سرخ حویلی کا آسیب ______ثروت نجیب

پشیمانی کے اشک آنکھ سے نہیں احساس سے گرتے ہیں ـ ٹھیک اُسی طرح جیسے قربان شدہ محبت آنکھوں کے سامنے تڑپتی لہو بہاتی رہے اور پونچھنے کے لیے کوئی رومال نہ ہو ـ
لکڑی کے زینوں سے چنار قامت لچکیلی شاخ کی طرح نازک بگلے جیسی سپید ڈھلکی ہوئی صراحی گردن لیے وہ بے چینی سے اتر رہی تھی ـ
گردن سے غر غر کی آوازیں آ رہی تھیں ـ پرنالے کی طرح بہتا خون چوبی سیڑھیوں پہ پھیل چکا تھا ـ
چاکرانیاں ‘ خادمائیں اور ماسیاں چیختی چلاتی خان ذادی کی جانب بڑھیں ـ جو اوپری منزل پہ بنے غسل خانے میں حمام لینے گئی اور واپسی پہ مذبح حالت میں نکلیں ـ اس کی گردن کے دائیں طرف پیچھے تک تیز دھار آلے سے گردن کٹ چکی تھی ـ جس سے مسلسل خون بہہ رہا تھا ـ
وہ چند زینے اتری اور دھڑام سے کہانی ختم ـــــ
جس نے ابھی ایک اور کہانی کو جنم دینا تھا ـ
خان ذادی کی کوکھ میں پلتے اُس قصے کی دھڑکنیں ماں کے ساتھ دم توڑ گئیں ـ
ہاڑ کا مہینہ’ عین دوپہر کا وقت جب سورج زمین پہ دھوپ کے انگارے دہکا رہا تھا ـ لوگ باگ گھروں میں دبکے ہوئے تھے ـ شہباز خان حسبِ معمول سرائے میں دوستوں کے ساتھ تھا ـ وہ اکثر اِسی وقت فارغ ہو کر حمام لینے حویلی آتا اور تہہ خانے میں قیلولہ کرتا ـ
ابھی خان ڈیوڑھی کے اندر تھا کہ ایک کوکی بھاگتی ہوئی آئی ـ
گھبرائی ہکلائی ـــ
خان ــــ خان ن ن ن ـــ خان
بی بی ــــ
وہ بی بی نے خود کشی کر لی ـ
وہ خبر سن کر وہیں دہلیز پہ بیٹھ کر ماتھا پیٹنے لگا ـــ
آخری سانیسں لیتی بی بی بار بار یہی کہہ رہی تھی ـــ
”میں نے خود کو خود ہی مار ڈالا ـــ“
بی بی نے قربانی کے بکرے کی طرح تڑپتے تڑپتے دم توڑ دیا ـ
بی بی کے دم توڑتے ہی حویلی میں مدفن عجیب و غریب اسرار کھلنے لگے ـ
ایک چاکرانی نے دوسری خادمہ کے کان میں کھسر پھسر کی !
”بی بی پہ آسیب کا سایہ تھا ـ تہہ خانے میں بی بی اُس سے چھپ چھپ باتیں کیا کرتی تھی ـ“
بوڑھی ماسی نے ٹوکتے ہوئے کہا!
”ہششش ! چپ چپ ــــ
بات کو ہوا نہ دو کہیں گلے نہ پڑ جائے ـ “
دائی نے کہا!
پرسوں رات بی بی نے مجھے اپنا بھیانک خواب سنایا!
