھ جاؤ، کہ محبت بے بس کر دیتی ہے۔۔۔۔۔۔اور عورت جب ماں بن جاتی ہے تو پھر ساری زندگی بے بس بنی رہتی ہے۔”چچی بتا رہی تھیں ۔ رو رو کر ان کی حالت خراب ہو چکی تھی۔
ہاں۔۔۔۔۔۔وہ کیسی بے بس تھی۔۔۔۔۔۔زوہان پر کتنا غصہ تھا لیکن۔۔۔۔۔۔وہ کیسے ہر روز، ہر رات، اس کے دائیں بائیں آجاتا تھا۔ اس کی کتنی آوازیں تھیں جو اس کے چار اطراف گونجتی تھیں۔کتنے چکر لگا چکا تھا وہ اس کی یونیورسٹی کے۔ گھر تک آچکا تھا۔ قمر نے اسے اندر بٹھایا تھا ۔چچا کتنا ناراض ہوئے تھے، اور وہ کمرے سے ہی باہر نہیں نکلی تھی۔کتنا ہنگامہ رہا تھا اس رات بھی۔ لیکن اسے زوہان کی جرات پسند آئی تھی۔وہ نہ صرف چچا کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا بلکہ ارسلہ کو خوش رکھنے کی ہر قسم کھا رہا تھا۔
جو محبت کرے۔۔۔۔۔۔وہ جرات بھی دکھائے۔۔۔۔۔۔
زوہان کہا کرتا تھا، اور وہ یہ جرات دکھا رہا تھا،لیکن وہ بزد ل ہوتی جا رہی تھی، وہ ماں کو اس لیے معاف کردیتی کہ اسے زوہان سے محبت ہے۔۔۔۔۔۔یعنی وہ اس محبت کو کسی تجار ت کی طرح طے کر لے۔۔۔۔۔۔
”ارسلہ۔۔۔۔۔۔”
اس کے کمرے کے دروازے پر کھڑی عفت، یک ٹک اس کے غمگین چہرے کو دیکھ رہی تھی۔ چچا گھر نہیں تھے اور چچی نے پھر سے انہیں گھر کے اندر آنے دیا تھا۔اس نے انہیں سر اٹھا کر دیکھا۔ اس بار وہ فورا نہیں بھڑکی تھی۔ بیڈ پر ہی چپ چاپ بیٹھی رہی تھی۔ وہ اس کے قریب آئیں اور اس کا ہاتھ محبت سے تھام کر اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔
”جب عور ت ماں بنتی ہے تو اس کا دل اولادمیں دھڑکتاہے۔۔۔۔۔۔میرا د ل بھی تم میں دھڑکتا رہا۔۔۔۔۔۔تمہاری سانس ،میری سانس رہی۔۔۔۔۔۔تمہاری حیات ہی میری حیات تھی۔۔۔۔۔۔تمہیں دور سے دیکھ کر، میری کتنی راتیں بے چین گزریں۔ میری آنکھیں نم رہیں، میرا دل آہیں بھرتا رہا۔ میں نے کتنی بار تم سے اسکول آکر ملنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔میری شکل دیکھنے کے بعد، تم بیمار ہو جاتی تھیں، تمہاری چچی نے میری منت کی کہ میں تم سے دور رہا کروں۔ تم حساس ہو۔۔۔۔۔۔یہ ملاقاتیں تمہیں بیمار کر رہی ہیں۔۔۔۔۔۔”
وہ چپ بیٹھی اپنی ماں کو شکوہ کناں نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ ان دنوں وہ سال کے بارہ مہینے بیمار رہا کرتی تھی۔ وہ اسکول کے باہر ان کو دیکھ کر پاگل ہو جاتی تھی، چیختی اور چلاتی تھی، اور ہر روز ان کا انتظار بھی کیا کرتی تھی کہ وہ وہاں کھڑی ہو ں گی۔ وہ اس وقت تک وہاں کھڑی ملیں گی جب تک وہ مان نہیں جائیں گی۔۔۔۔۔۔ جب تک وہ ان کے سینے سے جا کر نہیں لگ جا ئے گی۔۔۔۔۔۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔انہوں نے آنا چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔اتنی سی عمر میں بھی وہ تمسخر سے ہنس دی تھی کہ اس کی ماں کی محبت کی ہمت بس اتنی ہی تھی کہ وہ چار دن اس کے پیچھے نہیں آسکی تھیں۔ بیٹی کو منانے کے لیے، اپنا پورا زور نہیں لگا سکی تھیں۔۔۔۔۔۔
”محبت۔۔۔۔۔۔کیا یہ ریت پر لکھی تحریر ہے۔۔۔۔۔۔کہ ایک لہر آئے اور سب مٹا دے؟
ماں اس کا منہ چوم رہی تھی، وہ رو رہی تھیں جبکہ وہ بت بن کر چپ بیٹھی تھی۔ سب سے مشکل زندگی ویران دل کی زندگی ہوتی ہے۔ چیزوں کی کمی پوری ہو جاتی ہے، شفقت اور قدر کی کمی پوری نہیں ہوتی۔کتنی ہی دیر تک ماں باتیں کرتی رہیں اور چچا کے آنے سے پہلے چلی گئیں۔ وہ کمبل اوڑھ کر لیٹ گئی۔۔۔۔۔۔چچی نے جھانک کر دیکھا تو وہ بار بار کروٹیں بدل رہی تھی۔
”زوہان تم سے بات کرنا چاہتاہے۔۔۔۔۔۔مجھے کال کی ہے اس نے۔۔۔۔۔۔ایک بار بات کر لو ارسلہ، پلیز”
انہوں نے بتایا تو بھی وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوئی۔کیا دنیا کی کسی محبت میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ ماضی کے طوفانوں کا نشان مٹا سکے؟کیا کسی دل میں ایسی قوت نہیں کہ وہ کسی اور کے لیے دھڑکے اور پھر واپس اپنی دھڑکن پر نہ آسکے۔۔۔۔۔۔کبھی بھی نہ آسکے۔۔۔۔۔۔کسی اور کے لیے دھڑکے تو دوبارہ اپنے لیے نہ دھڑک سکے۔۔۔۔۔۔بس؟”
