روشن آنکھوں والا عشق________از حمیرا فضا

تحریر :حمیرا فضا

_________________
میری سکھیاں کہتی تھیں

’’میگھا تیرے منگیتر کی آنکھیں بڑی خوبصورت ہیں ـ خاموشی چیرتی ہوئی قاتل آنکھیں ،جسے نظر بھر کر دیکھیں اُسے گھائل کردیں مرض لگا دیں،ایسا زخم ایسا مرض جس کے لیے بس اُس رانجھے کی دید ہی شفا ہو ۔‘‘

میرے لیے یہ باتیں بے معنی تھیں ،کیونکہ مجھ پر اُن آنکھوں کا مفہوم ابھی تک نہ کھل سکا تھا۔ میرے نزدیک اُس کی آنکھیں گونگی تھیں جنھیں کوئی بھی ایسی زبان نہ آتی جو مجھ جیسی آٹھویں پاس کچھ کچھ تو پڑھ سکتی۔عورت کے لیے وہی آنکھیں گفتگو کرتی ہیں جو بن بولے دھڑکنوں تک پیغام پہنچا آئیں۔آنکھوں کی خوبصورتی کیا گھنیری پلکوں یا کانچ کے دو دائروں سے جھانکتے نیلے رنگ سے مشروط ہوتی ہے ؟بالکل بھی نہیں روشن اور خوبصورت آنکھیں تو وہ ہوتی ہیں جو لگن اور چاہت کے سنہرے رنگ سے مخمور ہوں،ایسی جوالا اُلجھی ہوئی آنکھیں جنھیں دیکھنا بھی زندگی کی ضمانت ہو اور جن میں دیکھنے کی تاب تک نہ ہو ۔سلیم کی آنکھیں تو خالی آنکھیں تھیں ــــ جس میں محبت کا ہلکا سا بھی کوئی رنگ نہ تھا ،پھر میں کیوں شوخ رنگوں کے خواب دیکھتی اور سب پھیکے رنگوں کی حقدار ٹھرتی۔مجھے تو بس محبت کی روشنی چاہیے تھے ،پھر وہ چاہے مجھے کسی اندھے سے کیوں نہ نصیب ہوتی۔محبت کی روشنی بھی کیا جادوئی شئے ہے یہ چاہے تو دو کالے گول دائروں کو سمندربنا کر کہانی کو بہنے دے ،نہ چاہے تو دو کالے سوکھے پتھروں پر قصہ ختم کردے ۔میرے اور سلیم کی کہانی کبھی آگے نہ بڑھ پائی۔ میرے اندر پتھروں کو پوجنے کا شوق نہ جاگا اور اسے سمندر میں اترنے کا گُر ہی نہیں آیا۔یہ ان چاہا رشتہ کسی روگ سے کم نہ تھا اور روگ بھی ایسا جسے ساری عمر تعویذ کی طرح گلے میں لٹکانا تھا۔
میں ہمیشہ اِس حقیقت سے نظریں چراتی اور سلیم کی بڑی بڑی نیلی آنکھوں کی دیوانی ساری سکھیاں مجھے حسرت سے تکا کرتیں۔تپتی دوپہروں کا موسم تھا جب یہ خبر ٹھنڈے ہوا کے جھونکے کی طرح میری کچے آنگن تک چلی آئی۔ہر ایک کی زبان پر یہی کلمات تھے کہ گاؤں میں کوئی نیک روح آگئی ہے۔بے جان جسم جیسے رشتے کی سانسیں روکنے کے لیے میں بھی اُس اجنبی کی چوکھٹ پر جا بیٹھی۔میں نے پہلی بار ایسی آنکھوں میں جھانکا جن میں جھانکنا لازم تھا ،جن میں جھانکنا مشکل تھا۔میں تو اُس سے دعا کرانے گئی تھی کب معلوم تھا کہ اُس نیک بندے کو اپنی دعاؤں میں شامل کرکے لے آونگی۔وہ روشن آنکھوں والا بینائی سے محروم تھا۔اُس کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں جھڑی ہوئی پلکیں دوسروں کے لیے کسی عجوبے سے کم نہ تھیں ،مگر میرے لیے وہ آنکھیں معجزہ تھیں ۔۔۔۔اور عشق کا معجزہ اُسی کے ساتھ ہوتا ہے جسے اندھیرے میں روشنی تلاش کرنے ،کانٹوں سے خوشبو چرانے کا ہنر آتا ہو۔میں روز اُس کے در پر جاتی اور چپ چاپ لوٹ آتی ۔وہ اکثر مجھے یوں دیکھتا جیسے واقعی دیکھ سکتا ہو۔میرے نزدیک خوبصورت آنکھوں کا معیار اور بیان بدل چکا تھا۔چھوٹی چھوٹی اندھی آنکھیں اتنی روشنی لٹا رہی تھیں جتنی سارے گاؤں والے اپنی بینائی ملا کر بھی نہیں بانٹ سکتے تھے۔روشنی کی یہی صفت تو نرالی ہے کہ وہ کسی کونے کھدرے سے بھی داخل ہوجائے تو اندھیرے کے سینے میں شگاف ڈال دیتی ہے اور یہاں تو روشنی کا ایک دریا تھا جس میں میرا دل آہستہ آہستہ ڈوب رہا تھا اور خواہش پار لگ رہی تھی ۔کبھی کبھی میرا دل چاہتا کہ میں اُس کی آنکھوں کے خواب چرا لوں اور کبھی یہ لالچ اتنی بے لگام ہوتی کہ اُس کی آنکھیں چرانے کو جی چاہتا۔میں بس ایک بار جی بھر کر اپنی بے مراد آنکھوں سے اُسے دیکھنا چاہتی تھی ۔ایک دن وہ مجھے تنہا مل ہی گیا ۔

