زیر نقاب 2____________________غضنفرکاظمی

دوسری قسط

ہم سکول کے زمانے کے تین دوست تھے جن میں شیخ قیوم انور سلطان اور رانا عبدالوحید اور میں شامل تھے۔ ہم میں قدر مشترک ایک تھی کہ ہم بغیر سوچے سمجھے خطرات میں چھلانگ لگا دیا کرتے تھے، ان دنوں قیوم ایک ٹینری میں بطور ٹینر ملازم تھا اور معقول آمدنی تھی میں ایک نجی ادارے میں بطور مینیجر کام کررہا تھا اور میری آمدنی بھی معقول تھی رانا اپنا کاروبار کرتاتھا اس کے والد کی گوالمنڈی میں جنرل سٹور تھا اور معقول آمدنی تھی۔ ایک روز بیٹھے بیٹھے ہم نے سوچا کہ کیا ہم کسی ایسی جگہ جہاں کوئی آشنا نہ ہو، بغیر کسی سفارش کے ملازمت حاصل کرسکتے ہیں یا نہیں، بس اس خیال کے آتے ہیں ہم نے طے کرلیا کہ ہم تینوں کراچی جائیں گے اور وہاں اپنے کسی عزیز رشتے دار سے رابطہ کئے بغیر پہلے ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے پھر کامیاب ہونے کے بعد اپنے رشتے داروں سے رابطہ کریں گے، یہ سوچ کر چند روز بعد

ہم عازم کراچی ہوئے، ہماری جیب میں کچھ رقم تھی ہم نے جاکر لالوکھیت نمبر دس میں ایک مکان کرائے پر لیا جس کا کرایہ پچاس روپے ماہانہ تھا لیکن وہ مکان کم اور خندق زیادہ تھا، تقریباً تین فٹ کی گلی تھی چھوٹی سی اس میں ایک وہ مکان تھا اور اس کے مقابل دوسرا مکان تھا اس میں پانی کی کوئی سہولت موجود نہ تھی البتہ دروازے کے ساتھ گلی میں ایک نلکا لگا ہوا تھا، ہم وہاں چند روز رہے پھر اس محلے میں مین بازار میں ایک مکان کرائے پر لیا جس کے گراﺅنڈ فلور پر ایک بیٹری بنانے کی فیکٹری تھی جب کہ پہلی منزل میں رہائش تھی جو ہم نے لی اس میں ایک ہال، ایک چھوٹا کمرہ، باورچی خانہ، غسل خانہ وغیرہ سب کچھ تھا اس کا کرایہ ایک سو روپے ماہانہ تھا، ہم نے تین ماہ کا کرایہ دیا اور وہاں رہنے لگے، وہیں محلے میں ایک ہوٹل تھا اس ہوٹل سے ہم کھانا کھانے لگے، ہم صبچ کا ناشتہ اور دوپہر و رات کا کھانا اسی ہوٹل میں کھاتے منصوبہ یہ تھا کہ اگر ملازمت ملنے میں تاخیر ہوئی اور ہمارے پاس موجود پیسے ختم ہوگئے تو اس ہوٹل سے ادھار شروع کردیں گے، ہم سارا دن ملازمت تلاش کرتے اور رات کو تھکے ہارے گھر لوٹ آتے، اس طرح دو ماہ گزر گئے اور ہمارے پاس موجود سرمایہ ختم ہوگیا پھر ایک رات ایسی بھی آئی کہ ہم ایک آنے کا ایک بند لے کر آئے اور اس کے تین حصے کرکے ایک ایک حصہ کھالیا اور سوگئے، صبح سو کر اٹھے تو رانا موجود نہیں تھا وہ ایک خط لکھ کر چھوڑ گیا تھا کہ وہ اپنے ماموں کے پاس جارہا ہے کچھ رقم لے کر آئے گا، ہمیں افسوس ہوا کہ رانا اپنے عہد پر قائم نہیں رہ سکا تھا کیونکہ ہمارا عہد تو یہ تھا کہ کسی عزیز رشتے دار کی مدد لئے بغیر اپنے بل بوتے پر ملازمت حاصل کریں گے۔