”وہ بھڑیوں کے دائرے میں کھڑی ہے ـ اچانک ایک بھیڑیا اس پہ حملہ کر دیتا ہے وہ لہولہان ہو جاتی ـ خشک زمین پہ ایک لدھڑ نما جانور آ کر اس کا سارا خون چاٹ لیتا ہے ـ
پھر براق پروں والا پرندہ اس کے ساکت وجود کو پروں میں ڈھانپ کر اڑا لے جاتا ہے ـ ”یہ کہہ کر دائی روتے روتے فریاد کرنے لگی ”ہائے نجانے کیسے کیا سے کیا ہو گیا “ـ دائی اور دو چاکرانیاں جہیز میں خان ذادی کے ساتھ آئیں تھیں ـ دونوں اس کی تقریباً ہم عمر تھیں ـ ایک ساتھ وہ خان ذادی کے اباّ کی حویلی میں پل بڑھ کر جوان ہوئیں ـ یہاں خان نے اپنے چاکروں سے ان کے رشتے استوار کر کے ان کے قدم حویلی میں ہمیشہ کے لیے جما دیے ـ شہباز خان صاف دل کا ‘ بیوی سے محبت کرنے والا مگر عیاش تھا ـ وہ ساری خوبیاں اور خامیاں جو ایک خان میں ہوتی ہیں اس میں موجود تھیں لیکن وہ ایک عاشق بھی تھا اور اس وقت اس کا عشق لہو میں لت پت ہجرت کے ابدی سفر پہ روانہ ہو چکا تھا ـ آہ و فغاں ‘،سسکیاں ہی سسکیاں ــــ
مسجد میں فوتگی کے اعلان ہو رہے تھے ـ جنھیں سن کر تعزیت کرنے والے حویلی کی جانب بڑھنے لگے ـ تین بچے مسکین صورت خوار ہو گئے ـ رشتہ داروں نے انھیں جلدی جلدی تقسیم کر دیا ـ بڑا بیٹا نانی کے ساتھ ہو لیا ـ یوں تو سب بچے نانی سے مانوس تھے مگر نانا نیاز خان کو شہباز خان کی اولاد سے وہ الفت نہ تھی ـ وہ بھی اس وقت جب اس کی لاڈلی بیٹی نے اس کے گھر میں خود کشی کر لی ـ اسے یقین تھا اس کے پس پردہ شہباز خان کی غفلت یا بیوفائی کا عنصر شامل ہوگا ـ کیونکہ غزالہ جیسی سنجیدہ اور متین لڑکی اتنا جذباتی قدم بنا کسی بڑی وجہ کے نہیں اٹھا سکتی ـ منجھلے بیٹے کو عمہ نے اٹھا لیا اور ایک سالہ ننھی خان ذادی چچی نے گود لے لی ـ بہانہ تھا کہ شیر خوار ہے اور چچی کی رضاعت بہتر رہے گی ـ مگر وہ چند ماہ بعد ہی ماں کی بغل میں جا سوئی ـ خادماؤں سے کسی نے سنا وہ رات بھر رویا کرتی تھی ـ چاچی چمچ سے خشخاش کے ڈوڈے کا قہوہ پلا دیتی ـ وہ بےسدھ پڑے پڑے کم خوراکی سے ڈھانچہ بن گئی اور یونہی غشی میں چل بسی ـ
خان بیوی کے صدمے سے باہر نہ نکل سکا ـ اُسی دہلیز پہ اُسی دن پہ اس کے وجود کا مرکزی حصہ ڈھے گیا ـ
جو دوبارہ کبھی تعمیر نہ ہو سکا ـ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ میرے والد وہ آبائی کاشانہ بیچ کر شہر منتقل ہوگئے ـ امی کا ماننا تھا گلی منحوس ہے اور اس کے اثرات ہمارے گھر پہ بھی پڑ رہے ہیں ـ بیماری ‘ نقصان اور بےسکونی نے کاشانے پہ ڈیرے ڈال رکھے ہیں ـ یوں میں اس حویلی سے دور ہو گیا ـ عرصہ بیتا گاؤں چھوٹے ہوئے ـ نجوانی دیوانی کے ایام تھے ـ بہت کچھ بھول بھال گیا ـ غزالہ کی یاد بھی کبھی کبھی آتی ـ نوجوانی کے دن گزرے تو نوکری چاکری نے جکڑ لیا ـ
اس بار تایا ذاد کی شادی پہ آیا تو گاؤں کا چپہ چپہ چھان مارا ـ آبائی کاشانے کے درودیوار سے متصل حویلی نے قدم جکڑ لیے ـمیں نے فیصلہ کیا کچھ عرصے کے لیے اسے کرائے پہ لے کر اس کے بھید کھولوں ـ
میں نے حویلی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا !
عمارت بہت خستہ ہے ـــــ
پراپرٹی ڈیلر بولا!
سچ کہوں تو جو کرائے دار آیا اسے یہاں کوئی نہ کوئی حادثہ درپیش ہوہی جاتا ہے ـ
پچھلی بار کلرک کو گھر دیا تھا اس کے بچوں نے گودام میں آگ لگا دی ـ بچے سہمے ہوئے تھے ـ ان کے مطابق ایک شعلہ خود بخود بھڑکا جب وہ رضائیوں میں دبکے چھپن چھپائی کھیل رہے تھے ـ
مولوی صاحب تین ماہ رہے ـ کوئی شکایت نہیں کی ـ
سوائے اس کے کہ گھر میں چھپکلیوں کی بہتات ہے ـ نجانے کہاں سے ایک ساتھ نکل آتی تھیں ـ وہ غائب ہوتیں ہیں تو مکوڑے پھیل جاتے ـ“
بطورِ کرایہ دار میں نے حتمی فیصلہ سناتے ہوئے کہا!
میں پھر بھی گھر لوں گا ـ ـ ـ ـ
پراپرٹی ڈیلر نے حویلی کی چابی تھماتے ہوئے کہا!