’’شاہ جی عشق سے بچنے کا کوئی تعویذ ہوتا ہے کیا بھلا ؟‘‘میں نے اُسے ایک ٹک دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’عشق کے دائرے میں داخل ہونے والے کی حیات اِس دائرے کے اندر ہی ہے ۔اِس سے باہر بس سانسوں کا بوجھ ہے،جو تمھاری بے چین روح اُٹھا نہیں پائے گی۔‘‘
اُس نے مجھے ایسے دیکھا جیسے کسی کو آخری بار محبت سے دیکھتے ہیں اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔میں نے پہلی بار اپنے اندر ایک سمندر کو ڈوبتے ہوئے محسوس کیا اور دوڑتی ہوئی گھر چلی آئی ۔وہ نہ دیکھتے ہوئے بھی سب جان گیا تھا اور وہ شخص جو پھر عمر بھر میرے ساتھ رہا اُسے سمندر کا ایک قطرہ بھی نصیب نہ ہوا،میں نے سانسوں کا بوجھ اُٹھانے سے انکار جو کردیا تھا۔۔۔۔

______________

فوٹو رافی وکور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements

1 Comment

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

روشن آنکھوں والا عشق________از حمیرا فضا

تحریر :حمیرا فضا

_________________
میری سکھیاں کہتی تھیں

’’میگھا تیرے منگیتر کی آنکھیں بڑی خوبصورت ہیں ـ خاموشی چیرتی ہوئی قاتل آنکھیں ،جسے نظر بھر کر دیکھیں اُسے گھائل کردیں مرض لگا دیں،ایسا زخم ایسا مرض جس کے لیے بس اُس رانجھے کی دید ہی شفا ہو ۔‘‘