قمر اپنا موبائل اس کے پاس رکھ گیا تھا۔ زوہان ویڈیو کال پر تھا۔ اس نے فون اٹھا کرکہیں دے مارنا چاہا تھالیکن اس کی آواز۔۔۔۔۔۔محبت کا کلام۔۔۔۔۔۔وہ ہل نہیں سکی۔۔۔۔۔۔
”کیا محبت کی جنگ میں، ہار بھی محبت کی ہی ہو گی؟کیا شکو ے اور شکاتیں۔۔۔۔۔۔کیا ضد اور انائ۔۔۔۔۔۔محبت ان کاخاتمہ نہیں کر سکے گی؟”
وہ بول رہاتھا۔۔۔۔۔۔وہ سن رہی تھی۔۔۔۔۔۔موبائل سامنے میزپر گلدان کے سہارے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔اور وہ چل کر۔۔۔۔۔۔دوسری طرف جا کر کھڑی ہوگئی تھی تاکہ اسے دکھائی نہ دے سکے۔ وہ اس سے چھپ جانے کے تردد کر رہی تھی، جو آنکھیں بند کرنے پر بھی دکھائی دیتا تھا۔
”کیا چھپ جانے سے، الگ ہو جانے سے، محبت اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔اگر ایسا ہے تو یہ میرے ساتھ نہیں ہو گا۔ تم اپنے لیے کوئی بھی فیصلہ کر سکتی ہو۔۔۔۔۔۔لیکن تم میری محبت کے لیے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی۔ایسا کیسے ہو سکتاہے کہ جو ہاتھ میں نے پکڑ لیا تھا وہ چھوڑ دوں۔جو وعدے کیے تھے وہ بھول جاؤں؟ محبت کی یادداشت تو ان مٹ ہوتی ہے۔ تم چاہ کر بھی کوئی نقش نہیں مٹا سکتی۔ہاں!لیکن تم جانا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔تو بھی۔۔۔۔۔۔یہ ممکن نہیں کہ اپنا آپ مجھ سے جدا کروا سکو۔۔۔۔۔۔میں تم میں قید ہو چکا ہوں، اب تم مجھ سے الگ کیسے رہ سکتی ہو؟میرا شاید کچھ حصہ تمہارے پاس ہے۔۔۔۔۔۔لیکن تم پوری کی پوری میرے پاس ہو۔۔۔۔۔۔”
کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔۔۔۔۔۔کتنی ہی دیر تک خاموش رہا۔۔۔۔۔۔وہ موبائل کی سمت آئی۔۔۔۔۔۔ویڈیو کال بند ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔
اس کا دل بھی بند ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔و ہ رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
جس وقت قمر اسے بہانے سے واک کے لیے باہر لے کر گیا، اس وقت بھی وہ اپنی آنکھیں پونچھ رہی تھی۔ اس وقت بھی جس وقت اندھیرے سے نکل کر وہ سامنے آکر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔اور اس وقت بھی جب ۔۔۔۔۔۔جھک کر، ٹھوڑی کی طرف سے، وہ اوپر گالوں کی طرف پھونکیں مار رہا تھا۔۔۔۔۔۔اس کے آنسو اڑارہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت بھی آبدیدہ ہو رہی تھی جب اس کا نکاح ہو رہا تھا۔ جب وہ ماں کے گلے سے لگ چکی تھی، اور تب بھی جب وہ چچا سے معافی مانگ رہی تھی کہ وہ اسے معاف کر دیں کہ وہ ، وہ نہیں کر سکی جو وہ چاہتے تھے۔ وہ دل کو پھلانگ کر اناء اور ضدمیں نہیں کود سکی تھی۔ وہ انہیں سمجھا نہیں سکتی تھی کہ اس نے خود کو ڈوبنے سے بچا لیا تھا۔اس نے ماں کا انتظار کیا تھا کہ وہ اس وقت تک وہاں کھڑی رہیں جب تک وہ مان نہ جائے۔۔۔۔۔۔تب تک اس کے دل پر ضربیں لگاتی رہیں جب تک اس کا سخت دل ٹوٹ کر پھول نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔
اناء کی دلدل میں گرا یہ پتھر دل۔۔۔۔۔۔زوہان کی محبت کے کنول سے کھلا یہ دل۔۔۔۔۔۔خود غر ض اور غافل نہیں رہ سکا تھا۔۔۔۔۔۔
اور وہ۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔
اس وقت وہ مسکرا دی تھی جب سفید شلوار قمیص میں اس کے سامنے کھڑا زوہان انگلیوں کی پشت سے اس کے گال رگڑ رہا تھا۔۔۔۔۔۔اور بس اتنا کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
”میرا شاید کچھ حصہ تمہارے پاس ہے۔۔۔۔۔۔لیکن تم پوری کی پوری مجھ میں ہو۔۔۔۔۔۔”
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
The End
Sumaira Hameed

Advertisements