بسمہ اللہ کریں پھر ــــ
میں نے تالا کھول کر زنجیر اتاری ـ دبیز منقش جگری کواڑ کُھلتے ہی تاریک ڈیوڑھی سے نمی کی بساند نے میری حسِ شامہ کو مضطرب کر دیا ـ کہیں سے پانی رِس رِس کر ڈیوڑھی کی نالی سے گزر رہا تھا ـ جہاں بہت سی کائی جم چکی تھی ـ دیواروں سے جھولتے مکڑی کے جالے ویرانی کی کہانی سنانے کو بیتاب تھے ـ میں ڈیوڑھی کا اندرونی دروازہ جو حویلی کے اندر کھلتا ہے کھولا تو ایسے محسوس ہوا جیسے میں کسی سرنگ سے باہر نکلا آیا ہوں ـ سرخ سلوں والے چوڑے صحن کے سامنے حویلی کی عمارت میں وہ حسن جھلک رہا تھا جو کبھی حویلیوں کی شان ہوا کرتا تھا ـ رنگین شیشوں والی محرابیں ‘لکڑی کے بھاری بھرکم دروازے ‘ چوڑے برامدے ‘اونچی چھت والے دالانوں سے لٹکتے لمبے پائپ سے جھولتے پنکھے ـ وائیرنگ کی کالی تاروں کا کہیں کہیں سے اُدھڑا جال ـ خوابیدہ خواب گاہیں ـ پرانے طرز کا باورچی خانہ جہاں یقیناً پیڑھیوں پہ بیٹھ کر کھانا پکایا جاتا ہوگا ـ چوبی الماریوں پہ آتشی گلابی پھول ـــــ میں ان در و دیوار کو چھو کر غزالہ کو محسوس کرنے کی کوشش کرتا رہا ـ اففف کتنے راز ان دبیز دیواروں میں دبے تھے ـ کبھی کبھار میری دادی مجھے چپکے چپکے اس حویلی کی خان ذادی کا قصہ سناتیں ـ تبھی سے یہ حویلی اور اس میں بستے سبھی کردار مجھے اپنے خون سے جڑے جیتے جاگتے کردار لگنے لگے تھے ـ جیسے میں اس حویلی کا کوئی بچھڑا فرد ہوں ـ جب یہ حادثہ ہوا ان دنوں ہمارا خاندان اس حویلی سے متصل کاشانے میں رہتا تھا ـ دونوں حولیوں کی ایک ہی دیوار تھی ـ جو اُسی غسل خانے سے متصل تھی جہاں غزالہ نے خود کشی کی تھی ـ
میں اس مری ہوئی حاملہ حسینہ کے سحر میں بچپن سے گرفتار ہو گیا تھا ـ میرا عشق پجاری تھا ـ جیسے کسی محرم سے انتہا کی انسیت ہو جائے ـ میں اس سے سیپارے میں رکھے مور کے پنکھ کی طرح عقیدت رکھتا تھا ـ کسی دیوی کی طرح وہ میرے احساس کے استھاسن پہ بچپن سے یا نجانے کب سے براجمان تھی ـ حتیٰ کے اس سے منسوب موتیے کے پھولوں کی خوشبو بھی مجھے اچھی لگنے لگی تھی ـ
میں جہاں بھی موتیے کے پھول دیکھتا انھیں توڑ کر جیب میں رکھ دیتا ـ غزالہ کوئی معمولی خاتون نہیں تھی ـ اس سے جڑی ہر بات اس کو ممتاز کر دیتی ـ شاید یہی وجہ تھی کہ اس کا وجود میرے دماغ میں کسی کہانی کے کردار سے ذیادہ معتبر تھا ـ
ـــــــــ ـ ـ ـ ــــــــــ ــــــ ـــــ ــ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ــــــــ ـــــــ
بچپن کی ایک رات میں نے اپنی جیب میں مونگ پھلیاں بھریں اور دادی کے لحاف میں گھس گیا ـ میری فرمائش تھی مجھے غزالہ کی کہانی سنائیں ـ
میری ماں کو یہ بات پسند نہیں تھی یا پھر یہ واقعہ ـ وہ کبھی نہیں چاہتی تھیں کہ میں یہ کہانی سنوںـ اس لیے میں بہت احتیاط کرتا اور چپکے چپکے وہ کہانی سننے کی فرمائش کرتا ـ البتہ میری دادی نے نجانے کیوں مجھے کبھی انکار نہیں کیا ـ اُس رات بھی ہم سروں پہ لحاف اوڑھ کر دوبارہ ماضی کے طاقچے میں رکھے دیپ جلانے لگے ـ دادی آماں دھیرے دھیرے ماضی کے ورق پلٹنے لگی ـ