بہرحال ہمارے پیٹ میں چوہے کود رہے تھے ہم اسی ہوٹل پر گئے اور دو دو پراٹھے اور چائے پی کر ناشتہ کیا اور ہوٹل والے سے ماہانہ حساب کا کہا لیکن اس نے انکار کردیا تو اس کو کہا کہ شام کو آکر پیسے دے دیں گے اور ساتھ ہی باہر سروس دینے والے بیرے کو یہ بھی کہا کہ ہم گھر میں کھانے کو منگائیںتو اگر ہمارے پاس مہمان ہوں تو پیسے نہ مانگنا یہ کہہ کر ہم ملازمت کی تلاش میں چلے گئے۔ وہاں سے ہم سوسائیٹی کے علاقے میں مختلف دفاتر میں دھکے کھاتے کھاتے یونیورسل بیوریجز کے دفتر پہنچے یہ کراچی میں شیزان کی فیکٹری تھی، وہاں قیوم نے اپنے لئے بات کی ہم براہ راست ایم ڈی کے پاس گئے تھے، ایم ڈی احمد جان جے راجپوت تھے انہوں نے قیوم کی شکل دیکھتے ہوئے ٹالنے کی غرض سے کہا کہ ان کو ایسے لڑکے کی ضرورت ہے جو ٹائپ بھی جانتا ہو لیکن چونکہ قیوم کو ٹائپ نہیں آتی اس لئے مجبوری ہے، یہ سن کر قیوم نے فوری کہا کہ سر یہ میران دوست ہے یہ ٹائپ جانتا ہے، یہ سن کر انہوں نے میری جانب دیکھا تو میں نے سر ہلادیا، انہوں نے گھنٹی بجاکر اپنے پی اے کو بلایا اور اس سے کہا کہ ان صاحب کا ٹائپ کا ٹیسٹ لے لو، پھر انہوں نے ہمیں جانے کا اشارہ کیا ہم اٹھ کر اس کے ساتھ اس کے کمرے میں گئے جہاں انہوں نے مجھے ایک ٹائپ مشین پر بٹھادیا اور ایک ٹائپ شدہ خط دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹائپ کروں، اس وقت قیوم نے اس کو کہا کہ دیکھو میاں تم فیملی والے ہو، ہم یہاں چھڑے چھانٹ ہیں، ہوسکتا ہے میرے دوست کاظمی کی ٹائپنگ سپیڈ اتنی نہ ہو جتنی تمہیں ضرورت ہے لیکن تم اس کی بہترین رپورٹ دو گے اگر اس کو آج یہاں ملازمت نہ ملی تو تمہاری خیر نہیں، میں نے ٹیسٹ دیا میری رفتار معقول تھی جب ایم ڈی کو یہ رپورٹ ملی تو انہوں نے مجھے فیکٹری جانے کو کہا، ہم وہاں سے فیڈرل بی ایریا میں شیزان کی فیکٹری چلے گئے وہاں جاکر فیکٹری مینیجر سے ملاقات ہوئی انہوں نے مجھے کہا کہ ابھی وہاں ٹائپ رائٹر نہیں ہے میں انتظار کروں جلد ہی ٹائپ رائٹر آجائے گا اس دوران قیوم جو ٹینر ہونے کی وجہ سے کمیکلز کا ماہر تھا اس نے فیکٹری مینیجر سے پوچھا کہ وہ بوتلیں دھونے کے لئے کون سا ایجنٹ استعمال کرتے ہیں انہوں نے جو جواب دیا وہ سن کر قیوم نے کہا کہ نہیں سر یہ تو بہت مہنگا ہے آپ سوڈا ایش کیوں استعمال نہیں کرتے یہ سستا بھی ہے اور صفائی بھی اچھی کرتا ہے، یہ سن کر فیکٹری مینیجر سوچ میں پڑ گئے اور کہنے لگے کہ یہ مضر صحت نہیں ہوگا؟ قیوم نے فوری کہا کہ نہیں سر میں یہ استعمال کرتا رہا ہوں، پھر کہنے لگا سر آپ مجھے اپنا سیکرٹری رکھ لیں میں ایسے بہت سے کام آسانی سے اور سستے کردوں گا، انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی جگہ نہیں ہے لیکن جلد ہی وہ جگہ بنالیں گے اور مجھے بتادیں گے پھر قیوم آجائے یہ سن کر قیوم نے وعدہ لیا کہ وہ جلد اس کی جگہ بنالیں گے پھر قیوم گھر چلا گیا اور میں وہیں بیٹھا رہا میرا خیال تھا کہ شائد تھوڑی دیر میں ٹائپ رائٹر آجائے لیکن ٹائپ رائٹر کئی دن نہ آیا میں صبح سے شام تک بے کار بیٹھا رہتا یا فائلیں بناتا رہتا، میں نے فیکٹری کی کنٹین میں حساب کھول لیا تھا قیوم دوپہر کو آجاتا ہم وہاں کھانا کھاتے اور رات کا کھانا میں پارسل بنوالیتا اور ساتھ لے جاتا۔ ہمارے پاس پیسے تو ختم ہوچکے تھے میں فیکٹری ایریا سے لالوکھیت تقریبادس میل پیدل آتا جاتا اور رات کو قیوم دو تین گھنٹے میری ٹانگیں دباتا رہتا آخر ایک روز فیکٹری مینیجر نے مجھے قیوم کو بلانے کو کہا اور اگلے روز سے ہم دونوں وہاں ملازم ہوگئے قیوم سیکرٹری تو فیکٹری مینیجر اور پی اے ٹو ایم ڈی تھا اس طرح اس پورے نظام پر ہم چھا گئے۔ اس دوران ایک دلچسپ واقعہ ہوا …. ہوا یوں کہ جب پیسے ختم ہوگئے اور ہمارے پاس بس میں کرایہ دینے کے لئے بیس پیسے بھی نہ رہے تو ہم دونوں گھر سے باہر نکلے اور مین روڈ پر آگئے، وہاں ایک لڑکے کوروک کر قیوم نے اس کو سلام کیا جب اس نے جواب دے دیا تو قیوم کہنے لگا، ”بھائی تمہارے جیب میں یہ ٹوٹی چونی نظر آرہی ہے،“ اس نے کہاں کہ ہاں ہے تو؟ قیوم کہنے لگا ”تو یہ وہ ہمیں دے دو، اس نے جیب سے چونی نکال کر قیوم کو پکڑادی، چونی لے کر قیوم بولا، ”بس بھائی ٹھیک ہے بہت بہت شکریہ، پھر ہم کسی دوسرے لڑکے کو ڈھونڈنے لگے، پھر ایک دوسرا لڑکا نظر آیا جو صورت سے بے وقوف نظر آرہا تھا، قیوم نے اس کو روک کر اس سے بھی وہی باتیں کیں اور جب چونی مانگی تو وہ لڑکا کہنے لگا ”میں نہیں دوں گا “ یہ سن کر قیوم مجھ سے مخاطب ہوتا ہوا بولا، ”کاظمی جھوٹے تم تو کہہ رہے تھے کہ یہ دے دے گا“ میں نے فوری کہا کہ ہاں دے دے گا انکار تو ویسے ہی کیا ہے،پھر اس سے کہا کہ بھائی دے دو چونی اس کے منہ پر مارو“ یہ سن کر اس نے چونی نکالی اور قیوم کو پکڑا دی جب وہ چلاگیا تو ہم ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئے اور قیوم کہنے لگا، ” یار لعنت ہے ہم پر اب یہ وقت بھی آنا تھا کہ ہم بھکاری بن کر فیکٹر کا کرایہ لیں، اس کے بعد ہم نے ایسا نہیں کیا بلکہ میں پیدل آنے جانے لگا۔

اس دوران ایک اور یادگار واقعہ پیش آیا ہوا یوں کہ میرے ساتھ پنجاب سے آئے ہوئے کئی لڑکے کام کررہے تھے ان میں ایک مظفر تھا جو اچھرہ کا رہنے والاتھا، جب اس سے تعارف ہوا تو میں نے اس کو یہ بھی بتایا کہ ہم کراچی کیسے آئے تھے، اس کو قیوم سے ملنے کا اشتیاق ہوا اتفاق سے یہ مہینے کا آخر تھا اور وہ دن تھے جب ہمارے پاس کرائے کے بھی پیسے نہ تھے، ایسے میں مظفر نے میرے ساتھ گھر چلنے کی فرمائش کردی اس کا کہنا تھا کہ شام کو اس کو ساتھ لے جاکر گھر بھی دکھادوں اور قیوم سے بھی ملادوں میں نے حامی بھرلی لیکن میرے پاس تو اپنا کرایہ بھی نہیں تھا اس کو کیسے لے جاتا اس لئے شام کو میں چھپ چھپا کر فیکٹری سے نکل گیا اور پھر پیدل گھر کی جانب روانہ ہوگیا ایسے ہی تین دن چلتا رہا، جب مظفر مجھ سے شکایت کرتا کہ میں لے کرنہیں گیا تو میں الٹا اس پر چڑھائی کردیتا کہ میں تو بس سٹاپ پر کافی دیر تک کھڑا اس کا انتظار کرتا رہا تھا،بہرحال چوتھے روز وہ مجھے سے پہلے گیٹ کیپر کے کمرے میں بیٹھ گیا میں حسب معمول چوری چوری ادھر ادھر دیکھتا ہوا دفتر سے نکلنے کی کوشش کررہا تھا جب گیٹ کیپر کے کمرے کے پاس سے گزرا تو مظفر نے مجھے دیکھ لیا اور میں چونکہ چوری چوری ادھر ادھر دیکھتا ہوا جارہا تھا وہ نہ جانے کیا سمجھا وہ بھی اٹھ کرخاموشی سے میرا تعاقب کرنے لگا اور جب فیکٹری سے کافی دور آگیا تو اس نے پیچھے سے آواز دی میں نے سر گھما کر دیکھا اور اس کو دیکھ کر سٹپٹا گیا کہ اب کیسے لے کرجاﺅں گا بہرحال اب فرار کا کوئی راستہ نہ تھا میں اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا اس نے شکایت کی کہ میں چوری چوری چھپ چھپ کر کیوں جارہا تھا۔ میں نے اس کا سوال نظر انداز کرتے ہوئے اس سے پوچھا کہ کیا اس کے پاس کرایہ ہے اس نے اثبات میں جواب دیا تو میں خاموشی سے اس کے ساتھ چل دیا، گھر لاکر قیوم سے اس کا تعارف کرایا، وہ کافی دیر بیٹھا رہا اس دوران قیوم جاکر ہوٹل میں باہر والے کو آرڈر دے آیا جب رات کی تاریکی پھیلنے لگی تو مظفر نے چلنے کا کہا لیکن قیوم نے روک کرکہا کہ یار اب کھانا کھا کرجانا، یہ سن کر میں نے حیرت سے قیوم کی طرف