میرے لیے یہ باتیں بے معنی تھیں ،کیونکہ مجھ پر اُن آنکھوں کا مفہوم ابھی تک نہ کھل سکا تھا۔ میرے نزدیک اُس کی آنکھیں گونگی تھیں جنھیں کوئی بھی ایسی زبان نہ آتی جو مجھ جیسی آٹھویں پاس کچھ کچھ تو پڑھ سکتی۔عورت کے لیے وہی آنکھیں گفتگو کرتی ہیں جو بن بولے دھڑکنوں تک پیغام پہنچا آئیں۔آنکھوں کی خوبصورتی کیا گھنیری پلکوں یا کانچ کے دو دائروں سے جھانکتے نیلے رنگ سے مشروط ہوتی ہے ؟بالکل بھی نہیں روشن اور خوبصورت آنکھیں تو وہ ہوتی ہیں جو لگن اور چاہت کے سنہرے رنگ سے مخمور ہوں،ایسی جوالا اُلجھی ہوئی آنکھیں جنھیں دیکھنا بھی زندگی کی ضمانت ہو اور جن میں دیکھنے کی تاب تک نہ ہو ۔سلیم کی آنکھیں تو خالی آنکھیں تھیں ــــ جس میں محبت کا ہلکا سا بھی کوئی رنگ نہ تھا ،پھر میں کیوں شوخ رنگوں کے خواب دیکھتی اور سب پھیکے رنگوں کی حقدار ٹھرتی۔مجھے تو بس محبت کی روشنی چاہیے تھے ،پھر وہ چاہے مجھے کسی اندھے سے کیوں نہ نصیب ہوتی۔محبت کی روشنی بھی کیا جادوئی شئے ہے یہ چاہے تو دو کالے گول دائروں کو سمندربنا کر کہانی کو بہنے دے ،نہ چاہے تو دو کالے سوکھے پتھروں پر قصہ ختم کردے ۔میرے اور سلیم کی کہانی کبھی آگے نہ بڑھ پائی۔ میرے اندر پتھروں کو پوجنے کا شوق نہ جاگا اور اسے سمندر میں اترنے کا گُر ہی نہیں آیا۔یہ ان چاہا رشتہ کسی روگ سے کم نہ تھا اور روگ بھی ایسا جسے ساری عمر تعویذ کی طرح گلے میں لٹکانا تھا۔
میں ہمیشہ اِس حقیقت سے نظریں چراتی اور سلیم کی بڑی بڑی نیلی آنکھوں کی دیوانی ساری سکھیاں مجھے حسرت سے تکا کرتیں۔تپتی دوپہروں کا موسم تھا جب یہ خبر ٹھنڈے ہوا کے جھونکے کی طرح میری کچے آنگن تک چلی آئی۔ہر ایک کی زبان پر یہی کلمات تھے کہ گاؤں میں کوئی نیک روح آگئی ہے۔بے جان جسم جیسے رشتے کی سانسیں روکنے کے لیے میں بھی اُس اجنبی کی چوکھٹ پر جا بیٹھی۔میں نے پہلی بار ایسی آنکھوں میں جھانکا جن میں جھانکنا لازم تھا ،جن میں جھانکنا مشکل تھا۔میں تو اُس سے دعا کرانے گئی تھی کب معلوم تھا کہ اُس نیک بندے کو اپنی دعاؤں میں شامل کرکے لے آونگی۔وہ روشن آنکھوں والا بینائی سے محروم تھا۔اُس کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں جھڑی ہوئی پلکیں دوسروں کے لیے کسی عجوبے سے کم نہ تھیں ،مگر میرے لیے وہ آنکھیں معجزہ تھیں ۔۔۔۔اور عشق کا معجزہ اُسی کے ساتھ ہوتا ہے جسے اندھیرے میں روشنی تلاش کرنے ،کانٹوں سے خوشبو چرانے کا ہنر آتا ہو۔میں روز اُس کے در پر جاتی اور چپ چاپ لوٹ آتی ۔وہ اکثر مجھے یوں دیکھتا جیسے واقعی دیکھ سکتا ہو۔میرے نزدیک خوبصورت آنکھوں کا معیار اور بیان بدل چکا تھا۔چھوٹی چھوٹی اندھی آنکھیں اتنی روشنی لٹا رہی تھیں جتنی سارے گاؤں والے اپنی بینائی ملا کر بھی نہیں بانٹ سکتے تھے۔روشنی کی یہی صفت تو نرالی ہے کہ وہ کسی کونے کھدرے سے بھی داخل ہوجائے تو اندھیرے کے سینے میں شگاف ڈال دیتی ہے اور یہاں تو روشنی کا ایک دریا تھا جس میں میرا دل آہستہ آہستہ ڈوب رہا تھا اور خواہش پار لگ رہی تھی ۔کبھی کبھی میرا دل چاہتا کہ میں اُس کی آنکھوں کے خواب چرا لوں اور کبھی یہ لالچ اتنی بے لگام ہوتی کہ اُس کی آنکھیں چرانے کو جی چاہتا۔میں بس ایک بار جی بھر کر اپنی بے مراد آنکھوں سے اُسے دیکھنا چاہتی تھی ۔ایک دن وہ مجھے تنہا مل ہی گیا ۔

’’شاہ جی عشق سے بچنے کا کوئی تعویذ ہوتا ہے کیا بھلا ؟‘‘میں نے اُسے ایک ٹک دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’عشق کے دائرے میں داخل ہونے والے کی حیات اِس دائرے کے اندر ہی ہے ۔اِس سے باہر بس سانسوں کا بوجھ ہے،جو تمھاری بے چین روح اُٹھا نہیں پائے گی۔‘‘
اُس نے مجھے ایسے دیکھا جیسے کسی کو آخری بار محبت سے دیکھتے ہیں اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔میں نے پہلی بار اپنے اندر ایک سمندر کو ڈوبتے ہوئے محسوس کیا اور دوڑتی ہوئی گھر چلی آئی ۔وہ نہ دیکھتے ہوئے بھی سب جان گیا تھا اور وہ شخص جو پھر عمر بھر میرے ساتھ رہا اُسے سمندر کا ایک قطرہ بھی نصیب نہ ہوا،میں نے سانسوں کا بوجھ اُٹھانے سے انکار جو کردیا تھا۔۔۔۔

______________

فوٹو رافی وکور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.