ہنس مکھ ‘ ملنسار غزالہ کو جہیز میں سو مربع جائیداد ملی تھی ـ سونے کی کناری سے مزین سرخ ریشمی انارکلی فراک ‘ سر پہ گوٹے کناری کے جال سے بھرا شیفون کا دوپٹہ’ کسّا ہوا سبز پاجامہ ‘ تِلے والا کُھسہ اور سہ منزلہ نولکھا ہار جو دیکھتا بس دیکھتا ہی رہ جاتا ـ وہ دلہن بن کر شہزادی کی طرح حسین و جمیل لگ رہی تھی ـ اس کے چوڑے ماتھے کا بڑا سا ٹیکا نگینوں کی طرح چمک رہا تھا ـ غزالہ کے گالوں پہ سنہرا غازہ چھڑکا ہوا تھا ـ جب اس کا گھونگھٹ اٹھایا جاتا تو وہ آنکھیں میچ لیتی ـ بند آنکھوں سے جھلکتی حیا کی لالی سے اس کے عارض اناری ہو جاتے ـ کئی عورتوں نے اس کا چہرہ دیکھنے کے لیے تو بار بار سلامی دی ـ جب وہ گرہ سے بندھے پیسے بھی غزالہ کی منہ دیکھائی پہ خرچ کر چکیں تو مانگ تانگ کرنے لگیں ـ
استفار پہ کہتیں ! ارے ہم نے ڈھنگ سے چہرہ نہیں دیکھا ـ انجان بن کر ایک بار پھر ایسے سلامی دیتیں جیسے پہلی بار چہرہ دیکھ رہی ہوں ـ آسمان پہ آتشبازی کا حسین سماں تھا ـ جب سرخ انار پھوٹتے تو ایسے لگتا جیسے چنگاریاں نہیں سرخ پریاں آسمان سے نازل ہو رہی ہوں ـ
ڈھول کی تھاپ پہ بیاہ کے گیت گاتی میراثی عورتیں گا گا کر تھکنے کا نام ہی نہ لیتی تھیں ـ غزالہ ‘ شہباز خان کی چچا زاد تھی ـ عین جوانی کے عروج پہ جب خان نے اسے پہلی بار دیکھا تو دل دے بیٹھا ـ وہ اپنے گاؤں سے صبح سویرے نکلتا اور کسی نہ کسی بہانے سے چچا کے گاؤں جا کر دم لیتا ـ
محبوب کی ایک جھلک بھی صدیوں کا سکون دیتی ہے ـ تبھی گاؤں میں سُن گن ہونے لگی کہ چھوٹا خان آجکل چچا کے آستانے پہ بہت حاضریاں دے رہا ہے ـ
وہ عشق ہی کیا جو چھپانے سے چھپ جائے ـ
چھوٹے خان نے تب اعلانیہ اظہار محبت کر دیا ـ غزالہ سے پہلے یہ قصہ زبان و زد و خاص و عام ہو گیا ـ چچا کو لگتا تھا چھوٹا خان لاابالی طبعیت کا مالک اور خرانٹ ہے ـ جبکہ اس کی بیٹی نفیس اور حساس ہے ـ یہ جوڑ شاید تادیر نہ چلے ـ
مگر چھوٹے خان نے اسے زندگی موت کا مسئلہ بنا دیا ـ وہ ایک دن بندوق لیے چچا کے گاؤں جا پہنچا جب وہ گاؤں کے مسائل حل کرنے کے لیے جرگہ سجائے بیٹھا تھا ـ
اچانک شہباز خان کو یوں غصے سے لال پیلا داخل ہوتے دیکھا تو محفل برخاست کر دی ـ
شہباز خان چلایا!
نہیں کا کا فیصلہ آج سب کے سامنے ہوگا ـ
شہباز خان نے بندوق کندھے سے اتاری اور چچا کے قدموں میں رکھ دی ـــ
یا تو آج مجھے غزالہ کا رشتہ دو یا اسی بندوق سے میری جان لو ـ
غزالہ کے بغیر جینے کا میرے پاس کوئی جواز نہیں رہا ـ وہ میری ناک بن چکی ہے ـ اسے خود سے جدا کرنا مطلب بےعزتی کی زندگی جینا ـ چچا نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا!