دیکھا اس نے مجھے آنکھ مار کراشارہ کیا اور پھر تھوڑی دیر میں بیرا کھانا لے آیا ہم نے مل کر کھانا کھایا، کھانے کے بعد مظفر چلا گیا اس کے جاتے ہی قیوم تیزی سے اٹھتا ہوا بولا، ”کاظمی جلدی اٹھ جا ورنہ بیرا برتن لینے آئے گا تو پیسے بھی مانگے گا“، یہ سن کر میں بھی اٹھ گیا، ہوٹل کے برتن دروازے کے باہر رکھے اور تالا لگا کر ہم نکل گئے، کافی دیر سڑکوں پر مٹر گشت کرتے رہے جب رات گہری ہوگئی تو ہم گھر آئے۔ بیرا برتن لے جاچکا تھا، ہم نے رات گزاری اور اگلے دن صبح صبح بیدار ہوکر گھر سے نکل گئے کہ بیرا نہ آجائے۔ شکر یہ ہوا کہ اسی روز شام کو مجھے تنخواہ مل گئی میری پہلی تنخواہ پانچ سو روپے تھی، تنخواہ لے کر میں نواب بن گیا، میری خود اعتمادی لوٹ آئی اور میں دفتر سے سیدھا ہوٹل پہنچا وہاں جاکر حساب کرکے اس کی ادائیگی کی اور اس کو کہہ دیا کہ ہر روز صبح کا ناشتہ دو پراٹھے اور چائے دوپہر کو قیوم کے لئے کھانا اور پھر رات کو ہم دونوں کا کھانا بھجوادیا کرے، یہ تمام کام کرکے میں گھر گیا تو قیوم پریشان بیٹھا تھا کیونکہ مجھے معمول سے زیادہ دیر ہوگئی تھی ۔ بہرحال اس کے چند روز بعد قیوم کو بھی فیکٹری میں ہی کام مل گیا اور ہم دونوں اکٹھے آنے جانے لگے، بعد میں میں نے مظفر کو بتایا کہ میں اس کو گھر لے جانے سے کیوں کترا رہا تھا کہ میں تو خود پیدل گھر جاتا تھا اس کو کیسے بتاتا، تب میں نے پوچھا کہ جب میں نے اس سے کرائے کے بارے میں سوال کیا تو وہ کیا سمجھا تھا ہمارے بارے میں؟ اس نے کہا کہ وہ سمجھا تھا کہ ہم فراڈ ہیں جو دوسروں سے پیسے ٹھگتے ہیں لیکن جب اپنے گھر اس کی خاطر مدارت کی اور کھانا کھلایا تو وہ کنفیوز ہوگیا تھا کہ ہم کھاﺅ بھی نہیں تھے پھر کرایہ کیوں اس سے دلایا، بہرحال ہم نے ان دنوں کراچی میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں کو شیزان کے حوالے سے خوب عیش کرائی ہمیں مہینے کے چار کریٹ لینے کی اجازت تھی ہم وہ کریٹ اپنے عزیزوں کے گھر پہنچاتے اور اس کے بدلے ہم جب بھی ان کے گھر جاتے تو ہماری خوب آﺅ بھگت کرتے، اور کھانا کھائے بغیر نہیں آنے دیتے تھے۔

بہرحال میں وہاں تقریباً ایک سال کام کرتا رہا اس کے بعد مجھے جواب مل گیا تو میں واپس لاہور آگیا جبکہ قیوم کی ملازمت چل رہی تھی اس لئے وہ ہیں رہا۔ تاہور آکرمیں فخر بھائی جان سے ملا جو پارک لگژری ہوٹل میں ریسپشن مینیجر تھے، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں کیا کررہا ہوں اور جب میں نے بتایا کہ ابھی کچھ نہیں کررہا تو انہوں نے مجھے ہوٹل بلوایا اور پھر وہاں ملازمت دلادی۔ وہاں میں نے بل کرک، اکاﺅنٹس، کیشئر اور ریسیپشنسٹ کا کام سیکھا اور کچھ عرصے بعد مستقل بنیادوں پر استقبالیہ پر ڈیوٹی لگ گئی۔ وہاں ہم نے بہت عیش کی ریسپ شنسٹ، کیشیئر اور بل کلرک مل کر کمائی کرتے تھے ہمیں تنخواہوں کی فکر نہ ہوتی اور اس زمانے میں جب ماہانہ تنخواہ پانچ سو روپے سے زیادہ نہ تھی ہم چار سے پانچ روپے روز آنہ کماتے تھے، وہ عرصہ بہت عیش میں گزرا اور لطف کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ جنرل مینیجر اور مالک کو معلوم تھا کہ ہم روزآنہ کتنی کمائی کرتے ہیں کیونکہ اس دوران میرا رشتہ آیا تو میرے ایک عز یز نے ہوٹل آکر معلوم کیا کہ میرا کردار کیسا ہے اور تنخواہ کیا ہے تو مالک نے بتایا کہ بے فکر رہو تنخواہ تو پانچ سو روپے ہے لیکن وہ اتنی رقم روز کماتا ہے، ہم پھنے خاں بن کر سمجھتے تھے کہ بہت چالاک ہیں اور اتنی ہوشیاری سے کماتے ہیں کہ مالک کو بھنک بھی نہیں ملتی جب میرے اس عزیز نے مجھے بتایا تو میری ساری ہیکڑی نکل گئی۔ انہی دنوں ایک واقعہ ہوا کہ محرم کا مہینہ تھا میری ڈیوٹی صبح آٹھ سے شام چار بجے تک تھی، میں علی الصبح گھر سے نکل آیا لیکن چونکہ ابھی خاصا وقت تھا اس لئے رشی بھون کے علاقے میں ایک جگہ مجلس ہورہی تھی جہاں حافظ شمشاد مجلس پڑھ رہے تھے میں وہاں مجلس سننے کی غرض سے گیا۔ مولانا نے حرام و حلال کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ قیامت کے روز سب کو ماں کے نام سے اس لئے نہیں اٹھایا جائے گاکہ حضرت عیسیؑ کے والد نہیں تھے، اگر ایسا ہوتا تو پھر حضرت آدمؑ کی تو والدہ بھی نہیں تھیں، انہوں نے بتایا کہ ایسا اس لئے ہوگا کہ قیامت کے روز بیشتر تعداد حرامیوں کی ہوگی اور حرامی صرف کنواری لڑکی کے ماں بننے سے ہی نہیں بلکہ رزق حرام پر پروان چڑھنے والے بچے بھی حرامی ہی ہوجاتے ہیں۔ یہ درست تھا یا نہیں اس بحث سے الگ میں نے فیصلہ کرلیا کہ اب حرام نہیں کھاﺅں گا اور پھر اس کے بعد حرام نہیں کھایا۔