دیکھو زویا ــ
یہ فیصلے بڑے کرتے ہیں ـ مجھے تمھاری یہ گستاخی پسند نہیں آئی ـ
تم شکر کرو میرے بیٹے یہاں موجود نہیں ورنہ ہاتھاپائی ہو سکتی تھی ـ
شہباز خان تن کے کھڑا تھا جیسے ہاتھ نہیں حق مانگنے آیا ہو ـ محبت کی یہ اٹھان اس سے قبل گاؤں میں کسی نے نہ دیکھی تھی ـ
کوئی کہتا! آدم خان اور درخانے نے دوسرا جنم لے لیا ہے ـ کسی کو لگتا ایک نئی کہانی کی شروعات ہے ـ شاید یہ عشق شہباز خان کی جان لے لے ـ سبھی جدائی کے انجام کو لے کر ایک ہولناک کہانی بُن رہے تھے ـ مگر ہوا اس کے بالکل برعکس ـ شہباز خان نے مہر میں بہت سی جائیداد غزالہ کے نام کر دی ـ اور بڑی دھوم دھام سے گھوڑے پہ سوار سنہری پٹکا پہنے شمع بردار بارات لے کر آیا ـ
رباب نواز اور سازندے ساری رات ساز بجاتے رہے ـ پلاؤ ‘ قورمے اور زردے کی دیگوں کے منہ کھلے تو کھانا من و سلویٰ کی طرح ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ـ
دلہن کی بگھی کو اطلس و کمخواب کی چادروں سے سجایا گیا ـ سفید براق گھوڑے چاند کی چٹکی روشنی کو عبور کرتے جب ہمارے گاؤں آئے تو کیلے کے پتوں اور قمقموں سے سجے راستے سے گزرتی بارات کسی شاہی سواری کی طرح معلوم ہو رہی تھی ـ عورتیں گھروں کی چھتوں سے جھانک جھانک کر بارات کو گزرتا دیکھ رہی تھیں ـ جب غزالہ بگھی سے اتری تو اس کے قدموں میں بیل ذبح کیئے گئے ـ خون کی چھینٹیں غلطی سے شہباز خان کی سفید شلوار کو داغ دار کر گئیں ـ وہ موقع ایسا نہیں تھا کہ شہباز خان ملازموں کو جھاڑ پلاتا ـ شہباز خان اپنی خوشی میں کسی بھی ناگوار بات کو اہمیت نہیں دے رہا تھا ـ دلہن کا کمرہ پھولوں کی سیج سے مزین تھا ـ رنگین کلیاں ‘ جھنڈیاں قمقمے ‘ گلاب ‘ گیندے اور موتیے کی لڑیاں دیکھ کر ایسے لگتا جیسے خدا نے جوڑی بنا کر زمین پہ سجا دی ـ دروازوں پہ پھولوں کے سہرے لگے تھے ـ ہوا کے دوش پہ اڑتے براتی جن کا منہ میٹھا کرنے کے لیے جلیبی کے تھال لیے ملازمائیں ادھر ادھر گھوم رہی تھیں ـ صبح ولیمے کی رسم تھی ـ غزالہ کھلی ہوئی کلی کی طرح شرماتی لحجاتی نئے چہروں کو کن اکھیوں سے دیکھ رہی تھی ـ مگر اس کی غلافی آنکھوں میں صدیوں کا سکوت تھا ـ نجانے کیا خدشہ تھا ـ وہ سہمی ہوئی تھی ـ
گو کہ وہ مجھ سے کم عمر تھی مگر بڑی بہن کی طرح مجھے غم گسار سمجھتی ـ یہ الگ بات اس کے منہ سے کسی نے کبھی کوئی گِلہ نہ سنا تھا ـ اس کی سخت مزاج ساس نے اس کے قدموں میں بظاہر تو پھولوں کی پتیاں بچھائیں تھیں مگر وہ کوئی خاص خوش بھی نہ تھی ـ اس کی منشا اپنی بھتیجی کو بہو بنانے کی تھی ـ مگر وائے قسمت بیٹا اس کے ہاتھوں سے ریت کی طرح نکل گیا ـ اور وہی کرتا رہا جو اسے پسند تھا ـ ایسے میں غزالہ کے بھاگ جاگے اور شہباز خان کی ماں مجبوراً کنارے ہوتی گئی ـ
غزالہ کے تین بچے ہو گئے ـ زندگی اب معمول پہ آ چکی تھی ـ شہباز خان کے والد ارباز خان کا انتقال ہوا تو ساری جاگیر کے سیاہ و سفید کا مالک شہباز خان بن گیا ـ غزالہ نے کسی کو نہیں بتایا تھا وہ چوتھے بچے کی ماں بننے والی ہے ـ ایک دن میں نے اس کا ماتھا چوما اور مبارک باد دی ـ
تو حیرت سے گویا ہوئی آپ کو کیسے علم ہو
میں نے ہنستے ہوئے کہا!