پھر 28 جنوری 1971 ءکو میری شادی ہوگئی، میری بیوی شگفتہ معصوم بچی تھی لطف کی بات یہ ہے کہ جس روز میری شادی ہوئی میری بیوی اسی دن بالغ ہوئی تھی، ہم دونوں چونکہ کم عمر تھے اس لئے ہماری چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی ہوتی، اور پھر میری امی یا بڑی خالہ جنہیں میں اماں کہتا تھا، ہماری صلح کراتیں اور لڑائی ان باتوں پر ہوتی کہ میں ہوٹل سے واپسی پر آم لے آتا تو شگفتہ کہتی کہ اس کا تو مالٹے کھانے کا موڈ تھا اور میں غصے میں آکر آم پھینک دیتا پھر میری امی یا اماں وہ اٹھا کر جمع کرکے لاتیں اور ہم دونوں کو سینے سے لگا کر پیار کرتیں اور نصیحت کرتیں کہ پھل بھی اللہ کی نعمت ہیں ان کو اس طرح پھینکنا نعمت کی توہین ہے، پھر وہ میری بیوی سے کہتیں کہ اگر تمہارا کچھ اور کھانے کا دل کررہا ہے تو اس وقت خاموش رہو جب کھانا وغیرہ کھالے تو تم فرمائش کردیا کرو کہ یہ بھی لادو، اس طرح ہماری زندگی گزرتی رہے، پھر ہم ہنی مون منانے واہ چلے گئے جہاں نزہت بھائی جان کے ایس بی پمپس کمپنی حس ابندال میں مینیجر اکاﺅنٹس تھے اور رہائش واہ میں رکھی ہوئی تھی، وہاں ہم کئی روز رہے پھر مری چلے گئے جہاں میرے تایا زاد بھائی انعام فارسٹ آفیسر تھے، ان کے گھر گئے پھر مری، نتھیا گلی اور گھوڑا گلی وغیرہ کی خوب سیر کی، مزے کی بات کہ ہم مارچ کے مہینے میں گئے تھے اس لئے ٹھنڈے کپڑے لے کر گئے لیکن وہاں بارش ہونے سے اتنی سردی ہوگئی کہ دانت سے دانت بجنے لگے پھر بھابی نے اپنے شوہر کے سویٹر نکال کر مجھے دئیے اور شگفتہ کو اپنے سویٹر دئیے۔ بہرحال جب دل بھر گیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب چھٹی ختم ہونے لگی تو ہم نے واپسی کا سفر شروع کیا اور راستے میںجہلم رکے جہاں حسن بھائی جان ابھی تک مقیم تھے اور گورنمنٹ کالج میں ہی پروفیسر تھے، ہم ایک رات وہاں رہے اور اگلے روز لاہور آگئے جس کے بعد میری مشینی زندگی شروع ہوگئی کہ دفتر اور گھر۔ ہاں ایک اور لطیفہ یاد آگیا شادی کی صبح جس دن ولیمہ تھا اس رات باتیں کرتے کرتے میں نے شگفتہ سے پوچھا کہ اس کو فلمیں کون سی پسند ہیں تو اس نے بتایا کہ اس کے کبھی فلم نہیں دیکھی، میں بہت حیران ہوا میں نے کہا کہ کوئی بات نہیں میں صبع ہی اس کو فلم دکھادوں گا اور ولیمہ دوپہر کا تھا اسی روز میں امی جان سے بتا کے شگفتہ کو لے کر میکلوڈ روڈ چلا گیا اب یاد نہیں کہ کون سے سنیما میں کون سی فلم دیکھی تھی بہرحال گھر میں امی جان نے کسی کو یہ نہیں بتایا کہ ہم فلم دیکھنے گئے ہیں بلکہ انہوں نے کہا کہ میری سالی کراچی سے آئی ہوئی تھی اس کی واپسی تھی ہم ان کو الوداع کہنے سٹیشن پر گئے ہیں اور تھوڑی دیر میں آجائیں گے لیکن میرے دوستوں قیوم اور فیضان نے یقین نہیں کیا کہ میں کبھی کسی کو الوداع کہنے نہیں جاتا، وہ سوچ سوچ کر اسی سنیما میں آگئے جہاں میں لائن میں ٹکٹ لینے کے لئے لگا ہوا تھا، وہاں آکر قیوم نے آواز دے کر کہا، ” کاظمی جب کراچی کی ٹرین چلی جائے تو میرے پاس آنا“، میں نے آواز سن کر دیکھا تو سامنے قیوم اور فیضان کھڑے مسکرارہے تھے، بہرحال وہ دن بہت خوش گوار گزرے۔ شگفتہ ماں بننے والی تھی شائد چھٹا یا ساتواں مہینہ تھا جب بھارت سے جنگ شروع ہوگئی ہم بھاٹی کے باہر شیش محل روڈ پر ایک گھر میں پہلی منزل پر رہتے تھے جبکہ نیچے گراﺅنڈ فلور پر میرے ابا کے ایک دوست کی فیملی تھی، جب بھارت کے جہاز حملے کے لئے آتے اور سائرن بجتے تو ہم چھت پر چلے جاتے، ایک دن ہم چھت پر ہی بیٹھے دھوب سینک رہے تھے شگفتہ حاجت رفع کرنے لیٹرین میں تھی کہ خطرے کے سائرن بجنے لگے، امی جان جلدی جلدی شگفتہ کو بلاتے ہوئے مجھے لے سیڑھیوں کی جانب بڑھیں، ایسے وقت میں ہم سیڑھیوں میں ہی پناہ لیتے کیونکہ کہتے ہیں کہ پورا مکان گرجائے لیکن سیڑھیاں نہیں گرتیں، امی جان شگفتہ کو جلدی جلدی بلا رہی تھیں او رشگفتہ ایک ہاتھ میں ازار بند تھامے آئی اس وقت تو ہم پریشانی میں تھے لیکن بعد میں اس وقت کو یاد کرکے ہم بہت ہنستے تھے۔

یہاں ستمیر 65 ءکی جنگ کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوتا۔ ہوا یوں کہ 6 ستمبر کو امی جان نے مجھے چھوٹی خالہ ممتو باجی کی طرف کسی کام سے جانے کا کہا، خالہ کا نام ممتاز تھا جبکہ سب پیار سے ممتو کہتے تھے اور میں ان کو ممتو باجی کہا کرتا تھا، امی جان نے مجھے کرائے کے پیسے دئیے ان دنوں ضلع کچہری سے کرشن نگر آخری بس سٹاپ کے تیرہ پیسے اور سیکرٹریٹ سے سات پیسے لگتے تھے۔ میں پیسے بچانے کی غرض سے سیکرٹری ایٹ تک

پیدل جاتا گھر سے نکل کر بھاٹی چوک میں پہنچا تو ریڑھوں پر لوگوں کو آتے دیکھا، لوگ کہہ رہے تھے کہ بھارت نے حملہ کردیا ہے اور جلو تک بمباری ہوئی ہے جہاں ان لوگوں کے گھر تھے یہ لوگ وہاں سے نکل کریہاں آگئے ہیں میں یہ سب سنتاہوا چلتا رہا ابھی گورنمنٹ کالج کے ساتھ تھا کہ پہلے جہازوں کی خوف ناک آوازیں آئیں پھر ساتھ ہی دو زوز دار دھماکے ہوئے ،میں سکول کے زمانے میں سکاﺅٹ ٹروپ لیڈر رہا تھا اور 1962ءکی ورلڈ جیمبوری میں والٹن میں شریک ہوا تھا، دھماکہ سنتے ہی میرے اندر کا سکاوئٹ بیدار ہوا اور میں زور سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہوا سڑک پر لیٹ گیا اور لیٹ کر بھی لوگوں کو لیٹنے کا کہتا رہا، میری دیکھا دیکھی کافی لوگ لیٹ گئے اور جب کافی دیر کچھ نہ ہوا توہم اٹھے اور میں اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگیا۔

ستمبر 65ءکی جنگ کے دوران ہم محلے کے جوان لڑکے ہاتھوں میں ڈنڈے لئے ساری رات گلی محلوں میں نگرانی کرتے اور دیکھتے کہ کہیں بھارتی پیرا ٹروپرز تو نہیں آئے یا ایجنٹ تو کہیں کام نہیں کررہے، نیز ساتھ ہی ہم اہل محلہ سے بلیک آﺅٹ پر مکمل طریقے سے عمل کراتے، کہیں کوئی روشنی دیکھتے تو فوری وہاں پہنچ کر ان سے مکمل اندھیرا کرنے کو کہتے۔ جب جنگ کو ایک ہفتے سے زائد کا وقت گزر گیا تو میں فوج میں بھرتی ہونے کے لئے فوج کے رکروٹنگ دفتر چھاﺅنی گیا ۔ وہاں فوج میں بھرتی ہونے کے خواہش مند افراد کی قطاریں لگی ہوئی تھیں جن میں میاں والی اور صوبہ سرحد کے سات فٹ سے بھی زیادہ بلند قامت نوجوان کھڑے تھے میں ان کے بیچ بالکل بچہ سا لگ رہا تھا، انٹرویو لینے والے کیپٹن نے میری جانب دیکھا اور کہا کہ جاﺅ بیٹا ابھی جاکر تعلیم حاصل کرو تعلیم مکمل کر کے پھر آنا۔ وہاں سے مایوس ہوکر میں الحمرا چلا گیا جہاں نوجوانوں کو فرسٹ ایڈ کا ہنگامی سیشن جاری تھا یہ دیکھ کر فیضان نے اور میں نے اس کورس میں داخلہ لے لیا اور سرحد پر میدان جنگ میں زخمی ہونے والوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے طریقے سیکھے۔ اس دوران ہم نے لاہور کی فضاﺅں میں بمباری کے لئے آنے والے بھارتی جنگی طیاروں کی آمد اور پاک وطن کے شاہینوں کو ان پر جھپٹتے ، پلٹتے اور پلٹ کر جھپٹے، پھر ان کو تباہ ہوتے دیکھ کر ” آئی بو کاٹا“ کے نعرے بھی لگائے، وہ سترہ روزہ جنگ یادگار رہی لیکن اس کے بعد طویل عرصہ بلیک آﺅٹ رہا رات کو پورا گھر تاریکی میں ڈوبا رہتا اور پھر وہ دن بھی یاد ہے جس دن بلیک آﺅٹ ختم ہوا اس رات میں نے گھر کے تمام بلب روشن کردئیے، اس روز احساس ہوا کہ روشنی زندگی کے لئے کتنی اہمیت کی حامل ہے۔