”بھولی ‘ دُلاری ـــــ
دائی یہ خبر کانوں کان سب کو دے چکی ہے“ ـ وہ روہانسی ہو کر بولی ــــ
”مٹھی بھر پیسے لے کر بھی راز نہیں رکھتے ـ“
صرف سات ماہ وہ یہ خوشی پال سکی اور پھر چشمِ بد نے اس کے آشیانے کے سارے تنکے نوچ لیے ـ میری دادی یہ کہتے ہوئے آبدیدہ ہو گئی ـ اس نے کہانی وہیں روک دی ـ آنکھیں موندے وہ نجانے کس دنیا کے خواب دیکھنے لگیں مگر میں دوبارہ سے غزالہ کی دنیا میں چلا گیا ـ سبھی مناظر میری آنکھوں کے سامنے یوں گھومنے لگے جیسے میں خود کہانی کا ہدایت کار ہوں ـ
ہر بار اس کہانی سے نئے راز کھلتے ـ لرزا دینے والے حقائق افسردہ کر جاتے ـ چوک پہ بیٹھا سوتی چادر اوڑھے چرسی بالا جس کے سفید کرتے کے گلے پہ ہم رنگ کڑاھی مجھے ہمیشہ متوجہ کرتی غزالہ کا بیٹا تھا ـ
پھوپھی نے لاڈ پیار دے کر اس حال تک پہنچا دیا ـ دادی کہتی لاڈ نہیں دشمنی کی ہے ـ تاکہ کروڑوں کی جائیداد سے بےخبر پچیس روپے کی پڑیا میں دھت رہے ـ اسی نے اپنے نمازی پرہیز گار بھائی کو اس وقت قتل کیا جب وہ روزے سے تھا ـ کہتے ہیں بھائی سے پیسے مانگنے گیا تو انکار سننا پڑا ـ
بھائی نے کہا !
”جو کہتے ہو لا دیتا ہوں مگر نشے کے لیے پیسے نہیں دے سکتا ـ“
ٹوٹتے بدن میں ہلچل مچی ہوئی تھی دوست نے چنگاری بھڑکا دی ـ
واہ کیسا مطلبی بھائی ہے ـ اگر ایسا بھائی میرا ہوتا تو پھلدار چھری پیٹ میں گھونپ دیتا ـ بالے نے ایسا ہی کیا ـ چھرا گھونپ کے روزہ دار بھائی کی آنتیں نکال دیں ـ جسے وہ ہاتھوں میں پکڑے وہیں دم توڑ گیا ـ
پیسے نے اس کا گناہ چھپا دیا اور پھوپھی پولیس کو دے دلا کر بالے کو بچا کر لے گئی ـ
شہباز خان کو اطلاع ملی مگر وہ جنازے میں اجبنی فریق کی طرح خاموشی سے شریک ہوا ـ اس کے سارے آنسو بہت پہلے بہہ کر ختم ہو چکے تھے ـ اب سکوت کے سوا اس کے پاس تھا ہی کیا؟ خان اکثر سرائے کے تخت پہ لیٹا چھت کو گھورتا رہتا ـ
یہیں کبھی تاش کی بازیاں ہوا کرتی تھیں ‘ بٹیرے لڑوائے جاتے ـ محفلیں جمتیں’ اور وہ بھی ہوتا جو نہیں ہونا چاہیے تھا ـ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
میں ساری رات کروٹیں بدلتا رہا ـ وہ گھر لے کر میں کیا کروں گا ـ خودکشی کے اس واقعے کو کئی سال گزر چکے تھے میری دادی کی بارھویں برسی بھی ہو گئی ـ ہلکی ہلکی بوندا باندی گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کافی تھی ـ مگر بارش کا کوئی امکان نہ تھا ـ
اُس دن بھی ہاڑ کا مہینہ تھا ـ سورج دھرتی کو بھوننے پہ آمادہ ہو چکا تھا ـ غزالہ کی فوتگی کے بعد آسمان نے رنگ بدلا اور سیاہ آندھی چل پڑی ـ چٹاخ پٹاخ کرتی کھڑکیاں توڑ آندھی نے کہرام مچا دیا ـ میت دالان میں پڑی تھی ـ ماسیوں کی بھاگ دوڑ شروع ہو گئی ـ غزالہ کا اجلا پرسکون چہرہ لٹھے کے کفن میں دمک رہا تھا ـ اس کی پلکوں پہ غلافِ کعبہ کے دو تار اس ماں نے آ کر رکھ دیے جو اس نے خود کے لیے سنبھال رکھے تھے ـ موتیے کے پھول غزالہ کے سینے پہ رکھے اور کچھ برف کی سِل پہ دھرے تھے ـ دونوں کی خوشبو جدا تھی ـ
کھجور کے پتوں سے ڈھکی کچی قبر میں وہ بھرم لیے دفن ہو گئی ـ
سپید چاندنی پہ بیٹھی سفید لباس میں ملبوس خاموشی سے عورتیں گھٹلیاں پھرولتی رہیں ـ پنجرے میں غزالہ کا طوطا پھڑپھڑاتا رہا ـ جسے کُھلا گھومنے کی عادت تھی وہ قفس کو ٹکریں مارنے لگا ـ
دادی آخر اس نےایسا کیوں کیا تھا ؟