بہرحال یہ دن پلک جھپکتے گزر گئے پھر وہ دن بھی آیا جب میری بیوی شگفتہ پہلے بچے کو جنم دینے لیڈی ایچیسن ہسپتال میں داخل ہوئی مجھے یاد ہے اس رات حسن رضوی مرحوم میرے ساتھ تھا ہم تمام رات لیڈی ایچیسن ہسپتال کے باہر گندے نالے پر پڑے لکڑی کے پھٹے پر لیٹے رہے 29 اپریل کی صبح علی الصبح موسیٰ رضا کی پیدائش ہوئی، اس دوران امی جان اور شبر بھائی جان ہسپتال آگئے اور مجھے گھر جاکر آرام کرنے کا مشورہ دیا۔ پھر دوسرے دن شگفتہ کو ہسپتال سے فارغ کردیا گیا اور وہ موسی کے ساتھ گھر آگئی، وہ دن بھی دیکھنے والا تھا، میں اندر ہی اندر پھولا نہیں سمارہا تھا، خوش کا وہ عالم تھا کہ بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں مل رہے ، بس عجیب سی کیفیت تھی ۔ باپ بننے کا نشہ ہی اور ہوتا ہے، میں ان دنوں آواری ہوٹل میں ریسیپ شنسٹ کے طور پر کام کرتا تھا لیکن موسی کی پیدائش سے تقریباً چار ماہ قبل ہمیں فارغ کردیا گیا کیونکہ پارک لگژری ہوٹل کو گرا کر وہاں پر ہلٹن ہوٹل کی تعمیر شروع ہونا تھی، ہوٹل کو مسمار کرنے کا کام تو کئی ماہ سے جاری تھا، بہرحال ہوٹل سے فارغ ہوا تو فخر بھائی جان نے مجھے اس کمپنی میں بطور پی اے ٹو چیف انجینئر کام دلادیا جو ہلٹن ہوٹل کی تعمیر کا ٹھیکہ لے کر آئی تھی یہ ایک انگلش کمپنی تھی جو میکڈانلڈ لیٹن کاسٹین کے نام سے کام کرتی تھی۔ اس کمپنی نے آواری ہوٹل کی زمین پر ہی چند کمرے تعمیر کرکے اپنے دفاتر قائم کئے ان میں سے ایک کمرے میں کمپنی کا اکاﺅنٹنٹ اور میں بیٹھتے تھے، میرے پاس وہاں کرنے کا کوئی کام نہیں تھا ماسوائے اس کے کہ میں تعمیری میٹیریل پر نظر رکھوں کہ وہ معاہدے میں طے کی گئی شرائط کے مطابق استعمال ہورہا ہے یا نہیں، جب میں بیٹھا بیٹھا تھک جاتا تو کمرے سے باہر آجاتا اور وہاں پڑے ریت میں ہاتھ ڈال کر ہاتھ پر ریت رکھتا اور پھر ہاتھ بلند کرلیتا اس طرح انگلیوں کی ریخوں سے ریت پھسلتا ہوا نیچے تو انگلیوں کے درمیان ہلکی سی گدگدی سی محسوس ہوتی، اس میں بہت مزا آتا، یہ لارنس پور ریت ہوتا تھا، واضح رہے کہ لارنس پور ریت میں مٹی کی ملاوٹ نہیں ہوتی بلکہ ریت کے ریزے ہوتے ہیں، اور راوی ریت کی نسبت لارنس پور ریت کئی گُنا مہنگا بھی ہے کیونکہ راوی کی ریت میں پچاس فیصد سے زائد مٹی ہوتی ہے، بہرحال ایک روز میں اسی کھیل میں مصروف تھا، میرے ہاتھ میں اٹھائی ہوئی ریت گر گئی لیکن مٹی کی ڈھیلی ہاتھ میں رہ گئی، میں حیران ہوکر دیکھنے لگا کیونکہ لارنس پور ریت کی صفت ہی یہ تھی کہ اس میں مٹی نہیں ہوتی میں نے جاکر فخر بھائی جان کو وہ مٹی کی ڈھیلی دکھائی، انہوں نے مجھے کہا کہ ریت کے ٹرک رات کو آتے ہیں میں ان پر نظر رکھوں۔ میں نے ایسا ہی کیا رات کو راوی کے پُل پر کھڑا ہوگیا تقریبا گیارہ بجے ٹرک وہاں آئی اور بجائے سیدھا سڑک پر جانے کے وہ راوی دریا کی سمت مڑ گئے میں حیرانی سے ان کو دیکھتا رہا پھر خود بھی ان کا پیچھا کرتے ہوئے راوی پر پہنچا وہاں دیکھا کہ کئی خالی ٹرک بھی کھڑے تھے اور مزدور لارنس پور ریت ٹرکوں سے اتار کر خالی ٹرکوں میں بھر رہے تھے جن میں پہلے سے راوی ریت بھری ہوئی تھی، اس طرح انہوں نے لارنس پور کے دس ٹرکوں میں راوی کی ریت ملاکر ان کی تعداد دو گنا کردی یعنی دس کے بیس ٹرک ہوگئے۔ میں وہاں سے سیدھا فلیٹیز ہوٹل گیا جہاں ہلٹن ہوٹل کے پراجیکٹ کے چیف انجینئر کی عارضی رہائش تھی، جو کراچی سے یہاں بھیجے گئے تھے، میں نے ان کو اٹھایا وہ حیرانی سے پوچتے رہے کہ کیامسئلہ ہے لیکن میں نے وہاں انہیں کچھ نہیں بتایا اور یہی کہتا رہا کہ آپ آئیں تو سہی میں آپ کو چور پکڑواتا ہوں۔ وہاں سے ہم ہوٹل پہنچے جو صرف ایک سڑک عبور کرکے تھا، جب وہاں ریت کے ٹرک پہنچے تو میں نے اپنے چوکیدار سے کہہ دیا تھا کہ گیٹ نہ کھولے ان ٹرکوں کو باہر ہی روکے رکھے، میں نے چیف انجینئر کو ریت چیک کرنے کو کہا، انہوں نے ریت چیک کی اور فوراً سمجھ گئے کہ یہ لارنس پور کی ریت نہیں بلکہ اس میں ملاوٹ ہے ، وہ ٹرکوں کو اندر لے گئے اور پھر گیٹ بند کرادیا اور ڈرائیوروں سے کہا کہ یہ ٹرک صبح تک یہیں رہیں گے صبح ان لوڈ کئے جائیں گے، صبح جب مقامی ٹھیکیدار آیا جس سے میکڈانلڈ لیٹن کاسٹین کمپنی نے مقامی طور پر ریت سپلائی کرنے کا ٹھیکہ دیا تھا تو چیف انجینئر نے اس کو پکڑ لیا اور ریت چیک کرایا جس میں آدھا راوی کا ریت تھا۔ بہرحال اس طرح وقت گزرتا رہا، اور دو سال سے زیادہ وقت بیت گیا، ایک روز میں اپنی بیوی اور موسیٰ کو لے کر انار کلی گیا جہاں بخشی مارکیٹ میں بچوں کی ایک کار کھڑی تھی جس میں بیٹھ کر بچے اس کو چلاتے ہیں، موسیٰ جو تقریباً اڑھائی سال کا تھا اس کو وہ گاڑی بہت پسند آئی، موسیٰ کی عادت تھی کہ وہ کبھی براہ راست کوئی چیز خریدنے کی فرمائش نہیں کرتا تھا بلکہ کہتا کہ ابا اگر آپ کے پاس پیسے ہوں تو یہ لے لینا، اس نے اس دن بھی ایسا ہی کیا اور مجھ سے کہا کہ ابا اگر آپ کے پاس پیسے ہوں تو وہ کار لے لینا، میں نے اس طرف دیکھ کر کہا کہ اچھا میں کل کو لادوں گا۔ اگلے روز جب میں دفتر سے گھر پہنچا تو موسی کمرے کی کھڑکی میں بیٹھا باہر گلی میں جھانک رہا تھا اور میری راہ دیکھ رہا تھا، مجھے یاد بھی نہیں رہا تھا کہ کہ میں نے اس سے کیا وعدہ کیا ہوا ہے جب میں خالی ہاتھ گھر پہنچا تو اس نے پوچھا کہ ابا میری کار نہیں لائے، میں نے جواب دیتے ہوئے اس کو گود میں اٹھا لیا اور کہا کہ اوہ نہیں بیٹے ساری میں بھول گیا تھا اب تمہیں کل ضرور لادوں گا، اگلے روز بھی میں کار نہیں لا سکا، اس روز میں مارکیٹ گیا اور اس کی قیمت پوچھی وہ پانچ سو روپے کی تھی اور میرے پاس اس وقت اتنے پیسے نہیںتھے، میں گھر گیا تو موسی پھر منتظر تھا مجھے خالی ہاتھ دیکھ کر اس نے کہا کچھ نہیں البتہ اس کے چہرے پر مایوسی کے

آثار ابھر آئے۔ میں سمجھ گیا کہ اس کو دکھ ہوا ہے میں نے خود ہی کہہ دیا کہ موسی بیٹے آج میں گیا تھا کار لینے لیکن اس کی قیمت پانچ سو روپے ہے اور میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے میں آپ کو کل کو ضرور وہ کار لادوں گا۔ اگلے روز میں پھر خالی ہاتھ گھر گیا تو موسی نے کہا، ابا جان آپ جھوٹ بولتے ہیں روز کہتے ہیں کل کو لادوں گا اور لاتے نہیں۔ مجھے بیٹے کے منہ سے جھوٹا ہونے کا سن کر بہت دکھ ہوا اور اگلے روز دفتر گیا تو چیف انجینئر سے پانچ سو روپے ایڈوانس طلب کئے انہوں نے انکار کردیا اور کہاں کہ تنخواہ ملنے میں چند روز ہیں میں صبر کرلوں لیکن میں اپنے مطالبے پر ڈٹا رہا اور جب وہ نہ مانے تو میں نے کہا ٹھیک ہے سر میں اپنی سیٹ سے مستعفی ہوتا ہوں آپ میرا حساب کردیں۔ انہوں نے غور سے میری جانب دیکھا اور پوچھا کہ کیا میں تنخواہ تک صبر نہیں کرسکتا میں نے سختی سے کہا کہ میں کام چھوڑ رہا ہوں نا تو بات ختم ہوگئی میرا ابھی حساب کردیں۔ وہاں میری تنخواہ دو ہزار روپے تھی، جبکہ پچیس روز کی تنخواہ بنتی تھی وہ لے کر میں انار کلی گیا اور وہاں سے کار خرید کر گھر لے گیا، موسی حسب معمول کھڑکی میں بیٹھا میری راہ دیکھ رہا تھا، اس روز میرے ہاتھ میں گاڑی دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا اور جب میں گھر میں داخل ہوا تو وہ آکر مجھ سے لپٹ گیا، میں نے اس کو کار دی اس وقت مجھے جو سکون محسوس ہوا اس کا بیان ممکن نہیں۔ اس کے ساتھ ہی امی جان اور شگفتہ نے پوچھا کہ یہ کتنے کی ہے میں نے کہا قیمت نہ پوچھو بس میں یہ کاراپنی ملازمت کی قیمت چکا کر لایا ہوں۔ پہلے تو امی جان اور شگفتہ دونوں کچھ نہ سمجھیں پھر جب میں نے بتایا تو انہیں دکھ ہوا لیکن بہرحال میں کرچکا تھا۔

کچھ عرصہ بیکار رہا پھر روزنامہ حیات شروع ہوا نذیر ناجی اس کے چیف ایڈیٹر جبکہ امجد جاوید ایگزیکٹو ایڈیٹر تھے میں نے اس اخبار میں کرائم رپورٹر کے طور پر کام شروع کردیا، اس سے قبل مجھے رپورٹنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا لیکن وہاں میرے دوست قیوم کے بڑے بھائی شیخ مسعود چیف رپورٹر تھے انہوں نے مجھے بہت تسلی دی کہ میں فکر نہ کروں وہ میری مدد کریں گے اور میری پہلی خبر یہ تھی کہ حبیب بینک چھاﺅنی میں مینیجر نے فراڈ کرلیا، یہ میری پہلی خبر تھی اور غلط تھی فراڈ مینیجر نے نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے وہ فراڈ پکڑا تھا، بہرحال خبر چھپ گئی اور صبح ہی بینک مینجر کا فون آگیا، شیخ مسعود نے فون سن کر ان کو تھوڑی دیر بعد فون کرنے کا کہا اور مجھ سے پوچھا کہ خبر کہاں سے ملی تھی میں نے بتایا کہ ڈی آئی جی آفس سے ایف آئی آر کی کاپیاں لے کر وہاں سے نقل کی تھی تو انہوں نے بتایا کہ میں نے کتنی غلط خبر دی تھی اصل میں ایف آئی آر میں جو تحریر ہوتی ہے اس کو پڑھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی بہرحال مسعود بھائی جان تے مینیجر کی تسلی کرادی اور مجھے احتیاط سے کام کرنے کی ہدایت کی۔ وہاں گلزار آفاقی سے ملاقات ہوئی یہ نذیر ناجی کے دوست تھے انہوں نے مجھے کہا کہ میں روز کالم لکھا کروں، ان کا کہنا تھا کہ میری کرائم کی خبروں میں بھی ادبیت جھلکتی ہے اگر میں کالم لکھوں گا تو بہت مقبول ہوں گا ان کی فرمائش پر میں نے ”پتھروں کے شہر میں“ کا لوگو بنوایا اور کالم شروع کردئیے، گلزار آفاقی نے میرے کالم دیکھے وہ ہر روز سب سے پہلے میرا کالم پڑھتے، ایک دن انہوں نے مجھے کہا کہ کاظمی ایک دن تم بہت مشہور کالم نویس بنو گے اور تم سے کوئی انٹرویو کرتے ہوئے سوال کرے گا کہ میں نے کالم کس طرح لکھنے شروع کئے تھے تو جب تم کہو گے کہ گلزار آفاقی کے کہنے پر شروع کئے تھے وہ جملہ میری فیس ہوگا اور میں ہنس کر خاموش ہوگیا۔

یہ میری زندگی کی انتہائی سخت اور آزمائشی دور تھا کیونکہ اخبار پیپلز پارٹی کا ترجمان تھا اور حکومت جنرل ضیاءالحق کی تھی، ذوالفقار علی بھٹو نے ای اخبار کے لئے نزیر ناجی صاحب کو جو چیک دیا تھا وہ کیش نہیں ہوسکا کیونکہ بھٹو صاحب کے اکاﺅنٹس سیز ہوگئے تھے، ہمارے پاس کیس کی قلت تھی ، ابتدا میں تین چار ماہ تو ہمیں تنخواہ ملتی رہی لیکن پھر تنخواہ کا سلسلہ بند ہوگیا کیونکہ اخبار کے پاس پیسے ہی نہیں رہے تھے، لہذا عملے نے بغیر تنخواہ کام کرنے کا ارادر کرلیا ہم کام کرتے رہے، گھر میں نوبت فاقوں تک پہنچ گئی، اسی زمانے میں میرا ایک بیٹا اور ایک بیٹی غذا کی قلت کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے، لیکن ہمارا ”جہاد“ جاری رہا، بچوں کے انتقال نے میری تحریر میں غم کی شدت میں مزید اضافہ کردیا، میرے کالم میں الفاظ کی جگہ صرف آنسو ہوتے اور میرے قارئین پڑھ کر مجھے درد بھرے خطوط لکھتے ، میری زندگی کا سفر جاری رہا، اس دوران بھٹو صاحب جیل سے رہا ہوئے اور یہ آخری رہائی تھی، وہ نہر کے کنارے لغاری ہاﺅس میں تھے، مجھے چیف ایڈیٹر نذیر ناجی صاحب نے بھٹو صاحب کا انٹرویو کرنے کی ذمہ داری سونپی، میں اپنے فوٹو گرافر پرویز کے ساتھ لغاری ہاﺅس پہنچا وہاں بنگلے کا مین گیٹ بند تھا اور باہر کافی رش موجود تھا جن میں مختلف اخبارات و ایجنسیوں کے نمائندے بھی موجود تھے ان ہی میں اس وقت کے بی بی سی کے نمائندے مارک ٹیلی بھی موجود تھے، ہم گیٹ پر پہنچے ہمیں دیکھ کر محافظ نے گیٹ کھول کر اندر جانے کا راستہ دیا ، اصل میں گیٹ پر موجود نگہبان ہمیں پہنچانتا تھاکہ ہم روزنامہ حیات سے ہیں جو مارشل لاءکے سخت دور میں بھی بھٹو کا ترجمان تھا، میں اپنے فوٹو گرافر کے ساتھ اندر میٹنگ روم میں چلا گیا وہاں بھٹو صاحب بہت سے اہم اراکین کے ساتھ تشریف فرما تھے، ان میں مولانا کوثرنیازی بھی تھے، انہوں نے بھٹو صاحب سے کہا کہ، ” بھٹو صاحب یہ ضیا آپ کو نہیں چھوڑے گا بہتر یہی ہے کہ اب وقت ہے آپ یہاں سے نکل جائیں۔“ لیکن بھٹو صاحب نے جواب دیا،” اگر آج میں فرار ہوگیا تو میرا انقلاب میرے فرار کے ساتھ ہی دم توڑ دے گا لیکن اگر میں یہاں رہ کر مارا بھی گیا تو میراانقلاب قیامت تک زندہ رہے گا،“ میں ہاتھ میں کاغذ تھامے بھٹو صاحب کے منہہ سے ادا کئے جانے والے جملوں کو ضبطِ تحریر میں لاتا رہا، اس کے بعد انتظامیہ نے بھٹو صاحب کے اشارے پر ہمیں کچھ دیر کے لئے کمرے سے باہر جانے کو کہا اور میں بلا چون چرا کمرے سے باہر لان میں آگیا، وہاں بھی بہت سے افراد جمع تھے، وہیں ایک نوجوان دوسرے سے بات کررہا تھا کہ اس کے بڑے بھائی پی آئی اے میں پائلٹ ہیں اور کابل سے فلائٹ لے کر آئے ہیں وہ اپنے ساتھ کابل میں شائعہونے والا ایک اخبار ”کابل ٹائمز“ ساتھ لائے ہیں، اس میں ”یوم پختونستان“ منائے جانے سے متعلق ایک خبر فرنٹ پیج پر شائع ہوئی ہے جس میں مفتی محمود سمیت دیگر علمائے کرام کی تصاویر ان کے پیغامات کے ساتھ شائع ہوئی ہیں، یہ سن کر میں نے مداخلت کرتے ہوئے اس لڑکے سے نام اور پتہ پوچھا تو اس نے اپنا نام اور ایڈریس بتایا کہ وہ اس وقت کے کرشن نگر آج کے اسلام پورہ میں رہتا تھا، مجھے ان صاحب کا نام اب یاد نہیں رہا، بہرحال وہاں مجھے بھٹو صاحب سے ملاقات کا موقع نہ مل سکا جب میں کمرے میں بھٹو صاحب کی باتیں سن رہا تھا اس وقت وہاں اخبار مساوات کا رپورٹر بھی موجود تھا وہ بھی بھٹو صاحب کی باتیں ضبطِ تحریر میں لارہے تھے۔ لہذا میں نے جانے سے قبل ان رپورٹر سے جملوں کا تبادلہ کرلیا جو میں نے لکھے تھے وہ ان کو دے دئیے اور جو انہوں نے لکھے وہ میں نے لے لئے اور میں اپنے اخبار کے دفتر واپس آگیا اور بھٹو صاحب کا انٹرویو تحریر کیا اور وہ لے کر نذیر ناجی صاحب کے پاس ان کے کمرے میں گیا تاکہ ان کو چیک کراسکوں، وہاں اپنی تحریر ان کو دی پھر ان کے اشارے پر وہیں ایک کرسی پر بیٹھ گیا، ناجی صاحب نے وہ انٹرویو پڑھ کر کچھ قطع و برید کے ساتھ مجھے دیا اٹھتے ہوئے میں نے ناجی صاحب کو یہ خبر دی کہ افغانستان میں یوم پختونستان منایا گیا ہے پھر انہیں کابل ٹائمز کے بارے میں بتایا انہوں نے چونک کر مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا کہ اخبار کہاں ہے؟ میں نے بتایا کہ وہ پی آئی اے کے ایک پائلٹ لائے تھے، ناجی صاحب نے مجھے ڈانتے ہوئے کہا کہ فوری جاﺅ اور اخبار لے کر آﺅ اگر اخبار نہ لاسکو تو خود بھی دفتر نہ آنا تم کیسے رپورٹر ہو کہ اتنی اہم خبر ملی اور تم صرف سن کر چلے آئے، چلو بھاگ جاﺅ“ انہوں نے میری اچھی خاصی کلاس لی اور میں اٹھ کر باہر نکل آیا اور کرشن نگر پہنچا، ان صاحب نے بتایا تھا کہ پہلے سٹاپ کے ساتھ ایک گلی میں رہتے ہیں، میں پہلے سٹاپ یعنی نیلی بار بنک کے سٹاپ پر حیدر روڈ پر آیا اور پہلی گلی میں دروازوں پر دستک دے کر پوچھتا پھرا کہ کیا پی آئی اے کے پائلٹ یہاں رہتے ہیں، چند گھروں سے انکار سننے کے بعد ایک صاحب نے بتایا کہ یہاں نہیں وہ پچھلی گلی میں رہتے ہیں، میں وہاں پہنچا اور آخر کار گھر تلاش کرلیا ، وہاں پتہ چلا میں جن صاحب کا پوچھ رہا تھا وہ فلم دیکھنے گئے ہوئے تھے میرے پوچھنے پر بتایا کہ میکلوڈ روڈ کے قیصر سنیما میں کوئی مشہور فلم لگی تھی وہ دیکھنے گئے تھے، میں وہاں سے نکل کر