میں آخری بار اس کی کہانی کو سن کر کمبل میں منہ دیے سسکتا رہا ـ
جس گلی میں حویلی تھی بچے دن کے وقت بھی اس گلی سے گزرتے وقت ڈرتے تھے ـ کہتے ہیں تاریکی کا خوف آسیب سے ڈراتا تھا ـ مگر دن دیہاڑے معصوم بچوں کو کیوں وہاں کوئی ان دیکھا وجود محسوس ہوتا تھا؟ آسیب تو دراصل کہیں اور تھا ـ
جسے بمشکل موت آئی ـ بیوی کے پہلو میں بیٹا دفن تھا سو اس کو اس قربت سے ہاتھ دھونے پڑے ـ پائنتی کی جانب گورکن نے جگہ بنا دی ـ
اسے چپ کا روگ دیمک کی طرح چاٹ گیا تھا ـ میری دادی بتاتی ہیں کہ ”میں جب چیخ و پکار سن کر دوڑی دوڑی حویلی میں داخل ہوئی توشہباز خان دہلیز پہ بیٹھا ماتھا پیٹ رہا تھا ـ
”جانے والی نے میرا بھرم رکھ لیا ــــ“
”ہائے جانیوالی ــــ“
پھر اسے چپ لگ گئی ـ
پویس کے دروغے آئے مگر معاملہ رفع دفع کر دیا گیا ـ وہ ایک گرم دوپہر تھی ـ گاؤں کے باسی کسی ٹھنڈے جھونکے کے منتظر تھے ـ عموماً درجہ حرارت زرا سا بڑھ جاتا تو بارش کے امکان بھی بڑھ جاتےـ اس پہاڑی علاقے میں چٹیل پہاڑ دھوپ میں سونے کی طرح چمک رہے تھے ـ درخت مرجھائے ہوئے اور چرند پرند سائے میں سستا رہے تھے ـ
آج بد قسمتی سے شہباز خان سرائے میں تاش کی بازی پہ بازی ہار رہا تھا ـ نقدی ‘ گھوڑی اور یہ آخری بازی ملکہ حسن کے نام ـــ
غیرت اور نشے سے چور شہباز خان نے حامی بھر لی اور تاش کی نئ گڈی نکالتے ہی اعلان کیا ـ” میں ہارا تو میرا عشق تمھارا ـ“
صاحب ذادہ قیوم نجانے کب سے اس دن کے انتظار میں تھا ـ
تاش پھینٹے گئے ـ
بازی الٹ پلٹ ہوتے ہوتے صاحب ذادہ قیوم کی جھولی میں جا گری ـ
لیکن عشق دینا کوئی اتنا آسان تھوڑی تھا ـ شہباز خان مُکر گیا ـ دونوں کے درمیان تو تو میں میں سے بات گریبان تک جا پہنچی ـ صاحب ذادہ قیوم اپنے مشٹنڈے لینے سرائے سے باہر نکلا اور یہاں یہ واردات ہو گئ ـ
شہباز خان نے بیوی سے بس اتنا کہا کہ میں تمھیں جوئے میں ہار گیا ہوں ـ اس بھاگوان غیرت مند غزالہ نے اپنے گلے پہ چھری پھیر دی ـ صاحب ذادہ قیوم یہ سوچ کر سکتے میں چلا گیا ـ اور یہ راز مرتے وقت بیوی کو بتا کر دل سے بوجھ کی سل ہٹائی ـ
پر عورتیں کب راز کو راز رکھتی ہیں ـ ایک منہ سے دوسرے منہ تک بات پھیلتے پھیلتے راز کھل ہی گیا کہ غزالہ کی خوودکشی کی اصل وجہ کیا تھی ـ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
ایک رات میں نے اس حویلی میں گزارنے کا فیصلہ کیا ـ
میں نے چارپائی منگوائی اور آنگن میں ڈال دی ـ بجلی کا بل نہ دینے کی وجہ سے بجلی والے میٹر اکھاڑ لے گئے تھے ـ پرانے لالٹین میں مٹی کا تیل ڈلوا کے پڑوسی میرے پاس لے آیا ـ جسے میں نے سوتے وقت بجھا دیا ـ ستاروں ‘ سیاروں اور مسافر طیاروں کی سرخ بتیوں کو دور آسمان پہ دیکھتے دیکھتے جلد نیند آ گئی ـ اچانک رات گئے آہٹ سے آنکھ کھلی ـ موتیے کے پھولوں کی تیز خوشبو نے استقبال کیا ـ دالان میں چہل قدمی ہو رہی تھی ـ کون ہو سکتا ہے ـ پھر لکڑی کے زینے پہ دھم دھم کی آوازیں جیسے کوئی قدم گھسیٹ گھسیٹ کے کٹارے کو پکڑے اتر رہا ہو ـ دھڑام سے کچھ گرنے آواز آئی ـ کچھ بھی نہیں تھا ـ چاند کی روشنی سے صحن کی سرخ سلوں پہ چلتے حشرات بھی دیکھائی دے رہے تھے ـ برآمدے کے کواڑوں پہ پرندے کا پرانا گھونسلے گرا ـ میں جہاں جہاں سے گزرتا مجھے کسی کے چلنے کی آواز سنائی دیتی ـ جیسے کوئی میرے تعاقب میں تھا ـ
میں نے ہمت کر کے کہا!