قیصر سنیما پہنچا، وہاں اس وقت شو چل رہا تھا، میں منیجر کے کمرے میں پہنچ کر مینیجر سے ملا اور بتایا کہ میرا ایک صاحب سے ملنا بہت ضروری ہے جو اندر بیٹھے ہیں، انہوں نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میں انٹرول تک صبر کروں ، جب ہاف ٹائم ہوگا تو وہ دروازے کھولنے سے پہلے مجھے اندر بھیج دیں گے میں مطلوبہ شخص کو بلالوں، پھر ایسا ہی ہوا اور میں مطلوبہ صاحب تک پہنچ گیا تو ان سے اخبار مانگا، ان کی مہربانی کہ وہ فلم چھوڑ کر اسی وقت میرے ساتھ پھر اپنے گھر واپس پہنچے اور مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر خود اندر اخبار لینے گئے اور تھوڑی دیر بعد واپس آکر بولے کہ وہ اخبار ان کے بھائی کے بریف کیس میں ہے اور بھائی اپنے ایک دوست کے پاس کینٹ گئے ہیں، میں نے کہا کہ مجھے اخبار کی سخت ضرورت ہے اگر انہیں بھائی کے دوست کے گھر کا پتہ ہے تو چلو ابھی کینٹ چلتے ہیں، انہوں نے اقرار کرتے ہوئے کہا کہ میں دفتر جاﺅں وہ ایک گھنٹے تک اخبار لے مجھے دفتر پہنچا دیں گے، میں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں اخبار لئے بغیر دفتر میں داخل بھی نہیں ہوسکتا تو انہوں نے کہا کہ میں وہیں بیٹھوں وہ خود جاکر اخبار لے آتے ہیں، میں اس پر راضی ہوگیا بہرحال پھر تقریباً دو گھنٹے بعد وہ صاحب آئے اور مجھے اخبار دے دیا، میں وہ اخبار لے کر ناجی صاحب کے پاس پہنچا انہوں نے اس دن کے ”روزنامہ حیات“ میں اس ’´’کابل ٹائمز“ کی فوٹو کاپی چھاپی، اگلے رون لیاقت باغ راولپنڈی میں پیپلز پارٹی کا جلسہ تھا وہاں ہمارے اخبار کی ڈیڑھ لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں، یہ اس وقت ایک ریکارڈ تھا۔

بہرحال پھر روزنامہ حیات فروخت کردیا گیا اور ہم نے سنا کہ یہ اخبار اصغر خان نے خریدا ہے تو میں نے علیحدگی اختیار کرلی ۔ حیات میں ایگزیکٹو ایڈیٹر تھے امجد جاوید، میری ان سے بہت گہری دوستی ہوگئی تھی وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتے تھے جب میں حیات سے علیحدہ ہوا تو ان کی ہدایت پر پٹیالہ گراﺅنڈ میں ایک کمپنی ”گیف“ میں پہنچا جو جمیل صاحب کی ملکیت تھی، انہوں نے مجھے اپنی کمپنی میں بطور مینیجر جگہ دے دی اور میں وہاں کام کرنے لگا، امجد صاحب کی ہدایت پر انہوں نے ایک تنخواہ مجھے پیشگی یہ کہہ کر دے دی کہ وہ یہ تنخواہ بعد میں کاٹ لیں گے لیکن پھر میں کئی سال وہاں کام کرتا رہا لیکن انہوں نے وہ تنخواہ کاٹی نہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.