غزالہ ـــــ
غزالہ آپ ہیں نا ـ ـ ـ ـ
مجھے خاتون کی سسکیاں سنائیں دیں ـ
میں نے بمشکل چلاتے ہوئے کہا!
آپ کو شہادت نصیب ہو ـ
شہادت نصیب ہو و و و و ــــ
میری آواز رندھ گئی ـــ
وہ تہہ خانے کے زینے اتر کر رونے لگی ـ
تہہ خانہ غزالہ کی خواب گاہ سے ایسے متصل تھا کہ دیوار سے ایک موری کھلتی اور پانچ زینے اتر کر ایک کوٹھری نما کمرہ نمودار ہوتا ـ میں نے اینٹ سے زنگ آلود تالہ توڑا تو جالوں سے بھرا گرد سے اٹا کمرہ ملا جہاں سانس لینا بھی دشوار تھا ـ کمرے کی چھت چھ فٹ سے ذیادہ نہ تھی ـ وہاں ایک چوبی مسہری بچھی تھی جس کے پاس ایک پنگوڑا پڑا تھا ـ یقیناً یہ خان ذادی کا خلوت خانہ تھا ـ جہاں تب ماسیوں کو بھی جانے کی اجازت نہ تھی ـ ـ پنگوڑا جھول رہا تھا ـ چوبی لکڑی کا منقش پنگوڑا ہوا تو ہلانے سے رہی ـاور وہاں ہوا بھی اتنی تھی کہ بس سانس لینے کے ہی کام آئے ـ میں اسی موری کے دروازے پہ بیٹھ کر روتا رہا ـ ایک سیاہ بلی میری گود میں کودی اور دالان سے ہوتی ہوئی باہر نکل گئی ـ صاحب ذادہ قیوم پہ جس بھاگوان کی خودکشی کے غم میں فالج گرا تھا اُسے تو علم ہی نہیں تھا غزالہ کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ـ شہباز خان کا دو منہ والا خنجر کیسے خان ذادی تک پہنچا ؟ اس وقت کسی نے سوچا بھی نہیں ـ وہ سرائے سے نکل کر حویلی پہنچا تو بیوی کو زینوں سے اوپر جاتے دیکھا ـ یہی موقع غنیمت کا جانا ـ اس نے غزالہ کے گلے پہ خنجر پھیرا ـ پر اس کے ہاتھ لرزے اس نے دوبارہ وار کیا ـ ہمت جٹا کر تیسرا اور آخری کاری وار کرنے کے بعد وہ الٹے قدموں دبے پاوں نکل گیا ـ حویلی سے نکلنے کے بعد وہ ڈیوڑھی تک پہنچا ہی تھا کہ غزالہ جو کٹی گردن سے سیڑھیاں اتر رہی تھی دھڑام سے زینوں پہ گری ـ بہت اناڑی قصائی تھا ـ بڑی اذیت سے مارا ـ وہ دیر تک تڑپتی رہی ـ ماسیوں نے خان ڈیوڑھی میں دیکھا تھا ـ ان کو لگا شہباز خان حویلی میں داخل ہو رہا ہے اور اسے لاعلم سمجھ کر غزالہ کی خودکشی کی خبر دی ـ جسے سن کر شہباز خان وہیں دہلیز پہ بیٹھ گیا ـ
غزالہ کی گردن کے دائیں جانب سے پیچھے تک یوں کٹی تھی جیسے بار بار چھری چلائی گئ ہو ـ غزالہ نے مرتے وقت بھی شوہر کی عزت کا پاس رکھا ـ خان کی پگڑی نہ اچھلے ـ
بس کچھ میرے گلے میں پھانس کی طرح اٹک گیا ـ جب میں غزالہ کی قبر پہ پہنچا تو اس کے کتبے پہ وہی تاریخ وفات لکھی تھی جو میری پیدائش کا دن تھا ـ
چار جون ـــــــ
لوگ کہتے ہیں غزالہ کی قبر پہ اگر بتی کے بجائے عود جلتا ہے ـ کوئی گلاب کی پتیوں کے بجائے موتیے کے پھول چڑھا جاتا ہے ـ
بھلا وہ کون ہو سکتا ہے ؟

_________________

تحریر:ثروت نجیب

کورڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.